- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First89101112Last ›

91. باب الْحَرِيرِ فِي الْحَرْبِ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ فِي قَمِيصٍ مِنْ حَرِيرٍ، مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا‏

Narrated By Anas : The Prophet allowed 'Abdur-Rahman bin 'Auf and Az-Zubair to wear silken shirts because they had a skin disease causing itching.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو خارش کے مرض کی وجہ سے ریشمی کرتہ پہننے کی اجازت دے دی تھی ، جو ان دونوں کو لاحق ہوگئی تھی جو اس مرض میں مفید ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ عَبْدَ، الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرَ شَكَوَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ـ يَعْنِي الْقَمْلَ ـ فَأَرْخَصَ لَهُمَا فِي الْحَرِيرِ، فَرَأَيْتُهُ عَلَيْهِمَا فِي غَزَاةٍ‏

Narrated By Anas : Abdur Rahman bin 'Auf and Az-Zubair complained to the Prophet, i.e. about the lice (that caused itching) so he allowed them to wear silken clothes. I saw them wearing such clothes in a holy battle.

حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے نبیﷺسے جوؤں کی شکایت کی تو نبیﷺنے انہیں ریشمی کپڑے کے استعمال کی اجازت دے دی ، پھر میں نے جہاد میں انہیں ریشمی کپڑا پہنے ہوئے دیکھا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي حَرِيرٍ‏

Narrated By Anas : The Prophet allowed 'Abdur-Rahman bin 'Auf and Az-Zubair bin Al-'Awwam to wear silk.

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبیﷺنے حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دے دی تھی۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَخَّصَ أَوْ رُخِّصَ لِحِكَّةٍ بِهِمَا‏

Narrated By Anas : (Wearing of silk) was allowed to them (i.e. 'AbdurRahman and Az-Zubair) because of the itching they suffered from.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے رخصت دی تھی یا رخصت دی گئی تھی، ان دونوں حضرات کو خارش کی وجہ سے جو ان کو لاحق ہوگئی تھی۔

92. باب مَا يُذْكَرُ فِي السِّكِّينِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ مِنْ كَتِفٍ يَحْتَزُّ مِنْهَا، ثُمَّ دُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فَأَلْقَى السِّكِّينَ‏

Narrated By Umaiya Ad-Damri : I saw the Prophet eating of a shoulder (of a sheep) by cutting from it and then he was called to prayer and he prayed without repeating his ablution.

حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺکندھے کا گوشت کاٹ کر کھارہے تھے ، پھر نماز کےلیے اذان ہوئی تو آپﷺنے نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا ۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ (جب آپﷺکو نماز کےلیے بلایا گیا ) تو آپﷺنے چھری ڈال دی۔

93. باب مَا قِيلَ فِي قِتَالِ الرُّومِ

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ الأَسْوَدِ الْعَنْسِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، أَتَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ وَهْوَ نَازِلٌ فِي سَاحِلِ حِمْصَ، وَهْوَ فِي بِنَاءٍ لَهُ وَمَعَهُ أُمُّ حَرَامٍ، قَالَ عُمَيْرٌ فَحَدَّثَتْنَا أُمُّ حَرَامٍ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا ‏"‏‏.‏ قَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فِيهِمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْتِ فِيهِمْ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ أَنَا فِيهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏

Narrated By Khalid bin Madan : That 'Umair bin Al-Aswad Al-Anasi told him that he went to 'Ubada bin As-Samit while he was staying in his house at the sea-shore of Hims with (his wife) Um Haram. 'Umair said. Um Haram informed us that she heard the Prophet saying, "Paradise is granted to the first batch of my followers who will undertake a naval expedition." Um Haram added, I said, 'O Allah's Apostle! Will I be amongst them?' He replied, 'You are amongst them.' The Prophet then said, 'The first army amongst' my followers who will invade Caesar's City will be forgiven their sins.' I asked, 'Will I be one of them, O Allah's Apostle?' He replied in the negative."

- عمیر بن اسود عنسی سے روایت ہے کہ وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ رضی اللہ عنہ کا قیام ساحل حمص پر اپنے ہی ایک مکان میں تھا، اور آپ کے ساتھ (آپ کی بیوی) ام حرام رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ عمیر نے بیان کیا کہ ہم سے حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبیﷺسے سنا ہے آپﷺنے فرمایا تھا کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو دریائی سفر کرکے جہاد کےلیے جائے گا ، اس نے (اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت ) واجب کرلی ۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا تھا اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی ؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں ، تم بھی ان کے ساتھ ہوگی ۔ پھر نبی ﷺنے فرمایا: سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر (رومیوں کے بادشاہ ) کے شہر (قسطنطینیہ) پر چڑھائی کرے گا ، ان کی مغفرت ہوگی ۔ میں نے کہا: میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی اے اللہ کے رسول ﷺ! آپﷺنے فرمایا: نہیں۔

94. باب قِتَالِ الْيَهُودِ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ تُقَاتِلُونَ الْيَهُودَ حَتَّى يَخْتَبِيَ أَحَدُهُمْ وَرَاءَ الْحَجَرِ فَيَقُولُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ ‏"

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle said, "You (i.e. Muslims) will fight wi the Jews till some of them will hide behind stones. The stones will (betray them) saying, 'O 'Abdullah (i.e. slave of Allah)! There is a Jew hiding behind me; so kill him.'"

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: تم یہودیوں سے جنگ کروگے ، کوئی یہودی اگر پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر بول اٹھے گا کہ "اے اللہ کے بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا بیٹھا ہے اسے قتل کردو"۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ وَرَاءَهُ الْيَهُودِيُّ يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The Hour will not be established until you fight with the Jews, and the stone behind which a Jew will be hiding will say. "O Muslim! There is a Jew hiding behind me, so kill him."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ یہودیوں سے تمہاری جنگ نہ ہوجائے گی اور وہ پتھر بھی اس وقت بول اٹھیں گے جس کے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہوگا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ لے کر چھپا ہوا ہے اسے قتل کرڈالو۔

95. باب قِتَالِ التُّرْكِ

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ نِعَالَ الشَّعَرِ، وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ ‏"

Narrated By 'Amr bin Taghlib : The Prophet said, "One of the portents of the Hour is that you will fight with people wearing shoes made of hair; and one of the portents of the Hour is that you will fight with broad-faced people whose faces will look like shields coated with leather."

حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبیﷺنے فرمایا: قیامت کے نشانیوں میں سے ہے کہ تم ایسی قوم سے جنگ کروگے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے ۔ قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ ان لوگوں سے لڑوگے جن کے منہ چوڑے چوڑے ہوں گے گویا وہ ڈھالیں ہیں چمڑا جمی ہوئی ۔ (یعنی بہت موٹے منہ والے ہوں گے)


حَدَّثَنى سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ صِغَارَ الأَعْيُنِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ، ذُلْفَ الأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ، وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The Hour will not be established until you fight with the Turks; people with small eyes, red faces, and flat noses. Their faces will look like shields coated with leather. The Hour will not be established till you fight with people whose shoes are made of hair."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کرلوگے ، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، چہرے سرخ ہوں گے ، ناک موٹی پھیلی ہوئی ہوگی ، ان کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بند چمڑا لگی ہوئی ہوتی ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرلوگے جن کے جوتے بال کے بنے ہوئے ہوں گے۔

96. باب قِتَالِ الَّذِينَ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ ‏"‏‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَزَادَ فِيهِ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً ‏"‏ صِغَارَ الأَعْيُنِ، ذُلْفَ الأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The Hour will not be established till you fight with people wearing shoes made of hair. And the Hour will not be established till you fight with people whose faces look like shields coated with leather. " (Abu Huraira added, "They will be) small-eyed, flat nosed, and their faces will look like shields coated with leather.")

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے لڑائی نہ کرلو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرلوگے جن کے چہرے تہ شدہ ڈھالوں جیسے ہوں گے ۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ ان کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، ناک موٹی ، چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بتہ چمڑہ لگی ڈھال ہوتی ہے۔

97. باب مَنْ صَفَّ أَصْحَابَهُ عِنْدَ الْهَزِيمَةِ وَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ، وَاسْتَنْصَرَ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ أَكُنْتُمْ فَرَرْتُمْ يَا أَبَا عُمَارَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لاَ، وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ بِسِلاَحٍ، فَأَتَوْا قَوْمًا رُمَاةً، جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ، مَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ، فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ، فَأَقْبَلُوا هُنَالِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَابْنُ عَمِّهِ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ، فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ ثُمَّ قَالَ أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ثُمَّ صَفَّ أَصْحَابَهُ‏

Narrated By Al-Bara : A man asked him, "O Abu 'Umara! Did you all flee on the day (of the battle) of Hunain?" He replied, "No, by Allah! Allah's Apostle did not flee, but his young unarmed companions passed by the archers of the tribe of Hawazin and Bani Nasr whose arrows hardly missed a target, and they threw arrows at them hardly missing a shot. So the Muslims retreated towards the Prophet while he was riding his white mule which was being led by his cousin Abu Sufyan bin Al-Harith bin 'Abdul Muttalib. The Prophet dismounted and invoked Allah for victory; then he said, 'I am the Prophet, without a lie; I am the son of 'Abdul Muttalib, and then he arranged his companions in rows."

ابو اسحاق نے بیان کیا کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے ایک صاحب نے پوچھا تھا کہ ابو عمارہ! کیا آپ لوگوں نے حنین کی لڑائی میں فرار اختیار کیا تھا ؟ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺنے پشت ہرگز نہیں پھیری تھی۔ البتہ آپﷺکے اصحاب میں جو نوجوان تھے بے سرو سامان جن کے پاس نہ زرہ تھی، نہ خود اور کوئی ہتھیار بھی نہیں لے گئے تھے ، انہوں نے ضر ور میدان چھوڑ دیا تھا کیونکہ مقابلہ میں ہوازن اور بنو نصر کے بہترین تیز انداز تھے کہ کم ہی ان کا کوئی تیر خطا جاتا۔ چنانچہ انہوں نے خوب تیر برسائے اور شاید ہی کوئی نشانہ ان کا خطا ہوا ہو(اس دوران میں مسلمان ) نبی ﷺکے پاس آکر جمع ہوگئے ۔ آپﷺاپنے سفید خچر پر سوار تھے اور آپﷺکے چچیرے بھائی ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب آپﷺکی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ آپﷺنے سواری سے اتر کر اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا مانگی ۔ پھر فرمایا: میں نبی ہوں اس میں غلط بیانی کا کوئی شائبہ نہیں ، میں عبد المطلب کی اولاد ہوں۔اس کے بعد آپﷺنے اپنے اصحاب کی صف بندی کی ۔

98. باب الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بِالْهَزِيمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَلأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا، شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ‏"

Narrated By 'Ali : When it was the day of the battle of Al-Ahzab (i.e. the clans), Allah's Apostle said, "O Allah! Fill their (i.e. the infidels') houses and graves with fire as they busied us so much that we did not perform the prayer (i.e. 'Asr) till the sun set."

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہﷺنے (مشرکین کو) یہ بد دعا دی کہ اے اللہ ! ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہم کو صلاۃ و سطی (عصر کی نماز) نہیں پڑھنے دی ۔(یہ آپﷺنے اس وقت فرمایا) جب سورج غروب ہوچکا تھا ، اور عصر کی نماز قضا ہوگئی تھی۔


حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو فِي الْقُنُوتِ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"

Narrated By Abu Huraira : The Prophet used to recite the following invocations during Qunut: "O Allah! Save Salama bin Hisham. O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid. O Allah! Save 'Aiyash bin Rabi'a O Allah ! Save the weak Muslims. O Allah! Be very hard on Mudar tribe. O Allah! Afflict them with years (of famine) similar to the (famine) years of the time of Prophet Joseph."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ(صبح کی ) دعائے قنوت میں یہ دعا پڑھتے تھے: اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دے ، اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ ! تمام کمزور مسلمانوں کو نجات دے ۔ اے اللہ ! مضر پر اپنا سخت عذاب نازل کر ۔ اے اللہ ! ایسا قحط نازل کر جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin Abi Aufa : Allah's Apostle invoked evil upon the pagans on the ay (of the battle) of Al-Ahzab, saying, "O Allah! The Revealer of the Holy Book, the Swift-Taker of Accounts, O Allah, defeat Al-Ahzab (i.e. the clans), O Allah, defeat them and shake them."

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺنے غزوۂ احزاب کے موقع پر دعا کی تھی : اے اللہ ! کتاب کے نازل کرنے والے (قیامت کے دن ) بڑی سرعت سے حساب لینے والے ، اے اللہ!مشرکوں اور کفار کی جماعتوں کو شکست دے۔ اےاللہ ! انہیں شکست دے اور انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ، وَنُحِرَتْ جَزُورٌ بِنَاحِيَةِ مَكَّةَ، فَأَرْسَلُوا فَجَاءُوا مِنْ سَلاَهَا، وَطَرَحُوهُ عَلَيْهِ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَلْقَتْهُ عَنْهُ، فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ‏"‏‏.‏ لأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُبَىِّ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ فِي قَلِيبِ بَدْرٍ قَتْلَى‏.‏ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَنَسِيتُ السَّابِعَ‏.‏ وَقَالَ يُوسُفُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ‏.‏ وَقَالَ شُعْبَةُ أُمَيَّةُ أَوْ أُبَىٌّ‏.‏ وَالصَّحِيحُ أُمَيَّةُ‏

Narrated By Abdullah : Once the Prophet was offering the prayer in the shade of the Ka'ba. Abu Jahl and some Quraishi men sent somebody to bring the abdominal contents of a shecamel which had been slaughtered somewhere in Mecca, and when he brought them, they put them over the Prophet Then Fatima (i.e. the Prophet's daughter) came and threw them away from him, and he said, "O Allah! Destroy (the pagans of) Quraish; O Allah! Destroy Quraish; O Allah Destroy Quraish," naming especially Abu Jahl bin Hisham, 'Utba bin Rabi'a, Shaiba bin Rabi'a, Al Walid bin 'Utba, Ubai bin Khalaf and 'Uqba bin Abi Mitt. (The narrator, 'Abdullah added, "I saw them all killed and thrown in the Badr well).

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبیﷺکعبہ کے سائے میں نماز پڑھ رہے تھے ۔ ابو جہل اور قریش کے بعض دوسرے لوگوں نے کہا: اونٹ کی اوجھڑی لاکر کون ان پر ڈالے گا؟مکہ کے کنارے ایک اونٹ ذبح ہوا تھا (اور اسی کی اوجھڑی لانے کے واسطے) ان سبھوں نے اپنے آدمی بھیجے اور وہ اس اونٹ کی اوجھڑی اٹھالائے اور اسے نبیﷺکے اوپر ڈال دیا۔ اس کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے آپﷺکے اوپر سے اس گندگی کو ہٹایا۔ آپﷺنے اس وقت یہ بد دعا کی کہ اے اللہ ! قریش کو پکڑ، اے اللہ! قریش کو پکڑ ، اے اللہ ! قریش کو پکڑ، ابو جہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ولید بن عتبہ ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط سب کو پکڑ لے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ میں نے ان سب کو جنگ بدر میں بدر کے کنویں میں دیکھا کہ تمام کو قتل کرکے اس میں ڈال دیا گیا تھا ۔ ابو اسحاق نے کہا: میں ساتویں شخص کا نام بھول گیا اور یوسف بن ابی اسحاق نے کہا: ان سے ابو اسحاق نے (سفیان کی روایت میں ابی بن خلف کی بجائے ) امیہ بن خلف بیان کیا اور شعبہ نے کہا: امیہ یا ابی ، لیکن صحیح امیہ ہے۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ الْيَهُودَ، دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ‏.‏ فَلَعَنْتُهُمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ ‏"‏ فَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : Once the Jews came to the Prophet and said, "Death be upon you." So I cursed them. The Prophet said, "What is the matter?" I said, "Have you not heard what they said?" The Prophet said, "Have you not heard what I replied (to them)? (I said), ('The same is upon you.')"

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بعض یہودی نبیﷺکی خدمت میں تشریف لائے اور کہا: السام علیکم (تم پر موت آئے) میں نے ان پر لعنت بھیجی ۔ آپﷺنے فرمایا: کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا: کیا انہوں نے بھی جو کہا تھا آپﷺنے نہیں سنا ؟ آپﷺنے فرمایا: کیا اور تم نے نہیں سنا کہ میں نے اس کا کیا جواب دیا " وعلیکم " یعنی تم پر بھی وہی آئے (یعنی میں نے کوئی برا لفظ زبان سے نہیں نکالا صرف ان کی بات ان ہی پر لوٹادی)

99. باب هَلْ يُرْشِدُ الْمُسْلِمُ أَهْلَ الْكِتَابِ أَوْ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ، وَقَالَ ‏"‏ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin Abbas : Allah's Apostle wrote a letter to Caesar saying, "If you reject Islam, you will be responsible for the sins of the peasants (i.e. your people)."

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺنے (روم کے بادشاہ ) قیصر کو ( خط) لکھا جس میں آپﷺنے یہ بھی لکھا تھا کہ اگر تم نے (اسلام کی دعوت سے ) منہ موڑا تو (اپنے گناہ کے ساتھ ) ان کاشتکاروں کا بھی گناہ تم پر پڑے گا(جن پر تم حکمرانی کررہے ہو)۔

100. باب الدُّعَاءِ لِلْمُشْرِكِينَ بِالْهُدَى لِيَتَأَلَّفَهُمْ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه قَدِمَ طُفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ دَوْسًا عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا‏.‏ فَقِيلَ هَلَكَتْ دَوْسٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Tufail bin 'Amr Ad-Dausi and his companions came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! The people of the tribe of Daus disobeyed and refused to follow you; so invoke Allah against them." The people said, "The tribe of Daus is ruined." The Prophet said, "O Allah! Give guidance to the people of Daus, and let them embrace Islam."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آپﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ!قبیلہ دوس کے لوگ سرکشی پر اتر آئے ہیں اور اللہ کا کلام سننے سے انکار کرتے ہیں ۔ آپﷺان پر بددعا کیجئے ! بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اب دوس کے لوگ برباد ہوجائیں گے ۔ لیکن آپﷺنے فرمایا: اے اللہ ! دوس کے لوگوں کو ہدایت دے اور انہیں (دائرہ اسلام میں) کھینچ لا۔

‹ First89101112Last ›