- احادیثِ نبوی ﷺ

 

123

11. باب ذِكْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضى الله عنه

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صلى الله عليه وسلم فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا‏.‏ قَالَ فَيُسْقَوْنَ‏.‏

Narrated By Anas : Whenever there was drought, 'Umar bin Al-Khattab used to ask Allah for rain through Al'Abbas bin 'Abdul Muttalib, saying, "O Allah! We used to request our Prophet to ask You for rain, and You would give us. Now we request the uncle of our Prophet to ask You for rain, so give us rain." And they would be given rain."

ہم سے حسن بن محمد زعفرانی نے بیان کیا کہا ہم کو محمد بن انصاری نے خبر دی کہا مجھ سے میرے والد ابو عبداللہ مثنےٰ نے بیان کیا انہوں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے انہوں نے انس سے انہوں نے کہا جب قحط پڑتا تو حضرت عمر حضرت عباس بن عبدالمطلب کے وسیلے سے پانی مانگتے یوں کہتے یا اللہ (پہلے) ہم تیرے پیغمبر کا وسیلہ کرتے تھے تو ہم کو پانی پلاتا تھا اب تیرے پیغمبر کے چچا کا وسیلہ کرتے ہیں ہم کو پانی پلا اللہ پانی برساتا۔

12. باب مَنَاقِبُ قَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْقَبَةِ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ بِنْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، تَطْلُبُ صَدَقَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ‏.‏

Narrated By 'Aisha : Fatima sent somebody to Abu Bakr asking him to give her her inheritance from the Prophet from what Allah had given to His Apostle through Fai (i.e. booty gained without fighting). She asked for the Sadaqa (i.e. wealth assigned for charitable purposes) of the Prophet at Medina, and Fadak, and what remained of the Khumus (i.e., one-fifth) of the Khaibar booty.

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم سے شعیب نے انہوں نے زہری سے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ علیہالسلام نے حضرت ابو بکر کو کہلا بھیجا اپنا ترکہ مانگتی تھیں نبیﷺ کے ان مالوں میں سے جو اللہ نے بن لڑے بھڑے آپ کو دیے تھے اور آپؐ کے صدقے میں سے جو مدینے میں تھا اور فدک میں سے اور خیبر کے خمس میں سے جو بچ رہتا اس میں سے ۔


فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهْوَ صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ ـ يَعْنِي مَالَ اللَّهِ ـ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ ‏"‏‏.‏ وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ‏.‏ وَذَكَرَ قَرَابَتَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَقَّهُمْ‏.‏ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي‏.‏

Abu Bakr said, "Allah's Apostle said, 'We (Prophets), our property is not inherited, and whatever we leave is Sadaqa, but Muhammad's Family can eat from this property, i.e. Allah's property, but they have no right to take more than the food they need.' By Allah! I will not bring any change in dealing with the Sadaqa of the Prophet (and will keep them) as they used to be observed in his (i.e. the Prophet's) life-time, and I will dispose with it as Allah's Apostle used to do," Then 'Ali said, "I testify that None has the right to be worshipped but Allah, and that Muhammad is His Apostle," and added, "O Abu Bakr! We acknowledge your superiority." Then he (i.e. 'Ali) mentioned their own relationship to Allah's Apostle and their right. Abu Bakr then spoke saying, "By Allah in Whose Hands my life is. I love to do good to the relatives of Allah's Apostle rather than to my own relatives"

ابو بکر نے (جواب میں ) کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہم پیغمبر لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ البتہ آپﷺ کی آل اسی مال میں سے کھائیں گے جو اللہ کا مال ہے پس کھانے کے سوا اور کوئی تصرف اس مال میں نہیں کریں گے اور میں تو خدا کی قسم نبیﷺ کے صدقے جو نبیؐ کے زمانے میں ہوا کرتے تھے اس میں کوئی تغیرو تبدل نہیں کرنے کا جیسے رسول اللہﷺ کیا کرتے تھے میں بھی وہی کروں گا پھر حضرت علی (حضرت ابو بکر کے پاس آئے کہنے لگے ابو بکر ہم کو تمھاری بزرگی کا اقرار ہے لیکن انہوں نے اپنی قرابت کا جو رسول اللہﷺ سے رکھتے تھے اور اپنے حقوق کا ذکر کیا ابو بکر نے گفتگو شروع کی کہنے لگے قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہﷺ کے قرابت داروں سے سلوک کرنا مجھ کو اپنے قرابت والوں کے ساتھ سلوک کرنے سے زیادہ پسند ہے۔


أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فِي أَهْلِ بَيْتِهِ‏

Abu Bark added: Look at Muhammad through his family (i.e. if you are no good to his family you are not good to him).

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا کہا ہم سے خالد نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے واقد سے کہا میں نے اپنے والد سے سنا وہ عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں وہ ابو بکر سے انہوں نے کہا دیکھو محمدﷺ کا خیال آپؐ کے اہل بیت میں رکھو (اہل بیت کی تعظیم کرتے رہو ان سے محبت رکھو)۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي ‏"‏‏

Narrated By Al-Miswar bin Makhrama : Allah's Apostle said, "Fatima is a part of me, and he who makes her angry, makes me angry."

ہم سے ابو الولید نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے ابی ملیکہ سے انہوں نے مسور بن مخرمہ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا فاطمہ میرا ایک ٹکڑا(جگر گوشہ) ہے جو شخص اس کو نا حق غصہ دلائے ستائے اس نے مجھ کو غصہ دلایا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهَا، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ، قَالَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ‏.‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet called his daughter Fatima during his illness in which he died, and told her a secret whereupon she wept. Then he called her again and told her a secret whereupon she laughed. When I asked her about that,

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے مرض موت میں حضرت فاطمہ اپنی صاحبزادی کو بلایا پہلے (کان میں ) چپکے سے ان سے کچھ فرمایا وہ رونے لگیں پھر ان کو بلایا اور چپکے سے کچھ فرمایا وہ ہنس دیں حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے ان سے پو چھا یہ کیا بات تھی ۔


فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ‏.‏

she replied, "The Prophet spoke to me in secret and informed me that he would die in the course of the illness during which he died, so I wept. He again spoke to me in secret and informed me that I would be the first of his family to follow him (after his death) and on that I laughed."

انہوں نے کہا پہلے آپؐ نے فرمایا کہ میں اس بیماری سے بچنے والا نہیں ہوں میں رونے لگی پھر چپکے سے مجھ کو یہ فرمایا کہ میرے گھر والوں میں سب سے پہلے تو میرے پاس آئے گی اس وقت میں ہنس دی۔

13. باب مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رضى الله عنه

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ حَوَارِيُّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَسُمِّيَ الْحَوَارِيُّونَ لِبَيَاضِ ثِيَابِهِمْ‏.

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ، حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ اسْتَخْلِفْ‏.‏ قَالَ وَقَالُوهُ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ وَمَنْ فَسَكَتَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ ـ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ ـ فَقَالَ اسْتَخْلِفْ‏.‏ فَقَالَ عُثْمَانُ وَقَالُوا فَقَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ قَالَ فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ، وَإِنْ كَانَ لأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By Marwan bin Al-Hakam : 'Uthman bin 'Affan was afflicted with severe nose-bleeding in the year when such illness was prevalent and that prevented him from performing Hajj, and (because of it) he made his will. A man from Quraish came to him and said, "Appoint your successor." 'Uthman asked, "Did the people name him? (i.e. the successor) the man said, "Yes." Uthman asked, "Who is that?" The man remained silent. Another man came to 'Uthman and I think it was Al-Harith. He also said, "Appoint your successor." 'Uthman asked, "Did the people name him?" The man replied "Yes." 'Uthman said, "Who is that?" The man remained silent. 'Uthman said, "Perhaps they have mentioned Az-Zubair?" The man said, "Yes." 'Uthman said, "By Him in Whose Hands my life is, he is the best of them as I know, and the dearest of them to Allah's Apostle."

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہا ہم سے علی بن مسہر نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے کہا مجھ کو مروان بن حکم نے خبر دی انہوں نے کہا حضرت عثمان کی ایک سال جس میں نکسیر پھوٹنے کی بیماری عام ہو گئی تھی نکسیر پھوٹی اور بہت سخت اتنی کہ وہ حج کو نہ جا سکے اور انہوں نے وصیت کی اس وقت قریش کا ایک شخص (نام نامعلوم) ان کے پاس گیا کہنے لگا تم کسی کو خلیفہ بنا کر جاؤ انہوں نے پوچھا کیا لوگ اس کا ذکر کرتے ہیں اس نے کہا ہاں حضرت عثمان نے پوچھا کس کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں یہ سن کر وہ چپ ہو رہا پھر ایک دوسرا شخص گیا میں سمجھتا ہوں وہ حارث تھا اس نے بھی یہی کہا کسی کو خلیفہ بنا کر جاؤ عثمان نے پوچھا کیا لوگ اس کا ذکر کرتے ہیں اس نے کہا ہاں انہوں نے کہا کس کو چاہتے ہیں یہ سن کر وہ چپ ہو رہا حضرت عثمان نے کہا شاید وہ زبیر بن عوام کا خلیفہ ہونا چاہتے ہیں تب اس نے کہا ہاں حضرت عثمان نے کہا سن لو قسم اس پروردگار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جتنے لوگوں کو میں جانتا ہوں زبیر ان سب میں بہتر ہیں اور سب سے زیادہ رسول اللہﷺ سے محبت رکھتے ہیں۔


حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، سَمِعْتُ مَرْوَانَ، كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ، أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ اسْتَخْلِفْ‏.‏ قَالَ وَقِيلَ ذَاكَ قَالَ نَعَمْ، الزُّبَيْرُ‏.‏ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ خَيْرُكُمْ‏.‏ ثَلاَثًا‏.‏

Narrated By Marwan bin Al-Hakam : While I was with 'Uthman, a man came to him and said, "Appoint your successor." 'Uthman said, "Has such successor been named?" He replied, "Yes, Az-Zubair." 'Uthman said, thrice, "By Allah! Indeed you know that he is the best of you."

ہم سے عبید بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے ہشام سے کہا مجھ کو والد (عروہ) نے خبر دی وہ کہتے تھے میں نے مروان سے سنا وہ کہتا تھا میں حضرت عثمان کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ایک شخص آیا کہنے لگا کسی کو خلیفہ بنا کر جاؤ انہوں نے کہا کیا لوگ اس کا ذکر کرتے ہیں کس کا خلیفہ ہونا چاہتے ہیں اس نے کہا زبیر بن عوام کا انہوں نے کہا سن رکھو تم خوب جانتے ہو کہ زبیر تم سب میں بہتر ہیں تین بار یہی کہا۔


حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ـ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ـ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Jabir : The Prophet said, "Every prophet used to have a Hawari (i.e. disciple), and my Hawari is Az-Zubair bin Al-'Awwam."

ہم سے مالک بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے جابر سے انہوں نے کہا نبی ﷺنے فرمایا ہر پیغمبر کا ایک حواری ہوتا یے میرا حواری زبیر بن عوام ہے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا ‏{‏عَبْدُ اللَّهِ‏}‏ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ كُنْتُ يَوْمَ الأَحْزَابِ جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فِي النِّسَاءِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَيْرِ، عَلَى فَرَسِهِ، يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، فَلَمَّا رَجَعْتُ قُلْتُ يَا أَبَتِ، رَأَيْتُكَ تَخْتَلِفُ‏.‏ قَالَ أَوَهَلْ رَأَيْتَنِي يَا بُنَىَّ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ يَأْتِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"

Narrated By 'Abdullah bin Az-Zubair : During the battle of Al-Ahzab, I and 'Umar bin Abi-Salama were kept behind with the women. Behold! I saw (my father) Az-Zubair riding his horse, going to and coming from Bani Quraiza twice or thrice. So when I came back I said, "O my father! I saw you going to and coming from Bani Quraiza?" He said, "Did you really see me, O my son?" I said, "Yes." He said, "Allah's Apostle said, 'Who will go to Bani Quraiza and bring me their news?' So I went, and when I came back, Allah's Apostle mentioned for me both his parents saying, "Let my father and mother be sacrificed for you.'"

ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کا ہشام بن عروہ نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عبداللہ بن زبیرؓ سے انہوں نے کہا ایسا ہوا میں اور عمر بن ابی سلمہ (دونوں کم سن تھے) جنگ احزاب میں عورتوں بچوں میں چھوڑدیے گئے پھر میں نے جو نگاہ کی تو دیکھا زبیر اپنے گھوڑے پر سوار ہیں اور دوبار یا تیں بار بنی قریظہ کے یہودیوں کے پاس گئے اور آئے جب میں لوٹ کر آیا (جنگ ہو چکی ) تو میں نے کہا باوا میں نے دیکھا تم بار بار آتے جاتے تھے یہ کیا معاملہ تھا انہوں نے کہا ہوا یہ تھا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی ایسا ہے جو بنی قریظہ کے پاس جائے ان کی خبر لائے میں گیا (خبر لایا) جب میں لوٹ کر آیا تو رسول اللہﷺ نے اپنی ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا یوں فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ صدقے (سبحان اللہ کیا فضیلت ہے)۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ أَلاَ تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ، فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ، بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَكُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ‏.‏

Narrated By 'Urwa : On the day of the battle of Al-Yarmuk, the companions of the Prophet said to Az-Zubair, "Will you attack the enemy vigorously so that we may attack them along with you?" So Az-Zubair attacked them, and they inflicted two wounds over his shoulder, and in between these two wounds there was an old scar he had received on the day of the battle of Badr When I was a child, I used to insert my fingers into those scars in play.

ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا یرموک کے دن صحابہ نے زبیرؓ سے کہا اجی کافروں نے پر حملہ کرو ہم بھی تمہارے ساتھ حملہ کریں یہ سن کر زبیرؓ نے حملہ کیا کافروں نے (تلوار کی) دو ماریں ان کے مونڈھے پر لگائیں ان دونوں کے بیچ میں وہ مار تھی جو بدر کی لڑائی میں ان پر لگی تھی عروہ نے کہا میں اپنی انگلیاں بچپنے میں ان زخموں میں ڈالتا کھیلتا (ان میں جو ف رہ گیا تھا)۔

14. باب ذِكْرِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ

وَقَالَ عُمَرُ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ عَنْهُ رَاضٍ

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ‏.‏ عَنْ حَدِيثِهِمَا‏.‏

Narrated By Abu 'Uthman : During one of the Ghazawat in which Allah's Apostle was fighting, none remained with the Prophet but Talha and Sad.

مجھ سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے کہا بعضی لڑائیوں میں (جنگ احد میں) جن میں نبیؐ لڑے رسول اللہﷺ کے ساتھ کوئی نہ رہا سوا طلحہؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ کے یہ ابو عثمانؓ نے دونوں سے سن کر نقل کیا ۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ‏.‏ عَنْ حَدِيثِهِمَا‏.‏

Narrated By Abu 'Uthman : During one of the Ghazawat in which Allah's Apostle was fighting, none remained with the Prophet but Talha and Sad.

مجھ سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے کہا بعضی لڑائیوں میں (جنگ احد میں) جن میں نبیؐ لڑے رسول اللہﷺ کے ساتھ کوئی نہ رہا سوا طلحہؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ کے یہ ابو عثمانؓ نے دونوں سے سن کر نقل کیا ۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ،، قَالَ رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ الَّتِي وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ شَلَّتْ‏.

Narrated By Qais bin Abi Hazim : I saw Talha's paralysed hand with which he had protected the Prophet (from an arrow).

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے خالد بن عبداللہ واسطی نے کہا ہم سے اسمعٰیل بن ابی خالد نے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے کہا میں نے طلحہؓ کا ہاتھ دیکھا جس سے انہوں نے نبیﷺ کو بچایا تھا بالکل شل ہو گیا تھا ۔

15. باب مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيِّ

وَبَنُو زُهْرَةَ أَخْوَالُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ جَمَعَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ‏.‏

Narrated By Sad : On the day of the battle of Uhud the Prophet mentioned for me both his parents (i.e. saying, "Let my parents be sacrificed for you.")

ہم سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوہاب نے کہا میں نے یحییٰ سے سنا کہا میں نے سعید بن مسیب سے سنا وی کہتے تھےمیں نے سعید بن ابی وقاص سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ نے احد کے دن اپنے ماں باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ۔


حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا ثُلُثُ الإِسْلاَمِ،‏.‏

Narrated By Sad : No doubt, (for some time) I stood for one-third of the Muslims.

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے انہوں نے عامر بن سعد سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا میں نے ایک زمانے میں مسلمانوں کا تیسرا حصّہ اپنے تئیں دیکھا۔


حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلاَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الإِسْلاَمِ‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ‏.‏

Narrated By Sad bin Abi Waqqas : No man embraced Islam before the day on which I embraced Islam, and no doubt, I remained for seven days as one third of the then extant Muslims.

مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی زائد نے کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص نے کہا میں نے سعید بن مسیب سے سنا وہ کہتے تھے میں نے سعد بن ابی وقاص سے وہ کہتے تھے کوئی مجھ سے پہلے اسلام نہیں لایا اسی دن اسلام لائے جس دن میں مسلمان ہوا اور سات دن مجھ پر ایسے گزرے کہ میں مسلمانوں کا تیسرا حصہ تھا ابن ابی زائدہ کے ساتھ اس حدیث کو ابو اسامہ نے بھی روایت کیا، کہاہم سے ہاشم نے بیان کیا ۔


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ إِنِّي لأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلاَّ وَرَقُ الشَّجَرِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا يَضَعُ الْبَعِيرُ أَوِ الشَّاةُ، مَا لَهُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الإِسْلاَمِ، لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي‏.‏ وَكَانُوا وَشَوْا بِهِ إِلَى عُمَرَ، قَالُوا لاَ يُحْسِنُ يُصَلِّي‏.‏

Narrated By Qais : I heard Sad saying, "I was the first amongst the 'Arabs who shot an arrow for Allah's Cause. We used to fight along with the Prophets, while we had nothing to eat except the leaves of trees so that one's excrete would look like the excrete balls of camel or a sheep, containing nothing to mix them together. Today Banu Asad tribe blame me for not having understood Islam. I would be a loser if my deeds were in vain." Those people complained about Sad to 'Umar, claiming that he did not offer his prayers perfectly.

ہم سے عمرو بن عون نے کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے انہوں نے اسمعٰیل سے انہوں نے قیس سے انہوں نے کہا میں نے سعد سے سنا وہ کہتے تھے سارے عربوں میں میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور ہم نبیﷺ کے ساتھ بعضے جہادوں میں درخت کے پتے کھا کر گزر کرتے ہم میں سے کوئی پاخانہ پھرتا جیسے بکری یا اونٹ کی لید اس میں نرمی کا نام نہ ہوتا (بالک سوکھا) باوجود اس حال کے بنی اسد مجھ کو نماز سکھلاتے ہیں (چہ خوش) ایسا ہو تو میں بالکل محروم اور بے نصیب ہی رہا اور میرے سب کام برباد ہو گئے ہوا یہ تھا کہ بنی اسد نے حضرت عمرؓ سے سعدؓ کی چغلی کھائی تھی یہ کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھ سکتے۔

16. باب ذِكْرُ أَصْهَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، قَالَ إِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَسَمِعَتْ بِذَلِكَ، فَاطِمَةُ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّكَ لاَ تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، هَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ يَقُولُ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحَدَّثَنِي وَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسُوءَهَا، وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ‏"‏‏.‏ فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ‏.‏ وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ مِسْوَرٍ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ ‏"‏ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي ‏"‏‏.‏

Narrated By Al-Miswar bin Makhrama : 'Ali demanded the hand of the daughter of Abu Jahl. Fatima heard of this and went to Allah's Apostle saying, "Your people think that you do not become angry for the sake of your daughters as 'Ali is now going to marry the daughter of Abu Jahl. "On that Allah's Apostle got up and after his recitation of Tashah-hud. I heard him saying, "Then after! I married one of my daughters to Abu Al-'As bin Al-Rabi' (the husband of Zainab, the daughter of the Prophet) before Islam and he proved truthful in whatever he said to me. No doubt, Fatima is a part of me, I hate to see her being troubled. By Allah, the daughter of Allah's Apostle and the daughter of Allah's Enemy cannot be the wives of one man." So 'Ali gave up that engagement. 'Al-Miswar further said: I heard the Prophet talking and he mentioned a son-in-law of his belonging to the tribe of Bani 'Abd-Shams. He highly praised him concerning that relationship and said (whenever) he spoke to me, he spoke the truth, and whenever he promised me, he fulfilled his promise."

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم سے شعیب نے انہوں نے زہری سے کہا مجھ سے امام زین العابدینؑ نے بیان کیا ان سے مسور بن مخرمہ نے کہ حضرت علیؓ نے ابو جہل کی بیٹی (جویریہ) کو شادی کا پیغام دیا یہ خبر حضرت فاطمہؓ کو پہنچی وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئیں عرض کیا کہ آپ کی قوم والےیہ کہتے ہیں آپ کو اپنی بیٹیوں کو ستانے پو کوئی غصہ نہیں آتا (اسی کا اثر ہے) اب علی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرتے ہیں یہ سن کر رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے (لوگوں کو خطبہ سنایا) مسور کہتے ہیں میں نے خود سنا آپ نے تشہد پڑھا پھر فرمایا میں نے ایک بیٹی ابو العاص بن ربیع کو دی اس نے جو بات کہی وہ سچی کی (یہ جانے رہو کہ) فاطمہ میرا ایک ٹکڑا ہے اس کو جو بات بری لگے میں بھی ناپسند کرتا ہوں خدا کی قسم یہ تو ہونے والا نہیں کہ اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن (کمبخت ابو جہل ملعون) کی بیٹی دونوں ایک شخص کے نکاح میں رہیں (اجتماع نقیضین ہو) یہ سنتے ہی حضرت علیؓ اے اس پیام کو دھتا بتا دیا محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے امام زین العابدین سے انہوں نے مسور سے اتنا زیادہ کیا ہے کہ نبیﷺ نے بنی عبد شمس میں سے ایک داماد( ابو العاص) کی تعریف کی فرمایا انہوں نے دامادی کا پورا حق ادا کیا جو بات کہی سچ کر دکھائی جو وعدہ کیا پورا کیا ۔

17. باب مَنَاقِبُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

وَقَالَ الْبَرَاءُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلاَنَا ‏"

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ تَطْعُنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعُنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ، إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ ‏"‏‏.

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : The Prophet sent an army under the command of Usama bin Zaid. When some people criticized his leadership, the Prophet said, "If you are criticizing Usama's leadership, you used to criticize his father's leadership before. By Allah! He was worthy of leadership and was one of the dearest persons to me, and (now) this (i.e. Usama) is one of the dearest to me after him (i.e. Zaid)."

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا،کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ نے ایک لشکر تیار کیا (جس کو بعث اسامہ کہتے ہیں ) اور اس کا سردار اسامہ بن زید کو مقرر کیا (جو نو عمر اور کم سن تھے)بعضے لوگوں نے اسامہ بن زید کی سرداری پر طعن کیا ۔ تب نبیﷺ نے (لوگوں سے)فرمایا(لوگوں) اگر تم اسامہ کی سرداری پر طعن کرتے ہو تو گویا تم اس کے باپ کی سرداری پر بھی طعنہ کیا قسم خدا کی زید سرداری کے لائق تھا اور ان لوگوں میں تھا جو سب سے زیادہ مجھے محبوب ہیں اور زید کے بعد اسامہ بھی ایسے ہی لوگوں میں ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ قَائِفٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم شَاهِدٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ، فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ‏.‏ قَالَ فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَعْجَبَهُ، فَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ‏.‏

Narrated By Urwa : 'Aisha said, "A Qaif (i.e. one skilled in recognizing the lineage of a person through Physiognomy and through examining the body parts of an infant) came to me while the Prophet was present, and Usama bin Zaid and Zaid bin Haritha were Lying asleep. The Qa'if said. These feet (of Usama and his father) are of persons belonging to the same lineage.' " The Prophet was pleased with that saying which won his admiration, and he told 'Aisha of it.

ہم سے یحٰیی بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا میرے پاس ایک قیافہ جاننے والا(مدلجی)آیا ۔ اس وقت نبی کریمﷺ بھی موجود تھے اسامہ اور ان کے باپ دونوں لیٹے ہوئے تھے اس نے دونوں پاؤں دیکھ کر کہا یہ پاؤں تو ایک دوسرے سے نکلے ہیں اس بات کو سن کر نبیﷺ خوش ہوئےآپ کو بہت بھلی لگی آپ نے حضرت عائشہؓ سے بیان کیا۔

18. باب ذِكْرُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ قُرَيْشًا، أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ، فَقَالُوا مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By 'Aisha : The people of the Quraish tribe were worried about the Makhzumiya woman. They said. "Nobody dare speak to him (i.e. the Prophet) except Usama bin Zaid as he is the most beloved to Allah's Apostle."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا قریش کے لوگوں کو مخزومی عورت کی فکر پیدا ہوئی انہوں نے (آپس میں) کہااس باب میں رسول اللہﷺ سے عرض کرنے کی اسامہ کے سوا جو آپ کا چہیتا ہے اور کون جرأت کر سکتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ ذَهَبْتُ أَسْأَلُ الزُّهْرِيَّ عَنْ حَدِيثِ الْمَخْزُومِيَّةِ، فَصَاحَ بِي، قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَلَمْ تَحْتَمِلْهُ عَنْ أَحَدٍ قَالَ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابٍ كَانَ كَتَبَهُ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ، فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَهُ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ، لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ‏"‏‏.‏

'Aisha said, "A woman from Bani Makhzumiya committed a theft and the people said, 'Who can intercede with the Prophet for her?' So nobody dared speak to him (i.e. the Prophet) but Usama bin Zaid spoke to him. The Prophet said, 'If a reputable man amongst the children of Bani Israel committed a theft, they used to forgive him, but if a poor man committed a theft, they would cut his hand. But I would cut even the hand of Fatima (i.e. the daughter of the Prophet) if she committed a theft."

اور ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے مخزومی عورت کی حدیث پوچھی تو وہ مجھ پر بہت غصہ ہو گئے۔ میں نے اس پر سفیان سے کہا تو پھر آپ کسی اور ذریعہ سے اس حدیث کی روایت نہیں کرتے؟انہوں نے بیان کیا کہ ایوب بن موسٰی کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں، میں نے یہ حدیث دیکھی۔ وہ زہری سے روایت کرتے تھے، وہ عروہ کے واسطہ سے، وہ حضرت عائشہؓ سے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی تھی۔ قریش نے یہ سوال اٹھایا (اپنی مجلس میں) کہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں اس عورت کی سفارش کے لیے کون جا سکتا ہے؟ کوئی اس کی جرات نہیں کر سکتا۔آخر حضرت اسامہ بن زیدؓ نے سفارش کی تو نبی ﷺ نے فرمایا، بنی اسرائیل میں یہ دستور ہوگیا تھا کہ جب کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کوئی معمولی درجے کا آدمی چوری کرتااور تو اس کا ہاتھ کاٹتے۔ اگر آج فاطمہؓ نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔


حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ، يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ نَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى رَجُلٍ يَسْحَبُ ثِيَابَهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَقَالَ انْظُرْ مَنْ هَذَا لَيْتَ هَذَا عِنْدِي‏.‏ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ أَمَا تَعْرِفُ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَةَ، قَالَ فَطَأْطَأَ ابْنُ عُمَرَ رَأْسَهُ، وَنَقَرَ بِيَدَيْهِ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ لَوْ رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَحَبَّهُ‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin Dinar : One day Ibn 'Umar, while in the Mosque, looked at a man who was dragging his clothes while walking in one of the corners of the Mosque He said, "See who is that. I wish he was near to me." Somebody then said (to Ibn 'Umar), "Don't you know him, O Abu 'Abdur-Rahman? He is Muhammad bin Usama." On that Ibn 'Umar bowed his head and dug the earth with his hands and then, said, "If Allah's Apostle saw him, he would have loved him."

مجھ سے حسن بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابو عباد یحٰیی بن عباد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ماجشون نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن دینار نےخبر دی کہ عبداللہ بن عمرؓ نے ایک دن ایک شخص کو مسجد میں دیکھا کہ اپنا کپڑا ایک کونے میں پھیلا رہے تھے۔ انہوں نے کہا دیکھو یہ کون صاحب ہیں، کاش!یہ میرے قریب ہوتے (تو میں انھیں نصیحت کرتا) ایک شخص نے کہا اے ابو عبدالرحمٰن!کیا آپ انہیں نہیں پہچانتے؟یہ محمد بن اسامہؓ ہیں۔ ابن دینار نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے ہاتھوں سے زمین کریدنے لگے پھر بولے اگر رسولﷺانہیں دیکھتے تو یقیناً آپؑ ان سے محبت فرماتے۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ حَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ فَيَقُولُ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَحِبَّهُمَا فَإِنِّي أُحِبُّهُمَا ‏"‏‏.

Narrated By Usama bin Zaid : That the Prophet used to take him (i.e. Usama) and Al-Hassan (in his lap) and say: "O Allah! Love them, as I love them."

ہم سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا،کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، کہا ہم سے ابو عثمان نے بیان کیا اور ان سے حضرت اسامہ بن زیدؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ انہیں اور حضرت حسنؓ کو پکڑ لیتے اور فرماتےاے اللہ! تو انہیں اپنا محبوب بنا کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں۔


وَقَالَ نُعَيْمٌ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مَوْلًى، لأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ‏.‏ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ،، وَكَانَ، أَيْمَنُ ابْنُ أُمِّ أَيْمَنَ أَخَا أُسَامَةَ لأُمِّهِ، وَهْوَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَرَآهُ ابْنُ عُمَرَ لَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلاَ سُجُودَهُ فَقَالَ أَعِدْ‏.‏

The freed slave of Usama bin Zaid said, "Al-Hajjaj bin Aiman bin Um Aiman and Aiman Ibn Um Aiman was Usama's brother from the maternal side, and he was one of the Ansar. He was seen by Ibn 'Umar not performing his bowing and prostrations in a perfect manner.So Ibn 'Umar told him to repeat his prayer.

اور نعیم نے ابن المبارک سے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں اسامہ بن زیدؓ کے ایک مولٰی (حرملہ) نے خبر دی کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن کو حضرت عبداللہ بن عمرؓنے دیکھا کہ (نماز میں) انہوں نے رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں ادا کیا۔( ایمن بن ام ایمن، اسامہؓ کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔ایمنؓ قبیلہ انصار کے ایک فرد تھے) تو ابن عمرؓ نے ان سے کہا کہ (نماز) دوبارہ پڑھ لو۔


قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِذْ دَخَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ فَلَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلاَ سُجُودَهُ، فَقَالَ أَعِدْ‏.‏ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ مَنْ هَذَا قُلْتُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَوْ رَأَى هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَحَبَّهُ، فَذَكَرَ حُبَّهُ وَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّ أَيْمَنَ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي عَنْ سُلَيْمَانَ وَكَانَتْ حَاضِنَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Harmala, the freed slave of Usama bin Zaid said that while he was in the company of 'Abdullah bin 'Umar, Al-Hajjaj bin Aiman came in and (while praying) he did not perform his bowing and prostrations properly. So Ibn 'Umar told him to repeat his prayer. When he went away, Ibn 'Umar asked me, "Who is he?" I said, "Al-Hajjaj bin Um Aiman." Ibn 'Umar said, "If Allah's Apostle saw him, he would have loved him." Then Ibn 'Umar mentioned the love of the Prophet for the children of Um Aimn. Sulaiman said that Um Aiman was one of the nurses of the Prophet.

ابو عبداللہ (امام بخاریؓ) نے بیان کیا اور مجھ سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن نمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے اسامہ بن زیدؓ کے ایک مولٰی حرملہ نے بیان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمرؓ کی خدمت میں حاضر تھے کہ حجاج بن ایمن(مسجد کے )اندر آئے نہ انہوں نے رکوع پوری طرح ادا کیا تھااور نہ سجدہ۔ ابن عمرؓ نے ان سے فرمایا کہ نماز دوبارہ پڑھ لو ، پھر جب وہ جانے لگے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے عرض کیا حجاج بن ایمن بن ام ایمن ہیں۔اس پر آپ نے کہا کہ اگر انہیں رسول اللہﷺ دیکھتے تو بہت عزیز رکھتے۔ پھر آپ نے حضورﷺ کی اسامہؓ اور ام ایمنؓ کی تمام اولاد سے محبت کا ذکر کیا۔ اور مجھ سے میرے بعض اساتذہ نے بیان کیا اوران سے سلیمان نے کہ ام ایمنؓ نے نبی کریمﷺ کو گود لیا تھا۔

19. باب مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنهما

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَكُنْتُ غُلاَمًا أَعْزَبَ، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، فَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَىِ الْبِئْرِ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ‏.‏ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ‏.‏ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : If a man saw a dream during the lifetime of the Prophet he would narrate it to the Prophet. Once I wished to see a dream and narrate it to the Prophet I was young, unmarried, and used to sleep in the Mosque during the lifetime of the Prophet. I dreamt that two angels took me and went away with me towards the (Hell) Fire which looked like a well with the inside walls built up, and had two side-walls like those of a well. There I saw some people in it whom I knew. I started saying, "I seek Refuge with Allah from the (Hell) Fire, I seek Refuge with Allah from the (Hell) Fire." Then another angel met the other two and said to me, "Do not be afraid." I narrated my dream to Hafsa

ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، اور ان سے عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ جب موجود تھے تو جب بھی کوئی شخص خواب دیکھتا، نبیﷺ سے اسے بیان کرتا، میرے دل میں بھی یہ تمنا پیدا ہوگئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں نبیﷺ سے بیان کروں۔ میں ان دنوں کنوارہ تھا اور نو عمر بھی تھا، میں آپؑ کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا تو میں نے خواب میں دو فرشتوں کو دیکھا کہ مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بل دار کنویں کی طرح پیچ در پیچ تھی۔ کنویں کی ہی طرح اس کے بھی دو کنارے تھے اور اس کے اندر کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا، میں اسے دیکھتے ہی کہنے لگا، دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے بعد مجھ سے ایک دوسرےفرشتے کی ملاقات ہوئی، اس نے مجھ سے کہا خوف نہ کھا۔ میں نے اپنا یہ خواب حضرت حفصہؓ سے بیان کیا۔


فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ‏"‏‏.‏ قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً‏.‏

who, in her turn, narrated it to the Prophet. He said, "What an excellent man Abdullah is if he only observes the night prayer." (Salim, a sub-narrator said, "Abdullah used not to sleep at night but very little hence forward."

حضرت حفصہ نے نبیﷺ سے میرا خواب بیان کیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ عبداللہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ کاش! رات میں وہ تہجد کی نماز پڑھا کرتا۔ سالم نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ اس کے بعد رات میں بہت کم سویا کرتے تھے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ، حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا ‏"‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ ‏"

Narrated By Ibn 'Umar : From Hafsa his sister, that the Prophet had said to her, "'Abdullah is a pious man."

ہم سے یحٰیی بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ان سے یونس نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے عبداللہ بن عمرؓ نے اپنی بہن حفصہؓ سے کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا تھا، عبداللہ نیک آدمی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ، حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا ‏"‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ ‏"

Narrated By Ibn 'Umar : From Hafsa his sister, that the Prophet had said to her, "'Abdullah is a pious man."

ہم سے یحٰیی بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ان سے یونس نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے عبداللہ بن عمرؓ نے اپنی بہن حفصہؓ سے کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا تھا، عبداللہ نیک آدمی ہے۔

20. باب مَنَاقِبُ عَمَّارٍ وَحُذَيْفَةَ رضى الله عنهما

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ،، قَالَ قَدِمْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلْتُ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا، فَأَتَيْتُ قَوْمًا فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ، فَإِذَا شَيْخٌ قَدْ جَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي، قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا أَبُو الدَّرْدَاءِ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَكَ لِي، قَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ‏.‏ قَالَ أَوَلَيْسَ عِنْدَكُمُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ وَفِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ سِرِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّذِي لاَ يَعْلَمُ أَحَدٌ غَيْرُهُ ثُمَّ قَالَ كَيْفَ يَقْرَأُ عَبْدُ اللَّهِ ‏{‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى‏}‏، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ ‏{‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى * وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى‏}‏‏.‏ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ‏.‏

Narrated By 'Alqama : I went to Sham and offered a two-Rak'at prayer and then said, "O Allah! Bless me with a good pious companion." So I went to some people and sat with them. An old man came and sat by my side. I asked, "Who is he?" They replied, "(He is) Abu-Ad-Darda.' I said (to him), "I prayed to Allah to bless me with a pious companion and He sent you to me." He asked me, "From where are you?" I replied, "From the people of Al-Kufa." He said, "Isn't there amongst you Ibn Um 'Abd, the one who used to carry the shoes, the cushion(or pillow) and the water for ablution? Is there amongst you the one whom Allah gave Refuge from Satan through the request of His Prophet. Is there amongst you the one who keeps the secrets of the Prophet which nobody knows except him?" Abu Darda further asked, "How does 'Abdullah (bin Mas'ud) recite the Sura starting with, 'By the Night as it conceals (the light)." (92.1) Then I recited before him: 'By the Night as it envelops: And by the Day as it appears in brightness; And by male and female.' (91.1-3) On this Abu Ad-Darda' said, "By Allah, the Prophet made me recite the Sura in this way while I was listening to him (reciting it)."

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں جب شام میں آیا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا کی، کہ اے اللہ! مجھے کوئی نیک ساتھی عطا فرما۔ پھر میں ایک قوم کے پاس آیا اور ان کی مجلس میں بیٹھ گیا، تھوڑی ہی دیر بعد ایک بزرگ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ حضرت ابو درداءؓ ہیں۔اس پر میں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالٰی سے دعا کی تھی کہ کوئی نیک ساتھی مجھے عطا فرما۔ تو اللہ تعالٰی نے آپ کو مجھے عنایت فرمایا۔ انہوں نے دریافت کیا، تمہارا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کوفہ ہے۔ انہوں نے کہا کیا تمہارے یہاں ابن ام عبد، صاحب النعلین، صاحب و سادہ، و مطہرہ (یعنی عبداللہ بن مسعودؓ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالٰی اپنے نبیﷺ کی زبانی شیطان سے پناہ دے چکا ہے کہ وہ انہیں کبھی غلط راستے پر نہیں لے جا سکتا۔ (مراد عمارؓ سے تھی) کیا تم میں وہ نہیں ہیں جو رسولﷺ کے بتائے ہوئے بہت سے بھیدوں کے حامل ہیں جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ (یعنی حضرت حزیفہؓ اس کے بعد انہوں نے دریافت فرمایا عبداللہؓ آیت " واللیل اذا یغشی "کی تلاوت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نےانہیں پڑھ کر سنائی کہ " واللیل اذا یغشی والنہار اذا تجلی والذکر والانثی" اس پر انہوں نےکہا کہ رسول اللہﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے مجھے بھی اسی طرح یادکرایا تھا۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّأْمِ، فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا‏.‏ فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ ـ أَوْ مِنْكُمْ ـ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ‏.‏ قَالَ قُلْتُ بَلَى‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمُ ـ أَوْ مِنْكُمُ ـ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي عَمَّارًا‏.‏ قُلْتُ بَلَى‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ ـ أَوْ مِنْكُمْ ـ صَاحِبُ السِّوَاكِ أَوِ السِّرَارِ قَالَ بَلَى‏.‏ قَالَ كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ ‏{‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى‏}‏ قُلْتُ ‏{‏وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى‏}‏‏.‏ قَالَ مَا زَالَ بِي هَؤُلاَءِ حَتَّى كَادُوا يَسْتَنْزِلُونِي عَنْ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By Ibrahim : 'Alqama went to Sham and when he entered the mosque, he said, "O Allah! Bless me with a pious companion." So he sat with Abu Ad-Darda. Abu Ad-Darda' asked him, "Where are you from?" 'Alqama replied, "From the people of Kufa." Abu Ad-Darda said, "Isn't there amongst you the keeper of the secret which nobody else knows, i.e., Hudhaifa?" Alqama said, "Yes." Then Abu Ad-Darda further said, "Isn't there amongst you the person whom Allah gave refuge from Satan through the invocation of His Prophet, namely Ammar?" Alqama replied in the affirmative. Abu Ad-Darda said, "Isn't there amongst you the person who carries the Siwak (or the Secret) (i.e. of the Prophet, namely Abdullah bin Masud)?" Alqama said, "Yes." Then Abu Ad-Darda asked, "How (Abdullah bin Masud) used to recite the Sura starting with: 'By the night as it envelops; By the day as it appears in brightness?' " (92.1-2). Alqama said "And by male and female." Abu Ad-Darda then said, "These people (of Sham) tried hard to make me accept something other than what I had heard from the Prophet."

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیا ن کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے مغیرہ سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے کہا علقمہ شام کے ملک کو گئے جب مسجد میں پہنچے تو یہ دعا کی یا اللہ مجھ کو ایک نیک رفیق عنایت فرما پھر ان کو ابو الدرداء صحابی کی صحبت ملی ابو الدرداء نے پوچھا تم کہا ں سے آئے ہو انہوں نے کہا کوفہ سے ابو الدرداء نے کہا کیا تمہارے شہر میں یا تم لوگو ں میں وہ شخص نہیں ہیں جو نبیﷺ کے رازدار تھے ایسے رازوں سے واقف تھے جن کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا حذیفہؓ ۔ میں نے کہاہیں پھر انہوں نے کہا کیا تم میں وہ شخص نہیں ہیں جن کو اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان پر شیطان کی شر سے بچا رکھا ہے یعنی عمار بن یاسرؓ میں نے کہا ہیں پھر انہوں نے کہا کیا تم میں وہ شخص نہیں ہیں جو نبیﷺ کی مسواک رکھتے تھے یا تکیہ (یا راز سے واقف تھے ) میں نے کہا ہیں ( یعنی عبد اللہ بن مسعودؓ) انہوں نے کہا عبد اللہ اس سورت کو کیونکر پڑھتے تھے ۔ والیل اذا یغشی والنہار اذا تجلی آ گے کیونکر میں نے کہا والذکر والانثٰی کہنے لگے یہاں کے لوگ بھی عجیب ہیں برابر میرے پیچھے پڑے رہے مجھ سے غلطی کرانے کوہی تھے جس طرح میں نے رسول اللہﷺ سے سنا اس کے سوا اور طرح بتا کر۔

123