11. باب لاَ تُسْتَقْبَلُ الْقِبْلَةُ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ إِلاَّ عِنْدَ الْبِنَاءِ جِدَارٍ أَوْ نَحْوِهِ
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلاَ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ يُوَلِّهَا ظَهْرَهُ، شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا "
Narrated By Abu Aiyub Al-Ansari : Allah's Apostle said, "If anyone of you goes to an open space for answering the call of nature he should neither face nor turn his back towards the Qibla; he should either face the east or the west."
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کو آئے تو قبلے کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرے، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو۔
12. باب مَنْ تَبَرَّزَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ، فَلاَ تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَقَدِ ارْتَقَيْتُ يَوْمًا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلاً بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ. وَقَالَ لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ، فَقُلْتُ لاَ أَدْرِي وَاللَّهِ. قَالَ مَالِكٌ يَعْنِي الَّذِي يُصَلِّي وَلاَ يَرْتَفِعُ عَنِ الأَرْضِ، يَسْجُدُ وَهُوَ لاَصِقٌ بِالأَرْضِ
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : People say, "Whenever you sit for answering the call of nature, you should not face the Qibla or Bait-ulMaqdis (Jerusalem)." I told them. "Once I went up the roof of our house and I saw Allah's Apostle answering the call of nature while sitting on two bricks facing Bait-ul-Maqdis (Jerusalem) (but there was a screen covering him.'" (Fateh Al-Bari, Page 258, Vol. 1).
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں قضائے حاجت کر تے وقت قبلہ اور بیت المقدس کی طرف رخ نہ کریں، جبکہ میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا اور دیکھا آپﷺ دو کچی اینٹوں پر بیٹھے بیت المقدس کی طرف رخ کیے قضائے حاجت کر رہے ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے واسع سے کہا شاید تو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنے سرینوں کے بل نماز پڑھتے ہیں، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں نہیں جانتا، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے وہ شخص مراد لیا ہے جو نماز میں زمین سے اونچا نہ ہو اور سجدے میں زمین سے چمٹا رہے۔
13. باب خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْبَرَازِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ ـ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ ـ فَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم احْجُبْ نِسَاءَكَ. فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً، فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلاَ قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ. حِرْصًا عَلَى أَنْ يَنْزِلَ الْحِجَابُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ
Narrated By 'Aisha : The wives of the Prophet used to go to Al-Manasi, a vast open place (near Baqia at Medina) to answer the call of nature at night. 'Umar used to say to the Prophet "Let your wives be veiled," but Allah's Apostle did not do so. One night Sauda bint Zam'a the wife of the Prophet went out at 'Isha time and she was a tall lady. 'Umar addressed her and said, "I have recognized you, O Sauda." He said so, as he desired eagerly that the verses of Al-Hijab (the observing of veils by the Muslim women) may be revealed. So Allah revealed the verses of "Al-Hijab" (A complete body cover excluding the eyes).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ازواج مطہرات رات قضائے حاجت کےلیے مناصع (نامی ایک جگہ)جایا کرتی تھیں جو ایک کھلا میدان تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبیﷺسے کہا کرتے تھے کہ ازواج مطہرات کو پردے کا حکم دیجیئے، لیکن نبیﷺ ایسا نہیں کرتے تھے، ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت قضائے حاجت کےلیے نکلیں وہ دراز قد عورت تھیں تو حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس غرض سے آواز دی اے سودہ! ہم نے آپ کو پہچان لیا کہ پردے کا حکم نازل ہو لہذا اللہ تعالی نے پردے کے احکامات نازل فرما دیئے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَدْ أُذِنَ أَنْ تَخْرُجْنَ فِي حَاجَتِكُنَّ ". قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ
Narrated By 'Aisha : The Prophet said to his wives, "You are allowed to go out to answer the call of nature."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے (ازواج مطہرات سے) فرمایا: آپ کو حاجت کےلیے گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے، ہشام بیان کرتے ہیں کہ حاجت سے مراد قضائے حاجت ہے۔
14. باب التَّبَرُّزِ فِي الْبُيُوتِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ ارْتَقَيْتُ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِي، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْضِي حَاجَتَهُ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ مُسْتَقْبِلَ الشَّأْمِ
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : I went up to the roof of Hafsa's house for some job and I saw Allah's Apostle answering the call of nature facing Sham (Syria, Jordan, Palestine and Lebanon regarded as one country) with his back towards the Qibla. (See Hadith No. 147).
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر کی چھت پر کسی کام کےلئے چڑھا میں نےرسول اللہ ﷺ کو قبلے کی طرف پیٹھ پھیرےاور شام کی طرف رخ کیے قضائے حاجت کر تے دیکھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عَمَّهُ، وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ قَالَ لَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Once I went up the roof of our house and saw Allah's Apostle answering the call of nature while sitting over two bricks facing Bait-ul-Maqdis (Jerusalem). (See Hadith No. 147).
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ، میں نےرسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ دو کچی اینٹوں پر بیٹھے بیت المقدس کی طرف رخ کیے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
15. باب الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ـ وَاسْمُهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ أَجِيءُ أَنَا وَغُلاَمٌ مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ. يَعْنِي يَسْتَنْجِي بِهِ
Narrated By Anas bin Malik : Whenever Allah's Apostle went to answer the call of nature, I along with another boy used to accompany him with a tumbler full of water. (Hisham commented, "So that he might wash his private parts with it.)"
ابو معاذ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبیﷺ جب قضائے حاجت کےلیے جاتے تو میں اور ایک غلام برتن میں پانی ساتھ لاتے تاکہ آپﷺ طہارت فرمائیں۔
16. باب مَنْ حُمِلَ مَعَهُ الْمَاءُ لِطُهُورِهِ
وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالطَّهُورِ وَالْوِسَادِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ـ هُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلاَمٌ مِنَّا مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ
Narrated By Anas : Whenever Allah's Apostle went to answer the call of nature, I along with another boy from us used to go behind him with a tumbler full of water.
حضرت ابو معاذ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ جب رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کےلیے جاتے تو میں اور لڑکا (دونوں مل کر) ایک ڈول پانی ساتھ لے جاتے۔
17. باب حَمْلِ الْعَنَزَةِ مَعَ الْمَاءِ فِي الاِسْتِنْجَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ الْخَلاَءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ، وَعَنَزَةً، يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ. تَابَعَهُ النَّضْرُ وَشَاذَانُ عَنْ شُعْبَةَ. الْعَنَزَةُ عَصًا عَلَيْهِ زُجٌّ
Narrated By Anas bin Malik : Whenever Allah's Apostle went to answer the call of nature, I along with another boy used to carry a tumbler full of water (for cleaning the private parts) and an 'Anza (spear-headed stuck).
حضرت عطاء بن ابی میمونہ (ابو معاذ) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہﷺ قضائے حاجت کےلیے تشریف لے جاتے میں اور ایک لڑکا پانی اور نیزہ لیے آپﷺ کے پیچھے پیچھے ہوتے، آپ ﷺ پانی سے طہارت فرماتے، محمد بن جعفر کے ساتھ اس حدیث کو نضر اور شاذان نے بھی شعبہ سےروایت کیا ہے، نیزہ سے مراد وہ لکڑی ہےجس پر پھالا لگاہوتا ہے۔
18. باب النَّهْىِ عَنْ الاِسْتِنْجَاءِ، بِالْيَمِينِ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ـ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ ـ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلاَءَ فَلاَ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ "
Narrated By Abu Qatada : Allah's Apostle said, "Whenever anyone of you drinks water, he should not breathe in the drinking utensil, and whenever anyone of you goes to a lavatory, he should neither touch his penis nor clean his private parts with his right hand."
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی (پانی وغیرہ) پیے تو برتن میں سانس نہ لے، اور جب کوئی قضائے حاجت کرے تو دائیں ہاتھ سے نہ شرم گاہ کو چھوئے اور نہ اس سے طہارت کرے۔
19. باب لاَ يُمْسِكُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ إِذَا بَالَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَأْخُذَنَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ "
Narrated By Abu Qatada : The Prophet said, "Whenever anyone of you makes water he should not hold his penis or clean his private parts with his right hand. (And while drinking) one should not breathe in the drinking utensil."
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کرے تو شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ ہی اس سے طہارت کرے ، اور نہ ہی (پانی وغیرہ) پیتے وقت برتن میں سانس لے۔
20. باب الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيُّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ اتَّبَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَكَانَ لاَ يَلْتَفِتُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ " ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا ـ أَوْ نَحْوَهُ ـ وَلاَ تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلاَ رَوْثٍ ". فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ بِطَرَفِ ثِيَابِي فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَعْرَضْتُ عَنْهُ، فَلَمَّا قَضَى أَتْبَعَهُ بِهِنَّ
Narrated By Abu Huraira : I followed the Prophet while he was going out to answer the call of nature. He used not to look this way or that. So, when I approached near him he said to me, "Fetch for me some stones for ' cleaning the privates parts (or said something similar), and do not bring a bone or a piece of dung." So I brought the stones in the corner of my garment and placed them by his side and I then went away from him. When he finished (from answering the call of nature) he used, them.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ قضائے حاجت کےلیے تشریف لے گئے اور آپﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ چلتے ہوئے آگے پیچھے نہیں دیکھا کرتے تھے، میں بھی آپﷺ کے پیچھے پیچھے قریب پہنچ گیا تو آپﷺ نے فرمایا: کچھ پتھر لاؤ تاکہ میں طہارت کرسکوں، یا ایسا ہی کوئی اور لفظ بولا، اور دیکھنا ہڈی یا گوبر نہ لانا لہذا میں جھولی بھر کر لے آیا ، اور ایک طرف رکھ کر پیچھےہٹ گیا، جب آپﷺ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو ان سے طہارت کی۔