- احادیثِ نبوی ﷺ

 

123

10. باب قَوْلِهِ ‏{‏وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ‏}‏

قَالَ مُجَاهِدٌ يَتَأَلَّفُهُمْ بِالْعَطِيَّةِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيد ٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بُعِثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ، فَقَسَمَهُ بَيْنَ أَرْبَعَةٍ وَقَالَ ‏"‏ أَتَأَلَّفُهُمْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مَا عَدَلْتَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Said : Something was sent to the Prophet and he distributed it amongst four (men) and said, "I want to attract their hearts (to Islam thereby)," A man said (to the Prophet), "You have not done justice." Thereupon the Prophet said, "There will emerge from the offspring of this (man) some people who will renounce the religion."

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے، انہوں نے اپنے والد (سعید بن مسروق) سے، انہوں نے ابن ابی نعیم (عبد الرحمٰن) سے، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال بھیجا گیا آپؐ نے اس کو چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا (وہ سب نو مسلم تھے) اور فرمایا میں (یہ مال ان کو دے کر) ان کا دل ملانا چاہتا ہوں۔ اس پر (بنی تمیم سے) ایک شخص کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ! آپؐ نے انصاف نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دین سے باہر ہو جائیں گے۔

11. باب قَوْلِهِ ‏{‏الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ‏}‏

قَالَ مُجَاهِدٌ :يَتَأَلَّفُهُمْ بِالْعَطِيَّةِ

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ لَمَّا أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ كُنَّا نَتَحَامَلُ فَجَاءَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِأَكْثَرَ مِنْهُ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا، وَمَا فَعَلَ هَذَا الآخَرُ إِلاَّ رِئَاءً‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ‏}‏ الآيَةَ‏

Narrated By Abu Musud : When we were ordered to give alms, we began to work as porters (to earn something we could give in charity). Abu Uqail came with one half of a Sa (special measure for food grains) and another person brought more than he did. So the hypocrites said, "Allah is not in need of the alms of this (i.e. 'Uqail); and this other person did not give alms but for showing off." Then Allah revealed: 'Those who criticize such of the Believers who give charity voluntarily and those who could not find to give in charity except what is available to them.' (9.79)

مجھ سے ابو محمد بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے، انہوں نے شعبہ سے انہوں نے سلیمان اعمش سے، انہوں نے ابو وائل سے، انہوں نے ابو مسعودؓ انصاری سے، انہوں نے کہا کہ جب ہم کو خیرات کرنے کا حکم ہوا اس وقت ہم مزدوری پر بوجھ اٹھایا کرتے تھے تو ابو عقیل بحساب اس مزدوری کے پیسے سے آدھا ساع کھجور لے کر آئے اور ایک صاحب (عبدالرحمٰن بن عوف) بہت سا مال لے کر آئے۔ اس پر منافق کیا کہنے لگے ابو عقیل کی خیرات کی اللہ کو کیا پرواہ تھی (آدھا ساعکھجور کیا مالیت ہے) اور عبدالرحمٰن عوف نے دکھلانے (ناموری) کے لئے اتنا بہت سا مال خیرات کیا اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی الَّذِینَ یَلمِزُونَ المُطَّوَّعِینَ الخ


حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ زَائِدَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ، فَيَحْتَالُ أَحَدُنَا حَتَّى يَجِيءَ بِالْمُدِّ، وَإِنَّ لأَحَدِهِمِ الْيَوْمَ مِائَةَ أَلْفٍ‏.‏ كَأَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ‏.‏

Narrated By Shaqiq : Abu Mas'ud Al-Ansari said, "Allah's Apostle, used to order us to give alms. So one of us would exert himself to earn one Mud (special measure of wheat or dates, etc.,) to give in charity; while today one of us may have one hundred thousand." Shaqiq said: As if Abu Masud referred to himself.

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا میں نے ابو اسامہ (حماد بن اسامہ) سے کہا کیا تم سے زائدہ بن قدامہ نے، سلیمان اعمش سے، انہوں نے شقیق بن سلمہ سے، انہوں نے ابو مسعودؓ انصاری سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ خیرات کا حکم دیتے اس وقت ہم میں سے کوئی مزدوری کر کے (اناج یا کھجور) لاتا۔ اور آج تو ہم لوگ ایسے امیر ہیں کہ ہم میں سے کسی کے پاس ایک لاکھ درہم موجود ہیں یہ ابو سعید نے اپنی طرف اشارہ کیا (حماد نے کہا۔ ہاں)

12. باب قَوْلِهِ ‏{‏اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً‏ فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ }‏

حَدَّثَنِى عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُصَلِّيَ فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ رَبُّكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ فَقَالَ ‏{‏اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً‏}‏ وَسَأَزِيدُهُ عَلَى السَّبْعِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ‏.‏ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ‏}‏‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : When 'Abdullah bin 'Ubai died, his son 'Abdullah bin 'Abdullah came to Allah's Apostle and asked him to give him his shirt in order to shroud his father in it. He gave it to him and then 'Abdullah asked the Prophet to offer the funeral prayer for him (his father). Allah's Apostle got up to offer the funeral prayer for him, but Umar got up too and got hold of the garment of Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle Will you offer the funeral prayer for him though your Lord has forbidden you to offer the prayer for him" Allah's Apostle said, "But Allah has given me the choice by saying: '(Whether you) ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them; even if you ask forgiveness for them seventy times...' (9.80) so I will ask more than seventy times." 'Umar said, "But he ('Abdullah bin 'Ubai) is a hypocrite!" However, Allah's Apostle did offer the funeral prayer for him whereupon Allah revealed: 'And never (O Muhammad) pray for anyone of them that dies, nor stand at his grave.' (9.84)

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے ابو اسامہ سے، انہوں نے عبید اللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا جب عبداللہ بن ابی (منافق) مر گیا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ (جو سچا مسلمان تھا) وہ رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے یہ درخواست کی کہ آپؐ اپنا کرتہ عنایت فرمائیے تا کہ میں اپنے باپ کو اس میں کفن دوں۔ آپؐ نے کرتہ دے دیا۔ پھر اس نے درخواست کی کہ آپؐ اس پر جنازے کی نماز پڑھیے آپؐ نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو عمرؓ نے کھڑے ہو کر آپؐ کا کپڑا تھاما اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ! آپؐ اس پر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اللہ ایسے لوگوں یعنی (منافقوں) پر نماز پڑھنے سے آپؐ کو منع کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ نے (مجھ کو منع نہیں کیا بلکہ) اختیار دیا ہے، اللہ تعالٰی فرماتا ہے ان کے لئے دعا کریں یا نہ کریں اگر ان کے لئے ستر دفعہ آپؐ دعا کریں گے جب بھی اللہ تعالٰی ان کو بخشنے والا نہیں۔ میں ایسا کروں گا ستر سے زیادہ بار دعا کروں گا۔ عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! وہ تو منافق تھا۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے (عمرؓ کا کہا نہ سنا) اس پر نماز پڑھی۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو ان منافقوں میں سے کوئی مر جائے تو اس پر نماز نہ پڑھ اس کی قبر پر بھی کھڑا نہ ہو۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ،‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَثَبْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَىٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا قَالَ أُعَدِّدُ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ ‏"‏ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ، لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي إِنْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ يُغْفَرْ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ يَمْكُثْ إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الآيَتَانِ مِنْ بَرَاءَةَ ‏{‏وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏وَهُمْ فَاسِقُونَ‏}‏ قَالَ فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏

Narrated By Umar bin Al-Khattab : When 'Abdullah bin Ubai bin Salul died, Allah's Apostle was called in order to offer the funeral prayer for him. When Allah's Apostle got up (to offer the prayer) I jumped towards him and said, "O Allah's Apostle! Do you offer the prayer for Ibn Ubai although he said so-and-so on such-and-such-a day?" I went on mentioning his sayings. Allah's Apostle smiled and said, "Keep away from me, O 'Umar!" But when I spoke too much to him, he said, "I have been given the choice, and I have chosen (this) ; and if I knew that if I asked forgiveness for him more than seventy times, he would be for given, I would ask it for more times than that." So Allah's Apostle offered the funeral prayer for him and then left, but he did not stay long before the two Verses of Surat-Bara'a were revealed, i.e. 'And never (O Muhammad) pray for anyone of them that dies... and died in a state of rebellion.' (9.84) Later I was astonished at my daring to speak like that to Allah's Apostle and Allah and His Apostle know best.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے عقیل سے، یحیٰی کے سوا دوسرے شخس (عبداللہ بن صالح کے منشی) نے یوں کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے، انہوں نے ابن شھاب سے، انہوں نے کہا مجھ کو عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر نے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے عمرؓ سے، انہوں نے کہا کہ جب عبداللہ بن ابی سلول (منافق) مر گیا تو رسول اللہ ﷺ اس پر (جنازے کی) نماز پڑھنے کے لئے بلائے گئے۔ جب آپؐ اس پر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں کود کر گر گیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپؐ ابی کے بیٹے پر نماز پڑھتے ہیں اس نے تو فلاں دن ایسی بات کہی تھی اور فلاں دن ایسی۔ میں اس کی (کفر کی) باتیں شمار کرنے لگا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرا دیئے اور فرمایا عمرؓ رہو بھی۔ جب میں نے بہت اصرار کیا (کہ آپؐ اس پر نماز مت پڑھئےتو آپؐ نے فرمایا کہ بات یہ ہے اللہ تعالٰی کی طرف سے) مجھے اختیار ہے میں دعا کرتا ہوں اگر میں یہ جانو کہ ستر بار سے زیادہ استغفار کرنے سے اس کی بخشش ہو جائے گی تو میں ستر بار سے زیادہ اس کے لئے استغفار کروں گا۔ عمرؓ کہتے ہیں آخر رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی۔ پھر نماز پڑھ کر لوٹےتھوڑے دیر ٹھہرے تھے کہ سورۃ براءت کی یہ دو آیتیں نازل ہوئیں وَ لَا تُصَلِّ عَلَی اَحَدٍ مِنھُم الخ عمرؓ کہتے ہیں کہ بعد میں مجھ کو اپنے اوپر تعجب آیا کہ میں نے رسول اللہﷺ پر اتنی جرأت (دلیری) کیوں کی۔ بار بار آپؐ کو نماز پڑھنے سے روکا حالانکہ اللہ اور اس کا رسولﷺ (ہر کام کی مصلحت) خوب جانتے ہیں۔

13. باب قَوْلِهِ ‏{‏وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ‏}‏

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّنَهُ فِيهِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِثَوْبِهِ فَقَالَ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَهْوَ مُنَافِقٌ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ أَوْ أَخْبَرَنِي فَقَالَ ‏{‏اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ‏}‏ فَقَالَ سَأَزِيدُهُ عَلَى سَبْعِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏{‏وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ‏}‏

Narrated By Ibn Umar : When Abdullah bin Ubai died, his son 'Abdullah bin 'Abdullah came to Allah's Apostle who gave his shirt to him and ordered him to shroud his father in it. Then he stood up to offer the funeral prayer for the deceased, but 'Umar bin Al-Khattab took hold of his garment and said, "Do you offer the funeral prayer for him though he was a hypocrite and Allah has forbidden you to ask forgiveness for hypocrites?" The Prophet said, "Allah has given me the choice (or Allah has informed me) saying: "Whether you, O Muhammad, ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them, even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them," (9.80) The he added, "I will (appeal to Allah for his sake) more than seventy times." So Allah's Apostle offered the funeral prayer for him and we too, offered the prayer along with him. Then Allah revealed: "And never, O Muhammad, pray (funeral prayer) for anyone of them that dies, nor stand at his grave. Certainly they disbelieved in Allah and His Apostle and died in a state of rebellion." (9.84)

مجھ سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عمرؓ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے، انہوں نے کہا جب عبداللہ بن ابی (منافق) مر گیا تو اس کا بیٹا عبد اللہ بن عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ نے اس کو اپنا کرتہ عنایت کیا اور فرمایا اسی میں اپنے باپ کا کفن کر۔ پھر اس کے جنازے پر نماز پڑھنے کو کھڑے ہوئے۔ عمرؓ نے آپؐ کا کپڑا تھامااور عرض کیا وہ تو منافق تھا آپؐ اس پر نماز (کیسے) پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تو آپؐ کو منافقوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا (اللہ نے مجھ کو منع نہیں فرمایا بلکہ) اختیار دیا ہے یا ایک بات کی خبر دی ہے۔ اللہ تعالٰی نے صرف یوں فرمایا ہے تو ان کے لئے دعا کرے یا نہ کرے۔ اگر ستر بار بھی دعا کرے جب بھی اللہ ان کو نہیں بخشے گا۔ میں ستر بار سے زیادہ اس کے لئے دعا کروں گا۔ عمرؓ کہتے ہیں آخر آپؐ نے اس پر نماز پڑھی۔(میرا کہنا نہ سنا) ہم لوگوں نے بھی آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی اس کے بعد اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی وَ لَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ الخ

14. باب قَوْلِهِ ‏{‏سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ‏}‏الآية

حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ، وَاللَّهِ، مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنْ نِعْمَةٍ بَعْدَ إِذْ هَدَانِي أَعْظَمَ مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ أُنْزِلَ الْوَحْىُ ‏{‏سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ‏}‏ إِلَى ‏{‏الْفَاسِقِينَ‏}‏‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin Ka'b : I heard Ka'b bin Malik at the time he remained behind and did not join (the battle of) Tabuk, saying, "By Allah, no blessing has Allah bestowed upon me, besides my guidance to Islam, better than that of helping me speak the truth to Allah's Apostle otherwise I would have told the Prophet a lie and would have been ruined like those who had told a lie when the Divine Inspiration was revealed: "They will swear by Allah to you (Muslims) when you return to them... the rebellious people." (9.95-96)

ہم سے یحیٰی (بن عبداللہ بن بکیر) نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے عقیل سے، انہوں نے ابن شھاب سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ سے کہ عبداللہ بن کعب بن مالک نے کہا کعب بن مالک جب غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے تو کہتے تھے خدا کی قسم! اللہ نے مجھ کو جو دین اسلام کی ہدایت دی ہے تو اس نعمت کے بعد دوسری کوئی نعمت اس سے بڑھ کر نہیں دی کہ میں نے (غزوہ تبوک کے معاملے میں ) رسول اللہ ﷺ سے صحیح صورتحال عرض کر دی (اپنے قصور کا اعتراف کر لیا) اگر میں جھوٹ اور بہانے کرتا تو دوسرے جھوٹ بولنے والوں کی طرح تباہ اور برباد ہو جاتا۔ جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی سَیَحلِفُونَ الخ

15. باب قَوْلِهِ ‏{‏وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ}الآية

حَدَّثَنِى مُؤَمَّلٌ ـ هُوَ ابْنُ هِشَامٍ ـ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَنَا ‏"‏ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ فَابْتَعَثَانِي، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ وَلَبِنِ فِضَّةٍ، فَتَلَقَّانَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ قَالاَ لَهُمُ اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهْرِ‏.‏ فَوَقَعُوا فِيهِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا قَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ، فَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالاَ لِي هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ، وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ قَالاَ أَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنٌ وَشَطْرٌ مِنْهُمْ قَبِيحٌ فَإِنَّهُمْ خَلَطُوا عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا تَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated By Samura bin Jundab : Allah's Apostle said, "Tonight two (visitors) came to me (in my dream) and took me to a town built with gold bricks and silver bricks. There we met men who, half of their bodies, look like the most-handsome human beings you have ever seen, and the other half, the ugliest human beings you have ever seen. Those two visitors said to those men, 'Go and dip yourselves in that river. So they dipped themselves therein and then came to us, their ugliness having disappeared and they were in the most-handsome shape. The visitors said, 'The first is the Garden of Eden and that is your dwelling place.' Then they added, 'As for those people who were half ugly and half handsome, they were those who mixed good deeds and bad deeds, but Allah forgave them."

ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، کہا ہم سے عوف بن ابی جمیلہ نے، کہا ہم سے ابو رجاء نے، کہاہم سے سمرہ بن جندبؓ نے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات کو میرے پاس دو فرشتے آئے انہوں نے نیند سے مجھ کو جگایا(اور لے چلے) جاتے جاتے ایک شہر پر پہنچے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں کا بنا ہوا تھا۔ وہاں ہم کو کئی آدمی ملے۔ ان کا آدھا بدن تو نہایت خوبصورت تھا اور آدھا بدن نہایت بدشکل تھا۔ میرے ساتھ والے فرشتوں نے ان سے کہا چلو اس ندی میں گرو۔ وہ اس میں گر گئے۔ لوٹ کو جو آئے تو ان کی بدصورتی بالکل جاتی رہی۔ آدھا بدن بھی نہایت خوبصورت ہو گیا۔ ان فرشتوں نے مجھ سے کہا یہ جنت العدن (جنت کا باغ) ہے اور تمھارا مکان یہیں ہے۔ پھر کہنے لگے جن لوگوں کا آدھا جسم تم نے خوبصورت دیکھا اور آدھا بدصورت دیکھا۔ وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے (دنیا میں) اچھے اور برے سب طرح کے کام کئے۔ اللہ جل شانہ نے ان کو بخش دیا۔

16. باب قَوْلِهِ ‏{‏مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ‏}

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَىْ عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ ‏"‏‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ‏}‏

Narrated By Al-Musaiyab : When Abu Talib's death approached, the Prophet went to him while Abu Jahl and 'Abdullah bin Abi Umaiya were present with him. The Prophet said, "O uncle, say: None has the right to be worshipped except Allah, so that I may argue for your case with it before Allah." On that, Abu Jahl and 'Abdullah bin Abu Umaiya said, "O Abu Talib! Do you want to renounce 'Abdul Muttalib's religion?" Then the Prophet said, "I will keep on asking (Allah for) forgiveness for you unless I am forbidden to do so." Then there was revealed: 'It is not fitting for the Prophet and those who believe that they should invoke (Allah) for forgiveness for pagans even though they be of kin, after it has become clear to them that they are companions of the Fire.' (9.113)

ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، کہا ہم کو معمر نے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے اپنے والد (مسیب بن حزن صحابیؓ) سے، انہوں نے کہا جب ابو طالب (رسولﷺ کے چچا) فوت ہونے لگے تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے۔ وہاں ابو جہل ، عبداللہ بن ابی (اور امیہ بن خلف کافروں کا سردار) بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا چچا میاں تم لا الہ الا اللہ (ایک بار زبان سے) کہہ لو مجھ کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے تمھارے (چھڑانے کے) لئے ایک دلیل مل جائے گی۔ یہ سن کر ابو جہل اور عبداللہ بن ابی (اور امیہ بن خلف) ان کو سمجھانے لگے ابو طالب کیاابو مطلب (اپنے باوا) کے دین سے تم پھر جاتے ہو۔ اس وقت نبی ﷺ نے فرمایا میں تو تمھارے لئے برابر دعا کرتا رہوں گا جب تک کہ منع نہ کیا جاؤں۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت شریفہ نازل ہوئی مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِینَ اٰمَنُوا اَن یَّستَغفِرُوا لِلمُشرِکِینَ الخ۔

17. باب قَوْلِهِ ‏{‏لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ‏}الآية‏

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ ـ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ ـ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فِي حَدِيثِهِ ‏{‏وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا‏}‏ قَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ، فَهْوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"

Narrated By Abdullah bin Ka'b : I heard Ka'b bin Malik talking about the Verse: 'And to the three (He also forgave) who remained behind.' (9.118) saying in the last portion of his talk, "(I said), 'As a part (sign) of my repentance, I would like to give up all my property in the cause of Allah and His Apostle,' The Prophet said to me, 'Keep some of your wealth as it is good for you."

ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے، کہا مجھ کو یونس نے، دوسری سند احمد بن صالح نے کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے، انہوں نے ابن شھاب سے، کہا مجھ کو عبدالرحمٰن بن کعب نے، کہا مجھ کو عبداللہ بن کعب نے، وہ کعب کے بیٹوں میں اپنے آپ کو لے کر چلا کرتا تھے۔ جب وہ اندھے ہو گئے انہوں نے کہا کعب بن مالکؓ اس آیت کے متعلق وَ عَلَی الثَّلَاثَۃِ الَّذِینَ خُلِّفُوا جو قصہ بیان کرتے تھے اس میں میں نے سنا وہ کہتے تھے میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میں اپنی توبہ قبول ہونے کے شکریہ میں یہ کرتا ہوں کہ اپنا سارا مال خالص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے رضامندی کے لئے خیرات کر دیتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں تھوڑا مال اپنے لئے بھی رکھ لے یہ تیرے حق میں بہتر ہے۔

18. باب ‏{‏وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ}‏

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ، أَنَّ الزُّهْرِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ،، وَهْوَ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ غَيْرَ غَزْوَتَيْنِ غَزْوَةِ الْعُسْرَةِ وَغَزْوَةِ بَدْرٍ‏.‏ قَالَ فَأَجْمَعْتُ صِدْقَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضُحًى، وَكَانَ قَلَّمَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ سَافَرَهُ إِلاَّ ضُحًى وَكَانَ يَبْدَأُ بِالْمَسْجِدِ، فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، وَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ كَلاَمِي وَكَلاَمِ صَاحِبَىَّ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْ كَلاَمِ أَحَدٍ مِنَ الْمُتَخَلِّفِينَ غَيْرِنَا، فَاجْتَنَبَ النَّاسُ كَلاَمَنَا، فَلَبِثْتُ كَذَلِكَ حَتَّى طَالَ عَلَىَّ الأَمْرُ، وَمَا مِنْ شَىْءٍ أَهَمُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فَلاَ يُصَلِّي عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ يَمُوتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَكُونَ مِنَ النَّاسِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ، فَلاَ يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ مِنْهُمْ، وَلاَ يُصَلِّي عَلَىَّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَوْبَتَنَا عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ بَقِيَ الثُّلُثُ الآخِرُ مِنَ اللَّيْلِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مُحْسِنَةً فِي شَأْنِي مَعْنِيَّةً فِي أَمْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أُمَّ سَلَمَةَ تِيبَ عَلَى كَعْبٍ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ أَفَلاَ أُرْسِلُ إِلَيْهِ فَأُبَشِّرَهُ قَالَ ‏"‏ إِذًا يَحْطِمَكُمُ النَّاسُ فَيَمْنَعُونَكُمُ النَّوْمَ سَائِرَ اللَّيْلَةِ ‏"‏‏.‏ حَتَّى إِذَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْفَجْرِ آذَنَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا، وَكَانَ إِذَا اسْتَبْشَرَ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةٌ مِنَ الْقَمَرِ، وَكُنَّا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ الَّذِينَ خُلِّفُوا عَنِ الأَمْرِ الَّذِي قُبِلَ مِنْ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ اعْتَذَرُوا حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ لَنَا التَّوْبَةَ، فَلَمَّا ذُكِرَ الَّذِينَ كَذَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمُتَخَلِّفِينَ، وَاعْتَذَرُوا بِالْبَاطِلِ، ذُكِرُوا بِشَرِّ مَا ذُكِرَ بِهِ أَحَدٌ قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ ‏{‏يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لاَ تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ‏}‏ الآيَةَ‏.‏

Narrated By Abdullah bin Kab : I heard Ka'b bin Malik who was one of the three who were forgiven, saying that he had never remained behind Allah's Apostle in any Ghazwa which he had fought except two Ghazwat Ghazwat-al'Usra (Tabuk) and Ghazwat-Badr. He added. "I decided to tell the truth to Allah's Apostle in the forenoon, and scarcely did he return from a journey he made, except in the forenoon, he would go first to the mosque and offer a two-Rak'at prayer. The Prophet forbade others to speak to me or to my two companions, but he did not prohibit speaking to any of those who had remained behind excepting us. So the people avoided speaking to us, and I stayed in that state till I could no longer bear it, and the only thing that worried me was that I might die and the Prophet would not offer the funeral prayer for me, or Allah's Apostle might die and I would be left in that social status among the people that nobody would speak to me or offer the funeral prayer for me. But Allah revealed His Forgiveness for us to the Prophet in the last third of the night while Allah's Apostle was with Um Salama. Um Salama sympathized with me and helped me in my disaster. Allah's Apostle said, 'O Um Salama! Ka'b has been forgiven!' She said, 'Shall I send someone to him to give him the good tidings?' He said, 'If you did so, the people would not let you sleep the rest of the night.' So when the Prophet had offered the Fajr prayer, he announced Allah's Forgiveness for us. His face used to look as bright as a piece of the (full) moon whenever he was pleased. When Allah revealed His Forgiveness for us, we were the three whose case had been deferred while the excuse presented by those who had apologized had been accepted. But when there were mentioned those who had told the Prophet lies and remained behind (the battle of Tabuk) and had given false excuses, they were described with the worse description one may be described with. Allah said: 'They will present their excuses to you (Muslims) when you return to them. Say: Present no excuses; we shall not believe you. Allah has already informed us of the true state of matters concerning you. Allah and His Apostle will observe your actions." (9.94)

مجھ سے محمد بن نضر نیشا پوری نے بیان کیا (یا محمد بن یحیٰی ذہلی نے) کہا ہم سے احمد بن ابی شعیب نے، کہا ہم سے موسٰی بن اعین نے، کہا ہم سے اسحاق بن راشد نے، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبدالرحمٰن ابن عبداللہ بن کعب بن مالکؓ نے، انہوں نے اپنے والد کعب بن مالکؓ سے سنا، وہ ان تینوں میں سے ایک شخص تھے جن کا قصور اللہ تعالٰی نے معاف کر دیا تھا۔ میرے والد کہتے تھے میں رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر کسی لڑائی میں پیچھے نہیں رہا ایک غزوہ عسرہ (جنگ تبوک) اور ایک غزوہ بدر میں البتہ رہ گیا۔ سو میں نے اپنی پکی نیت یہ کر لی کہ جب رسول اللہ ﷺ چاشت کے وقت مدینہ تشریف لائیں گے، میں وہی کہوں گا جو سچ ہے اور آپؐ اکثر جب سفر سے تشریف لاتے تو چاشت ہی کے وقت (کچھ دن چڑھے) شہر میں آتے پہلے مسجد میں جاتے وہاں دوگانہ پڑھتے۔ خیر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کومنع کر دیا کہ مجھ سے اور میرے دونوں ساتھیوں سے (ہلالؓ اور مرارہؓ سے) کوئی بات نہ کرے۔ ہم تینوں کے سوا اور جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے ان کے لئے یہ حکم نہیں دیا۔ اب لوگوں نے بات چیت ہم سے کرنا چھوڑ دی۔ میں اسی حال میں رہا یہاں تک کہ زندگی دوبھر ہو گئی۔ مجھ کو بڑی فکر یہ تھی کہ کہیں میں مر جاؤں تو رسول اللہ ﷺ میرے جنازے میں نماز بھی نہ پڑھیں یا رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو جائے اور میں (تمام عمر) اسی مصیبت میں مبتلا رہوں گا۔ کوئی مجھ سے بات چیت نہ کرے۔مروں تو نماز تک نہ پڑھے۔ آخر (پوری پچاس راتیں گزرنے پر) اللہ تعالٰی نے ہمارے معافی کا حکم رسول اللہ ﷺ پر نازل پر فرمایا اس وقت تہائی رات باقی تھی۔ اور آپؐ بی بی (ام المؤمنین) ام سلمہؓ کے گھر تھے۔ بی بی ام سلمہؓ میری بھلائی کی فکر میں تھیں اور میری مدد کرنا چاہتیں تھیں۔ خیر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ام سلمہؓ! کعب بن مالکؓ کی توبہ قبول ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کعبؓ کو مبارکباد کہلا بھیجوں۔ آپؐ نے فرمایا (اتنی رات کو) لوگ ہجوم کر آئیں گے۔ تمھاری نیند کو بھی خراب کریں گے۔ جب آپؐ نے صبح کی نماز پڑھی تو اس توبہ کے قبول ہونے کی لوگوں کو خبر دی۔ رسول اللہ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ آپؐ کو جب خوشی ہوتی تو آپؐ کا چہرہ مبارک چمکنے لگتا گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔ اور ہم تین آدمیوں جن کا ذکر قرآن میں ہے کہ وہ پیچھے ڈال دئے گئے (یعنی ہماری نسبت کا کوئی حکم نہیں ہوا) جب اللہ تعالیٰ نے ہماری معافی کا حکم نازل فرمایا۔ پھر ان کا بھی ذکر آیا جو جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے۔ جنہوں نے جھوٹے بہانے کئے تھے تو ان کا ذکر بہت برے طریقے سے کیا گیا۔ ویسا برا ذکر اللہ جل شانہ نے کسی کا نہیں کیا۔ فرمایا بہانے لائیں گے تمھارے پاس جب لوٹ کر جاؤ گے۔ آپؐ کہہ دیں بہانے مت بناؤ ہم ہر گز نہیں مانیں گے تمھاری بات۔ اللہ تعالٰی تمھارے احوال ہم کو بتا چکا ہے اور ابھی دیکھے گا اللہ تعالٰی تمھارے کام اور اس کا رسولﷺ۔ پھر جاؤ گے طرف اس جاننے والے چھپے اور کھلے کے۔ سو وہ بتائے گا جو تم کر رہے ہو۔

19. باب ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ‏}‏

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ـ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ـ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ قِصَّةِ، تَبُوكَ‏.‏ فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَبْلاَهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلاَنِي، مَا تَعَمَّدْتُ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى يَوْمِي هَذَا كَذِبًا، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ‏}‏

Narrated By 'Abdullah bin Kab : I heard Ka'b bin Malik talking about the story of the battle of Tabuk when he remained behind, "By Allah, I do not know anyone whom Allah has helped for telling the truth more than me since I mentioned that truth to Allah's Apostle till today, I have never intended to tell a lie. And Allah revealed to His Apostle: "Verily! Allah has forgiven the Prophet, the Muhajirin... and be with those who are true (in words and deeds)." (9.117-119)

ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے عقیل سے، انہوں نے ابن شھاب سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے کہ عبداللہ بن کعب نے جو اپنے والد کعب بن مالکؓ کو کھینچ کر چلایا کرتے تھے۔ یوں کہا میں نے کعب بن مالکؓ سے سنا وہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کرتے تھے، کہتے تھے خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ کہ اللہ تعالٰی نے کسی واقعہ کو سچ کہنے کہ توفیق دے کر اس پر اتنا احسان کیا ہوجیسے مجھ پر احسان کیا ہے۔ میں نے اس زمانے سے جب میں نے رسول اللہ ﷺ اس مقدمہ میں سچ سچ عرض کیا۔ اب تک کبھی قصدا جھوٹ نہیں بولا۔ اور اللہ تعالٰی نے اسی باب میں یہ آیت نازل فرمائی اللہ تعالٰی مہربان ہوا نبیؐ پر اور مہاجرین پر اور انصار پر جو ساتھ رہے نبیؐ کے مشکل گھڑی میں اخیر تک۔

123