91. باب مَا وُطِئَ مِنَ التَّصَاوِيرِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ـ وَمَا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ مِنْهُ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سَتَرْتُ بِقِرَامٍ لِي عَلَى سَهْوَةٍ لِي فِيهَا تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَتَكَهُ وَقَالَ " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ ". قَالَتْ فَجَعَلْنَاهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ.
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle returned from a journey when I had placed a curtain of mine having pictures over (the door of) a chamber of mine. When Allah's Apostle saw it, he tore it and said, "The people who will receive the severest punishment on the Day of Resurrection will be those who try to make the like of Allah's creations." So we turned it (i.e., the curtain) into one or two cushions.
ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا میں نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے سنا ان دنوں مدینہ میں ان سے بڑھ کر ( عالم فاضل نیک کوئی نہ تھا وہ کہتے تھے میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے حضرت عائشہؓ سے وہ کہتی تھیں رسول اللہﷺ سفر سے ( غزوہء تبوک سے ) تشریف لائے میں نے گھر کے سائبان پر ایک پردا ڈالا تھا جس پر مورتیں بنی ہوئی تھیںرسول اللہﷺ نے اس کو دیکھا تو اتار کر پھینک دیا اور فرمایا سخت سے سخت عذاب قیامت کے دن ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ کی مخلوق کی طرح خود بھی بناتے ہیں ( ان کی مورت اتارتے ہیں ) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں پھر میں نے کیا کیا ( پھاڑ کر ) اس کی تو شک بنا لی یا دو تو شکیں ( گدی) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ، وَعَلَّقْتُ دُرْنُوكًا فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَنْزِعَهُ، فَنَزَعْتُهُ.
Narrated By 'Aisha : The Prophet returned from a journey when I had hung a thick curtain having pictures (in front of a door). He ordered me to remove it and I removed it.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے عبد اللہ بن داؤد نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ سفر سے تشریف لائے میں نے ( گھر میں ) ایک پردہ لٹکایا تھا جس میں مورتیں تھیں ، آپ نے فرمایا اس کو اتار ڈال میں نے اتار ڈالا
وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.
'Aisha added: The Prophet and I used to take a bath from one container (of water).
اور میں اور نبیﷺ دونوں مل کر جنابت کا غسل ایک برتن سے کیا کرتے ۔
92. باب مَنْ كَرِهَ الْقُعُودَ عَلَى الصُّورَةِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ. فَقُلْتُ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مِمَّا أَذْنَبْتُ. قَالَ " مَا هَذِهِ النُّمْرُقَةُ ". قُلْتُ لِتَجْلِسَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا. قَالَ " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ. وَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَ "
Narrated By 'Aisha : I purchased a cushion with pictures on it. The Prophet (came and) stood at the door but did not enter. I said (to him), "I repent to Allah for what (the guilt) I have done." He said, "What is this cushion?" I said, "It is for you to sit on and recline on." He said, "The makers of these pictures will be punished on the Day of Resurrection and it will be said to them, 'Make alive what you have created.' Moreover, the angels do not enter a house where there are pictures.'"
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابی قاسم سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں نبیﷺ اس کو دیکھ کر دروازے ہی پر کھڑے ہو رہے اندر نے آئے ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنے تقصیر سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں آپ نے فرمایا یہ گدہ کیسا میں نے کہا میں نے آپ کے بیٹھنے اور تکیہ لگانے کے لیے اس کو مول لیا ہے آپ نے فرمایا جن لوگوں نے یہ مورتیں بنائیں ہیں ان کو قیامت کے دن عذاب ہو گا ان سے کہا جائے گا اب جو تم نے بنایا ان میں جان ببھی ڈالو اور فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جہاں مورتیں ہوں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ ". قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الأَوَّلِ. فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلاَّ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ. وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ـ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ـ حَدَّثَهُ بُكَيْرٌ، حَدَّثَهُ بُسْرٌ، حَدَّثَهُ زَيْدٌ، حَدَّثَهُ أَبُو طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By Abu Talha : Allah's Apostle said, "Angels (of mercy) do not enter a house where there are pictures.'" The sub-narrator Busr added: "Then Zaid fell ill and we paid him a visit. Behold! There was, hanging at his door, a curtain decorated with a picture. I said to 'Ubaidullah Al-Khaulani, the step son of Maimuna, the wife of the Prophet , "Didn't Zaid tell us about the picture the day before yesterday?" 'Ubaidullah said, "Didn't you hear him saying: 'except a design in a garment' ?"
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے بکیر بن عبداللہ بن اشج سے انہوں نے بسر بن سعید سے انہوں نے زید بن خالد سے انہوں نے ابو طلحہ سے جو رسول اللہﷺ کے صحابی تھے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس میں تصویریں ہوں بسر کہتے ہیں ( اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد ) زید بن خالد بیمار ہوئے ہم ان کو پوچھنے کو گئے دیکھا تو ان کے دروازے پر ایک پردہ پڑا ہے جس پر مورت بنی ہے ہم نے عبید اللہ بن اسود سے کہا جو ام لمو منین میمونہؓ کے پالکڑے تھے کیا زید بن خالد نے اول دن ہم سے مورت کی حدیث نہیں بیان کی تھی ( پھر خود مورت دار پردہ لٹکایا کیا بات ہے ) عبید اللہ نے کہا تم نے زید سے یہ نہیں سنا تھا انہوں نے کہا البتہ جو مورت کپرے میں نقش ہو ( وہ جائز ہے ) اور عبد اللہ بن وہب نے کہا ہم کو عمر بن حارث نے خبر دی ان سے بکیر نے بیان کیا ان سے بسر نے ان سے زید نے ان سے ابو طلحہ نے انہوں نے نبیﷺ سے ۔
93. باب كَرَاهِيَةِ الصَّلاَةِ فِي التَّصَاوِيرِ
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ قِرَاَمٌ لِعَائِشَةَ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمِيطِي عَنِّي، فَإِنَّهُ لاَ تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلاَتِي ".
Narrated By Anas : 'Aisha had a thick curtain (having pictures on it) and she screened the side of her house with it. The Prophet said to her, "Remove it from my sight, for its pictures are still coming to my mind in my prayers."
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الوارث نے کہا ہم سے عبد العزیز بن صہیب نے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ کے پاس ایک پردہ تھا جو انہوں نے گھر کے ایک جانب لٹکا دیا تھا نبیﷺ نے ( جو اسی طرف نماز پڑھ رہے تھے )مسلم فرمایا یہ پردہ نکال ڈال اس کی مورتیں میرے نماز میں سامنے آتی ہیں ( اور دل اچاٹ ہو جاتا ہے )
94. باب لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ ـ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ـ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ وَعَدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلُ فَرَاثَ عَلَيْهِ حَتَّى اشْتَدَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَقِيَهُ، فَشَكَا إِلَيْهِ مَا وَجَدَ، فَقَالَ لَهُ " إِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ "
Narrated By Salim's father : Once Gabriel promised to visit the Prophet but he delayed and the Prophet got worried about that. At last he came out and found Gabriel and complained to him of his grief (for his delay). Gabriel said to him, "We do not enter a place in which there is a picture or a dog."
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے کہا مجھ سے عمر بن محمد نے انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے والد ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا جبریل نے نبیﷺ سے ( ایک وقت پر ) آنے کا وعدہ کیا لیکن دیر لگائی اس وقت پر نہیں آئے آپؐ کو یہ ( وعدہ خلافی گراں گزری ، آپ باہر نکلے تو جبریل ملے نبیﷺ نے ان سے شکایت کی ( تم وقت پر کیوں نہیں آئے ) انہوں نے کہا ہم فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس میں مورت ہو یا کتا ۔
95. باب مَنْ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ قَالَ " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ ". فَقَالَتِ اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ـ وَقَالَ ـ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ "
Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) I bought a cushion having pictures on it. When Allah's Apostle saw it, he stopped at the gate and did not enter. I noticed the signs of hatred (for that) on his face! I said, "O Allah's Apostle! I turn to Allah and His Apostle in repentance! What sin have I committed?" He said, "What about this cushion?" I said, 'I bought it for you to sit on and recline on." Allah's Apostle said, "The makers of these pictures will be punished (severely) on the Day of Resurrection and it will be said to them, 'Make alive what you have created.'" He added, "Angels do not enter a house in which there are pictures."
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے نافع سے انہوں نے قاسم بن محمد سے انہوں نے حضرت عاشہؓ سے انہوں نے ایک گدہ خریدا جس پر مورتیں تھیں نبیﷺ اس کو گھر میں دیکھ کر دروازے پر کھڑے رہے ( اندر تشریف نہ لائے ) میں آپ کے چہرے پر ناراضی پہچان گئی میں نے کہا یا رسو اللہ میں اپنے گناہ سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں میرا کیا گناہ ہے ( جو آپ اندر تشریف نہیں لائے ) آپ نے فرمایا یہ گدہ تو نے کیسا بچھایا ہے میں نے کہا میں نے تو یہ اس لیے مول لیا ہے کہ آپ اس پر بیٹھیں اس پر تکیہ لگائیں آپ نے فرمایا ان مورتوں کو جن لوگوں نے بنایا ہے ان کو قیامت کے دن عذاب ہو گا ان سے کہا جائے گا تم نے جو مورتیں بنائی ہیں اب ان میں جان بھی ڈالو آپ نے یہ بھی فرمایا جس گھر میں مورتیں ہوں وہاں ( رحمت کے ) فرشتے نہیں جاتے ۔
96. باب مَنْ لَعَنَ الْمُصَوِّرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اشْتَرَى غُلاَمًا حَجَّامًا فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْبَغِيِّ، وَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُصَوِّرَ.
Narrated By Abu Juhaifa : That he had bought a slave whose profession was cupping. The Prophet forbade taking the price of blood and the price of a dog and the earnings of a prostitute, and cursed the one who took or gave (Riba') usury, and the lady who tattooed others or got herself tattooed, and the picture-maker.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا کہا مجھ سے غندر نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے عون بن ابی حجیفہ سے انہوں نے اپنے والد ( وہب بن عبد اللہ ) سے انہوں نے ایک پچھنی لگانے والا غلام خریدا ( اس کا نام معلوم نہیں ہو سکا ) پھر کہنے لگے نبیﷺ نے خون نکالنے کی اجرت اور کتے کی قیمت اور رنڈی کی خرچی سے منع فرمایا اور سود کھانے اور کھلانے والے اور گودنا گودنے والی عورت اور گدانے والی اور مورت بنا نے والے پر لعنت کی ۔
97. باب مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ قَتَادَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُمْ يَسْأَلُونَهُ وَلاَ يَذْكُرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سُئِلَ فَقَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ "
Narrated By Ibn 'Abbas : I heard Muhammad saying, "Whoever makes a picture in this world will be asked to put life into it on the Day of Resurrection, but he will not be able to do so."
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الا علیٰ نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروہ نے کہا میں نے نضر بن انس بن مالک سے سنا وہ قتادہ سے حدیث بیان کر رہے تھے میں ابن عباسؓ کے پاس بیٹھا تھا لوگ ان سے مسئلے پوچھ رہے تھے وہ جواب دے رہے تھے لیکن نبیﷺ کا ذکر انہوں نے نہیں کیا یہاں تک کہ ایک شخص نے پوچھا اس وقت انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے جو کوئی دنیا میں
( جاندار کی ) تصویر بنائے گا اس کو قیامت کے دن کہا جائے گا اس میں جان بھی ڈال اور وہ جان ڈال نہ سکے گا ( اس لیے برابر عذاب ہوتا رہے
گا )۔
98. باب الاِرْتِدَافِ عَلَى الدَّابَّةِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ، عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَرَاءَهُ.
Narrated By Usama bin Zaid : Allah's Apostle rode a donkey saddled with a saddle covered with a Fadakiyya velvet sheet, and he made me ride behind him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم کو ابو صفوان نے انہوں نے یونس بن یزید ایلی سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے اسامہ بن زیز سے کہ رسول اللہﷺ ایک گدھے پر سوار تھے جس پر فدک کی کملی پڑی ہوئی تھی آپ نے اسامہ کو اپنے پیچھے اسی گدھے پر بٹھا لیا ۔
99. باب الثَّلاَثَةِ عَلَى الدَّابَّةِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالآخَرَ خَلْفَهُ.
Narrated By Ibn 'Abbas : When the Prophet arrived at Mecca, the children of Bani 'Abdul Muttalib received him. He then mounted one of them in front of him and the other behind him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن ذریع نے کہا ہم سے خالد حذاء نے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا جب فتح مکہ میں نبیﷺ مکہ تشریف لائے تو عبد المطلب کی اولاد نے ( جو مکہ میں تھی ) آ پ کا استقبال کیا ( یہ سب بچی بچے تھے ) آپ نے ایک اپنے سامنے اور ایک کو پیچھے بٹھا لیا ۔
100. باب حَمْلِ صَاحِبِ الدَّابَّةِ غَيْرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ،
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِ الدَّابَّةِ، إِلاَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُ.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ذُكِرَ الأَشَرُّ الثَّلاَثَةُ عِنْدَ عِكْرِمَةَ فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ حَمَلَ قُثَمَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَالْفَضْلَ خَلْفَهُ، أَوْ قُثَمَ خَلْفَهُ، وَالْفَضْلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَيُّهُمْ شَرٌّ أَوْ أَيُّهُمْ خَيْرٌ
Narrated By Aiyub : The worst of three (persons riding one, animal) was mentioned in 'Ikrima's presence 'Ikrima said, "Ibn 'Abbas said, '(In the year of the conquest of Mecca) the Prophet came and mounted Qutham in front of him and Al-Fadl behind him, or Qutham behind him and Al-Fadl in front of him.' Now which of them was the worst off and which was the best?"
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الوہا ب نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے کہا عکرمہ کے سامنے یہ ذکر آ یا کہ تین آدمی جو ایک جانور پر چڑھیں ان میں کون بہت برا ہے تو انہوں نے کہا ابن عباس بیان کرتے تھے رسول اللہﷺ ( مکہ میں٘ ) تشریف لائے آپ نے قثم بن عباسؓ کو سامنے اور فضل کو پیچھے بٹھا لیا ۔ یا یوں کہا کہ قثم کو پیچھے اور فضل کو آگے بٹھا لیا اب ان میں کون بُرا تھا کون اچھا تھا ( یعنی تینوں اچھے تھے ) تو یہ کہنا کہ آگے والا برا ہے یا بیچ والا یا پیچھے والا یہ سب غلط ہے ۔