10. باب قَوْلِهِ {وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ}
{صَعِيدًا} وَجْهَ الأَرْضِ. وَقَالَ جَابِرٌ كَانَتِ الطَّوَاغِيتُ الَّتِي يَتَحَاكَمُونَ إِلَيْهَا فِي جُهَيْنَةَ وَاحِدٌ، وَفِي أَسْلَمَ وَاحِدٌ، وَفِي كُلِّ حَىٍّ وَاحِدٌ، كُهَّانٌ يَنْزِلُ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ. وَقَالَ عُمَرُ الْجِبْتُ السِّحْرُ. وَالطَّاغُوتُ الشَّيْطَانُ. وَقَالَ عِكْرِمَةُ الْجِبْتُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ شَيْطَانٌ، وَالطَّاغُوتُ الْكَاهِنُ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هَلَكَتْ قِلاَدَةٌ لأَسْمَاءَ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَلَبِهَا، رِجَالاً فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ. وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا وَهُمْ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ. يَعْنِي آيَةَ التَّيَمُّمِ.
Narrated By 'Aisha : The necklace of Asma' was lost, so the Prophet sent some men to look for it. The time for the prayer became due and they had not performed ablution and could not find water, so they offered the prayer without ablution. Then Allah revealed (the Verse of Tayammum).
مجھ سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا۔ کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے، انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے۔ انہوں نے کہا ایسا ہوا حضرت اسماء کے گلے کا ہار (جو حضرت عائشہ نے مانگ لیا تھا) کہیں گر گیا۔ کئی آدمیوں کو نبیﷺ نے اس کے ڈھونڈنے کے لئے بھیجا۔ نماز کا وقت آ گیا۔ وہاں پانی نہ تھا۔ لوگ با وضو نہ تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری و ان کنتم مرضی الخ
11. باب {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ}ذَوِي الأَمْرِ
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ}. قَالَ نَزَلَتْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ، إِذْ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ.
Narrated By Ibn Abbas : The Verse: "Obey Allah and Obey the Apostle and those of you (Muslims) who are in authority." (4.59) was revealed in connection with 'Abdullah bin Hudhafa bin Qais bin 'Adi' when the Prophet appointed him as the commander of a Sariyya (army detachment).
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو حجاج بن محمد نے خبر دی ۔ انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے یعلے بن مسلم سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباسؓ سے۔ انہوں نے کہا یہ آیت اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر عبداللہ بن حذافہ کے باب میں اتری نبیﷺ نے ان کو ایک فوج کا سردار بنا کر بھیجا تھا۔
12. باب {فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ}
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فِي شَرِيجٍ مِنَ الْحَرَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ". فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ". وَاسْتَوْعَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أَحْفَظَهُ الأَنْصَارِيُّ، كَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا بِأَمْرٍ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ. قَالَ الزُّبَيْرُ فَمَا أَحْسِبُ هَذِهِ الآيَاتِ إِلاَّ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ}
Narrated By 'Urwa : Az-Zubair quarrelled with a man from the Ansar because of a natural mountainous stream at Al-Harra. The Prophet said "O Zubair! Irrigate (your lands and the let the water flow to your neighbour The Ansar said, "O Allah's Apostle (This is because) he (Zubair) is your cousin?" At that, the Prophet's face became red (with anger) and he said "O Zubair! Irrigate (your land) and then withhold the water till it fills the land up to the walls and then let it flow to your neighbour." So the Prophet enabled Az-Zubair to take his full right after the Ansari provoked his anger. The Prophet had previously given a order that was in favour of both of them Az-Zubair said, "I don't think but the Verse was revealed in this connection: "But no, by your Lord, they can have no faith, until they make you judge in all disputes between them." (4.6)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا۔ کہا ہم کو محمد بن جعفر نے۔ کہا ہم کو معمر نے خبر دی۔ انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے۔ انہوں نے کہا زبیرؓ اور ایک انصاری (ثابت بن قیس) میں حرہ کی ایک نالی پر جھگڑا ہوا۔ نبیﷺ نے (پہلے) یہ حکم دیا زبیرؓ تو اپنے درختوں کو پانی پلا لے۔ پھر اپنے ہمسایہ کے باغ میں پانی جانے دے۔ یہ سن کر انصاری کہنے لگا۔ کیوں نہیں۔ زبیرؓ آخر آپؐ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں۔ آپؐ کے چہرے کا رنگ (غصے) سے بدل گیا۔ آپؐ نے (دوسرا) حکم دیا (جو قاعدے کا تھا) زبیرؓ ایسا کر اپنے درختوں کو پانی پلا اور پانی کو روک کر رکھ جب تک مینڈھوں تک نہ بھر جائے۔ پھر اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑ دے۔ انصاری نے جب آپؐ کو غصہ دلایا تو نبیﷺ نے (دوسرا حکم دے کر) زبیرؓ کو ان کا پورا حق دلا دیا۔ پہلے جو حکم آپؐ نے دیا تھااس میں دونوں کی رعایت تھی (انصاری کا فائدہ تھا) زبیرؓ نے کہا میں سمجھتا ہوں یہ آیتیں فلا ربک لا یؤمنون حتی یحکّموک فیما شجر بینھم ۔اخیر تک اسی مقدمہ میں نازل ہوئی۔
13. باب {فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ}
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلاَّ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ". وَكَانَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيدَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ {مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ} فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ.
Narrated By 'Aisha : I heard Allah's Apostle saying, "No prophet gets sick but he is given the choice to select either this world or the Hereafter." 'Aisha added: During his fatal illness, his voice became very husky and I heard him saying: "In the company of those whom is the Grace of Allah, of the prophets, the Siddiqin (those followers of the prophets who were first and foremost to believe in them), the martyrs and the pious.' (4.69) And from this I came to know that he has been given the option.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا۔ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے۔ انہوں نے اپنے والد (سعید بن ابراہیم) سے انہوں نے عروہ سے۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ۔ آپؐ فرماتے تھے جو پیغمبر بیمار ہوتا ہے اس کو (مرنے سے پہلے) اختیار ملتا ہےچاہے دنیا میں رہے چاہے آخرت کا سفر اختیار کرے۔ موت کی بیماری میں آپﷺ کو ایک زور کا ٹھسکا لگا۔ میں نے سنا آپؐ فرما رہے تھے مع الّذین انعم اللہ علیھم من النّبیّن و الصدّیقین و الشھداء و الصّٰلحین میں سمجھ گئی کہ آپؐ کو بھی اختیا ملا (اور آپؐ نے سفر آخرت اختیار فرمایا)
14. باب قَوْلُهُ {وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} إِلَى {الظَّالِمِ أَهْلُهَا}
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي، مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ.
Narrated By Ibn Abbas : My mother and I were among the weak and oppressed (Muslims at Mecca).
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی یزید مکی سے، انہوں نے کہا میں نے ابن عباسؓ سے سنا وہ کہتے تھے اس آیت میں جو مستضعفین (یعنی کمزور ناتواں) لوگوں کا ذکر ہے تو میں اور میری والدہ (مکہ میں) ایسے ہی لوگوں میں تھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، تَلاَ {ِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ} قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ. وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {حَصِرَتْ} ضَاقَتْ {تَلْوُوا} أَلْسِنَتَكُمْ بِالشَّهَادَةِ. وَقَالَ غَيْرُهُ الْمُرَاغَمُ الْمُهَاجَرُ. رَاغَمْتُ هَاجَرْتُ قَوْمِي. {مَوْقُوتًا} مُوَقَّتًا وَقْتَهُ عَلَيْهِمْ.
Narrated By Ibn Abi Mulaika : Ibn Abbas recited: "Except the weak ones among men women and children," (4.98) and said, "My mother and I were among those whom Allah had excused."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا۔ کہا ہم سے حماد بن یزید نے۔ انہوں نے ایوب سختیانی سے۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے کہ ابن عباسؓ نے یہ آیت پرھی الّا المستضعفین من الرّجال و النّساء و الولدان کہا میں اور میری والدہ دونوں ان لوگوں میں تھےجن کو اللہ نے معذور رکھا۔ ابن عباسؓ سے منقول ہے حصرت صدورھم کا معنی ان کے دل تنگ ہین۔ تلووا السنتکم (یعنی زبان ایر پھیر کر بات بنا کر) گواہی دو۔ ابن عباسؓ کے سوا دوسرے شخص (ابو عبیدہ) نے کہا مراغم کا معنی ہجرت کا مقام۔ عرب لوگ کہتے ہیں راغمت قومی، یعنی میں نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ موقوتا کا معنی ایک ایک وقت پر۔
15. باب {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ}
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَدَّدَهُمْ، فِئَةٌ جَمَاعَةٌ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِت ٍ ـ رضى الله عنه ـ {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ} رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أُحُدٍ، وَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ فَرِيقٌ يَقُولُ اقْتُلْهُمْ. وَفَرِيقٌ يَقُولُ لاَ فَنَزَلَتْ {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ} وَقَالَ " إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ ".
Narrated By Zaid bin Thabit : Regarding the Verse: "Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites?" (4.88) Some of the companions of the Prophet returned from the battle of Uhud (i.e. refused to fight) whereupon the Muslims got divided into two parties; one of them was in favour of their execution and the other was not in favour of it. So there was revealed: "Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites?" (4.88). Then the Prophet said "It (i.e. Medina) is a Tayyaboh (good), it expels impurities as the fire expels the impurities of silver."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غنذر اور عبدالرحمٰن نےان دونوں نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عدی بن ثابت سے انہوں نے عبداللہ بن یزید حطمی سے انہوں نے زید بن ثابتؓ سے انہوں نے کہا کہ فما لکم فی المنافقین فئتین اس وقت اتری جب جنگ احد میں کچھ لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ نکل کر پھر (آپؐ کو چھوڑ کر) مدینہ لوٹ آئے۔ اب مسلمان ان کے مقدمہ میں دو گروہ ہو گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا ہم تو (مدینہ جا کر) ان کو قتل کریں گے۔ دوسرا کہتا نہیں ہم تو قتل نہیں کریں گے۔ پھر یہ آیت اتری فما لکم فی المنافقین الخ اور آپﷺ نے فرمایا مدینہ کا نام طیبہ ہے (پاک کرنے والا) یہ پلیدی کو ایسے دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی (یا لوہے) کے میل کو۔
16. باب {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ}
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ {آيَةٌ} اخْتَلَفَ فِيهَا أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَرَحَلْتُ فِيهَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} هِيَ آخِرُ مَا نَزَلَ وَمَا نَسَخَهَا شَىْءٌ.
Narrated By Said bin Jubair : The people of Kufa disagreed (disputed) about the above Verse. So I went to Ibn Abbas and asked him about it. He said, "This Verse: "And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell." was revealed last of all (concerning premeditated murder) and nothing abrogated it."
ہم سے آم بن ابی ایاس نے بیان کیا۔ کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے مغیرہ بن نعمان نے، انہوں نے کہا میں سید بن جبیر سے سناوہ کہتے تھے قرآن کی اس آیت ومن یقتل مؤمنا متعمدا میں کوفہ کے لوگوں نے اختلاف کیا (بعضے کہتے تھے منسوخ ہے) آخر میں سفر کر کے ابن عباسؓ کے پاس گیا۔ ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہ آیت تو اخیر زمانہ میں اتری ہے۔ منسوخ کہاں سے ہوئی۔
17. باب {وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا}
السِّلْمُ وَالسَّلَمُ وَالسَّلاَمُ وَاحِدٌ
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ {وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا}. قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ فَلَحِقَهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غُنَيْمَتَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ إِلَى قَوْلِهِ {عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} تِلْكَ الْغُنَيْمَةُ. قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلاَمَ.
Narrated By Ibn Abbas : Regarding the Verse: "And say not to anyone who offers you peace (by accepting Islam), You are not a believer." There was a man amidst his sheep. The Muslims pursued him, and he said (to them) "Peace be on you." But they killed him and took over his sheep. Thereupon Allah revealed in that concern, the above Verse up to: "...seeking the perishable good of this life." (4.94) i.e. those sheep.
مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے،انہوں نے عطاء سے، انہوں نے ابن عباس سے، اس آیت ولا تقولوا لمن القیٰ الیکم السلام لست مؤمنا کے باب میں عطاء کہتے ہیں۔ ابن عباسؓ نے کہا ایسا ہوا ایک شخص (مرداس ابن نہیک) تھوڑی سی بکریاں لئے ہوئے مسلمانوں کو ملا۔ اس نے (اپنا اسلام ظاہر کرنے کے لئے) السلام علیکم کہا اور ۔ مسلمانوں نے اس کو (بہانہ خور سمجھ کر) مار ڈالا۔ اس کی بکریاں لے لیں۔ (اسامہ بن زید نے اس کو قتل کیا) اس وقت یہ آیت ولا تقولوا لمن القیٰ الیکم السلام لست مؤمناتبتغون عرض الحیۃ الدنیا اتری عرض سے مراد یہی بکریاں ہیں۔ ابن عباسؓ نے اس آیت میں السلام پڑھا ہے۔
18. باب {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ }الآية
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُ رَأَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْلَى عَلَيْهِ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهْوَ يُمِلُّهَا عَلَىَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ ـ وَكَانَ أَعْمَى ـ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ عَلَىَّ حَتَّى خِفْتُ أَنْ تُرَضَّ فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {غَيْرَ أُولِي الضَّرَرِ}
Narrated By Zaid bin Thabit : That the Prophet dictated to him: "Not equal are those of the believers who sit (at home) and those who strive and fight in the Cause of Allah."
Zaid added: Ibn Um Maktum came while the Prophet was dictating to me and said, "O Allah's Apostle! By Allah, if I had the power to fight (in Allah's Cause), I would," and he was a blind man. So Allah revealed to his Apostle while his thigh was on my thigh, and his thigh became so heavy that I was afraid it might fracture my thigh. Then that state of the Prophet passed and Allah revealed: "Except those who are disabled (by injury or are blind or lame etc)."
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا مجھ سے سہل بن سعد ساعدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے مروان بن حکم کو (جو مدینہ کا حاکم تھا) مسجد میں بیٹھے دیکھا۔ میں اس کے بازو میں جا بیٹھا۔ وہ کہنے لگا ہم کو زید بن ثابت نے خبر دی کہ نبیﷺ نے ان کو یہ آیت یوں لکھاوائی۔ لا یستوی القاعدون من المؤمنین و المجاھدون فی سبیل اللہ (عبداللہ)بن ام مکتوم آپؐ کے پاس آئے آپؐ یہی آیت لکھوا رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا (وہ آنکھوں سے معذور تھے) یا رسول ا للہ ﷺ! اگر مجھ کو جہاد کی طاقت ہوتی (میں معذور نہ ہوتا) تو ضرور جہاد کرتا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ پر وحی بھیجی۔ آپؐ کی ران میری ران پر تھی۔ وحی کے آنے سے آپؐ کی ران اتنی بھاری ہو گئی میں ڈرا کہیں میری ران (بوجھ سے) ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر یہ حالت موقوف ہوئی۔ اللہ نے یہ لفظ اتارا غیر اولی الضرر۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا فَكَتَبَهَا، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَشَكَا ضَرَارَتَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {غَيْرَ أُولِي الضَّرَرِ}
Narrated By Al-Bara : When the Verse: "Not equal are those of the believers who sit (at home)" (4.95) was revealed, Allah Apostle called for Zaid who wrote it. In the meantime Ibn Um Maktum came and complained of his blindness, so Allah revealed: "Except those who are disabled (by injury or are blind or lame..." etc.) (4.95)
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا۔ انہوں نے شعبہ سے۔ انہوں نے ابو اسحٰق سے، انہوں نے براء بن عازبؓ سے۔ انہوں نے کہا جب یہ آیت اتری لا یستوی القاعدون الخ تو رسول اللہ ﷺ نے زید بن ثابت کو بلایا ۔ انہوں نے یہ آیت لکھی۔ پھر ام مکتوم کا بیٹا آیا اس نے یہ شکوہ کیا کہ میں اندھا ہوں (جہاد نہیں کر سکتا) اس وقت اللہ نے یہ لفظ اتارا غیر اولی الضرر ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ادْعُوا فُلاَنًا ". فَجَاءَهُ وَمَعَهُ الدَّوَاةُ وَاللَّوْحُ أَوِ الْكَتِفُ فَقَالَ " اكْتُبْ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". وَخَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا ضَرِيرٌ. فَنَزَلَتْ مَكَانَهَا {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ }
Narrated By Al-Bara : When the Verse: "Not equal are those of the believers who sit (at home)," (4.95) was revealed, the Prophet said, "Call so-and-so." That person came to him with an ink-pot and a wooden board or a shoulder scapula bone. The Prophet said (to him), "Write: 'Not equal are those believers who sit (at home) and those who strive and fight in the Cause of Allah." Ibn Um Maktum who was sitting behind the Prophet then said, "O Allah's Apostle! I am a blind man." So there was revealed in the place of that Verse, the Verse: "Not equal are those of the believers who sit (at home) except those who are disabled (by injury, or are blind or lame etc.) and those who strive and fight in the Cause of Allah." (4.95)
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا۔ انہوں نے اسرائیل بن یونس سے، انہوں نے اپنے دادا ابو اسحٰق سبیعی سے، انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا جب یہ آیت اتری لا یستوی القاعدون الخ تو نبیﷺ نے فرمایا فلاں شخص (یعنی زید بن ثابت) کو بلاؤ۔ وہ دوات تختی یا شانہ کی ہڈی (جس پر لکھتے تھے) لئے ہوئے آئے۔ آپؐ نے فرمایا لکھ لا یستوی القاعدون من المؤمنین و المجاھدون فی سبیل اللہ اس وقت ابن ام مکتوم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (بیٹھے ہوئے )تھے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں تو آنکھوں سے معذور ہوں (میرا کیا قصور جو مجھ کو مجاہدین کا درجہ نہ ملے) اس وقت یہ آیت اتری لا یستوی القاعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر و المجاھدون فی سبیل اللہ ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ ح، وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، أَنَّ مِقْسَمًا، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} عَنْ بَدْرٍ وَالْخَارِجُونَ إِلَى بَدْرٍ.
Narrated By Ibn Abbas : Not equal are those believers who sat (at home) and did not join the the Badr battle and those who joined the Badr battle.
ہم سے ابراہیم بن موسی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، ان کو ابن جریج نے۔ دوسری سند امام بخاری نے بیان کیا مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے ، کہا ہم کو ابن جریج نے کہا مجھ کو عبدالکریم جزئی نے، ان کو مقسم نے بیان کیا، جو عبداللہ بن حارث کے غلام تھے۔ ان سے ابن عباسؓ نے کہا لا یستوی القاعدون کا مطلب ہے کہ بدر کی لڑائی میں مسلمان نہیں گئے اور جو بدر کی لڑائی میں گئے، دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
19. باب {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ } الآيَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَغَيْرُهُ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو الأَسْوَدِ، قَالَ قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْثٌ فَاكْتُتِبْتُ فِيهِ، فَلَقِيتُ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْىِ، ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ يُكَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِي السَّهْمُ فَيُرْمَى بِهِ، فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ فَيَقْتُلُهُ أَوْ يُضْرَبُ فَيُقْتَلُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ} الآيَةَ. رَوَاهُ اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ.
Narrated By Muhammad bin Abdur-Rahman Abu Al-Aswad : The people of Medina were forced to prepare an army (to fight against the people of Sham during the caliphate of 'Abdullah bin Az-Zubair at Mecca), and I was enlisted in it; Then I met 'Ikrima, the freed slave of Ibn 'Abbas, and informed him (about it), and he forbade me strongly to do so (i.e. to enlist in that army), and then said, "Ibn 'Abbas informed me that some Muslim people were with the pagans, increasing the number of the pagans against Allah's Apostle. An arrow used to be shot which would hit one of them (the Muslims in the company of the pagans) and kill him, or he would be struck and killed (with a sword)." Then Allah revealed:
"Verily! as for those whom the angels take (in death) while they are wronging themselves (by staying among the disbelievers)" (4.97)
ہم سے عبداللہ بن یزید مقرئی نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن ابو الاسود نے۔ انہوں نے کہا مدینہ والوں کو ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا۔ اس فوج میں میرا نام بھی لکھا گیا۔ پھو عکرمہ سے ملا جو ابن عباسؓ کے غلام تھےاور ان سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے مجھ کو بہت منع کیا پھر کہنے لگےمجھ کو ابن عباسؓ نے خبر دی کہ ایسا ہوا کچھ مسلمان مشرکوں کے ساتھ تھےان کی تعداد بڑھاتے تھے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں۔ پھر ایک تیر آتا ان میں سے کوئی مارا جاتا یا تلوار کی ضرب سے کوئی قتل کیا جاتا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ان الذین توفاھم الملائکۃ ظالمی النفسھم اخیر تک۔اس حدیث کو لیث بن سعدؒ نے بھی ابو الاسودؒ سے روایت کیا ہے۔