10. باب الاِعْتِكَافِ لِلْمُسْتَحَاضَةِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اعْتَكَفَ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ وَهْىَ مُسْتَحَاضَةٌ تَرَى الدَّمَ، فَرُبَّمَا وَضَعَتِ الطَّسْتَ تَحْتَهَا مِنَ الدَّمِ. وَزَعَمَ أَنَّ عَائِشَةَ رَأَتْ مَاءَ الْعُصْفُرِ فَقَالَتْ كَأَنَّ هَذَا شَىْءٌ كَانَتْ فُلاَنَةُ تَجِدُهُ
Narrated By 'Aisha : Once one of the wives of the Prophet did Itikaf along with him and she was getting bleeding in between her periods. She used to see the blood (from her private parts) and she would perhaps put a dish under her for the blood. (The sub-narrator 'Ikrima added, 'Aisha once saw the liquid of safflower and said, "It looks like what so and so used to have.")
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺکے ساتھ آپ کی ایک بیوی (حضرت سودہ یا ام حبیبہ رضی اللہ عنہما ) نے اعتکاف کیا ان کو استحاضے کی بیماری تھی وہ اکثر خون دیکھتی رہتیں کبھی خون کی وجہ سے اپنے تلے طشت رکھ لیتیں۔عکر مہ نے کہا (ایک بار) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نےکسم(ایک بوٹی کا نام) کا پانی دیکھا تو کہنے لگیں یہ تو گویا وہی ہےجو فلانی بی بی (استحاضے کی حالت میں) دیکھتی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ،عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الدَّمَ وَالصُّفْرَةَ، وَالطَّسْتُ تَحْتَهَا وَهْىَ تُصَلِّي
Narrated By 'Aisha : "One of the wives of Allah's Apostle joined him in Itikaf and she noticed blood and yellowish discharge (from her private parts) and put a dish under her when she prayed."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپکی ازواج میں سےایک نے اعتکاف کیا وہ (سرخ ) خون اور زردی دیکھا کرتیں اور طشت ان کے نیچے ہوتا وہ نماز پڑھتی رہتیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَعْضَ، أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ اعْتَكَفَتْ وَهْىَ مُسْتَحَاضَةٌ
Narrated By 'Aisha : One of the mothers of the faithful believers (i.e. the wives of the Prophet) did Itikaf while she was having bleeding in between her periods.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپﷺ کی بیویوں میں سے ایک بیوی نے استحا ضے کی حا لت میں اعتکا ف کیا۔
11. باب هَلْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي ثَوْبٍ حَاضَتْ فِيهِ؟
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا كَانَ لإِحْدَانَا إِلاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِذَا أَصَابَهُ شَىْءٌ مِنْ دَمٍ، قَالَتْ بِرِيقِهَا فَقَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا
Narrated By 'Aisha : None of us had more than a single garment and we used to have our menses while wearing it. Whenever it got soiled with blood of menses we used to apply saliva to the blood spot and rub off the blood with our nails.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نےکہا (آپﷺ کے زمانے میں )ہم میں سے کسی کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا وہ حیض میں بھی اسی کو پہنتی جب اس میں کوئی خون لگ جاتا تو تھوک لگا کر ناخون سے اس کو چھیل ڈالتی۔
12. باب الطِّيبِ لِلْمَرْأَةِ عِنْدَ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ ـ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَوْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ قَالَتْ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ وَلاَ نَتَطَيَّبَ وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ. قَالَ رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Um-'Atiya : We were forbidden to mourn for a dead person for more than three days except in the case of a husband for whom mourning was allowed for four months and ten days. (During that time) we were not allowed to put ko,hl (Antimony eye power) in our eyes or to use perfumes or to put on coloured clothes except a dress made of 'Asb (a kind of Yemen cloth, very coarse and rough). We were allowed very light perfumes at the time of taking a bath after menses and also we were forbidden to go with the funeral procession.
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کہا: ہمیں کسی مردے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا منع ہوا تھا مگر خاوند پر چار مہینے دس دن تک (سو گ کا حکم تھا) اورحکم یہ تھا کہ سوگ کے دنو ں میں نہ سرمہ لگائیں، نہ خوشبو لگائیں اور نہ کوئی رنگین کپڑا پہنیں مگر جس کپڑے کا سوت بناوٹ سے پہلے رنگا گیا ہو اور ہم کو حیض سے پاک ہوتے وقت یہ اجازت تھی کہ جب حیض کا غسل کرے تو تھوڑا کست الاظفار(ایک قسم کی خوشبو) لگائے اور ہم عورتو ں کو جنازے کے ساتھ جانا بھی منع ہوا تھا اس حدیث کو ہشام بن حسان نے بھی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبیﷺ سے۔
13. باب دَلْكِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا إِذَا تَطَهَّرَتْ مِنَ الْمَحِيضِ
وَكَيْفَ تَغْتَسِلُ، وَتَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَتَّبِعُ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ، فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ قَالَ " خُذِي فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا ". قَالَتْ كَيْفَ أَتَطَهَّرُ قَالَ " تَطَهَّرِي بِهَا ". قَالَتْ كَيْفَ قَالَ " سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي ". فَاجْتَبَذْتُهَا إِلَىَّ فَقُلْتُ تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ
Narrated By 'Aisha : A woman asked the Prophet about the bath which is take after finishing from the menses. The Prophet told her what to do and said, "Purify yourself with a piece of cloth scented with musk." The woman asked, "How shall I purify myself with it" He said, "Subhan Allah! Purify yourself (with it)." I pulled her to myself and said, "Rub the place soiled with blood with it."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت (اسماء بنت شکل )نے نبیﷺ سے حیض کے غسل کے بارے میں پوچھا، تو آپﷺنے اس کو بتلایا کہ کس طرح وہ غسل کرے ،(پھر) آپﷺنے (غسل کا طریقہ بتانے کے بعد) فرمایا: کستوری لگا ہوا ایک کپڑا لے اور اس سے طہارت کرلے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس نے کہا میں (اسے) کیسے پاکیزگی حاصل کروں ، آپﷺنے فرمایا: اس سے پاکیزگی حاصل کرلے، وہ کہنے لگی کیسے پاکیزگی حاصل کروں،
آپﷺ نے( تعجب سے) فر مایا: سبحا ن اللہ! پاکیزگی حاصل کر، حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس عورت کہ اپنی طرف کھینچ لیا اور اس کو سمجھا دیا کہ خون کے مقام( یعنی شر مگاہ) پر اس کو لگا دیں۔
14. باب غُسْلِ الْمَحِيضِ
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الأَنْصَارِ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ أَغْتَسِلُ مِنَ الْمَحِيضِ قَالَ " خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَوَضَّئِي ثَلاَثًا ". ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَحْيَا فَأَعْرَضَ بِوَجْهِهِ أَوْ قَالَ " تَوَضَّئِي بِهَا " فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By 'Aisha : An Ansari woman asked the Prophet how to take a bath after finishing from the menses. He replied, "Take a piece a cloth perfumed with musk and clean the private parts with it thrice." The Prophet felt shy and turned his face. So pulled her to me and told her what the Prophet meant.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت نے نبیﷺ سے پوچھا میں حیض کا غسل کیسے کروں؟ آپ نے فرمایا: (اس طرح کرو پھر فرمایا) مشک لگا ہوا ایک کپڑا لے اور تین بار پاکیزگی کرلو، پھر نبیﷺ کو شرم آئی آپﷺ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا یا آپ ﷺنے یوں فرمایا اس سے پاکیزگی کرلو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس عورت کو کھینچ لیا اور نبی ﷺ کا جو مطلب تھا وہ اس کو سمجھا دیا ۔
15. باب امْتِشَاطِ الْمَرْأَةِ عِنْدَ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَكُنْتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ، وَلَمْ يَسُقِ الْهَدْىَ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا حَاضَتْ، وَلَمْ تَطْهُرْ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لَيْلَةُ عَرَفَةَ، وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِعُمْرَةٍ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَمْسِكِي عَنْ عُمْرَتِكِ ". فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ
Narrated By 'Aisha : In the last Hajj of Allah's Apostle I assume the Ihram for Hajj along with Allah Apostle. I was one of those who intended Tamattu' (to perform Hajj an 'Umra) and did not take the Hadi (animal for sacrifice) with me. I got my menses and was not clean till the night of 'Arafa I said, "O Allah's Apostle! It is the night of the day of 'Arafat and I intended to perform the Hajj Tamattu' with 'Umra Allah's Apostle told me to undo my hair and comb it and to postpone the 'Umra. I did the same and completed the Hajj. On the night of Al-Hasba (i.e. place outside Mecca where the pilgrims go after finishing all the ceremonies Hajj at Mina) he (the Prophet ordered 'Abdur Rahman ('Aisha's brother) to take me to At-Tan'im to assume the ihram for 'Umra in lieu of that of Hajj-atTamattu' which I had intended to perform.
حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہﷺ کے ساتھ احرام باندھا، میں ان لوگوں میں سےتھی جنہوں نے تمتع کیا تھا اور قربانی اپنے ساتھ نہیں لےگئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا (اتفاق سے) ان کو حیض آگیا اور عرفہ کی رات آنے تک وہ پاک نہیں ہوئی،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ تو عر فہ کی رات آگئی(صبح کو عر فہ ہے) اور میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا (اب کیا کروں ) رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا (ایسا کر) اپنا سر کھول لے اور کنگھی کرلو، اور عمرے کو موقو ف کردے، میں نے ایسا ہی کیا جب حج کر چکی تو آپ نے محصب کی رات میں عبد الرحمن (میرے بھا ئی) کو حکم دیا تو انہوں نے اس عمرے کے بدلے جس کا میں نے پہلے احرام باندھا تھا مجھ کو دوسرا عمرہ تنعیم سے کرایا۔
16. باب نَقْضِ الْمَرْأَةِ شَعَرَهَا عِنْدَ غُسْلِ الْمَحِيضِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ، فَإِنِّي لَوْلاَ أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ". فَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِحَجٍّ، وَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِحَجٍّ ". فَفَعَلْتُ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي أَخِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَخَرَجْتُ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي. قَالَ هِشَامٌ وَلَمْ يَكُنْ فِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْىٌ وَلاَ صَوْمٌ وَلاَ صَدَقَةٌ
Narrated By 'Aisha : On the 1st of Dhul-Hijja we set out with the intention of performing Hajj. Allah's Apostle said, "Any one who likes to assume the Ihram for 'Umra he can do so. Had I not brought the Hadi with me, I would have assumed the Ihram for 'Umra. "Some of us assumed the Ihram for 'Umra while the others assumed the Ihram for Hajj. I was one of those who assumed the Ihram for 'Umra. I got menses and kept on menstruating until the day of 'Arafat and complained of that to the Prophet. He told me to postpone my 'Umra, undo and comb my hair, and to assure the Ihram of Hajj and I did so. On the right of Hasba, he sent my brother 'Abdur-Rahman bin Abi Bakr with me to At-Tah'im, where I assumed the Ihram for 'Umra in lieu of the previous one. Hisham said, "For that ('Umra) no Hadi, fasting or alms were required.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم ذی الحجہ کے چاند کے نزدیک (مدینے سے) نکلے رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس کا جی چاہے (میقات پر سے ) عمرے کا احرام باندھے،وہ عمرے ہی کا احرام باندھے اور اگر میں قربانی ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی عمرے ہی کا احرام با ندھتا اب بعضوں نے عمرے کا احرام باندھا اور بعضوں نے حج کا اور میں ان میں تھی جنہوں نے عمر ے کا احرام باندھا تھا (اتفاق سے) عر فہ کا دن آن پہنچا اور میں حیض سے تھی میں نے اس کا شکوہ نبی ﷺ سے کیا آپﷺ نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دے اور سر کھول کر کنگھی کرلے اور حج کا احرام با ندھ لے میں نے ایسا ہی کیا (اور حج سے فارغ ہوئی ) جب محصب کی رات ہوئی تو آپﷺ نے عبد الرحمن میرے بھا ئی کو میرے ساتھ بھیجا میں تنعیم تک گئ وہاں سے اگلے عمرے کے بد لے دوسرے عمرے کا احرام باندھا ہشام نے کہا: اور ان سب باتوں میں نہ قربانی لازم ہوئی اور نہ روزہ، اور نہ صدقہ۔
17. باب مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ ـ عَزَّ وَجَلَّ ـ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُولُ يَا رَبِّ نُطْفَةٌ، يَا رَبِّ عَلَقَةٌ، يَا رَبِّ مُضْغَةٌ. فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ قَالَ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ وَالأَجَلُ فَيُكْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ "
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "At every womb Allah appoints an angel who says, 'O Lord! A drop of semen, O Lord! A clot. O Lord! A little lump of flesh." Then if Allah wishes (to complete) its creation, the angel asks, (O Lord!) Will it be a male or female, a wretched or a blessed, and how much will his provision be? And what will his age be?' So all that is written while the child is still in the mother's womb."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے (عورت کے) رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے وہ عرض کرتا ہے، اے میرے رب! اب نطفہ پڑا ، اے میرے رب! اب خون کا لوتھڑا ہوگیا، اے میرے رب! اب گوشت کا ٹکڑا ہوگیا ۔پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی پیدائش کو پورا کرنا چاہتا ہےتو فرشتہ عرض کرتا ہے کیا یہ مرد ہے یا عورت؟، بدبخت ہے یا نیک بخت؟،اور اس کی روزی کیا ہے؟ اسکی عمر کیا ہے؟ پھر ماں کے پیٹ ہی میں یہ(سب) لکھ دیا جاتا ہے ۔
18. باب كَيْفَ تُهِلُّ الْحَائِضُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيُحْلِلْ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ ". قَالَتْ فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ، وَلَمْ أُهْلِلْ إِلاَّ بِعُمْرَةٍ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ، وَأُهِلَّ بِحَجٍّ، وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّي، فَبَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مَكَانَ عُمْرَتِي مِنَ التَّنْعِيمِ
Narrated By 'Urwa : 'Aisha said, "We set out with the Prophet in his last Hajj. Some of us intended to perform 'Umra while others Hajj. When we reached Mecca, Allah's Apostle said, 'Those who had assumed the Ihram for 'Umra and had not brought the Hadi should finish his Ihram and whoever had assumed the Ihram for 'Umra and brought the Hadi should not finish the Ihram till he has slaughtered his Hadi and whoever had assumed the Ihram for Hajj should complete his Hajj." 'Aisha further said, "I got my periods (menses) and kept on menstruating till the day of 'Arafat, and I had assumed the Ihram for 'Umra only (Tamattu'). The Prophet ordered me to undo and comb my head hair and assume the Ihram for Hajj only and leave the 'Umra. I did the same till I completed the Hajj. Then the Prophet sent 'Abdur Rahman bin Abi Bakr with me and ordered me to perform 'Umra from At-Tan'im in lieu of the missed 'Umra."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ حجۃالوداع میں (مدینے سے) نکلے ہم میں سے کسی نے عمرے کا احرام باندھا اور کسی نے حج کا، پھر جب ہم مکہ میں پہنچے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: دیکھو جس نے عمرے کا احرام باندھا ہو اورقربانی ساتھ نہ لایا ہو تو (عمرہ کرکے) احرام کھول ڈالے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور قربانی ساتھ لایا ہو وہ جب تک قربانی ذبح نہ کرے احرام نہ کھولے اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو وہ اپنا حج پورا کرے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا مجھ کو حیض آگیا اور عرفہ کے دن تک برابر حیض آتا رہا اور میں نے عمرے ہی کا احرام باندھا تھا آخر نبیﷺ نے مجھ کو یہ حکم دیا کہ اپنا سر کھول ڈالوں اور بالوں میں کنگھی کروں اور نیا احرام حج کا باندھوں عمرہ موقوف کروں میں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ اپنا حج پورا کرلیا اس وقت آپﷺ نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو میرے سا تھ دے کر یہ حکم کیا کہ تنعیم سے میں اپنے عمرے کے بدلے دوسرے عمرے کا احرام باندھوں۔
19. باب إِقْبَالِ الْمَحِيضِ وَإِدْبَارِهِ
وَكُنَّ نِسَاءٌ يَبْعَثْنَ إِلَى عَائِشَةَ بِالدُّرْجَةِ فِيهَا الْكُرْسُفُ فِيهِ الصُّفْرَةُ فَتَقُولُ لاَ تَعْجَلْنَ حَتَّى تَرَيْنَ الْقَصَّةَ الْبَيْضَاءَ. تُرِيدُ بِذَلِكَ الطُّهْرَ مِنَ الْحَيْضَةِ. وَبَلَغَ ابْنَةَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ نِسَاءً يَدْعُونَ بِالْمَصَابِيحِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَنْظُرْنَ إِلَى الطُّهْرِ فَقَالَتْ مَا كَانَ النِّسَاءُ يَصْنَعْنَ هَذَا. وَعَابَتْ عَلَيْهِنَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي "
Narrated By 'Aisha : Fatima bint Abi Hubaish used to have bleeding in between the periods, so she asked the Prophet about it. He replied, "The bleeding is from a blood vessel and not the menses. So give up the prayers when the (real) menses begin and when it has finished, take a bath and start praying."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوتا تھا، تو انہوں نے نبیﷺ سے (اس بارے میں پوچھا) آپﷺ نے فرمایا: یہ ایک رگ( کا خون) ہے، حیض نہیں ہے پھر جب حیض( کا خون) آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب حیض گذر جائے تو غسل کرلے اور نماز پڑھ لے۔