20. باب {إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ}
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ {إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِينَ} قَالَ كَانَتْ أُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ.
Narrated By Ibn Abbas : '"Except the weak ones" (4.98) and added: My mother was one of those whom Allah excused'.
ہم سے ابو نعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے انہوں نے کہا میری والدہ الّا مستضعفین یعنی معذور لوگوں میں سے تھی۔
21. باب {فَأُولَئِكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ } الآية
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذْ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ". ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ " اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ".
Narrated By Abu Huraira : While the Prophet was offering the 'Isha' prayer, he said, "Allah hears him who sends his praises to Him," and then said before falling in prostration, "O Allah, save 'Aiyash bin Rabi'a. O Allah, save Salama bin Hisham. O Allah, save Al-Walid bin Al-Wahd. O Allah, save the weak ones among the believers. O Allah, let Your punishment be severe on the tribe of Mudar. O Allah, inflict upon them years (of famine) like the years of Joseph."
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے، انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابو سلمہ سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ ایک بار ایسا ہوا نبیﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐ نے سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد سجدہ کرنے سے پہلے یوں دعا فرمائی کہ یا اللہ! عیاش بن ربیعہ کو (کافروں کے پنجے سے) چھڑا دے۔ یا اللہ ولید بن ولید کو چھڑا دے۔ یا اللہ کمزور مسلمانوں کو نجات دلوا دے۔ یا اللہ مضر کے کافروں کو خوب سزا دے۔ ان پر حضرت یوسفؑ کے زمانے کے برابر کئی سال تک قحط بھیج۔
22. باب {وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ} الآية
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ {إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى} قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ كَانَ جَرِيحًا.
Narrated By Ibn Abbas : Regarding the Verse: "Because of the inconvenience of rain or because you are ill." (4.102) (It was revealed in connection with) 'Abdur-Rahman bin Auf who was wounded.
ہم سے ابو الحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو حجاج بن محمد اعور نے خبر دی، انہوں نے ابن جریج سے کہا مجھ کو یعلٰی بن مسلم نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیرؓ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا کہ یہ آیت و لا جناح علیکم ان کان بکم اذی من مطر عبدالرحمٰن بن عوف کے باب میں نازل ہوئی۔ وہ زخمی تھے۔
23. باب قَوْلِهِ {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ}
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ} إِلَى قَوْلِهِ {وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ}. قَالَتْ هُوَ الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْيَتِيمَةُ، هُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا، فَأَشْرَكَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّى فِي الْعِذْقِ، فَيَرْغَبُ أَنْ يَنْكِحَهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا رَجُلاً، فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ بِمَا شَرِكَتْهُ فَيَعْضُلَهَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ.
Narrated By 'Aisha : Regarding the Verse: "They ask your instruction concerning the women. Say: Allah instructs you about them and yet whom you desire to marry." (4.127) (has been revealed regarding the case of) a man who has an orphan girl, and he is her guardian and her heir. The girl shares with him all his property, even a date-palm (garden), but he dislikes to marry her and dislikes to give her in marriage to somebody else who would share with him the property she is sharing with him, and for this reason that guardian prevents that orphan girl from marrying. So, this Verse was revealed: (And Allah's statement:) "If a woman fears cruelty or desertion on her husband's part." (4.128)
ہم سے عبید بن اسمٰعیل نے بیان کیا۔ کہاہم سے ابو اسامہ حماد بن اسامہ نے،کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سےانہوں نے کہا و یستفتونک فی النساء الخ ان تنکحوھن تک کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کے پاس ایک یتیم لڑکی ہو۔ جس کی وہ پرورش کر رہا ہو۔ اس کا ولی اور وارث بھی وہی ہو اور یہ لڑکی اس کے مال میں یہاں تک کہ کھجور کے درخت میں بھی شرکت رکھتی ہو۔ اور وہ شخص اس لڑکی سے خود نکاح کر لینا چاہے۔ دوسرے کسی سے اس کا نکاح کرنا اس خیال سے نا پسند کرے کہ کہ وہ اس کے مال میں ششریک ہو جائے گا۔ جیسے وہ لڑکی شریک تھی۔ اور اسی خیال سے اس لڑکی کو بٹھائے رکھے (اس کا نکاح نہ ہونے دے)وان امراۃخافت من بعلھا نشوزا او اعراضا کی تفسیر: ابن عباسؓ نے کہا وان خفتم شقاق میں شقاق سے مراد جنگ اور فساد ہے۔ واحضرت الانفس الشح میں شح حرص خواہش نفسانی، بخیلی۔ معلقہ کا معنی بیچ ادھڑ، نہ تو بیوہ نہ خاوند والی۔ نشوز کا معنی بغض عداوت یا شرارت۔
24. باب {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا}
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شِقَاقٌ تَفَاسُدٌ {وَأُحْضِرَتِ الأَنْفُسُ الشُّحَّ} هَوَاهُ فِي الشَّىْءِ يَحْرِصُ عَلَيْهِ {كَالْمُعَلَّقَةِ} لاَ هِيَ أَيِّمٌ وَلاَ ذَاتُ زَوْجٍ {نُشُوزًا} بُغْضًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا}. قَالَتِ الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ لَيْسَ بِمُسْتَكْثِرٍ مِنْهَا يُرِيدُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَتَقُولُ أَجْعَلُكَ مِنْ شَأْنِي فِي حِلٍّ. فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي ذَلِكَ.
Narrated By 'Aisha : Regarding the Verse: "If a woman fears cruelty or desertion on her husband's part." (4.128) It is about a man who has a woman (wife) and he does not like her and wants to divorce her but she says to him, "I make you free as regards myself." So this Verse was revealed in this connection.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا۔ کہا دی ہم کو عبداللہ بن مبارک نے۔ کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے۔ انہوں نے کہا وان امراۃخافت من بعلھا نشوزا او اعراضا کا مطلب ہے کہ ایک شخص کی ایک عورت ہو جس سے وہ بہت میل جول نہ رکھتا ہو۔ اس کو چھوڑ دینا چاہے اور عورت کہے اچھا میں تجھ کو اپنی باری یا نان نفقہ کا حق معاف کئے دیتی ہوں۔ مگر مجھ کو طلاق نہ دے۔ یہ آیت اسی باب میں نازل ہوئی۔
25. باب {إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرَكِ الأَسْفَلِ}
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْفَلَ النَّارِ، {نَفَقًا} سَرَبًا.
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ كُنَّا فِي حَلْقَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَجَاءَ حُذَيْفَةُ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقُ عَلَى قَوْمٍ خَيْرٍ مِنْكُمْ. قَالَ الأَسْوَدُ سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ {إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ} فَتَبَسَّمَ عَبْدُ اللَّهِ، وَجَلَسَ حُذَيْفَةُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَتَفَرَّقَ أَصْحَابُهُ، فَرَمَانِي بِالْحَصَا، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ عَجِبْتُ مِنْ ضَحِكِهِ، وَقَدْ عَرَفَ مَا قُلْتُ، لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقُ عَلَى قَوْمٍ كَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ، ثُمَّ تَابُوا فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ.
Narrated By Al-Aswad : While we were sitting in a circle in 'Abdullah's gathering, Hudhaifa came and stopped before us, and greeted us and then said, "People better than you became hypocrites." Al-Aswad said: I testify the uniqueness of Allah! Allah says: "Verily! The hypocrites will be in the lowest depths of the Fire." (4.145)
On that 'Abdullah smiled and Hudhaifa sat somewhere in the Mosque. 'Abdullah then got up and his companions (sitting around him) dispersed. Hudhaifa then threw a pebble at me (to attract my attention). I went to him and he said, "I was surprised at 'Abdullah's smile though he understood what I said. Verily, people better than you became hypocrite and then repented and Allah forgave them."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نےکہا مجھ سے ابراہیم نخعی نے، انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے کہا کہ ہم عبداللہ بن مسعودؓ کے (شاگردوں کے) حلقے میں بیٹھے تھے اتنے میں حذیفہ بن یمانؓ (صحابی) آئے۔ انہوں نے کھڑے رہ کر ہم کو سلام کیا۔ پھر کہنے لگےنفاق تق ایسی بلا ہےجو تم سے بہتر لوگوں پر (رسول اللہ ﷺ کے زمانہ والوں پر) آ چکا ہے۔ اسود نے یہ سن کر تعجب سے کہا سبحان اللہ! اللہ تو فرماتا ہے منافق دوزخ کے نیچے کے طبقے میں رہیں گے۔ عبداللہ بن مسعودؓ مسکرا دئے اور حذیفہؓ مسجد کے ایک کونے میں بیتھ گئے۔ پھر عبداللہ بن مسعود (شاگردوں کو ) تعلیم دے کر اٹھے۔ ان کے سب شاگرد چل دیئے۔ حذیفہ نے کنکریاں پھینک کو مجھ کو
(اشارے سے) بلایا۔ میں ان کے پاس گیا وہ کہنے لگے مجھ کو تعجب ہے عبداللہ بن مسعودؓ مسکرائے کیوں حالانکہ وہ میری بات کو خوب جانتے ہیں۔ بیشک نفاق ان لوگوں پر آیا ہے جو تم سے بہتر تھے (اسلام سے پھر گئے) پھر انہوں نے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا قصور معاف کر دیا۔
26. باب قَوْلِهِ {إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ} إِلَى قَوْلِهِ {وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ}
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ".
Narrated By Abdullah : The Prophet said, "None has the right to say that I am better than Jonah bin Matta."
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے، انہوں نے سفیان ثوری سے، کہا مجھ سے اعمش نے بیان کیا ، انہوں نے ابو وائل سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے۔ آپؐ نے فرمایا کسی کو ایسا کہنا درست نہیں ہے کہ مین یونس بن متی پیغمبر سے بہتر ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلاَلٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever says that I am better than Jonah bin Matta, is a liar."
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے، کہا ہم سے ہلال بن علی نے، انہوں نے عطاء بن یسار سےانہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا جو کوئی یوں کہے میں یونس بن متی سے اچھا ہوں تو اس نے جھوٹ کہا۔
27. باب {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ}
وَالْكَلاَلَةُ مَنْ لَمْ يَرِثْهُ أَبٌ أَوِ ابْنٌ وَهْوَ مَصْدَرٌ مِنْ تَكَلَّلَهُ النَّسَبُ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَةَ، وَآخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ {يَسْتَفْتُونَكَ }
Narrated By Al-Bara : The last Sura that was revealed was Bara'a, and the last Verse that was revealed was: "They ask you for a legal verdict, Say: Allah's directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs." (4.176)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے ابو اسحٰق سےکہا، میں نے براء بن عازبؓ سے سنا، وہ کہتے تھے آخیر سورت جو اتری وہ سورہ براءت ہے اور اخیر آیت جو اتری ہے وہ آیت ہے یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ٘ ۔