- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First910111213

101. باب لاَ تَسُبُّوا الدَّهْرَ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَالَ اللَّهُ يَسُبُّ بَنُو آدَمَ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Allah said, "The offspring of Adam abuse the Dahr (Time), and I am the Dahr; in My Hands are the night and the day.!'"

ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے یونس سےانہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو ابو سلمہ نے خبر دی کہ ابو ہر یرہؓ نے کہا رسول اللہ ﷺنے فر مایا کہ اللہ تعالٰی فر ماتا ہے کہ آدمی زمانہ کو بُرا کہتا ہے اور زمانہ تو میں ہوں رات اور دن سب میرے ہاتھ میں ہیں ۔


حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ، وَلاَ تَقُولُوا خَيْبَةَ الدَّهْرِ‏.‏ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Don't call the grapes Al-Karm, and don't say 'Khaibat-ad-Dahri, for Allah is the Dahr."

ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الا علی نے کہا ہم سے معمر نے ۔انہوں نے زہری سے انہوں ابو سلمہؓ سے انہوں نے ابو ہر یر ہؓ سے کہ نبی ﷺنے فر مایا انگور کو کرم نہ کہو اور نہ یوں کہو ہائے زمانہ کی خرابی کیوں کہ زمانہ تواللہ کے اختیار میں ہے ۔

102. باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ‏"‏

وَقَدْ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا الْمُفْلِسُ الَّذِي يُفْلِسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ كَقَوْلِهِ ‏"‏ إِنَّمَا الصُّرَعَةُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ‏"‏‏.‏ كَقَوْلِهِ ‏"‏ لاَ مُلْكَ إِلاَّ لِلَّهِ ‏"‏‏.‏ فَوَصَفَهُ بِانْتِهَاءِ الْمُلْكِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْمُلُوكَ أَيْضًا، فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا‏}‏‏"‏‏

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَيَقُولُونَ الْكَرْمُ، إِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "They say Al-Karm (the generous), and in fact Al-Karm is the heart of a believer."

ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے ابو ہر یر ہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺنے فر مایا لوگ انگور کو کرم کہتے ہیں۔ کرم تو مسلمان کا قلب (دل )ہے ۔

103. باب قَوْلِ الرَّجُلِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي

فِيهِ الزُّبَيْرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُفَدِّي أَحَدًا غَيْرَ سَعْدٍ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏‏.‏ أَظُنُّهُ يَوْمَ أُحُدٍ‏.‏

Narrated By 'Ali : I never heard Allah's Apostle saying, "Let my father and mother be sacrificed for you," except for Sa'd (bin Abi Waqqas). I heard him saying, "Throw! (arrows), Let my father and mother be sacrificed for you !" (The sub-narrator added, "I think that was in the battle of Uhud.")

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے سفیان ثوری سے کہا مجھ سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے عبد اللہ بن شداد سے انہوں نے حضرت علی سے انہوں نے کہا میں نے تو رسول اللہ ﷺسے نہیں سُنا کہ آپ نے سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لئے یوں فر مایا ہو میرے ماں باپ تجھ پر قر بان البتہ سعد بن ابی وقاص کے لئے میں سمجھتا ہوں آپ نے احد کے دن یوں فر مایا تیر لگا تجھ پر میرے ماں باپ قر بان ۔

104. باب قَوْلِ الرَّجُلِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ

وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَفِيَّةُ، مُرْدِفَهَا عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَثَرَتِ النَّاقَةُ، فَصُرِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَالْمَرْأَةُ، وَأَنَّ أَبَا طَلْحَةَ ـ قَالَ أَحْسِبُ ـ اقْتَحَمَ عَنْ بَعِيرِهِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، هَلْ أَصَابَكَ مِنْ شَىْءٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْمَرْأَةِ ‏"‏‏.‏ فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَصَدَ قَصْدَهَا، فَأَلْقَى ثَوْبَهُ عَلَيْهَا فَقَامَتِ الْمَرْأَةُ، فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا فَرَكِبَا، فَسَارُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ ـ أَوْ قَالَ أَشْرَفُوا عَلَى الْمَدِينَةِ ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ آيِبُونَ تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ‏"‏‏.‏ فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهَا حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : That he and Abu Talha were coming in the company of the Prophet towards Medina), while Safiya (the Prophet's wife) was riding behind him on his she-camel. After they had covered a portion of the way suddenly the foot of the she-camel slipped and both the Prophet and the woman (i.e., his wife, Safiya) fell down. Abu Talha jumped quickly off his camel and came to the Prophet (saying.) "O Allah's Apostle! Let Allah sacrifice me for you! Have you received any injury?" The Prophet said, "No, but take care of the woman (my wife)." Abu Talha covered his face with his garment and went towards her and threw his garment over her. Then the woman got up and Abu Talha prepared their she camel (by tightening its saddle, etc.) and both of them (the Prophet and Safiya) mounted it. Then all of them proceeded and when they approached near Medina, or saw Medina, the Prophet said, "Ayibun,' abidun, taibun, liRabbina hamidun (We are coming back (to Medina) with repentance, worshipping (our Lord) and celebrating His (our Lord's) praises". The Prophet continued repeating these words till he entered the city of Medina.

ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے بشر بن مفضل نے کہا ہم سے یحیٰی بن ابی اسحاق نے انسؓ بن ما لک سے وہ اور ابو طلحہ نبیﷺکے سَاتھ (خیبر سے لوٹے) آرہے تھے آپ کے ساتھ ایک اونٹی پر حضرت صفیہؓ سوار تھیں ایک جگہ رستے میں اونٹنی نے ٹھو کر کھائی نبیﷺ اور حضرت صفیہؓ دونوں نیچے آر ہے ابو طلحہ نے یہ حال دیکھ کر فوراً اپنے تئیں اونٹ سے گرا دیا (جلدی میں اترنے کی بھی مہلت نہ لی) اور نبی ﷺکے پاس آئے کہنے لگے اللہ مجھ کو آپ پر سےقربان کرے آپ کو کچھ چوٹ تو نہیں لگی نبیﷺنے فر مایا نہیں مگر عورت کو دیکھو (اس سے پوچھو ) ابو طلحہ کپڑ ا منہ پر ڈال کر حضرت صفیہؓ پاس گئے اور اپنا کپڑا ان پر ڈال دیا پھر وہ اٹھ کھڑ ی ہویئں اور ابو طلحہ نے آپ کے لئے پا لان مضبوط باندھا دونوں سوار ہوئے اور چلے جب مدینہ کے قریب پہنچے یا یوں کہا مدینہ دکھائی دینے لگا تو نبی ﷺنے فر ما یا ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرنے والے اپنے مالک کو پوچنے والے اس کی تعریف کرنے والےیہی کلمے برا بر کہتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں پہنچے ۔

105. باب أَحَبِّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقُلْنَا لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلاَ كَرَامَةَ‏.‏ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ سَمِّ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Jabir : A boy was born for a man among us, and the man named him Al-Qasim. We said to him, "We will not call you Abu-l-Qasim, nor will we respect you for that." The Prophet was informed about that, and he said, "Name your son 'Abdur-Rahman."

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی کہا ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا انہوں نے جابرؓ سے انہوں نے کہا ہم لوگوں میں ایک شخص کا لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام قاسم رکھا ہم لوگ اس سےکہنےلگے ہم تجھ کو ابو القاسم نہیں پکارنے کے اور تیرا اکرام نہیں کرنے کے (کیونکہ ابوالقاسم آپﷺکی کنیت تھی )اس نے جاکر نبیﷺکو خبر کی آپؐ نے فر مایا اپنے لڑ کے کا نام عبد الرحمٰن رکھ ۔

106. باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي

قَالَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالُوا لاَ نَكْنِيهِ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ‏"‏‏.‏

Narrated By Jabi : A man among us begot a boy whom he named Al-Qasim. The people said, "We will not call him (i.e., the father) by that Kuniya (Abu-l-Qasim) till we ask the Prophet about it. The Prophet said. "Name yourselves by my name, but do not call (yourselves) by my Kuniya."

ہم سے مسددنے بیا ن کیا کہا ہم سے خالد نے کہا ہم سے حصین نے انہوں نے سالم سے انہو ں نے جابرؓ انہوں نے کہا ہم میں ایک شخص کا لڑکا پیدا ہوا اس نے لڑکے کا نام قاسم رکھا (تاکہ لوگ اس کو ابوالقاسم پکاریں )لیکن ہم نے اس سے کہا ہم تجھ کو ابو قاسم نہیں پکارنے کے جب تک نبی ﷺسے پوچھ نہ لیں گے پھر آپ نے فر مایا میرا نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Abu-l-Qasim (The Prophet) said, "Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kuniya."

ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے ایوب سختیا نی سے انہوں نے محمد بن سیرین سے کہا میں نے ابوہریر ہؓ سے سنا وہ کہتے تھے ابوالقاسم ﷺنے فر ما یا میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت نہ رکھو ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالُوا لاَ نَكْنِيكَ بِأَبِي الْقَاسِمِ، وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا‏.‏ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ‏"‏‏.

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : A man among us begot a boy whom he named Al-Qasim. The people said (to him), "We will not call you Abul-l-Qasim, nor will we please you by calling you so." The man came to the Prophet and mentioned that to him. The Prophet said to him, "Name your son 'Abdur-Rahman."

ہم سے عبد اللہ بن محمدمسندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے کہا میں نے محمد بن منکدر سے سنا وہ کہتے تھے میں نے جابر بن عبد اللہ انصاری سےانہوں نے کہا ہم لوگوں میں ایک شخص کا لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام قاسم رکھا ہم تو تیری کنیت ابو قاسم نہیں رکھنے کے نہ تیری آنکھ (اس کنیت سے پکار کر )ٹھنڈی کرنے کے آخر وہ نبیﷺپاس آیا آپ سے یہ حال عرض کیا آپ نے فر مایا تو اپنے لڑکے کا نام عبد الرحمٰن رکھ ۔

107. باب اسْمِ الْحَزْنِ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَاهُ، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا اسْمُكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ حَزْنٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْتَ سَهْلٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي‏.‏ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ فَمَا زَالَتِ الْحُزُونَةُ فِينَا بَعْدُ‏.‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمَحْمُودٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، بِهَذَا‏.‏

Narrated By Al-Musaiyab : That his father (Hazn bin Wahb) went to the Prophet and the Prophet asked (him), "What is your name?" He replied, "My name is Hazn." The Prophet said, "You are Sahl." Hazn said, "I will not change the name with which my father has named me." Ibn Al-Musaiyab added: We have had roughness (in character) ever since. Narrated By Al-Musaiyab : On the authority of his father similarly as above.

ہم سے اسحاق بن نصر نے بیا ن کیا کہا ہم سے عبد الرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے اپنے والد سے کہ ان کے باپ (حزن )نبیﷺپاس آئے آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ کہنے لگے حزن آپ نے فر مایا نہیں تو سہل ہے۔ انہوں نے کہا میں تو اپنا وہ نام نہیں بدلتا جو میرے باپ نے رکھا ہے سعید بن مسیب کہتے ہیں اس کا اثر یہ ہوا کہ ہمارے خاندان میں جب سے لے کر اب تک سختی اور مصیبت ہی رہی ۔ ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی اور محمود بن غیلان نے بیا ن کیا دونوں نے کہا ہم سے عبد الرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادسے پھر یہی حدیث نقل کی ۔

108. باب تَحْوِيلِ الاِسْمِ إِلَى اسْمٍ أَحْسَنَ مِنْهُ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ، فَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ فَاحْتُمِلَ مِنْ فَخِذِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفَاقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ الصَّبِيُّ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ قَلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا اسْمُهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فُلاَنٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلَكِنْ أَسْمِهِ الْمُنْذِرَ ‏"‏‏.‏ فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ‏.‏

Narrated By Sahl : When Al-Mundhir bin Abu Usaid was born, he was brought to the Prophet who placed him on his thigh. While Abu Usaid was sitting there, the Prophet was busy with something in his hands so Abu Usaid told someone to take his son from the thigh of the Prophet. When the Prophet finished his job (with which he was busy), he said, "Where is the boy?" Abu Usaid replied, "We have sent him home." The Prophet said, "What is his name?" Abu Usaid said, "(His name is) so-and-so. " The Prophet said, "No, his name is Al-Mundhir." So he called him Al-Mundhir from that day.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم سے ابو غسان نے کہا مجھ سے ابو حازم نے انہوں نے سہل سے انہوں نے کہا جب منذر بن ابی اسید پیدا ہوئے تو ان کو نبیﷺکے سامنے لائے آپ نے اپنی ران پر بٹھلا لیا اس وقت ابو اسید (ان کے والد )بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں نبیﷺکسی کام میں مشغول ہو گے ابو اسید نے اشارہ کیا لوگ منذر کو آپ کی ران پر سے اٹھالے گئے جب آپ کو فراغت ہوئی تو پوچھا ہایئں بچہ کہاں گیا ابو اسید نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم نے اس کو گھر بھیج دیا۔ آپ نے پوچھا اس کا نام کیا رکھا ابو اسید نے نام بیان کیا آپ نے فر مایا نہیں اس کا نام منذر ہے پھر اسی دن یہی نام رکھا گیا ۔


حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ، كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا‏.‏ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Zainab's original name was "Barrah," but it was said' "By that she is giving herself the prestige of piety." So the Prophet changed her name to Zainab.

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی انہوں شعبہ سے انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے انہوں نے ابو رافع سے انہوں نے ابو ہر یرہؓ سے کہ زینب بنت ابی سلمہ کا نام پہلے برہ رکھا گیا تھا ( یعنی نیک اور صالح)لوگوں نے کہا واہ(اپنے منہ مٹھو )اپنی آپ تعریف کر رہی ہے آخر رسول اللہ ﷺنے ان کا نام زینب رکھ دیا ۔


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، قَالَ جَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَحَدَّثَنِي أَنَّ جَدَّهُ حَزْنًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا اسْمُكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ اسْمِي حَزْنٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي‏.‏ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ فَمَا زَالَتْ فِينَا الْحُزُونَةُ بَعْدُ‏.‏

Narrated By Said bin Al-Musaiyab : That when his grandfather, Hazn visited the Prophet the Prophet said (to him), "What is your name?" He said, "My name is Hazn." The Prophet said, " But you are Sahl." He said, "I will not change my name with which my father named me." Ibn Al-Musaiyab added: So we have had roughness (in character) ever since.

ہم سے ابرہیم بن موسٰی نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے خبر دی ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہا مجھ کو عبد الحمید جبیربن شیبہ نے خبر دی انہوں نے کہا میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا تھا انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ ان کے داد احزن نبی ﷺپاس آئے آپ نے پو چھا تیرا نام کیا ہے انہوں نے کہا حزن آپ ﷺنے فر مایا نہیں تو سہل ہے وہ کہنے لگے میں تو اپنے باپ کا نام رکھا ہوا بدلنے والا نہیں سعید نے کہا اس کےبعد سے اب تک ہمارے خاندان میں سختی اور مصیبت ہی رہی ۔

109. باب مَنْ سَمَّى بِأَسْمَاءِ الأَنْبِيَاءِ

وَقَالَ أَنَسٌ قَبَّلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِبْرَاهِيمَ‏.‏ يَعْنِي ابْنَهُ‏.

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قُلْتُ لاِبْنِ أَبِي أَوْفَى رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَاتَ صَغِيرًا، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ‏.‏

Narrated By Isma'il : I asked Abi Aufa, "Did you see Ibrahim, the son of the Prophet ?" He said, "Yes, but he died in his early childhood. Had there been a Prophet after Muhammad then his son would have lived, but there is no Prophet after him."

ہم سے محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن بشر نے کہا ہم سے اسمٰعیل بن ابی خالد بجلی نے کہا میں نے عبد اللہ بن ابی اوفٰی سے کہا تم نے ابراہیمؑ نبیﷺکے صاحزادے کو دیکھا تھا انہوں نے کہا ہاں وہ چھٹپن میں گزر گئے (دودھ پینےمیں )اور اگر محمدﷺکے بعد اللہ تعالٰی کا یہ حکم ہوتا کہ کوئی اور پیغمبر ہو تو آپؐ کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن آپ کے بعد تو دوسراکوئی پیغمبر ہونے والا تھا ہی نہیں ۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Al-Bara : When Ibrahim (the son of the Prophet) died, Allah's Apostle said, "There is a wet nurse for him in Paradise."

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نےعدی بن ثابت سے کہا میں نے براء بن عازبؓ سے سنا وہ کہتے تھے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام (آپﷺکے صاحبزادے )گزر گئے تو آپ نے فر مایا ان کو بہشت میں ایک انا دودھ پلا رہی ہے۔


حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏‏.‏ وَرَوَاهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah Al-Ansari : Allah's Apostle said, "Name yourselves after me (by my name) but do not call (yourselves) by my Kuniya (1), for I am Al-Qasim (distributor), and I distribute among you Allah's blessings." This narration has also come on the authority of Anas that the ! Prophet said so."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیا ن کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے حصین بن عبد الرحمٰن سے انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے انہوں نے جابربن عبد اللہ انصاری سے انہوں نے کہا نبی ﷺنے فر مایا میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت نہ رکھو کیوں کہ قاسم میں ہوں (میری زندگی میں دوسرا نہیں ہو سکتا ) میں (اللہ کا مال)تم کو تقسیم کرتا ہوں اس حدیث کو انسؓ نے بھی نبی ﷺسے روایت کیا ہے ۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ صُورَتِي، وَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Name yourselves after me (by my name), but do not call yourselves by my Kuniya, and whoever sees me in a dream, he surely sees me, for Satan cannot impersonate me (appear in my figure). And whoever intentionally ascribes something to me falsely, he will surely take his place in the (Hell) Fire.

ہم سے موسٰی بن اسمٰعیل نے بیا ن کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے کہا ہم سے ابو حصین نے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺسے آپ نے فر مایا میرا نام رکھو لیکن میری کنیت مت رکھو اور جو شخص مجھ کو خواب میں دیکھے اس نے (صحیح)مجھ ہی کو دیکھا (یعنی جب میرے حلیہ پر دیکھے )اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بن سکتا اور جو شخص قصدًا مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَدَفَعَهُ إِلَىَّ، وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى‏.‏

Narrated By Abu Musa : I got a son and I took him to the Prophet who named him Ibrahim, and put in his mouth the juice of a date fruit (which be himself had chewed?, and invoked for Allah's blessing upon him, and then gave him back to me. He was the eldest son of Abi Musa.

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے برید بن عبد اللہ بن ابی بردہ سے انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسٰی ٰاشعری سے انہوں نے کہا میرا ایک لڑکا پیدا ہوا میں اس کو نبیﷺ پا س لے آیا آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور چبا کر اس کے منہ میں دی اس کے لئے برکت کی دعا کی پھر مجھ کو دے دیا وہی لڑکا ابو موسٰی کی بڑی اولاد تھی ۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ‏.‏ رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By Al-Mughira bin Shuba : Solar eclipse occurred on the day of Ibrahim's death (the Prophet's son).

ہم سے ابو الولید نے بیا ن کیا کہا ہم سے زائدہ نے کہا ہم سے زیاد بن علاقہ نے کہا میں نے مغیرہ بن شعبہؓ سے سنا وہ کہتے تھے جس دن حضرت ابراہیم (آپﷺکے صاحبزادے کا انتقال ہوا (اسی دن اتفاق سے )سورج گرہن بھی ہوا۔ اس کو ابو بکر ہ نے بھی نبیﷺسے روایت کیا ہے۔

110. باب تَسْمِيَةِ الْوَلِيدِ

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Hurairah (RA): When the Prophet (pbuh) (once) raised his head after bowing [in the Salat (prayer)] he said, “O Allah, save Al-Walid bin Al-Walid and Salama bin Hisham and Aiyyash bin Abu Rabia and the helpless weak believers of Makkah. O Allah, be hard on the tribe of Mudar. O Allah, send on them (famine-drought) years like the (famine-drought) years of (the Prophet) Yusuf (Joseph) (pbuh).”

ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے زہری سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے ابوہر یرہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺنے جب رکوع سے سر اٹھایا تو یوں دعا کی یا اللہ ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ اور دوسرے ناتوان مسلمانوں کو جو مکہ میں ہیں کافروں کی قید سے چھڑادے یا اللہ مضر کے کافروں کو سخت پکڑیا اللہ ان پر قحط بھیج جیسے حضرت یوسفؑ کے زمانہ میں قحط ہوئے تھے ۔

‹ First910111213