- احادیثِ نبوی ﷺ

 

1234

21. باب فَضْلِ مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ‏.‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ‏.‏ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي‏.‏ أَوْ دَعَا اسْتُجِيبَ، فَإِنْ تَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلاَتُهُ ‏"

Narrated By 'Ubada bin As-Samit : The Prophet "Whoever gets up at night and says: 'La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-l-mulk, waLahu-l-hamd wahuwa 'ala kullishai'in Qadir. Alhamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah.' (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners. For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: Allahumma, Ighfir li(O Allah! Forgive me). Or invokes (Allah), he will be responded to and if he performs ablution (and prays), his prayer will be accepted."

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبیﷺنے فرمایا: جو شخص رات کو بیدار ہوکر یہ پڑھے۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علیٰ کل شیء قدیر۔الحمد للہ وسبحان اللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ پھر دعا مانگے یا یوں کہے: یا اللہ! مجھ کو بخش دے تو اس کی دعا قبول ہوگی۔اگر وضو کرے اور نماز پڑھے تو نماز قبول ہوگی۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ وَهُوَ يَقْصُصُ فِي قَصَصِهِ وَهُوَ يَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَخًا لَكُمْ لاَ يَقُولُ الرَّفَثَ‏.‏ يَعْنِي بِذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ‏.‏ وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ وَالأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه

Narrated By Abu Huraira : That once Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Your brother, i.e. 'Abdullah bin Rawaha does not say obscene (referring to his verses) Amongst us is Allah's Apostle, who recites His Book when it dawns. He showed us the guidance, after we were blind. We believe that whatever he says will come true. And he spends his nights in such a way as his sides do not touch his bed. While the pagans were deeply asleep."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو وعظ سنا رہے تھے۔اس وعظ میں انہوں نے رسول اللہﷺ کا ذکر کیا۔کہنے لگے تمہارے ایک بھائی عبد اللہ بن رواحہ نے کوئی غلط بات نہیں کہی۔ ان کے اشعار یہ تھے: "ہم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، جو اس کی کتاب اس وقت ہمیں سناتے ہیں جب فجر طلوع ہوتی ہے۔ ہم تو اندھے تھے آپﷺنے ہمیں گمراہی سے نکال کر صحیح راستہ دکھایا ہے۔ ان کی باتیں اسی قدر یقینی ہیں جو ہمارے دلوں کے اندر جاکر بیٹھ جاتی ہیں اور جو کچھ آپﷺنے فرمایا: وہ ضرور واقع ہوگا۔ آپﷺرات بستر سے اپنے کو الگ کرکے گزارتے ہیں ضرور واقع ہوگا۔ جب کہ مشرکوں سے ان کے بستر بوجھل ہورہے ہوتے ہیں"۔


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ رَأَيْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ، فَكَأَنِّي لاَ أُرِيدُ مَكَانًا مِنَ الْجَنَّةِ إِلاَّ طَارَتْ إِلَيْهِ، وَرَأَيْتُ كَأَنَّ اثْنَيْنِ أَتَيَانِي أَرَادَا أَنْ يَذْهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَتَلَقَّاهُمَا مَلَكٌ فَقَالَ لَمْ تُرَعْ خَلِّيَا عَنْهُ‏

Narrated By Nafi : Ibn 'Umar said, "In the life-time of the Prophet I dreamt that a piece of silk cloth was in my hand and it flew with me to whichever part of Paradise I wanted. I also saw as if two persons (i.e. angels) came to me and wanted to take me to Hell. Then an angel met us and told me not to be afraid. He then told them to leave me.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺکے زمانے میں یہ خواب دیکھا جیسے میرے ہاتھ میں ایک گاڑھے ریشمی کپڑے کا ٹکڑا ہے، میں جنت میں جہاں چاہتا ہوں وہ مجھ کو اڑالے جاتا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا جیسے دو (فرشتے) میرے پاس آئے اور مجھ کو دوزخ میں لے جانے لگے۔ پھر ایک فرشتہ ان کو ملا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا ڈرو نہیں اور ان فرشتوں سے کہا اس کو چھوڑ دو۔


فَقَصَّتْ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى رُؤْيَاىَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏‏

Hafsa narrated one of my dreams to the Prophet and the Prophet said, "Abdullah is a good man. Would that he offer the night prayer (Tahajjud)!"

میری بہن ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے میرا یہ خواب نبیﷺ سے بیان کیا ۔ آپﷺ نے فرمایا: عبد اللہ اچھا آدمی ہے اگر رات کو نماز پڑھتا ہوتا۔


فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رضى الله عنه يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ‏ وَكَانُوا لاَ يَزَالُونَ يَقُصُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرُّؤْيَا أَنَّهَا فِي اللَّيْلَةِ السَّابِعَةِ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَتْ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيْهَا فَلْيَتَحَرَّهَا مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ‏"‏‏

So after that day 'Abdullah (bin 'Umar) started offering Tahajjud. The companions of the Prophet (p.b.u.h) used to tell him their dreams that (Laila-tul-Qadr) was on the 27th of the month of Ramadan. The Prophet said, "I see that your dreams agree on the last ten nights of Ramadan and so whoever is in search of it should seek it in the last ten nights of Ramadan."

(آپﷺکے فرمان کے بعد) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (ہمیشہ) رات کو نماز پڑھا کرتے،اور صحابہ کرام کا یہ حال تھا کہ وہ ہمیشہ نبیﷺ سے (اپنے اپنے) خواب بیان کرتے کہ شب قدر رمضان کی ستائیسویں رات میں ہے،آخر نبیﷺنے فرمایا میں دیکھتا ہوں تم سب کے خواب رمضان کے آخر ی عشرے میں شب قدر ہونے پرمتفق ہیں پھر جو کوئی شب قدر ڈھونڈنا چاہے تو رمضان کرآخر ی عشرے میں ڈھونڈے۔

22. باب الْمُدَاوَمَةِ عَلَى رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ـ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ ـ قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ ثُمَّ صَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا أَبَدًا‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle offered the 'Isha prayer (and then got up at the Tahajjud time) and offered eight Rakat and then offered two Rakat while sitting. He then offered two Rakat in between the Adhan and Iqama (of the Fajr prayer) and he never missed them.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے کہا: نبیﷺنے عشاء کی نماز پڑھائی اور (تہجد کی) آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر اور دو رکعتیں صبح کی اذان اور تکبیر کے درمیان میں پڑھی،آپﷺ ان کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔

23. باب الضِّجْعَةِ عَلَى الشِّقِّ الأَيْمَنِ بَعْدَ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet used to lie down on his right side, after offering two Rakat (Sunna) of the Fajr prayer.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ جب فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔

24. باب مَنْ تَحَدَّثَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ وَلَمْ يَضْطَجِعْ

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا صَلَّى ‏{‏سُنَّةَ الْفَجْرِ‏}‏ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلاَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يُؤْذَنَ بِالصَّلاَةِ‏

Narrated By 'Aisha : After offering the Sunna of the Fajr prayer, the Prophet used to talk to me, if I happen to be awake; otherwise he would lie down till the Iqama call was proclaimed (for the Fajr prayer).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ نبیﷺ جب فجر کی سنتیں پڑھتے تو اگر میں جاگتی ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے ورنہ نماز کی اذان ہونے تک لیٹ جاتے۔

25. باب مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ مَثْنَى مَثْنَى

وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ عَمَّارٍ وَأَبِي ذَرٍّ وَأَنَسٍ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَعِكْرِمَةَ وَالزُّهْرِيِّ ـ رضى الله عنهم ـ‏.‏ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ مَا أَدْرَكْتُ فُقَهَاءَ أَرْضِنَا إِلاَّ يُسَلِّمُونَ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ مِنَ النَّهَارِ‏

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا الاِسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ ‏"‏ إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي ـ قَالَ ـ وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ ‏"‏‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : The Prophet (p.b.u.h) used to teach us the way of doing Istikhara (Istikhara means to ask Allah to guide one to the right sort of action concerning any job or a deed), in all matters as he taught us the Suras of the Qur'an. He said, "If anyone of you thinks of doing any job he should offer a two Rakat prayer other than the compulsory ones and say (after the prayer): 'Allahumma inni astakhiruka bi'ilmika, Wa astaqdiruka bi-qudratika, Wa as'alaka min fadlika al-'azlm Fa-innaka taqdiru Wala aqdiru, Wa ta'lamu Wala a'lamu, Wa anta 'allamu l-ghuyub. Allahumma, in kunta ta'lam anna hadha-l-amra Khairun li fi dini wa ma'ashi wa'aqibati amri (or 'ajili amri wa'ajilihi) Faqdirhu wa yas-sirhu li thumma barik li Fihi, Wa in kunta ta'lamu anna hadha-lamra shar-run li fi dini wa ma'ashi wa'aqibati amri (or fi'ajili amri wa ajilihi) Fasrifhu anni was-rifni anhu. Waqdir li al-khaira haithu kana Thumma ardini bihi.' (O Allah! I ask guidance from Your knowledge, And Power from Your Might and I ask for Your great blessings. You are capable and I am not. You know and I do not and You know the unseen. O Allah! If You know that this job is good for my religion and my subsistence and in my Hereafter... (or said: If it is better for my present and later needs). Then You ordain it for me and make it easy for me to get, And then bless me in it, and if You know that this job is harmful to me In my religion and subsistence and in the Hereafter... (or said: If it is worse for my present and later needs). Then keep it away from me and let me be away from it. And ordain for me whatever is good for me, And make me satisfied with it). The Prophet added that then the person should name (mention) his need.

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ ہم کو سب کاموں میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورۃ سکھلاتے۔آپﷺ فرماتے تھے جب کوئی تم میں سےکسی کام کا ارادہ کرے تو نفل دو رکعت پڑھے۔ پھر یوں کہے: اللھم انی استخیرک آخر تک یعنی اے میرے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت بھلائی چاہتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت طاقت چاہتا ہوں۔ اور تیرا بڑا فضل مانگتا ہوں تجھ کو قدرت ہے اور مجھ کو قدرت نہیں تجھ کو علم ہے اور مجھ کو علم نہیں اور تو غیب کا جاننے والا ہے۔اے میرے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کیلئے استخارہ کیا جا رہا ہے) ،میرے دین اور دنیا اور انجام کار کیلئے بہتر ہے یا یوں فرمایا: میرے لیے وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ بہتر ہے تو وہ مجھ کو نصیب کردے اور اس کا حصول آسان کردے اور اس میں برکت دےاور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین اور دنیا اور انجام کار کیلئے برا ہے یا یوں فرمایا: میرے معاملہ میں وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ برا ہے، تو اسے مجھ سے ہٹادے،اور مجھے بھی اسے ہٹادے۔پھر میرے لیے خیر مقدر فرمادے۔جہاں بھی وہ ہو،اور اسے میرے دل کو مطمئن بھی کردے۔آپ ﷺنے فرمایا: اس کام کی جگہ اس کام کا نام لے۔


حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ الأَنْصَارِيّ َ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلاَ يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Qatada bin Rabi Al-Ansari : The Prophet said, "If anyone of you enters a Mosque, he should not sit until he has offered a two-Rakat prayer."

حضرت ابو قتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ نے فرمایا: جب کوئی تم میں سے مسجد میں آئے، تو اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک کہ تحیۃ المسجد نہ پڑھے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ‏

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle led us and offered a two Rakat prayer and then went away.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺنے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر تشریف لے گئے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : I offered with Allah's Apostle a two Rakat prayer before the Zuhr prayer and two Rakat after the Zuhr prayer, two Rakat after Jumua, Maghrib and 'Isha prayers.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺکے ساتھ دو رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھیں اور دو رکعتیں ظہر کے بعد اور دو رکعتیں جمعہ کے بعد اور دو رکعتیں مغرب کے بعد اور دو رکعتیں عشاء کے بعد۔


حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ ‏"‏ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ ـ أَوْ قَدْ خَرَجَ ـ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : While delivering a sermon, Allah's Apostle said, "If anyone of you comes while the Imam is delivering the sermon or has come out for it, he should offer a two Rakat prayer."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:آپﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ جب کوئی تم میں سے (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو یا خطبہ کیلئے نکل چکا ہو تو دو رکعتیں (تحیۃ المسجد کی) پڑھ لے۔


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ لَهُ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ فَأَقْبَلْتُ فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ خَرَجَ، وَأَجِدُ بِلاَلاً عِنْدَ الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ يَا بِلاَلُ، صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَعْبَةِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قُلْتُ فَأَيْنَ قَالَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الأُسْطُوَانَتَيْنِ‏.‏ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَوْصَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَكْعَتَىِ الضُّحَى‏.‏ وَقَالَ عِتْبَانُ غَدَا عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ بَعْدَ مَا امْتَدَّ النَّهَارُ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ‏

Narrated By Mujahid : Somebody came to the house of Ibn 'Umar and told him that Allah's Apostles had entered the Ka'ba. Ibn 'Umar said, "I went in front of the Ka'ba and found that Allah's Apostle had come out of the Ka'ba and I saw Bilal standing by the side of the gate of the Ka'ba. I said, 'O Bilal! Has Allah's Apostle (p.b.u.h) prayed inside the Ka'ba?' Bilal replied in the affirmative. I said, 'Where (did he pray)?' He replied, '(He prayed) Between these two pillars and then he came out and offered a two Rakat prayer in front of the Ka'ba.'" Abu 'Abdullah said: Abu Huraira said, "The Prophet (p.b.u.h) advised me to offer two Rakat of Duha prayer (prayer to be offered after sunrise and before midday). " Itban (bin Malik) said, "Allah's Apostle (p.b.u.h) and Abu Bakr, came to me after sunrise and we aligned behind the Prophet (p.b.u.h) and offered two Rakat."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (مکہ میں) اپنے گھر میں آئے، کسی نے کہا: رسول اللہﷺ یہ آئے اور کعبہ کے اندر بھی تشریف لے جا چکے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سن کر میں آیا، دیکھا تو رسول اللہﷺ کعبے سے باہر نکل چکے ہیں اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے کہا: بلال رضی اللہ عنہ! کیا رسول اللہﷺ نے کعبے کے اندر نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کہاں پر؟ انہوں نے کہا: ان دو ستونوں کے درمیان میں۔ پھر آپﷺ باہر نکلے اور کعبہ کے دروازے کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ کو نبیﷺ نے چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی وصیت کی۔اور عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: صبح دن چڑھے رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور ہم نے آپﷺکے پیچھے صف باندھی، آپﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں۔

26. باب الْحَدِيثِ بَعْدَ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلاَّ اضْطَجَعَ‏.‏ قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ يَرْوِيهِ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ هُوَ ذَاكَ

Narrated By 'Aisha : After offering the two Rakat (Sunna) the Prophet (p.b.u.h) used to talk to me, if I happen to be awake; otherwise he would lie down.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺ (فجر کی سنت) دو رکعت پڑھتے۔ پھر اگر میں جاگتی ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے، نہیں تو لیٹ جاتے۔ علی بن مدینی نے کہا میں نے سفیان سے پوچھا بعض لوگ یوں روایت کرتے ہیں کہ فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔ انہوں نے کہا: یہی تو مراد ہیں۔

27. باب تَعَاهُدِ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ وَمَنْ سَمَّاهُمَا تَطَوُّعًا

حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى شَىْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مِنْهُ تَعَاهُدًا عَلَى رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet was never more regular and particular in offering any Nawafil than the two Rakat (Sunna) of the Fajr prayer.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ کسی نفل نماز کی اتنی پابندی نہیں رکھتے تھے جتنی فجر کی دو رکعتوں کی پابندی کرتے تھے۔

28. باب مَا يُقْرَأُ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle used to offer thirteen Rakat in the night prayer and on hearing the Adhan for the morning prayer, he used to offer two light Rakat.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے، پھر جب صبح کی اذان سنتے تو ہلکی پھلکی دو رکعتیں (سنت کی) پڑھ لیتے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ـ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ـ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ هَلْ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ

Narrated By 'Aisha : The Prophet (p.b.u.h) used to make the two Rakat before the Fajr prayer so light that I would wonder whether he recited Al-Fatiha (or not).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ فجر کی نماز سے پہلے جو (سنت کی) دو رکعتیں پڑھتے وہ ایسی ہلکی پھلکی پڑھتے میں کہتی آپﷺنے سورہ فاتحہ پڑھی یا نہیں۔

29. باب التَّطَوُّعِ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَأَمَّا الْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ فَفِي بَيْتِهِ‏

Narrated By Ibn 'Umar : I offered with the Prophet two Rakat before the Zuhr and two Rakat after the Zuhr prayer; two Rakat after Maghrib, 'Isha and the Jumua prayers. Those of the Maghrib and 'Isha were offered in his house.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺکے ساتھ (سنت کی) دو رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو رکعتیں ظہر کے بعد اور دو رکعتیں مغرب کے بعد اور دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں جمعہ کے بعد پڑھیں اورمغرب اور عشاء کی سنتیں آپﷺ اپنے گھر میں پڑھا کرتے۔


وَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي، حَفْصَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَعْدَ مَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَكَانَتْ سَاعَةً لاَ أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيهَا‏.‏ تَابَعَهُ كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَأَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي أَهْلِهِ‏

My sister Hafsa told me that the Prophet used to offer two light Rakat after dawn and it was the time when I never went to the Prophet."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ سے میری بہن ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبیﷺ فجر طلوع ہونے کے بعد دو رکعتیں (سنت کی) ہلکی پھلکی پڑھا کرتے اور یہ وہ وقت ہوتا کہ میں اس وقت نبیﷺکے پاس نہیں جاتا تھا۔

30. باب مَنْ لَمْ يَتَطَوَّعْ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ، جَابِرًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا‏.‏ قُلْتُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ‏.‏ قَالَ وَأَنَا أَظُنُّهُ‏

Narrated By 'Amr : I heard Abu Ash-sha'tha' Jabir saying, "I heard Ibn Abbas saying, 'I offered with Allah's Apostle eight Rakat (of Zuhr and 'Asr prayers) together and seven Rakat (the Maghrib and the 'Isha prayers) together.'" I said, "O Abu Ash-shatha! I think he must have prayed the Zuhr late and the 'Asr early; the 'Isha early and the Maghrib late." Abu Ash-sha'tha said, "I also think so."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ آٹھ رکعتیں(ظہر عصر کی) اور سات رکعتیں (مغرب عشاء کی) ملا کر پڑھیں(بیچ میں سنت وغیرہ کچھ نہیں) عمرو نے کہا میں نے ابو الشعثاء سے کہا میں سمجھتا ہوں آپﷺ نے ظہر میں تاخیر کی اور عصر میں جلدی اور عشاء میں جلدی کی اور مغرب میں تاخیر کی، ابو الشعثاء نے کہا: میں بھی ایسا ہی سمجھتا ہوں۔

1234