101. باب التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ غَدَاةَ النَّحْرِحِينَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ، وَالاِرْتِدَافِ فِي السَّيْرِ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْدَفَ الْفَضْلَ، فَأَخْبَرَ الْفَضْلُ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
Narrated By Ibn Abbas : The Prophet made Al-Faql ride behind him, and Al-Fadl informed that he (the Prophet) kept on reciting Talbiya till he did the Rami of the Jamra. (Jamrat-al-Aqaba.)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو مزدلفہ سے لوٹتے وقت اپنے ساتھ سوار کیا۔ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے تھے آپ ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر لبیک پکارتے رہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ الأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى ـ قَالَ ـ فَكِلاَهُمَا قَالاَ لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
Narrated By 'Ubaidullah bin 'Abdullah : Ibn Abbas said, "Usama bin Zaid rode behind the Prophet from 'Arafat to Al-Muzdalifa; and then from Al-Muzdalifa to Mina, Al-Fadl rode behind him." He added, "Both of them (Usama and Al-Fadl) said, 'The Prophet was constantly reciting Talbiya till he did Rami of the Jamarat-al-'Aqaba."
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ عرفات سے لے کر مزدلفہ تک نبیﷺکے ساتھ سوار تھے۔پھر آپﷺنے مزدلفہ سے منیٰ تک اپنے ساتھ حضرت فضل بن عباس ر ضی اللہ عنہ کو سوار کرلیا۔ دونوں نے بیان کیا کہ نبیﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر لبیک کہتے رہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ الأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى ـ قَالَ ـ فَكِلاَهُمَا قَالاَ لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
Narrated By 'Ubaidullah bin 'Abdullah : Ibn Abbas said, "Usama bin Zaid rode behind the Prophet from 'Arafat to Al-Muzdalifa; and then from Al-Muzdalifa to Mina, Al-Fadl rode behind him." He added, "Both of them (Usama and Al-Fadl) said, 'The Prophet was constantly reciting Talbiya till he did Rami of the Jamarat-al-'Aqaba."
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ عرفات سے لے کر مزدلفہ تک نبیﷺکے ساتھ سوار تھے۔پھر آپﷺنے مزدلفہ سے منیٰ تک اپنے ساتھ حضرت فضل بن عباس ر ضی اللہ عنہ کو سوار کرلیا۔ دونوں نے بیان کیا کہ نبیﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر لبیک کہتے رہے۔
102. باب {فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ الْمُتْعَةِ، فَأَمَرَنِي بِهَا، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْهَدْىِ، فَقَالَ فِيهَا جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ قَالَ وَكَأَنَّ نَاسًا كَرِهُوهَا، فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ إِنْسَانًا يُنَادِي حَجٌّ مَبْرُورٌ، وَمُتْعَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ. فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَقَالَ آدَمُ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَغُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ
Narrated By Abu Jamra : I asked Ibn Abbas about Hajj-at-Tamattu'. He ordered me to perform it. I asked him about the Hadi (sacrifice). He said, "You have to slaughter a camel, a cow or a sheep, or you may share the Hadi with the others." It seemed that some people disliked it (Hajj-at-Tamattu). I slept and dreamt as if a person was announcing: "Hajj Mabrur and accepted Mut'ah (Hajj-At-Tamattu')" I went to Ibn Abbas and narrated it to him. He said, "Allah is Greater. (That was) the tradition of Abu Al-Qasim (i.e. Prophet). Narrated Shu'ba that the call in the dream was. "An accepted 'Umra and Hajj-Mabrur."
ابوجمرہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے کرنے کا حکم دیا۔
اور میں نے ان سے قربانی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک اونٹ قربانی کرے یا ایک گائے یا ایک بکری یا اونٹ یا ایک گائے میں شریک ہوجائے۔ ابوجمرہ نے کہا:گویا کہ بعض لوگوں نے تمتع کو برا سمجھا۔ میں سوگیا خواب میں کیا دیکھتا ہوں کوئی آدمی پکار رہا ہے یہ حج مبرور یعنی مبارک ہے اور تمتع مقبول ہے پھر میں ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا میں نے ان سے خواب بیان کیا ، انہوں نے کہا: اللہ اکبر آخر یہ ابو القاسمﷺ کی سنّت ہے ۔
103. باب رُكُوبِ الْبُدْنِ
لِقَوْلِهِ {وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ * لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلاَ دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ}. قَالَ مُجَاهِدٌ سُمِّيَتِ الْبُدْنَ لِبُدْنِهَا. وَالْقَانِعُ السَّائِلُ، وَالْمُعْتَرُّ الَّذِي يَعْتَرُّ بِالْبُدْنِ مِنْ غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ، وَشَعَائِرُ اسْتِعْظَامُ الْبُدْنِ وَاسْتِحْسَانُهَا، وَالْعَتِيقُ عِتْقُهُ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، وَيُقَالُ وَجَبَتْ سَقَطَتْ إِلَى الأَرْضِ وَمِنْهُ وَجَبَتِ الشَّمْسُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا ". فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. فَقَالَ " ارْكَبْهَا ". قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ ". فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الثَّانِيَةِ
Narrated By Abu Huraira' : Allah's Apostle (p.b.u.h) saw a man driving his Badana (sacrificial camel). He said, "Ride on it." The man said, "It is a Badana." The Prophet said, "Ride on it." He (the man) said, "It is a Badana." The Prophet said, "Ride on it." And on the second or the third time he (the Prophet) added, "Woe to you."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا اونٹ ہانک رہا تھا (خود پیدل چل رہا تھا ) آپﷺ نے فرمایا:اس پر سوار ہوجاؤ۔ اس نے کہا: قربانی کا جانور ہے آپﷺ نے فرمایا: ارے سوار ہوجاؤ۔ اس نے کہا: یہ قربانی کا جانور ہے آپﷺ نے فرمایا: سوار ہوجاؤ کمبخت۔ دوسری یا تیسری مرتبہ یوں فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ " ارْكَبْهَا ". قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا ". قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا ". ثَلاَثًا
Narrated By Anas : The Prophet saw a man driving a Badana. He said, "Ride on it." The man replied, "It is a Badana." The Prophet said (again), "Ride on it." He (the man) said, "It is a Badana." The Prophet said thrice, "Ride on it."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جوقربانی کا جانور ہانک کے لے جارہا تھا۔آپﷺ نے فرمایا: اس پر سوار ہوجاؤ وہ کہنے لگا یہ قربانی کا ہے آپﷺ نے فرمایا: سوار ہوجاؤ ، وہ کہنے لگا یہ قربانی کا ہے۔آپﷺ نے فرمایا: سوار ہوجاؤ، تین بار یہی فرمایا۔
104. باب مَنْ سَاقَ الْبُدْنَ مَعَهُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لِشَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ، وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ". فَطَافَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَى أَرْبَعًا، فَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ
Narrated By Ibn 'Umar : During the last Hajj (Hajj-al-Wada') of Allah's Apostle he performed 'Umra and Hajj. He drove a Hadi along with him from Dhul-Hulaifa. Allah's Apostle started by assuming Ihram for 'Umra and Hajj. And the people, too, performed the 'Umra and Hajj along with the Prophet. Some of them brought the Hadi and drove it along with them, while the others did not. So, when the Prophet arrived at Mecca. he said to the people, "Whoever among you has driven the Hadi, should not finish his Ihram till he completes his Hajj. And whoever among you has not (driven) the Hadi with him, should perform Tawaf of the Ka'ba and the Tawaf between Safa and Marwa, then cut short his hair and finish his Ihram, and should later assume Ihram for Hajj; but he must offer a Hadi (sacrifice); and if anyone cannot afford a Hadi, he should fast for three days during the Hajj and seven days when he returns home. The Prophet performed Tawaf of the Ka'ba on his arrival (at Mecca); he touched the (Black Stone) corner first of all and then did Ramal (fast walking with moving of the shoulders) during the first three rounds round the Ka'ba, and during the last four rounds he walked. After finishing Tawaf of the Ka'ba, he offered a two Rakat prayer at Maqam Ibrahim, and after finishing the prayer he went to Safa and Marwa and performed seven rounds of Tawaf between them and did not do any deed forbidden because of Ihram, till he finished all the ceremonies of his Hajj and sacrificed his Hadi on the day of Nahr (10th day of Dhul-Hijja). He then hastened onwards (to Mecca) and performed Tawaf of the Ka'ba and then everything that was forbidden because of Ihram became permissible. Those who took and drove the Hadi with them did the same as Allah's Apostle did.
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا یعنی عمرہ کرکے پھر حج کیا اور ذوالحلیفہ سے آپﷺ اپنے ساتھ قربانی لے گئے تھے اور آپﷺنے پہلےعمرے کا احرام باندھا، پھر حج کےلیے لبیک پکارا۔ لوگوں نے بھی آپﷺکے ساتھ تمتع کیا یعنی عمرہ کرکے حج کیا اب لوگوں میں دو طرح کے لوگ تھے بعض توقربانی ساتھ لے چلے تھے اور بعض قربانی اپنے ساتھ نہیں لائے تھے۔جب نبیﷺ مکہّ میں پہنچے تو آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا تم میں سے جوقربانی ساتھ لایا ہو وہ احرام میں جن چیزوں سے پرہیز کرتا ہے پرہیز رکھے حج پُوراہوئے تک اور جو قربانی ساتھ نہیں لایا تو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ میں دوڑکر کر بال کترائے اور احرام کھول ڈالے۔جو شخص قربانی ساتھ لایا ہو اس کے لیے حج پورا ہونے تک کوئی بھی ایسی چیز حلال نہیں ہوسکتی جسے اس نے اپنے اوپر حرام کرلیا ہے لیکن جن کے ساتھ قربانی نہیں ہے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرلیں اور صفا و مروہ کی سعی کرکے بال ترشوالیں اور حلال ہوجائیں، پھر حج کےلیے (از سر نو آٹھویں ذی الحجہ کو احرام باندھیں) ایسا شخص اگر قربانی نہ پائے تو تین دن کے روزے حج ہی کے دنوں میں اور سات دن کے روزے گھر واپس آکر رکھے۔ جب آپﷺمکہ پہنچے تو سب سے پہلے آپﷺنے طواف کیا پھر حجر اسور کو بوسہ دیا تین چکروں میں آپﷺنے رمل کیا اور باقی چار میں معمولی رفتار چلے ، پھر بیت اللہ کا طواف پورا کرکے مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی سلام پھیر کر آپﷺ صفا پہاڑی کی طرف آئے اور صفا اور مروہ کی سعی بھی سات چکروں میں پوری کی۔ جن چیزوں کو حرام کرلیا تھا ان سے اس وقت تک آپﷺحلال نہیں ہوئے جب تک کہ حج بھی پورا نہ کرلیا اور یوم النحر میں قربانی کا جانور بھی ذبح نہ کرلیا ، پھر آپﷺ مکہ واپس آئے اور بیت اللہ کا جب طواف افاضہ کرلیا تو ہر وہ چیز آپﷺکے لیے حلال ہوگئی جو احرام کی وجہ سے حرام تھی جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر گئے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہﷺنے کیا تھا۔
وَعَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي تَمَتُّعِهِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Narrated Urwa:"Aisha(R.A.) informed me about the Hajj and Umra(together) of the Prophet(s.a.w.) and so did the people who were with him(during that Hajj and Umra) a narration similar to the narration of Ibn Umar(R.A.)
عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبیﷺنے تمتع کیا یعنی عمرہ کرکے حج کیا اور لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ تمتع کیا اور ایسی ہی حدیث بیان کی جیسے سالم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہﷺ سے۔
105. باب مَنِ اشْتَرَى الْهَدْىَ مِنَ الطَّرِيقِ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ لأَبِيهِ أَقِمْ، فَإِنِّي لاَ آمَنُهَا أَنْ سَتُصَدُّ عَنِ الْبَيْتِ. قَالَ إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ قَالَ اللَّهُ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَلَى نَفْسِي الْعُمْرَةَ. فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَقَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ وَاحِدٌ. ثُمَّ اشْتَرَى الْهَدْىَ مِنْ قُدَيْدٍ، ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، فَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا
Narrated By Nafi' : 'Abdullah (bin 'Abdullah) bin 'Umar said to his father, "Stay here, for I am afraid that it (affliction between Ibn Zubair and Al-Hajjaj) might prevent you from reaching the Ka'ba." Ibn 'Umar said, "(In this case) I would do the same as Allah's Apostle did, and Allah has said, 'Verily, in Allah's Apostle, you have a good example (to follow).' So, I make you, people, witness that I have made 'Umra compulsory for me." So he assumed Ihram for 'Umra. Then he went out and when he reached Al-Baida', he assumed Ihram for Hajj and 'Umra (together) and said, "The conditions (requisites) of Hajj and 'Umra are the same." He, then brought a Hadi from Qudaid. Then he arrived (at Mecca) and performed Tawaf (between Safa and Marwa) once for both Hajj and 'Umra and did not finish the Ihram till he had finished both Hajj and 'Umra.
نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر نے اپنے والد ( حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے کہا: آپ (اس سال) ٹھہر جائیں مجھے خدشہ ہے کہ کہیں کعبہ میں جانے سے آپ کو روک نہ دیا جائے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں وہی کروں گا جو رسول اللہﷺ نے کیا تھا اور اللہ تعالیٰ (سورۂ ممتحنہ میں) فرماتا ہے تمہارے لیے رسول اللہ ﷺکی زندگی بہترین نمونہ ہیں میں تم کو گواہ بناتا ہوں میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کرلیا ۔پھر انہوں نے عمرے کا احرام باندھا۔ نافع نے کہا: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ( مدینہ سے) نکلے۔ جب بیداء میں پہنچے تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا تو کہنے لگے حج اور عمرہ یکساں ہے پھر قدید میں پہنچے وہاں سے قربانی خریدی پھر مکہ میں تشریف لائے تو حج اور عمرہ دونوں کےلئے ایک ہی طواف کیا اور احرام اس وقت تک نہیں کھولا جب تک دونوں سے فارغ نہیں ہوئے۔
106. باب مَنْ أَشْعَرَ وَقَلَّدَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ أَحْرَمَ
وَقَالَ نَافِعٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رضى الله عنهما إِذَا أَهْدَى مِنَ الْمَدِينَةِ قَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، يَطْعُنُ فِي شِقِّ سَنَامِهِ الأَيْمَنِ بِالشَّفْرَةِ، وَوَجْهُهَا قِبَلَ الْقِبْلَةِ بَارِكَةً
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ، قَالاَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْهَدْىَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ
Narrated By Al-Miswar bin Makhrama and Marwan : The Prophet set out from Medina with over one thousand of his companions (at the time of the Treaty of Hudaibiya) and when they reached Dhul-Hulaifa, the Prophet garlanded his Hadi and marked it and assumed Ihram for 'Umra.
عروہ بن زبیر سے مروی ہے انہوں نے مسِوَر بن مخرمہ اور مروان سے روایت کی ہے ان دونوں نے کہا: نبیﷺ مدینہ سے تقریبا ایک ہزار صحابہ کے ساتھ (حج کےلیے نکلے) جب ذی الحلیفہ پہنچے تو نبیﷺنے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور اشعار کیا اور عمرے کا احرام باندھا۔
نوٹ: (اشعار کے معنی: قربانی کے اونٹ کے دائیں کوہاں میں نیزے سے ایک زخم کردینا ، اب یہ جانور بیت اللہ میں قربانی کےلیے نشادہ زدہ ہوجاتا تھا اور کوئی بھی ڈاکو ، چور اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ، قَالاَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْهَدْىَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ
Narrated By Al-Miswar bin Makhrama and Marwan : The Prophet set out from Medina with over one thousand of his companions (at the time of the Treaty of Hudaibiya) and when they reached Dhul-Hulaifa, the Prophet garlanded his Hadi and marked it and assumed Ihram for 'Umra.
عروہ بن زبیر سے مروی ہے انہوں نے مسِوَر بن مخرمہ اور مروان سے روایت کی ہے ان دونوں نے کہا: نبیﷺ مدینہ سے تقریبا ایک ہزار صحابہ کے ساتھ (حج کےلیے نکلے) جب ذی الحلیفہ پہنچے تو نبیﷺنے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور اشعار کیا اور عمرے کا احرام باندھا۔
نوٹ: (اشعار کے معنی: قربانی کے اونٹ کے دائیں کوہاں میں نیزے سے ایک زخم کردینا ، اب یہ جانور بیت اللہ میں قربانی کےلیے نشادہ زدہ ہوجاتا تھا اور کوئی بھی ڈاکو ، چور اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ أُحِلَّ لَهُ.
Narrated By 'Aisha : I twisted with my own hands the garlands for the Budn of the Prophet who garlanded and marked them, and then made them proceed to Mecca; Yet no permissible thing was regarded as illegal for him then.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺکے اونٹوں کے ہار اپنے ہاتھ سے بُنے پھر آپﷺ نے ان کے گلے میں ڈالے اور ان کو اشعارکیا اور ان کو مکہّ کی طرف روانہ کی، پھربھی آپﷺکےلیے جو چیزیں حلال تھیں وہ حرام نہیں ہوئیں۔
107. باب فَتْلِ الْقَلاَئِدِ لِلْبُدْنِ وَالْبَقَرِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، رضى الله عنهم قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ قَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ "
Narrated By Hafsa : I said, "O Allah's Apostle! What is wrong with the people, they have finished their Ihram but you have not?" He said, "I matted my hair and I have garlanded my Hadi, so I will not finish my Ihram till I finished my Hajj."
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں کہا: میں نے رسول اللہﷺسے عرض کیا لوگوں نے احرام کھول ڈالا ان کو کیا ہوا اور آپﷺنے احرام کھولا ہی نہیں آپﷺنے فرمایا: میں نے اپنے بالوں کو جمالیا اورقربانی کو ہار ڈالا، میں جب تک حج سے فارغ نہ ہوجاؤں (احرام) نہیں کھول سکتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ، فَأَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle used to send the Hadi from Medina and I used to twist the garlands for his Hadi and he did not keep away from any of these things which a Muhrim keeps away from.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہﷺ مدینہ سے قربانی روانہ کرتے۔میں آپﷺ کی قربانی کےلئے ہار بُنتی۔آپﷺ ان باتوں سے پر ہیز نہیں کرتے جن سے احرام والا پرہیز کرتا ہے۔
108. باب إِشْعَارِ الْبُدْنِ
وَقَالَ عُرْوَةُ عَنِ الْمِسْوَرِ رضى الله عنه قَلَّدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْهَدْىَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ـ أَوْ قَلَّدْتُهَا ـ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ لَهُ حِلٌّ
Narrated By 'Aisha : I twisted the garlands for the Hadis of the Prophet and then he marked and garlanded them (or I garlanded them) and then made them proceed to the Ka'ba but he remained in Medina and no permissible thing was regarded as illegal for him then.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺ کے قربانی کے جانوروں کے ہار بنے، پھر آپﷺ نے ان کا اشعار کیا اور ان کے گلے میں آپﷺ نے ہار ڈالے یا میں نے ہار ڈالے پھر آپﷺ نے ان کو کعبہ کی طرف روانہ کردیا اور خود مدینہ میں ٹھہرے رہے جو جو باتیں آپﷺ کیلئے درست نہیں تھیں ان میں سے کو ئی بات آپﷺ پر حرام نہ ہوئی۔
109. باب مَنْ قَلَّدَ الْقَلاَئِدَ بِيَدِهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ. قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَيْهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَىْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْىُ
Narrated By 'Abdullah bin Abu Bakr bin 'Amr bin Hazm : That 'Amra bint 'Abdur-Rahman had told him, "Zaid bin Abu Sufyan wrote to 'Aisha that 'Abdullah bin Abbas had stated, 'Whoever sends his Hadi (to the Ka'ba), all the things which are illegal for a (pilgrim) become illegal for that person till he slaughters it (i.e. till the 10th of Dhul-Hijja).'" 'Amra added, 'Aisha said, 'It is not like what Ibn Abbas had said: I twisted the garlands of the Hadis of Allah's Apostle with my own hands. Then Allah's Apostle put them round their necks with his own hands, sending them with my father; Yet nothing permitted by Allah was considered illegal for Allah's Apostle till he slaughtered the Hadis.'"
عمر ہ بنتِ عبدالر حمن سے روایت ہے کہ زیاد بن ابی سفیان نے (جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے عراق کا حاکم تھا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کولکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو کوئی قربانی (بیت اللہ کو ) روانہ کرے جب تک وہ قربانی نہ کاٹی جائے اس پر وہ سب باتیں حرام ہوجاتی ہیں جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں۔ عمرہ نےکہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا کہنا صحیح نہیں۔ میں نے تو رسول اللہﷺ کے قربانی کے جانوروں کےلیے اپنے ہاتھ سے ہار بنے تھے پھر رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے وہ ہار جانوروں کو پہنائے اور میرے والد (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ (بیت اللہ کو) روانہ کردئیے اورآپﷺ پر کوئی چیز جو اللہ نے حلال کی ہے حرام نہیں ہوئی یہاں تک کہ وہ جانور کاٹے گئے۔
110. باب تَقْلِيدِ الْغَنَمِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَهْدَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَرَّةً غَنَمًا
Narrated By 'Aisha : Once the Prophet sent sheep as Hadi.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺنے ایک مرتبہ قربانی کےلئے بکریاں بیت اللہ کو بھیجیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلاَئِدَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُقَلِّدُ الْغَنَمَ، وَيُقِيمُ فِي أَهْلِهِ حَلاَلاً
Narrated By 'Aisha : I used to make the garlands for (the Hadis of) the Prophet and he would garland the sheep (with them) and would stay with his family as a non-Muhrim.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نبیﷺ کےلئے ہار بنا کر تیار کرتی تھی آپﷺ بکری کے گلے میں ڈالتے، اور آپ خود اپنے گھر اس حال میں مقیم تھے کہ آپ ﷺحلال تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ،. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ الْغَنَمِ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يَمْكُثُ حَلاَلاً
Narrated By 'Aisha : I used to twist the garlands for the sheep of the Prophet and he would send them (to the Ka'ba), and stay as a non-Muhrim.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نبیﷺکی قربانی کی بکریوں کے ہار بنا کرتی تھی، پھر آپﷺ ان بکریوں کو (بیت اللہ کےلیے) روانہ کردیتے اور خود اپنے گھر حلال کی حالت میں ٹھہرے رہتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ فَتَلْتُ لِهَدْىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ـ تَعْنِي الْقَلاَئِدَ ـ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ
Narrated By 'Aisha : I twisted (the garlands) for the Hadis of the Prophet before he assumed Ihram.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺ کے قربانی کے جانوروں کے ہار بنے تھے آپﷺکے احرام باندھنے سے پہلے ۔