- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First345

41. باب مَا جَاءَ أَنَّ الأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَالْحِسْبَةِ

وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَدَخَلَ فِيهِ الإِيمَانُ وَالْوُضُوءُ وَالصَّلاَةُ وَالزَّكَاةُ وَالْحَجُّ وَالصَّوْمُ وَالأَحْكَامُ‏.‏ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ‏}‏ عَلَى نِيَّتِهِ‏.‏ ‏"‏ نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ‏"

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ‏"

Narrated By 'Umar bin Al-Khattab : Allah's Apostle said, "The reward of deeds depends upon the intention and every person will get the reward according to what he has intended. So whoever emigrated for Allah and His Apostle, then his emigration was for Allah and His Apostle. And whoever emigrated for worldly benefits or for a woman to marry, his emigration was for what he emigrated for."

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے، انسان کو ویسا ہی (بدلہ) ملے گا جیسی وہ نیت کرے گا، لہذا جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیےہجرت کرے گا اس نے واقعی اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی، اور جو کوئی دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت ان ہی کاموں کے لیے سمجھی جائے گی (یعنی وہ اتنے بڑے عمل ہجرت کے ثواب سے محروم رہے گا)


حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ ‏"

Narrated By Abu Mas'ud : The Prophet said, "If a man spends on his family (with the intention of having a reward from Allah) sincerely for Allah's sake then it is a (kind of) alms-giving in reward for him."

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب آدمی ثواب کی نیت سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔


حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلاَّ أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ ‏"

Narrated By Sa'd bin Abi Waqqas : Allah's Apostle said, "You will be rewarded for whatever you spend for Allah's sake even if it were a morsel which you put in your wife's mouth."

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی خاطر جو کچھ بھی تو خرچ کرے گا اس کا تجھے اجر ملے گا حتی کہ اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنا بھی باعثِ اجر ہے۔

42. باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الدِّينُ النَّصِيحَةُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ‏"

وَقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ‏}

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

Narrated By Jarir bin Abdullah : I gave the pledge of allegiance to Allah's Apostle for the following: 1. Offer prayers perfectly. 2. Pay the Zakat. (obligatory charity) 3. And be sincere and true to every Muslim.

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے نماز قائم کرنے ، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ يَوْمَ مَاتَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ، فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الآنَ، ثُمَّ قَالَ اسْتَعْفُوا لأَمِيرِكُمْ، فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الإِسْلاَمِ‏.‏ فَشَرَطَ عَلَىَّ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ‏.‏ فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا، وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَنَاصِحٌ لَكُمْ‏.‏ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ

Narrated By Ziyad bin'Ilaqa : I heard Jarir bin 'Abdullah (Praising Allah). On the day when Al-Mughira bin Shu'ba died, he (Jarir) got up (on the pulpit) and thanked and praised Allah and said, "Be afraid of Allah alone Who has none along with Him to be worshipped.(You should) be calm and quiet till the (new) chief comes to you and he will come to you soon. Ask Allah's forgiveness for your (late) chief because he himself loved to forgive others." Jarir added, "Amma badu (now then), I went to the Prophet and said, 'I give my pledge of allegiance to you for Islam." The Prophet conditioned (my pledge) for me to be sincere and true to every Muslim so I gave my pledge to him for this. By the Lord of this mosque! I am sincere and true to you (Muslims). Then Jarir asked for Allah's forgiveness and came down (from the pulpit).

جس دن مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ (حاکمِ کوفہ) وفات پا گئے تو جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ خطبہ کےلئے کھڑے ہوئے اور حمد وثنا کے بعد فرمایا: تمہیں اللہ وحدہ لا شریک کا خوف رکھنا چاہیے، اور اس وقت تک تحمل وبردباری کے ساتھ رہنا چاہیے جب تک دوسرا حاکم نہ آجائے، اور وہ ابھی آنے والا ہی ہے، پھر فرمایا اپنے فوت ہونے والے حاکم کےلئے دعائے مغفرت کرو، کیونکہ وہ بھی معافی کو پسند کرتے تھے اورتمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دفعہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا، اور عرض کی میں آپ سے اسلام پر بیعت کرنا چاہتا ہوں آپﷺ نے مجھ پر ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی شرط لگائی، تو میں نے اسی شرط پر آپ ﷺ سے بیعت کی ، اس مسجد کے رب کی قسم! میں آپ لوگوں کا خیر خواہ ہوں ، پھر استغفار کیا اور منبر سے اتر گئے۔

‹ First345