11. بَابُ ذِكْرِ الْخُطْبَتَيْنِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَمَا فِيهِمَا مِنْ الْجَلْسَةِ
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ جَمِيعًا عَنْ خَالِدٍ - قَالَ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ. قَالَ كَمَا يَفْعَلُونَ الْيَوْمَ.
It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to deliver the Khutbah standing on Friday, then he would sit briefly, then he would stand up again." He said: "As they do nowadays."
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجمعہ کے دن خطبہ کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کرتے تھے پھر آپ ﷺبیٹھتے پھر کھڑے ہوتے انہوں نے کہا جیسا کہ آج تم کرتے ہو۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَتْ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ.
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Prophet used to give two Khutbah, sitting in between them. He would recite Qur'an and remind the people."
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺدو خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے اور ان دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے ان خطبوں میں آپ ﷺقرآن پڑھا کرتے اور لوگوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ أَنْبَأَنِى جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَىْ صَلاَةٍ.
It was narrated that Simak said: "Jabir bin Samurah told me: 'The Messenger of Allah (s.a.w) used to deliver the Khutbah standing, then he would it. Then he would stand up and deliver (another) Khutbah standing. Whoever told you that he used to deliver the Khutbah sitting was lying. By Allah, I prayed with him more than two thousand times."'
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺجمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے پھر آپ ﷺبیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے جس آدمی نے تجھے بتایا کہ آپ ﷺبیٹھ کر خطبہ دیتے تھے اس نے جھوٹ بولا اللہ کی قسم میں نے آپ ﷺکے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔
12. بَاب فِي قَوْله تَعَالَى{ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا }
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ - قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ - عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنَ الشَّامِ فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ الَّتِى فِى الْجُمُعَةِ (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا)
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Prophet (s.a.w) was delivering the Khutbah standing one Friday, when a caravan came from Ash-Sham. The people went towards it until there were only twelve men left, then this verse which is in Surat Al-Jumu'ah was revealed: "And when they see some merchandise or some amusement they disperse headlong to it, and leave you standing."
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺجمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے ایک مرتبہ ملک شام سے اونٹوں کا قافلہ آیا تو لوگ اس کی طرف چلے گئے یہاں تک کہ بارہ آدمیوں کے علاوہ کوئی بھی باقی نہیں رہا تو سورة الجمعہ میں یہ آیت نازل ہوئی اور جب ان لوگوں نے تجارت یا تماشہ وغیرہ کی چیز دیکھی تو اس کی طرف چلے گئے اور آپ ﷺکو کھڑا چھوڑ گئے۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ. وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا.
It was narrated from Husain with this chain (a similar Hadith as no. 1997), and he said: when the Messenger of Allah (s.a.w) was delivering a Khutbah, but he did not say, standing.
ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے جس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺخطبہ دے رہے تھے اور یہ نہیں کہا کہ کھڑے ہوئے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى الطَّحَّانَ - عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمٍ وَأَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ قَالَ فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَبْقَ إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً أَنَا فِيهِمْ - قَالَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا) إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: We were with the Prophet (s.a.w) on a Friday when a caravan arrived. The people went out to it and no one was left except twelve men, of whom I was one. Then Allah revealed the words: "And when they see some merchandise or some amusement they disperse headlong to it, and leave you standing."
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جمعہ کے دن نبی ﷺکے ساتھ تھے ایک قافلہ آیا لوگ اس کی طرف چل پڑے اور بارہ آدمیوں کے سوا کوئی باقی نہ رہا میں بھی ان میں تھا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور جب انہوں نے تجارت یا کھیل وغیرہ کی کوئی چیز دیکھی تو اس کی طرف چلے گئے اور آپ ﷺکو کھڑا چھوڑ گئے۔
وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ وَسَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- قَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِلَى الْمَدِينَةِ فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - قَالَ - وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا)
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: While the Prophet (s.a.w) was standing on a Friday, a caravan arrived in Al-Madinah and the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) rushed towards it, until there was no one left with him except twelve men, among whom were Abu Bakr and 'Umar. Then this verse was revealed: "And when they see some merchandise or some amusement they disperse headlong to it, and leave you standing."
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺجمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے تو مدینہ منورہ کی طرف ایک قافلہ آیا تو رسول اللہ ﷺکے صحابہ اس کی طرف بڑھے یہاں تک کہ بارہ آدمیوں کے سوا ان میں کوئی بھی آپ ﷺکے ساتھ باقی نہ رہا ان بارہ آدمیوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور جب کوئی تجارت یا کھیل وغیرہ کی چیز دیکھتے ہیں تو اس کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِى عُبَيْدَةَ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَالَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا)
It was narrated from Abu 'Ubaidah that Ka'b bin 'Ujrah entered the Masjid, and 'Abdur-Rahman bin Umm Al-Hakam was delivering the Khutbah while sitting. He said: Look at this evildoer who is delivering the Khutbah while sitting, when Allah says: "And when they see some merchandise or some amusement they disperse headlong to it, and leave you standing."
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت عبدالرحمن ابن ام حکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے اس خبیث کی طرف دیکھو بیٹھ کر خطبہ دیتا ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب انہوں نے تجارت کے قافلے یا کھیل وغیرہ کی چیز کو دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ ﷺکو کھڑا چھوڑ گئے۔
13. بَاب التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ
وَحَدَّثَنِى الْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ - يَعْنِى أَخَاهُ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ قَالَ حَدَّثَنِى الْحَكَمُ بْنُ مِينَاءَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ « لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ ».
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar and Abu Hurairah, that they heard the Messenger of Allah (s.a.w) say, on the planks of his Minbar: "People must cease neglecting Jumu'ah, or Allah will put a seal over their hearts and they will truly be among the negligent."
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکو منبر کی سیڑھیوں پر فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ جمعہ کی نماز چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔
14. بَاب تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَكَانَتْ صَلاَتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا.
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I used to pray with the Messenger of Allah (s.a.w), and his prayer was of moderate length and his Khutbah was of moderate length."
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز پڑھی ہے آپﷺکی نماز اور خطبہ درمیانی تھے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ حَدَّثَنِى سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّى مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- الصَّلَوَاتِ فَكَانَتْ صَلاَتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا. وَفِى رِوَايَةِ أَبِى بَكْرٍ زَكَرِيَّاءُ عَنْ سِمَاكٍ.
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I used to offer the prayers with the Messenger of Allah (s.a.w), and his prayer was of moderate length and his Khutbah was of moderate length."
حضرت جابر بن سمرة رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺکے ساتھ نمازیں پڑھیں آپ ﷺکی نمازیں درمیانی ہوتی تھیں اور آپ ﷺکا خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا اور ابوبکر کی روایت میں زکریا عن سماک کا ذکر ہے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلاَ صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ « صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ ». وَيَقُولُ « بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ ». وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَيَقُولُ « أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ ». ثُمَّ يَقُولُ « أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَىَّ وَعَلَىَّ ».
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) delivered a Khutbah, his eyes would turn red, his voice would become loud, and his anger would increase, until it was as if he was warning of an attacking army, saying: 'The enemy will attack in the morning or in the evening.' He said: 'The Hour and I have been sent like these two,' and he held his index finger and middle finger up together. And he would say: 'The best of speech is the Book of Allah, the best of guidance is the guidance of Muhammad, and the worst of matters are those which are newly-invented, and every innovation is a going astray.' Then he would say: 'I am closer to every believer than his own self. Whoever leaves behind wealth, it is for his family; whoever leaves behind a debt or dependents, then the responsibility of paying it off and of caring for them rests upon me."'
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو آپ ﷺکی آنکھیں سرخ ہو جاتیں اور آپ ﷺکی آواز بلند ہو جاتی اور غصہ شدید ہو جاتا گویا کہ آپ ﷺکسی ایسے لشکر سے ڈرا رہے ہوں کہ وہ صبح یا شام حملہ کرنے والا ہے اور فرماتے ہیں کہ قیامت کو اور مجھے اس طرح بھیجا گیا جس طرح یہ دو انگلیاں اور شہادت والی اور درمیانی انگلی ملا کر فرماتے اما بعد کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد ﷺکی سیرت ہے اور سارے کاموں میں بدترین کام نئے نئے طریق ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے پھر فرماتے ہیں کہ میں ہر مومن کو اس کی جان سے زیادہ عزیز ہوں۔ جس شخص نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض یا اہل و عیال کو چھوڑا وہ میرے ذمہ ہیں۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنِى جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَتْ خُطْبَةُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِى عَلَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ وَقَدْ عَلاَ صَوْتُهُ. ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ.
Jabir bin 'Abdullah said: "In the Khutbah of the Prophet (s.a.w) on Friday, he would praise Allah, then he would say other things, raising his voice..." a similar Hadith (as no. 2005).
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن خطبہ میں رسول اللہ ﷺاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد آواز بلند کرتے اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ النَّاسَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ يَقُولُ « مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِىَ لَهُ وَخَيْرُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ ». ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِىِّ.
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to address the people, praising Allah as He deserves to be praised, then he would say: 'Whomsoever Allah guides, none can lead astray, and whomsoever He sends astray, none can guide. The best of speech is the Book of Allah,"' then he quoted a Hadith similar to that of Ath-Thaqafi.
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺلوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے اور اس میں اللہ تعالی کی وہ حمد و ثنا بیان فرماتے جو اس کے شایان شان ہے پھر فرماتے کہ جس کو اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور بہترین بات اللہ تعالی کی کتاب ہے پھر آگے حدیث اسی طرح ہے جیسے گزری۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِى عَبْدُ الأَعْلَى وَهُوَ أَبُو هَمَّامٍ - حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَكَانَ يَرْقِى مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ. فَقَالَ لَوْ أَنِّى رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدَىَّ - قَالَ - فَلَقِيَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّى أَرْقِى مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ وَإِنَّ اللَّهَ يَشْفِى عَلَى يَدِى مَنْ شَاءَ فَهَلْ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِىَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ ». قَالَ فَقَالَ أَعِدْ عَلَىَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلاَءِ.
فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثَلاَثَ مَرَّاتٍ - قَالَ - فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ وَقَوْلَ السَّحَرَةِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلاَءِ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ - قَالَ - فَقَالَ هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الإِسْلاَمِ - قَالَ - فَبَايَعَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَعَلَى قَوْمِكَ ». قَالَ وَعَلَى قَوْمِى - قَالَ - فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَرِيَّةً فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلاَءِ شَيْئًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً. فَقَالَ رُدُّوهَا فَإِنَّ هَؤُلاَءِ قَوْمُ ضِمَادٍ.
It was narrated from Ibn 'Abbas that Dimad came to Makkah. He was from (the tribe of) Azd Shanu'ah, and he used to treat people with Ruqya' (in the case of Jinn possession). He heard the fools among the people of Makkah saying that Muhammad was possessed. He said: "If I see this man, perhaps Allah will heal him at my hands." So he met him and he said: "O Muhammad, I treat people with Ruqya' in the case of Jinn possession, and Allah heals at my hands whomsoever He wills. Do you want that?" The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Praise be to Allah, We praise Him and seek His help . Whomsoever Allah guides, none can lead astray, and whomsoever He sends astray, none can guide. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah alone with no partner, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger." Dimad said: "Say these words of yours to me again." The Messenger of Allah (s.a.w) repeated them three times and (Dimad) said: "I have heard the words of the soothsayers and the words of the magicians and the words of the poets, but I have never heard anything like these words of yours. You have scaled the heights of eloquence." He said: "Give me your hand so that I may pledge allegiance to in Islam." So he gave him his pledge of allegiance, then the Messenger of Allah (s.a.w) said: "And on behalf of your people." He said: "And on behalf of my people." (The narration said:) The Messenger of Allah (s.a.w) sent out a raiding party and they passed by his people. The commander of the party said to his troops: "Did you take anything from these people?" One man said: "I took a vessel for water from them." He said: "Give it back, for these are the people of Dimad."
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ضماد مکہ مکرمہ میں آیا اس کا تعلق قبیلہ ازد شنوءہ سے تھا اور جنون اور آسیب وغیرہ کے لئے جھاڑ پھونک کرتا تھا اور اس نے مکہ کے بے وقوفوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ محمد (العیاذ باللہ) مجنون ہیں تو اس نے کہا کہ میں اس آدمی کو دیکھتا ہوں شاید کہ اللہ تعالی اسے میرے ہاتھ سے شفا دے دے پھر وہ آپ ﷺسے ملا اور کہا کہ اے محمد میں جنوں وغیر کے لئے جھاڑ پھونک کرتا ہوں اور اللہ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھ سے شفا دیتا ہے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا (الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبد ہ ورسولہ) بعد! تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اما بعد ۔ضماد نے کہا ان کلمات کو دوبارہ دہرائیں۔رسول اللہ ﷺنے ان کلمات کو تین مرتبہ دہرایا ضماد نے کہا کہ میں نے کاہنوں کا کلام سنا، جادو گروں کا کلام سنا، شاعروں کا کلام سنا لیکن آپ ﷺکے کلام کی طرح کا کلام نہیں سنا یہ کلام تو سمندر کی بلا غت تک پہنچ گیا ہے ضماد نے کہا کہ اپنا ہاتھ بڑھائیے میں آپ ﷺکے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرتا ہوں پھر اس نے بیعت کی تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں تم سے اور تمہاری قوم کی طرف سے بھی بیعت لیتا ہوں ضماد نے کہا کہ میں اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت کرتا ہوں رسول اللہ ﷺنے ایک چھوٹا سالشکر بھیجا وہ لشکر اس کی قوم میں سے گزرا تو اس لشکر کے سردار نے کہا کہ کیا تم نے اس قوم والوں سے کچھ لیا ہے تو جماعت کے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے، لشکر کے سردار نے کہا جاؤ اسے واپس کرو کیونکہ یہ ضماد کی قوم کا ہے ۔
حَدَّثَنِى سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ. فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّ طُولَ صَلاَةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَأَطِيلُوا الصَّلاَةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ».
It was narrated that Wasil bin Hayyan said: "Abu Wa'il said: Ammar addressed us and he spoke briefly but eloquently. When he came down (from the Minbar), we said: "O Abu Al-Yaqzan, you spoke eloquently but briefly, would that you had made it longer." He said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'A man's lengthening his prayer and shortening his Khutbah is a sign of his understanding (of religion), so make your prayers lengthy and your Khutbah brief, for there is charm in eloquent speech."'
ابو وائل کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیا جو مختصر اور نہایت بلیغ تھا جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے عرض کیا اے ابوالیقطان(عمار کی کنیت) آپ نے نہایت مختصر اور بلیغ خطبہ دیا اگر تھوڑا سا لمبا کرتے! حضرت عمار نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی کا لمبی نماز اور خطبہ کو مختصر پڑھنا یہ اس کی سمجھداری کی علامت ہے پس نماز کو لمبا کرو اور خطبہ کو مختصر کرو کیونکہ بعض بیان جادو کی تاثیر رکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ عَدِىِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ رَجُلاً خَطَبَ عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشِدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ. قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ». قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَقَدْ غَوِىَ.
It was narrated from 'Adiyy bin Hatim that a man gave a speech in the presence of the Prophet (s.a.w) and said: "Whoever obeys Allah and His Messenger is rightly guided and whoever disobeys them has gone astray." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "What a bad Khatib you are. Say: 'and whoever disobeys Allah and His Messenger."' Ibn Numair said: "And he did go astray."
عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبیﷺکے سامنے خطبہ دیا اور کہا کہ جو آدمی اللہ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت کرے گا وہ ہدایت یا فتہ ہو جائے گا اور جو ان دونوں کی نافرنانی کرے گا وہ گمراہ ہو جائے گا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم برے خطیب ہو یوں کہو تو کہہ جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِىُّ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ - عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ عَطَاءً يُخْبِرُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ (وَنَادَوْا يَا مَالِكُ)
It was narrated from Safwan bin Ya'la, from his father, that he heard the Prophet (s.a.w) reciting on the Minbar: "And they will cry: "O Malik (Keeper of Hell)!""
حضرت یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺمنبر پر یہ آیت پڑھ رہے تھے : (ونادوا یا مالک لیقض علینا ربک!) اور وہ دوزخی پکاریں گے اے مالک (داروغہ جہنم) تیرا پروردگار ہمارا کام تمام کر دے۔
وَحَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ قَالَتْ أَخَذْتُ (ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ) مِنْ فِى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ فِى كُلِّ جُمُعَةٍ.
It was narrated from 'Amrah bint 'Abdur-Rahman that a sister of 'Amrah said: "I learned "Qaf. By the Glorious Qur'an" from the mouth of the Messenger of Allah (s.a.w) on Fridays, as he recited it from the Minbar every Friday."
حضرت عمرۃ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن روایت کرتی ہیں کہ میں نے سورۃ ق والقرآن المجید رسول اللہ ﷺکی زبان مبارک سے ہی جمعہ کے دن سن کر یاد کی ہے اور آپ ﷺہر جمعہ میں منبر پر پڑھا کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا. بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ.
It was narrated from 'Amrah, from a sister of 'Amrah bint 'Abdur-Rahman, who was older than her... a Hadith similar to that of Sulaiman bin Bilal.
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ عَنْ بِنْتٍ لِحَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ مَا حَفِظْتُ (ق) إِلاَّ مِنْ فِى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ. قَالَتْ وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَاحِدًا.
It was narrated from 'Abdullah bin Muhammad bin Ma'n that a daughter of Harithah bin An-Nu'man said: "I only memorized Surah Qaf from the mouth of the Messenger of Allah (s.a.w), when he recited it in his Khutbah every Friday, and our oven and the oven of the Messenger of Allah (s.a.w) were the same."
حضرت حارثہ بن نعمان کی بیٹی فرماتی ہیں کہ میں نے سورۃ ق رسول اللہ ﷺ سے سن کر حفظ کی آپ ﷺہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے وہ کہتی ہیں کہ ہمارا تنور اور رسول اللہ ﷺکا تنور ایک ہی تھا۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الأَنْصَارِىُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ لَقَدْ كَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَاحِدًا سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَبَعْضَ سَنَةٍ وَمَا أَخَذْتُ (ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ) إِلاَّ عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْرَؤُهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ.
It was narrated that Umm Hisham bint Harithah bin An-Nu'man said: "Our oven and the oven of the Messenger of Allah (s.a.w) were the same for two years, or for one year and part of a year. And I only learned "Surat Qaf. By the Glorious Qur'an" from the tongue of the Messenger of Allah (s.a.w), who used to recite it every Friday from the Minbar, when he addressed the people."
حضرت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا تنور اور رسول اللہ ﷺکا تنور دو سال یا ایک سال یا سال کے کچھ حصہ تک ایک ہی تھا اور میں نے سورۃ ق والقرآن المجید رسول اللہ ﷺکی زبان مبارک ہی سے سن کر یاد کی ہے آپ ﷺاس کو ہر جمعہ کو منبر پر جب لوگوں کو خطبہ دیتے تو پڑھا کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ قَالَ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ رَافِعًا يَدَيْهِ فَقَالَ قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا. وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الْمُسَبِّحَةِ.
It was narrated from Husain that 'Umarah bin Ru'aibah saw Bishr bin Marwan on the Minbar raising his hands. He said: "How ugly are these two hands. I saw the Messenger of Allah (s.a.w) doing no more than this with his hand," and he pointed with his index finger.
عمارۃ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالی ان دونوں ہاتھوں کو خراب کرے میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ دوران خطبہ صرف شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ رَأَيْتُ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ. فَقَالَ عُمَارَةُ بْنُ رُؤَيْبَةَ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
It was narrated that Husain bin 'Abdur-Rahman said: "I saw Bishr bin Marwan on a Friday, raising his hands, and 'Umarah bin Ru'aibah said..." and he mentioned something similar (to no. 2016).
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
15. بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ ». قَالَ لاَ. قَالَ « قُمْ فَارْكَعْ ».
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "While the Prophet (s.a.w) was delivering the Khutbah on a Friday, a man came and the Prophet (s.a.w) said to him: 'Have you prayed, O so-and-so?' He said: 'No.' He said: 'Get up and pray.'"
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺجمعہ کے دن ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو ایک آدمی آیا نبیﷺنے اس سے فرمایا اے فلاں کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺنے فرمایا کھڑے ہوکر نماز پڑھو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِىُّ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- كَمَا قَالَ حَمَّادٌ وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّكْعَتَيْنِ.
It was narrated from Jabir from the Prophet (s.a.w) as Hammad said (in no. 2018), and he did not mention "the two Rak'ah.''
ایک اور سند سے حسب سابق روایت منقول ہے۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ « أَصَلَّيْتَ ». قَالَ لاَ. قَالَ « قُمْ فَصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ ». وَفِى رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ قَالَ « صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ».
Jabir bin 'Abdullah said: "A man entered the Masjid while the Messenger of Allah (s.a.w) was delivering the Khutbah on a Friday, and he said: 'Did you pray?' He said: 'No.' He said: 'Get up and pray the two Rak'ah.'" According to the report of Qutaibah he said: "Pray two Rak'ah.''
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺجمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ ﷺنے فرمایا کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺنے فرمایا کھڑا ہو اور دو رکعتیں نماز پڑھو اور قتیبہ کی روایت میں ہے کہ دو رکعتیں پڑھو۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ « أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ». قَالَ لاَ. فَقَالَ « ارْكَعْ ».
Jabir bin 'Abdullah said: "A man came while the Prophet (s.a.w) was on the Minbar on a Friday, delivering the Khutbah. He said to him: 'Have you prayed two Rak'ah?' He said: 'No.' He said: 'Pray.'"
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور نبی ﷺمنبر پر جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ ﷺنے اس سے پوچھا کیا تو نے دو رکعتیں پڑھ لیں ہیں؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺنے فرمایا دو رکعت پڑھ لے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- خَطَبَ فَقَالَ « إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدْ خَرَجَ الإِمَامُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ».
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Prophet (s.a.w) delivered a Khutbah and said: "If one of you comes on a Friday and the Imam has come out, let him pray two Rak'ah."
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺنے خطبہ دیا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام بھی (منبر کی طرف) نکل گیا ہے تو اسے چاہیے کہ دو رکعتیں پڑھ لے۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِىُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَعَدَ سُلَيْكٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّىَ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ». قَالَ لاَ. قَالَ « قُمْ فَارْكَعْهُمَا ».
It was narrated that Jabir said: "Sulaik Al-Ghatfani came one Friday while the Messenger of Allah (s.a.w) was sitting on the Minbar, and Sulaik sat down before praying. The Prophet (s.a.w) said to him: 'Have you prayed two Rak'ah?' He said: 'No.' He said: 'Get up and pray
them."
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیک غطفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن آئے اور رسول اللہ ﷺمنبر پر تشریف فرما تھے تو سلیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھنے سے پہلے بیٹھ گئے تو نبی ﷺنے ان سے فرمایا کیا تو نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺنے فرمایا کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھ لو۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ كِلاَهُمَا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ - قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى - عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِىُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ « يَا سُلَيْكُ قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا - ثُمَّ قَالَ - إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا ».
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: Sulaik Al-Ghatfani came on a Friday when the Messenger of Allah (s.a.w) was preaching, and he sat down. He said to him: 'O Sulaik, get up and pray two Rak'ah, and make them brief.' Then he said: 'If one of you comes on a Friday and the Imam is preaching, let him pray two Rak'ah and make them brief.'"
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن آئے اور رسول اللہ ﷺخطبہ ارشاد فرما رہے تھے وہ آکر بیٹھ گئے آپ ﷺنے ان سے فرمایا اے سلیک! کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھو اور اس میں اختصار کرو پھر آپ ﷺنے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہے کہ دو رکعتیں پڑھے اور ان دونوں میں اختصار کرے۔
16. بَابُ حَدِيثِ التَّعْلِيمِ فِي الْخُطْبَةِ
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ قَالَ قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يَخْطُبُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لاَ يَدْرِى مَا دِينُهُ - قَالَ - فَأَقْبَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَىَّ فَأُتِىَ بِكُرْسِىٍّ حَسِبْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا - قَالَ - فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَجَعَلَ يُعَلِّمُنِى مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا.
Abu Rifa'ah said: "I came to the Prophet (s.a.w) while he was delivering a Khutbah and I said: 'O Messenger of Allah, here is a stranger who has come to ask you about his religion, for he does not know what his religion is.' The Messenger of Allah (s.a.w) turned to me and left his Khutbah. He came to me, and a chair was brought, I thought its legs were made of iron. The Messenger of Allah (s.a.w) sat on it and started telling me of what Allah had told him, then he went back and completed his Khutbah."
حضرت ابورفاعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیﷺکی خدمت میں اس حال میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ ﷺخطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول ایک مسافر آدمی ہے وہ اپنے دین کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے وہ نہیں جانتا کہ اس کا دین کیا ہے تو آپ ﷺنے خطبہ چھوڑ دیا اور میری طرف متوجہ ہوئے پھر ایک کرسی لائی گئی میرا گمان ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے نبیﷺاس کرسی پر بیٹھ گئے اور مجھے علوم سکھانے لگے جو اللہ تعالی نے آپ ﷺکو سکھلائے پھر آئے اور آخر تک اپنا خطبہ پورا کیا۔
17. بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِى رَافِعٍ قَالَ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ فَقَرَأَ بَعْدَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ فِى الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ (إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ) - قَالَ - فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
It was narrated that Ibn Abi Rafi' said: "Marwan appointed Abu Hurairah in charge of Al-Madinah, and went out to Makkah. Abu Hurairah led us in prayer on Friday, and after Surat Al-Jumu'ah he recited: "When the hypocrites come to you" in the second Rak'ah. I caught up with Abu Hurairah when he left and said to him: 'You recited two Surah which 'Ali bin Abi Talib used to recite in Al-Kufah.' Abu Hurairah said: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) reciting them on Fridays.'"
ابن ابی رافع فرماتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ میں قائم مقام گورنر مقرر کیا اور وہ خود مکہ مکرمہ روانہ ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو دوسری رکعت میں سورۃ الجمعہ کے بعد سورۃ منافقین پڑھی جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ﷺنے دو سورتیں ملا کر پڑھی ہیں جیسا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ میں پڑھتے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو جمعہ کے دن یہی سورتیں پڑھتے سنا۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِى الدَّرَاوَرْدِىَّ - كِلاَهُمَا عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى رَافِعٍ قَالَ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ. بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِى رِوَايَةِ حَاتِمٍ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِى السَّجْدَةِ الأُولَى وَفِى الآخِرَةِ (إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ) وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِثْلُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ.
It was narrated that 'Ubaidullah bin Abi Rafi' said: "Marwan appointed Abu Hurairah" a similar report, except that in the report of Hatim it says: "He recited Surat Al-Jumu'ah in the first Sajdah and in the second: "When the hypocrites come to you"
عبید اللہ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا پھر اسی طرح روایت نقل کی، صرف اتنا فرق ہے کہ حاتم کی روایت میں ہے کہ آپ نے پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں (اذا جاءک المنافقون) پڑھی اور عبدالعزیز کی روایت سلیمان بن بلال کی روایت کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ - عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْرَأُ فِى الْعِيدَيْنِ وَفِى الْجُمُعَةِ بِ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى) وَ (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ) قَالَ وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِى يَوْمٍ وَاحِدٍ يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِى الصَّلاَتَيْنِ.
It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said: "For the Two ids and for Jumu'ah, the Messenger of Allah (s.a.w) used to recite in: "Glorify the Name of your Lord, the Most High" and: "Has there come to you the narration of the overwhelming?". He said: "If id and Jumu'ah came together on the same day, he would recite them both in each of the two prayers."
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺعیدین اور جمعہ کی نمازوں میں سورۃ (سبح اسم ربک الاعلی اور ھل اتاک حدیث الغاشیۃ) پڑھتے تھے اور جب عید اور جمعہ ایک ہی دن اکٹھی ہو جاتیں تو پھر ان دونوں نمازوں میں بھی یہی سورتیں پڑھتے تھے۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Abu 'Awanah, from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir with this chain (a similar Hadith as no. 2028).
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ أَىَّ شَىْءٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الْجُمُعَةِ سِوَى سُورَةِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ كَانَ يَقْرَأُ (هَلْ أَتَاكَ)
It was narrated that 'Ubaidullah bin 'Abdullah said: "Ad-Dahhak bin Qais wrote to An-Nu'man bin Bashir, asking him what the Messenger of Allah (s.a.w) recited in Jumu'ah prayer apart from Surat Al-Jumu'ah. He said: 'He used to recite: Has there come to you the narration of the overwhelming?."'
حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت نعمان بن بشیر کو لکھا اور ان سے یہ پوچھا کہ رسول اللہ ﷺجمعہ کے دن سورۃ الجمعہ کے علاوہ اور کونسی سورۃ پڑھتے تھے ؟انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺسورۃ(ھل اتاک حدیث الغاشیۃ) پڑھتے تھے۔
18. بَابٌ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقْرَأُ فِى صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ (الم تَنْزِيلُ) السَّجْدَةُ وَ (هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ) وَأَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقْرَأُ فِى صَلاَةِ الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ.
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (s.a.w) used to recite in Fajr prayer on Fridays: ''Alif Lam Mim. The revelation" and: "Has there not been over man a period of time...?", and in Jumu'ah prayer the Prophet (s.a.w) used to recite Al-Jumu'ah and Al-Munafiqin.
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺجمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ (الم تنزیل السجدۃ اور سورۃ ھل اتی علی الانسان حین من الدھر ) پڑھا کرتے تھے اور نبی ﷺجمعہ کی نماز میں سورۃ جمعہ اور سورۃمنافقوں پڑھا کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 2031) was narrated from Sufyan with this chain.
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُخَوَّلٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ فِى الصَّلاَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا. كَمَا قَالَ سُفْيَانُ
A similar report (as no. 2031) was narrated from Mukhawwal with this chain concerning both prayers, as Sufyan said.
ایک دیگر سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِى الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ( الم تَنْزِيلُ) وَ (هَلْ أَتَى)
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) used to recite in Fajr on Fridays: ''Alif Lam Mim. The revelation " and: "Has there not been?"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺجمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ (الم تنزیل السجدۃ اور سورۃ ھل اتی علی الانسان حین من الدھر ) پڑھا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقْرَأُ فِى الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِ (الم تَنْزِيلُ) فِى الرَّكْعَةِ الأُولَى وَفِى الثَّانِيَةِ ( هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا)
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) used to recite in Fajr on Friday: ''Alif Lam Mim. The revelation" in the first Rak'ah and: "Has there not been over man a period of time when he was not a thing worth mentioning?" in the second.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺجمعہ کے دن صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں سورۃ (الم تنزیل اور دوسری رکعت میں سورۃ ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیئا مذکورا) پڑھا کرتے تھے۔
19. بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'When one of you has prayed Jumu'ah, let him pray four (Rak'ah) afterwards."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز پڑھے تو اسے چاہیےکہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں نماز پڑھے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَصَلُّوا أَرْبَعًا ». - زَادَ عَمْرٌو فِى رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سُهَيْلٌ فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَىْءٌ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِى الْمَسْجِدِ وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'When you pray after Jumu'ah, pray four (Rak'ah)."' 'Amr added in his report: Ibn Idris said: Suhail said: "If you are in a hurry for any reason, then pray two in the Masjid and two when you go back."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو ۔ایک روایت میں ہے کہ اگر تمہیں جلدی ہو تو دو رکعت مسجد میں پڑھو اور دو رکعت واپسی پر( گھر جاکر) پڑھو۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا ». وَلَيْسَ فِى حَدِيثِ جَرِيرٍ « مِنْكُمْ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever among you wants to pray after Jumu'ah, let him pray four (Rak'ah).'" In the Hadith of Jarir it does not say: "among you."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ تم میں سے جو آدمی جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ چار رکعتیں پڑھے اور جریر کی حدیث میں(منکم) کا لفظ نہیں ہے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِى بَيْتِهِ ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصْنَعُ ذَلِكَ.
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that when he prayed Jumu'ah, he used to go and pray two Rak'ah in his house, then he said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to do that."
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس لوٹتے تو اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے پھر فرماتے کہ رسول اللہ ﷺبھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ وَصَفَ تَطَوُّعَ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَكَانَ لاَ يُصَلِّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّى رَكْعَتَيْنِ فِى بَيْتِهِ. قَالَ يَحْيَى أَظُنُّنِى قَرَأْتُ فَيُصَلِّى أَوْ أَلْبَتَّةَ.
Yahya bin Yahya said: "I heard from Malik, from Nafi', from 'Abdullah bin 'Umar that he described the voluntary prayer of the Prophet (s.a.w) and he said: 'He did not pray after Jumu'ah until he had left, so he would pray two Rak'ah in his house.'" Yahya bin Yahya said: "I think that I read it: 'So he would pray' or, I am sure of it.''
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی ﷺکی نفل نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺجمعہ کی نماز کے بعد نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺواپس تشریف لاتے پھر اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے ۔راوی یحیی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میں نے حدیث کے یہ الفاظ (امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے) پڑھے کہ پھر ان کو ضرور پڑھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ.
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (s.a.w) used to pray two Rak'ah after Jumu'ah.
حضرت سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ نبیﷺجمعہ کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِى الْخُوَارِ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَىْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِى الصَّلاَةِ فَقَالَ نَعَمْ. صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِى الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الإِمَامُ قُمْتُ فِى مَقَامِى فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَىَّ فَقَالَ لاَ تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلاَ تَصِلْهَا بِصَلاَةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَنَا بِذَلِكَ أَنْ لاَ تُوصَلَ صَلاَةٌ حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ.
'Umar bin 'Ata' bin Abi Al-Khuwar narrated that Nafi' bin Jubair sent him to As-Sa'ib, the son of the sister of Namir, to ask him about something that Mu'awiyah had said concerning his prayer, and he said: "Yes, I prayed Jumu'ah with him in his enclosure, and when the Imam said the Salam, I stood up where I was and prayed. When he entered (his apartment) he sent for me and said: 'Do not repeat what you did. When you have prayed Jumu 'ah, do not offer another prayer after it until you have spoken or gone out, for the Messenger of Allah (s.a.w) enjoined that upon us, that we should not join one prayer to another until we had spoken or gone out."'
عمر بن عطاء کہتے ہیں کہ نافع بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں سائب (نمر کا بھانجا) کی طرف کچھ ایسی باتوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نماز میں دیکھیں ۔سائب نے کہا کہ ہاں میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مقصورہ میں جمعہ پڑھا ہے جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی جگہ پر کھڑا ہو کر نماز پڑھی تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ تم دوبارہ ایسے نہ کرنا ۔ جمعہ پڑھنے کے بعد بات کرو یا اس جگہ سے دوسری جگہ جاؤ پھر نماز پڑھو۔کیونکہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ ہم ایک نماز کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملائیں جب تک کہ ہم درمیان میں کوئی بات نہ کرلیں یا کسی جگہ نکل نہ جائیں۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِى مَقَامِى وَلَمْ يَذْكُرِ الإِمَامَ.
'Umar bin 'Ata' narrated that Nafi' bin Jubair sent him to As-Sa'ib bin Yazid, the son of the sister of Namir... and he quoted a similar Hadith (as no. 2042), except that he said: "When he said the Taslim I stood up where I was," and he did not mention the Imam.
حضرت عمر بن عطاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نافع بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں سائب بن یزید (نمر کا بھانجا) کی طرف بھیجا باقی حدیث اسی طرح ہے فرق صرف یہی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا اور اس میں امام کا ذکر نہیں۔