10. باب قَوْلِهِ {إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}
قَالَ مُجَاهِدٌ صَلاَةَ الْفَجْرِ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَضْلُ صَلاَةِ الْجَمِيعِ عَلَى صَلاَةِ الْوَاحِدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً، وَتَجْتَمِعُ مَلاَئِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ ". يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}
Narrated By Ibn Al-Musaiyab : Abu Huraira said, "The Prophet said, 'A prayer performed in congregation is twenty-five times more superior in reward to a prayer performed by a single person. The angels of the night and the angels of the day are assembled at the time of the Fajr (Morning) prayer." Abu Huraira added, "If you wish, you can recite: 'Verily! The recitation of the Qur'an in the early dawn (Morning prayer) is ever witnessed (attended by the angels of the day and the night).' (17.78)
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن مسیب سے،ان دونوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا جماعت کی نماز اکیلے نماز پڑھنے پر پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ اور رات، دن کے فرشتے صبح کی نماز میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ابو ہریرہؓ یہ حدیث شریف بیان کرنے کے بعد فرماتے تھے اگر چاہو تو اس آیت کو پڑھو وَ قُراٰنَ الفَجرِ اِنَّ قُراٰنَ الفَجرِ کَانَ مَشھُودًاِ
11. باب قَوْلِهِ {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا}
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، رضى الله عنهما يَقُولُ إِنَّ النَّاسَ يَصِيرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُثًا، كُلُّ أُمَّةٍ تَتْبَعُ نَبِيَّهَا، يَقُولُونَ يَا فُلاَنُ اشْفَعْ، حَتَّى تَنْتَهِيَ الشَّفَاعَةُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَلِكَ يَوْمَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ.
Narrated By Ibn Umar : On the Day of Resurrection the people will fall on their knees and every nation will follow their prophet and they will say, "O so-and-so! Intercede (for us with Allah), "till (the right) intercession is given to the Prophet (Muhammad) and that will be the day when Allah will raise him into a station of praise and glory (i.e. Al-Maqam -al-Mahmud).
مجھ سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحوص (سلام بن سلیم) نے، انہوں نے آدم بن علی سے، انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عمرؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ قیامت کے دن لوگوں کے گروہ گروہ ہو جائیں گے اور ہو گروہ اپنے پیغمبر کے پیچھے لگے گا اور کہے گا صاحب! ہماری کچھ سفارش کرو۔ اخیر میں سفارش نبی ﷺ پر ٹھہرے گی (دوسرے پیغمبر جواب دیدیں گے) یہی وہ دن ہے جس دن اللہ آپﷺ کو مقام محمود پر اٹھائے گا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاَةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". رَوَاهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : Allah's Apostle said, "Whoever, after listening to the Adhan (for the prayer) says, 'O Allah, the Lord of this complete call and of this prayer, which is going to be established! Give Muhammad Al-Wasila and Al-Fadila and raise him to Al-Maqam-al-Mahmud which You have promised him,' will be granted my intercession for him on the Day of Resurrection."
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب بن ابی حمزہ نے، انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ انصاری سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی آذان سنے پھر یوں کہے الّٰلھم ربَّ ھذہ الدَّعوۃ التَّامَّۃِ و الصَّلاۃ القائنۃ، آت محمد الوسیلۃ و الفضیلۃ و ابعثہ مقاما محمودا الّذی و عدتّہ تو قیامت کے دن اس کو میری شفاعت پہنچے گی۔ اس حدیث کو حمزہ بن عبداللہ نے بھی اپنے والد (عبداللہ بن عمرؓ) سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے۔
12. باب {وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا}
يَزْهَقُ يَهْلِكُ
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلاَثُمِائَةِ نُصُبٍ فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ وَيَقُولُ {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} {جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ}
Narrated By Abdullah bin Masud : Allah's Apostle entered Mecca (in the year of the Conquest) and there were three-hundred and sixty idols around the Ka'ba. He then started hitting them with a stick in his hand and say: 'Truth (i.e. Islam) has come and falsehood (disbelief) vanished. Truly falsehood (disbelief) is ever bound to vanish.' (17.81) 'Truth has come and falsehood (Iblis) can not create anything.' (34.49)
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عبداللہ بن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابو معمر سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے (جب مکہ فتح ہوا) اس وقت کعبے کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپؐ ایک چھڑی سے جو آپؐ کے ہاتھ میں تھی، ایک ایک بت کو ٹھونسا دیتے جاتے اور فرماتے جاتے جَاءَ الحَقُّ وَ زَھَقَ البَاطِلُ اِنَّ بَاطِلَ کَانَ زَھُوقًا۔ جَاءَ الحَقُّ وَ مَا یُبدِیُٔ البَاطِلُ وَ مَا یُعِیدُ
13. باب {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ}
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرْثٍ وَهْوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ إِذْ مَرَّ الْيَهُودُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَقَالَ مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَىْءٍ تَكْرَهُونَهُ فَقَالُوا سَلُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، فَقُمْتُ مَقَامِي، فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْىُ قَالَ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً}.
Narrated By Abdullah : While I was in the company of the Prophet on a farm and he was reclining on a palm leave stalk, some Jews passed by. Some of them said to the others. "Ask him (the Prophet about the spirit." Some of them said, "What urges you to ask him about it" Others said, "(Don't) lest he should give you a reply which you dislike." But they said, "Ask him." So they asked him about the Spirit. The Prophet kept quiet and did not give them any answer. I knew that he was being divinely inspired so I stayed at my place. When the divine inspiration had been revealed, the Prophet said. "They ask you (O, Muhammad) concerning the Spirit, Say: "The spirit," its knowledge is with my Lord; and of knowledge you (mankind) have been given only a Little." (17.85)
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا مجھ سے ابراہیم نخعی نے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا کہ ایسا ہوا ایک بار میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھیت میں جا رہا تھا۔ آپؐ کھجور کی ایک چھڑی پر ٹیکا دیئے ہوئے تھے۔ اتنے میں کچھ یہودی سامنے سے گزرے۔ وہ آپس میں کہنے لگے ان سے (یعنی پیغمبرؐ سے) پوچھو روح کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا کیوں اس کی کیا ضرورت ہے۔ بعضوں نے کہا ایسا نہ ہو وہ کوئی ایسی بات کہیں جو تم کو ناگوار گزرے، خیر پھر (یہ بحث ہو کر) کہنے لگے۔ اچھا پوچھو تو۔ انہوں نے پوچھا کہ روح کیا چیز ہے۔ آپؐ خاموش ہو رہے (تھوڑی دیر تک) ان کو کچھ جواب نہ دیا۔ میں سمجھ گیا کہ آپؐ پر وحی آنے لگی ہے اور اپنی جگہ پر کھڑا رہ گیا۔ جب وحی اتر چکی تو آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی وَ یَسئَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِن اَمرِ رَبِّی وَ مَا اُتِیتُم مِنَ العِلمِ اِلَّا قَلِیلًا۔
14. باب {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا}
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ، كَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَإِذَا سَمِعَهُ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ} أَىْ بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ، {وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} عَنْ أَصْحَابِكَ فَلاَ تُسْمِعُهُمْ {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً}.
Narrated By Ibn Abbas : (Regarding): 'Neither say your, prayer aloud, nor say it in a low tone.' (17.110) This Verse was revealed while Allah's Apostle was hiding himself in Mecca. When he prayed with his companions, he used to raise his voice with the recitation of Qur'an, and if the pagans happened to hear him, they would abuse the Qur'an, the One who revealed it and the one who brought it. Therefore Allah said to His Prophet : 'Neither say your prayer aloud.' (17.110) i.e. do not recite aloud lest the pagans should hear you, but follow a way between.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم بن بشیر نے، کہا ہم سے ابو البشر نے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا یہ آیت وَ لَا تَجھَر بِصَلَاتِکَ وَ لَا تُخَافِت بِھَا اس وقت نازل ہوئی جب آپؐ مکہ میں (کافروں کے ڈر سے) چھپے رہتے۔آپؐ جب اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تو بلند آواز سے قرآن پڑھاتے۔ مشرک جب قرآن سنتے تو خود قرآن کو اور قرآن اتارنے والے کو، اور جو قرآن لے کر آیا(یعنی جبرائیلؑ کو یا صاحب قرآن کو) سب کو برا کہتے۔ اس وقت اللہ تعالٰی نے اپنے پیغمبرؐ کو یہ حکم دیا کہ اپنی نماز کو پکار کر نہ پڑھ۔ یعنی قراءت خوب جہر سے نہ کر کہ مشرکین سنیں اور قرآن شریف کو برا کہیں۔ اور اتنا آستہ بھی نہ پڑھ کہ تیرے اصحاب بھی نہ سن سکیں۔ بلکہ بیچ بیچ میں پڑھا کر۔
حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أُنْزِلَ ذَلِكَ فِي الدُّعَاءِ.
Narrated By 'Aisha : The (above) verse was revealed in connection with the invocations.
ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہؓ سے، انہوں نے کہا یہ آیت وَ لَا تَجھَر بِصَلَاتِکَ وَ لَا تُخَافِت بِھَا دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔