- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First9101112

100. باب شِرَاءِ الْمَمْلُوكِ مِنَ الْحَرْبِيِّ وَهِبَتِهِ وَعِتْقِهِ

وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِسَلْمَانَ كَاتِبْ‏.‏ وَكَانَ حُرًّا فَظَلَمُوهُ وَبَاعُوهُ‏.‏ وَسُبِيَ عَمَّارٌ وَصُهَيْبٌ وَبِلاَلٌ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ‏}‏‏

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ بِسَارَةَ، فَدَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ بِامْرَأَةٍ، هِيَ مِنْ أَحْسَنِ النِّسَاءِ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ، مَنْ هَذِهِ الَّتِي مَعَكَ قَالَ أُخْتِي‏.‏ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا، فَقَالَ لاَ تُكَذِّبِي حَدِيثِي فَإِنِّي أَخْبَرْتُهُمْ أَنَّكِ أُخْتِي، وَاللَّهِ إِنْ عَلَى الأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ‏.‏ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي فَقَالَتِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي، إِلاَّ عَلَى زَوْجِي فَلاَ تُسَلِّطْ عَلَىَّ الْكَافِرَ‏.‏ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ الأَعْرَجُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَتِ اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ يُقَالُ هِيَ قَتَلَتْهُ‏.‏ فَأُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ تُصَلِّي، وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي، إِلاَّ عَلَى زَوْجِي، فَلاَ تُسَلِّطْ عَلَىَّ هَذَا الْكَافِرَ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ فَيُقَالُ هِيَ قَتَلَتْهُ، فَأُرْسِلَ فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَىَّ إِلاَّ شَيْطَانًا، ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، وَأَعْطُوهَا آجَرَ‏.‏ فَرَجَعَتْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَقَالَتْ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ كَبَتَ الْكَافِرَ وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The Prophet Abraham emigrated with Sarah and entered a village where there was a king or a tyrant. (The king) was told that Abraham had entered (the village) accompanied by a woman who was one of the most charming women. So, the king sent for Abraham and asked, 'O Abraham! Who is this lady accompanying you?' Abraham replied, 'She is my sister (i.e. in religion).' Then Abraham returned to her and said, 'Do not contradict my statement, for I have informed them that you are my sister. By Allah, there are no true believers on this land except you and 1.' Then Abraham sent her to the king. When the king got to her, she got up and performed ablution, prayed and said, 'O Allah! If I have believed in You and Your Apostle, and have saved my private parts from everybody except my husband, then please do not let this pagan overpower me.' On that the king fell in a mood of agitation and started moving his legs. Seeing the condition of the king, Sarah said, 'O Allah! If he should die, the people will say that I have killed him.' The king regained his power, and proceeded towards her but she got up again and performed ablution, prayed and said, 'O Allah! If I have believed in You and Your Apostle and have kept my private parts safe from all except my husband, then please do not let this pagan overpower me.' The king again fell in a mood of agitation and started moving his legs. On seeing that state of the king, Sarah said, 'O Allah! If he should die, the people will say that I have killed him.' The king got either two or three attacks, and after recovering from the last attack he said, 'By Allah! You have sent a Satan to me. Take her to Abraham and give her Ajar.' So she came back to Abraham and said, 'Allah humiliated the pagan and gave us a slavegirl for service."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرت کی تو ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک بادشاہ رہتا تھا یا ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا ۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کسی نے کہہ دیا کہ وہ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت لے کر یہاں آئے ہیں ۔ بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو پیغام بھیجا کہ اے ابراہیم ! یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہیں وہ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا: یہ میری بہن ہے۔ پھر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے تو ان سے کہا: کہ میری بات ن جھٹلانا ، میں تمہیں اپنی بہن کہہ آیا ہوں ۔اللہ کی قسم! آج روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مؤمن نہیں ہے ۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے سارہ رضی اللہ عنہا کو بادشاہ کے یہاں بھیجا ، یا بادشاہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ۔ اس وقت حضرت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کرکے نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی تھیں۔انہوں نے اللہ کے حضور میں یہ دعا کی کہ اے اللہ ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول (حضرت ابراہیم علیہ السلام) پر ایمان رکھتی ہوں ، اور اگر میں نے اپنے شوہر کے سوا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے ، تو تو مجھ پر ایک کافر کو مسلط نہ کرنا۔ اتنے میں وہ بادشاہ تھرایا ، اور اس کا پاؤں زمین میں دھنس گیا ۔ اعرج نے کہا: ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا ، ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ اے اللہ ! اگر یہ مرگیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔چنانچہ وہ پھر چھوٹ گیا اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کرکے پر نماز پڑھنے لگی تھیں اور یہ دعا کرتی جاتی تھیں۔ اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول ﷺپر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر کے سوا اور ہر موقع پر میں نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کرنا۔چنانچہ وہ پھر تھرایا، کانپا، اور اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی دعا کی کہ اے اللہ! اگر یہ مرگیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔اب دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ بھی وہ بادشاہ چھوڑ دیا گیا ۔ آخر وہ کہنے لگا کہ تم لوگوں نے میرے یہاں ایک شیطان بھیج دیا ۔ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس لے جاؤ اور انہیں آجر(حضرت ہاجرہ علیہ السلام) کو بھی دے دو۔پھر حضرت سارہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ دیکھتے نہیں اللہ تعالیٰ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ساتھ میں ایک لڑکی بھی دلوادی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلاَمٍ، فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَىَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ‏.‏ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ ‏"‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ ‏"‏‏.‏ فَلَمْ تَرَهُ سَوْدَةُ قَطُّ‏.‏

Narrated By 'Aisha : Sad bin Abi Waqqas and 'Abu bin Zam'a quarreled over a boy. Sad said, "O Allah's Apostle! This boy is the son of my brother ('Utba bin Abi Waqqas) who took a promise from me that I would take him as he was his (illegal) son. Look at him and see whom he resembles." 'Abu bin Zam'a said, "O Allah's Apostle! This is my brother and was born on my father's bed from his slave-girl." Allah's Apostle cast a look at the boy and found definite resemblance to 'Utba and then said, "The boy is for you, O 'Abu bin Zam'a. The child goes to the owner of the bed and the adulterer gets nothing but the stones (despair, i.e. to be stoned to death). Then the Prophet said, "O Sauda bint Zama! Screen yourself from this boy." So, Sauda never saw him again.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک بچے کے بارے میں جھگڑا ہوا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ یارسول اللہﷺ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے ۔ اس نے وصیت کی تھی کہ یہ اب اس کا بیٹا ہے ۔ آپ خود میرے بھائی سے اس کی مشابہت دیکھ لیں۔لیکن عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ یا رسول اللہﷺ! یہ تو میرا بھائی ہے ۔ میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے ۔اس کی باندی کے پیٹ کا ہے ۔ آپﷺنے بچے کی صورت دیکھی تو صاف عتبہ سے ملتی تھی۔ لیکن آپﷺنے یہی فرمایا: کہ اے عبد ! یہ بچہ تیرے ہی ساتھ رہے گا ، کیونکہ بچہ فراش کے تابع ہوتا ہے(یعنی جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے) اور زانی کے حصہ میں صرف پتھر ہے ۔ اے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا اس لڑکے سے پردہ کیا کریں۔چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے پھر اسے کبھی نہیں دیکھا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ لِصُهَيْبٍ اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَدَّعِ إِلَى غَيْرِ أَبِيكَ‏.‏ فَقَالَ صُهَيْبٌ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا، وَأَنِّي قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَكِنِّي سُرِقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ‏.‏

Narrated By Sad : That his father said, Abdur-Rahman bin Auf said to Suhaib, 'Fear Allah and do not ascribe yourself to somebody other than your father.' Suhaib replied, 'I would not like to say it even if I were given large amounts of money, but I say I was kidnapped in my childhood.'"

حضرت ابراہیم بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ سے ڈرو اور اپنے والد کے سوا کسی اور کا بیٹا مت بنو۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے اتنی اتنی دولت بھی مل جائے تب بھی میں یہ کہنا پسند نہیں کروں گا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ میں تو بچپن ہی میں چرالیا گیا تھا۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ ـ أَوْ أَتَحَنَّتُ بِهَا ـ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ وَعَتَاقَةٍ وَصَدَقَةٍ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ قَالَ حَكِيمٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Urwa bin Az-Zubair : Hakim bin Hizam said, "O Allah's Apostle! I used to do good deeds in the Pre-Islamic period of Ignorance, e.g., keeping good relations with my Kith and kin, manumitting slaves and giving alms. Shall I receive a reward for all that?" Allah's Apostle replied, "You embraced Islam with all the good deeds which you did in the past."

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا ، یا رسول اللہ ﷺ! ان نیک کاموں کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صلہ رحمی ، غلام آزاد کرنے اور صدقہ دینے کے سلسلہ میں کیا کرتا تھا ۔کیا ان اعمال کا بھی مجھے ثواب ملے گا ؟ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جتنی نیکیاں تم پہلے کرچکے ہو ان سب کے ساتھ اسلام لائے ہو۔

101. باب جُلُودِ الْمَيْتَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْبَغ

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ فَقَالَ ‏"‏ هَلاَّ اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا إِنَّهَا مَيِّتَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Abbas : Once Allah's Apostle passed by a dead sheep and said to the people, "Wouldn't you benefit by its skin?" The people replied that it was dead. The Prophet said, "But its eating only is illegal."

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکا گذر ایک مرہ بکری پر ہوا ۔ آپﷺنے فرمایا: اس کے چمڑے سے آپ لوگوں نے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا انہوں نے عرض کیا: وہ تو مردارہے۔آپﷺ نے فرمایا: مردار کا فقط کھانا حرام ہے ۔

102. باب قَتْلِ الْخِنْزِيرِ

وَقَالَ جَابِرٌ حَرَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْعَ الْخِنْزِيرِ‏

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "By Him in Whose Hands my soul is, son of Mary (Jesus) will shortly descend amongst you people (Muslims) as a just ruler and will break the Cross and kill the pig and abolish the Jizya (a tax taken from the non-Muslims, who are in the protection, of the Muslim government). Then there will be abundance of money and no-body will accept charitable gifts.

حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا :قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے عنقریب تم میں ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ایک عادل اور منصف حاکم کی حیثیت سے اتریں گے ۔ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گےاور خنزیر کو مار ڈالیں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے اور مال کی ایسی ریل پیل ہو گی کہ کوئی لینے والا نہیں رہے گا۔

103. باب لاَ يُذَابُ شَحْمُ الْمَيْتَةِ وَلاَ يُبَاعُ وَدَكُهُ

رَوَاهُ جَابِرٌ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ فُلاَنًا بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ فُلاَنًا، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا ‏"‏‏.

Narrated By Ibn 'Abbas : Once 'Umar was informed that a certain man sold alcohol. 'Umar said, "May Allah curse him! Doesn't he know that Allah's Apostle said, 'May Allah curse the Jews, for Allah had forbidden them to eat the fat of animals but they melted it and sold it."

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی، تو انہوں نے کہا: اللہ اس کو تباہ کرے کیا وہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: اللہ یہودیوں کو تباہ کرے ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اس کوپگلا کر فروخت کیا ۔


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودًا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "May Allah curse the Jews, because Allah made fat illegal for them but they sold it and ate its price."

حضرت ابو ہریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فر مایا : اللہ یہودیوں کو تباہ کرے ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اس کو فروخت کیا اور اس کی قیمت کھائی۔

104. باب بَيْعِ التَّصَاوِيرِ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا رُوحٌ وَمَا يُكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي إِنْسَانٌ، إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ أُحَدِّثُكَ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ، حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا ‏"‏‏.‏ فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ‏.‏ فَقَالَ وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلاَّ أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ، كُلِّ شَىْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ مِنَ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ هَذَا الْوَاحِدَ‏.‏

Narrated By Said bin Abu Al-Hasan : While I was with Ibn 'Abbas a man came and said, "O father of 'Abbas! My sustenance is from my manual profession and I make these pictures." Ibn 'Abbas said, "I will tell you only what I heard from Allah's Apostle. I heard him saying, 'Whoever makes a picture will be punished by Allah till he puts life in it, and he will never be able to put life in it.' " Hearing this, that man heaved a sigh and his face turned pale. Ibn 'Abbas said to him, "What a pity! If you insist on making pictures I advise you to make pictures of trees and any other unanimated objects."

حضرت سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا ، اور کہا:اے ابو عباس! میں ان لوگوں میں سے ہوں ، جن کی روزی اپنے ہاتھ کی صنعت پر موقوف ہے اور میں یہ مورتیں بناتا ہوں۔حضرت ابن عبا س رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا: میں تمہیں صرف وہی بات بتلاؤں گا جو میں نے رسول اللہﷺسے سنی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی مورت بنائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک عذاب کرتا رہے گا جب تک وہ آدمی اپنی مورت میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکتا ۔ اس شخص کا سانس چڑھ گیا اور چہرہ زرد پڑگیا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! اگر تم مورتیں بنانی ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی جس میں جان نہیں ہے مورتیں بناسکتے ہو۔

105. باب تَحْرِيمِ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ

وَقَالَ جَابِرٌ رضى الله عنه حَرَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْعَ الْخَمْرِ‏

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ عَنْ آخِرِهَا خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : When the last verses of Surat-al-Baqara were revealed, the Prophet went out (of his house to the Mosque) and said, "The trade of alcohol has become illegal."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں(جن میں سُودکا ذکر ہے )تو نبی ﷺ اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: کہ شراب کی سوداگری حرام قرار دی گئی ہے۔

106. باب إِثْمِ مَنْ بَاعَ حُرًّا

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَالَ اللَّهُ ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ، وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Allah says, 'I will be against three persons on the Day of Resurrection: 1. One who makes a covenant in My Name, but he proves treacherous. 2. One who sells a free person (as a slave) and eats the price. 3. And one who employs a labourer and gets the full work done by him but does not pay him his wages.'"

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہوں گے جن کا قیامت کے دن میں مدعی بنوں گا ، (1)وہ آدمی جس نے میرے نام پر عہد کیا اور وہ توڑ دیا ، (2)وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی ۔ (3)وہ شخص جس نے کوئی مزدور اجرت پر رکھا ، اس سے پوری طرح کام لیا ، لیکن اس کی مزدوری نہیں دی۔

107. باب أَمْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْيَهُودَ بِبَيْعِ أَرَضِيهِمْ حِينَ أَجْلاَهُمْ

 

108. باب بَيْعِ الْعَبِيدِ وَالْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً

وَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ، يُوفِيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ يَكُونُ الْبَعِيرُ خَيْرًا مِنَ الْبَعِيرَيْنِ‏.‏ وَاشْتَرَى رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ بَعِيرًا بِبَعِيرَيْنِ فَأَعْطَاهُ أَحَدَهُمَا وَقَالَ آتِيكَ بِالآخَرِ غَدًا رَهْوًا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ لاَ رِبَا فِي الْحَيَوَانِ الْبَعِيرُ بِالْبَعِيرَيْنِ، وَالشَّاةُ بِالشَّاتَيْنِ إِلَى أَجَلٍ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لاَ بَأْسَ بَعِيرٌ بِبَعِيرَيْنِ نَسِيئَةً‏.‏

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ فِي السَّبْىِ صَفِيَّةُ، فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By Anas : Amongst the captives was Safiya. First she was given to Dihya Al-Kalbi and then to the Prophet.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: قیدیوں میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں پہلے یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں پھر (دوسری لونڈی کے بدلے میں ) نبی ﷺ کو مل گئیں۔

109. باب بَيْعِ الرَّقِيقِ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا، فَنُحِبُّ الأَثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ فَقَالَ ‏"‏ أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلاَّ هِيَ خَارِجَةٌ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : That while he was sitting with Allah's Apostle he said, "O Allah's Apostle! We get female captives as our share of booty, and we are interested in their prices, what is your opinion about coitus interrupt us?" The Prophet said, "Do you really do that? It is better for you not to do it. No soul that which Allah has destined to exist, but will surely come into existence.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبیﷺکے پاس بیٹھا ہوا تھا (ایک انصاری صحابی نے) نبی ﷺسے پوچھا کہ یا رسول اللہﷺ! لڑائی میں ہم لونڈیوں کے پاس جماع کےلیے جاتے ہیں۔ ہمارا ارادہ انہیں بیچنے کا بھی ہوتا ہے تو آپ ﷺ عزل کرلینے کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ اس پر آپﷺنے فرمایا: اچھا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں ۔ اس لیے کہ جس روح کی بھی پیدائش اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دی ہے وہ پیدا ہو کر ہی رہے گی۔

‹ First9101112