- احادیثِ نبوی ﷺ

 

123

20. باب قَوْلِهِ ‏{‏لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ }‏

مِنَ الرَّأْفَةِ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ مِمَّنْ يَكْتُبُ الْوَحْىَ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِالنَّاسِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، إِلاَّ أَنْ تَجْمَعُوهُ، وَإِنِّي لأَرَى أَنْ تَجْمَعَ الْقُرْآنَ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ لِعُمَرَ كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ‏.‏ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِيهِ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِكَ صَدْرِي، وَرَأَيْتُ الَّذِي رَأَى عُمَرُ‏.‏ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لاَ يَتَكَلَّمُ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ وَلاَ نَتَّهِمُكَ، كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْىَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ‏.‏ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَىَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلاَنِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ أَزَلْ أُرَاجِعُهُ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقُمْتُ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ وَالأَكْتَافِ وَالْعُسُبِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ، حَتَّى وَجَدْتُ مِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ ‏{‏لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ‏}‏ إِلَى آخِرِهِمَا، وَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا الْقُرْآنُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ‏.‏ تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَاللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ‏.‏ وَقَالَ مُوسَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ‏.‏ وَتَابَعَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ‏.‏ وَقَالَ أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَقَالَ مَعَ خُزَيْمَةَ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ‏

Narrated By Zaid bin Thabit Al-Ansari : Who was one of those who used to write the Divine Revelation: Abu Bakr sent for me after the (heavy) casualties among the warriors (of the battle) of Yamama (where a great number of Qurra' were killed). 'Umar was present with Abu Bakr who said, 'Umar has come to me and said, The people have suffered heavy casualties on the day of (the battle of) Yamama, and I am afraid that there will be more casualties among the Qurra' (those who know the Qur'an by heart) at other battle-fields, whereby a large part of the Qur'an may be lost, unless you collect it. And I am of the opinion that you should collect the Qur'an." Abu Bakr added, "I said to 'Umar, 'How can I do something which Allah's Apostle has not done?' 'Umar said (to me), 'By Allah, it is (really) a good thing.' So 'Umar kept on pressing, trying to persuade me to accept his proposal, till Allah opened my bosom for it and I had the same opinion as 'Umar." (Zaid bin Thabit added:) Umar was sitting with him (Abu Bakr) and was not speaking. me). "You are a wise young man and we do not suspect you (of telling lies or of forgetfulness): and you used to write the Divine Inspiration for Allah's Apostle. Therefore, look for the Qur'an and collect it (in one manuscript). " By Allah, if he (Abu Bakr) had ordered me to shift one of the mountains (from its place) it would not have been harder for me than what he had ordered me concerning the collection of the Qur'an. I said to both of them, "How dare you do a thing which the Prophet has not done?" Abu Bakr said, "By Allah, it is (really) a good thing. So I kept on arguing with him about it till Allah opened my bosom for that which He had opened the bosoms of Abu Bakr and Umar. So I started locating Qur'anic material and collecting it from parchments, scapula, leaf-stalks of date palms and from the memories of men (who knew it by heart). I found with Khuzaima two Verses of Surat-at-Tauba which I had not found with anybody else, (and they were): "Verily there has come to you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty He (Muhammad) is ardently anxious over you (to be rightly guided)" (9.128) The manuscript on which the Qur'an was collected, remained with Abu Bakr till Allah took him unto Him, and then with 'Umar till Allah took him unto Him, and finally it remained with Hafsa, Umar's daughter.

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے، انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو عبید بن سباق نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ زید بن ثابت انصاریؓ نے جو قرآن مجید لکھنے والوں میں سے تھے۔ وہ کہتے تھے جب (۱۱ ہجری میں) یمامہ کی لڑائی میں (جو مسیلمہ کذاب سے ہوئی تھی) بہت سے صحابہ کرام شھید ہو گئے تو ابو بکرؓ نے مجھ کو بلایا اس وقت عمرؓ بھی ان کے پاس موجود تھے میں گیاتو ابو بکرؓ کہنے لگے کہ عمرؓ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یمامہ کی لڑائی میں بہت سے مسلمان مارے گئے ۔ اور میں ڈرتا ہوں اسی طرح لڑائیوں میں اور قاری بھی مارے جائیں تو بہت سا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا۔ اگر قرآن کو ایک جگہ جمع کرا دو تو یہ ڈر نہ رہے گا۔ا بو بکرؓ نے کہا میں نے عمرؓ کو یہ جواب دیا بھلا میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہﷺ نے نہیں کیا۔ عمرؓ کہنے لگے خدا کی قسم یہ اچھا کام ہے اور بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے میرے دل میں بھی یہ ڈال دیا (کہ یہ اچھا کام ہے) اور میں عمرؓ کی رائے سے موافق ہو گیا۔ زید بن ثابتؓ نے کہا عمرؓ تقریر سنتے رہے اور خاموش بیٹھے رہے۔ پھر ابو بکرؓ نے مجھ سے کہا دیکھو تم جوان ہو اور عقل مند آدمی ہو۔ اور ہم تم کو سچا جانتے ہیں۔ تم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں بھی قرآن لکھا کرتے تھے۔ اب ایسا کرو قرآن کو جابجا تلاش کرو اور سب اکٹھا کرو۔ زید بن ثابتؓ کہتے ہیں اگر ابو بکرؓ مجھ کو پہاڑ ڈھونے کو کہتے تو مجھ کو اتنا مشکل معلوم نہ ہوتا جتنا قرآن مجید جمع کرنا معلوم ہوا۔ آخر میں یہ کہہ اٹھا تم دونوں ایسا کام کرتے ہو جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔ ابو بکرؓ نے کہا خدا کی قسم یہ اچھا کام ہے۔ پھر میں ان سے برابر تقرار کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے میرا سینا بھی کھول دیا جیسے اللہ تعالٰی نے ابو بکرؓ اور عمرؓ کا سینا کھول دیا تھا (میں بھی اس کو اچھا کام سمجھنے لگا) خیر میں اٹھا اور قرآن مجید کی تلاش شروع کر دی۔ کہیں پرچوں پر لکھا تھا، کہیں مونڈھے کی ہڈیوں پر، کہیں کھجور کی ڈالیوں پر لکھا ہوا تھا، لوگوں کو بھی یاد تھا۔ یہاں تک کہ میں نے سورہ التوبہ کی دو آیتیں خزیمہ بن ثابت انصاریؓ کے سوا اور کہیں نہ پائیں۔ یعنی لَقَد جَآءَکُم اخیر تک ۔ پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا گیا ابو بکرؓ کی زندگی تک ان کے پاس رہا۔ پھر عمرؓ کی اندگی تک ان کے پاس رہا۔ ان کی وفات کے بعد ام المؤمنین حفصہؓ کو ملا۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو عمر اور لیث بن سعد نے بھی یونس سے روایت کیا۔ اور لیث نے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شھاب سے روایت کی۔ اس میں (خزیمہ کے بدل) ابو خزیمہ انصاری ہے اور موسٰی نے ابراہیم سے روایت کی۔ کہا ہم سے ابن شھاب نے۔ اس روایت میں بھی ابو خزیمہ ہے۔ موسٰی اسماعیل کے ساتھ اس حدیث کو یعقوب بن ابراہیم نے بھی اپنے والد ابراہیم بن سعد سے روایت کیا۔ اور ابو ثابت محمد بن عبید اللہ مدنی نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا۔ اس روایت میں خزیمہ یا ابو خزیمہ مذکور ہے۔

123