11. بابُ الْعَمَلِ بِإِلْحَاقِ الْقَائِفِ الْوَلَدَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ عَلَىَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ فَقَالَ « أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ ».
It was narrated from 'Aishah that she said: "The Messenger of Allah (s.a.w) entered upon me one day happily, with his face shining. He said: 'Did you not see that Mujazziz looked at Zaid bin Harithah and Usamah bin Zaid just now, and he said: These feet belong to one another."'
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺمیرے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے دمک رہا تھا، آپ ﷺنے فرمایا: کیا تم نہیں جانتی کہ ایک قیافہ شناس نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے قدموں کو دیکھ کر بتلایا کہ ان میں سے ایک قدم دوسرے قدم کا جزو ہے۔
وَحَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا فَقَالَ « يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِىَّ دَخَلَ عَلَىَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ».
It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) entered upon me happy one day and said: 'O 'Aishah, did you not see that Mujazziz Al-Mudlaji entered upon me and he saw Usamah and Zaid with a piece of velvet cloth over them that was covering their heads, but their feet were showing, and he said: These feet belong to one another."'
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺمیرے پاس خوشی خوشی تشریف لائے ، آپ ﷺنے فرمایا: کیا تم نہیں جانتی کہ ایک قیافہ شناس مدلجی میرے پاس آیا تھا ۔ اس نے اسامہ اور زید کو اس حال میں دیکھا کہ اس کے سروں پر ایک چادر تھی ، اور ان کے پاؤں کھلے ہوئے تھے ، اس نے انہیں دیکھ کر کہا: ان میں سے بعض قدم بعض کا جزو ہیں۔
وَحَدَّثَنَاهُ مَنْصُورُ بْنُ أَبِى مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ قَائِفٌ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَاهِدٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ. فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَعْجَبَهُ وَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ.
It was narrated that 'Aishah said: "A Qa'if (one who detects family resemblance) entered when the Messenger of Allah (s.a.w) was present, and Usamah bin Zaid and Zaid bin Harithah were lying down. He said: 'These feet belong to one another.' The Prophet (s.a.w) was pleased by this and liked it, and he told 'Aishah about it."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکی موجودگی میں ایک قیافہ شناس آیا اس حال میں کہ حضرت اسامہ بن زید اور حضرت زید بن حارثہ لیٹے ہوئے تھے ، تو اس قیافہ شناس نے کہا : ان میں سے بعض قدم بعض سے ہیں ۔ اس بات سے نبی ﷺکو بڑی خوشی ہوئی اور آپﷺنے اس بات کی خبر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دی تھی۔
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ. وَزَادَ فِى حَدِيثِ يُونُسَ وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا.
A similar Hadith (as no. 3619) was narrated from Az-Zuhri with this chain, and in the Hadith of Yunus it adds: "And Mujazziz was a Qa'if."
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
12. بابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عَقِبَ الزِّفَافِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا وَقَالَ « إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِى ».
It was narrated from Umm Salamah that when the Messenger of Allah (s.a.w) married Umm Salamah, he stayed with her for three days, and he said: "There is no lack ofesteem on the part of your husband towards you. If you wish, I will stay with you for seven days, but if I stay with you for seven days, then I will have to stay with each of my wives for seven days.''
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنکاح کرنے کے بعد ان کے پاس تین دن رہے ، پھر آپﷺنےفرمایا: تم اپنے شوہر کی نظروں سے اتری نہیں ہو، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس ایک ہفتہ رہوں ، اور اگر میں نے تمہارے پاس ایک ہفتہ قیام کیا تو میں تمام ازواج کے پاس ایک ایک ہفتہ رہوں گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ { عَنْ أَبِيهِ } أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ تَزَوَّجَ أَمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا « لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ ثُمَّ دُرْتُ ». قَالَتْ ثَلِّثْ.
It was narrated from Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman that when the Messenger of Allah (s.a.w) married Umm Salamah, the following morning he said to her: "There is no lack of esteem on the part of your husband towards you. If you wish, I will stay with you for seven days, or if you wish I will stay with you for three, then I will visit (each of you) in tum." She said: "Make it three."
ابو بکر بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو صبح کے وقت ان سے کہا: آپ اپنے شوہر کی نظروں سے اتری نہیں ہو، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن رہوں ، اور اگر تم چاہو تو میں تین دن رہوں ، پھر میں دور کروں گا یعنی باری باری سب کے پاس جاؤں گا ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ تین رو ز رہیے۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِىُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَأَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَخَذَتْ بِثَوْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنْ شِئْتِ زِدْتُكِ وَحَاسَبْتُكِ بِهِ لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلاَثٌ ».
It was narrated from Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman that when the Messenger of Allah (s.a.w) married Umm Salamah, he went to stay with her, then he wanted to leave and she took hold of his garment. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "If you wish, I will stay longer and count it. For a virgin seven days, and for a previously-married woman, three."
حضرت ابو بکر بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، اور ان کے پاس تشریف لے گئے ، پھر (کچھ عرصہ بعد ) آپ ﷺنے جانے کا ارادہ کیا ،تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کا کپڑا پکڑ لیا۔ آپﷺنے فرمایا: اگر تم چاہو تومیں تمہارے پاس اس سے زیادہ دن قیام کروں اور مدت کا حساب رکھوں ، کنواری کے پاس سات دن ، اور شادی شدہ کے پاس تین دن۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 3623) was narrated from 'Abdur-Rahman bin Humaid with this chain.
ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حَدَّثَنِى أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِى ابْنَ غِيَاثٍ - عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تَزَوَّجَهَا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ هَذَا فِيهِ قَالَ « إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ وَأُسَبِّعَ لِنِسَائِى وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِى ».
It was narrated from Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham, from Umm Salamah. He(s.a.w) said that the Messenger of Allah (s.a.w) married her, and he mentioned some things, including this: He said: "If you wish, I will stay with you (to Umm Salamah) for seven days, and then spend seven days with each of my wives, for if I spend seven days with you I will spend seven days with each of my wives."
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ان سے شادی کی ، (اس حوالے سے )کئی چیزوں کا تذکرہ کیا ، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر تم چاہو کہ میں تمہارے پاس ایک ہفتہ رہوں ، تو دوسری ازواج کے پاس بھی ایک ہفتہ رہوں گا ، کیونکہ اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں گا تو سات سات دن دوسری ازواج کے پاس بھی رہوں گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا. قَالَ خَالِدٌ وَلَوْ قُلْتُ إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتُ وَلَكِنَّهُ قَالَ السُّنَّةُ كَذَلِكَ.
It was narrated that Anas bin Malik said: "If (a man) marries a virgin in addition to a previously-married woman, he should stay with her for seven days, and if he marries a previously-married woman in addition to a virgin, he should stay with her for three." Khalid (a narrator) said: "If I were to say that he attributed it to the Prophet (s.a.w) I would be speaking the truth, but he said: 'That is the Sunnah.'"
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر کسی نے بیوہ کے اوپر کنواری سے شادی کی تو اس کے پاس سات دن رہے ، اور اگر کنواری کے اوپر بیوہ سے شادی کی تو اس کے پاس تین دن رہے۔راوی خالد نے کہا: اگر میں کہوں کہ یہ حدیث مرفوع ہے تو کہہ سکتا ہوں ، لیکن انہوں نے کہا کہ سنت اسی طرح ہے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ الْبِكْرِ سَبْعًا. قَالَ خَالِدٌ وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated that Anas said: "It is Sunnah to stay with a virgin for seven days." Khalid (a narrator) said: "If you wish, I will say that he attributed it to the Prophet (s.a.w).''
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سنت یہ ہے کہ کنواری کے پاس سات راتیں گزاری جائیں، خالد راوی نے کہا: اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ یہ حدیث مرفوع ہے ۔
13. بابُ الْقَسْمِ بَيْنَ الزَّوْجَاتِ وَبَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ أَنْ تَكُونَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ لَيْلَةٌ مَعَ يَوْمِهَا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- تِسْعُ نِسْوَةٍ فَكَانَ إِذَا قَسَمَ بَيْنَهُنَّ لاَ يَنْتَهِى إِلَى الْمَرْأَةِ الأُولَى إِلاَّ فِى تِسْعٍ فَكُنَّ يَجْتَمِعْنَ كُلَّ لَيْلَةٍ فِى بَيْتِ الَّتِى يَأْتِيهَا فَكَانَ فِى بَيْتِ عَائِشَةَ فَجَاءَتْ زَيْنَبُ فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ هَذِهِ زَيْنَبُ. فَكَفَّ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَدَهُ. فَتَقَاوَلَتَا حَتَّى اسْتَخَبَتَا وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ عَلَى ذَلِكَ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُمَا فَقَالَ اخْرُجْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَى الصَّلاَةِ وَاحْثُ فِى أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ.
فَخَرَجَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ عَائِشَةُ الآنَ يَقْضِى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَتَهُ فَيَجِىءُ أَبُو بَكْرٍ فَيَفْعَلُ بِى وَيَفْعَلُ. فَلَمَّا قَضَى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَتَهُ أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهَا قَوْلاً شَدِيدًا وَقَالَ أَتَصْنَعِينَ هَذَا.
It was narrated that Anas said: "The Prophet (s.a.w) had nine wives, and when he divided his time among them, he did not come back to the first one until the ninth day. Every night they used to gather in the house of the one whose night it was. He was in 'Aishah's house, and Zainab came and he reached out his hand towards her. 'Aishah said: 'This is Zainab, and the Prophet (s.a.w) withdrew his hand.' They argued and raised their voices, and the Iqamah was called for prayer. Abu Bakr came past at that point and heard their voices, so he said: 'Come out for the prayer, O Messenger of Allah (s.a.w), and throw dust in their mouths.' The Prophet (s.a.w) came out, and 'Aishah said: 'Now the Prophet (s.a.w) will finish his prayer and come, and Abu Bakr will come and do such-and-such to me.' When the Prophet (s.a.w) had finished his prayer, Abu Bakr came to her and spoke sternly to her, and said: 'Do you behave like this?"'
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکی نو ازواج مطہرات تھیں ،آپﷺجب ان میں دنوں کو تقسیم کرتے تو پہلی بیوی کے پاس نویں دن کو پہنچتے ،اس لیے تمام ازواج مطہرات اس گھر میں اکھٹی ہوتیں جہاں آپ ﷺنے قیام کرنا ہوتا تھا۔ایک مرتبہ آپ ﷺحضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے گھر تشریف فرما تھے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا تشریف لائیں ، آپ ﷺنے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : یہ زینب ہیں۔ نبی ﷺنے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ، دونوں ازواج میں بحث چھڑگئی اور آواز بلند ہونے لگی۔اسی اثناء میں نماز کی اقامت ہوگئی ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ادھر سے گزرے ، انہوں نے ان دونوں کی آوازیں سنیں۔ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نماز کے لیے تشریف لائے اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دیجئے ، نبی ﷺنماز کے لیے تشریف لے گئے ، حضرت عائشہ کہنے لگیں: اب نبی ﷺنماز پڑھ کر آئیں گے پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی آئیں گے وہ مجھے ہی برا بھلا کہیں گے ۔جب نبی ﷺنماز سے فارغ ہوئے ، ابو بکر ان کے پاس آئے او ران کو خوب ڈانٹا ، اور کہا: تم ایسا کرتی ہو۔
14. بابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضَرَّتِهَا
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أَكُونَ فِى مِسْلاَخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ مِنِ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَّةٌ قَالَتْ فَلَمَّا كَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِعَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِى مِنْكَ لِعَائِشَةَ.
فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ.
It was narrated that 'Aishah said: "I never saw a woman whose position I wished I could be in more than Sawdah bint Zam'ah, a woman of strong character." When she grew old, she gave her day with the Messenger of Allah (s.a.w) to 'Aishah. She said: "O Messenger of Allah, I have given my day with you to 'Aishah." So the Messenger of Allah (s.a.w) gave 'Aishah two days, her day, and Sawdah's day.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ مجھے ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عزیز تھیں ، میری یہ خواہش تھی کہ کاش میں ان کے جسم میں ہوتی ، حضرت سودہ بنت زمعہ کے مزاج میں تیزی تھی، جب وہ بوڑھی ہوگئیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺکے دن کی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں ، پھر رسول اللہ ﷺحضرت عائشہ کے پاس دو دن قیام کرتے ، ایک دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ، اور دوسرا دن حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ح وَحَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا كَبِرَتْ. بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ فِى حَدِيثِ شَرِيكٍ قَالَتْ وَكَانَتْ أَوَّلَ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا بَعْدِى.
It was narrated from Hisham with this chain, that when Sawdah grew old... a Hadith like that of Jarir (no. 3629). In the Hadith of Sharik it adds: "She was the first woman whom he married after me."
ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے منقول ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میرے بعد رسول اللہ ﷺنے جس عورت سے سب سے پہلے شادی کی وہ حضرت سودہ تھیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللاَّتِى وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَقُولُ وَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (تُرْجِى مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِى إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ) قَالَتْ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلاَّ يُسَارِعُ لَكَ فِى هَوَاكَ.
It was narrated that 'Aishah said: "I used to feel jealous of the women who offered themselves (in marriage) to the Messenger of Allah (s.a.w), and I would say: Would a woman offer herself?' When Allah, the Most High, revealed the words: "You can postpone (the turn of) whom you will of them (your wives), and you may receive whom you will. And whomsoever you desire of those whom you have set aside her turn temporarily), ..., said: 'By Allah, I see that your Lord is quick to respond to your wishes."'
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ مجھے ان عورتوں پر غصہ آتا تھا جو اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺکے لیے ہبہ کردیتی تھیں۔میں کہتی تھی کیا عورت اپنے آپ کوہبہ کرسکتی ہے ؟ مگر جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :اے نبی ! آپ اپنی ازواج میں سے جسے چاہیں پیچھے ہٹائیں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں۔اور جسے آپ نے علیحدہ کردیا تھا اس کو اگر آپ بلانا چاہیں تو آپ پر کوئی حرج نہیں ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا رب آپ کی خواہش جلدی پوری کردیتا ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ أَمَا تَسْتَحْيِى امْرَأَةٌ تَهَبُ نَفْسَهَا لِرَجُلٍ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (تُرْجِى مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِى إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ) فَقُلْتُ إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ لَكَ فِى هَوَاكَ.
It was narrated from 'Aishah that she used to say: "Wouldn't a woman feel too shy to offer herself to a man?" Until Allah [the Mighty and Sublime] revealed: "You can postpone (the tum of) whom you will of them (your wives), and you may receive whom you will" Then she said: "Your Lord is quick to respond to your wishes."'
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے وہ فرماتی تھیں : کیا عورت کو اس بات سے شرم نہیں آتی تھی کہ وہ اپنے آپ کو کسی مرد کے لیے ہبہ کرتی ہے ،لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آپ اپنی ازواج میں سے جسے چاہیں پیچھے ہٹائیں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا رب آپ کی خواہش جلدی پوری کردیتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ زَوْجُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلاَ تُزَعْزِعُوا وَلاَ تُزَلْزِلُوا وَارْفُقُوا فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تِسْعٌ فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلاَ يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ.
قَالَ عَطَاءٌ الَّتِى لاَ يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ.
'Ata' said: "We attended the funeral of Maimunah, the wife of the Prophet (s.a.w). in Sarif with Ibn 'Abbas. Ibn 'Abbas said: 'This is the wife of the Prophet (s.a.w). so when you lift her, do not shake her nor disturb her; be gentle with her. The Messenger of Allah (s.a.w) had nine wives, and he used to divide his time between eight of them, and he did not allot a share of his time to one of them. The one to whom he did not allot a share of his time was Safiyyah bint Huyayy bin Akhtab."'
عطاء کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی ﷺکی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں مقام سرف میں حاضر ہوئے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نبی ﷺکی زوجہ محترمہ ہیں تم جب ان کی نعش اٹھاؤگے تو اس کو نہ زیادہ حرکت دینا اور نہ ہی جھٹکے دینابلکہ سکون و آرام کے ساتھ جنازہ لیکر چلنا، رسول اللہ ﷺکی نو بیویاں تھیں، جن میں سے آٹھ کی باری مقرر تھیں اور ایک کی مقرر نہیں تھیں۔راوی عطاء کہتے ہیں جس کی باری مقرر نہیں تھی وہ حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ عَطَاءٌ كَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ.
It was narrated from Ibn Juraij with this chain (a Hadith similar to no. 3633), and he added: 'Ata' said: "... She was the last of them to die, and she died in Al-Madinah."
ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے اور اس میں عطاء کا یہ قول زائد ہے کہ حضرت میمونہ نے تمام امہات المؤمنین کے بعد مدینہ میں وفات پائی تھی۔
15. باب اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ ذَاتِ الدِّينِ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِى سَعِيدُ بْنُ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Women are married for four things: Their wealth, their lineage, their beauty and their religion. Choose the one with religion, may your hands be rubbed with dust."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: چار وجوہات کی بناء پر عورت سے شادی کی جاتی ہے ۔ اس کے مال کی وجہ سے ، اس کے حسب نسب کی وجہ سے ،اس کے حسن و جمال کی وجہ سے ، اور اس کی دینداری کی وجہ سے ،تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں تم دیندار عورت کے حصول کی کوشش کرنا۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِى سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ أَخْبَرَنِى جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَقِيتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ ». قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ « بِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ ». قُلْتُ ثَيِّبٌ. قَالَ « فَهَلاَّ بِكْرًا تُلاَعِبُهَا ». قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِى أَخَوَاتٍ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِى وَبَيْنَهُنَّ. قَالَ « فَذَاكَ إِذًا. إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا وَمَالِهَا وَجَمَالِهَا فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ».
Jabir bin 'Abdullah said: "I married a woman at the time of the Messenger of Allah (s.a.w), and I met the Prophet (s.a.w) and he said: 'O Jabir, have you gotten married?' I said: 'Yes.' He said: 'A virgin or a previously-married woman?' I said: 'A previously-married woman.' He said: 'Why not a virgin so you could play with her?' I said: 'O Messenger of Allah, I have sisters, and I was afraid that she might cause trouble between myself and them.' He said: 'That's fine then. A woman is married for her religion, her wealth or her beauty. Choose the one with religion, may your hands be rubbed with dust."'
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے زمانے میں ایک عورت سے شادی کی ، پھر جب میری ملاقات نبی ﷺسے ہوئی تو آپﷺنے فرمایا: اے جابر! آپ نے شادی کی ، میں نے کہا: ہاں،آپﷺنے پوچھا : کنواری سے شادی کی یا بیوہ سے ،میں نے کہا: بیوہ سے ، آپﷺنے فرمایا: کنواری سے شادی کیوں نہیں کی ، وہ تم سے کھیلتی ، تم اس سے کھیلتے ؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری کچھ بہنیں ہیں مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ میری بہنوں کی پرورش اور میرے درمیان روکاوٹ نہ بن جائے ،آپﷺنے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو ٹھیک ہے ، عورت سے اس کی دینداری ، اس کے مال او ر جمال کی بناء پر شادی کی جاتی ہے۔تم دیندار کو ترجیح دینا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔
16. بابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَقَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَلْ تَزَوَّجْتَ ». قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ « أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ». قُلْتُ ثَيِّبًا. قَالَ « فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الْعَذَارَى وَلِعَابِهَا ». قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَقَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ وَإِنَّمَا قَالَ « فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ »
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "I married a woman and the Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'Have you gotten married?' I said: 'Yes.' He said: 'A virgin or a previously-married woman?' I said: 'A previously-married woman.' He said: 'What about virgins and playing with them?"' Shu'bah said: "I mentioned this to 'Amr bin Dinar and he said: 'I heard it from Jabir, but he said: "Why not a young virgin, so you could play with her and she could play with you?"
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی ، مجھے رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کیا تم نے شادی کرلی ہے ؟ میں نے کہا: جی!آپﷺنے فرمایا: کنواری سے شادی کی یا بیوہ سے ؟ میں نے کہا بیوہ سے ، آپ ﷺنے فرمایا: تم کنواری لڑکیوں اور ان کی دل ربائیوں سے کیونکر غافل رہے ؟ راوی شعبہ فرماتے ہیں: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے بھی حضرت جابر سے یہ روایت سنی ہے آپﷺنے فرمایا تھا: تم نے کسی ایسی لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی جو تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ - أَوْ قَالَ سَبْعَ - فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا فَقَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ ». قَالَ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ « فَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ ». قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ». أَوْ قَالَ « تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ». قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ - أَوْ سَبْعَ - وَإِنِّى كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِىءَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ. قَالَ « فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ ». أَوْ قَالَ لِى خَيْرًا وَفِى رِوَايَةِ أَبِى الرَّبِيعِ « تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ».
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah, that 'Abdullah (his father) died and left behind nine - or seven - daughters, and I married a previously-married woman. The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: "O Jabir, have you gotten married?" I said: "Yes." He said: "A virgin or a previously-married woman?" I said: "A previously-married woman, O Messenger of Allah." He said: "Why not a young virgin whom you could play with, and she could play with you?" - or he said: "Whom you could make laugh, and she could make you laugh?''- I said to him: '"Abdullah died and left behind nine - or seven - daughters, and I did not like to bring to them one who was like them. I wanted to bring a woman who could look after them and take care of them." He said: "Then may Allah bless you," or he said good words to me.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ (جابر کے والد) فوت ہوگئے اور (اپنے پیچھے) نو یا سات بیٹیاں چھوڑگئے ۔(اس کے بعد ) میں نے ایک بیوہ سے شادی کرلی، رسول اللہﷺنے فرمایا: اے جابر! کیا تم نے شادی کرلی ؟ میں نے کہا: جی ہاں !آپﷺنے فرمایا: کنواری سے شادی کی یا بیوہ سے ، میں نے کہا: بیوہ سے ،آپﷺنے فرمایا: تم نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی ، تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی یا تم اس سے خوش طبعی کرتے یا وہ تم سے خوش طبعی کرتی؟ میں نے کہا : عبد اللہ فوت ہوگیا اور اس نے سات یا نوبیٹیاں چھوڑی ، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں ان لڑکیوں کے سامنے ان کی ہم عمر لڑکی بیاہ کرکے لے آؤں ، بلکہ میں نے یہ پسند کیا کہ میں ایسی عورت سے شادی کروں جو ان کی اصلاح کرسکے۔آپﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے یا میرے لیے خیر کے اور کوئی کلمات کہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ ». وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ قَالَ « أَصَبْتَ ». وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'Did you get married, O Jabir?"' ... and he quoted the Hadith (similar to no. 3638) as far as the words: "A woman who would look after them and comb their hair." He said: "You have done well," and he did not mention the words that come after that.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا: اے جابر! کیا تم نے شادی کرلی ہے ؟ اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے اور اس کے آخر میں ہے کہ میں نے ایسی عورت سےشادی کی ہے جو میری بہنوں کی کنگھی پٹی اور ا ن کی خدمت کرے ، آپﷺنے فرمایا: تم نے اچھا کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى غَزَاةٍ فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِى قَطُوفٍ فَلَحِقَنِى رَاكِبٌ خَلْفِى فَنَخَسَ بَعِيرِى بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ فَانْطَلَقَ بَعِيرِى كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الإِبِلِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « مَا يُعْجِلُكَ يَا جَابِرُ ». قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ.
فَقَالَ « أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا ». قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا. قَالَ « هَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ». قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ « أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلاً - أَىْ عِشَاءً - كَىْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ». قَالَ وَقَالَ « إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ».
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "We were with the Messenger of Allah (s.a.w) on a campaign, and when we were heading back I urged my camel on because it was slow. A rider behind me caught up with me and prodded my camel with an 'Anazah that he had with him, and my camel moved forward like the best camel you have ever seen. I turned around and there was the Messenger of Allah (s.a.w). He said: 'Why are you in such a hurry, O Jabir?' I said: 'O Messenger of Allah, I have recently got married.' He said: 'Did you marry a virgin or a previously-married woman?' I said: 'A previously-married woman.' He said: 'Why not a young virgin who you could play with and she could play with you?'" "When we came to Al-Madinah, we wanted to enter but he said: 'Slow down so we can enter at night, so that the women whose hair is disheveled may comb their hair, and the women whose husbands have been away may shave their pubes.' And he said: 'When you arrive, be smart, be smart."'
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ کسی غزوہ میں تھے ، جب ہم واپس آرہے تھے ، میرا اونٹ سست تھا ، میں اس کو تیز چلانا چاہتا تھا ، اچانک ایک سوار نے پیچھے سے میرے اونٹ کو ایک چھڑی ماری ، جس سے وہ اونٹ اس قدر تیز چلنے لگاکہ آپ نے کبھی بھی اس طرح اونٹ کو چلتے نہیں دیکھا ہوگا۔ میں نے جب پلٹ کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺتھے ، آپ ﷺنے فرمایا: تمہیں جلدی کیوں ہے ؟ میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ! میں نے نئی نئی شادی کرلی ، آپﷺنے فرمایا: کنواری سے شادی کی یا بیوہ سے ؟ میں نے کہا: بیوہ سے ، آپﷺنے فرمایا: کسی کنواری سے شادی کرتے ، تم اس سے کھیلتے یا وہ تم سے کھیلتی ،حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ہم مدینہ پہنچے او رگھر میں داخل ہونے لگے تو آپﷺنے فرمایا: ٹھہرو! رات کو آ نے دو تاکہ جس عورت کے بال بکھرے ہوئے ہوں وہ کنگھی کرلے ، اور جس عورت کا شوہر باہر گیا ہو وہ اپنی شرمگاہ کے بال صاف کرلے ، آپ ﷺنے فرمایا: پھر جب تم جاؤگے تو سمجھ داری سے کام لینا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِىَّ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِى جَمَلِى فَأَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ لِى « يَا جَابِرُ ». قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ « مَا شَأْنُكَ ». قُلْتُ أَبْطَأَ بِى جَمَلِى وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ. فَنَزَلَ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ قَالَ « ارْكَبْ ». فَرَكِبْتُ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِى أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَتَزَوَّجْتَ ». فَقُلْتُ نَعَمْ. فَقَالَ « أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ». فَقُلْتُ بَلْ ثَيِّبٌ. قَالَ « فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ». قُلْتُ إِنَّ لِى أَخَوَاتٍ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ. قَالَ « أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ». ثُمَّ قَالَ « أَتَبِيعُ جَمَلَكَ ». قُلْتُ نَعَمْ. فَاشْتَرَاهُ مِنِّى بِأُوقِيَّةٍ ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ « الآنَ حِينَ قَدِمْتَ ». قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ « فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ». قَالَ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَمَرَ بِلاَلاً أَنْ يَزِنَ لِى أُوقِيَّةً فَوَزَنَ لِى بِلاَلٌ فَأَرْجَحَ فِى الْمِيزَانِ - قَالَ - فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا وَلَّيْتُ قَالَ « ادْعُ لِى جَابِرًا ». فَدُعِيتُ فَقُلْتُ الآنَ يَرُدُّ عَلَىَّ الْجَمَلَ. وَلَمْ يَكُنْ شَىْءٌ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْهُ فَقَالَ « خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ ».
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "I went out on a campaign with the Messenger of Allah (s.a.w) and my camel held me back. The Messenger of Allah (s.a.w) came to me and said: 'O Jabir.' I said: 'Yes.' He said: 'What is the matter with you?' I said: 'My camel is holding me back; it is tired and I fell behind.' He dismounted and prodded it with a crooked stick, then he said: 'Ride.' So I rode, and I remember that I had to restrain it from passing the Messenger of Allah (s.a.w). He said: 'Have you gotten married?' I said: 'Yes.' He said: 'A virgin or a previously-married woman?' I said: 'A previously-married woman.' He said: 'Why not a girl whom you could play with and she could play with you?' I said: 'I have sisters and I wanted to marry a woman who could keep them together and comb their hair and take care of them.' He said: 'You are going home, and when you arrive, be smart, be smart.' Then he said: 'Will you sell your camel?' I said: 'Yes.' So he bought it from me for an Uqiyah, then the Messenger of Allah (s.a.w) arrived and I arrived in the morning. I came to the Masjid and found him at the door of the Masjid. He said: 'Have you just arrived now?' I said: 'Yes.' He said: 'Leave your camel and go inside and pray two Rak'ah.' So I went inside and prayed, then I came back. He told Bilal to weigh out an Uqiyah for me and Bilal did that, and added a little more. Then I left, then when I was on my way he said: 'Call Jabir for me.' I was called and I said: 'Now he will return the camel to me, and there was nothing I disliked more than it.' He said: 'Take your camel, and keep its price for yourself.'"
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک غزوہ کے لے نکلا ، تومیرا اونٹ سست پڑگیا ، رسول اللہ ﷺمیرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے جابر! کیا بات ہے ؟ میں نے کہا: میرا اونٹ سست پڑگیا اور مجھے تھکادیا اور میں لوگوں میں پیچھے رہ گیا ہوں ، آپﷺسواری سے نیچے اترے اور ڈھال سے اسے مارا، پھر فرمایا: سوار ہوجاؤ، اللہ کی قسم ! میں نے دیکھا کہ اب میں اس اونٹ کورسول اللہﷺکے اونٹ سے آگے بڑھنے سے روکتا ہوں ۔آپﷺنے فرمایا: کیا تم نے شادی کرلی؟ میں نے جی ہاں !آپﷺنے فرمایا: کنواری سے یا بیوہ سے ، میں نے کہا: بیوہ سے ، آپ نے فرمایا: کنواری سے شادی کیوں نہیں کی ، میں نے کہا: میری بہنیں ہیں میں نے سوچا کہ میں ایسی عورت سے شادی کروں جو ان کی خبرگیری کرے اور ان کی کنگھی وغیرہ اور ان کی خدمت کرسکے ، آپﷺنے فرمایا: تم گھر جارہے ہو تو جب پہنچو تو سمجھداری سے کام لینا ۔ پھر آپﷺنے فرمایا: کیا تم اپنا اونٹ بیچوگے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! آپ ﷺنے مجھ سے وہ اونٹ ایک اوقیہ کے عوض خرید لیا تھا، پھر رسول اللہ ﷺپہنچ گئے اور میں بھی صبح کے وقت پہنچ گیا، میں مسجد میں آیا تو آپﷺمسجد کے دروازے پر کھڑے تھے ، آپﷺنے فرمایا: تم اب آئے ہو، میں نے کہا: جی ہاں ، آپ ﷺنے فرمایا: اپنے اونٹ کو چھوڑدو اور مسجد میں آکر دو رکعات نماز پڑھ لو ، حضرت جابر فرماتے ہیں میں نے مسجد میں دورکعات نماز پڑھ لی ، جب میں واپس آیا تو آپﷺنے بلال کو فرمایا : اس کو ایک اوقیہ چاندی وزن کرکے دو۔ مجھے بلال رضی اللہ عنہ نے ایک اوقیہ دی جو تول میں جھکتی ہوئی تھی ، حضرت جابر فرماتے ہیں :میں چاندی لیکر چلا ، ابھی میں نے پیٹھ پھیری ہی تھی کہ آپﷺنے فرمایا: جابر کو بلاؤ: میں نے سوچا اب آپﷺاونٹ مجھ کو واپس کردیں گے اور مجھے اس اونٹ کا واپس کیا جانا سخت ناپسند تھا ، اسی اثناء میں آپﷺنے فرمایا: اپنا اونٹ بھی لے لو اور اس کی قیمت بھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا فِى مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ إِنَّمَا هُوَ فِى أُخْرَيَاتِ النَّاسِ - قَالَ - فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَوْ قَالَ نَخَسَهُ - أُرَاهُ قَالَ - بِشَىْءٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعُنِى حَتَّى إِنِّى لأَكُفُّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ». قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا نَبِىَّ اللَّهِ. قَالَ « أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ». قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا نَبِىَّ اللَّهِ. قَالَ وَقَالَ لِى « أَتَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ ». قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ « ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا ». قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا. قَالَ « فَهَلاَّ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُلاَعِبُكَ وَتُلاَعِبُهَا ».
قَالَ أَبُو نَضْرَةَ فَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ. افْعَلْ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ.
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "We were on a journey with the Messenger of Allah (s.a.w) and I was on a camel that lagged behind the people. The Messenger of Allah (s.a.w) struck it," or prodded it - I think he said, "with something that he had with him. After that it started going ahead of the people and I was struggling to restrain it. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Will you sell it to me for such-and-such, may Allah forgive you?' I said: 'It is yours, O Prophet of Allah.' He said: 'Will you sell it to me for such-and-such, may Allah forgive you?' I said: 'It is yours, O Prophet of Allah.' He said to me: 'Did you get married after your father died?' I said: 'Yes.' He said: 'A previously-married woman or a virgin?' I said: 'A previously-married woman.' He said: 'Why didn't you marry a virgin who could make you laugh and you could make her laugh, and she could play with you and you could play with her?"' Abu Nadrah said: "That was a phrase that the Muslims used to say: 'Do such and such, may Allah forgive you."'
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک سفر میں تھے اور میں پانی پلانے والے ایک اونٹ پر سوار تھا ، جو تما م لوگوں سے پیچھے رہ گیا تھا ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے اسے کسی چیز سے مارا جو آپ کے پاس تھا ، پھر وہ اونٹ سب سواریوں سے آگے نکل گیا ، میں اسے روکنے کی کوشش کررہا تھا لیکن وہ قابو میں نہیں آرہا تھا ،حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کیا تم یہ اونٹ مجھے اتنی قیمت پر بیچو گے ؟ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے ۔ میں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ! وہ اونٹ آپ کا ہے ۔ آپ ﷺنے فرمایا: کیا تم یہ اونٹ مجھے اتنی قیمت پر بیچو گے ؟ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔ میں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ! وہ اونٹ آپ کا ہے ۔ پھر آپﷺنے فرمایا: کیا تم نے اپنے والد کی وفات کے بعد شادی کی ؟ میں نے کہا: جی ہاں ، آپﷺنے فرمایا: بیوہ سے یا کنواری سے ، میں نے کہا: بیوہ سے ، آپﷺنے فرمایا: کنواری سے شادی کرتے ،تم اسے دل بہلاتے وہ تم سے دل بہلاتی،تم اس سے کھیلتے ، وہ تم سے کھیلتی ۔ راوی ابو نضرہ فرماتے ہیں : یہ مسلمانوں کا تکیہ کلام تھا وہ کہتے تھے کہ تم ایسا کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے۔
17. بابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِى عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَكَسْرُهَا طَلاَقُهَا ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Woman was created from a rib, it will never become straight for you in any way. If you wish to benefit from her then you may benefit from her, along with her crookedness, but if you try to straighten her you will break her, and breaking her is divorcing her."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: عورت پسلی سے پیدا کی گئی ، وہ سیدھا کرنے سے سیدھا نہیں ہوگی ، اگر تم اس سےفائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو ٹیڑھا پن کے باوجود اس سے فائدہ اٹھاؤ ، اور اگر تم اس کو سیدھا کرنے پر لگے تو اس کو توڑ ڈالوگے ، اور اس کا توڑنا طلاق ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِىٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَإِذَا شَهِدَ أَمْرًا فَلْيَتَكَلَّمْ بِخَيْرٍ أَوْ لِيَسْكُتْ وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَىْءٍ فِى الضِّلَعِ أَعْلاَهُ إِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever believes in Allah and the Last Day, if he witnesses something let him speak good or else keep silent. Deal kindly with women, for woman was created from a rib, and the most crooked part of a rib is its upper part. If you try to straighten it you will break it, and if you leave it alone it will remain crooked. Deal (kindly) with women."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اگر کوئی چیز دیکھے تو یا تو اچھی بات کرے ، یا پھر خاموش رہے ۔ اور عورتوں کے ساتھ خیرخواہی کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ، اور پسلی کا اوپر والا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہے ، اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگوگے تو توڑ دوگے ، اور اگر تم نے اس کو چھوڑ دیا توہ ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی ، عورتوں سے خیرخواہی کرو۔
وحدثنى إبراهيم بن موسى الرازى حدثنا عيسى - يعنى ابن يونس - حدثنا عبد الحميد بن جعفر عن عمران بن أبى أنس عن عمر بن الحكم عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « لا يفرك مؤمن مؤمنة إن كره منها خلقا رضى منها آخر ». أو قال « غيره ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'No believing man should hate a believing woman. If he dislikes one of her characteristics, he may be pleased with another."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: کوئی مسلمان مرد ، کسی مسلمان عورت کو دشمن نہ رکھے ، اگر ان کی کسی عادت سے ناخوش ہے تو دوسری عادت سے خوش ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبِى أَنَسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.
A similar report (as no. 3645) was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
18. بابُ لَوْلاَ حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِى هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَوْلاَ حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Were it not for Hawa', no female would ever have betrayed her husband."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اگر حوّا ء نہ ہوتیں تو کوئی عورت کسی مرد سے خیانت نہ کرتی۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْلاَ بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْبُثِ الطَّعَامُ وَلَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ وَلَوْلاَ حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ ».
It was narrated that Hammam bin Munabbih said: This is what Abu Hurairah narrated from the Messenger of Allah (s.a.w). He mentioned a number of Ahadith, including the following: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Were it not for the Children of Israel, no food would go bad and no meat would tum rotten, and were it not for Hawwa' no female would ever betray her husband."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کھانا اور گوشت کبھی خراب نہ ہوتا ، اور اگر حوّاء نہ ہوتیں تو کبھی کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی۔
19. باب خَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِى شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ ».
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "This world is no more than temporary joys, and there is no temporary joy of this world that is better than the righteous wife."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: دنیا متاع ہے اور اس دنیا کی بہترین متاع نیک صالح عورت ہے ۔
20. بابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى ابْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الْمَرْأَةَ كَالضِّلَعِ إِذَا ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَإِنْ تَرَكْتَهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Woman is like a rib. If you try to straighten her you will break her, but if you leave her alone you will benefit from her even though there is some crookedness in her.'"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگوگے تو اس کو توڑدوگے اور اگر تم اس کو اس حال پر چھوڑ دوگے تو اس کے ٹیڑھا پن کے باوجود بھی اس سے فائدہ اٹھاتے رہوگے۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلاَهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَخِى الزُّهْرِىِّ عَنْ عَمِّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ سَوَاءً.
A similar report (as no. 3650) was narrated from the nephew of Az-Zuhri, from his paternal uncle, with this chain.
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔