101. باب الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ بِالسَّجْدَةِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} فَسَجَدَ فَقُلْتُ مَا هَذِهِ قَالَ سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ
Narrated By Abu Rafi' : Once I prayed the 'Isha prayer with Abu Huraira and he recited, "Idha-s-Sama' u-nShaqqat" (84) and prostrated. I said, "What is that?" He said, "I prostrated behind Abu-l-Qasim, (the Prophet) (when he recited that Sura) and I will go on doing it till I meet him."
حضرت ابو رافع سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انہوں نے سورت اذا السماء انشقت پڑھی اور سجدہ کیا میں نے کہا یہ سجدہ کیسا ہے، انہوں نے کہا: میں نے تو اس سورت میں ابو القاسمﷺ کے پیچھے (نماز میں)سجدہ کیا ہے میں تو برابر اس میں سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے مل نہ جاؤں ۔
102. باب الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعَ الْبَرَاءَ، رضى الله عنه قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ {وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ} فِي الْعِشَاءِ، وَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ أَوْ قِرَاءَةً
Narrated By Al-Bara : I heard the Prophet reciting wat-tini wazzaituni" (95) in the 'Isha prayer, and I never heard a sweeter voice or a better way of recitation than that of the Prophet.
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺ کو سنا آپﷺ عشاء کے نماز میں سورت والتین والزیتون پڑھتے اور میں نے آپﷺ سے بڑھ کر نہ کسی کو خوش آواز پایا نہ قاری ۔
103. باب يُطَوِّلُ فِي الأُولَيَيْنِ وَيَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ لَقَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى الصَّلاَةِ. قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَلاَ آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ صَدَقْتَ، ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ، أَوْ ظَنِّي بِكَ
Narrated By Jabir bin Samura : 'Umar said to Sa'd, "The people complained against you in everything, even in prayer." Sa'd replied, "Really I used to prolong the first two Rakat and shorten the last two and I will never shorten the prayer in which I follow Allah's Apostle." 'Umar said, "You are telling the truth and that is what I think a tout you."
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کوفہ والوں نے ہر بات میں تمہاری شکایت کی یہاں تک کہ نماز میں بھی۔انہوں نے کہا: میں تو (عشاء کی) پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتا تھا اور پچھلی دو رکعتیں مختصر اور میں نے رسول اللہﷺ کی نماز کی پیروی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سچ کہتے ہو تم سے یہی گمان ہے یا میرا تم سے یہی گمان ہے۔
104. باب الْقِرَاءَةِ فِي الْفَجْرِ
وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَرَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالطُّورِ
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي، عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَلاَ يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
Narrated By Saiyar bin Salama : My father and I went to Abu Barza-al-Aslami to ask him about the stated times for the prayers. He replied, "The Prophet used to offer the Zuhr prayer when the sun just declined from its highest position at noon; the 'Asr at a time when if a man went to the farthest place in Medina (after praying) he would find the sun still hot (bright). (The sub narrator said: I have forgotten what Abu Barza said about the Maghrib prayer). The Prophet never found any harm in delaying the 'Isha prayer to the first third of the night and he never liked to sleep before it and to talk after it. He used to offer the morning prayer at a time when after finishing it one could recognize the person sitting beside him and used to recite between 60 to 100 verses in one or both the Rakat."
سیار بن سلامہ نے کہا: میں اور میرا والد دونوں ابو برزہ اسلمی کے پاس گئے ان سے نمازوں کے وقت پوچھے انہوں نے کہا نبیﷺ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے اور عصر کی نماز پڑھنے کے بعدکوئی شخص شہر کے کنارے پہنچ جاتا اور سورج روشن اور چمکدار رہتا۔ سیار نے کہا ابو برزہ نے مغرب کا جو وقت بیان کیا وہ میں بھول گیا ابو برزہ نے کہا: آپﷺ عشاء کی نماز میں تہائی رات تک دیر کرنے میں کچھ پرواہ نہیں کرتے تھے اور اس سے پہلے سوجانا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں کرتے تھے اور صبح کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز سے فارغ ہوکر آدمی اپنے پاس بیٹھنے والے کو پہچان لیتا اور صبح کی دونوں رکعتوں میں یا ایک رکعت میں ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ أَجْزَأَتْ، وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ
Narrated By Abu Huraira : The Qur'an is recited in every prayer and in those prayers in which Allah's Apostle recited aloud for us, we recite aloud in the same prayers for you; and the prayers in which the Prophet recited quietly, we recite quietly. If you recite "Al-Fatiha" only it is sufficient but if you recite something else in addition, it is better.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں ہر نماز میں قرآن پاک کی تلاوت کی جائے گی ۔ جن میں نبی ﷺنے ہمیں قرآن سنایا تھا ہم بھی تمہیں ان میں سنائیں گے۔اور جن نمازوں میں آپﷺنے آہستہ قرأت کی ہم بھی ان میں آہستہ ہی قرأت کریں گے اور اگر سورۂ فاتحہ ہی پڑھو تب بھی کافی ہے لیکن اگر زیادہ پڑھ لوگے تو اور بہتر ہے۔
105. باب الْجَهْرِ بِقِرَاءَةِ صَلاَةِ الْفَجْرِ
وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ طُفْتُ وَرَاءَ النَّاسِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَيَقْرَأُ بِالطُّورِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ. فَقَالُوا مَا لَكُمْ فَقَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ. قَالُوا مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ شَىْءٌ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ بِنَخْلَةَ، عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهْوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاَةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ فَقَالُوا هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ. فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ وَقَالُوا يَا قَوْمَنَا {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا * يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا} فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم {قُلْ أُوحِيَ إِلَىَّ} وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet set out with the intention of going to Suq 'Ukaz (market of 'Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tuhama came across the Prophet at a place called Nakhla and it was on the way to Suq 'Ukaz and the Prophet was offering the Fajr prayer with his companions. When they heard the Qur'an they listened to it and said, "By Allah, this is the thing which has put a barrier between us and the news of heaven." They went to their people and said, "O our people; verily we have heard a wonderful recital (Qur'an) which shows the true path; we believed in it and would not ascribe partners to our Lord." Allah revealed the following verses to his Prophet (Sura 'Jinn') (72): "Say: It has been revealed to me." And what was revealed to him was the conversation of the Jinns.
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ اپنے کئی صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار میں جانے کی نیت سے چلے ان دنوں شیطان آسمان کی خبر لینے سے روک دیئے گئے تھے اور ان پر انگاروں کی مار ہونے لگی تھی تو شیاطین اپنے قوم کی طرف لوٹ کر آئے انہوں نے پوچھا کیوں کیا بات ہے وہ کہنے لگے: آسمان کی خبر ہم سے روک دی گئی ہے اور ہم پر انگارے برسائے گئے انہوں نے کہا: یہ جو آسمان کی خبر تم سے روکی گئی ہے اس کی کوئی نئی وجہ ہوگی ہے اس لیے تم مغرب اور مشرق ہر طرف پھیل جاؤ اور اس کا سبب معلوم کرو ( یہ سن کر وہ چاروں طرف پھرنے لگے )ان میں جو جنات تہامہ کی طرف نکلے تھے وہ نبیﷺکے پاس آپہنچے آپﷺ اس وقت نخلہ میں تھے عکاظ کی منڈی کو جانے کی نیت رکھتے تھے اور اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے جب ان جنوں نے قرآن سنا تو ادھر کان لگا دیا اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہی ہے وہ چیز جس وجہ سے ہم سے آسمان کی خبر روک دی گئی ہےاسی موقع پر جب وہ اپنے لوگوں کے پاس لوٹ کر گئے تو کہنے لگے بھا ئیو! ہم تو ایک عجیب قرآن سن کر آئے ہیں جو سیدھا راستہ بتلاتا ہے ہم تو اس پر ایمان لائےاور ہم ہرگز اپنے رب کا کسی کو شریک نہیں بناتے۔ تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ پر یہ سورت اتاری "قل اوحی الیّ" اور جنوں نے جو بات ( اپنی قوم سے) کہی تھی وہ وحی سے آپﷺ کو بتلادی گئی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا أُمِرَ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ {وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا} {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet recited aloud in the prayers in which he was ordered to do so and quietly in the prayers in which he was ordered to do so. "And your Lord is not forgetful." "Verily there was a good example for you in the ways of the Prophet."
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جس نماز میں نبیﷺ کو جہر کا حکم ہوا آپﷺ نے جہر کیا اور جس میں آہستہ پڑھنے کا حکم ہوا آہستہ پڑھا اور تیرا رب بھولنے والا نہیں اور رسول اللہﷺکی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
106. باب الْجَمْعِ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَةِ وَالْقِرَاءَةِ بِالْخَوَاتِيمِ، وَبِسُورَةٍ قَبْلَ سُورَةٍ، وَبِأَوَّلِ سُورَةٍ
وَيُذْكَرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَرَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمُؤْمِنُونَ فِي الصُّبْحِ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى، أَخَذَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ. وَقَرَأَ عُمَرُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِمِائَةٍ وَعِشْرِينَ آيَةً مِنَ الْبَقَرَةِ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِسُورَةٍ مِنَ الْمَثَانِي. وَقَرَأَ الأَحْنَفُ بِالْكَهْفِ فِي الأُولَى، وَفِي الثَّانِيَةِ بِيُوسُفَ أَوْ يُونُسَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ الصُّبْحَ بِهِمَا. وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِأَرْبَعِينَ آيَةً مِنَ الأَنْفَالِ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِسُورَةٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ. وَقَالَ قَتَادَةُ فِيمَنْ يَقْرَأُ سُورَةً وَاحِدَةً فِي رَكْعَتَيْنِ أَوْ يُرَدِّدُ سُورَةً وَاحِدَةً فِي رَكْعَتَيْنِ كُلٌّ كِتَابُ اللَّهِ
وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ بِهَا لَهُمْ فِي الصَّلاَةِ مِمَّا يَقْرَأُ بِهِ افْتَتَحَ بِ ـ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ سُورَةً أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَكَلَّمَهُ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا إِنَّكَ تَفْتَتِحُ بِهَذِهِ السُّورَةِ، ثُمَّ لاَ تَرَى أَنَّهَا تُجْزِئُكَ حَتَّى تَقْرَأَ بِأُخْرَى، فَإِمَّا أَنْ تَقْرَأَ بِهَا وَإِمَّا أَنْ تَدَعَهَا وَتَقْرَأَ بِأُخْرَى. فَقَالَ مَا أَنَا بِتَارِكِهَا، إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِذَلِكَ فَعَلْتُ، وَإِنْ كَرِهْتُمْ تَرَكْتُكُمْ. وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْ أَفْضَلِهِمْ، وَكَرِهُوا أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَلَمَّا أَتَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ فَقَالَ " يَا فُلاَنُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَفْعَلَ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ أَصْحَابُكَ وَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ". فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّهَا. فَقَالَ " حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ ".
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet recited aloud in the prayers in which he was ordered to do so and quietly in the prayers in which he was ordered to do so. "And your Lord is not forgetful." "Verily there was a good example for you in the ways of the Prophet."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری مسجد قبا میں لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا وہ جب ان سورتوں میں سے جو نماز میں پڑھی جاتی ہیں کوئی سورت شروع کرتا تو پہلے قل ھو اللہ احد (سورۂ اخلاص) پڑھ لیتا پھر اس کو پڑھ لینے کے بعد دوسری سورت اس کے ساتھ ملا کر پڑھتا، ہر رکعت میں ایسا ہی کیا کرتا۔ اس کے ساتھیوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ تم پہلے یہ سورۃ پڑھتے ہو اور صرف اسی کو کافی نہیں سمجھتے ہو بلکہ دوسری سورۃ بھی ضرور پڑھتے ہو۔ یا تو تمہیں صرف اسی کو پڑھنا چاہیے ورنہ اسے چھوڑ دینا چاہیے اور بجائے اس کے کوئی دوسری سورۃ پڑھنی چاہیے۔اس آدمی نے کہا: میں اسے نہیں چھوڑ سکتا اب اگر تمہیں پسند ہے کہ میں نماز پڑھاؤں تو برابر پڑھاتا رہوں گا۔ ورنہ میں نماز چھوڑ دوں گا ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ ان سب سے افضل ہیں اس لیے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے علاوہ کوئی اور آدمی نماز پڑھائے ۔ جب نبی ﷺتشریف لائے تو ان لوگوں نے آپﷺکو واقعہ کی خبر دی۔ آپﷺنے ان کو بلاکر پوچھا کہ اے فلاں! تمہارے ساتھی جس طرح کہتے ہیں اس پر عمل کرنے سے تم کو کون سی رکاوٹ ہے اور ہر رکعت میں اس سورۃ کو ضروری قرار دے لینے کا سبب کیا ہے ۔ انہوں نے کہا: میں اس سورۃ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپﷺنے فرمایا: اس سورۃ کی محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ فِي رَكْعَةٍ. فَقَالَ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرِنُ بَيْنَهُنَّ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ
Narrated By Abu Wa'il : A man came to Ibn Mas'ud and said, "I recited the Mufassal (Suras) at night in one Rak'a." Ibn Mas'ud said, "This recitation is (too quick) like the recitation of poetry. I know the identical Suras which the Prophet used to recite in pairs." Ibn Mas'ud then mentioned 20 Mufassal Suras including two Suras from the family of (i.e. those verses which begin with) AL, HA, MIM (which the Prophet used to recite) in each Rak'a.
حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے تو رات کو مفصل کی ساری سورتیں ایک رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس طرح جلدی جلدی پڑھی جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں، میں ان ہم معنی سورتوں کو جانتا ہوں جن کو نبیﷺ ملا کر ایک ساتھ پڑھا کرتے تھے، پھر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مفصل کی بیس سورتیں بیان کی ہر رکعت میں دو دو سورتیں۔
107. باب يَقْرَأُ فِي الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ فِي الأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ، وَيُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مَا لاَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي الْعَصْرِ وَهَكَذَا فِي الصُّبْحِ
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada : My father said, "The Prophet uses to recite Al-Fatiha followed by another Sura in the first two Rakat of the prayer and used to recite only Al-Fatiha in the last two Rakat of the Zuhr prayer. Sometimes a verse or so was audible and he used to prolong the first Rak'a more than the second and used to do the same in the 'Asr and Fajr prayers."
حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں ( ہر رکعت میں ایک ) پڑھتے اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے اور (کبھی) ایک آدھ آیت ہم کو سنا دیتے اور پہلی رکعت دوسری رکعت سے لمبی پڑھتے اور ایسا ہی عصر اور فجر کی نماز میں کرتے۔
108. باب مَنْ خَافَتَ الْقِرَاءَةَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قُلْتُ لِخَبَّابٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ. قُلْنَا مِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ قَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ
Narrated By Abu Ma'mar : We said to Khabbab "Did Allah's Apostle used to recite in Zuhr and 'Asr prayers?" He replied in the affirmative. We said, "How did you come to know about it?" He said, "By the movement of his beard."
حضرت ابو معمر سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے کہا کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کرتے تھے انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے کہا: آپ کو کیسے معلوم ہوا، انہوں نے کہا: آپﷺ کی مبارک داڑھی ہلنے کی وجہ سے۔
109. باب إِذَا أَسْمَعَ الإِمَامُ الآيَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada : My father said, "The Prophet used to recite Al-Fatiha along with another Sura in the first two Rakat of the Zuhr and 'Asr prayers. A verse or so was audible at times and he used to prolong the first Rak'a."
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے نبیﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور ایک ایک سورت اس کے ساتھ پڑھتے، اسی طرح عصر کی نماز میں کبھی کبھی ایک آدھ آیت ہم کو سنا دیتے اور پہلی رکعت کو لمبی کرتے۔
110. باب يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada : My father said, "The Prophet used to prolong the first Rak'a of the Zuhr prayer and shorten the second one and used to do the same in the Fajr prayer."
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ ظہر کی پہلی رکعت لمبی پڑھتے اور دوسری رکعت چھوٹی اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے ۔