- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First1314151617Last ›

141. باب الْجَاسُوسِ وَ التَّجَسُّسُ : التَّبَحُّثُ

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ‏}‏

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعْتُهُ مِنْهُ، مَرَّتَيْنِ قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ قَالَ ‏"‏ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً وَمَعَهَا كِتَابٌ، فَخُذُوهُ مِنْهَا ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الرَّوْضَةِ، فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ‏.‏ فَقَالَتْ مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ‏.‏ فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ‏.‏ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا حَاطِبُ، مَا هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لاَ تَعْجَلْ عَلَىَّ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ بِمَكَّةَ، يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي، وَمَا فَعَلْتُ كُفْرًا وَلاَ ارْتِدَادًا وَلاَ رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ صَدَقَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَأَىُّ إِسْنَادٍ هَذَا‏.

Narrated By 'Ubaidullah bin Abi Rafi : I heard 'Ali saying, "Allah's Apostle sent me, Az-Zubair and Al-Miqdad somewhere saying, 'Proceed till you reach Rawdat Khakh. There you will find a lady with a letter. Take the letter from her.' " So, we set out and our horses ran at full pace till we got at Ar-Rawda where we found the lady and said (to her). "Take out the letter." She replied, "I have no letter with me." We said, "Either you take out the letter or else we will take off your clothes." So, she took it out of her braid. We brought the letter to Allah's Apostle and it contained a statement from Hatib bin Abi Balta a to some of the Meccan pagans informing them of some of the intentions of Allah's Apostle. Then Allah's Apostle said, "O Hatib! What is this?" Hatib replied, "O Allah's Apostle! Don't hasten to give your judgment about me. I was a man closely connected with the Quraish, but I did not belong to this tribe, while the other emigrants with you, had their relatives in Mecca who would protect their dependents and property. So, I wanted to recompense for my lacking blood relation to them by doing them a favour so that they might protect my dependents. I did this neither because of disbelief not apostasy nor out of preferring Kufr (disbelief) to Islam." Allah's Apostle, said, "Hatib has told you the truth." Umar said, O Allah's Apostle! Allow me to chop off the head of this hypocrite." Allah's Apostle said, "Hatib participated in the battle of Badr, and who knows, perhaps Allah has already looked at the Badr warriors and said, 'Do whatever you like, for I have forgiven you."

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے عمرو بن دینار نے مٰیں نے ان سے یہ حدیث دوبار سنی کہا مجھ کو حسن بن محمد نے خبر دی کہا مجھ کو عبید اللہ بن ابی رافع نے کہا میں نے علیؓ سے سنا وہ کہتے تھے مجھ کو اور زبیر اور مقداد بن اسود کو رسول اللہ ﷺ نے بھیجا فر مایا روضئہ خاخ میں جاؤ (ایک مقام کا نام ہے مدینہ سے بارہ میل پر)وہاں تم کو ایک عورت (سارہ یا کنور )اونٹ پر سوار ملے گی۔اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے لو۔یہ سن کر ہم گھوڑوں کو دوڑاتے چلے،روضئہ خاخ میں پہنچے،دیکھا تو واقعی ایک عورت (اونٹ پر سوار )جارہی ہے۔ہم نے اس سے کہا چل خط نکال۔وہ کہنے لگی میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ہم نے کہا اب خط نکال کر دیتی ہے یا ہم تیرے کپڑے اتاریں جب اس نے (مجبور ہو کر)اپنے جوڑے سے ایک خط نکال کر دیا ہم وہ خط لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے دیکھا تو اس میں یہ لکھا تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ والے چند مشرکوں کے نام اس میں رسول اللہ ﷺ کے بعضے ارادوں کا بیان تھا۔رسول اللہ ﷺ نے حاطب سے پوچھا حاطب یہ تو نے کیا کیا ؟ وہ کہنے لگا یا رسولؐ اللہ جلدی نہ فرمایئے (میرا حال اچھی طرح سن لیجئے )میں ایسا شخص ہوں جو قریش میں آ کر مل گیا ،اصل قریش نہیں ہوں اور دوسرے مہاجرین جو آپؐ کے ساتھ ہیں ان سب کی مکہ والوں سے رشتہ داری ہے جس کی وجہ سے ان کا گھر بار مال اسباب بچا ہو اہے تو میں نے یہ چاہا کہ کوئی احسان ہی ان پر پیدا کروں کیونکہ رشتہ داری تو ہے نہیں جس کی وجہ سے میرے ناطے والے بچے رہیں۔میں نے یہ کام اس لئے نہیں کیا کہ میں (خدا نخواستہ)کافر ہوں یا مرتد ،نہ میں مسلمان ہو کر پھر کفر کو پسند کرتا ہوں ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حاطب سچ کہتا ہے۔عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ! اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن ماروں آپؐ نے فرمایا وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوچکا ہے اور تجھے معلوم نہیں شاید اللہ تعالیٰ نے بدر والوں کو دیکھا اور فرمایا ۔اب تم چاہو جیسے اعمال کرو،میں تم کو بخش چکا سفیان نے کہا اس حدیث کی سند بھی کیا عمدہ سند ہے۔

142. باب الْكِسْوَةِ لِلأُسَارَى

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ أُتِيَ بِأُسَارَى، وَأُتِيَ بِالْعَبَّاسِ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثَوْبٌ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَهُ قَمِيصًا فَوَجَدُوا قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ يَقْدُرُ عَلَيْهِ، فَكَسَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهُ، فَلِذَلِكَ نَزَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَمِيصَهُ الَّذِي أَلْبَسَهُ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يُكَافِئَهُ‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : When it was the day (of the battle) of Badr, prisoners of war were brought including Al-Abbas who was undressed. The Prophet looked for a shirt for him. It was found that the shirt of 'Abdullah bin Ubai would do, so the Prophet let him wear it. That was the reason why the Prophet took off and gave his own shirt to 'Abdullah. (The narrator adds, "He had done the Prophet some favour for which the Prophet liked to reward him.")

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے،انہوں نے عمرو بن دینار سے،انہوں نے جابر بن عبداللہ سے سنا انہوں نے کہا جب بدر کا دن ہوا اور کافروں کے قیدی حاضر کئے گئے۔عباسؓ (آپؐ کےچچا کو)بھی لائے۔وہ ننگے تھے۔نبیﷺ نے ان کے بدن کے موافق کوئی کرتا تلاش کیا دیکھا تو عبداللہ بن ابی(منافق) کا کرتہ ان کے بدن پرٹھیک تھا۔آپؐ نے وہی کرتہ ان کو پہنا دیااور یہی سبب تھا جو نبیﷺ نے اپنا کرتہ اتار کر عبداللہ بن ابی کو (اس کے مرےبعد) پہنا دیا۔ابن عیینہ نے کہا عبداللہ بن ابی کا احسان نبیﷺ پر تھا آپؐ نے اس کے احسان کو بدلہ کر دینا چاہا(تاکہ منافق کا احسان نہ رہے)

143. باب فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ رَجُلٌ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَهْلٌ ـ رضى الله عنه يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ ‏"‏ لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلاً يُفْتَحُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏‏.‏ فَبَاتَ النَّاسُ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَى فَغَدَوْا كُلُّهُمْ يَرْجُوهُ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ عَلِيٌّ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ، فَبَرَأَ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ فَقَالَ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ، فَوَاللَّهِ لأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلاً خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ ‏"‏‏

Narrated By Sahl : On the day (of the battle) of Khaibar the Prophet said, "Tomorrow I will give the flag to somebody who will be given victory (by Allah) and who loves Allah and His Apostle and is loved by Allah and His Apostle." So, the people wondered all that night as to who would receive the flag and in the morning everyone hoped that he would be that person. Allah's Apostle asked, "Where is 'Ali?" He was told that 'Ali was suffering from eye-trouble, so he applied saliva to his eyes and invoked Allah to cure him. He at once got cured as if he had no ailment. The Prophet gave him the flag. 'Ali said, "Should I fight them till they become like us (i.e. Muslim)?" The Prophet said, "Go to them patiently and calmly till you enter the land. Then, invite them to Islam, and inform them what is enjoined upon them, for, by Allah, if Allah gives guidance to somebody through you, it is better for you than possessing red camels."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبد القاری نے انہوں نے ابو حازم (سلمہ بن دینار)سے انہوں نے کہامجھ کو سہل بن سعد انصاری صحابیؓ نے خبر دی ،انہوں نے کہا نبیﷺ نے جنگ خیبر کے دن فرمایا کل میں ایسے شخص کو (سرداری کا )جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ خیبر کو فتح کرادے گا۔وہ اللہ اور رسولؐ سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور رسولؐ اس سے محبت رکھتے ہیں۔یہ سن کر لوگ رات بھر اس خیال میں رہے دیکھو کس کو جھنڈا ملتا ہے۔ہر شخص امیدوار تھا (صبح کو )آپؐ نے فرمایاعلیؓ کہاں ہیں؟لوگوں نے کہا ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں(خیر وہ آئے) آپؐ نے ان کی آنکھوں پر تھوک دیا اور ان کے لئے دعا فرمائی وہ بالکل اچھے ہوگئے جیسے کوئی عارضہ ہی نہ تھا۔پھر آپؐ نے جھنڈا ان کے حوالے کیا۔انہوں نے پوچھا کیا میں ان سے لڑوں جب تک وہ ہماری طرح (مسلمان) نہ ہوجایئں۔آپؐ نے فرمایا چپکے چلا جا اور اُن کے مقام پر اتر پڑ پھر ان کو مسلمان ہونے کے لئے کہہ اور اسلام میں جو جو باتیں ضرور ہیں(ارکانِ اسلام)وہ ان کو بتلا دے قسم خدا کی اگر تیرے سبب سے اللہ ایک شخص کو راہ پر لائے (ایمان کی توفیق دے)وہ تیرے حق میں لال لال اونٹوں سے بڑھ کر ہے۔

144. باب الأُسَارَى فِي السَّلاَسِلِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ قَوْمٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي السَّلاَسِلِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Allah wonders at those people who will enter Paradise in chains."

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر نے کہا ہم سے شعبہ نے،انہوں نے محمد بن زیاد سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے،انہوں نےنبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر تعجب کیا جو زنجیریں پہنے ہوئے بہشت میں داخل ہوتے ہیں(یعنی مسلمان ہوتے ہیں)

145. باب فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَىٍّ أَبُو حَسَنٍ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ ثَلاَثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الأَمَةُ فَيُعَلِّمُهَا فَيُحْسِنُ تَعْلِيمَهَا، وَيُؤَدِّبُهَا فَيُحْسِنُ أَدَبَهَا، ثُمَّ يُعْتِقُهَا فَيَتَزَوَّجُهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَمُؤْمِنُ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِي كَانَ مُؤْمِنًا، ثُمَّ آمَنَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَهُ أَجْرَانِ، وَالْعَبْدُ الَّذِي يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ وَيَنْصَحُ لِسَيِّدِهِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ وَأَعْطَيْتُكَهَا بِغَيْرِ شَىْءٍ وَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِي أَهْوَنَ مِنْهَا إِلَى الْمَدِينَةِ‏

Narrated By Abu Burda's father : The Prophet said, "Three persons will get their reward twice. (One is) a person who has a slave girl and he educates her properly and teaches her good manners properly (without violence) and then manumits and marries her. Such a person will get a double reward. (Another is) a believer from the people of the scriptures who has been a true believer and then he believes in the Prophet (Muhammad). Such a person will get a double reward. (The third is) a slave who observes Allah's Rights and Obligations and is sincere to his master."

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے صالح بن حی ابوحسن نے کہا میں نے عامر شعبی سے سنا وہ کہتے تھے مجھ سے ابو بردہ نے بیان کیا ،انہوں نے اپنے والد ابو موسی اشعری سے سنا،انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا تین آدمیوں کو دوہرا ثواب ملے گا ۔ایک تو اس کو جس کی ایک لونڈی ہو ۔وہ اس کی اچھی تعلیم اور تربیت کرے،ادب تمیز سکھلائے پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کرے اس کو دوہرا ثواب ملے گا،دوسرے اس یہودی یا نصرانی کو جو اپنے پیغمبر پر ایمان رکھتا تھا پھر نبیﷺ پر بھی ایمان لائے مسلمان ہو جائے اس کو بھی دوہرا ثواب ملے گا تیسرے اس غلام کو جو اللہ اور اپنے سردار دونوں کا حق ادا کرے۔یہ حدیث بیان کرکے شعبی نے صالح سے کہا ہم نے یہ حدیث بن محنت تجھ کو سنا دی اور اس سے کم حدیث سننے کے لئے لوگ مدینہ منورہ تک سفر کیا کرتے۔

146. باب أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ الْوِلْدَانُ وَالذَّرَارِيُّ

‏{‏بَيَاتًا‏}‏ لَيْلاً

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالأَبْوَاءِ ـ أَوْ بِوَدَّانَ ـ وَسُئِلَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَّتُونَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ قَالَ ‏"‏ هُمْ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ لاَ حِمَى إِلاَّ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏‏

Narrated By As-Sab bin Jaththama : The Prophet passed by me at a place called Al-Abwa or Waddan, and was asked whether it was permissible to attack the pagan warriors at night with the probability of exposing their women and children to danger. The Prophet replied, "They (i.e. women and children) are from them (i.e. pagans)." I also heard the Prophet saying, "The institution of Hima is invalid except for Allah and His Apostle."

ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے زہری نے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عقبہ سے انہوں نے ابن عباس سے،انہوں نے صعب بن جثامہ سے انہوں نے کہا نبیﷺ ابواء یا ودان میں میرے رستے سے گزرے۔آپؐ سے پوچھا گیا کہ جن مشرکوں سے لڑائی ہے اگر شبخون میں ان کے عورتیں بچے مارے جایئں تو کیسا ہے آپؐ نے فرمایا عورتیں بچے بھی آخر انہی میں کے ہیں اور میں نے آپؐ سے سنا،فرماتے تھے محفوظ چراگاہ(رمنہ)اللہ اور اسکے رسولؐ کے سوا کسی کی نہیں ہوسکتی۔


وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا الصَّعْبُ، فِي الذَّرَارِيِّ كَانَ عَمْرٌو يُحَدِّثُنَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ، قَالَ ‏"‏ هُمْ مِنْهُمْ ‏"‏ وَلَمْ يَقُلْ كَمَا قَالَ عَمْرٌو ‏"‏ هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ ‏"

(As above H.3012)

اور سفیان بن عیینہ نے زہری سے روایت کی،انہوں نے عبید اللہ سے سنا،انہوں نے ابن عباسؓ سے کہا صعب بن جثامہ نے مشرکوں کی عورتوں اور بچوں کے باب میں ہم سے حدیث بیان کی سفیان نے کہا عمرو بن دینار نے ہم سے یہ حدیث ابن شہاب سے وہ نبیﷺ سے مرسلاً بیان کرتے تھے پھر ہم نے زہری سے اس حدیث کو یوں سنا انہوں نے کہا مجھ کو عبید اللہ نے خبر دی،انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے صعب بن جثامہ سے یعنی متصلاً بیان کیا۔اس روایت میں یوں ہے کہ آپؐ نے فرمایا آخر عورتیں بچے انہی میں کے ہیں اور عمر و بن دینار کی طرح یوں نہیں کہا کہ آخر عورتیں بچے بھی اپنے باپ دادا ہی کی اولاد ہیں۔

147. باب قَتْلِ الصِّبْيَانِ فِي الْحَرْبِ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ‏

Narrated By 'Abdullah : During some of the Ghazawat of the Prophet a woman was found killed. Allah's Apostle disapproved the killing of women and children.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا کہا ہم کو لیث نے خبر دی،انہوں نے نافع سے،انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے،انہوں نے کہا نبیﷺ کی ایک لڑائی (غزؤہ فتح) میں ایک عورت کو دیکھا گیا جو قتل کی گئی تھی۔آپؐ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔

148. باب قَتْلِ النِّسَاءِ فِي الْحَرْبِ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ‏

Narrated By Ibn 'Umar : During some of the Ghazawat of Allah's Apostle a woman was found killed, so Allah's Apostle forbade the killing of women and children.

ہم سے اسحق بن ابراہیم نے بیان کیا کہا میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا تم سے عبید اللہ نے،انہوں نے نافع سے،انہوں نے ابن عمرؓ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک جہاد میں ایک عورت کو دیکھا گیا وہ قتل کی گئی تھی تو آپؐ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا؟۔(ابو اسامہ نے کہا ہاں)

149. باب لاَ يُعَذَّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْثٍ فَقَالَ ‏"‏ إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ ‏"‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ ‏"‏ إِنِّي أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلاَنًا وَفُلاَنًا، وَإِنَّ النَّارَ لاَ يُعَذِّبُ بِهَا إِلاَّ اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle sent us in a mission (i.e. am army-unit) and said, "If you find so-and-so and so-and-so, burn both of them with fire." When we intended to depart, Allah's Apostle said, "I have ordered you to burn so-and-so and so-and-so, and it is none but Allah Who punishes with fire, so, if you find them, kill them."

ہم سے قتیبہ بن سعد نے بیان کیاکہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے بکیر بن عبداللہ سے،انہوں نے سلیمان بن یسار سے،انہوں نے ابوہریرہؓ سے ،انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک لشکر میں بھیجا (اس کے سردار حمزہ بن عمرو اسلمی تھے)آپؐ نے (پہلے)یوں فرمایا اگر تم فلاں فلاں شخص کو پانا تو آ گ میں جلا ڈالنا مگر آ گ سے اللہ کے سوا اور کسی کو عذاب نہیں کرنا چاہیئے تو اگر تم ان کو پاؤ تو قتل کر ڈالو۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ حَرَّقَ قَوْمًا، فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ، لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ وَلَقَتَلْتُهُمْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ ‏"

Narrated By Ikrima : Ali burnt some people and this news reached Ibn 'Abbas, who said, "Had I been in his place I would not have burnt them, as the Prophet said, 'Don't punish (anybody) with Allah's Punishment.' No doubt, I would have killed them, for the Prophet said, 'If somebody (a Muslim) discards his religion, kill him.'"

ہم سے علی بن عبد الل مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے،انہوں نے ایوب سختیانی سے،انہوں نے عکرمہ سے کہ علیؓ نے کچھ لوگوں کو آگ سے جلوایا یہ خبر عبداللہ بن عباسؓ کو پہنچی انہوں نےکہا اگر میں علیؓ کی جگہ (خلیفہ) ہوتا تو کبھی ان کو نہ جلواتا کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو عذاب نہ دو البتہ قتل کروا ڈالتا جیسے نبیﷺ نے فرمایا جو شخص اپنا دین بدل ڈالے (اسلام سے پھر جائے)اس کو مار ڈالو۔

150. باب ‏

{‏فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً‏}‏ فِيهِ حَدِيثُ ثُمَامَةَ، وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى‏}‏ الآيَةَ‏

 

‹ First1314151617Last ›