90. باب مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ أَوْ أَرْضًا مَزْرُوعَةً أَوْ بِإِجَارَةٍ
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُخْبِرُ عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ أَيُّمَا، نَخْلٍ بِيعَتْ قَدْ أُبِّرَتْ لَمْ يُذْكَرِ الثَّمَرُ، فَالثَّمَرُ لِلَّذِي أَبَّرَهَا، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ وَالْحَرْثُ. سَمَّى لَهُ نَافِعٌ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثَ.
Narrated Nafi, the freed slave of Ibn Umar:If pollinated date palms are sold and nothing is mentioned (in the contract)about their fruits,the fruits will go to the person who has pollinated them, and so will be the case with the slave and the cultivator.Nafi mentioned those three things.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے غلام نافع نے بیان کیا کہ جو بھی کھجور کا درخت پیوند لگانے کے بعد بیچا جائے اور بیچتے وقت پھلوں کا کوئی ذکر نہ ہوا ہو تو پھل اسی کے ہوں گے جس نے پیوند لگایا ہے ۔ غلام اور کھیت کا بھی یہی حال ہے ۔ نافع نے ان تینوں چیزوں کا نام لیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ، إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ".
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle said, "If somebody sells pollinated date palms, the fruits will be for the seller unless the buyer stipulates that they will be for himself (and the seller agrees)."
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص پیوند کیا ہوا کھجور کا درخت بیچے تو اس کا پھل بائع ہی کو ملے گا مگر جب خریدار اس کی شرط لگائے ۔
91. باب بَيْعِ الزَّرْعِ بِالطَّعَامِ كَيْلاً
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلاً بِتَمْرٍ كَيْلاً، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلاً أَوْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ.
Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle forbade Al-Muzabana, i.e. to sell un-gathered dates of one's garden for measured dried dates or fresh un-gathered grapes for measured dried grapes; or standing crops for measured quantity of foodstuff. He forbade all such bargains.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے مزابنہ سے منع فرمایا یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو خشک کھجور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے ۔ اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے عوض ناپ کر بیچا جائے ۔ اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے بیچا جائے۔آپﷺنے ان تمام قسموں کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔
92. باب بَيْعِ النَّخْلِ بِأَصْلِهِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلاً ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا، فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ، إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ ".
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "Whoever pollinates date palms and then sells them, the fruits will belong to him unless the buyer stipulates that the fruits should belong to him (and the seller agrees)."
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس شخص نے بھی کسی کھجور کے درخت کو پیوندی بنایا۔ پھر اس درخت ہی کو بیچ دیا تو (اس موسم کا پھل ) اسی کا ہوگا جس نے پیوندی کیا ہے البتہ اگر خریدار نے پھلوں کی بھی شرط لگادی ہے ۔
93. باب بَيْعِ الْمُخَاضَرَةِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَاضَرَةِ، وَالْمُلاَمَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ.
Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle forbade Muhaqala, Mukhadara, Mulamasa, Munabadha and Muzabana.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺنے بیع محاقلہ اور بیع مخاضرہ اوربیع ملامسہ اوربیع منابذہ اوربیع مزابنہ سے منع فر مایا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ التَّمْرِ حَتَّى تَزْهُوَ. فَقُلْنَا لأَنَسٍ مَا زَهْوُهَا قَالَ تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ، أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ
Narrated By Humaid : Anas said, "The Prophet forbade the selling of dates till they were almost ripe." We asked Anas, "What does 'almost ripe' mean?" He replied, "They get red and yellow. The Prophet added, 'If Allah destroyed the fruits present on the trees, what right would the seller have to take the money of his brother (somebody else)?'"
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے درخت کی کھجور کو زہو سے قبل خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ ہم نے پوچھا کہ زہو کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: وہ پک کے سرخ ہوجائے یا زرد ہوجائے۔ تم ہی بتاؤ کہ اگر اللہ کے حکم سے پھل نہ آسکا تو تم کس چیز کے بدلے اپنے بھائی کا مال اپنے لئے حلال کروگے۔
94. باب بَيْعِ الْجُمَّارِ وَأَكْلِهِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَأْكُلُ جُمَّارًا، فَقَالَ " مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ كَالرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ ". فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ. فَإِذَا أَنَا أَحْدَثُهُمْ قَالَ " هِيَ النَّخْلَةُ ".
Narrated By Ibn 'Umar : I was with the Prophet while he was eating spadix. He said, "From the trees there is a tree which resembles a faithful believer." I wanted to say that it was the date palm, but I was the youngest among them (so I kept quiet). He added, "It is the date palm."
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺکے پاس بیٹھا تھا آپ ﷺکھجور کا گابھا (جو سفید سفید کھجور کے اندرسے نکلتا ہے)کھارہے تھے پھر فر مایا: ایک درخت کی مثال مومن کی مثال ہے میرے دل میں آیا کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں ان سب لوگوں میں کم سن تھا جو وہاں موجودتھے پھر آپ ﷺ ہی نے فر مایا: وہ کھجور کا درخت ہے ۔
95. باب مَنْ أَجْرَى أَمْرَ الأَمْصَارِ عَلَى مَا يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ فِي الْبُيُوعِ وَالإِجَارَةِ وَالْكَيلِ وَالْوَزْنِ، وَسُنَنِهِمْ عَلَى نِيَّاتِهِمْ وَمَذَاهِبِهِمِ الْمَشْهُورَةِ
وَقَالَ شُرَيْحٌ لِلْغَزَّالِينَ سُنَّتُكُمْ بَيْنَكُمْ رِبْحًا. وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ لاَ بَأْسَ الْعَشَرَةُ بِأَحَدَ عَشَرَ، وَيَأْخُذُ لِلنَّفَقَةِ رِبْحًا. وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِهِنْدٍ " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ ". وَقَالَ تَعَالَى {وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ} وَاكْتَرَى الْحَسَنُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِرْدَاسٍ حِمَارًا، فَقَالَ بِكَمْ قَالَ بِدَانَقَيْنِ. فَرَكِبَهُ، ثُمَّ جَاءَ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ الْحِمَارَ الْحِمَارَ. فَرَكِبَهُ، وَلَمْ يُشَارِطْهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنِصْفِ دِرْهَمٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ حَجَمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبُو طَيْبَةَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ.
Narrated By Anas bin Malik : Abu Taiba cupped Allah's Apostle and so Allah's Apostle ordered that a Sa of dates be paid to him and ordered his masters (for he was a slave) to reduce his tax.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ابو طیبہ نے رسول اللہ ﷺ کے پچھنی لگائی آپﷺ نے ایک صاع کھجور اس کو دینے کا حکم فر مایا اور اس کے مالکوں سے کہا: وہ اس کے خراج میں کچھ کمی کردیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هِنْدٌ أُمُّ مُعَاوِيَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ سِرًّا قَالَ " خُذِي أَنْتِ وَبَنُوكِ مَا يَكْفِيكِ بِالْمَعْرُوفِ ".
Narrated By 'Aisha : Hind, the mother of Mu'awiya said to Allah's Apostle, "Abu Sufyan (her husband) is a miser. Am I allowed to take from his money secretly?" The Prophet said to her, "You and your sons may take what is sufficient reasonably and fairly."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرہ ہندہ رضی اللہ عنہا نے رسول ﷺسے کہا: کہ ابو سفیان بخیل آدمی ہے تو کیا اگر میں ان کے مال میں سے چھپا کر کچھ لے لیا کروں تو کوئی حرج ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: تم اپنے لیے اور اپنے بیٹوں کےلیے نیک نیتی کے ساتھ اتنا لے سکتی ہو جو تم سب کے لیے کافی ہوجایا کرے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ فَرْقَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ {وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ} أُنْزِلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ الَّذِي يُقِيمُ عَلَيْهِ، وَيُصْلِحُ فِي مَالِهِ، إِنْ كَانَ فَقِيرًا أَكَلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ.
Narrated By Hisham bin 'Urwa : From his father who heard 'Aisha saying, "The Holy Verse; 'Whoever amongst the guardians is rich, he should take no wages (from the property of the orphans) but If he is poor, let him have for himself what is just and reasonable (according to his labours)' (4.6) was revealed concerning the guardian of the orphans who looks after them and manages favourably their financial affairs; If the guardian Is poor, he could have from It what Is just and reasonable, (according to his labours)."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (قرآن کی آیت ) جو شخص مالدار ہو وہ (اپنی زیر پرورش یتیم کا مال ہضم کرنے سے)اپنے کو بچائے ۔ جو فقیر ہو وہ نیک نیتی کے ساتھ اس میں سے کھالے۔ یہ آیت یتیموں کے ان سرپرستوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جوان کی اور ان کے مال کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتے ہوں کہ اگر وہ فقیر ہیں تو نیک نیتی کے ساتھ اس میں سے کھا سکتے ہیں۔
96. باب بَيْعِ الشَّرِيكِ مِنْ شَرِيكِهِ
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلاَ شُفْعَةَ.
Narrated By Jabir : Allah's Apostle gave pre-emption (to the partner) in every joint property, but if the boundaries of the property were demarcated or the ways and streets were fixed, then there was no pre-emption.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے ہر مال میں جو تقسیم نہ ہو ا ہو شفعہ کا حق قائم رکھا، جب حد بندی ہو جائیں اور راستے الگ الگ ہو جائیں تو شفعہ کا حق باقی نہیں رہا۔
97. باب بَيْعِ الأَرْضِ وَالدُّورِ وَالْعُرُوضِ مُشَاعًا غَيْرَ مَقْسُومٍ
ـ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلاَ شُفْعَةَ.
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، بِهَذَا وَقَالَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ. تَابَعَهُ هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي كُلِّ مَالٍ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ
Narrated By Jabir bin Abdullah : Allah's Apostle decided the validity of pre-emption in every joint undivided property, but if the boundaries were well marked or the ways and streets were fixed, then there was no pre-emption.
Narrated By Mussaddad from 'Abdul Wahid : The same as above but said, "...in every joint undivided thing..." Narrated Hisham from Ma'mar the same as above but said,"... in every property... "
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺنے ہر ایسے مال میں شفعہ کا حق قائم رکھا جو تقسیم نہ ہوا ہو۔ لیکن جب اس کی حدود قائم ہوگئی ہوں اور راستہ بھی پھیر دیا گیا ہو تو اب شفعہ کا حق باقی نہیں رہا۔
راوی عبد الواحد نے اسی طرح بیان کیا ، اور کہا: کہ ہر اس چیز میں شفعہ ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو۔
98. باب إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا لِغَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَرَضِيَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَرَجَ ثَلاَثَةٌ يَمْشُونَ فَأَصَابَهُمُ الْمَطَرُ، فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِمْ صَخْرَةٌ. قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ادْعُوا اللَّهَ بِأَفْضَلِ عَمَلٍ عَمِلْتُمُوهُ. فَقَالَ أَحَدُهُمُ اللَّهُمَّ، إِنِّي كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَرْعَى، ثُمَّ أَجِيءُ فَأَحْلُبُ، فَأَجِيءُ بِالْحِلاَبِ فَآتِي بِهِ أَبَوَىَّ فَيَشْرَبَانِ، ثُمَّ أَسْقِي الصِّبْيَةَ وَأَهْلِي وَامْرَأَتِي، فَاحْتَبَسْتُ لَيْلَةً. فَجِئْتُ فَإِذَا هُمَا نَائِمَانِ ـ قَالَ ـ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَالصِّبِيْةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمَا، حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ. قَالَ فَفُرِجَ عَنْهُمْ. وَقَالَ الآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أُحِبُّ امْرَأَةً مِنْ بَنَاتِ عَمِّي كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرَّجُلُ النِّسَاءَ، فَقَالَتْ لاَ تَنَالُ ذَلِكَ مِنْهَا حَتَّى تُعْطِيَهَا مِائَةَ دِينَارٍ. فَسَعَيْتُ فِيهَا حَتَّى جَمَعْتُهَا، فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتِ اتَّقِ اللَّهَ، وَلاَ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلاَّ بِحَقِّهِ. فَقُمْتُ وَتَرَكْتُهَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً، قَالَ فَفَرَجَ عَنْهُمُ الثُّلُثَيْنِ. وَقَالَ الآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقٍ مِنْ ذُرَةٍ فَأَعْطَيْتُهُ، وَأَبَى ذَاكَ أَنْ يَأْخُذَ، فَعَمَدْتُ إِلَى ذَلِكَ الْفَرَقِ، فَزَرَعْتُهُ حَتَّى اشْتَرَيْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَعْطِنِي حَقِّي. فَقُلْتُ انْطَلِقْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيهَا، فَإِنَّهَا لَكَ. فَقَالَ أَتَسْتَهْزِئُ بِي. قَالَ فَقُلْتُ مَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ وَلَكِنَّهَا لَكَ. اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا. فَكُشِفَ عَنْهُمْ ".
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "While three persons were walking, rain began to fall and they had to enter a cave in a mountain. A big rock rolled over and blocked the mouth of the cave. They said to each other, 'Invoke Allah with the best deed you have performed (so Allah might remove the rock)'. One of them said, 'O Allah! My parents were old and I used to go out for grazing (my animals). On my return I would milk (the animals) and take the milk in a vessel to my parents to drink. After they had drunk from it, I would give it to my children, family and wife. One day I was delayed and on my return I found my parents sleeping, and I disliked to wake them up. The children were crying at my feet (because of hunger). That state of affairs continued till it was dawn. O Allah! If You regard that I did it for Your sake, then please remove this rock so that we may see the sky.' So, the rock was moved a bit. The second said, 'O Allah! You know that I was in love with a cousin of mine, like the deepest love a man may have for a woman, and she told me that I would not get my desire fulfilled unless I paid her one-hundred Dinars (gold pieces). So, I struggled for it till I gathered the desired amount, and when I sat in between her legs, she told me to be afraid of Allah, and asked me not to deflower her except rightfully (by marriage). So, I got up and left her. O Allah! If You regard that I did if for Your sake, kindly remove this rock.' So, two-thirds of the rock was removed. Then the third man said, 'O Allah! No doubt You know that once I employed a worker for one Faraq (three Sa's) of millet, and when I wanted to pay him, he refused to take it, so I sowed it and from its yield I bought cows and a shepherd. After a time that man came and demanded his money. I said to him: Go to those cows and the shepherd and take them for they are for you. He asked me whether I was joking with him. I told him that I was not joking with him, and all that belonged to him. O Allah! If You regard that I did it sincerely for Your sake, then please remove the rock.' So, the rock was removed completely from the mouth of the cave."
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: تین شخص کہیں باہر جارہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی ، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جاکر پناہ لی ۔ اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اورپر سے لڑھکی (اور اس غار کے منہ کو بند کردیا جس میں یہ تینوں پناہ لئے ہوئے تھے) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی " اے اللہ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے میں باہر لے جاکر اپنے مویشی چراتا تھا۔ پھر شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں اپنے والدین کو پیش کرتا۔ جب میرے والدین پی کےفارغ ہوجاتے ، تو پھر میں اپنے بچوں کو اور اپنی بیوی کو پلاتا۔اتفاق سے ایک رات واپسی میں دیر ہوگئی اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سوچکے تھے ۔اس نے کہا: پھر میں میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے۔ میں برابر دودھ کا پیالہ لئے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔اے اللہ!اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کےلیے کیا تھا تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹاکر اتنا راستہ تو بنادے کہ ہم آسمان کو تو دیکھ سکیں، آپﷺنے فرمایا: چنانچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا ۔ دوسرے شخص نے دعا کی : اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہوسکتی ہے ۔ اس لڑکی نے کہا: تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کرسکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو۔ میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی ، اور آخر اتنی اشرفی جمع کرلی۔ پھر جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھا ، تو وہ بولی اللہ سے ڈرو، اور مہر کو ناجائز طریقے پر مت توڑو۔ اس پر میں کھڑا ہوگیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ اب اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ عمل تیری ہی رضا کےلیے کیا تھا ۔تو ہمارے لیے راستہ بنادے ۔ آپﷺنے فرمایا: چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا ۔ تیسرے شخص نے دعا کی : اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور سے ایک تین صاع جوار پر کام کرایا تھا۔ جب میں نے اس کی مزدوری اسے دے دی تو اس نے لینے سے انکار کردیا۔ میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا (کھیتی جب کٹی تو اس میں اتنی جوار پیدا ہوئی کہ ) اس سے میں نے ایک بیل اور ایک چرواہا خرید لیا ۔ کچھ عرصہ بعد پھر اس نے آکر مزدوری مانگی ، کہ اللہ کے بندے مجھے میرا حق دے دے ۔ میں نے کہا اس بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جاؤ کہ یہ تمہارا ہی مال ہے ۔اس نے کہا: مجھ سے مذاق کرتے ہو ۔ میں نے کہا: میں مذاق نہیں کرتا، واقعی وہ تمہارا ہی ہے ۔تو اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے صرف تیری رضا حاصل کرنے کےلیے کیا تھا تو یہاں ہمارے لیے (اس چٹان کو ہٹاکر) راستہ بنادے ۔ چنانچہ وہ غار پورا کھل گیا( اور وہ تینوں شخص باہر آگئے)
99. باب الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْحَرْبِ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً ". قَالَ لاَ بَلْ بَيْعٌ. فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً.
Narrated By 'Abdur-Rahman bin Abu Bakr : We were with the Prophet when a tall pagan with long matted unkempt hair came driving his sheep. The Prophet asked him, "Are those sheep for sale or for gifts?" The pagan replied, "They are for sale." The Prophet bought one sheep from him.
حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: ہم نبیﷺکے ساتھ تھے ،ایک مسٹنڈا لمبے قد والا مشرک بکریاں ہانکتا ہوا آیا ۔ آپﷺنے اس سے فرمایا: یہ بیچنے کےلیے ہیں یا عطیہ ہیں؟ یا آپﷺنے یہ فرمایا: کہ (یہ بیچنے کےلیے ہیں ) یا ہبہ کرنے کےلیے ؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ بیچنے کےلیے ہیں۔ چنانچہ آپﷺنے اس سے ایک بکری خرید لی۔