51. باب
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ، بَلَغَهُ مَقْدَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَأَتَاهُ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاَثٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ نَبِيٌّ مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمَا بَالُ الْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أَبِيهِ أَوْ إِلَى أُمِّهِ قَالَ " أَخْبَرَنِي بِهِ جِبْرِيلُ آنِفًا ". قَالَ ابْنُ سَلاَمٍ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ. قَالَ " أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ، فَزِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ، وَأَمَّا الْوَلَدُ، فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدَ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَتِ الْوَلَدَ ". قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ، فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلاَمِي، فَجَاءَتِ الْيَهُودُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَىُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ فِيكُمْ ". قَالُوا خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَأَفْضَلُنَا وَابْنُ أَفْضَلِنَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ". قَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. فَأَعَادَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. قَالُوا شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا. وَتَنَقَّصُوهُ. قَالَ هَذَا كُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
Narrated By Anas : When the news of the arrival of the Prophet at Medina reached 'Abdullah bin Salam, he went to him to ask him about certain things, He said, "I am going to ask you about three things which only a Prophet can answer: What is the first sign of The Hour? What is the first food which the people of Paradise will eat? Why does a child attract the similarity to his father or to his mother?" The Prophet replied, "Gabriel has just now informed me of that." Ibn Salam said, "He (i.e. Gabriel) is the enemy of the Jews amongst the angels. The Prophet said, "As for the first sign of The Hour, it will be a fire that will collect the people from the East to the West. As for the first meal which the people of Paradise will eat, it will be the caudate (extra) lobe of the fish-liver. As for the child, if the man's discharge proceeds the woman's discharge, the child attracts the similarity to the man, and if the woman's discharge proceeds the man's, then the child attracts the similarity to the woman."
On this, 'Abdullah bin Salam said, "I testify that None has the right to be worshipped except Allah, and that you are the Apostle of Allah." and added, "O Allah's Apostle! Jews invent such lies as make one astonished, so please ask them about me before they know about my conversion to Islam." The Jews came, and the Prophet said, "What kind of man is 'Abdullah bin Salam among you?" They replied, "The best of us and the son of the best of us and the most superior among us, and the son of the most superior among us. "The Prophet said, "What would you think if 'Abdullah bin Salam should embrace Islam?" They said, "May Allah protect him from that." The Prophet repeated his question and they gave the same answer. Then 'Abdullah came out to them and said, "I testify that None has the right to be worshipped except Allah and that Muhammad is the Apostle of Allah!" On this, the Jews said, "He is the most wicked among us and the son of the most wicked among us." So they degraded him. On this, he (i.e. 'Abdullah bin Salam) said, "It is this that I was afraid of, O Allah's Apostle.
مجھ سے حامد بن عمر نے بیان کیا انہوں نے بشر ابن مفصل سے کہا ہم سے حمید طویل نے کہا ہم سے انسؓ نے انہوں نے کہا عبداللہ بن سلام کو نبی ﷺکے مدینہ میں آنے کی خبر پہنچی وہ آپﷺ کے پاس حاضر ہوے٘ چند باتیں پوچھنے کے لیے انہوں نے کہا میں آپ سے ایسی تین باتیں پوچھتا ہوں جن کو نبیؐ کے سوا اور کوی٘ نہیں جانتا قیامت کی پہلی نشانی کیا ہے اور بہشتی لوگ (بہشت میں جا کر )پہلے کیا کھانا کھای٘ں گے اور بچہ کیا سبب ہے کبھی باپ کے مشابہ ہوتا ہے کبھی ماں کے آپﷺ نے فرمایا جبریلؑ نے ابھی ابھی یہ باتیں مُجھ کو بتا دیں عبداللہ بن سلام نے کہا یہ (یعنے جبریؑل) فرشتوں میں سے یہودیوں کا دُشمن ہے آپؐ نے فرمایا قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جاے٘ گی اور بہشتیوں کی پہلی غذا مچھلی کے کلیجے کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہو گا(جو نہایت لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے) اب بچے کا حال یہ ہے کہ جب مرد کی منی عورت کی منی پر بڑھ جاے٘ تو بچہ مرد کے مشابہ ہوتا ہے اورجب عورت کی منی مرد کی منی پر بڑھ جاے٘ تو بچہ عورت کے مشابہ ہوجاتا ہے عبداللہ بن سلام نے یہ جواب سُن کر کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور آپﷺ اللہ کے (سچے)پیغمبر ہیں۔ٰپھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ یہودی لوگ بڑے مفتری (جھوٹے )ہیں آپﷺ اُن سے میرا حال پوچھئے مگر اُن کے میرے مسلمان ہونے کی خبر نہ ہو خیر یہودی لوگ آئے نبی ﷺ نے اُن سے پوچھا عبداللہ بن سلام تم میں کیسا آدمی ہے اُنہوں نے کہا ہم سب میں اچھا اور اچھے کا بیٹا اور ہم سب میں افضل اور افضل کا بیٹا ہے آپﷺ نے فرمایا بھلا بتلاو٘ اگر عبداللہ بن سلام مسلمان ہو جائے تو (تم بھی مسلمان ہو جاو٘ گے )انہوں نے کہا خُدا نہ کرے اللہ اُن کو اسلام سے بچائے رکھے آپﷺ نے پھر یہی پوچھا انہوں نے پھر یہی کہا اس وقت عبداللہ بن سلام (جو چھپ گئے تھے) باہر نکلےکہنے لگے اشہد ان لاالہ الا اللہ و ان محمدارسول اللہ یہودی یہ سُن کر کہنے لگے عبداللہ بن سلام تو ہم سب میں خراب آدمی ہے اور خراب آدمی کا بیٹا ہے اور اُ ن کو بُرا کہنے لگے عبداللہ بن سلام نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھ کو اس بات کا ڈر تھا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ، قَالَ بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ نَسِيئَةً فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَيَصْلُحُ هَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ، فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ " مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلاَ يَصْلُحُ ". وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقَالَ مِثْلَهُ. وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَقَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ، وَقَالَ نَسِيئَةً إِلَى الْمَوْسِمِ أَوِ الْحَجِّ
Narrated By Abu Al-Minhal 'AbdurRahman bin Mut'im : A partner of mine sold some Dirhams on credit in the market. I said, "Glorified be Allah! Is this legal?" He replied, "Glorified be Allah! By Allah, when I sold them in the market, nobody objected to it." Then I asked Al-Bara' bin 'Azib (about it) he said, "We used to make such a transaction when the Prophet came to Medina. So he said, 'There is no harm in it if it is done from hand to hand, but it is not allowed on credit.' Go to Zaid bin Al- Arqam and ask him about it for he was the greatest trader of all of us." So I asked Zaid bin Al-Arqam, and he said the same (as Al-Bara) did."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے ابو المنہال عبدالرحمن بن مطعم سے سُنا انہوں نے کہا میرے ایک ساجھی نے بازار میں کچھ روپیہ(رو پیوں یا اشرفیوں کے بدل)ادہار بیچے۔ میں نے کہا سبحان اللہ بھلا یہ درست ہے وہ بولا ۔سبحان اللہ میں نے سرِ بازار یہ معاملہ کیا کسی نے اعتراض نہ کیا عبدالرحمن کہتے ہیں آخر میں نے یہ مس٘لہ برا٘ بن عازب (صحابیؓ) سے پوچھا انہوں نے کہا نبیﷺجب (مدینہ میں) تشریف لاے٘ تو ہم یہ بیع کیا کرتے تھے آپﷺ نے فرمایا دیکھو اس میں جو نقد ا نقد ہو وہ درست ہے اور جس میں (کسی طرف بھی )ادہار ہو وہ درست نہیں ہے اور بہتر یہ ہے کہ تم زید بن ارقم (صحابیؓ) سے ملو اُن سے پوچھو وہ ہم لوگوں میں بڑے سوداگر تھے میں نے اُن سے پوچھا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔(جیسے برا٘ نے کہا تھا ) سفیان نے ایک بار اس حدیث میں یوں کہا نبیﷺ مدینہ میں تشریف لاے٘ اور ہم ادہار موسم ہا حج کے وعدے پر بیع کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ، قَالَ بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ نَسِيئَةً فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَيَصْلُحُ هَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ، فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ " مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلاَ يَصْلُحُ ". وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقَالَ مِثْلَهُ. وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَقَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ، وَقَالَ نَسِيئَةً إِلَى الْمَوْسِمِ أَوِ الْحَجِّ
Narrated By Abu Al-Minhal 'AbdurRahman bin Mut'im : A partner of mine sold some Dirhams on credit in the market. I said, "Glorified be Allah! Is this legal?" He replied, "Glorified be Allah! By Allah, when I sold them in the market, nobody objected to it." Then I asked Al-Bara' bin 'Azib (about it) he said, "We used to make such a transaction when the Prophet came to Medina. So he said, 'There is no harm in it if it is done from hand to hand, but it is not allowed on credit.' Go to Zaid bin Al- Arqam and ask him about it for he was the greatest trader of all of us." So I asked Zaid bin Al-Arqam, and he said the same (as Al-Bara) did."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے ابو المنہال عبدالرحمن بن مطعم سے سُنا انہوں نے کہا میرے ایک ساجھی نے بازار میں کچھ روپیہ(رو پیوں یا اشرفیوں کے بدل)ادہار بیچے۔ میں نے کہا سبحان اللہ بھلا یہ درست ہے وہ بولا ۔سبحان اللہ میں نے سرِ بازار یہ معاملہ کیا کسی نے اعتراض نہ کیا عبدالرحمن کہتے ہیں آخر میں نے یہ مس٘لہ برا٘ بن عازب (صحابیؓ) سے پوچھا انہوں نے کہا نبیﷺجب (مدینہ میں) تشریف لاے٘ تو ہم یہ بیع کیا کرتے تھے آپﷺ نے فرمایا دیکھو اس میں جو نقد ا نقد ہو وہ درست ہے اور جس میں (کسی طرف بھی )ادہار ہو وہ درست نہیں ہے اور بہتر یہ ہے کہ تم زید بن ارقم (صحابیؓ) سے ملو اُن سے پوچھو وہ ہم لوگوں میں بڑے سوداگر تھے میں نے اُن سے پوچھا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔(جیسے برا٘ نے کہا تھا ) سفیان نے ایک بار اس حدیث میں یوں کہا نبیﷺ مدینہ میں تشریف لاے٘ اور ہم ادہار موسم ہا حج کے وعدے پر بیع کیا کرتے تھے۔
52. باب إِتْيَانِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ
{هَادُوا} صَارُوا يَهُودَ وَأَمَّا قَوْلُهُ {هُدْنَا} تُبْنَا. هَائِدٌ تَائِبٌ.
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنَ الْيَهُودِ لآمَنَ بِي الْيَهُودُ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Had only ten Jews (amongst their chiefs) believe me, all the Jews would definitely have believed me."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے قرہ بن خالد نے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺسےآپ نے فرمایا اگر دس یہودی بھی مُجھ پر ایمان لے آتے تو سب یہودی مسلمان ہو جاتے۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ـ أَوْ مُحَمَّدُ ـ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَإِذَا أُنَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ يُعَظِّمُونَ عَاشُورَاءَ وَيَصُومُونَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَحَقُّ بِصَوْمِهِ ". فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ
Narrated By Abu Musa : When the Prophet arrived at Medina, he noticed that some people among the Jews used to respect Ashura' (i.e. 10th of Muharram) and fast on it. The Prophet then said, "We have more right to observe fast on this day." and ordered that fasting should be observed on it.
ہم سے احمد یا محمد بن ابی عبیداللہ عذانی نے بیان کیا کہا ہم حماد بن اُسامہ نے کہا ہم کو ابو عمیس نے خبر دی انہوں نے قیس بن مسلم سے انہوں نے طارق بن شہاب سے انہوں نے ابو موسیؓ انہوں نے کہا نبیﷺمدینہ میں تشریف لائے دیکھا تو یہود کے لوگ عاشورے کا دن بڑا جانتے ہیں اُس دن رُوزہ رکھتے ہیں آپﷺ نے فرمایا ہم کو یہ رُوزہ رکھنے کا (یہود سے ) زیادہ حق ہےپھر آپﷺ نے لوگوں کواُس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْفَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ، وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ ". ثُمَّ أَمَرَ بِصَوْمِهِ
Narrated By Ibn 'Abbas : When the Prophet arrived at Medina he found that the Jews observed fast on the day of Ashura'. They were asked the reason for the fast. They replied, "This is the day when Allah caused Moses and the children of Israel to have victory over Pharaoh, so we fast on this day as a sign of glorifying it." Allah's Apostle said, "We are closer to Moses than you." Then he ordered that fasting on this day should be observed.
مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا کہا ہم کو ابو بشر (جعفر) نے خبر دی انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورے کا رُوزہ رکھتے دیکھا اُن سے پوچھا تو کہنے لگے یہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے موسی اور بنی اسرای٘ل کو فرعون پر غلبہ دیا (فرعون کو ڈبو دیا) اور ہم اُس دن کو بڑا سمجھ کراُس میں رُوزہ رکھتے ہیں آپﷺ نے فرمایا ہم کو تم سے زیادہ موسیؑ سے لگاؤ ہےپھر آپﷺ نے (مسلمانوں کو) اُس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْدِلُ شَعْرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَىْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ
Narrated By 'Abdullah bin Abbas : The Prophet used to keep his hair falling loose while the pagans used to part their hair, and the People of the Scriptures used to keep their hair falling loose, and the Prophet liked to follow the People of the Scriptures in matters about which he had not been instructed differently, but later on the Prophet started parting his hair.
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے انہوں نے یونس سے انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی۔انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سےانہوں نے کہا (پہلے) نبیﷺ(نصاری کی طرح)بالوں کو( پیشانی پر)لٹکاتے تھے اور مشرک لوگ مانگ نکالا کرتے تھے اہل کتاب پیشانی پر لٹکاتے تھے اور نبیﷺ کو جس بات میں اللہ کا کوئی حکم نہ آ تا تو (بہ نسبت مشرکوں کے) اہل کتاب کی موافقت زیادہ پسند تھی پھر ایسا ہوا کہ آپﷺبھی بالوں میں مانگ نکالنے لگے۔
حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ هُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، جَزَّءُوهُ أَجْزَاءً، فَآمَنُوا بِبَعْضِهِ وَكَفَرُوا بِبَعْضِهِ
Narrated By Ibn Abbas : They, the people of the Scriptures, divided this Scripture into parts, believing in some portions of it and disbelieving the others.
مجھ سے زیاد بن ایوُب نے بیان کیا کہا ہم ہشیم نے کہا ہم کو ابو بشر (جعفر بن ابی وحشیہ) نے خبر دی انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا اہل کتاب ہی تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی کتاب (قرآن) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ۔
53. باب إِسْلاَمُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رضى الله عنه
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ أَبِي ح: وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، أَنَّهُ تَدَاوَلَهُ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ رَبٍّ إِلَى رَبٍّ
Narrated By Salman Al-Farisi : That he was sold (as a slave) by one master to another for more than ten times (i.e between 13 and 19).
ہم سے حسن بن عمربن شقیق نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر نے انہوں نے کہا مجھ سے میرے باپ(سلیمان بن طرخان) نے دوسری سند اور ہم سے ابو عثمان نہدی نے انہوں نے سلمان فارسیؓ سے وہ کہتے تھے مجھ کو کچھ اُوپر دس آدمیوں نے ایک مالک کےبعد دوسرے مالک نے خریدا (کئی بار بیچا گیا۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ سَلْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أَنَا مِنْ، رَامَ هُرْمُزَ
Narrated By Salman : I am from Ram-Hurmuz (i.e. a Persian town).
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عوف اعرابی سے انہوں نے عثمان نہدی سے انہوں نے کہا میں نے سلمان فارسیٖؓ سے سُنا وہ کہتے تھے میرا وطن رام ہرمز ہے۔
حَدَّثَنا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ فَتْرَةٌ بَيْنَ عِيسَى وَمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم سِتُّمِائَةِ سَنَةٍ
Narrated By Salman : The interval between Jesus and Muhammad was six hundred years.
ہم سے حسن بن مدرک نے بیان کیا کہا ہم سے یحیی بن حماد نے کہا ہم کو ابو عوانہ نے خبردی ۔انہوں نے عاصم احول سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے سلمان فارسیؓ سے انہوں نے کہا حضرت محمدﷺ اور حضرت عیسیٰٖ کے بیٰچ میں فترت کا زمانہ (یعنےجس میں کوئی پیغمبر نہیں آیا)چھ سو برس کا گزرا۔