- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First5678

61. باب الْبَوْلِ عِنْدَ صَاحِبِهِ وَالتَّسَتُّرِ بِالْحَائِطِ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُنِي أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَبَالَ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَىَّ فَجِئْتُهُ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ‏

Narrated By Hudhaifa' : The Prophet and I walked till we reached the dumps of some people. He stood, as any one of you stands, behind a wall and urinated. I went away, but he beckoned me to come. So I approached him and stood near his back till he finished.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں اور رسول اللہﷺ جا رہے تھے اتنے میں ایک کوڑے کی جگہ جو ایک دیوار کے پیچھے تھی پر پہنچے تو آپﷺ ایسے کھڑے ہوئے جیسے تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے، پھر آپﷺ نے پیشاب کیا ، میں تھوڑا پیچھے ہٹ گیا تو آپﷺ نے اشارے سے مجھے قریب بلایا میں آپﷺ کے بالکل قریب کھڑا ہو گیا (پردے کی غرض سے) یہاں تک کہ آپﷺ حاجت سے فارغ ہو گئے۔

62. باب الْبَوْلِ عِنْدَ سُبَاطَةِ قَوْمٍ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ وَيَقُولُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَ أَحَدِهِمْ قَرَضَهُ‏.‏ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَيْتَهُ أَمْسَكَ، أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا

Narrated By Abu Wail : Abu Musa Al-Ash'ari used to lay great stress on the question of urination and he used to say, "If anyone from Bani Israel happened to soil his clothes with urine, he used to cut that portion away." Hearing that, Hudhaifa said to Abu Wail, "I wish he (Abu Musa) didn't (lay great stress on that matter)." Hudhaifa added, "Allah's Apostle went to the dumps of some people and urinated while standing."

حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پیشاب کے بارے میں بہت سختی کیا کرتے تھے، اور کہا کرتے تھے کہ بنی اسرائیل میں جب کسی کے کپڑوں پر پیشاب لگ جاتا تھا تو وہ اسے کاٹ ڈالتے تھے، (حذیفہ فرماتے ہیں کہ) کاش وہ اتنی سختی نہ کرتے کیوں کہ نبی ﷺ ایک کوڑے والی جگہ تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

63. باب غَسْلِ الدَّمِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا تَحِيضُ فِي الثَّوْبِ كَيْفَ تَصْنَعُ قَالَ ‏"‏ تَحُتُّهُ، ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ، وَتَنْضَحُهُ وَتُصَلِّي فِيهِ ‏"

Narrated By Asma' : A woman came to the Prophet and said, "If anyone of us gets menses in her clothes then what should she do?" He replied, "She should (take hold of the soiled place), rub it and put it in the water and rub it in order to remove the traces of blood and then pour water over it. Then she can pray in it."

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور پوچھا ہم میں سے جس کو اپنے کپڑوں میں ماہواری ہو جائے تو وہ کیا کرے ؟ آپﷺ نے فرمایا: اسے کھرچے، پھر پانی ڈال کر رگڑے اور دھولے ، اور پھر اس میں نماز پڑھ لے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَالَ أَبِي ‏"‏ ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ، حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ ‏"

Narrated By 'Aisha : Fatima bint Abi Hubaish came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle I get persistent bleeding from the uterus and do not become clean. Shall I give up my prayers?" Allah's Apostle replied, "No, because it is from a blood vessel and not the menses. So when your real menses begins give up your prayers and when it has finished wash off the blood (take a bath) and offer your prayers." Hisham (the sub narrator) narrated that his father had also said, (the Prophet told her): "Perform ablution for every prayer till the time of the next period comes."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو حبیش کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کے پاس آئی اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! میں ایسی عورت ہوں جس کو استحاضہ کا مرض لاحق ہے میں پاک نہیں رہ سکتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺنے فرمایا : نہیں ، یہ ایک رگ (کا خون) ہے ماہواری نہیں ہے پھر جب تجھے ماہواری ہو تو نماز کو چھوڑ دے۔ اور جب وہ دن گزر جائیں تو خون دھو لو اور پھر نماز پڑھو ، ہشام نے کہا میرے والد عروہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا پھر ہر نماز کےلیے وضو کرلیا کرو یہاں تک کہ پھر ماہواری شروع ہو جائے۔

64. باب غَسْلِ الْمَنِيِّ وَفَرْكِهِ وَغَسْلِ مَا يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ، وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ فِي ثَوْبِهِ

Narrated By 'Aisha : I used to wash the traces of Janaba (semen) from the clothes of the Prophet and he used to go for prayers while traces of water were still on it (water spots were still visible).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نبیﷺ کے کپڑوں سے جنابت(کے نشانات) دھوتی تھی، پھر آپﷺ نماز کےلیے تشریف لے جاتے اور پانی کے نشانات آپﷺ کے کپڑوں پر (نظر آتے تھے)۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ بُقَعُ الْمَاءِ

Narrated By Sulaiman bin Yasar : I asked 'Aisha about the clothes soiled with semen. She replied, "I used to wash it off the clothes of Allah's Apostle and he would go for the prayer while water spots were still visible."

سلیمان بن یسار سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس منی کے بارے میں پوچھا جو کپڑے پر لگ جاتی ہے تو انہوں نے جواب دیا میں نبیﷺ کے کپڑوں سے منی دھوتی تھی ، پھر آپﷺ نماز کےلیے تشریف لے جاتے اور پانی کے نشانات کپڑوں پر دکھائی دیتے تھے۔

65. باب إِذَا غَسَلَ الْجَنَابَةَ أَوْ غَيْرَهَا فَلَمْ يَذْهَبْ أَثَرُهُ

حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ فِي الثَّوْبِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِيهِ بُقَعُ الْمَاءِ‏

Narrated By Sulaiman bin Yasar : I asked 'Aisha about the clothes soiled with semen. She replied, "I used to wash it off the clothes of Allah's Apostle and he would go for the prayer while water spots were still visible."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے کپڑے سے منی دھوتی تھی اور آپﷺ نماز کےلیے جاتے تو پانی کے دھبے اس پر نظر آتے تھے۔


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ أَرَاهُ فِيهِ بُقْعَةً أَوْ بُقَعًا‏

Narrated By 'Amr bin Maimun : I heard Sulaiman bin Yasar talking about the clothes soiled with semen. He said that 'Aisha had said, "I used to wash it off the clothes of Allah's Apostle and he would go for the prayers while water spots were still visible on them.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نبیﷺ کے کپڑوں سے منی دھوتی تھی پھر ایک یا کئی دھبے ان پر دیکھتی۔

66. باب أَبْوَالِ الإِبِلِ وَالدَّوَابِّ وَالْغَنَمِ وَمَرَابِضِهَا

وَصَلَّى أَبُو مُوسَى فِي دَارِ الْبَرِيدِ وَالسِّرْقِينِ وَالْبَرِّيَّةُ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ هَا هُنَا وَثَمَّ سَوَاءٌ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَدِمَ أُنَاسٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلِقَاحٍ، وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَجَاءَ الْخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ، وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلاَ يُسْقَوْنَ‏.‏ قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ فَهَؤُلاَءِ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ‏

Narrated By Abu Qilaba : Anas said, "Some people of 'Ukl or 'Uraina tribe came to Medina and its climate did not suit them. So the Prophet ordered them to go to the herd of (Milch) camels and to drink their milk and urine (as a medicine). So they went as directed and after they became healthy, they killed the shepherd of the Prophet and drove away all the camels. The news reached the Prophet early in the morning and he sent (men) in their pursuit and they were captured and brought at noon. He then ordered to cut their hands and feet (and it was done), and their eyes were branded with heated pieces of iron, They were put in 'Al-Harra' and when they asked for water, no water was given to them." Abu Qilaba said, "Those people committed theft and murder, became infidels after embracing Islam and fought against Allah and His Apostle."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (قبیلہ) عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، وہاں کی ہوا انہیں موافق نہ آئی (اور بیمار ہو گئے) تو نبیﷺ نے انہیں اونٹوں والی جگہ جانے کا حکم دیا ، کہ وہاں جا کر وہ انٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں،وہ وہاں چلے گئے جب وہ صحت مند ہوگئے تو انہوں نے نبیﷺ کے چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹنیاں بھگا لےگئے، یہ خبرصبح صبح مدینہ پہنچی تو آپﷺ نے ان کے پیچھے بندے دوڑا دئیے، جو انہیں پکڑ کر دن چڑھےنبیﷺکے پاس لائےتو آپﷺ کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے ،اور آنکھیں پھوڑ دی گئیں اور انہیں مدینے کی پتھریلی زمین پر پھینک دیا گیا، وہ شدتِ پیاس کی وجہ سے پانی مانگتے لیکن پانی نہ دیا جاتا، ابو قلابہ فرماتے ہیں ( ایسی سخت سزا اس لئےدی گئی کہ) انہوں نے چوری کی، قتل کیا ،ایمان کے بعد کفر کی راہ اختیار کی اور اللہ اور اسکے رسولﷺ سے جنگ کی۔


حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ‏

Narrated By Anas : Prior to the construction of the mosque, the Prophet offered the prayers at sheep-folds.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ مسجد بننے سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔

67. باب مَا يَقَعُ مِنَ النَّجَاسَاتِ فِي السَّمْنِ وَالْمَاءِ

وَقَالَ الزُّهْرِيُّ لاَ بَأْسَ بِالْمَاءِ مَا لَمْ يُغَيِّرْهُ طَعْمٌ أَوْ رِيحٌ أَوْ لَوْنٌ‏.‏ وَقَالَ حَمَّادٌ لاَ بَأْسَ بِرِيشِ الْمَيْتَةِ‏.‏ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِي عِظَامِ الْمَوْتَى نَحْوَ الْفِيلِ وَغَيْرِهِ أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ سَلَفِ الْعُلَمَاءِ يَمْتَشِطُونَ بِهَا، وَيَدَّهِنُونَ فِيهَا، لاَ يَرَوْنَ بِهِ بَأْسًا‏.‏ وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ وَإِبْرَاهِيمُ وَلاَ بَأْسَ بِتِجَارَةِ الْعَاجِ

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ ‏"‏ أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ‏.‏ وَكُلُوا سَمْنَكُمْ ‏"

Narrated By Maimuna : Allah's Apostle was asked regarding ghee (cooking butter) in which a mouse had fallen. He said, "Take out the mouse and throw away the ghee around it and use the rest."

ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا چوہیا گھی میں گر جائے تو کیا کریں آپﷺ نے فرمایا : اس کو اور اس کے ارد گرد کو پھینک دیں اور باقی گھی استعمال کر لیں۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ ‏"‏ خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ مَا لاَ أُحْصِيهِ يَقُولُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ‏

Narrated By Maimuna : The Prophet was asked regarding ghee in which a mouse had fallen. He said, "Take out the mouse and throw away the ghee around it (and use the rest.)"

ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا چوہیا اگر گھی میں گر پڑے تو کیا کریں آپﷺ نے فرمایا: اس کو اور اس کے آس پاس کو نکال دیں۔ راوی معن نے کہا: ہم سے مالک نے بے شمار مرتبہ یہ حدیث بیان کی وہ یوں کہتے تھے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے اُنہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہم سے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذْ طُعِنَتْ، تَفَجَّرُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ ‏"

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "A wound which a Muslim receives in Allah's cause will appear on the Day of Resurrection as it was at the time of infliction; blood will be flowing from the wound and its colour will be that of the blood but will smell like musk."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں مسلمان کو جو زخم لگتا ہے وہ روزِ قیامت اسی طرح تازہ ہو جائے گا جس طرح اب ہے ، اس کا رنگ تو خون جیسا ہو گا اور خوشبو کستوری جیسی ہوگی۔

68. باب الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ ‏"

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "We (Muslims) are the last (people to come in the world) but (will be) the foremost (on the Day of Resurrection)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے آپﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہم (دنیا میں) آخر میں آئے ہیں اور (آخرت میں) سب سے پہلے ہوں گے۔


وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ ‏"‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ ‏"

The same narrator told that the Prophet had said, "You should not pass urine in stagnant water which is not flowing then (you may need to) wash in it."

اور اسی (سابقہ) اسناد سےرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے پھر اس میں نہائے۔

69. باب إِذَا أُلْقِيَ عَلَى ظَهْرِ الْمُصَلِّي قَذَرٌ أَوْ جِيفَةٌ لَمْ تَفْسُدْ عَلَيْهِ صَلاَتُهُ

وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ دَمًا وَهُوَ يُصَلِّي وَضَعَهُ وَمَضَى فِي صَلاَتِهِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَالشَّعْبِيُّ إِذَا صَلَّى وَفِي ثَوْبِهِ دَمٌ أَوْ جَنَابَةٌ أَوْ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ أَوْ تَيَمَّمَ، فَصَلَّى ثُمَّ أَدْرَكَ الْمَاءَ فِي وَقْتِهِ، لاَ يُعِيدُ

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ، لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا، لَوْ كَانَ لِي مَنْعَةٌ‏.‏ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، حَتَّى جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ‏"‏‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ ـ قَالَ وَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ـ ثُمَّ سَمَّى ‏"‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ‏"‏‏.‏ وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْهُ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَرْعَى فِي الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ‏

Narrated By 'Abdullah : While Allah's Apostle was prostrating (as stated below). Narrated By 'Abdullah bin Mas'ud : Once the Prophet was offering prayers at the Ka'ba. Abu Jahl was sitting with some of his companions. One of them said to the others, "Who amongst you will bring the abdominal contents (intestines, etc.) of a camel of Bani so and so and put it on the back of Muhammad, when he prostrates?" The most unfortunate of them got up and brought it. He waited till the Prophet prostrated and then placed it on his back between his shoulders. I was watching but could not do any thing. I wish I had some people with me to hold out against them. They started laughing and falling on one another. Allah's Apostle was in prostration and he did not lift his head up till Fatima (Prophet's daughter) came and threw that (camel's abdominal contents) away from his back. He raised his head and said thrice, "O Allah! Punish Quraish." So it was hard for Abu Jahl and his companions when the Prophet invoked Allah against them as they had a conviction that the prayers and invocations were accepted in this city (Mecca). The Prophet said, "O Allah! Punish Abu Jahl, 'Utba bin Rabi'a, Shaiba bin Rabi'a, Al-Walid bin 'Utba, Umaiya bin Khalaf, and 'Uqba bin Al Mu'it (and he mentioned the seventh whose name I cannot recall). By Allah in Whose Hands my life is, I saw the dead bodies of those persons who were counted by Allah's Apostle in the Qalib (one of the wells) of Badr.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ، ابو جہل اپنے ساتھیوں سمیت وہاں بیٹھا تھا، اتنے میں اس نے کہا آپ میں سے کون فلاں لوگوں کی انٹنی کی اجڑی لا کر محمدکی پیٹھ پر ڈالے گا جس وقت وہ سجدہ کررہے ہوں؟ یہ سن کر ان کا بدبخت ترین آدمی (عقبہ بن ابی معیط) اٹھا اور اوجڑی لا کر آپﷺ کے انتظار میں رہا ، جب نبیﷺ سجدےمیں گئے تو اس (بد بخت) نے آپﷺ کی پیٹھ پر رکھ دی،عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باوجود یہ منظر دیکھنے کے مجھ میں کچھ کرنے کی طاقت نہ تھی، کاش میں کچھ کر سکتا، اور وہ(مشرکین) یہ منظر دیکھ کر خوشی کے مارے ایک دوسرے پر گرے جا رہے تھے، اور نبیﷺ بوجھ کی وجہ سے سر مبارک نہیں اٹھا سکتے تھے، اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور آپﷺ کی پیٹھ سے اسے اٹھایا، تو آپﷺ نے اپنا سر مبارک سجدے سے اٹھایا اور تین بار بدعاء کی، اے اللہ! قریش کو ہلاک کر ، یہ بات ان مشرکین پہ گراں گزری اس لیے کہ ان کا خیال تھا اس شہر میں جو دعاء کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے، پھر آپﷺ نے نام لے لے کر فرمایا: یا اللہ! ابوجھل ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ،امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو ہلاک فرما، عمرو بن میمون نے ساتویں شخص(عمارہ بن ولید) کانام بھی لیا تھا لیکن ہمیں یاد نہیں رہا، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہےمیں نے ان لوگوں کو بدر کے دن ایک کنوئیں میں دیکھا جن جن کا آپﷺ نے نام لیا تھا۔

70. باب الْبُصَاقِ وَالْمُخَاطِ وَنَحْوِهِ فِي الثَّوْبِ

قَالَ عُرْوَةُ عَنِ الْمِسْوَرِ وَمَرْوَانَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ حُدَيْبِيَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ‏.‏ وَمَا تَنَخَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نُخَامَةً إِلاَّ وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ثَوْبِهِ‏.‏ طَوَّلَهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

Narrated By Anas : The Prophet once spat in his clothes.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے (نماز میں) اپنے کپڑے میں تھوکا ، امام بخاری نے فرمایا: سعید بن ابی مریم نے اس حدیث کو لمبا بیان کیا اُنہوں نے کہا ہمیں خبر دی یحییٰ ابنِ ایوب نے انہوں نے کہا مجھ سے بیان کیا حمید نے انہوں نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اُنہوں نے نبی ﷺ سے۔

‹ First5678