- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First234

31. باب وَقْفِ الدَّوَابِّ وَالْكُرَاعِ وَالْعُرُوضِ وَالصَّامِتِ

قَالَ الزُّهْرِيُّ فِيمَنْ جَعَلَ أَلْفَ دِينَارٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدَفَعَهَا إِلَى غُلاَمٍ لَهُ تَاجِرٍ يَتْجُرُ بِهَا، وَجَعَلَ رِبْحَهُ صَدَقَةً لِلْمَسَاكِينِ وَالأَقْرَبِينَ، هَلْ لِلرَّجُلِ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ رِبْحِ ذَلِكَ الأَلْفِ شَيْئًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جَعَلَ رِبْحَهَا صَدَقَةً فِي الْمَسَاكِينِ قَالَ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا‏.‏

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ عُمَرَ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَعْطَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَحْمِلَ عَلَيْهَا رَجُلاً، فَأُخْبِرَ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ وَقَفَهَا يَبِيعُهَا، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبْتَاعَهَا فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَبْتَعْهَا، وَلاَ تَرْجِعَنَّ فِي صَدَقَتِكَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : Once 'Umar gave a horse in charity to be used in holy fighting. It had been given to him by Allah's Apostle. 'Umar gave it to another man to ride. Then 'Umar was informed that the man put the horse for sale, so he asked Allah's Apostle whether he could buy it. Allah's Apostle replied, "You should not buy it, for you should not take back what you have given in charity."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک گھوڑا اللہ کے راستہ میں (جہاد کرنے کےلیے) ایک آدمی کو دے دیا۔یہ گھوڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آپﷺنے دیا تھا ، تاکہ جہاد میں کسی کو اس پر سوار کریں ۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ جس شخص کو یہ گھوڑا ملا تھا ، وہ اس گھوڑے کو بازار میں بیچ رہا ہے۔ اس لیے رسول اللہﷺسے پوچھا کہ کیا وہ اسے خرید سکتے ہیں؟ آپﷺنے فرمایا: اسے نہ خریدیں۔اپنا دیا ہوا صدقہ واپس نہ لے۔

32. باب نَفَقَةِ الْقَيِّمِ لِلْوَقْفِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَقْتَسِمْ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهْوَ صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "My heirs will not inherit a Dinar or a Dirham (i.e. money), for whatever I leave (excluding the adequate support of my wives and the wages of my employees) is given in charity."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میرے ورثاء دینار اور درہم تقسیم نہ کریں جو میں (مرتے وقت) چھوڑ جاؤں۔وہ میری ازواج اور جائداد کا اہتمام کرنے والے کا خرچہ نکالنے کے بعد صدقہ ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ عُمَرَ، اشْتَرَطَ فِي وَقْفِهِ أَنْ يَأْكُلَ مَنْ وَلِيَهُ وَيُوكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالاً‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : When 'Umar founded an endowment he stipulated that its administrator could eat from it and also feed his friend on the condition that he would not store anything for himself from it.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے وقف میں یہ شرط لگائی تھی کہ اس کا متولی اس میں سے کھاسکتا ہے اور اپنے دوست کو کھلا سکتا ہے مگر وہ دولت نہ بنائے۔

33. باب إِذَا وَقَفَ أَرْضًا أَوْ بِئْرًا وَاشْتَرَطَ لِنَفْسِهِ مِثْلَ دِلاَءِ الْمُسْلِمِينَ

وَأَوْقَفَ أَنَسٌ دَارًا فَكَانَ إِذَا قَدِمَهَا نَزَلَهَا‏.‏ وَتَصَدَّقَ الزُّبَيْرُ بِدُورِهِ، وَقَالَ لِلْمَرْدُودَةِ مِنْ بَنَاتِهِ أَنْ تَسْكُنَ غَيْرَ مُضِرَّةٍ وَلاَ مُضَرٍّ بِهَا، فَإِنِ اسْتَغْنَتْ بِزَوْجٍ فَلَيْسَ لَهَا حَقٌّ‏.‏ وَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ نَصِيبَهُ مِنْ دَارِ عُمَرَ سُكْنَى لِذَوِي الْحَاجَةِ مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ‏.‏

وَقَالَ عَبْدَانُ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ حَيْثُ حُوصِرَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ أَنْشُدُكُمْ وَلاَ أَنْشُدُ إِلاَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ حَفَرَ رُومَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ ‏"‏‏.‏ فَحَفَرْتُهَا، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ ‏"‏‏.‏ فَجَهَّزْتُهُمْ‏.‏ قَالَ فَصَدَّقُوهُ بِمَا قَالَ‏.‏ وَقَالَ عُمَرُ فِي وَقْفِهِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ‏.‏ وَقَدْ يَلِيهِ الْوَاقِفُ وَغَيْرُهُ فَهْوَ وَاسِعٌ لِكُلٍّ‏.‏

Abu Abdur Rahman narrated: When Uthman(R.A.) was circled (by the rebels) , he looked upon them from above and said, "I ask you by Allah , I ask nobody but the companions of the Prophet(s.a.w.), don't you know that Allah's Messenger( s.a.w.) said, 'Whoever will( buy and ) dig the well of Ruma will be granted Paradise,' and I ( bought and) dug it? Don't you know that he said, 'Whoever equip the army of Usra(i.e. Tabuk's Ghazwa) will be granted Paradise, and I equipped it?" They attested whatever he said. When Umar founded his endowment he said,"Its administrator can eat from it."The management of the endowment can be taken over by the founder himself or any other person, for both cases are permissible.

ابو عبد الرحمن سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ محاصرے میں لئے گئے تو (اپنے گھر کے ) اوپر چڑھ کر آپ نے باغیوں سے فرمایا: میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں اور صرف نبیﷺکے اصحاب سے قسمیہ پوچھتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ جب رسول اللہﷺنے فرمایا: جو شخص بئر رومہ کو کھودے گا اور اسے مسلمانوں کےلیے وقف کردے گا تو اسے جنت کی بشارت ہے تو میں نے ہی اس کنویں کو کھوداتھا۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ آپﷺنے جب فرمایا تھا کہ جیش عسرت کو جو شخص سازو و سامان سے لیس کردے گا تو اسے جنت کی بشارت ہے تو میں نے ہی اسے مسلح کیا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ آپ کی ان باتوں کی سب نے تصدیق کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے وقف کے متعلق فرمایا تھا کہ اس کا منتظم اگر اس میں سے کھائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ منتظم خود واقف بھی ہوسکتا ہے اور کبھی دوسرے بھی ہوسکتے ہیں اور ہر ایک کےلیے یہ جائز ہے۔

34. باب إِذَا قَالَ الْوَاقِفُ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ فَهْوَ جَائِزٌ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ‏.‏

Narrated By Anas : The Prophet said (at the time of building the Mosque), "O Ban, An-Najjar! Suggest to me a price for your garden." They replied, "We do not ask its price except from Allah."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا تھا اے بنو نجار! تم اپنے باغ کی قیمت مجھ سے وصول کرلو تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں چاہتے۔

35. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِن

وَقَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا مِنْ ذَهَبٍ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقَالُوا ابْتَعْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعَدِيٍّ‏.‏ فَقَامَ رَجُلاَنِ مِنْ أَوْلِيَائِهِ، فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ‏.‏ قَالَ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ‏}‏

Ibn Abbas(R.A.) said, "A man from the tribe of Bani Sahm went out in the company of Tamim Ad-Dari and Adi bin Badda.The man of Bani Sahm died in a land where there was no muslim.When Tamim and Adi returned conveying the property of the deceased, they claimed that they had lost a silver bowl with gold engraving.Allah's Messenger(s.a.w.) made them take an oath ( to confirm their claim), and then the bowl was found in Makkah with some people who claimed that they had bought it from Tamim and Adi.Then two witnesses were more valid than the witnesses of Adi and Tamim and that the bowl belonged to their deceased fellow.So, this Verse was revealed in connection with this case; 'O you who believe when death approaches any of you...' "(V.5:106)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر کو نکلا، وہ ایسے ملک میں جاکر مرگیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔یہ دونوں شخص اس کا متروکہ مال لے کر مدینہ واپس آئے ۔ اس کے اسباب میں چاندی کا ایک گلاس گم تھا۔ آپﷺنے ان دونوں کو قسم کھانے کا حکم فرمایا (انہوں نے قسم کھالی) پھر ایسا ہوا کہ وہ گلاس مکہ میں ملا، انہوں نے کہا ہم نے یہ گلاس تمیم اور عدی سے خریدا ہے۔اس وقت میت کے دو عزیز (عمرو بن عاص اور مطلب) کھڑے ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ یہ ہماری گواہی تمیم اور عدی کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے۔یہ گلاس میت ہی کا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (یا ایہا الذی آمنوا شہادۃ بینکم) آخری آیت تک۔

36. باب قَضَاءِ الْوَصِيِّ دُيُونَ الْمَيِّتِ بِغَيْرِ مَحْضَرٍ مِنَ الْوَرَثَةِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، أَوِ الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْهُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، قَالَ قَالَ الشَّعْبِيُّ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ أَبَاهُ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ، وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا، فَلَمَّا حَضَرَ جِدَادُ النَّخْلِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا كَثِيرًا، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَتِهِ ‏"‏‏.‏ فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ، فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ادْعُ أَصْحَابَكَ ‏"‏‏.‏ فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي، وَأَنَا وَاللَّهِ رَاضٍ أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي وَلاَ أَرْجِعَ إِلَى أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ، فَسَلِمَ وَاللَّهِ الْبَيَادِرُ كُلُّهَا حَتَّى أَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً‏.‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah Al-Ansari : My father was martyred on the day (of the Ghazwa) of Uhud and left six daughters and some debts to be paid. When the time of plucking the date-fruits came, I went to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! you know that my father was martyred on Uhud's day and owed much debt, and I wish that the creditors would see you." The Prophet said, "Go and collect the various kinds of dates and place them separately in heaps"' I did accordingly and called him. On seeing him, the creditors started claiming their rights pressingly at that time. When the Prophet saw how they behaved, he went round the biggest heap for three times and sat over it and said, "Call your companions (i.e. the creditors)." Then he kept on measuring and giving them, till Allah cleared all my father's debts. By Allah, it would have pleased me that Allah would clear the debts of my father even though I had not taken a single date to my sisters. But by Allah, all the heaps were complete, (as they were) and I looked at the heap where Allah's Apostle was sitting and noticed as if not a single date had been taken thereof.

حضرت جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد احد کی لڑائی میں شہید ہوگئے تھے۔ اپنے پیچھے چھ لڑکیاں چھوڑی تھیں۔ اور قرض بھی ۔ جب کھجور کے پھل توڑنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسو لﷺ! آپ کو یہ معلوم ہی ہے کہ میرے والد ماجد احد کی لڑائی میں شہید ہوچکے ہیں اور بہت زیادہ قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا تھا کہ قرض خواہ آپ کو دیکھ لیں لیکن وہ یہودی تھے اور وہ نہیں مانے ، اس لیے رسول اللہﷺنے فرمایا: جاؤ اور کھلیان میں ہر قسم کی کھجور الگ الگ کرلو جب میں نے ایسا ہی کرلیا تو آپﷺکو بلایا،قرض خواہوں نے آپﷺکو دیکھ کر اور زیادہ سختی شروع کردی تھی۔آپﷺنے جب یہ طرز عمل ملاحظہ فرمایا توسب سے بڑے کھجور کے ڈھیر کے گرد آپﷺنے تین چکر لگائے اور وہیں بیٹھ گئے پھر فرمایا: کہ اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ۔ آپﷺنے ناپ ناپ کر دینا شروع کیا اور اللہ کی قسم!میرے والد کی تمام امانت ادا کردی، اللہ گواہ ہے کہ میں اتنے پر بھی راضی تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کا تمام قرض ادا کردے اور میں اپنی بہنوں کےلیے ایک کھجور بھی اس میں سے نہ لے جاؤں۔ لیکن ہوا یہ کہ ڈھیر کے ڈھیر بچ رہے اور میں نے دیکھا کہ رسو ل اللہﷺجس ڈھیر پر بیٹھے ہوئے تھے اس میں سے تو ایک کھجور بھی نہیں دی گئی تھی۔ حضرت ابو عبد اللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اغروا بی (حدیث میں الفاظ ) کے معنیٰ ہیں کہ مجھ پر بھڑکنے اور سختی کرنے لگے۔ اسی معنیٰ میں قرآن مجید کی آیت (فاغرینا بینہم العداوۃ والبغضاء) میں فاغرینا ہے۔

‹ First234