111. باب عَزْمِ الإِمَامِ عَلَى النَّاسِ فِيمَا يُطِيقُونَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ لَقَدْ أَتَانِي الْيَوْمَ رَجُلٌ فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرٍ مَا دَرَيْتُ مَا أَرُدُّ عَلَيْهِ، فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلاً مُؤْدِيًا نَشِيطًا، يَخْرُجُ مَعَ أُمَرَائِنَا فِي الْمَغَازِي، فَيَعْزِمُ عَلَيْنَا فِي أَشْيَاءَ لاَ نُحْصِيهَا. فَقُلْتُ لَهُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلاَّ أَنَّا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَسَى أَنْ لاَ يَعْزِمَ عَلَيْنَا فِي أَمْرٍ إِلاَّ مَرَّةً حَتَّى نَفْعَلَهُ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يَزَالَ بِخَيْرٍ مَا اتَّقَى اللَّهَ، وَإِذَا شَكَّ فِي نَفْسِهِ شَىْءٌ سَأَلَ رَجُلاً فَشَفَاهُ مِنْهُ، وَأَوْشَكَ أَنْ لاَ تَجِدُوهُ، وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ مَا أَذْكُرُ مَا غَبَرَ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ كَالثَّغْبِ شُرِبَ صَفْوُهُ وَبَقِيَ كَدَرُهُ
Narrated By Abdullah : Today a man came to me and asked me a question which I did not know how to answer. He said, "Tell me, if a wealthy active man, well-equipped with arms, goes out on military expeditions with our chiefs, and orders us to do such things as we cannot do (should we obey him?)" I replied, "By Allah, I do not know what to reply you, except that we, were in the company of the Prophet and he used to order us to do a thing once only till we finished it. And no doubt, everyone among you will remain in a good state as long as he obeys Allah. If one is in doubt as to the legality of something, he should ask somebody who would satisfy him, but soon will come a time when you will not find such a man. By Him, except Whom none has the right to be worshipped. I see that the example of what has passed of this life (to what remains thereof) is like a pond whose fresh water has been used up and nothing remains but muddy water."
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس ایک شخص آیا ، اور ایسی بات پوچھی کہ میری کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ اس کا جواب کیا دوں۔ اس نے پوچھا مجھے یہ مسئلہ بتائیے کہ ایک شخص بہت ہی خوش اور ہتھیار بند ہوکر ہمارے امیروں کے ساتھ جہاد کےلیے جاتا ہے ۔ پھر وہ امیر ہمیں ایسی چیزوں کا مکلف قرار دیتے ہیں کہ ہم ان کی طاقت نہیں رکھتے ۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہاری بات کا جواب کیا دوں، البتہ جب ہم رسول اللہﷺکے ساتھ (آپ ﷺکی حیات مبارکہ میں) تھے تو آپﷺکو کسی بھی معاملہ میں صرف ایک مرتبہ حکم کی ضرورت پیش آتی تھی اور ہم فورا ہی اسے بجالاتے تھے ، یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ تم لوگوں میں اس وقت تک خیر رہے گی جب تک تم اللہ سے ڈرتے رہوگے ، اور اگر تمہارے دل میں کسی معاملہ میں شبہ پیدا ہوجائے تو کسی عالم سے اس کے متعلق پوچھ لو تاکہ تشفی ہوجائے ، وہ دور بھی آنے والا ہے کہ کوئی ایسا آدمی بھی (جو صحیح صحیح مسئلے بتادے) تمہیں نہیں ملے گا ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ جتنی دنیا باقی رہ گئی ہے وہ وادی کے اس پانی کی طرح ہے جس کا صاف اور اچھا حصہ تو پیا جاچکا ہے اور گدلا حصہ باقی رہ گیا ہے۔
112. باب كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ قَالَ كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ فَقَرَأْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ
Narrated By Salim Abu An-Nadr : The freed slave of 'Umar bin 'Ubaidullah who was 'Umar's clerk: 'Abdullah bin Abi Aufa wrote him (i.e. 'Umar) a letter that contained the following:
"Once Allah's Apostle (during a holy battle), waited till the sun had declined
عمر بن عبید اللہ کے غلام سالم ابی النضر جو سالم کے منشی تھے نے بیان کیا کہ عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا اور میں نے اس سے پڑھا کہ رسول اللہ ﷺنے ایک جہاد کے موقع پر جس میں لڑائی بھی ہوئی تھی ، سورج کے ڈھلنے تک جنگ نہیں شروع کی۔
ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ قَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ، لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ، ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ ".
and then he got up among the people and said, "O people! Do not wish to face the enemy (in a battle) and ask Allah to save you (from calamities) but if you should face the enemy, then be patient and let it be known to you that Paradise is under the shades of swords." He then said,, "O Allah! The Revealer of the (Holy) Book, the Mover of the clouds, and Defeater of Al-Ahzab (i.e. the clans of infidels), defeat them infidels and bestow victory upon us."
اس وقت کھڑے ہو کر خطبہ سنایا،لوگو!دشمن سے بھڑنے کی آرزو نہ کرو (صلح پسند رہو)اور اللہ سے سلامتی مانگو اور جب بھڑ جاؤ (لڑائی آن پڑے) تو پھر صبر کئے رہو (بھاگو نہیں اور یہ سمجھ رکھو کہ بہشت تلواروں کے سائے تلے ہے۔پھر یوں دعا کی:یا اللہ ،قرآن اتارنے والے بادل چلانے والے۔فوجوں کو شکست دینے والے ان کافروں کو بھگادے اور ہم کو ان پر فتح دے۔
اس کے بعد آپﷺنے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو!دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، البتہ جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہوہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو ، یاد رکھو !کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ، اس کے بعد آپﷺنے یوں دعا کی ، اے اللہ ! کتاب کے نازل کرنے والے ، بادل بھیجنے والے ، احزاب کو شکست دینے والے ، انہیں شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
113. باب اسْتِئْذَانِ الرَّجُلِ الإِمَامَ
لِقَوْلِهِ {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَتَلاَحَقَ بِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ لَنَا قَدْ أَعْيَا فَلاَ يَكَادُ يَسِيرُ فَقَالَ لِي " مَا لِبَعِيرِكَ ". قَالَ قُلْتُ عَيِيَ. قَالَ فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَىِ الإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ. فَقَالَ لِي " كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ ". قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ. قَالَ " أَفَتَبِيعُنِيهِ ". قَالَ فَاسْتَحْيَيْتُ، وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرَهُ، قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " فَبِعْنِيهِ ". فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ. قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَرُوسٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلاَمَنِي، قَالَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ " هَلْ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ". فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا. فَقَالَ " هَلاَّ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَ وَالِدِي ـ أَوِ اسْتُشْهِدَ ـ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مِثْلَهُنَّ، فَلاَ تُؤَدِّبُهُنَّ، وَلاَ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ. قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ عَلَيْهِ بِالْبَعِيرِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ، وَرَدَّهُ عَلَىَّ. قَالَ الْمُغِيرَةُ هَذَا فِي قَضَائِنَا حَسَنٌ لاَ نَرَى بِهِ بَأْسًا.
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : I participated in a Ghazwa along with Allah's Apostle The Prophet met me (on the way) while I was riding a camel of ours used for irrigation and it had got so tired that it could hardly walk. The Prophet asked me, "What is wrong with the camel?" I replied, "It has got tired." So. Allah's Apostle came from behind it and rebuked it and prayed for it so it started surpassing the other camels and going ahead of them. Then he asked me, "How do you find your camel (now)?" I replied, "I find it quite well, now as it has received your blessings." He said, "Will you sell it to me?" I felt shy (to refuse his offer) though it was the only camel for irrigation we had. So, I said, "Yes." He said, "Sell it to me then." I sold it to him on the condition that I should keep on riding it till I reached Medina. Then I said, "O Allah's Apostle! I am a bridegroom," and requested him to allow me to go home. He allowed me, and I set out for Medina before the people till I reached Medina, where I met my uncle, who asked me about the camel and I informed him all about it and he blamed me for that. When I took the permission of Allah's Apostle he asked me whether I had married a virgin or a matron and I replied that I had married a matron. He said, "Why hadn't you married a virgin who would have played with you, and you would have played with her?" I replied, "O Allah's Apostle! My father died (or was martyred) and I have some young sisters, so I felt it not proper that I should marry a young girl like them who would neither teach them manners nor serve them. So, I have married a matron so that she may serve them and teach them manners." When Allah's Apostle arrived in Medina, I took the camel to him the next morning and he gave me its price and gave me the camel itself as well.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسو ل اللہ ﷺکے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا۔انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺپیچھے سے آکر میرے پاس تشریف لائے ۔ میں اپنے پانی لادنے والے ایک اونٹ پر سوار تھا۔ چونکہ وہ تھک چکا تھا ، اس لیے دھیرے دھیرے چل رہا تھا ۔ آپﷺنے مجھ سے دریافت فرمایا: کہ جابر ! تمہارے اونٹ کو کیا ہوگیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ تھک گیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپﷺ پیچھے گئے اور اسے ڈانٹا اور ا س کےلیے دعا کی ۔ پھر تو وہ برابر دوسرے اونٹوں کے آگے آگے چلتا رہا ۔ پھر آپﷺنے دریافت فرمایا، اپنے اونٹ کے متعلق کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا: کہ اب اچھا ہے ۔ آپﷺکی برکت سے ایسا ہوگیا ہے ۔ آپﷺنے فرمایا: پھر کیا اسے بیچو گے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں شرمندہ ہوگیا ، کیونکہ ہمارے پاس پانی لانے کو اس کے سوا اور کوئی اونٹ نہیں رہا تھا۔ مگر میں نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپﷺنے فرمایا: پھر بیچ دے ۔ چنانچہ میں نے وہ اونٹ آپﷺکو بیچ دیا اور یہ طے پایا کہ مدینہ تک میں اسی پر سوار ہوکر جاؤں گا۔ بیان کیا کہ میں نے عرضی کیا ، اے اللہ کے رسول ﷺ!میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے ۔ میں نے آپﷺسے اجازت چاہی ، توآپﷺنے اجازت عنایت فرما دی ۔ اس لیے میں سب سے پہلے مدینہ پہنچ آیا ۔ جب ماموں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے اونٹ کے متعلق پوچھا ۔ جو معاملہ میں کرچکا تھا اس کی انہیں اطلاع دی ۔ تو انہوں نے مجھے برا بھلا کہا۔ (ایک اونٹ تھا تیرے پاس وہ بھی بیچ ڈالا اب پانی کس پر لائےگا) جب میں نے آپﷺسے اجازت چاہی تھی تو آپﷺنے مجھ سے دریافت فرمایا تھا کہ کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے ؟میں نے عرض کیا تھا کہ بیوہ سے اس پر آپﷺنے فرمایا تھا کہ کنواری سے کیوں نہ کی ، وہ تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسو لﷺ! میرے والد کی وفات ہوچکی ہے یا (یہ کہا کہ )وہ (جنگ احد) میں شہید ہوچکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں ۔اس لیے مجھے اچھا نہیں معلوم ہوا کہ انہیں جیسی کسی لڑکی کو بیاہ کے لاؤں ، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے ، نہ ان کی نگرانی کرسکے۔ اس لیے میں نے بیوہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور انہیں ادب سکھائے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر جب نبیﷺمدینہ پہنچے تو صبح کے وقت میں اسی اونٹ پر آپﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپﷺنے مجھے اس اونٹ کی قیمت عطا فرمائی اور پھر وہ اونٹ بھی واپس کردیا۔ مغیرہ راوی نے کہا: کہ ہمارے نزدیک بیع میں یہ شرط لگانا اچھا ہے کچھ برا نہیں۔
114. باب مَنْ غَزَا وَهُوَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسِهِ
فِيهِ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
115. باب مَنِ اخْتَارَ الْغَزْوَ بَعْدَ الْبِنَاءِ
فِيهِ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
116. باب مُبَادَرَةِ الإِمَامِ عِنْدَ الْفَزَعِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ " مَا رَأَيْنَا مِنْ شَىْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا "
Narrated By Anas bin Malik : Once there was a feeling of fright at Medina, so Allah's Apostle rode a horse belonging to Abu Talha and (on his return) he said, "We have not seen anything (fearful), but we found this horse very fast."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک دفعہ کچھ دہشت پھیل گئی تو رسو ل اللہﷺابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہوکر (حالات معلوم کرنے کےلیے سب سے آگے تھے) پھر آپﷺنےفرمایا: ہم نے تو کوئی بات نہیں دیکھی۔ البتہ اس گھوڑے کو ہم نے دوڑنے میں دریا کی روانی جیسا تیز پایا ہے ۔
117. باب السُّرْعَةِ وَالرَّكْضِ فِي الْفَزَعِ
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ فَزِعَ النَّاسُ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ بَطِيئًا، ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُ وَحْدَهُ، فَرَكِبَ النَّاسُ يَرْكُضُونَ خَلْفَهُ، فَقَالَ " لَمْ تُرَاعُوا، إِنَّهُ لَبَحْرٌ ". فَمَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ
Narrated By Anas bin Malik : Once the people got frightened, so Allah's Apostle rode a slow horse belonging to Abu Talha, and he set out all alone, making the horse gallop. Then the people rode, making their horses gallop after him. On his return he said, "Don't be afraid (there is nothing to be afraid of) (and I have found) this horse a very fast one." That horse was never excelled in running hence forward.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (مدینہ میں) لوگوں میں دہشت پھیل گئی تھی تو رسو ل اللہﷺ، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑ پر جو بہت سست تھا ، سوار ہوئے اور تنہا ایڑ لگاتے ہوئے آگے بڑھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپﷺکے پیچھے سوار ہوکر نکلے ۔ اس کے بعد واپسی پر آپﷺنے فرمایا: خوفزدہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے ، البتہ یہ گھوڑا دریا ہے ۔ اس دن کے بعد پھر وہ گھوڑا (دوڑ وغیرہ کے موقع پر ) کبھی پیچھے نہیں رہا۔
118. باب الْخُرُوجِ فِي الْفَزَعِ وَحْدَهُ
119. باب الْجَعَائِلِ وَالْحُمْلاَنِ فِي السَّبِيلِ
وَقَالَ مُجَاهِدٌ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ الْغَزْوُ. قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُعِينَكَ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِي. قُلْتُ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَىَّ. قَالَ إِنَّ غِنَاكَ لَكَ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مِنْ مَالِي فِي هَذَا الْوَجْهِ. وَقَالَ عُمَرُ إِنَّ نَاسًا يَأْخُذُونَ مِنْ هَذَا الْمَالِ لِيُجَاهِدُوا، ثُمَّ لاَ يُجَاهِدُونَ، فَمَنْ فَعَلَهُ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمَالِهِ، حَتَّى نَأْخُذَ مِنْهُ مَا أَخَذَ. وَقَالَ طَاوُسٌ وَمُجَاهِدٌ إِذَا دُفِعَ إِلَيْكَ شَىْءٌ تَخْرُجُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ، وَضَعْهُ عِنْدَ أَهْلِكَ
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، فَقَالَ زَيْدٌ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم آشْتَرِيهِ فَقَالَ " لاَ تَشْتَرِهِ، وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ "
Narrated By 'Umar bin Al-Khattab : I gave a horse to be used in Allah's Cause, but later on I saw it being sold. I asked the Prophet whether I could buy it. He said, "Don't buy it and don't take back your gift of charity."
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے فرما یا : میں نے اللہ کے راستے میں (جہاد کےلیے) اپنا ایک گھوڑا ایک شخص کو سواری کےلیے دے دیا تھا۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا بک رہا ہے ۔ میں نے نبیﷺسے پوچھا کہ کیا میں اسے خرید سکتا ہوں ؟ آپﷺنے فرمایا: اس گھوڑے کو تم مت خریدو ، اپنا صدقہ (خواہ خرید کر ہی ہو ) واپس مت لو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ تَبْتَعْهُ، وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ "
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : 'Umar gave a horse to be used in Allah's Cause, but later on he found it being sold. So, he intended to buy it and asked Allah's Apostle who said, "Don't buy it and don't take back your gift of charity."
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں اپنا ایک گھوڑا سواری کےلیے دے دیا تھا ۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا بک رہا ہے ۔ اپنے گھوڑے کو انہوں نے خریدنا چاہا او ررسول اللہﷺسے اس کے متعلق پوچھا تو آپﷺنے فرمایا: تم اسے مت خریدو۔ اور اس طرح اپنے صدقہ کو واپس نہ لو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ، وَلَكِنْ لاَ أَجِدُ حَمُولَةً، وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، وَيَشُقُّ عَلَىَّ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ ثُمَّ قُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Were it not for the fear that it would be difficult for my followers, I would not have remained behind any Sariya, (army-unit) but I don't have riding camels and have no other means of conveyance to carry them on, and it is hard for me that my companions should remain behind me. No doubt I wish I could fight in Allah's Cause and be martyred and come to life again to be martyred and come to life once more."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر میری امت پر یہ امر مشکل نہ گزرتا تو میں کسی سریہ(یعنی مجاہدین کا ایک چھوٹا دستہ جس کی تعداد زیادہ سے زیادہ چالیس ہو) شرکت بھی نہ چھوڑتا۔ لیکن میرے پاس سواری کے اتنے اونٹ نہیں ہیں کہ میں ان کو سوار کرکے چلوں، اور یہ مجھ پر بہت مشکل ہے کہ میرے ساتھی مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔ میری تو یہ خوشی ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں ، اور شہید کیا جاؤں ۔ پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر شہید کیا جاؤں ، اور پھر زندہ کیا جاؤں۔
120. باب الأَجِيرِ
وَقَالَ الْحَسَنُ وَابْنُ سِيرِينَ يُقْسَمُ لِلأَجِيرِ مِنَ الْمَغْنَمِ. وَأَخَذَ عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ فَرَسًا عَلَى النِّصْفِ، فَبَلَغَ سَهْمُ الْفَرَسِ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ، فَأَخَذَ مِائَتَيْنِ وَأَعْطَى صَاحِبَهُ مِائَتَيْنِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَحَمَلْتُ عَلَى بَكْرٍ، فَهْوَ أَوْثَقُ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلاً، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ، وَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَهَا فَقَالَ " أَيَدْفَعُ يَدَهُ إِلَيْكَ فَتَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ "
Narrated By Yali : I participated in the Ghazwa of Tabuk along with Allah's Apostle and I gave a young camel to be ridden in Jihad and that was, to me, one of my best deeds. Then I employed a labourer who quarrelled with another person. One of them bit the hand of the other and the latter drew his hand from the mouth of the former pulling out his front tooth. Then the former instituted a suit against the latter before the Prophet who rejected that suit saying, "Do you expect him to put out his hand for you to snap as a male camel snaps (vegetation)?"
حضرت صفوان بن یعلی اپنے والد یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں رسو ل اللہﷺکے ساتھ غزوۂ تبوک میں شریک تھا اور ایک جوان اونٹ میں نے چڑھنے کو دیا تھا ، میرے خیال میں میرا یہ عمل ، تمام دوسرے اعمال کے مقابلے میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ تھا ۔ میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا ۔ پھر وہ مزدور ایک شخص (خود یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ) سے لڑ پڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت سے کاٹ لیا۔ دوسرے نے جھٹ جو اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے آگے کا دانت ٹوٹ گیا ۔ وہ شخص نبیﷺکی خدمت میں فریادی ہوا ، لیکن آپﷺنے ہاتھ کھینچنے والے پر کوئی تاوان نہیں فرمایا ۔ بلکہ فرمایا: کیا تمہارے منہ میں وہ اپنا ہاتھ یوں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے چبا جاؤ جیسے اونٹ چباتا ہے۔