151. باب هَلْ لِلأَسِيرِ أَنْ يَقْتُلَ وَيَخْدَعَ الَّذِينَ أَسَرُوهُ حَتَّى يَنْجُوَ مِنَ الْكَفَرَةِ
فِيهِ الْمِسْوَرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
152. باب إِذَا حَرَّقَ الْمُشْرِكُ الْمُسْلِمَ هَلْ يُحَرَّقُ
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَهْطًا، مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْغِنَا رِسْلاً. قَالَ " مَا أَجِدُ لَكُمْ إِلاَّ أَنْ تَلْحَقُوا بِالذَّوْدِ ". فَانْطَلَقُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا حَتَّى صَحُّوا وَسَمِنُوا، وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ، فَأَتَى الصَّرِيخُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَبَعَثَ الطَّلَبَ، فَمَا تَرَجَّلَ النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ أَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَكَحَلَهُمْ بِهَا، وَطَرَحَهُمْ بِالْحَرَّةِ، يَسْتَسْقُونَ فَمَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا. قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ قَتَلُوا وَسَرَقُوا وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم وَسَعَوْا فِي الأَرْضِ فَسَادًا
Narrated By Anas bin Malik : A group of eight men from the tribe of 'Ukil came to the Prophet and then they found the climate of Medina unsuitable for them. So, they said, "O Allah's Apostle! Provide us with some milk." Allah's Apostle said, "I recommend that you should join the herd of camels." So they went and drank the urine and the milk of the camels (as a medicine) till they became healthy and fat. Then they killed the shepherd and drove away the camels, and they became unbelievers after they were Muslims. When the Prophet was informed by a shouter for help, he sent some men in their pursuit, and before the sun rose high, they were brought, and he had their hands and feet cut off. Then he ordered for nails which were heated and passed over their eyes, and whey were left in the Harra (i.e. rocky land in Medina). They asked for water, and nobody provided them with water till they died (Abu Qilaba, a sub-narrator said, "They committed murder and theft and fought against Allah and His Apostle, and spread evil in the land.")
ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب بن خالد نے انہوں نے ایوب سختیانی سے،انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے انسؓ بن مالک سے انہوں نے کہا عکل قبیلے کے آٹھ آدمی نبیﷺ کے پاس آئے (مسلمان ہوگئے )ان کو مدینہ کی ہوا موافق نہ آئی۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ ہم کو دودھ پلوائیے (یہ ہماری دوا ہے)آپؐ نے فرمایا دودھ میں کہا ں سے لاؤں۔تم ایسا کرو صدقے کے اونٹو ں میں جارہو۔وہ گئے ان کا دودھ موت پی کر تندرست اور موٹے تازے ہوئے تو چروا ہے(یسار) کو مار کر اونٹ بھگالے گئے ۔اسلام سے بھی پھر گئے۔کوئی فریاد کرتا ہوا نبیﷺ تک پہنچا ۔آپؐ نے سواروں کو ان کے پیچھے دوڑایا۔بیس سوار تھے۔(ان کے سردار کرز بن جابر فہری تھے،ابھی دن نہیں چڑھا تھا کہ وہ گرفتار ہو کر لائے گئے آپؐ نے ان کے ہاتھ پاؤں (آگے پیچھے سے)کٹوائے ،پھر لوہے کی سلائیاں گرم کراکے ان کی آنکھوں میں پھروایئں اور ان کو مدینہ کی پتھریلی گرم زمین میں ڈال دیا پانی مانی مانگتے تھے کوئی پانی نہیں دیتا تھا یہان تک کہ مر گئے ابو قلابہ نے کہا ان لوگوں نے خون کیا چوری کی ڈاکہ مارا اور اللہ اور اس کے رسولؐ سے لڑے ،مرتد ہوگئے اور ملک میں دھندامچایا۔
153. باب
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ اللهَ"
Narrated Abu Huaraira(R.A.): I heard Allah's Messenger(s.a.w.) saying, " An ant bit a Prophet amongst the Prophets and he ordered that the place of the ants be burnt.So, Allah inspired to him, 'It is because one ant bit you that you burnt a nation amongst the nations that glorify Allah?"
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے ، انہوں نے یونس سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور ابو سلمہ سے کہ ابو ہریرہؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے ایسا ہوا کہ ایک پیغمبر (عزیر یا مو سٰی علیہما السلام) کو ایک چیونٹی نے کاٹ کھایا ۔ انہوں نے حکم دیا چیونٹیوں کا سارا جتھہ جلا دیا گیا تب اللہ نے ان کو وحی بھیجی تجھے ایک چیونٹی نے کاٹا تونے اللہ کی اتنی خلقت جلا دی جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی ؟
154. باب حَرْقِ الدُّورِ وَالنَّخِيلِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرٌ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ". وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ ـ قَالَ ـ وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ". فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخْبِرُهُ فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْوَفُ أَوْ أَجْرَبُ. قَالَ فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ
Narrated By Jarir : Allah's Apostles said to me, "Will you relieve me from Dhul-Khalasa? Dhul-Khalasa was a house (of an idol) belonging to the tribe of Khath'am called Al-Ka'ba Al-Yama-niya. So, I proceeded with one hundred and fifty cavalry men from the tribe of Ahmas, who were excellent knights. It happened that I could not sit firm on horses, so the Prophet , stroke me over my chest till I saw his finger-marks over my chest, he said, 'O Allah! Make him firm and make him a guiding and rightly guided man.' " Jarir proceeded towards that house, and dismantled and burnt it. Then he sent a messenger to Allah's Apostle informing him of that. Jarir's messenger said, "By Him Who has sent you with the Truth, I did not come to you till I had left it like an emancipated or gabby camel (i.e. completely marred and spoilt)." Jarir added, "The Prophet asked for Allah's Blessings for the horses and the men of Ahmas five times."
ہم سےمسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیی قطان نے،انہوں نے اسمعیل سے کہا مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ بجلی نے کہا مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جریر تو ذی الخلصہ کو تباہ کر کے مجھ کو آرام نہیں دیتا؟ذی الخلصہ ایک بت خانہ تھا،خثعم قبیلے میں جس کو یمن کا کعبہ کہا کرتے تھے۔جریر نے کہا میں یہ سن کر أحمس کے ڈیڑھ سو سواروں کے ساتھ چلا،وہ گھوڑے کی سواری خوب جانتے تھے میرا پاؤں گھوڑے پر نہیں جمتا تھا آپﷺ نے میرے سینے پر ایک ہاتھ مارا۔میں نے آپؐ کی انگلیوں کے نشان اپنے سینے پر دیکھے(اتنے زور سے مارا)اور یہ دعا کی یا اللہ اس کو گھوڑے پر جما دے اور اس کو راہ بتانے والا اور ارادہ پایا ہوا کر دے غرض جریر وہاں گئے اور ذوالخلصہ کو توڑا اور جلا دیا پھر ایک شخص ابو ارطا ۃحصین بن ربیعہ کو آپؐ کے پاس بھیجا یہ خبر بیان کرنے کو۔یہ شخص جس کو جریر نے بھیجا تھا کہنے لگاقسم اس خدا کی جس نے آپؐ کو سچا بنا کر بھیجا میں تو آپؐ کے پاس اس وقت آیا جب ذوالخلصہ کو کھوکھلا یا خارشی اونٹ کی طرح جلا بھنا کر دیا ۔جریر نے کہا پھر آپ ﷺ نے احمس کے گھوڑوں اور سواروں کیلئے پانچ بار برکت کی دعا کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ حَرَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet burnt the date-palms of Bani An-Nadir.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی انہوں نے موسی بن عقبہ سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے کی نبیﷺ نے بنی نضیر یہودیوں کے کھجور کے درخت جلا دیئے۔
155. باب قَتْلِ الْمُشْرِكِ النَّائِمِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَهْطًا مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى أَبِي رَافِعٍ لِيَقْتُلُوهُ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَدَخَلَ حِصْنَهُمْ قَالَ فَدَخَلْتُ فِي مَرْبِطِ دَوَابَّ لَهُمْ، قَالَ وَأَغْلَقُوا باب الْحِصْنِ، ثُمَّ إِنَّهُمْ فَقَدُوا حِمَارًا لَهُمْ، فَخَرَجُوا يَطْلُبُونَهُ، فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ أُرِيهِمْ أَنَّنِي أَطْلُبُهُ مَعَهُمْ، فَوَجَدُوا الْحِمَارَ، فَدَخَلُوا وَدَخَلْتُ، وَأَغْلَقُوا باب الْحِصْنِ لَيْلاً، فَوَضَعُوا الْمَفَاتِيحَ فِي كَوَّةٍ حَيْثُ أَرَاهَا، فَلَمَّا نَامُوا أَخَذْتُ الْمَفَاتِيحَ، فَفَتَحْتُ باب الْحِصْنِ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ. فَأَجَابَنِي، فَتَعَمَّدْتُ الصَّوْتَ، فَضَرَبْتُهُ فَصَاحَ، فَخَرَجْتُ ثُمَّ جِئْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ كَأَنِّي مُغِيثٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ، وَغَيَّرْتُ صَوْتِي، فَقَالَ مَا لَكَ لأُمِّكَ الْوَيْلُ قُلْتُ مَا شَأْنُكَ قَالَ لاَ أَدْرِي مَنْ دَخَلَ عَلَىَّ فَضَرَبَنِي. قَالَ فَوَضَعْتُ سَيْفِي فِي بَطْنِهِ، ثُمَّ تَحَامَلْتُ عَلَيْهِ حَتَّى قَرَعَ الْعَظْمَ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَأَنَا دَهِشٌ، فَأَتَيْتُ سُلَّمًا لَهُمْ لأَنْزِلَ مِنْهُ فَوَقَعْتُ فَوُثِئَتْ رِجْلِي، فَخَرَجْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَقُلْتُ مَا أَنَا بِبَارِحٍ حَتَّى أَسْمَعَ النَّاعِيَةَ، فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى سَمِعْتُ نَعَايَا أَبِي رَافِعٍ تَاجِرِ أَهْلِ الْحِجَازِ. قَالَ فَقُمْتُ وَمَا بِي قَلَبَةٌ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْنَاهُ
Narrated By Al-Bara bin Azib : Allah's Apostle sent a group of Ansari men to kill Abu-Rafi. One of them set out and entered their (i.e. the enemies) fort. That man said, "I hid myself in a stable for their animals. They closed the fort gate. Later they lost a donkey of theirs, so they went out in its search. I, too, went out along with them, pretending to look for it. They found the donkey and entered their fort. And I, too, entered along with them. They closed the gate of the fort at night, and kept its keys in a small window where I could see them. When those people slept, I took the keys and opened the gate of the fort and came upon Abu Rafi and said, 'O Abu Rafi. When he replied me, I proceeded towards the voice and hit him. He shouted and I came out to come back, pretending to be a helper. I said, 'O Abu Rafi, changing the tone of my voice. He asked me, 'What do you want; woe to your mother?' I asked him, 'What has happened to you?' He said, 'I don't know who came to me and hit me.' Then I drove my sword into his belly and pushed it forcibly till it touched the bone. Then I came out, filled with puzzlement and went towards a ladder of theirs in order to get down but I fell down and sprained my foot. I came to my companions and said, 'I will not leave till I hear the wailing of the women.' So, I did not leave till I heard the women bewailing Abu Rafi, the merchant pf Hijaz. Then I got up, feeling no ailment, (and we proceeded) till we came upon the Prophet and informed him."
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا کہا ہم سے یحیی بن زکریا ابن ابی زائدہ نے کہا مجھ سے میرے باپ نے،انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے برائؓ بن عازب سے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے کئی انصار آدمیوں کو ابو رافع سلام بن ابی الحقیق یہودی کو قتل کرنے کیلئے بھیجا۔ان میں سے ایک شخص (عبد اللہ بن عتیک )اس کے قلعے میں گھس گیا اور جہاں جانور بندھا کرتے تھے وہاں بیٹھ رہا۔رات ہو گئی ۔ابو رافع کے لوگوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا۔پھر دیکھا تو ایک گدھا غائب تھا اس کو ڈھونڈ نے لوگ باہر نکلے۔عبداللہ کہتا ہے میں بھی ان کے ساتھ نکلا میرا مطلب یہ تھا ان کو یہ معلوم ہو کہ میں بھی قلعہ کے لوگوں میں ہوں ان کے ساتھ ہو کر گدھے کو ڈھونڈ رہا ہوں خیر گدھا ان کو مل گیا ۔وہ پھر قلعہ میں آئے ۔میں بھی ان کے ساتھ آگیا۔انہوں نے رات کے وقت دروازہ بند کردیا اور کنجیاں ایک موگھے میں رکھ دیں۔ میں دیکھ رہا تھا جب وہ سو گئے تو کنجیاں میں نے ہاتھ کرلیں اور ابو رافع جس مکان میں تھا اس کا دروازہ جومقفل تھا کھول کر ابو رافع کے پاس گیا وہ سو رہا تھا ۔میں نے اس کو آواز دی اس نے جواب دیا۔میں نے آواز پر تلوار کا وار کیا۔اس نے چیخ ماری میں باہر نکل آیا پھر دوبارہ لوٹ کر آیا جیسے میں اس کی مدد کرنے آیا ہوں۔میں نے آواز بدل کر کہا ابو رافع ۔اس نے کہا ادھر آ کیا کہتا ہےمادر بخطا۔ابو رافع سمجھا کہ یہ میرا کوئی نوکر چاکر ہے۔میں نے پوچھا کیا ہوا؟اُس نے کہا میں نہیں جانتا کوئی یہاں آیا اس نے مجھ پر وار کیا۔یہ سن کر مین نے اپنی تلوار اس کے پیٹ میں رکھی اور سارے بدن کا اس پر زور لگایا۔ہڈی تک اس نے توڑ ڈالی۔بعد اس کے میں نکلا مگر دہشت زدہ اور زینہ پر گیا کہ اتر کر چل دوں گھبراہٹ میں گر پڑا میرے پاؤں پر صدمہ پہنچا ۔خیر گزری کہ ہڈی نہیں ٹوٹی پھر میں قلعہ سے نکل کر اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا جو قلعہ کے باہر ٹھہرے ہوئے تھے میں نے کہا میں تو یہاں سے جانے والا نہیں جب تک رونے والی عورت کی جو موت کی خبر دیتی ہے آواز نہ سن لوں ابو رافع کی موت کا یقین ہو جائے تھوڑی ہی دیر میں میں نے اس کے مرنے کی
خبر یں سنیں ۔رونے والی کہہ رہی تھیں ابو رافع حجاز والوں کا سوداگر گزر گیا۔جب میں وہاں سے ہٹا تو مجھے کچھ بھی درد معلوم نہیں ہوا۔میں نبیﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کو خبر دی۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَهْطًا مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى أَبِي رَافِعٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ بَيْتَهُ لَيْلاً، فَقَتَلَهُ وَهْوَ نَائِمٌ.
Narrated By Al-Bara bin Azib : Allah's Apostle sent a group of the Ansar to Abu Rafi. Abdullah bin Atik entered his house at night and killed him while he was sleeping.
ہم سے عبد اللہ بن محمد نے بیان کیا کہا ہم یحیی بن آدم نے کہا ہم سے یحیی بن ابی زائدہ نے،انہوں نے اپنے باپ سے،انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے برائ بن عازب سے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے چند انصاری لوگوں کو ابو رافع یہودی کے پاس بھیجا ۔عبداللہ بن عتیک رات کو اس کے گھر میں گھس گئے اور سوتے میں اس کو قتل کر ڈالا۔
156. باب لاَ تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ كُنْتُ كَاتِبًا لَهُ قَالَ كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ
Narrated By Salim Abu An-Nadr : (The freed slave of 'Umar bin 'Ubaidullah) I was Umar's clerk. Once Abdullah bin Abi Aufa wrote a letter to 'Umar when he proceeded to Al-Haruriya. I read in it that Allah's Apostle in one of his military expeditions against the enemy, waited till the sun declined
ہم سے یوسف بن موسی نے بیان کیا کہا ہم سے عاصم بن یوسف یربوعی نے کہا ہم سے ابو اسحق فزاری نے،انہوں نے موسی بن عقبہ سے کہا مجھ سے سالم ابو النضر نے بیان کیا کہ جو عمر بن عبید اللہ کے غلام تھے انہوں نے کہا میں جو عمر بن عبید اللہ کا منشی تھا۔عبد اللہ بن ابی اوفی کے پاس سے ان کے پاس ایک خط آیا جب وہ خارجیوں سے لڑنے کیلئے نکلے میں نے اس کو پڑھا ،اس میں یہ لکھا تھا کہ رسول اللہﷺ نے بعض غزوات جس میں آپؐ کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوگئی انتظار فرمایا جب زوال ہو گیا تو کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا ۔
ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ لاَ تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ ـ ثُمَّ قَالَ ـ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ ". وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي سَالِم أَبُو النَّضْرِ كُنْتُ كَاتِبًا لِعُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ كِتَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُو "
and then he got up amongst the people saying, "O people! Do not wish to meet the enemy, and ask Allah for safety, but when you face the enemy, be patient, and remember that Paradise is under the shades of swords." Then he said, "O Allah, the Revealer of the Holy Book, and the Mover of the clouds and the Defeater of the clans, defeat them, and grant us victory over them."
اور فرمایا دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزو نہ کرو اور اللہ سے سلامتی چاہو اور جب تم دشمن سے بھڑ جاؤ تو صبر کئے رہو اور یہ جانے رہو کہ بہشت تلواروںکے سائے تلے ہے۔پھر ااپؐ نے یوں دعا کی یا اللہ کتاب (قرآن) کے اتارنے والے ،بادل چلانے والے،فوجوں کو بھگانے والے ان کو بھگا دے اور ہم کو ان پر فتح دے اور موسی بن عقبہ نے یون کہا مجھ سے سالم ابو النضر نے بیان کیا میں عمر بن عبید اللہ کا منشی تھا۔ان کے پاس عبداللہ بن ابی اوفی (صحابی)کا خط آیا۔مضمون یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزو نہ کیا کرو (کیونکہ دوسرداروں)
وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said: "Do not wish to meet the enemy, but when you meet face) the enemy, be patient."
اور ابو عامر (عبد الملک بن عمرو)نے کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا،انہوں نے ابو الزناد سے،انہوں نے اعرج سے،انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزو مت کرو ۔جب ہو جائے تو صبر کئے رہو(بھا گو نہیں)۔
157. باب الْحَرْبُ خَدْعَةٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَلَكَ كِسْرَى ثُمَّ لاَ يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَقَيْصَرٌ لَيَهْلِكَنَّ ثُمَّ لاَ يَكُونُ قَيْصَرٌ بَعْدَهُ، وَلَتُقْسَمَنَّ كُنُوزُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Khosrau will be ruined, and there will be no Khosrau after him, and Caesar will surely be ruined and there will be no Caesar after him, and you will spend their treasures in Allah's Cause."
ہم سے عبد اللہ بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ،انہوں نے ہمام سے،انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا کسرےٰ (ایران کا بادشاہ)گزر گیا۔اب اس کے بعد دوسرا کسریٰ نہ ہو گا اور قیصر (ہرقل روم کا بادشاہ)ضرور مرے گا اس کے بعد پھر دوسرا قیصر نہ ہو گا (روم اور ایران دونوں تم لے لو گے)اور وہاں کے خزانے اللہ کی راہ میں بانٹے جایئں گے ۔
وَ سَمَّى الحَربَ خَدعَةً
He called, "War is deceit".
اور آپؐ نے لڑائی کو مکر اور فریب بتایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَصْرَمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْحَرْبَ خَدْعَةً
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle called,: "War is deceit".
ہم سے ابو بکرؓ بن اصرم نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو معمر نے انہوں نے ہمام بن منبہ سے۔انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا لڑائی کیا ہے داؤں(دھوکا)ہے۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْحَرْبُ خُدْعَةٌ "
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : The Prophet said, "War is deceit."
ہم سے صدقہ ابن الفضل نے بیان کیا کہا ہم کو ابن عیینہ نے انہوں نے عمرو سے انہوں نے جابر بن عبداللہ سے سنا انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا لڑائی کیا ہے داؤں (دھوکا)ہے۔
158. باب الْكَذِبِ فِي الْحَرْبِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ، فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَعَمْ ". قَالَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا ـ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ عَنَّانَا وَسَأَلَنَا الصَّدَقَةَ، قَالَ وَأَيْضًا وَاللَّهِ قَالَ فَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ فَنَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُهُ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ حَتَّى اسْتَمْكَنَ مِنْهُ فَقَتَلَهُ
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : The Prophet said, "Who is ready to kill Ka'b bin Al-Ashraf who has really hurt Allah and His Apostle?" Muhammad bin Maslama said, "O Allah's Apostle! Do you like me to kill him?" He replied in the affirmative. So, Muhammad bin Maslama went to him (i.e. Ka'b) and said, "This person (i.e. the Prophet) has put us to task and asked us for charity." Ka'b replied, "By Allah, you will get tired of him." Muhammad said to him, "We have followed him, so we dislike to leave him till we see the end of his affair." Muhammad bin Maslama went on talking to him in this way till he got the chance to kill him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے کہ نبیﷺ نے فرمایا کعب بن اشرف (یہودی)کو کون مارتا ہے۔اس نے اللہ اور اس کے رسول کوستا رکھا ہے محمد بن مسلمہؓ (انصاری )نے کہا یا رسولؐ اللہ !کیا آپؐ یہ چاہتے ہیں میں اس کومار ڈالوں ؟آپؐ نے فرمایا ہاں۔یہ سن کر محمد بن مسلمہ کعب کے پاس گئے اور کہا (لگے آپؐ کی شکایت کرنے)اس شخص نے (یعنی پیغمبر صاحبؐ نے)ہم کو ایک مصبیت میں پھنسا دیا ہے(کہتا ہے نماز پڑھو روزہ رکھو)اب ہم سے زکوٰۃ بھی مانگتا ہے۔کعب نے کہا ابی کیا ہے اور مصبیت میں پڑو گے محمد بن مسلمہ نے کہا (یار کریں کیا )ہم اس کی پیروی کرچکے ۔اب ایک دم الگ ہو جانابھی تو برا معلوم ہوتا ہے مگر ہم دیکھ رہے ہیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔غرض اسی قسم کی باتیں بنا بنا کر محمد بن مسلمہ نے کعب پر قابو پایا اور اس کو قتل کیا۔
159. باب الْفَتْكِ بِأَهْلِ الْحَرْبِ
حَدَّثَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ ". فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ " نَعَمْ ". قَالَ فَأْذَنْ لِي فَأَقُولَ. قَالَ " قَدْ فَعَلْتُ "
Narrated By Jabir : The Prophet said, "Who is ready to kill Ka'b bin Ashraf (i.e. a Jew)." Muhammad bin Maslama replied, "Do you like me to kill him?" The Prophet replied in the affirmative. Muhammad bin Maslama said, "Then allow me to say what I like." The Prophet replied, "I do (i.e. allow you)."
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیاکہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عمرو سے،انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا کعب بن اشرف کو کون مارتا ہے؟محمدبن مسلمہ نے کہا آپؐ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کروں ؟آپؐ نے فرمایا ہاں انہوں نے کہا تو پھر مجھ کو اجازت دیجئے(جو چاہوں سچ جھوٹ کہوں)آپؐ نے فرمایا اجازت دی۔
160. باب مَا يَجُوزُ مِنَ الاِحْتِيَالِ وَالْحَذَرِ مَعَ مَنْ يَخْشَى مَعَرَّتَهُ
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، فَحُدِّثَ بِهِ فِي نَخْلٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّخْلَ، طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَابْنُ صَيَّادٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا صَافِ، هَذَا مُحَمَّدٌ، فَوَثَبَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ "
Narrated Abdullah bin Umar(R.A.) : Once Allah's Messenger (s.a.w.)accompanied by Ubai bin Ka'b set out to Ibn Saiyyad.He was informed that Ibn Saiyyad was in a garden of date-palms.When Allah's Messenger(s.a.w.) entered the garden of date-palms, he started hiding himself behind the trunks of the palms while Ibn Saiyyad was covered with the velvet sheet with murmurs emanating from under it.Ibn Saiyyad's mother saw Allah's Messenger(s.a.w.) and said,"O Saf ! This is Mohammad ". So Ibn Saiyyad got up. Allah's Messenger(s.a.w.) said," If she had left him(in his state) , the truth would have been clear."
لیث بن سعد نے کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمر سؓے ،انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ ابی بن کعب کو ساتھ رکھ کر ابن صیّاد کے پاس تشریف لے گئے لوگوں نے کہا وہ کھجوروں کے درخت میں ہے آپؐ جب وہاں پہنچے تو شاخوں کی آڑ میں چلنے لگے (تاکہ وہ دیکھ نہ سکے) ابن صیّاد اس وقت ایک چادر اوڑھے کچھ گھن پھن کر رہا تھا اس کی ماں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا اور پکار اٹھی ابن صیّاد یہ محمدؐ آ پہنچے۔ وہ چونک اٹھا آپؐ نے فرمایا اگر یہ اس کو خبر نہ کرتی تو وہ کھولتا (اس کی باتوں سے اس کے دل کا حال کھل جاتا)