- احادیثِ نبوی ﷺ

 

123

21. باب رَفْعِ النَّاسِ أَيْدِيَهُمْ مَعَ الإِمَامِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ

قَالَ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ هَلَكَ الْعِيَالُ هَلَكَ النَّاسُ‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ يَدْعُو، وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ مَعَهُ يَدْعُونَ، قَالَ فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مُطِرْنَا، فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّى كَانَتِ الْجُمُعَةُ الأُخْرَى، فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَشِقَ الْمُسَافِرُ، وَمُنِعَ الطَّرِيقُ‏

Narrated Anas bin Malik (ra): A Bedouin came to Allah’s Messenger (saw) on a Friday and said, “O Allah’s Messenger! The livestock, the offspring, and the people have perished.” So, Allah’s Messenger (saw) raised both his hands invoking Allah (for rain) and the people too raised their hands with Allah’s Messenger (saw) invoking Allah (for rain). We had not left the mosque when it started raining. It rained till the next Friday when the same man came to Allah’s Messenger (saw) and said, “O Allah’s Messenger! The travellers are compelled to postpone their journeys (because of excessive rain) and the roads are overflooded.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک دیہاتی رسول اللہﷺ کے پاس جمعہ کے دن آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہﷺ1 (بھوک سے) جانور تباہ ہوگئے، بال بچے ہلاک ہوگئے، لوگ مرگئے۔ آپﷺ نے یہ سن کر دونوں ہاتھ اٹھائے، دعا کرنے لگے لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے، دعا کرنے لگے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم مسجد سے باہر نکلے بھی نہیں تھے کہ بارش شروع ہوگئی اور دوسرے جمعہ تک برابر ہوتی رہی۔ پھر وہی شخص(دوسرے جمعہ میں) رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہﷺ (بارش بہت زیادہ ہونے سے) مسافر گھبرا گئےہیں اور راستے بند ہوگئے۔ بشق کے معنی عربی میں گھبرا گیا ۔


وَقَالَ الأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَشَرِيكٍ، سَمِعَا أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ‏

The narrator Anas (ra) added that the Prophet (saw) raised his hands (during the invocation) to such an extent that the whiteness of his armpits was visible.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے (استسقاء میں دعا کےلئے) دونوں ہاتھ اتنے اٹھائے کہ میں نے آپﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔

22. باب رَفْعِ الإِمَامِ يَدَهُ فِي الاِسْتِسْقَاءِ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَىْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلاَّ فِي الاِسْتِسْقَاءِ، وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet never raised his hands for any invocation except for that of Istisqa' and he used to raise them so much that the whiteness of his armpits became visible. (Note It may be that Anas did not see the Prophet raising his hands, but it is narrated that the Prophet used to raise his hands for invocations other than Istisqa.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ کسی دعا میں استسقاء کے سوا ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ استسقاء میں اتنے ہاتھ اٹھاتے کہ آپﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آجاتی تھی۔

23. باب مَا يُقَالُ إِذَا أَمْطَرَتْ

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏كَصَيِّبٍ‏}‏ الْمَطَرُ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ صَابَ وَأَصَابَ يَصُوبُ‏

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ـ هُوَ ابْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ـ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ ‏"‏ صَيِّبًا نَافِعًا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ‏.‏ وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ وَعُقَيْلٌ عَنْ نَافِعٍ‏

Narrated By 'Aisha : Whenever Allah's Apostle saw the rain, he used to say, "O Allah! Let it be a strong fruitful rain."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب بارش دیکھتے تو فرماتے: یا اللہ! نفع دینے والی بارش برسا۔

24. باب مَنْ تَمَطَّرَ فِي الْمَطَرِ حَتَّى يَتَحَادَرَ عَلَى لِحْيَتِهِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَسْقِيَنَا‏.‏ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ، وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ، قَالَ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، قَالَ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ، وَفِي الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى، فَقَامَ ذَلِكَ الأَعْرَابِيُّ أَوْ رَجُلٌ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَمَا جَعَلَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّمَاءِ إِلاَّ تَفَرَّجَتْ حَتَّى صَارَتِ الْمَدِينَةُ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ، حَتَّى سَالَ الْوَادِي ـ وَادِي قَنَاةَ ـ شَهْرًا‏.‏ قَالَ فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلاَّ حَدَّثَ بِالْجَوْدِ‏

Narrated By Anas bin Malik : In the life-time of Allah's Apostle (p.b.u.h) the people were afflicted with a (famine) year. While the Prophet was delivering the Khutba (sermon) on the pulpit on a Friday, a Bedouin stood up and said, "O Allah's Apostle! The livestock are dying and the families (offspring) are hungry: please pray to Allah to bless us with rain." Allah's Apostle raised both his hands towards the sky and at that time there was not a trace of cloud in they sky. Then the clouds started gathering like mountains. Before he got down from the pulpit I saw rain-water trickling down his beard. It rained that day, the next day, the third day, the fourth day and till the next Friday, when the same Bedouin or some other person stood up (during the Friday Khutba) and said, "O Allah's Apostle! The houses have collapsed and the livestock are drowned. Please invoke Allah for us." So Allah's Apostle raised both his hands and said, "O Allah! Around us and not on us." Whichever side the Prophet directed his hand, the clouds dispersed from there till a hole (in the clouds) was formed over Medina. The valley of Qanat remained flowing (with water) for one month and none, came from outside who didn't talk about the abundant rain.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہﷺکے زمانے میں ایک مرتبہ لوگوں پر قحط پڑا۔ انہی دنوں آپﷺ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہﷺ! جانور مرگئے اور بال بچے بھوکے ہوگئے آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ پانی برسائے۔آپﷺ نے یہ سن کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائےاور اس وقت آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہ تھا۔ دعا فرماتے ہی پہاڑوں کی طرح بادل امنڈ آیا۔ پھر آپﷺابھی منبر سے اترے بھی نہیں تھے، میں نے دیکھا آپﷺ کی(مبارک) داڑھی پر پانی بہہ رہا ہے۔خیر اس وقت بارش دن بھر ہوتی رہی،اور دوسرے دن اور تیسرے دن اور چوتھے دن دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر وہی دیہاتی کھڑا ہوا یا دوسرا کوئی شخص اور کہنے لگا: یا رسول اللہﷺ! مکان گرگئے اور جانور ڈوب گئے، اللہ سے بارش تھمنے کی دعا کیجئے۔ تب آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اورفرمایا: یا اللہ ہمارے ارد گرد برسا ہم پر نہ برسا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپﷺ اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف جس طرف اشارہ کرتے، ادھر ابر پھٹ جاتا یہاں تک کہ مدینہ حوض کی طرح ہوگیا۔ اور اس کے بعد قناۃ کا نالہ ایک مہینے تک بہتا رہا اور جو کوئی جس طرف سے آیا اس نے یہی کہا: کہ خوب بارش ہورہی ہے۔

25. باب إِذَا هَبَّتِ الرِّيحُ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَتِ الرِّيحُ الشَّدِيدَةُ إِذَا هَبَّتْ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Anas : Whenever a strong wind blew, anxiety appeared on the face of the Prophet (fearing that wind might be a sign of Allah's wrath).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے، جب زور کی آندھی چلتی تو آپﷺ کے چہرے مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا۔

26. باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نُصِرْتُ بِالصَّبَا ‏"‏

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ ‏"‏‏

Narrated By Ibn Abbas : The Prophet said, "I was granted victory with As-Saba and the nation of 'Ad was destroyed by Ad-Dabur (westerly wind).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: مجھ کو مشرق سے آنے والی ہوا سے مدد ملی۔اور قوم عاد کو مغرب سے آنے والی ہوا نے ہلاک کردیا۔

27. باب مَا قِيلَ فِي الزَّلاَزِلِ وَالآيَاتِ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَتَكْثُرَ الزَّلاَزِلُ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ ـ وَهْوَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ ـ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضُ ‏"

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The Hour (Last Day) will not be established until (religious) knowledge will be taken away (by the death of religious learned men), earthquakes will be very frequent, time will pass quickly, afflictions will appear, murders will increase and money will overflow amongst you."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ علم دین اٹھ نہ جائے گا اور زلزلوں کی کثرت نہ ہوجائے گی ،اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزرنے لگےگا اور فتنے فساد پھوٹ پڑیں گے۔اور ہرج کی کثرت ہوگی یعنی قتل، قتل اور مال تو تم کو اتنا ملے گا کہ ابل پڑے گا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا‏.‏ قَالَ قَالُوا وَفِي نَجْدِنَا قَالَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا‏.‏ قَالَ قَالُوا وَفِي نَجْدِنَا قَالَ قَالَ هُنَاكَ الزَّلاَزِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ‏

Narrated By Ibn 'Umar : (The Prophet) said, "O Allah! Bless our Sham and our Yemen." People said, "Our Najd as well." The Prophet again said, "O Allah! Bless our Sham and Yemen." They said again, "Our Najd as well." On that the Prophet said, "There will appear earthquakes and afflictions, and from there will come out the side of the head of Satan."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے یوں دعا کی یا اللہ! ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت دے ۔ لوگوں نے کہا: اور ہمارے نجد میں، آپﷺ نے کہا: یا اللہ! ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت دے۔ لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں، آپ نے کہا: وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔

28. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى

‏{‏وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ‏}‏

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ‏.‏ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا‏.‏ فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ‏"‏‏

Narrated By Zaid bin Khalid Al-Juhani : Allah's Apostle led the morning prayer in Al-Hudaibiya and it had rained the previous night. When the Prophet (p.b.u.h) had finished the prayer he faced the people and said, "Do you know what your Lord has said?" They replied, "Allah and His Apostle know better." (The Prophet said), "Allah says, 'In this morning some of My worshipers remained as true believers and some became non-believers; he who said that it had rained with the blessing and mercy of Allah is the one who believes in Me and does not believe in star, but he who said it had rained because of such and such (star) is a disbeliever in Me and is a believer in star.'"

حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے حدیبیہ میں ہم کو صبح کی نماز پڑھائی رات کو بارش ہوچکی تھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوکرفرمایا: تم جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے، انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسولﷺ خوب جانتا ہے۔آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آج میرے دو طرح کے بندوں نے صبح کی، ایک مومن ہے ایک کافر۔جس نے کہا: اللہ کے فضل اور رحم سے بارش ہوئی، وہ تو مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا منکر ہوا اور جس نے کہا: فلاں تارے کے فلاں جگہ آنے سے بارش ہوئی اس نے میرا کفر کیا اور تاروں پر ایمان لایا۔

29. باب لاَ يَدْرِي مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ إِلاَّ اللَّهُ تَعَالَى

وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَمْسٌ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏‏

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِفْتَاحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ اللَّهُ لاَ يَعْلَمُ أَحَدٌ مَا يَكُونُ فِي غَدٍ، وَلاَ يَعْلَمُ أَحَدٌ مَا يَكُونُ فِي الأَرْحَامِ، وَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، وَمَا يَدْرِي أَحَدٌ مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Keys of the unseen knowledge are five which nobody knows but Allah... nobody knows what will happen tomorrow; nobody knows what is in the womb; nobody knows what he will gain tomorrow; nobody knows at what place he will die; and nobody knows when it will rain."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: غیب کی چابیاں پانچ باتیں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ایک یہ کہ کل کیا ہو گا کوئی نہیں جانتا۔ دوسرے ماں کے پیٹ میں کیا ہے(لڑکا یا لڑکی) کوئی نہیں جانتا۔ تیسرےآدمی کل کیا کرے گا (اچھا یا برا) کوئی نہیں جانتا۔ چوتھے آدمی کہاں مرے گا کوئی نہیں جانتا۔ پانچویں بارش کب آئے گی، کوئی نہیں جانتا۔

123