11. باب فَضلِ صَدَقَةِ الشَّحِيحِ الصَّحِيحِ
لِقَوْلِهِ {وَأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ} الآيَةَ. وَقَوْلِهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَ بَيْعٌ فِيهِ} الآيَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى، وَلاَ تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا، وَلِفُلاَنٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ "
Narrated By Abu Huraira : A man came to the Prophet and asked, "O Allah's Apostle! Which charity is the most superior in reward?" He replied, "The charity which you practice while you are healthy, niggardly and afraid of poverty and wish to become wealthy. Do not delay it to the time of approaching death and then say, 'Give so much to such and such, and so much to such and such.' And it has already belonged to such and such (as it is too late)."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا:یا رسول اللہﷺ! کس صدقے میں زیادہ ثواب ملےگا؟ آپ ﷺنے فرمایا: جب تو تندرستی میں مال کی خواہش ہوتے ہوئے محتاجی سے ڈرکر مالداری کی طمع رکھتے ہوئے خیرات کرے اور اتنی دیر مت کرنا کہ جان حلق میں آپہنچے اس وقت تو کہے گا فلانے کو اتنا دینا، اور فلانے کو اتنا،اب تو فلانے کا مال ہو ہی چکا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ بَعْضَ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا قَالَ " أَطْوَلُكُنَّ يَدًا ". فَأَخَذُوا قَصَبَةً يَذْرَعُونَهَا، فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا، فَعَلِمْنَا بَعْدُ أَنَّمَا كَانَتْ طُولَ يَدِهَا الصَّدَقَةُ، وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ وَكَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ
Narrated By 'Aisha : Some of the wives of the Prophet asked him, "Who amongst us will be the first to follow you (i.e. die after you)?" He said, "Whoever has the longest hand." So they started measuring their hands with a stick and Sauda's hand turned out to be the longest. (When Zainab bint Jahsh died first of all in the caliphate of 'Umar), we came to know that the long hand was a symbol of practicing charity, so she was the first to follow the Prophet and she used to love to practice charity. (Sauda died later in the caliphate of Muawiya).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی بعض ازواج مطہرات نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ ہم میں سب سے پہلے آپﷺ سے کون ملےگا؟آپ ﷺ نے فرمایا: جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں،پھر وہ ایک چھڑی لے کر اپنے اپنے ہاتھ ماپنے لگیں تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے نکلے۔بعد میں (جب ازواج مطہرات میں پہلے حضرت زینب کا انتقال ہوا تو) ہم سمجھے کہ ہاتھ کی لمبائی سے صدقہ کرنا مراد تھا اور وہ ہم میں سب سے پہلے آپ ﷺ سے ملیں اور صدقہ کرنا ان کو بہت پسند تھا۔
12. باب صَدَقَةِ الْعَلاَنِيَةِ
وَقَوْلِهِ {الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً} إِلَى قَوْلِهِ {وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ}
13. باب صَدَقَةِ السِّرِّ
وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ ". وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ}
14. باب إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى غَنِيٍّ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ رَجُلٌ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ. فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ. فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ. فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدَىْ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ. فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ، لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ. فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدَىْ غَنِيٍّ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، عَلَى سَارِقٍ وَعَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ. فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ أَمَّا صَدَقَتُكَ عَلَى سَارِقٍ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعِفَّ عَنْ سَرِقَتِهِ، وَأَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ عَنْ زِنَاهَا، وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "A man said that he would give something in charity. He went out with his object of charity and unknowingly gave it to a thief. Next morning the people said that he had given his object of charity to a thief. (On hearing that) he said, "O Allah! All the praises are for you. I will give alms again." And so he again went out with his alms and (unknowingly) gave it to an adulteress. Next morning the people said that he had given his alms to an adulteress last night. The man said, "O Allah! All the praises are for you. (I gave my alms) to an adulteress. I will give alms again." So he went out with his alms again and (unknowingly) gave it to a rich person. (The people) next morning said that he had given his alms to a wealthy person. He said, "O Allah! All the praises are for you. (I had given alms) to a thief, to an adulteress and to a wealthy man." Then someone came and said to him, "The alms which you gave to the thief, might make him abstain from stealing, and that given to the adulteress might make her abstain from illegal sexual intercourse (adultery), and that given to the wealthy man might make him take a lesson from it and spend his wealth which Allah has given him, in Allah's cause."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ایک شخص کہنے لگا میں(آج رات کو)ضرور صدقہ کروں گا، پھر وہ (رات کو) صدقہ لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں ڈال دیا۔صبح کو لوگ باتوں میں کہنے لگے چور کو صدقہ ملا۔ یہ سن کر وہ شخص بولا: یا اللہ!تیرا شکر ہے میں(آج رات کو)اور صدقہ کروں گا خیر پھر(رات کو) صدقہ لے کر نکلا اور زانیہ عورت کے ہاتھ میں ڈال آیا۔صبح کو لوگ باتیں بنانے لگے(عجیب بات ہے)رات کو ایک زانیہ کو صدقہ ملا،یہ سن کر اس نے کہا: یا اللہ تیرا شکر ہے زانیہ کو صدقہ پہنچنے پر،میں (آج رات کو) ضرور صدقہ کروں گا۔ پھر رات کو صدقہ لے کر نکلا اور ایک مالدار آدمی کے ہاتھ میں رکھ آیا۔صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے دیکھو مالدار کو صدقہ ملا۔یہ سن کر وہ بولا:یا اللہ!چور اور زانیہ اور مالدار سب کو صدقہ ملنے پر تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔پھر ایک آنے والا اس کے پاس آیا اور کہنے لگا (تیری تینوں خیراتیں قبول ہوئیں) چور کی اس وجہ سے کہ شاید وہ چوری سے باز رہے۔زانیہ کی اس لیے کہ شاید وہ زنا سے باز رہے۔ مالدار کی اس وجہ سے کہ شاید وہ سوچے اس کو عبرت ہو اور اللہ نے جو اس کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرے ۔
15. باب إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهِ وَهُوَ لاَ يَشْعُرُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي وَخَطَبَ عَلَىَّ فَأَنْكَحَنِي وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ ـ وَـ كَانَ أَبِي يَزِيدُ أَخْرَجَ دَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَجِئْتُ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ. فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ، وَلَكَ مَا أَخَذْتَ يَا مَعْنُ "
Narrated By Ma'n bin Yazid : My grandfather, my father and I gave the pledge of allegiance to Allah's Apostle. The Prophet got me engaged and then got me married. One day I went to the Prophet with a complaint. My father Yazid had taken some gold coins for charity and kept them with a man in the mosque (to give them to the poor) But I went and took them and brought them to him (my father). My father said, "By Allah! I did not intend to give them to you. " I took (the case) to Allah's Apostle. On that Allah's Apostle said, "O Yazid! You will be rewarded for what you intended. O Man! Whatever you have taken is yours."
حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے کہا: میں نے اور میرے باپ یزید اور میرے دادا(اخنس بن حبیب) نے رسول اللہﷺ سے بیعت کی اور آپﷺ نے میری منگنی کرائی اور نکاح پڑھایا اورمیں ایک مقدمہ آپﷺ کے پاس لے کرگیا۔ ہوا یہ کہ میرے والد یزید نے صدقہ کی کچھ اشرفیاں نکالیں اورمسجد میں ایک شخص کے پاس رکھ دی میں اس کے پاس گیا اور وہ اشرفیاں لے لیں اپنے والد کے پاس لایا وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرا یہ مطلب نہ تھا کہ یہ صدقہ تجھ کو پہنچے آخر وہ جھگڑتے ہوئے رسول اللہﷺکے پاس آئے آپﷺ نے فرمایا: یزید تیری نیّت پوری ہوگئی اور معن جو تونے لیا وہ تمہارا ہوگیا۔
16. باب الصَّدَقَةِ بِالْيَمِينِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ إِمَامٌ عَدْلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet (p.b.u.h) said, "Seven people will be shaded by Allah under His shade on the day when there will be no shade except His. They are:
1. A just ruler.
2. A young man who has been brought up in the worship of Allah, (i.e. worship Allah (Alone) sincerely from his childhood).
3. A man whose heart is attached to the mosque (who offers the five compulsory congregational prayers in the mosque).
4. Two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only.
5. A man who refuses the call of a charming woman of noble birth for an illegal sexual intercourse with her and says: I am afraid of Allah.
6. A person who practices charity so secretly that his left hand does not know what his right hand has given (i.e. nobody knows how much he has given in charity).
7. A person who remembers Allah in seclusion and his eyes get flooded with tears."
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: سات آدمیوں کو اللہ اس دن اپنے سائے میں رکھےگا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہوگا ایک تو عادل بادشاہ، دوسرے وہ جوان جو جوانی کی ابتداء سے اللہ کی عبادت میں رہا،تیسرے وہ شخص جس کا دل مسجدوں میں لگا ہوا ہے، چوتھے وہ آدمی جنہوں نے اللہ کےلیے محبّت رکھی پھر اس پر قائم رہے اور محبّت ہی پر جدا ہوگئے، پانچویں وہ مرد جس کو ایک منصب والی خوبصورت عورت نے(بُرے کام کےلیے) بلایا۔وہ کہنے لگا میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹے وہ مرد جس نے داہنے ہاتھ سے ایسا چھپاکر صدقہ دیا کہ بائیں ہاتھ کو اس کی خبر نہ ہوئی، ساتویں وہ مرد جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کے آنسو بہہ نکلے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تَصَدَّقُوا، فَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَيَقُولُ الرَّجُلُ لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا مِنْكَ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلاَ حَاجَةَ لِي فِيهَا "
Narrated By Haritha bin Wahab Al-Khuza'i : I heard the Prophet (p.b.u.h) saying, "(O people!) Give in charity (for Allah's cause) because a time will come when a person will carry his object of charity from place to place (and he will not find any person to take it) and any person whom he shall request to take it, I will reply, 'If you had brought it yesterday I would have taken it, but today I am not in need of it."
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺ سے سناآپﷺ فرماتے تھے: صدقہ کرو، عنقریب ایک زمانہ تم پر ایسا آنے والا ہے کہ آدمی اپنا صدقہ لےکر چلےگا ایک شخص (کو دینے جائےگا) وہ کہےگا اگر تو کل لاتا تو میں لے لیتا، آج تو مجھ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
17. باب مَنْ أَمَرَ خَادِمَهُ بِالصَّدَقَةِ وَلَمْ يُنَاوِلْ بِنَفْسِهِ
وَقَالَ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " هُوَ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ "
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، لاَ يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا "
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle said, "When a woman gives in charity some of the foodstuff (which she has in her house) without spoiling it, she will receive the reward for what she has spent, and her husband will receive the reward because of his earning, and the storekeeper will also have a reward similar to it. The reward of one will not decrease the reward of the others."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے گھرکے کھانے میں سے کچھ صدقہ کرے بشرطیکہ شوہر کی پونجی برباد کرنے کی نیّت نہ ہو تو عورت کو بھی صدقہ کرنے کا ثواب ملےگا جیسے خاوند کو اس مال کے کمانے کی وجہ سے، اور خزانچی کا بھی یہی حکم ہے اور کسی کا ثواب دوسرے کے ثواب کو کم نہیں کرےگا۔
18. باب لاَ صَدَقَةَ إِلاَّ عَنْ ظَهْرِ غِنًى
وَمَنْ تَصَدَّقَ وَهْوَ مُحْتَاجٌ، أَوْ أَهْلُهُ مُحْتَاجٌ، أَوْ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَالدَّيْنُ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى مِنَ الصَّدَقَةِ وَالْعِتْقِ وَالْهِبَةِ، وَهْوَ رَدٌّ عَلَيْهِ، لَيْسَ لَهُ أَنْ يُتْلِفَ أَمْوَالَ النَّاسِ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ إِتْلاَفَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ ". إِلاَّ أَنْ يَكُونَ مَعْرُوفًا بِالصَّبْرِ فَيُؤْثِرَ عَلَى نَفْسِهِ وَلَوْ كَانَ بِهِ خَصَاصَةٌ كَفِعْلِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ حِينَ تَصَدَّقَ بِمَالِهِ، وَكَذَلِكَ آثَرَ الأَنْصَارُ الْمُهَاجِرِينَ، وَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ إِضَاعَةِ الْمَالِ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُضَيِّعَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِعِلَّةِ الصَّدَقَةِ. وَقَالَ كَعْبٌ ـ رضى الله عنه ـ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَهْوَ خَيْرٌ لَكَ ". قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet (p.b.u.h) said, "The best charity is that which is practiced by a wealthy person. And start giving first to your dependents."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: عمدہ صدقہ وہی ہے جس کے دینے کے بعد آدمی مالدار رہے اور پہلے ان لوگوں سے شروع کرو، جو تمہاری نگہبانی میں ہیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ "
Narrated By Hakim bin Hizam : The Prophet said, "The upper hand is better than the lower hand (i.e. he who gives in charity is better than him who takes it). One should start giving first to his dependents. And the best object of charity is that which is given by a wealthy person (from the money which is left after his expenses). And whoever abstains from asking others for some financial help, Allah will give him and save him from asking others, Allah will make him self-sufficient."
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: اوپر والا(دینے والا)ہاتھ نیچے والے(لینے والے)ہاتھ سے بہتر ہے اور پہلے اپنے بال بچوں کو دے اور عمدہ خیرات وہی ہے جس کو دےکر آدمی مالدار رہے اور جو کوئی سوال کرنے سے بچنا چاہےگا اللہ اس کو بچائےگا اور جو کوئی بے پرواہی کی دعا کرےگا اللہ اس کو بے پرواہ کردے گا۔
وَعَنْ وُهَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ بِهَذَا
Narrated Abu Huraira like this.
ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حسب سابق مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ وَالْمَسْأَلَةَ " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، فَالْيَدُ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ، وَالسُّفْلَى هِيَ السَّائِلَةُ "
Narrated By Ibn 'Umar : I heard Allah's Apostle (p.b.u.h) while he was on the pulpit speaking about charity, to abstain from asking others for some financial help and about begging others, saying, "The upper hand is better than the lower hand. The upper hand is that of the giver and the lower (hand) is that of the beggar."
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے منبر پر صدقہ اور سوال سے بچنے کا اور سوال کرنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا: کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے، اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔
19. باب الْمَنَّانِ بِمَا أَعْطَى لِقَوْلِهِ
{الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لاَ يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا} الآيَةَ
20. باب مَنْ أَحَبَّ تَعْجِيلَ الصَّدَقَةِ مِنْ يَوْمِهَا
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ، فَأَسْرَعَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ، فَقُلْتُ أَوْ قِيلَ لَهُ فَقَالَ " كُنْتُ خَلَّفْتُ فِي الْبَيْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُبَيِّتَهُ فَقَسَمْتُهُ "
Narrated By 'Uqba bin Al-Harith : Once the Prophet offered the 'Asr prayer and then hurriedly went to his house and returned immediately. I (or somebody else) asked him (as to what was the matter) and he said, "I left at home a piece of gold which was from the charity and I disliked to let it remain a night in my house, so I got it distributed."
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺنے عصر کی نماز پڑھائی پھر جلدی سے گھر میں تشریف لے گئے۔تھوڑی دیر میں باہر نکلے،میں نے آپﷺ سے اس کا سبب پوچھا یا کسی اور نے پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا: خیرات کے مال میں سے ایک سونے کا ٹکڑا گھر میں چھوڑ آیا تھا۔ میں نے ناپسند کیا کہ وہ رات کو میرے پاس رہے۔ پھر میں نے اس کو بانٹ دیا۔