10. باب قَوْلِهِ {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ}
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {الأَزْلاَمُ} الْقِدَاحُ يَقْتَسِمُونَ بِهَا فِي الأُمُورِ. وَالنُّصُبُ أَنْصَابٌ يَذْبَحُونَ عَلَيْهَا، وَقَالَ غَيْرُهُ الزُّلَمُ الْقِدْحُ لاَ رِيشَ لَهُ، وَهُوَ وَاحِدُ الأَزْلاَمِ. وَالاِسْتِقْسَامُ أَنْ يُجِيلَ الْقِدَاحَ فَإِنْ نَهَتْهُ انْتَهَى وَإِنْ أَمَرَتْهُ فَعَلَ مَا تَأْمُرُهُ. وَقَدْ أَعْلَمُوا الْقِدَاحَ أَعْلاَمًا بِضُرُوبٍ يَسْتَقْسِمُونَ بِهَا وَفَعَلْتُ مِنْهُ قَسَمْتُ وَالْقُسُومُ الْمَصْدَرُ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَإِنَّ فِي الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ لَخَمْسَةَ أَشْرِبَةٍ، مَا فِيهَا شَرَابُ الْعِنَبِ.
Narrated By Ibn Umar : (The Verse of) prohibiting alcoholic drinks was revealed when there were in Medina five kinds of (alcoholic) drinks none of which was produced from grapes.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم کو محمد بن بشر نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن عمر بن عبدالعزیز نے کہا مجھ سے نافع نے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت مدینہ میں پانچ طرح کی شراب رائج تھی۔ انگور کی شراب کا بالکل رواج نہ تھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ مَا كَانَ لَنَا خَمْرٌ غَيْرُ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ. فَإِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ وَهَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ فَقَالُوا وَمَا ذَاكَ قَالَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ. قَالُوا أَهْرِقْ هَذِهِ الْقِلاَلَ يَا أَنَسُ. قَالَ فَمَا سَأَلُوا عَنْهَا وَلاَ رَاجَعُوهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ.
Narrated By Anas bin Malik : We had no alcoholic drink except that which was produced from dates and which you call Fadikh. While I was standing offering drinks to Abu Talh and so-and-so and so-and-so, a man cam and said, "Has the news reached you? They said, "What is that?" He said. "Alcoholic drinks have been prohibited. They said, "Spill (the contents of these pots, O Anas! "Then they neither asked about it (alcoholic drinks) nor returned it after the news from that man.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ اسماعیل بن ابراہیم نے، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے، انہوں نے کہا انس بن مالکؓ نے کہا کہ ہم لوگوں کا تو شراب فضیخ کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ یہی شراب جس کو تم فضیخ کہتے ہو ۔ میں کھڑا ہوں ابو طلحہؓ اور فلاں فلاں (ابو دجانہ، سہیل بن بیضاء، ابو عبیدہ، ابن ابی کعب، معاذ بن جبل، ابو ایوب) کو پلا رہا ہوں۔ اتنے میں ایک شخص آیا (نام نا معلوم) کہنے لگا کچھ خبر بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہہ۔ تو کہنے لگا شراب حرام ہو گیا۔ تب ان لوگوں نے کہا انسؓ ان کوزوں کو بہا دے۔اس کے بعد جب سے اس آدمی نے یہ خبر دی کبھی نہ شراب کو پوچھا اور نہ اس کو پیا۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَبَّحَ أُنَاسٌ غَدَاةَ أُحُدٍ الْخَمْرَ فَقُتِلُوا مِنْ يَوْمِهِمْ جَمِيعًا شُهَدَاءَ، وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِهَا.
Narrated By Jabir : Some people drank alcoholic beverages in the morning (of the day) of the Uhud battle and on the same day they were killed as martyrs, and that was before wine was prohibited.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے جابرؓ سے، انہوں نے کہا کہ احد کے دن بعض لوگ صبح کو شراب پیئے ہوئے تھے۔ اسی حال میں شہید ہوئے۔ اس وقت شراب حرام نہیں ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، وَابْنُ، إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةٍ، مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ.
Narrated By Ibn Umar : I heard 'Umar while he was on the pulpit of the Prophet saying, "Now then O people! The revelation about the prohibition of alcoholic drinks was revealed; and alcoholic drinks are extracted from five things: Grapes, dates, honey, wheat and barley. And the alcoholic drink is that which confuses and stupefies the mind."
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا خبر دی ہم کو عیسیٰ اور عبداللہ بن ادریس نے، انہوں نے ابو حیان (یحیٰی بن یزید) سے، انہوں نے عامر شعبی سے، انہوں نے ابن عمرؓ سے، انہوں نے کہا میں نے عمرؓ سے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر سنا، وہ کہتے تھے امّا بعد اے لوگو! شراب حرام ہوا۔ شراب پانچ چیزوں سے بنا کرتا ہے۔ انگور سے اور کھجور سے اور شہد سے اور گیہوں سے اور جو سے۔ اور جس شراب سے عقل میں فتور آئے وہ خمر ہے۔
11. باب {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا}
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ الْخَمْرَ، الَّتِي أُهْرِيقَتِ الْفَضِيخُ. وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ فَنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى. فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَانْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ قَالَ فَخَرَجْتُ فَقُلْتُ هَذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلاَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ. فَقَالَ لِي اذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا. قَالَ فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ. قَالَ وَكَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ قُتِلَ قَوْمٌ وَهْىَ فِي بُطُونِهِمْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا}.
Narrated By Anas : The alcoholic drink which was spilled was Al-Fadikh. I used to offer alcoholic drinks to the people at the residence of Abu Talha. Then the order of prohibiting Alcoholic drinks was revealed, and the Prophet ordered somebody to announce that: Abu Talha said to me, "Go out and see what this voice (this announcement) is." I went out and (on coming back) said, "This is somebody announcing that alcoholic beverages have been prohibited." Abu Talha said to me, "Go and spill it (i.e. the wine)," Then it (alcoholic drinks) was seen flowing through the streets of Medina. At that time the wine was Al-Fadikh. The people said, "Some people (Muslims) were killed (during the battle of Uhud) while wine was in their stomachs." So Allah revealed: "On those who believe and do good deeds there is no blame for what they ate (in the past)." (5.93)
ہم سے ابو نعمان (محمد بن فضل) نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، کہا ہم سے ثابت نے، انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا جو شراب بہا دیا گیا تھا وہ شراب فضیخ تھا۔ دوسری سند امام بخاریؒ نے کہا مجھ سے محمد بن سلام بیکندی نے ابو النعمان سے روایت کر کے اس حدیث میں اتنا اور اضافہ کیا کہ انسؓ نے کہا میں ابو طلحہؓ کے گھر میں لوگوں کا ساقی بنا تھا (ان کو شراب پلا رہا تھا)۔ پھر شراب کی حرمت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺنے ایک شخص (نام نا معلوم)کو حکم دیا ۔ اس نے منادی کر دی (کہ شراب حرام ہو گیا) ۔ ابو طلحہؓ نے (منادی کی آواز سن کر) انسؓ سے کہا ذرا باہر تو نکل پوچھ یہ آواز کیا ہے۔ انسؓ نے کہا میں گیا اور لوٹ کر ابو طلحہؓ سے کہا یہ منادی کی آواز ہے اور وہ منادی کر رہا ہے کہ شراب حرام ہو گیا۔ ابو طلحہؓ نے کہا اچھا تو پھر جا یہ سب شراب بہا دے۔ میں نے بہا دیا۔ وہ مدینہ کی گلیوں میں بہتا چلا گیا۔ انسؓ کہتے ہیں ان دنوں شراب کیا تھا، یہی فضیخ۔ اب بعض لوگ کہنے لگے کہ ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کے پیٹ میں شراب تھا اور وہ اسی حال میں شہید ہو گئے۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری لیس علی الّذین آمنوا و عملوا الصّالحات جناح فیما طعموا۔
12. باب قَوْلِهِ {لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ، إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ}
حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَارُودِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُطْبَةً مَا سَمِعْتُ مِثْلَهَا قَطُّ، قَالَ " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ". قَالَ فَغَطَّى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وُجُوهَهُمْ لَهُمْ خَنِينٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مَنْ أَبِي قَالَ فُلاَنٌ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ}. رَوَاهُ النَّضْرُ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ شُعْبَةَ.
Narrated By Anas : The Prophet delivered a sermon the like of which I had never heard before. He said, "If you but knew what I know then you would have laughed little and wept much." On hearing that, the companions of the Prophet covered their faces and the sound of their weeping was heard. A man said, "Who is my father?" The Prophet said, "So-and-so." So this Verse was revealed: "Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble." (5.101)
ہم سے منذر بن ولید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے والد نے ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، انہوں نے موسیٰ بن انس سے، انہوں نے
( اپنے والد) انس بن مالکؓ سے۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے ایک خطبہ سنایا۔ ویسا( عمدہ) خطبہ میں نے کبھی نہیں سنا۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم لوگوں کو وہ باتیں معلوم ہوں جو مجھ کو معلوم ہیں تو بہت کم ہنسو اور اکثر روتے رہو۔ انسؓ نے کہا یہ سن کر آپؐ کے اصحاب نے منہ ڈھانپ لیا، چیں چیں رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ اتنے میں ایک شخص (عبداللہ بن حذافہؓ) نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! میرا باپ کون تھا۔ آپؐ نے فرمایا تیرا باپ (حذافہ) تھا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی لا تسئلوا عن اشیاء ان تبدلکم تسؤکم ۔ اس حدیث کو نضر بن شمیل اور روح بن عبادہ نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتِهْزَاءً، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مَنْ أَبِي وَيَقُولُ الرَّجُلُ تَضِلُّ نَاقَتُهُ أَيْنَ نَاقَتِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ هَذِهِ الآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} حَتَّى فَرَغَ مِنَ الآيَةِ كُلِّهَا.
Narrated By Ibn Abbas : Some people were asking Allah's Apostle questions mockingly. A man would say, "Who is my father?" Another man whose she-camel had gone astray would say, "Where is my she-camel? "So Allah revealed this Verse in this connection: "O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble." (5.101)
مجھ سے فضل بن سہل بغدادی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو النضر نے، کہا ہم سے ابو خیثمہ نے، کہا ہم سے ابو الجویریہ نے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ (خوا مخواہ) ٹھٹھے کی راہ سے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کرتے تھے۔ کوئی پوچھتا میرا باپ کون تھا؟ کوئی پوچھتا کہ میری اونٹنی گم ہو گئی ہے بتلائیے کہاں ہے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اے ایمان والو!مت پوچھو ایسی چیزوں کے بارے میں اگر تم پر ظاہر ہوں تو تم کو بری معلوم ہوں۔ اخیر آیت تک پوری آیت تلاوت فرمائی۔
13. باب {مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلاَ سَائِبَةٍ وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ}
{وَإِذْ قَالَ اللَّهُ} يَقُولُ قَالَ اللَّهُ. وَإِذْ هَا هُنَا صِلَةٌ، الْمَائِدَةُ أَصْلُهَا مَفْعُولَةٌ كَعِيشَةٍ رَاضِيَةٍ وَتَطْلِيقَةٍ بَائِنَةٍ وَالْمَعْنَى مِيدَ بِهَا صَاحِبُهَا مِنْ خَيْرٍ، يُقَالُ مَادَنِي يَمِيدُنِي. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {مُتَوَفِّيكَ} مُمِيتُكَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ الْبَحِيرَةُ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلاَ يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ. وَالسَّائِبَةُ كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لآلِهَتِهِمْ لاَ يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَىْءٌ. قَالَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ ". وَالْوَصِيلَةُ النَّاقَةُ الْبِكْرُ تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الإِبِلِ، ثُمَّ تُثَنِّي بَعْدُ بِأُنْثَى. وَكَانُوا يُسَيِّبُونَهُمْ لِطَوَاغِيتِهِمْ إِنْ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى لَيْسَ بَيْنَهُمَا ذَكَرٌ. وَالْحَامِ فَحْلُ الإِبِلِ يَضْرِبُ الضِّرَابَ الْمَعْدُودَ، فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ وَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ وَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ فَلَمْ يُحْمَلْ عَلَيْهِ شَىْءٌ وَسَمَّوْهُ الْحَامِيَ.
وَقَالَ أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعْتُ سَعِيدًا، قَالَ يُخْبِرُهُ بِهَذَا قَالَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ ابْنُ الْهَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By Said bin Al-Musaiyab : Bahira is a she-camel whose milk is kept for the idols and nobody is allowed to milk it; Sa'iba was the she-camel which they used to set free for their gods and nothing was allowed to be carried on it. Abu Huraira said: Allah's Apostle said, "I saw 'Amr bin 'Amir Al-Khuzai (in a dream) dragging his intestines in the Fire, and he was the first person to establish the tradition of setting free the animals (for the sake of their deities)," Wasila is the she-camel which gives birth to a she-camel as its first delivery, and then gives birth to another she-camel as its second delivery. People (in the Pre-Islamic periods of ignorance) used to let that she camel loose for their idols if it gave birth to two she-camels successively without giving birth to a male camel in between. 'Ham' was the male camel which was used for copulation. When it had finished the number of copulations assigned for it, they would let it loose for their idols and excuse it from burdens so that nothing would be carried on it, and they called it the 'Hami.' Abu Huraira said, "I heard the Prophet saying so."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شھاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے کہا کہ بحیرہ وہ دوہیل جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام پر روک لیا جائے یعنی اس کا دودھ نہ دوہے۔ اور سائبہ وہ جانور ہے جس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس پر کوئی بوجھ نہ لاتا (نہ سواری کرتا ہو یعنی سانڈ) سعیدؓ نے کہا ابو ہریرہؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتا پھرتا ہے۔ سانڈ کی رسم اسی نے سب سے پہلے نکالی تھی۔ سعید نے کہا وصیلہ وہ بن بیاہی اونٹنی ہے جو پہلے پہل اونٹنی جنے، پھر دوسری بار بھی اونٹنی جنے (نر اونٹنی نہ جنے) ایسی اونٹنی کو وہ اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ جب وہ برابر دو مادہ اونٹنیاں جنتی، نر نہ جنتی۔ اور حام وہ نر اونٹ ہے جو مادہ پر شمار سے جستیں کرتا (اس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہوتے) جب وہ اتنی جستیں کر چکتا تو بتوں کے نام پر اس کو رحصت کر دیتے۔ اور بوجھ کادنے سے معاف کر دیتے، بوجھ نہ لادتے (نہ سواری کرتے)۔ اس کا نام حام رکھتا اور ابو الیمان (حکم نافع) نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، کہا میں نے سعید بن مسیب سے یہی حدیث سنی جو اوپر گزری ہے۔ اور سعید نے کہا ابو ہریرہؓ نے کہا میں نے نبیﷺ سے سنا (وہی عمرو بن عامر خزاعی کا واقعہ) جق اوپر گزرچکا ہے۔ اور یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بھی اس حدیث کو ابن شھاب سے روایت کیا، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سےکہا میں نے نبی ﷺ سے سنا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْكَرْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ، وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ ".
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle said, "I saw Hell and its different portions were consuming each other and saw 'Amr dragging his intestines (in it), and he was the first person to establish the tradition of letting animals loose (for the idols)."
مجھ سے محمد بن ابی یعقوب ابو عبداللہ کرمانی نے بیان کیا، ہم سے حسان بن ابراہیم نے، کہا ہم سے یونس نے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے کہ عائشہؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے دوزخ میں دیکھا وہ اپنے آپ کو کچل رہی تھی (اس قدر تیزی تھی) اور میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو (وہاں) اپنی آنتیں کھینچتے دیکھا ۔ اسی نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم شروع کی۔
14. باب {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ}
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً ـ ثُمَّ قَالَ ـ {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ ـ ثُمَّ قَالَ ـ أَلاَ وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَئِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، أَلاَ وَإِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي. فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ. فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ} فَيُقَالُ إِنَّ هَؤُلاَءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ ".
Narrated By Ibn Abbas : Allah's Apostle delivered a sermon and said, "O people! You will be gathered before Allah bare-footed, naked and not circumcised." Then (quoting Qur'an) he said:
"As We began the first creation, We shall repeat it. A promise We have undertaken: Truly we shall do it..." (21.104)
The Prophet then said, "The first of the human beings to be dressed on the Day of Resurrection, will be Abraham. Lo! Some men from my followers will be brought and then (the angels) will drive them to the left side (Hell-Fire). I will say. 'O my Lord! (They are) my companions!' Then a reply will come (from Almighty), 'You do not know what they did after you.' I will say as the pious slave (the Prophet Jesus) said: And I was a witness over them while I dwelt amongst them. When You took me up. You were the Watcher over them and You are a Witness to all things.' (5.117) Then it will be said, "These people have continued to be apostates since you left them."
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم کو مغیرہ بن نعمان نے خبر دی، کہا میں نے سعید بن جبیر سے سنا انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا آپؐ نے فرمایا اے لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بے ختبی حشر کئے جاؤ گے۔ پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کما بد انا اّول خلق نعیدہ وعدا علینا انّا کنا فاعلین الخ آپؐ نے پھر فرمایا سن لو! قیامت کے دن ساری خلقت میں ابراہیمؑ پیغمبر کو پہلے کپرے پہنائے جائیں گے اور میری امت کے کچھ لوگ حاضر کئے جائیں گے۔ ان کو بائیں (دوزخ کی) طرف لے چلیں گے ۔ میں عرض کروں گا اے پروردگار! یہ میرے ساتھ والے ہیں۔ جواب ملے گا نہیں تم نہیں جانتے تمھارے بعد جو انہوں نے نئی نئی باتیں (بدعتیں) نکالیں۔ اس وقت میں کہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندے (حضرت عیسیٰؑ) نے کہا میں جب تک ان لوگوں میں رہا ان کا حال دیکھتا رہا ۔ جب تو نے مجھ کو (دنیا سے) اٹھا لیا اس کے بعد تجھ کو ان کی خبر ہے۔ جواب ملے گا جب سے تم ان سے جدا ہوئے اسی وقت سے برابر یہ لوگ ایڑیوں کے بل (اسلام سے پھرے رہے)۔
15. باب قَوْلِهِ {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } الآية
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ، وَإِنَّ نَاسًا يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ} إِلَى قَوْلِهِ {الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ }"
Narrated By Ibn Abbas : The Prophet said, "You will be gathered (on the Day of Resurrection) and some people will be driven (by the angels) to the left side (and taken to Hell) whereupon I will say as the pious slave (Jesus) said: "And I was a witness over them while I dwelt amongst them... the ALMIGHTY, the All Wise." (5.117-118)
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، کہا ہم سے مغیرہ بن نعمان نے، کہا مجھ سے سعید بن جبیر نے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے نبیﷺ سے۔ آپؐ نے فرمایا (قیامت کے دن) تمھارا حشر ہو گا اور کچھ لوگوں کو بائیں جانب دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔ میں اس وقت کہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندے (عیسیٰؑ) نے کہا و کنت علیھم شھیدا مّادمت فیھم اخیر آیت العزیز الحکیم تک ۔