10. باب قَوْلِهِ {وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ}
وَهْوَ تَأْنِيثُ آخِرِكُمْ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ} فَتْحًا أَوْ شَهَادَةً
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الرَّجَّالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ، فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ، وَلَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ اثْنَىْ عَشَرَ رَجُلاً.
Narrated By Al-Bara bin Azib : The Prophet appointed 'Abdullah bin Jubair as the commander of the infantry during the battle of Uhud. They returned defeated, and that is what is meant by:
"And the Apostle was calling them back in the rear. None remained with the Prophet then, but twelve men."
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا۔ کہا ہم سے زہیر نے۔ کہا ہم سے ابو اسحاق نے۔ انہوں نے کہا میں نے براء بن عازبؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا نبیﷺ نے احد کے دن پیدل لوگوں کا سردار عبداللہ بن جبیرؓ کو کیا تھا۔ وہ شکست کھا کر بھاگتے چلے۔ اس آیت سے یہی مراد ہے اِذۡ یَدۡعُوۡھُمۡ الرَّسُولُ فِی اُخۡرَاھُمۡ۔ یعنی جب پیغمبر اب کی پچھلی طرف بلا رہا تھا۔ نبیﷺ کے پاس بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ رہا تھا۔
11. باب قَوْلِهِ {أَمَنَةً نُعَاسًا}
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، قَالَ غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ أُحُدٍ ـ قَالَ ـ فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ، وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ.
Narrated By Abu Talha : Slumber overtook us during the battle of Uhud while we were in the front files. My sword would fall from my hand and I would pick it up, and again it would fall down and I would pick it up again.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن ابو یعقوب بغدادی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے حسین بن محمد نے۔ کہا ہم سے شیبان نے۔ انہوں نے قتادہ سے۔ کہا ہم سے انسؓ نے بیان کیا کہ ابو طلحہؓ کہتے تھے احد کے دن عین جنگ میں ہم کو اونگھ نے آدبایا۔ تلوار میرے ہاتھ سے گرنے کو ہوتی میں تھام لیتا پھر گرنے کو ہوتی پھر میں تھام لیتا۔
12. باب قَوْلِهِ {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ}
{الْقَرْحُ} الْجِرَاحُ {اسْتَجَابُوا} أَجَابُوا. يَسْتَجِيبُ يُجِيبُ.
13. باب {الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ }
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ـ أُرَاهُ قَالَ ـ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ} قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَقَالَهَا مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالُوا {إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ}
Narrated By Ibn Abbas : 'Allah is Sufficient for us and He Is the Best Disposer of affairs," was said by Abraham when he was thrown into the fire; and it was said by Muhammad when they (i.e. hypocrites) said, "A great army is gathering against you, therefore, fear them," but it only increased their faith and they said: "Allah is Sufficient for us, and He is the Best Disposer (of affairs, for us)." (3.173)
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا۔ میں سمجھتا ہوں انہوں نے یہ کہا کہ ہم سے ابو بکر بن شعبہ بن عیاش نے بیان کیا۔ انہوں نے ابو حصین (عثمان بن عاصم) سے۔ انہوں نےابو الضحی سے۔ انہوں نے ابن عباسؓ سے۔ انہوں نے کہا حسبنا اللہ و نعم الوکیل حضرت ابراہیمؑ نے اس وقت کہا تھا جب وہ آگ میں ڈالے گئے تھے اور حضرت محمدؐ نے بھی یہ کلمہ کہا تھا جب لوگوں نے ان سے کہا کہ قریش کے کافروں نے آپؐ سے لڑنے کے لئے بہت جماؤ کیا۔ ان سے ڈرتے رہنا۔ صحابہ کا یہ خبر سن کر ایمان بڑھ گیا۔ انہوں نے یہی کہا حسبنا اللہ و نعم الوکیل (اللہ بس ہے وہ اچھا کام کرنے والا ہے)۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ آخِرَ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ.
Narrated By Ibn Abbas : The last statement of Abraham when he was thrown into the fire was: "Allah is Sufficient for us and He is the Best Disposer (of affairs for us)." (3.173)
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ۔ کہا ہم سے اسرائیل نے۔ انہوں نے ابو حصین سے۔ انہوں نے ابو الضحی سے۔ انہوں نے ابن عباسؓ سے۔ انہوں نے کہا جب ابراہیمؑ آگ میں ڈالے گئے تو اخیر کلمہ انہوں نے یہی کہا۔ حسبی اللہ و نعم الوکیل۔
14. باب {وَلاَ يَحْسِبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ} الآيَةَ
{سَيُطَوَّقُونَ} كَقَوْلِكَ طَوَّقْتُهُ بِطَوْقٍ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ـ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ـ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ ـ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ ـ يَقُولُ أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ ". ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ {وَلاَ يَحْسِبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Anyone whom Allah has given wealth but he does not pay its Zakat, then, on the Day of Resurrection, his wealth will be presented to him in the shape of a bald-headed poisonous male snake with two poisonous glands in its mouth and it will encircle itself round his neck and bite him over his cheeks and say, "I am your wealth; I am your treasure." Then the Prophet recited this Divine Verse:
"And let not those who covetously withhold of that which Allah has bestowed upon them of His Bounty." (3.180)
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا۔ انہوں نے ابو النضر (ہاشم بن قاسم) سے سنا۔ انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن دینار نے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابو صالح سے۔ انہوں نے ابو یرہرہؓ سے۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایاجس شخص کو اللہ تعالٰی (زکوۃ کا) مال عنایت فرمائے اور وہ زکوۃ نہ دے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے سانپ کی شکل میں جس کی آنکھوں پر دو کالے ٹپکے (نقطے) ہوں گے بن کر اس کے گلے کا طوق ہو جائے گا اور اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا (مجھ کو نہیں پہچانتا) میں تیرا مال ہوں نا، تیرا خزانہ ہوں نا۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی وَلَا یَحۡسَنَنَّ الَّذِینَ یَبۡخَلُونِ بَمِا اٰتٰھُمُاللہُ مِنۡ فَضۡلِہِ۔
15. باب {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا}
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ، يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ ـ قَالَ ـ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ، ابْنُ سَلُولَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ وَالْمُسْلِمِينَ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ لاَ تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا. فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ أَيُّهَا الْمَرْءُ، إِنَّهُ لاَ أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ، إِنْ كَانَ حَقًّا، فَلاَ تُؤْذِينَا بِهِ فِي مَجْلِسِنَا، ارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ، فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاغْشَنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا، فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ. فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَنُوا، ثُمَّ رَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دَابَّتَهُ فَسَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ". يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ " قَالَ كَذَا وَكَذَا ". قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ عَنْهُ، فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ، لَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ، لَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُونَهُ بِالْعِصَابَةِ، فَلَمَّا أَبَى اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ شَرِقَ بِذَلِكَ، فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ ما رَأَيْتَ. فَعَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الأَذَى قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا } الآيَةَ، وَقَالَ اللَّهُ {وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَأَوَّلُ الْعَفْوَ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ، حَتَّى أَذِنَ اللَّهُ فِيهِمْ، فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَدْرًا، فَقَتَلَ اللَّهُ بِهِ صَنَادِيدَ كُفَّارِ قُرَيْشٍ قَالَ ابْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَعَبَدَةِ الأَوْثَانِ هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ. فَبَايَعُوا الرَّسُولَ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ فَأَسْلَمُوا.
Narrated By Usama bin Zaid : Allah's Apostle rode a donkey, equipped with a thick cloth-covering made in Fadak and was riding behind him. He was going to pay visit to Sad bin Ubada in Banu Al-Harith bin Al-Khazraj; and this incident happened before the battle of Badr. The Prophet passed by a gathering in which 'Abdullah bin Ubai bin Salul was present, and that was before 'Abdullah bin Ubai embraced Islam. Behold in that gathering there were people of different religions: there were Muslims, pagans, idol-worshippers and Jews, and in that gathering 'Abdullah bin Rawaha was also present. When a cloud of dust raised by the donkey reached that gathering, 'Abdullah bin Ubai covered his nose with his garment and then said, "Do not cover us with dust." Then Allah's Apostle greeted them and stopped and dismounted and invited them to Allah (i.e. to embrace Islam) and recited to them the Holy Qur'an. On that, 'Abdullah bin Ubai bin Saluil said, "O man ! There is nothing better than that what you say. If it is the truth, then do not trouble us with it in our gatherings. Return to your mount (or residence) and if somebody comes to you, relate (your tales) to him." On that 'Abdullah bin Rawaha said, "Yes, O Allah's Apostle! Bring it (i.e. what you want to say) to us in our gathering, for we love that."
So the Muslims, the pagans and the Jews started abusing one another till they were on the point of fighting with one another. The Prophet kept on quietening them till they became quiet, whereupon the Prophet rode his animal (mount) and proceeded till he entered upon Sad bin Ubada. The Prophet said to Sad, "Did you not hear what 'Abu Hub-b said?" He meant 'Abdullah bin Ubai. "He said so-and-so." On that Sad bin Ubada said, "O Allah's Apostle! Excuse and forgive him, for by Him Who revealed the Book to you, Allah brought the Truth which was sent to you at the time when the people of this town (i.e. Medina) had decided unanimously to crown him and tie a turban on his head (electing him as chief). But when Allah opposed that (decision) through the Truth which Allah gave to you, he (i.e. 'Abdullah bin Ubai) was grieved with jealously. and that caused him to do what you have seen." So Allah's Apostle excused him, for the Prophet and his companions used to forgive the pagans and the people of Scripture as Allah had ordered them, and they used to put up with their mischief with patience. Allah said: "And you shall certainly hear much that will grieve you from those who received the Scripture before you and from the pagans...'(3.186) And Allah also said: "Many of the people of the Scripture wish if they could turn you away as disbelievers after you have believed, from selfish envy..." (2.109)
So the Prophet used to stick to the principle of forgiveness for them as long as Allah ordered him to do so till Allah permitted fighting them. So when Allah's Apostle fought the battle of Badr and Allah killed the nobles of Quraish infidels through him, Ibn Ubai bin Salul and the pagans and idolaters who were with him, said, "This matter (i.e. Islam) has appeared (i.e. became victorious)." So they gave the pledge of allegiance (for embracing Islam) to Allah's Apostle and became Muslims.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیرؓ نے خبر دی ان کو اسامہ بن زیدؓ نے کہ رسول اللہﷺ ایک گدھے پر سوار ہوئے۔ جس پر فدک کی (بُنی ہوئی) چادر پُری تھی۔ اور اسامہ بن زیدؓ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ آپؐ سعد بن عبادہ کو پوچھنے گئے (جو بیمار تھے) بنی حارث بن خزرج کے محلہ میں یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے۔ راستے میں ایک مجلس پر گزر ہوا جس میں عبداللہ بن اُبیّ بن سلول (مشہور منافق) بیٹھا تھا اس وقت تک عبداللہ بن اُبیّ (ظاہر میں بھی) مسلمان نہیں ہوا تھا اس مجلس میں سب قسم کے لوگ تھے۔ کچھ مسلمان کچھ مشرک بت پرست یہودی کچھ مسلمان۔ اس مجلس میں عبداللہ بن رواحہؓ (مشہور صحابی) بھی تھے۔ جب گدھے کے پاؤں کی گرد مجلس والوں پر پڑنے لگی (یعنی سواری مبارک قریب آن پہنچی) تو عبداللہ بن ابی نے چادر سے اپنی ناک ڈھانک لی۔ اور کہنے لگا اجی ہم پر گرد مت اڑاؤ ۔ رسول اللہﷺ نے مجلس والوں پر سلام کیا اور ٹھہر گئے پھر گدھے سے اترے۔ ان مجلس والوں کو اللہ کی طرف بلایا (اسلام کی دعوت دی) ان کو قرآن پڑھ کر سنایا۔ اس وقت عبداللہ بن ابی کہنے لگا بھلے آدمی تیرا کلام بہت اچھا ہے۔ اگر سچ بھی ہے تو بھی ہم کو ہماری مجلسوں میں مت سنا۔ اپنے ٹھکانے جا اور جو تیرے پاس آئے اس کو یہ قصّہ سنا۔ عبداللہ بن رواحہؓ (جو پکے مسلمان اور آپﷺ کے جانثار تھے) کہنے لگے یا رسولؐ اللہ ! نہیں ہر ایک مجلس میں آپؐ تشریف لایا کیجیئے ہم کو بہت اچھا لگتا ہے۔ اس گفتگو پر مسلمان اور مشرک اور یہودی میں گالی گلوچ شروع ہوئی قریب تھا کہ ایک دوسرے پر اٹھ کھڑے ہوں (حملہ کر بیٹھیں) نبیﷺ ان کو دھیما کر رہے تھے (سمجھا رہے تھے کہ لڑو نہیں) آخر وہ خاموش ہو گئے۔ اس وقت آپؐ اپنے گدھے پر سوار ہو کر چلے گئے۔ سعد بن عبادہؓ کے پاس پہنچے اور سعدؓ سے فرمایا تم نے ابو حباب یعنی عبداللہ بن ابی کی گفتگو نہیں سنی۔ اس نے مجھ سے ایسی ایسی سخت (باتیں) کی ہیں۔ سعدؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! آپؐ معاف کر دیجیئے درگزر فرمائیے بات یہ ہے کہ قسم اس پروردگار کی جس نے آپؐ پر قرآن اتارا۔ قرآن بیشک سچا کلام ہے جو اللہ نے آپؐ پر اتارا۔ اس بستی والوں (یعنی مدینہ والوں) نے (آپؐ کے تشریف لانے سے پہلے) یہ ٹھہرایا تھا کہ کہ عبداللہ بن ابی کو سرداری کا تاج پہنا کر عمامہ شاہی اس کے سر پر لپیٹیں گے (یعنی اس کو مدینہ کا رئیس بنائیں گے) مگر اللہ کو یہ منظور نہ تھا۔ اللہ کو تو آپؐ کو اپنا سچا کلام دے کر سردار بنانا منظور ہوا ۔وہ (غصے اور حسد سے) جل گیا۔ اس غصے اور حسد کی وجہ سے اس نے ایسی بے ادبی کی باتیں منہ سے نکالیں۔رسول اللہﷺ نے سعدؓ سے یہ سن کو عبداللہ بن ابی کا قصور معاف کر دیا۔ اور نبیﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ (جب تک جہاد کا حکم نہیں اترا تھا) برابر مشرک اور اہل کتاب لوگوں کی سخت کلامی سے درگزر اور ان کی ایذادہی پر صبر کرتے رہتے جیسے اللہ نے حکم دیا تھا وَلَتَسۡمَعَنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوتُوا الکِتَابَ الخ اور اللہ تعالٰی نے یہ بھی فرمایا وَدَّ کَثِیرٌ مِنۡ اَھۡلِ الۡکِتَابِ الخ اور آپﷺ کافروں کی ایذادہی پر وہی طریقہ اختیار کرتے تھےجس کا اللہ تعالٰی نے حکم دیا تھا (یعنی صبر اور شکر کا جادہ) یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے کافروں کے باب میں جہاد کی اجازت دی۔ جب نبیﷺ نے بدر کا جہاد کیا اورا س جہاد کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے قریش کے بڑے بڑے کافر رئیسوں کو قتل کرایا تو عبداللہ بن ابی اس وقت (ڈر کر) اپنے ساتھ والوں مشرک بت پرستوں سے کہنے لگا، اب تو اس دین میں شریک ہونے کا موقع آن پہنچا (اس کا غلبہ ہو گیا) تو اسلام لا کر پیغمبر صاحب سے بیعت کر لو۔ اس پر وہ مسلمان ہو گئے۔
16. باب {لاَ يَحْسِبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا}
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُنَافِقِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْغَزْوِ تَخَلَّفُوا عَنْهُ، وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا، وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا
Narrated By Abu Said Al-Khudri : During the lifetime of Allah's Apostle, some men among the hypocrites used to remain behind him (i.e. did not accompany him) when he went out for a Ghazwa and they would be pleased to stay at home behind Allah's Apostle When Allah's Apostle returned (from the battle) they would put forward (false) excuses and take oaths, wishing to be praised for what they had not done. So there was revealed:
"Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done..." (3.188)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا۔ کہا ہم کو محمد بن جعفر نے۔ کہا مجھ کو زید بن اسلم نے انہوں نے عطاء بن یسار سے۔ انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ کے زمانے میں چند منافق لوگ ایسے تھے۔ جب رسول اللہﷺ جہاد پر جاتے تو مدینہ میں رہ جاتے اور پیچھے رہ جانے پر خوش ہوتے۔ پھر جب آپﷺ جہاد سے لوٹ کر آتے تو (طرح طرح) کے بہانے بناتے اور قسمیں کھاتے (ان وجوہات سے ہم نہ جا سکے) ان کو ایسے کام پر تعریف ہونا پسند آتا جس کو انہوں نے نہ کیا ہوتا۔ تو یہ آیت اتری لَا تَحۡسَبَنَّ الذِیۡنَ یَفۡرَحُونَ بِمَا أتَوۡا وَ یُحِبُّونَ أنۡ یُحۡمَدوا بِمَا لَمۡ یَفۡعَلُوا۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ لِبَوَّابِهِ اذْهَبْ يَا رَافِعُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ، وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ، مُعَذَّبًا، لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ إِنَّمَا دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَهُودَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ شَىْءٍ، فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ، وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ، فَأَرَوْهُ أَنْ قَدِ اسْتَحْمَدُوا إِلَيْهِ بِمَا أَخْبَرُوهُ عَنْهُ فِيمَا سَأَلَهُمْ، وَفَرِحُوا بِمَا أُوتُوا مِنْ كِتْمَانِهِمْ، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ {وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ} كَذَلِكَ حَتَّى قَوْلِهِ {يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا}. تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بِهَذَا.
Narrated By Alqama bin Waqqas : Marwan said to his gatekeeper, "Go to Ibn 'Abbas, O Rafi, and say, 'If everybody who rejoices in what he has done, and likes to be praised for what he has not done, will be punished, then all of us will be punished." Ibn Abbas said, "What connection have you with this case? It was only that the Prophet called the Jews and asked them about something, and they hid the truth and told him something else, and showed him that they deserved praise for the favour of telling him the answer to his question, and they became happy with what they had concealed. Then Ibn Abbas recited:
"(And remember) when Allah took a Covenant from those who were given the Scripture... and those who rejoice in what they have done and love to be praised for what they have not done.' " (3.187-188)
Narrated By Humaid bin 'Abdur-Rahman bin 'Auf : That Marwan had told him same narration.
مجھ سے ابراہیم بن موسٰی نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام نے خبر دی۔ ان کو ابن جریج نے۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے۔ ان کو علقمہ بن وقاص نے خبر دی کے مروان نے اپنے دربان (رافع) سے کہا۔ اے رافع تو ابن عباسؓ کے پاس جا۔ ان سے پوچھ اس آیت کی رو سے لَا تَحۡسَبَنَّ الذِیۡنَ یَفۡرَحُونَ بِمَا أتَوۡا تو ہم سب کو عذاب ہونا چاہیئےکیونکہ ہر آدمی ان نعمتوں پر جو اس کو ملی ہیں خوش ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام اس نے کیا کرایا کچھ نہیں اس پر اس کی تعریف ہو۔ (رافع نے ابن عباسؓ سے پوچھا) انہوں نے کہا اس حدیث سے تم مسلمانوں کو کیا تعلق۔ ہوا یہ تھا کہ نبیﷺ نے یہودیوں کو بلوا بھیجا۔ ان سے (دین کی) کوئی بات پوچھی۔ انہوں نے ٹھیک بات چھپائی اور غلط بتلا دی۔ پھر یہ سمجھے کہ ہم آپؐ کے نزدیک لائق ٹھہرے۔ آپؐ نے جو بات پوچھی وہ بتلا دی اور حق بات چھپا رکھنے پر خوش ہوئے۔ اس کے بعد ابن عباسؓ نے یہ آیت پڑھی وَاِذۡ اَخَذَ اللہُ الخ
(جو آیت سے پہلے ہے) یَفۡرَحُونَ بِمَا أتَوۡا۔ تک۔ ہشام بن یوسف کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بھی ابن جریج سے روایت کیا۔
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا کہا ہم کو حجاج بن محمد نے خبر دی۔ انہوں نے ابن جریج سے۔ کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی۔ ان کو حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا پھر وہی حدیث بیان کی۔
17. باب قَوْلِهِ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُوْلِي الأَلْبَابِ }
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَتَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ}، ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ، فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ.
Narrated By Ibn 'Abbas : I stayed overnight in the house of my aunt Maimuna. Allah's Apostle talked with his wife for a while and then went to bed. When it was the last third of the night, he got up and looked towards the sky and said:
"Verily! In the creation of the Heavens and the Earth and in the alteration of night and day, there are indeed signs for men of understanding." (3.190)
Then he stood up, performed ablution, brushed his teeth with a Siwak, and then prayed eleven Rakat. Then Bilal pronounced the Adhan (i.e. call for the Fajr prayer). The Prophet then offered two Rakat (Sunna) prayer and went out (to the Mosque) and offered the (compulsory congregational) Fajr prayer.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا۔ کہا ہم کو محمد بن جعفر نے کہا مجھ کو شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے۔ انہوں نے کریب سے۔ انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا ایسا ہواکہ ایک رات میں اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہؓ کے پاس گیا۔ رسول اللہﷺ رات کو تھوڑی دیر اپنی بی بی ام المؤمنین میمونہؓ سے باتیں کرتے رہے۔ پھر سو گئے۔ جب رات کا آخری حصہ شروع ہوا تو آپؐ (اٹھ کر) بیٹھے۔ آسمان کی طرف دیکھا پھر یہ آیت پڑھی اِنَّ فِی خَلۡقِ السَّمٰواتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ اللَّیۡلِ وَ النَّھَارِ لَآیَاتٍ لَاُولِی الاَلۡبَاب، پھر کھڑے ہوئے وضو کیا۔ مسواک فرمایا اور گیارہ رکعتیں
(تہجد اور وتر) کی پڑھیں۔اس کے بعد بلالؓ نے (صبح کی) اذان دی آپؐ نے فجر کی دو رکعت سنت پڑھی پھر باہر نکلے صبح کی نماز پڑھائی۔
18. باب {الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ}الآيَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقُلْتُ لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطُرِحَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وِسَادَةٌ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طُولِهَا، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الآيَاتِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَ، ثُمَّ أَتَى شَنًّا مُعَلَّقًا، فَأَخَذَهُ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي، ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي، فَجَعَلَ يَفْتِلُهَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ.
Narrated By Ibn Abbas : (One night) I stayed overnight in the house of my aunt Maimuna, and said to myself, "I will watch the prayer of Allah's Apostle " My aunt placed a cushion for Allah's Apostle and he slept on it in its length-wise direction and (woke-up) rubbing the traces of sleep off his face and then he recited the last ten Verses of Surat-al-Imran till he finished it. Then he went to a hanging water skin and took it, performed the ablution and then stood up to offer the prayer. I got up and did the same as he had done, and stood beside him. He put his hand on my head and held me by the ear and twisted it. He offered two Rakat, then two Rakat, then two Rakat, then two Rakat, then two Rakat, then two Rakat, and finally the Witr (i.e. one Rak'a) prayer.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے عبدالرحمٰن مہدی نے۔ انہوں نے امام مالکؒ سے۔ انہوں نے مخرمہ سے۔ انہوں نے کریب سے۔ انہوں نے ابن عباسؓ سے۔ انہوں نے کہا ایک رات میں اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہؓ کے پاس رہ گیااور میں نے (اپنے جی میں) کہا آج رات کو میں دیکھوں گا رسول اللہﷺ تہجد کی نماز کیونکر پڑھتے ہیں۔ میری خالہ نے رسول اللہﷺ (کے آرام فرمانے) کے لئے ایک گدہ بچھایا۔ آپؐ اس گدے کے لمباؤ میں لیٹ کر سو رہے (جب آدھی رات گزری) تو آپؐ جاگے اور منہ پر سے نیند کا خمار پونچھنے لگے پھر سورہ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھنا شروع کیں۔ سورت ختم کر دی۔ اس کے بعد ایک پرانی مشک کی طرف جو لٹک رہی تھی تشریف لے گئے۔ اس میں سے پانی لیا۔ وضو کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ میں بھی اٹھا اور جیسے آپﷺ نے کیا تھا میں نے بھی کیا (یعنی وضو طہارت وغیرہ) پھر آیا تو آپؐ کے بازو میں کھڑا ہو گیا۔ آپؐ نے (عین نماز میں) اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور (پیار سے) میرا کان پکڑ کر ملنے لگے۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، سب بارہ رکعتیں پھر وتر پڑھا۔
19. باب {رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ}
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ خَالَتُهُ قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي بِيَدِهِ الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ.
Narrated By Abdullah bin Abbas : That once he stayed overnight (in the house) of his aunt Maimuna. the wife of the Prophet. He added: I lay on the cushion transversely and Allah's Apostle lay along with his wife in the lengthwise direction of the pillow. Allah's Apostle slept till the middle of the night, either a bit before or a bit after it, and then woke up rubbing the traces of sleep off his face with his hands and then he recited the last ten Verses of Surat-al-Imran, got up and went to a hanging water skin. He then performed the ablution from it, and it was perfect ablution, and then stood up to offer the prayer. I too did the same as he had done, and then went to stand beside him. Allah's Apostle put his right hand on my head and held and twisted my right ear. He then offered two Rakat, then two Rakat, then two Rakat, then two Rakat, then two Rakat. then two Rakat, and finally one Rak'a, the Witr. Then he lay down again till the Muadhdhin (i.e. the call-maker) came to him, whereupon he got up and offered a light two-Rakat prayer, and went out (to the Mosque) and offered the (compulsory congregational) Fajr prayer.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے معن بن عیسٰی نے انہوں نے امام مالک سے انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے انہوں نے کریب سے جو عبداللہ بن عباسؓ کے غلام تھے۔ ان کو عبداللہ بن عباسؓ نے خبر دی کہ وہ ایک رات میمونہؓ کے پاس رہے۔ جو نبیﷺ کی
بی بی اور ان کی خالہ تھیں۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں میں تو شک کے عرض میں لیٹ رہا۔ اور رسول اللہﷺ اور آپؐ کی بی بی اس کے لمباؤ میں لیٹے۔ آپؐ سو گئے جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد تو آپؐ بیدار ہوئے اور دونوں ہاتھوں سے نیند کا خمار اتارنے لگے۔ پھر سورۃ آل عمران کی دس آیتیں تلاوت کیں۔ اور ایک پرانی مشک کی طرف گئے جو لٹک رہی تھی۔اس میں سے (پانی لے کر) اچھی طرح وضو کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ میں نے بھی وہی کیا جو آپؐ نے کیا۔ اور جا کر آپؐ کے بازو میں کھڑا ہو گیا۔ آپؐ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور آپﷺ داہنے ہاتھ سے میرا کان (شفقت سے) ملنے لگے پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں (سب باری رکعتیں ہوئیں) پھر وتر پڑھا۔ پھر لیٹ رہے۔ جب مؤذن آیا (اس نے نماز کے لئے بلایا) اس وقت آپؐ اٹھے اور ہلکی پھلکی دو رکعتیں (فجر کی سنت کی) ادا کیں۔ پھر باہر نکلے اور صبح کی نماز پڑھائی۔