21. باب اعْتِزَالِ الْحُيَّضِ الْمُصَلَّى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ أُمِرْنَا أَنْ نَخْرُجَ فَنُخْرِجَ الْحُيَّضَ وَالْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ. قَالَ ابْنُ عَوْنٍ أَوِ الْعَوَاتِقَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ، وَيَعْتَزِلْنَ مُصَلاَّهُمْ
Narrated By Um-'Atiya : We were ordered to go out (for 'Id) and also to take along with us the menstruating women, mature girls and virgins staying in seclusion. (Ibn 'Aun said, "Or mature virgins staying in seclusion)." The menstruating women could present themselves at the religious gathering and invocation of Muslims but should keep away from their Musalla.
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہمیں یہ حکم تھا کہ ہم خود نکلیں اور حیض والیوں اور جوان لڑکیوں ، اور پردہ والیوں کو عیدگاہ لے جائیں۔ راوی ابن عون کہتے ہیں یا (حدیث میں) پردہ والی دوشیزاؤں کا لفظ آیا ہے۔ مگر حائضہ عورتیں صرف مسلمانوں کی جماعت اور دعا میں شریک ہوں نماز کے مقام سے الگ رہیں۔
22. باب النَّحْرِ وَالذَّبْحِ بِالْمُصَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْحَرُ أَوْ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet (p.b.u.h) used to Nahr or slaughter sacrifices at the Musalla (on 'Id-ul-Adha).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ عیدگاہ ہی میں نحر اور ذبح کیا کرتے۔
23. باب كَلاَمِ الإِمَامِ وَالنَّاسِ فِي خُطْبَةِ الْعِيدِ وَإِذَا سُئِلَ الإِمَامُ عَنْ شَىْءٍ وَهْوَ يَخْطُبُ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَالَ " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسْكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ وَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ". قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ جَذَعَةٍ، هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ، فَهَلْ تَجْزِي عَنِّي قَالَ " نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ "
Narrated By Al-Bara' bin 'Azib : On the day of Nahr Allah's Apostle delivered the Khutba after the 'Id prayer and said, "Anyone who prayed like us and slaughtered the sacrifice like we did then he acted according to our (Nusuk) tradition of sacrificing, and whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, then that was just mutton (i.e. not sacrifice)." Abu Burda bin Naiyar stood up and said, "O Allah's Apostle! By Allah, I slaughtered my sacrifice before I offered the (Id) prayer and thought that today was the day of eating and drinking (non-alcoholic drinks) and so I made haste (in slaughtering) and ate and also fed my family and neighbors." Allah's Apostle said, "That was just mutton (not a sacrifice)." Then Abu Burda said, "I have a young she-goat and no doubt, it is better than two sheep. Will that be sufficient as a sacrifice for me?" The Prophet replied, "Yes. But it will not be sufficient for anyone else (as a sacrifice), after you."
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے ہم کو عیداضحیٰ کے دن نماز کے بعد خُطبہ دیا اور فرمایا: جو کوئی ہماری نماز کی طرح نماز پڑھے اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کرے اس کی قُربانی درُست ہوئی اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کرلی وہ گوشت کی بکری ہوئی ۔ ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ میں نے تو نماز کےلیے نکلنے سے پیشتر ہی قُربانی کرلی ۔ میں یہ سمجھا کہ یہ دن کھانے پینے کا ہے اس لیے میں نے جلدی کی۔ خود بھی کھایا اور اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا ۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ تو گوشت کی بکری ٹھہری،حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس ایک سال بھیڑ کا بچہ ہے وہ دوبکریوں سے افضل ہے، کیا میری طرف سے اس کی قربانی صحیح ہوگی؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، مگر تمہارے بعد پھر کسی اور کو کافی نہیں ہوگی۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ فَأَمَرَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَنْ يُعِيدَ ذَبْحَهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِيرَانٌ لِي ـ إِمَّا قَالَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ، وَإِمَّا قَالَ بِهِمْ فَقْرٌ ـ وَإِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَعِنْدِي عَنَاقٌ لِي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ. فَرَخَّصَ لَهُ فِيهَا
Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle offered the prayer on the day of Nahr and then delivered the Khutba and ordered that whoever had slaughtered his sacrifice before the prayer should repeat it, that is, should slaughter another sacrifice. Then a person from the Ansar stood up and said, "O Allah's Apostle! because of my neighbours (he described them as being very needy or poor) I slaughtered before the prayer. I have a young she-goat which, in my opinion, is better than two sheep." The Prophet gave him the permission for slaughtering it as a sacrifice.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے عید الاضحیٰ کے دن نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اور لوگوں کو یہ حکم دیا جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا وہ دوبارہ ذبح کرے۔ یہ سُن کر ایک انصاری کھڑا ہُوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہﷺ میرے کچھ ہمسایہ ہیں ، ان کو بھوک کی تکلیف رہتی ہے یا یوں کہا وُہ محتاج ہیں اور میں نے (اس وجہ سے) نماز سے پہلے ذبح کرلیا۔اب میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا (بھیڑ کا بچہ) ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے مجھے زیادہ پسند ہے ۔ آپﷺ نے اس کو اجازت دی۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ ذَبَحَ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ "
Narrated By Jundab : On the day of Nahr the Prophet offered the prayer and delivered the Khutba and then slaughtered the sacrifice and said, "Anybody who slaughtered (his sacrifice) before the prayer should slaughter another animal in lieu of it, and the one who has not yet slaughtered should slaughter the sacrifice mentioning Allah's name on it."
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ نے عید الاضحیٰ کے دن نماز پڑھائی۔ پھر خطبہ دیا پھر قربانی کی اور فرمایا جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا ہو وہ اس کے بدلہ دوسری قُربانی کرے اور جس نے ذبح نہ کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
24. باب مَنْ خَالَفَ الطَّرِيقَ إِذَا رَجَعَ يَوْمَ الْعِيدِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيقَ. تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ فُلَيْحٍ. وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَصَحُّ
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : On the Day of 'Id the Prophet used to return (after offering the 'Id prayer) through a way different from that by which he went.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ عید کے دن ایک راستے سے عیدگاہ کو جاتے، اور دوسرے راستے سے آتے۔
25. باب إِذَا فَاتَهُ الْعِيدُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ ". وَتِلْكَ الأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًى
Narrated By 'Urwa : On the authority of 'Aisha. On the days of Mina, (11th, 12th, and 13th of Dhul-Hijjah) Abu Bakr came to her while two young girls were beating the tambourine and the Prophet was lying covered with his clothes. Abu Bakr scolded them and the Prophet uncovered his face and said to Abu Bakr, "Leave them, for these days are the days of 'Id and the days of Mina."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ منیٰ کے دنوں میں ان کے پاس تشریف لائے ، وہاں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں ( بعاث کی لڑائی کے شعر گا رہی تھیں ) اور نبیﷺ چہرہ مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تھے، ان کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈانٹا۔ اس وقت آپﷺ نے اپنا منہ کھولا اور فرمایا: ابوبکر جانے دو ، یہ عید کے دن ہیں۔
وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُمْ، أَمْنًا بَنِي أَرْفِدَةَ ". يَعْنِي مِنَ الأَمْنِ
'Aisha further said, "Once the Prophet was screening me and I was watching the display of black slaves in the Mosque and ('Umar) scolded them. The Prophet said, 'Leave them. O Bani Arfida! (carry on), you are safe (protected)'."
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے دیکھا نبیﷺ میری آڑ کر رہے تھے اور میں حبشیوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ مسجد میں (ہتھیاروں سے) کھیل رہے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا تو نبیﷺنے فرمایا: ان کو جانے دو، اور اُن سے فرمایا: بنو ارفدہ تم بے فکر ہوکر کھیلو۔
26. باب الصَّلاَةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا وَمَعَهُ بِلاَلٌ
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet went out and offered a two Rakat prayer on the Day of 'Id-ul-Fitr and did not offer any other prayer before or after it and at that time Bilal was accompanying him.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ عید الفطر کے دن ( گھر سے) نکلے۔ پھر دو رکعتیں ( عید کی ) پڑھائیں ۔نہ ان سے پہلے نفل پڑھے نہ اُن کے بعد اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپﷺ کے ساتھ تھے۔