- احادیثِ نبوی ﷺ

 

1234

11. باب قِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ مِن نَوْمِهِ وَمَا نُسِخَ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ‏

وَقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ * قُمِ اللَّيْلَ إِلاَّ قَلِيلاً * نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلاً * أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلاً * إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلاً ثَقِيلاً * إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وِطَاءً وَأَقْوَمُ قِيلاً * إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلاً‏}‏ وَقَوْلِهِ ‏{‏عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ وَأَقِيمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا تُقَدِّمُوا لأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا‏}‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ نَشَأَ قَامَ بِالْحَبَشِيَّةِ، وِطَاءً قَالَ مُوَاطَأَةَ الْقُرْآنِ أَشَدُّ مُوَافَقَةً لِسَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَقَلْبِهِ ‏{‏لِيُوَاطِئُوا‏}‏ لِيُوَافِقُوا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لاَ يَصُومَ مِنْهُ، وَيَصُومُ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لاَ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَكَانَ لاَ تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلاَّ رَأَيْتَهُ وَلاَ نَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتَهُ‏.‏ تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ حُمَيْدٍ‏

Narrated By Anas bin Malik : Sometimes Allah's Apostle would not fast (for so many days) that we thought that he would not fast that month and he sometimes used to fast (for so many days) that we thought he would not leave fasting through-out that month and (as regards his prayer and sleep at night), if you wanted to see him praying at night, you could see him praying and if you wanted to see him sleeping, you could see him sleeping.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کسی مہینے میں روزہ نہیں رکھتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب آپﷺاس مہینہ میں روزہ ہی نہیں رکھیں گے۔اگر کسی مہینہ میں روزہ رکھنا شروع کردیتے تو خیال ہوتا کہ اب آپﷺ کا اس مہینہ کا ایک دن بھی بغیر روزہ کے نہیں رہ جائے گا، اور رات کو نماز تو آپﷺ ایسی پڑھتے تھے تم جب چاہتے آپﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ لیتے اور جب چاہتے سوتا دیکھ لیتے۔

12. باب عَقْدِ الشَّيْطَانِ عَلَى قَافِيَةِ الرَّأْسِ إِذَا لَمْ يُصَلِّ بِاللَّيْلِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاَثَ عُقَدٍ، يَضْرِبُ كُلَّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلاَّ أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلاَنَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Satan puts three knots at the back of the head of any of you if he is asleep. On every knot he reads and exhales the following words, 'The night is long, so stay asleep.' When one wakes up and remembers Allah, one knot is undone; and when one performs ablution, the second knot is undone, and when one prays the third knot is undone and one gets up energetic with a good heart in the morning; otherwise one gets up lazy and with a mischievous heart."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب آدمی سوجاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے(جادو کی گرہیں) اور ہر گرہ پر افسوں پھونک دیتا ہے، بڑی رات پڑی ہے (بے فکر ہوکر) سوجاؤ۔ پھر اگر آدمی جاگا اور اللہ کی یاد کی تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر نماز پڑھے تو آدمی صبح کو خوش مزاج رہتا ہے ورنہ صبح کو سست مزاج رہتا ہے۔


حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الرُّؤْيَا قَالَ ‏"‏ أَمَّا الَّذِي يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ فَإِنَّهُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفِضُهُ وَيَنَامُ عَنِ الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ ‏"‏‏

Narrated By Samura bin Jundab : The Prophet said in his narration of a dream that he saw, "He whose head was being crushed with a stone was one who learnt the Qur'an but never acted on it, and slept ignoring the compulsory prayers."

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے نبیﷺ نے خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا: کہ جس کا سر پتھر سے کچلا جارہا تھا وہ قرآن کا حافظ تھا مگر وہ قرآن سے غافل ہوگیا تھا اور فرض نماز پڑھے بغیر سوجایا کرتا تھا۔

13. باب إِذَا نَامَ وَلَمْ يُصَلِّ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقِيلَ مَا زَالَ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ مَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah : A person was mentioned before the Prophet (p.b.u.h) and he was told that he had kept on sleeping till morning and had not got up for the prayer. The Prophet said, "Satan urinated in his ears."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا، لوگوں نے کہا: وہ صبح تک سوتا رہا اور (فرض) نماز کیلئے بھی نہیں اٹھا۔آپﷺ نے فرمایا: شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کردیا۔

14. باب الدُّعَاءِ وَالصَّلاَةِ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ

وَقَالَ ‏{‏كَانُوا قَلِيلاً مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ‏}‏ أَىْ مَا يَنَامُونَ ‏{‏وَبِالأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ‏}‏

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ‏"

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Our Lord, the Blessed, the Superior, comes every night down on the nearest Heaven to us when the last third of the night remains, saying: "Is there anyone to invoke Me, so that I may respond to invocation? Is there anyone to ask Me, so that I may grant him his request? Is there anyone seeking My forgiveness, so that I may forgive him?"

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہمارا رب بلند اور برکت والا، ہر رات کو جس وقت رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے پہلے آسمان پر اترتا ہے۔فرماتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے،کہ میں اس کی دعا قبول کرلوں۔کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اس سے دوں۔ کوئی مجھ سے بخشش کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔

15. باب مَنْ نَامَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَحْيَا آخِرَهُ

وَقَالَ سَلْمَانُ لأَبِي الدَّرْدَاءِ رضى الله عنهما نَمْ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ قُمْ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ سَلْمَانُ ‏"‏‏

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَيْفَ صَلاَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ، فَيُصَلِّي ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ بِهِ حَاجَةٌ اغْتَسَلَ، وَإِلاَّ تَوَضَّأَ وَخَرَجَ‏

Narrated By Al-Aswad : I asked 'Aisha "How is the night prayer of the Prophet?" She replied, "He used to sleep early at night, and get up in its last part to pray, and then return to his bed. When the Muadh-dhin pronounced the Adhan, he would get up. If he was in need of a bath he would take it; otherwise he would perform ablution and then go out (for the prayer)."

اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا نبیﷺرات کو کیسے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپﷺ شروع رات میں سوئے رہتے اور آخری رات میں اٹھتے (تہجد کی) نماز پڑھتے پھر اپنے بستر پرآجاتے، جب مؤذن اذان دیتے تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے۔اگر آپﷺ کو نہانے کی حاجت ہوتی تو غسل کرتے ورنہ وضو کر کے باہر نکلتے۔

16. باب قِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا، قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنَىَّ تَنَامَانِ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي ‏"

Narrated By Abu Salma bin 'Abdur Rahman : I asked 'Aisha, "How is the prayer of Allah's Apostle during the month of Ramadan." She said, "Allah's Apostle never exceeded eleven Rakat in Ramadan or in other months; he used to offer four Rakat... do not ask me about their beauty and length, then four Rakat, do not ask me about their beauty and length, and then three Rakat." 'Aisha further said, "I said, 'O Allah's Apostle! Do you sleep before offering the Witr prayer?' He replied, 'O 'Aisha! My eyes sleep but my heart remains awake!'"

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ رمضان میں رات کو کتنی رکعتیں پڑھتے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ رمضان میں اور غیر رمضان میں (کبھی) گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ پہلے چار رکعتیں پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہﷺ! آپﷺ وتر پڑھنے سے پہلے سوجاتے ہیں۔آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا! میری آنکھیں (ظاہر میں) سوتی ہیں، دل نہیں سوتا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي شَىْءٍ مِنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ جَالِسًا، حَتَّى إِذَا كَبِرَ قَرَأَ جَالِسًا، فَإِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلاَثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهُنَّ ثُمَّ رَكَعَ

Narrated By 'Aisha : I did not see the Prophet reciting (the Qur'an) in the night prayer while sitting except when he became old; when he used to recite while sitting, and when thirty or forty verses remained from the Sura, he would get up and recite them and then bow.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺ کو رات کی کسی نماز میں بیٹھ کرقرآن پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپﷺ بوڑھے ہوگئے تو کیا کرتے بیٹھ کرقرآن پڑھتے رہتے، جب سورت میں سے تیس چالیس آیتیں باقی رہتیں تو کھڑے ہو جاتے پھر ان کو پڑھ کر رکوع کرتے۔

17. باب فَضْلِ الطُّهُورِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَفَضْلِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْوُضُوءِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِبِلاَلٍ عِنْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ ‏"‏ يَا بِلاَلُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الإِسْلاَمِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَىَّ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا عَمِلْتُ عَمَلاً أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلاَّ صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ‏

Narrated By Abu Huraira : At the time of the Fajr prayer the Prophet asked Bilal, "Tell me of the best deed you did after embracing Islam, for I heard your footsteps in front of me in Paradise." Bilal replied, "I did not do anything worth mentioning except that whenever I performed ablution during the day or night, I prayed after that ablution as much as was written for me."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے صبح کی نماز کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا نیک کام بتاؤ جسے تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہے ، کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی چاپ سنی ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے تو اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا کہ جب میں نے رات یا دن میں کسی وقت بھی وضو کیا تو میں اس وضو سے نفل نماز پڑھتا رہتا جتنی میری تقدیر لکھی گئی تھی۔

18. باب مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّشْدِيدِ فِي الْعِبَادَةِ

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا الْحَبْلُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا هَذَا حَبْلٌ لِزَيْنَبَ فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ، حُلُّوهُ، لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ ‏"

Narrated By Anas bin Malik : Once the Prophet (p.b.u.h) entered the Mosque and saw a rope hanging in between its two pillars. He said, "What is this rope?" The people said, "This rope is for Zainab who, when she feels tired, holds it (to keep standing for the prayer.)" The Prophet said, "Don't use it. Remove the rope. You should pray as long as you feel active, and when you get tired, sit down."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ (مسجد میں) تشریف لے گئے، اچانک ایک رسی دو ستونوں کے بیچ میں تنی ہوئی ہے۔ آپﷺ نے پوچھا یہ رسی کیسی؟ لوگوں نے کہا: یہ ام امؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے باندھی ہے جب وہ کھڑی کھڑی (نماز میں) تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹکی رہتی ہیں۔آپﷺنے فرمایا: نہیں، یہ رسی نہیں ہونی چاہیے، اس کو کھول ڈالو تم میں ہر شخص کو چاہیے کہ جب تک دل لگے نماز پڑھے، تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔


قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فُلاَنَةُ لاَ تَنَامُ بِاللَّيْلِ‏.‏ فَذُكِرَ مِنْ صَلاَتِهَا فَقَالَ ‏"‏ مَهْ عَلَيْكُمْ مَا تُطِيقُونَ مِنَ الأَعْمَالِ، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : A woman from the tribe of Bani Asad was sitting with me and Allah's Apostle (p.b.u.h) came to my house and said, "Who is this?" I said, "(She is) So and so. She does not sleep at night because she is engaged in prayer." The Prophet said disapprovingly: Do (good) deeds which is within your capacity as Allah never gets tired of giving rewards till you get tired of doing good deeds."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: بنو اسد قبیلہ کی ایک عورت میرے پاس بیٹھی تھی اتنے میں رسول اللہﷺ تشریف لائے۔ آپﷺ نے پوچھا: یہ عورت کون ہے؟ میں نے کہا: فلانی عورت ہے جو رات بھر نہیں سوتی پھر اس کی نماز کا حال بیان کیا گیا: آپﷺ نے فرمایا: بس اتنا عمل کرو جتنے کی طاقت ہے۔ اس لئے کہ اللہ تو ثواب دینے سے نہیں تھکتا تم ہی (عمل کرتے کرتے) تھک جاؤ گے۔

19. باب مَا يُكْرَهُ مِنْ تَرْكِ قِيَامِ اللَّيْلِ لِمَنْ كَانَ يَقُومُهُ

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ، لاَ تَكُنْ مِثْلَ فُلاَنٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As : Allah's Apostle said to me, "O 'Abdullah! Do not be like so and so who used to pray at night and then stopped the night prayer."

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہﷺنے مجھ سے فرمایا: اے عبد اللہ! فلان شخص کی طرح نہ ہونا وہ (پہلے) رات کو اٹھا کرتا تھا پھر اس نے رات کا اٹھنا چھوڑ دیا۔

20. باب

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ ‏"‏ قُلْتُ إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنُكَ وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ حَقٌّ، وَلأَهْلِكَ حَقٌّ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ ‏"‏‏

Narrated 'Abdullah bin Amr :Once Allah's Apostle(s.a.w.) said to me,"I have been informed that you pray all the night and fast during the day."I said"(yes) I do so". He said,"If you do so, your eye-sight will become weak and you wil become weak.No doubt,your body has a right on you and your family has a right on you, so fast(for some days) and do not fast (for some days),pray(for some time) and then sleep."

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو،اور پھر دن میں بھی روزے رکھتے ہو۔میں نے کہا: جی ہاں، میں ایسا ہی کرتا ہوں۔آپﷺ نے فرمایا: اگر تم ایسا کروگے تو تمہاری آنکھیں بیٹھ جائیں گی اور تمہاری صحت کمزور پڑے گی۔جان لو کہ تم پر تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔کبھی روزہ بھی رکھو، افطار بھی کرو۔ قیام بھی کرو اور سوؤ بھی۔

1234