61. باب مَا يُكْرَهُ مِنِ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ عَلَى الْقُبُورِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ هِلاَلٍ ـ هُوَ الْوَزَّانُ ـ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا ". قَالَتْ وَلَوْلاَ ذَلِكَ لأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا
Narrated By 'Urwa : 'Aisha said, "The Prophet in his fatal illness said, 'Allah cursed the Jews and the Christians because they took the graves of their Prophets as places for praying." 'Aisha added, "Had it not been for that the grave of the Prophet (p.b.u.h) would have been made prominent but I am afraid it might be taken (as a) place for praying.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی یہ فرمایا: اللہ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنالیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ ﷺ کی قبر کھلی رہتی۔ میں بھی ڈرتی ہوں کہیں آپ ﷺ کی قبر کو مسجد نہ بنالیا جائے۔
62. باب الصَّلاَةِ عَلَى النُّفَسَاءِ إِذَا مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ عَلَيْهَا وَسَطَهَا
Narrated By Samura bin Jundab : I offered the funeral prayer behind the Prophet for a woman who had died during child-birth and he stood up by the middle of the coffin.
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺکے پیچھے ایک عورت (امِّ کعب) پر نماز پڑھی جو نفاس کی حالت میں فوت ہوگئی تھی۔آپﷺ اس کے درمیان ( کمر کے مقابل) کھڑے ہوئے۔
63. باب أَيْنَ يَقُومُ مِنَ الْمَرْأَةِ وَالرَّجُلِ
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا وَسَطَهَا
Narrated By Samura bin Jundab : I offered the funeral prayer behind the Prophet for a woman who had died during child-birth and he stood up by the middle of the coffin.
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺکے پیچھے ایک عورت پر نماز (جنازہ) پڑھی جو نفاس میں مرگئی تھی،آپﷺ اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔
64. باب التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ أَرْبَعًا
وَقَالَ حُمَيْدٌ صَلَّى بِنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ فَكَبَّرَ ثَلاَثًا ثُمَّ سَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبَّرَ الرَّابِعَةَ ثُمَّ سَلَّمَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle informed about the news of the death of An-Najash on the day he died. He went out with us to the Musalla and we aligned in rows and he said four Takbirs for An-Najashi's funeral prayer.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے نجاشی کے مرنے کی خبر اسی دن دی تھی جس دن وہ (حبشہ میں) فوت ہوئے تھے۔پھر آپﷺ لوگوں کو لےکر عید گاہ گئے وہاں ان کی صف بندھوائی اور چار تکبیریں اس پر کہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا. وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَعَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ سَلِيمٍ أَصْحَمَةَ. وَتَابَعَهُ عَبْدُ الصَّمَدِ
Narrated By Jabir : The Prophet offered the funeral prayer of As-Hama An-Najash and said four Takbir.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اصحمہ نجاشی پر نماز(جنازہ) پڑھی تو چار تکبیریں کہیں اوریزید بن ہارون اور عبدالصمد نے سلیم سے اس کا نام اصحمہ روایت کیا ہے۔
65. باب قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى الْجَنَازَةِ
وَقَالَ الْحَسَنُ يَقْرَأُ عَلَى الطِّفْلِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا وَسَلَفًا وَأَجْرًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ لِيَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ
Narrated By Talha bin 'Abdullah bin 'Auf : I offered the funeral prayer behind Ibn Abbas and he recited Al-Fatiha and said, "You should know that it (i.e. recitation of Al-Fatiha) is the tradition of the Prophet Muhammad.
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پیچھے جنازے کی نماز پڑھی۔دوسری سند میں یوں ہے کہ طلحہ بن عبد اللہ بن عوف نے کہا میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک جنازے پر نماز پڑھی انہوں نے سورۃ فاتحہ (ذرا پکارکر) پڑھی اور کہا میں نے یہ اس لیے کیا کہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔
66. باب الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ بَعْدَ مَا يُدْفَنُ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَلَّوْا خَلْفَهُ. قُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا يَا أَبَا عَمْرٍو قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما
Narrated By Sulaiman Ash-Shaibani : I heard Ash-Sha'bi saying, "I was told by a man who had passed with the Prophet (p.b.u.h) by a grave that was separate from the other graves that he (the Prophet) led them in the prayer and they prayed behind him." I said, "O Abu 'Amr! Who narrated that to you?" He replied, "Ibn Abbas."
عامر شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: مجھ کو اس نے خبر دی جو نبیﷺکے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر پر سے گزرا تھا۔آپ ﷺ نے لوگوں کی امامت کی اور انہوں نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ شیبانی نے کہا میں نے شعبی سے کہا: ابو عمرو! تم سے یہ حدیث کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ أَسْوَدَ ـ رَجُلاً أَوِ امْرَأَةً ـ كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ، وَلَمْ يَعْلَمِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَوْتِهِ فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ " مَا فَعَلَ ذَلِكَ الإِنْسَانُ ". قَالُوا مَاتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " أَفَلاَ آذَنْتُمُونِي ". فَقَالُوا إِنَّهُ كَانَ كَذَا وَكَذَا قِصَّتَهُ. قَالَ فَحَقَرُوا شَأْنَهُ. قَالَ " فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ ". فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ
Narrated By Abu Huraira : A black person, a male or a female used to clean the Mosque and then died. The Prophet (p.b.u.h) did not know about it. One day the Prophet remembered him and said, "What happened to that person?" The people replied, "O Allah's Apostle! He died." He said, "Why did you not inform me?" They said, "His story was so and so (i.e. regarded him as insignificant)." He said, "Show me his grave." He then went to his grave and offered the funeral prayer.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا یا ایک سیاہ فام عورت جھاڑو دیا کرتی تھی، وہ مرگیا یا مرگئی اور نبیﷺ کو اس کے مرنے کی خبر نہ ہوئی۔ ایک دن آپﷺ نے اس کو یاد فرمایا اور پوچھا وہ انسان کہاں ہے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ وہ مرگیا (یامرگئی) آپﷺ نے فرمایا: تم نے مجھ کو خبر کیوں نہ دی ۔لوگوں نے کہا: ایسا ہوا ایسا ہوا، اس کا قصّہ بیان کیا۔ غرض اس کو ادنیٰ اور حقیر سمجھا ۔آپﷺ نے فرمایا:مجھ کو اس کی قبر بتلاؤ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپﷺ اس کی قبر پر آئے اس پر نماز پڑھی۔
67. باب الْمَيِّتُ يَسْمَعُ خَفْقَ النِّعَالِ
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتُوُلِّيَ وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ. فَيُقَالُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا ـ وَأَمَّا الْكَافِرُ ـ أَوِ الْمُنَافِقُ ـ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ. فَيُقَالُ لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ. ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَقَةٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ إِلاَّ الثَّقَلَيْنِ "
Narrated By Anas : The Prophet said, "When a human being is laid in his grave and his companions return and he even hears their foot steps, two angels come to him and make him sit and ask him: What did you use to say about this man, Muhammad ? He will say: I testify that he is Allah's slave and His Apostle. Then it will be said to him, 'Look at your place in the Hell-Fire. Allah has given you a place in Paradise instead of it.' " The Prophet added, "The dead person will see both his places. But a non-believer or a hypocrite will say to the angels, 'I do not know, but I used to say what the people used to say! It will be said to him, 'Neither did you know nor did you take the guidance (by reciting the Qur'an).' Then he will be hit with an iron hammer between his two ears, and he will cry and that cry will be heard by whatever approaches him except human beings and jinns."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جب آدمی کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ موڑکر واپس چلے جاتے ہیں وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کو بٹھاتے ہیں، پوچھتے ہیں اس شخص یعنی محمدﷺ کے بارے میں تمہارا کیا اعتقاد ہے۔ وہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے دوزخ میں جو جگہ تھی اس کو دیکھ لے اللہ نے اس کے بدلے تجھے جنت میں ٹھکانا دیا نبیﷺ نے فرمایا: تو وہ اپنے دونوں ٹھکانے دیکھتا ہے۔ کافر یا منافق فرشتوں کے جواب میں کہتا ہے میں نہیں جانتا میں تو وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے پھر اس سے کہا جائے گا نہ تو نےخود غور کیا اور نہ اچھے لوگوں کی پیروی کی پھر لوہے کے ہتھوڑے سے اس کے کانوں کے درمیان میں بڑے زور سے مارا جاتا ہے،وہ اتنے بھیانک طریقہ سے چیختا ہے کہ انسان اور جنّ کے سوا اس کے ارد گرد کی تمام مخلوق سنتی ہے۔
68. باب مَنْ أَحَبَّ الدَّفْنَ فِي الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ أَوْ نَحْوِهَا
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ " أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لاَ يُرِيدُ الْمَوْتَ. فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ بِهِ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ. قَالَ أَىْ رَبِّ، ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ الْمَوْتُ. قَالَ فَالآنَ. فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ ". قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ "
Narrated By Abu Huraira : The angel of death was sent to Moses and when he went to him, Moses slapped him severely, spoiling one of his eyes. The angel went back to his Lord, and said, "You sent me to a slave who does not want to die." Allah restored his eye and said, "Go back and tell him (i.e. Moses) to place his hand over the back of an ox, for he will be allowed to live for a number of years equal to the number of hairs coming under his hand." (So the angel came to him and told him the same). Then Moses asked, "O my Lord! What will be then?" He said, "Death will be then." He said, "(Let it be) now." He asked Allah that He bring him near the Sacred Land at a distance of a stone's throw. Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Were I there I would show you the grave of Moses by the way near the red sand hill."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ملک الموت (موت کا فرشتہ) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا (آدمی کی شکل میں) جب وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے ایک زور کا طمانچہ رسید کیا، اور ان کی آنکھ پھوڑ ڈالی۔ وہ واپس اپنے رب کے پاس پہنچے اور عرض کیا اے اللہ! تو نے مجھ کو ایسے بندے کے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھ درست کردی اور فرمایا موسیٰ علیہ السلام کے پاس دوبارہ جاؤ اور ان سے کہہ ایک بیل کی پیٹھ پر ہاتھ رکھو جتنے بال ان کے ہاتھ تلے آئیں وہ اتنے برس زندہ رہیں گے۔(فرشتے نے ایسا ہی کہا) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا، پھر اس کے بعد؟ حکم ہوا موت۔ انہوں نے کہا تو ابھی سہی۔ پھر انہوں نے اللہ سے دعا مانگی یا اللہ مجھ کو بیت المقدس سے ایک پتّھر کی مار پر نزدیک کردے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں وہاں ہوتا تو تم کو موسیٰ علیہ السلام کی قبر دکھاتا،کہ لال ٹیلے کے پاس راستے کے قریب ہے۔
69. باب الدَّفْنِ بِاللَّيْلِ
وَدُفِنَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه لَيْلاً
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَجُلٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ بِلَيْلَةٍ قَامَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، وَكَانَ سَأَلَ عَنْهُ فَقَالَ " مَنْ هَذَا ". فَقَالُوا فُلاَنٌ، دُفِنَ الْبَارِحَةَ. فَصَلَّوْا عَلَيْهِ
Narrated By Ibn Abbas : The Prophet (p.b.u.h) offered the funeral prayer of a man one night after he was buried, he and his companions stood up (for the Prayer). He had asked them about him before standing, saying, "Who is this?" They said, "He is so and so and was buried last night." So all of them offered the funeral prayer.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺنے ایک شخص پر جو رات کو دفن کر دیا گیا تھا (دوسرے روز) نماز پڑھی۔آپﷺ اپنے صحابہ سمیت کھڑے ہوئے اور آپﷺ نےپوچھا یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ فلاں ہے۔کل رات کو دفن ہوا، پھر اس پر نماز پڑھی۔
70. باب بِنَاءِ الْمَسْجِدِ عَلَى الْقَبْرِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَتْ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ، وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَتَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ، فَذَكَرَتَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ " أُولَئِكَ إِذَا مَاتَ مِنْهُمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّورَةَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ "
Narrated By 'Aisha : When the Prophet became ill, some of his wives talked about a church which they had seen in Ethiopia and it was called Mariya. Um Salma and Um Habiba had been to Ethiopia, and both of them narrated its (the Church's) beauty and the pictures it contained. The Prophet raised his head and said, "Those are the people who, whenever a pious man dies amongst them, make a place of worship at his grave and then they make those pictures in it. Those are the worst creatures in the Sight of Allah."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ جب بیمار ہوئے (وفات کی بیماری میں) تو آپﷺ کی بعض ازواج مطہرات نے ایک گرجا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، جس کا نام ماریہ تھا۔ام سلمہ اور ام حبیبہ دونوں حبشہ میں گئی تھیں۔انہوں نے اس کی خوبصورتی اور اس میں رکھی ہوئی تصاویر کا بھی ذکر کیا۔اس پر آپﷺنے سر مبارک اٹھاکر فرمایا: کہ یہ وہ لوگ ہیں جب ان میں کوئی صالح آدمی مرجاتا، تو اس کی قبر پر مسجد تعمیر کردیتے، پھر اس کی مورت اس میں رکھتے۔اللہ کے نزدیک یہ لوگ ساری مخلوق سے بُرے ہیں۔