- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First89101112Last ›

91. باب هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَكَيْفَ بِنَسَبِي ‏"‏‏.‏ فَقَالَ حَسَّانُ لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ‏.‏ وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لاَ تَسُبُّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By 'Aisha : Hassan bin Thabit asked the permission of Allah's Apostle to lampoon the pagans (in verse). Allah's Apostle said, "What about my fore-fathers (ancestry)?' Hassan said (to the Prophet) "I will take you out of them as a hair is taken out of dough." Narrated Hisham bin 'Urwa that his father said, "I called Hassan with bad names in front of 'Aisha." She said, "Don't call him with bad names because he used to defend Allah's Apostle (against the pagans)."

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا کہا ہم سے عبد ہ نے کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا حسان بن ثابتؓ نے رسول اللہﷺسے مشرکوں کی ہجو کہنے کی اجازت چاہی آپ ﷺنے فر مایا ان کا میرا خاندان ایک ہے (تو میں بھی اس میں شریک ہوجاؤنگا )حسان نے کہا میں آپ ﷺکو اس میں سے اس طرح نکال لوں گا جیسے آٹے میں سے بال نکال لیتے ہیں (اور اسی سند سے )ہشام بن عروہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا میں حضرت عائشہؓ کے سَامنے حسان کو بُرا کہنے لگا انہوں نے کہا حسان کو مت بُرا کہہ وہ رسول اللہ ﷺکی طرف سے مشرکوں کو جواب دیتا تھا ۔


حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ الْهَيْثَمَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، فِي قَصَصِهِ يَذْكُرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ أَخًا لَكُمْ لاَ يَقُولُ الرَّفَثَ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي بِذَاكَ ابْنَ رَوَاحَةَ قَالَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَالأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‏.‏

Narrated By Al-Haitham bin Abu Sinan : that he heard Abu Huraira in his narration, mentioning that the Prophet said, "A Muslim brother of yours who does not say dirty words." and by that he meant Ibn Rawaha, "said (in verse): 'We have Allah's Apostle with us who recites the Holy Qur'an in the early morning time. He gave us guidance and light while we were blind and astray, so our hearts are sure that whatever he says, will certainly happen. He does not touch his bed at night, being busy in worshipping Allah while the pagans are sound asleep in their beds.'"

ہم سے اصبغ (بن فرج)نے بیان کیا کہا مجھ کو عبد اللہ بن وہب نے خبر دی کہا مجھ کو یونس نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے ان کو ہیثم بن ابی سنان نے خبر دی انہوں نے ابو ہریرہؓ سے سنا وہ حالات اور قصّے بیان کرتے کرتے نبی ﷺکا ذکر کرنے لگے آپ فر ماتے تھے تمہارا ایک بھائی (شاعر)جو بیہودہ نہیں بکتا وہ یوں کہتا ہے آپ نے عبد اللہ بن رواحہ کو مراد کیا ۔ ایک پیغمبر خدا کا پڑھتا ہے اس کی کتاب اور سناتا ہے ہمیں جب صبح کی پون پھٹتی ہے ہم تو اندھے تھے اسی نے رستہ بتلا دیا بات ہے اس کی یقینی دل میں جاکر کھبتی ہے رات کو رکھتا ہے پہلو اپنے بستر سے الگ کافروں کی خواب گاہ کو نیند بھَاری کرتی ہے یونس کے سَاتھ اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور محمد بن ولید زبیدی نے زہری سےانہوں نے سعید بن مسیب اور عبد الرحمٰن اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے اس حدیث کو روایت کیا ۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،‏.‏ وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَيَقُولُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ‏.‏

Narrated By Abu Salama bin 'Abdur-Rahman bin 'Auf : That he heard Hassan bin Thabit Al-Ansari asking the witness of Abu Huraira, saying, "O Abu- Huraira! I beseech you by Allah (to tell me). Did you hear Allah's Apostle saying' 'O Hassan ! Reply on behalf of Allah's Apostle. O Allah ! Support him (Hassan) with the Holy Spirit (Gabriel).'?" Abu Huraira said, "Yes."

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے دوسری سند امام بخاریؒ نے کہا اور ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے بھائی (عبد الحمید ) نے انہوں نے سلیمان سے انہوں نے محمد بن ابی عتیق سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف سے انہوں نے حسان بن ثابت سےسنا کہ انہوں نے ابو ہر یرہؓ سے گواہی چاہی حسان کہنے لگے ابوہریرہؓ میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم نے رسول اللہﷺسے نہیں سنا آپ فر ماتے تھے حسان اللہ رسول کی طرف سے (مشرکوں) کو جواب دے اور آپ دعا ء کرتے تھے یا اللہ روح القدس سے حسان کی مددکر ابو ہر یرہؓ نے کہا ہاں بے شک میں نے سنا ہے ۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِحَسَّانَ ‏"‏ اهْجُهُمْ ـ أَوْ قَالَ هَاجِهِمْ ـ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Al-Bara : The Prophet said to Hassan, "Lampoon them (the pagans) in verse, and Gabriel is with you."

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں عدی ابن ثابت سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے کہ نبی ﷺ نےحسان سے فر مایا مشرکوں کی ہجوکر اور جبریل علیہ السلام تیرے سَاتھ ہیں ۔

92. باب مَا يُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْغَالِبُ عَلَى الإِنْسَانِ الشِّعْرُ حَتَّى يَصُدَّهُ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَالْعِلْمِ وَالْقُرْآنِ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "It is better for a man to fill the inside of his body with pus than to fill it with poetry."

ہم سے عبیدا للہ بن موسٰی نے بیَان کیا کہا ہم کو حنظلہ نے خبر دی انہوں نے سالم سے انہوں نے ابن عمر سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ شعر سے بھر جائے۔


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle; said, "It is better for anyone of you that the inside of his body be filled with pus which may consume his body, than it be filled with poetry."

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے والد نے کہا ہم سے اعمش نے کہا میں نے ابو صالح سے سنا انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہاں تک کہ وہ اس کو کھائے تو اس سے بہتر ہے کہ شعروں سے بھر جائے(بس شعریں ہی اس کو یاد ہوں اور کچھ اس کے پیٹ میں نہ ہو۔)

93. باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَرِبَتْ يَمِينُكَ ‏"‏‏.‏ ‏"‏ وَعَقْرَى حَلْقَى ‏"

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَىَّ بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ‏.‏ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ‏.‏

Narrated By 'Aisha : Allah, the brother of Abu Al-Qu'ais asked my permission to enter after the verses of Al-Hijab (veiling the ladies) was revealed, and I said, "By Allah, I will not admit him unless I take permission of Allah's Apostle for it was not the brother of Al-Qu'ais who had suckled me, but it was the wife of Al-Qu'ais, who had suckled me." Then Allah's Apostle entered upon me, and I said, "O Allah's Apostle! The man has not nursed me but his wife has nursed me." He said, "Admit him because he is your uncle (not from blood relation, but because you have been nursed by his wife), Taribat Yaminuki." 'Urwa said, "Because of this reason, 'Aisha used to say: Foster suckling relations render all those things (marriages etc.) illegal which are illegal because of the corresponding blood relations."

ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ سے انہوں نے کہا حجاب کا(پردہ کا)حکم اترنے کے بعد افلح جو ابو القعیس کا بھَائی تھا(اور میرا رضاعی چچا ہوتا تھا) آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے کہا خدا کی قسم میں تو اس وقت تک اجازت نہ دوں گی جب تک رسول اللہﷺ سے پوچھ نہ لوں کیونکہ ابوالقعیس کے بھائی نے مجھ کو دودھ نہیں پلایا بلکہ(اس کی بھاوج)ابوالقعیس کی جورو نے پلایا ہے آخر رسول اللہﷺ جب تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھ کو مرد نے تھوڑے دودھ پلایا ہے بلکہ عورت نے(اس لئے مرد کے سَامنے کیسے نکل سکتی ہوں)آپ نے فرمایا نہیں اس کو اندر آنے کی اجازت دے وہ تیرا چچا ہوا تیرے ہاتھ کو مٹی لگے عروہ نے کہا حضرت عائشہ اسی حدیث کی رو سے یہ کہتی تھیں کہ جتنے رشتے خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔


حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْفِرَ فَرَأَى صَفِيَّةَ عَلَى باب خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً لأَنَّهَا حَاضَتْ فَقَالَ ‏"‏ عَقْرَى حَلْقَى ـ لُغَةُ قُرَيْشٍ ـ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا ‏"‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي الطَّوَافَ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَانْفِرِي إِذًا ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet intended to return home after the performance of the Hajj, and he saw Safiya standing at the entrance of her tent, depressed and sad because she got her menses. The Prophet said, "Aqra Halqa!... An expression used in the Quraish dialect: "You will detain us." The Prophet then asked (her), "Did you perform the Tawaf Al-Ifada on the Day of Sacrifice (10th of Dhul-Hijja)?" She said, "Yes." The Prophet said, "Then you can leave (with us)."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے حکم بن عتیبہ نے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہ سے انہوں نے کہا (حجۃ الوداع) میں نبیﷺ نے( مدینہ کی طرف) کوچ کرنا چاہا(جب حج سے فراغت ہوئی) تو خیمے کے دروازے پر ام المومنین صفیہ کو رنجیدہ اور غمگین پایا کیونکہ ان کو حیض آگیا تھا آپ نےفرمایا عقری حلقے یہ قریش کا محاروہ ہے۔اب تو ہم کو روک رکھے گی پھر آپ نے پوچھا تو نے دسویں تاریخ طواف الافاضہ یعنی طواف الزیارہ کیا تھا(جو فرض ہے) انہوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا تو کوچ کر۔

94. باب مَا جَاءَ فِي زَعَمُوا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غَسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً قَدْ أَجَرْتُهُ فُلاَنُ بْنُ هُبَيْرَةَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ‏"‏‏.‏ 95 ـ باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ

Narrated By Um Hani : (The daughter of Abu Talib) I visited Allah's Apostle in the year of the Conquest of Mecca and found him taking a bath, and his daughter, Fatima was screening him. When I greeted him, he said, "Who is it?" I replied, "I am Um Hani, the daughter of Abu Talib." He said, "Welcome, O Um Hani ! " When the Prophet had finished his bath, he stood up and offered eight Rakat of prayer while he was wrapped in a single garment. When he had finished his prayer, I said, "O Allah's Apostle! My maternal brother assumes (or claims) that he will murder some man whom I have given shelter, i.e., so-and-so bin Hubaira." Allah's Apostle said, "O Um Hani! We shelter him whom you have sheltered." Um Hani added, "That happened in the forenoon."

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے ابوالنضر سے جو عمر بن عبیداللہ کے غلام تھے ان سے ابومرہ نے بیان کیا جو ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام تھے انہوں نے ام ہانی سے سنا(جو حضرت علیؓ کی بہن تھیں)وہ کہتی تھیں جس سال مکہّ فتح ہوا میں رسول اللہﷺ پاس گئی میں نے دیکھا آپ غسل کر رہے ہیں اور حضرت فاطمہؓ آپ کی صاحبزادی ایک کپڑے سے آڑ کئے ہوئے ہیں میں نے (پردے کے پیچھے سے)آپ کو سلام کیا آپ نے فرمایا کون ہے میں نے کہا میں ام ہانی ہوں آپ نے فرمایا مرحبا ام ہانی(یعنی تم اچھی آیئں)جب غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر ایک ہی کپڑا لپیٹے ہوئے آٹھ رکعتیں (چاشت کی نماز کی) پڑھیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میری ماں کے بیٹے(یعنی حضرت علیؓ) یہ کہتے ہیں(زعم کرتے ہیں)وہ خبیرہ کے بیٹے فلاں شخص کو مار ڈالیں گے جس کو میں نے پناہ دی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا ام ہانی! جس کو تو نے پناہ دی ہم بھی اس کو پناہ دیں گے(ہرگز نہیں مارنے کے)ام ہانی نے کہا یہ وقت چاشت کا تھا۔

95. باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ: وَيْلَكَ

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ‏"‏‏

Narrated By Anas : The Prophet saw a man driving a Badana (a camel for sacrifice) and said (to him). "Ride it." The man said, "It is a Bandana." The Prophet said, "Ride on it." The man said, "It is a Bandana." The Prophet said, Ride on it, woe to you!"

ہم سے موسٰی بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ہمام بن یحیٰی نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے کہ نبیﷺ نے ایک شخص کو دیکھا اونٹ ہانکے لئے جا رہا ہے(خود پیدل چل رہا ہے)آپ نے فرمایا اس پر سوار ہو جا وہ کہنے لگا یہ قربانی کا اونٹ ہے(جو حرم کو جارہا ہے) آپ نے فرمایا سوار ہو جا پھر کہنے لگا یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ نے فرمایا سوار ہو جا تجھ پر افسوس۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ لَهُ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ‏"‏‏.‏ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle saw a man driving a Badana (a camel for sacrifice) and said to him, "Ride on it." The man said, "O Allah's Apostle! It is a Bandana." The Prophet said, "Ride on it, woe to you!" on the second or third time.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے ابوالزناد سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو دیکھا اونٹ ہانکے لئے جا رہا ہے آپ نے فرمایا اس پر سوار ہو جا وہ کہنے لگا یا رسول اللہ قربانی کا اونٹ ہے آپ نے فرمایا سوار ہو جا تجھ پر افسوس دوسری یا تیسری بار یوں فرمایا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏.‏ وَأَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، وَكَانَ مَعَهُ غُلاَمٌ لَهُ أَسْوَدُ، يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle was on a journey and he had a black slave called Anjasha, and he was driving the camels (very fast, and there were women riding on those camels). Allah's Apostle said, "Waihaka (May Allah be merciful to you), O Anjasha! Drive slowly (the camels) with the glass vessels (women)!"

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ثابت بنانی سے انہوں نے انس بن مالک سے دوسری سند اور اس حدیث کو حماد نے ایوب سختیانی سے بھی انہوں نے قلابہ سے انہوں نے انسؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ ایک سفر میں تھے آپ کیساتھ آپکا ایک غلام تھا کالا انجشہ نامی وہ حدا گا رہا تھا رسول اللہﷺ نے فرمایا ارے تجھ پر افسوس انجشہ شیشوں کو آہستہ لے چل۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ ـ ثَلاَثًا ـ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لاَ مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا ـ وَاللَّهُ حَسِيبُهُ ـ وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا‏.‏ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Bakra : A man praised another man in front of the Prophet. The Prophet said thrice, "Wailaka (Woe on you) ! You have cut the neck of your brother!" The Prophet added, "If it is indispensable for anyone of you to praise a person, then he should say, "I think that such-and-such person (is so-and-so), and Allah is the one who will take his accounts (as he knows his reality) and none can sanctify anybody before Allah (and that only if he knows well about that person.)".

ہم سے موسٰی بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے انہوں نے خالد سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا ایسا ہوا ایک شخص نے نبیﷺ کے سامنے دوسرے شخص کی تعریف کی آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ ڈالی تین بار یہی فرمایا اگر کوئی تم میں سے کسی کی خواہ مخواہ تعریف کرنا چاہے تو یوں کہے میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں آگے اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے میں اللہ تعالٰی کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا یعنی یوں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ تعالٰی کے علم میں بھی نیک ہے۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَالضَّحَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ ذَاتَ يَوْمٍ قِسْمًا فَقَالَ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ ـ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ـ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيْلَكَ مَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ ائْذَنْ لِي فَلأَضْرِبْ عُنُقَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاَتَهُ مَعَ صَلاَتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمُرُوقِ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْىِ الْمَرْأَةِ، أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ قَاتَلَهُمْ، فَالْتُمِسَ فِي الْقَتْلَى، فَأُتِيَ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : While the Prophet was distributing (war booty etc.) one day, Dhul Khawaisira, a man from the tribe of Bani Tamim, said, "O Allah's Apostle! Act justly." The Prophets said, "Woe to you! Who else would act justly if I did not act justly?" 'Umar said (to the Prophet), "Allow me to chop his neck off." The Prophet said, "No, for he has companions (who are apparently so pious that) if anyone of (you compares his prayer with) their prayer, he will consider his prayer inferior to theirs, and similarly his fasting inferior to theirs, but they will desert Islam (go out of religion) as an arrow goes through the victim's body (games etc.) in which case if its Nasl is examined nothing will be seen thereon, and if its Nady is examined, nothing will be seen thereon, and if its Qudhadh is examined, nothing will be seen thereon, for the arrow has gone out too fast even for the excretions and blood to smear over it. Such people will come out at the time of difference among the (Muslim) people and the sign by which they will be recognized, will be a man whose one of the two hands will look like the breast of a woman or a lump of flesh moving loosely." Abu Said added, "I testify that I heard that from the Prophet and also testify that I was with 'Ali when 'Ali fought against those people. The man described by the Prophet was searched for among the killed, and was found, and he was exactly as the Prophet had described him."

ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے ولید نے انہوں نے امام اوزاعی سے انہوں نے زہری سے انہوں نے ابو سلمہ اور ضحاک سے ان دونوں نے ابو سعید خدری سے آپ نے فرمایا ایک دن ایسا ہوا نبیﷺ لوٹ کا مال تقسیم کررہے تھے اتنے میں ذوالخویصرہ جو بنی تمیم قبیلے کا ایک شخص تھا کیا کہنے لگا یا رسول اللہ انصَاف کیجئے آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس اگر میں(اللہ کا رسول ہو کر) انصاف نہ کروں گا تو پھر (دنیا میں) کون انصاف کرے گا حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ (یہ منافق معلوم ہو تا ہے)اجازت دیجئے اس کی گردن اڑا دیتا ہوں آپ نے فرمایا نہیں اس کے کچھ جوڑ والے(میری امّت میں)پیدا ہوں گے(خارجی مردود) تم ان کی نماز کے سامنے اپنی نماز ناچیز جانو گے اور ان کے روزے کے سامنے اپنے روزے حقیر سمجھو گے(لیکن ان سب باتوں پر ایسی عبادت پر) دین سے باہر ہو جایئں گے جیسے تیر شکار کے جانور میں سے پار نکل جاتا ہے اس کی پیکان کو دیکھو تو اس میں کچھ نشان نہیں ملتا(نہ خون ہی نہ گوشت)پھر پٹھے کو دیکھو تو اس میں بھی کچھ نہیں پھر لکڑی کو دیکھو تو اس میں بھی کچھ نہیں پھر پَر کو دیکھو تو خالی ہے وہ تو لید خون سب کو چھوڑ کر زن سے نکل گیا یہ لوگ اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔(ایک خلیفہ پر متفق نہ ہوں گے) ان کی نشانی یہ ہے ان میں(سر لشکر) ایک ایسا آدمی ہو گا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح تھل تھل ہل رہا ہوگا ابو سعید خدری کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں میں نے یہ حدیث نبیﷺ سے سنی تھی اور جب میں حضرت علیؓ کے سَاتھ ہو کر ان لوگوں سے(نہروان میں)لڑا تھا تو لاشوں میں اس شخص کی تلاش کی گئی پھر دیکھا تو اس کا وہی حال ہے جو نبیﷺ نے بیان فرمایا تھا۔(اس کا ایک ہاتھ پستان کی طرح تھا)


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيْحَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَعْتِقْ رَقَبَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَجِدُهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَجِدُ‏.‏ فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فَقَالَ ‏"‏ خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى غَيْرِ أَهْلِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ طُنُبَىِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنِّي‏.‏ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ قَالَ ‏"‏ خُذْهُ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيْلَكَ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : A man came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! I am ruined!" The Prophet said, "Waihaka (May Allah be merciful to you) !" The man said, "I have done sexual intercourse with my wife while fasting in Ramadan." The Prophet said, "Manumit a slave." The man said, " I cannot afford that. " The Prophet said; "Then fast for two successive months." The man said, " I have no power to do so." The Prophet said, "Then feed sixty poor persons." The man said, "I have nothing (to feed sixty persons). Later a basket full of dates were brought to the Prophet and he said (to the man), "Take it and give it in charity." The man said, "O Allah's Apostle! Shall I give it to people other than my family? By Him in Whose Hand my life is, there is nobody poorer than me in the whole city of Medina." The Prophet smiled till his premolar teeth became visible, and said, "Take it." Az-Zuhri said (that the Prophet said). "Wailaka."

ہم سے ابو الحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا کہا ہم کو عبد اللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو اوزاعی نے کہا مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا انہوں نے حمید بن عبد الرحمن سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ ایک شخص رسول اللہﷺپاس آیا کہنے لگا یا رسول اللہ میں تباہ ہو گیا آپ نے فر مایا ارے تجھ پر افسوس (کہہ تو کیا حال ہے ) وہ کہنے لگا میں رمضان میں (دن کو روزے میں )اپنی جوروپر چڑھ بیٹھا آپ نے فر مایا ایک بردہ آزاد کر دے کہنے لگا اتنا مقدر نہیں آ پ نے فر مایا اچھا دو مہینے لگا تار روزے رکھ لے کہنے لگا یہ بھی مجھ سے نہیں ہو سکتا آپ نے فر مایا تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاکہنے لگا اس کو بھی مقدور نہیں ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوا آپﷺکے پاس کھجور کا ایک تھیلہ آیا آپ نے فر مایا لے یہ لے جا اور فقیروں کو بانٹ دے وہ کہنے لگا خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مدینہ کے دونوں طنابوں(یعنی دونوں سروں دونوں کناروں ) میں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں یہ سن کر آپ ہنسے کہ آپ کی کچلیاں کھل گیئں آپؐ نے فر مایا جا تو ہی لے لے اوزاعی کے سَاتھ اس حدیث کو یونسؓ نے بھی زہری سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے زہری سےاس حدیث میں بجا ئے ویحک کے ویلک روایت کیا ہے(معنی ایک ہی ہے )۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْهِجْرَةِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Sa'id Al-Khudri : A bedouin said, "O Allah's Apostle! Inform me about the emigration." The Prophet said, "Waihaka (May Allah be merciful to you)! The question of emigration is a difficult one. Have you got some camels?" The bedouin said, "Yes." The Prophet said, "Do you pay their Zakat?" He said, "Yes." The Prophet said, "Go on doing like this from beyond the seas, for Allah will not let your deeds go in vain."

ہم سے سلیمان ابن عبد الرحمٰن نے بیان کیا کہا ہم سے ولید نے کہا ہم سے امام اوزاعی نے مجھ سے ابن شہاب نے انہوں نے عطا بن یزید لیثی سے انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ ایک گنوار آپ ﷺسے پوچھنے لگا یا رسول اللہ ﷺمجھے ہجرت کے بارے میں بتلائیے(اس کی نیت ہجرت کی تھی) آپ ﷺنے فر مایا تجھ پر افسوس ہجرت (کو کیا سمجھا ہے )بہت مشکل ہے ارے تیرے پاس اونٹ ہیں اس نے کہا جی ہاں آپ ﷺنے پوچھا تو انکی زکوٰۃ ادا کرتا ہے بولا جی ہاں آپؐ نے فر مایا بس سارے ملکوں کے پرے (سات سمندر پار ) عمل کرتا رہ (دینی فرائض ادا کرتا رہ )اللہ تعالٰی تیرے کسی عمل کا ثواب کم نہیں کرنے کا ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَيْلَكُمْ ـ أَوْ وَيْحَكُمْ قَالَ شُعْبَةُ شَكَّ هُوَ ـ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ النَّضْرُ عَنْ شُعْبَةَ وَيْحَكُمْ‏.‏ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "Wailakum" (woe to you) or "waihakum" (May Allah be merciful to you)." Shu'ba is not sure as to which was the right word. "Do not become disbelievers after me by cutting the necks of one another."

ہم سے عبد اللہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا کہا ہم سے خالد بن حارث نے کہا ہم سے شعبہ نےانہوں نے واقد بن زید سے کہا میں نے والد سے سنا وہ ابن عمرؓ سے روایت کرتے تھے کہ نبیﷺنے فر ما یا ارے لوگو تم پر افسوس شعبہ نے کہا ان لوگوں نے (یعنی واقد وغیرہ نے )شک کی ہے کہ آپ ﷺنے ویلکم کا لفظ فر مایا یا ویحکم کا کہیں ایسا نہ کرنا میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر بن جاؤ اور نضر نے شعبہ سے ( اسی سند سے )ویحکم بدون شک کے نقل کیا ہے اور عمر بن محمد نے اپنے والد سے ویلکم یا ویحکم ۔


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَائِمَةٌ قَالَ ‏"‏ وَيْلَكَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلاَّ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْنَا وَنَحْنُ كَذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ فَفَرِحْنَا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا، فَمَرَّ غُلاَمٌ لِلْمُغِيرَةِ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي فَقَالَ ‏"‏ إِنْ أُخِّرَ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ‏"‏‏.‏ وَاخْتَصَرَهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Anas : A bedouin came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! When will The Hour be established?" The Prophet said, "Wailaka (Woe to you), What have you prepared for it?" The bedouin said, "I have not prepared anything for it, except that I love Allah and H is Apostle." The Prophet said, "You will be with those whom you love." We (the companions of the Prophet) said, "And will we too be so? The Prophet said, "Yes." So we became very glad on that day. In the meantime, a slave of Al-Mughira passed by, and he was of the same age as I was. The Prophet said. "If this (slave) should live long, he will not reach the geriatric old age, but the Hour will be established."

ہم سے عمرو بن عاصم نے بیا ن کیا کہا ہم سے ہمام بن یحیٰی نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے کہ جنگل والوں میں سے ایک شخص نبی ﷺپاس آیا کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ(یہ تو فر مایئے )قیامت کب قائم ہو گی آپ نے فر مایا ارے تجھ پر افسوس تو نے قیامت کے لئے کیا سامان تیار کر رکھا ہے کہنے لگا میں نے تو کو ئی سامان تیار نہیں کیا صرف اتنی بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺسے محبت رکھتا ہوں آپ نے فر مایا بس تو انہی کے ساتھ (قیامت میں )ہوگا جن سے محبت رکھتا ہے یہ سن کر دوسرے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا بھی یہی حال ہونا ہے آپ نے فر مایا بیشک صحابہ کہتے ہیں اس دن ہم کو ایسی خوشی ہوئی بیحد خوشی ا تنے میں مغیرہ کا ایک غلام نکلا جو میرے ہم سن تھا (یعنی بچہ) آپ نے فر مایا اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کو بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت ہو جائے گی۔ شعبہ نے اس حدیث کو مختصر طور پر قتادہ سے روایت کیا انہوں نے کہا میں نے انسؓ سے سنا انہوں نے نبی ﷺسے ۔

96. باب عَلاَمَةِ حُبِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِقَوْلِهِ ‏{‏إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ‏}‏

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Abdullah : The Prophet said, "Everyone will be with those whom he loves."

ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر نے انہوں نے شعبہ سے انہوں نے سلیمان سے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے انہوں نےنبیﷺسے آپ نے فر مایا آدمی (قیامت میں )اس کے سَاتھ رہے گا جس سے محبت رکھتا ہو۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ وَأَبُو عَوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin Mas'ud : A man came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! What do you say about a man who loves some people but cannot catch up with their good deeds?" Allah's Apostle said, "Everyone will be with those whom he loves."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے جریربن عبد الحمید نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابو وائل سے کہ عبد اللہ بن مسعودؓکہتےتھے ایک شخص(ابو ذرؓیا ابو موسٰی) رسول اللہ ﷺپاس آ ئےکہنے لگے یا رسول اللہ آپ اس شخص کے باب میں کیا فر ماتے ہیں جس کو کچھ لوگوں سے محبت ہو لیکن ان کے سے اعمال نہ کر سکے آپ نے فر مایا آدمی (قیا مت کے دن )اس کے ساتھ رہے گا جس سے محبت رکھے (گو اس کے برابر نیک اعمال نہ کرسکے)جر یرین عبد الحمید کے سَاتھ اس حدیث کو جریرابن حازم اور سلیمان بن قرم اور ابو عوانہ (وضاح)نے بھی اعمش سے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے نبی ﷺسے روایت کیا ۔


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ ‏"‏ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ‏.‏

Narrated By Abu Musa : It was said to the Prophet; , "A man may love some people but he cannot catch up with their good deeds?" The Prophet said, "Everyone will be with those whom he loves."

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے ابو موسٰی اشعریؓ سے انہوں نے کہا نبی ﷺسے عرض کیا گیا کبھی ایسا ہوتا ہے ایک آد می کچھ لوگوں سے محبت تو رکھتا ہے مگر ان کے سے نیک ا عمال نہیں کر سکتا آپ ﷺنے فر مایا آدمی اسی کے ساتھ رہے گا جس سے محبت رکھے سفیان کے ساتھ اس حدیث کو ابو معاویہ اور محمد بن عبیدنے بھی روایت کیا ۔


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَتَّى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلاَةٍ وَلاَ صَوْمٍ وَلاَ صَدَقَةٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ‏"‏‏

Narrated By Anas bin Malik : A man asked the Prophet "When will the Hour be established O Allah's Apostle?" The Prophet said, "What have you prepared for it?" The man said, " I haven't prepared for it much of prayers or fast or alms, but I love Allah and His Apostle." The Prophet said, "You will be with those whom you love."

ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم سے والد (عثمان مروزی)نے انہوں نے شعبہ سے انہوں نے عمر وبن مرہ سے انہوں نے سَالم بن ابی الجعدسے انہوں نے انس بن مالک سے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی آپ نے فر مایا تو نے قیامت کے لئے ایسا کیا سامان کیا ہے۔ وہ بولا میں نے تو کچھ سامان نہیں کیا میرے پاس بہت نمازیں ہیں نہ بہت روزے نہ بہت صدقے اتنی بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں آپ نے فر ما یا (بس یہی کافی ہے ) تو اسی کے ساتھ رہیگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔

97. باب قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ اخْسَأْ

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِبْنِ صَائِدٍ ‏"‏ قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ ‏"‏‏.‏ قَالَ الدُّخُّ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اخْسَأْ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : Allah's Apostle said to Ibn Saiyad "I have hidden something for you in my mind; What is it?" He said, "Ad-Dukh." The Prophet said, "Ikhsa."

ہم سے ابو والید نے بیان کیا کہا ہم سے بن زریر نے کہا میں نے ابو رجاء سے سنا کہا میں نے ابن عباسؓ سے وہ کہتے تھے رسول اللہ ﷺنے ابن صیاد سے فر مایا اچھا میں نے تیرے لئے ایک بات دل میں ٹھان لی ہے بتلاتو وہ کیا بات ہے وہ کہنے لگا دُخ ہے آپ نے فر مایا چل دور ہو ۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَضَّهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ لاِبْنِ صَيَّادٍ ‏"‏ مَاذَا تَرَى ‏"‏‏.‏ قَالَ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ ‏"‏‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ‏"‏‏.‏ قَالَ هُوَ الدُّخُّ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ يَكُنْ هُوَ لاَ تُسَلَّطُ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : 'Umar bin Al-Khattab set out with Allah's Apostle, and a group of his companions to Ibn Saiyad. They found him playing with the boys in the fort or near the Hillocks of Bani Maghala. Ibn Saiyad was nearing his puberty at that time, and he did not notice the arrival of the Prophet till Allah's Apostle stroked him on the back with his hand and said, "Do you testify that I am Allah's Apostle?" Ibn Saiyad looked at him and said, "I testify that you are the Apostle of the unlettered ones (illiterates)". Then Ibn Saiyad said to the Prophets. "Do you testify that I am Allah's Apostle?" The Prophet denied that, saying, "I believe in Allah and all His Apostles," and then said to Ibn Saiyad, "What do you see?" Ibn Saiyad said, "True people and liars visit me." The Prophet said, "You have been confused as to this matter." Allah's Apostle added, "I have kept something for you (in my mind)." Ibn Saiyad said, "Ad-Dukh." The Prophet said, "Ikhsa (you should be ashamed) for you can not cross your limits." 'Umar said, "O Allah's Apostle! Allow me to chop off h is neck." Allah's Apostle said (to Umar). "Should this person be him (i.e. Ad-Dajjal) then you cannot over-power him; and should he be someone else, then it will be no use your killing him."

ہم سے ابو الیمان نے بیا ن کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو سالم بن عبد اللہ نے ان کو عبد اللہ بن عمرؓ نے کہ حضرت عمرؓ اور کئی اصحاب کے ساتھ رسول اللہﷺکے ہمراہ ابن صیاد کے پاس تشریف لے گئے (جس کے دجال ہونے کا آپﷺکو گمان تھا ) دیکھا تو وہ لڑکوں کے ساتھ بنی مغالہ کے مکانوں میں کھیل رہا تھا ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا۔ اس کو (کھیل میں )خبر بھی نہ ہوئی یہاں تک کہ رسول اللہﷺنے اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر مارا پھر فر مانے لگے تُو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھ لوگوں کے پیغمبر ہیں اس کے بعد ابن صیاد نے آپ سے پوچھا کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں آپ نے اس کو ڈہکیل دیا اور فر مایا میں اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لایا پھر آپ نے اس سے پوچھا بتلاتجھ کو کیا دکھلائی دیتا ہے کہنے لگا میرے پاس سچے اور جھوٹے دونوں آتے ہیں آپ نے فر مایا پھر تو تو تیرا کام سب گول مول ہو گیا (اب تمیز کیسے ہو گی کونسی بات جھوٹ ہے کون سی سچ )پھر آپ نے فر مایا اچھا میں نے تیرے(بتانے کے )لئے ایک بات دل میں ٹھان لی ہے بھلا بتا تو وہ کہنے لگا دُخ ہے آپ ﷺنے فر مایا چل دور ہو بس تیرا اتنا ہی حوصلہ ہے اس سے بڑھ کہاں سکتا ہے حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺاجازت دیجئے میں اس کی گردن اڑا دوں آپؐ نے فر مایا (نہیں) اگر یہ (کمبخت )دجال ہے تب تو تو اس کو مارہی نہ سکے گا اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کو مارنے میں فائدہ ہی کیا ہو گا۔


قَالَ سَالِمٌ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ الأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهْوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ أَىْ صَافِ ـ وَهْوَ اسْمُهُ ـ هَذَا مُحَمَّدٌ‏.‏ فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ‏"‏‏.‏

'Umar added: Later on Allah's Apostle and Ubai bin Ka'b Al-Ansari (once again) went to the garden in which Ibn Saiyad was present. When Allah's Apostle entered the garden, he started hiding behind the trunks of the date-palms intending to hear something from Ibn Saiyad before the latter could see him. Ibn Saiyad was Lying on his bed, covered with a velvet sheet from where his mumur were heard. Ibn Saiyad's mother saw the Prophet and said, "O Saf (the nickname of Ibn Saiyad)! Here is Muhammad!" Ibn Saiyad stopped his murmuring. The Prophet said, "If his mother had kept quiet, then I would have learnt more about him."

سالم نے کہا میں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے سنا اس واقعہ کے بعد ایک بار اور رسول اللہﷺابن بن کعب کو سَاتھ لے کر اس باغ کے قصد سے چلے جہاں پر ابن صیاد رہا کرتا تھا جب باغ میں پہنچے تو رسول اللہﷺنے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا آپ کا مطلب یہ تھا کہ ابن صیاد آپ کو نہ دیکھے اور آپ اس کی باتیں سن لیں اس وقت ابن صیاد اپنے بچھونے پر ایک چادر اوڑھے پڑا گن گن کر رہا تھا لیکن ہوا یہ کہ اس کی ماں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا لیا آپ ٹہینوں کی آڑمیں چھپ رہے تھے اور ابن صیاد کو خبر کر دی ارے صاف ارے صاف یہ ابن صیاد کا نام تھا دیکھ یہ محمد آن پہنچے یہ سنتے ہی وہ خاموش ہو رہا رسول اللہﷺنے فر مایا اگر اس کی ماں چپ رہتی تو ابن صیاد کی باتوں سے کچھ اس کا حال معلوم ہوتا ۔


قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ‏"‏‏.‏

'Abdullah added: Allah's Apostle stood up before the people (delivering a sermon), and after praising and glorifying Allah as He deserved, he mentioned the Ad-Dajjal saying, "I warn you against him, and there has been no prophet but warned his followers against him. Noah warned his followers against him but I am telling you about him, something which no prophet has told his people of, and that is: Know that he is blind in one eye where as Allah is not so."

سالم نے کہا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺلوگوں میں کھڑے ہوئے اللہ کی تعریف کی جیسے چاہیے پھر دجال کا ذکر کیا فر مایا میں تم کو دجال سے ڈراتا ہوں اور ہر ایک پیغمبر نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا ہے یہاں تک کہ نوح پیغمبر نے بھی (جن کو ہزاروں برس گزر چکے )مگر میں تم کو دجال کی ایسی نشانی بتلاتا ہوں جو کسی پیغمبر نے اپنی امت کو نہیں بتلائی وہ کیا ہے دجال (مردود) کانا ہوگا (اس پر خدائی کا دعویٰ کرے گا )خدا تعالٰی کانا نہیں ہے۔ (وہ ہر عیب سے پاک ہے ) امام بخاری نے کہا عرب لوگ کہتے ہیں خسأت الکلب یعنی میں نے کتے کو دتکار دیا اسی سے ہے قرآن سورہ اعراف میں(قردۃ خاسین) یعنی بندر دتکارے ہوئے۔

98. باب قَوْلِ الرَّجُلِ مَرْحَبًا

وَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ‏"‏ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ‏"‏‏.‏ وَقَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ‏"‏‏

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ الَّذِينَ جَاءُوا غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ نَدَامَى ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا حَىٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مُضَرُ، وَإِنَّا لاَ نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرْبَعٌ وَأَرْبَعٌ أَقِيمُوا الصَّلاَةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَعْطُوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَلاَ تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : When the delegation of 'Abdul Qais came to the Prophet, he said, "Welcome, O the delegation who have come! Neither you will have disgrace, nor you will regret." They said, "O Allah's Apostle! We are a group from the tribe of Ar-Rabi'a, and between you and us there is the tribe of Mudar and we cannot come to you except in the sacred months. So please order us to do something good (religious deeds) so that we may enter Paradise by doing that, and also that we may order our people who are behind us (whom we have left behind at home) to follow it." He said, "Four and four:" offer prayers perfectly , pay the Zakat, (obligatory charity), fast the month of Ramadan, and give one-fifth of the war booty (in Allah's cause), and do not drink in (containers called) Ad-Duba,' Al-Hantam, An-Naqir and Al-Muzaffat."

ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ہم سے عبد الوارث نے کہا ہم سے ابو التیاح (یزید بن حمید )نے انہوں نے ابو جمرہ(نصربن عمران )سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا جب عبد القیس قبیلے کے قاصد نبیﷺکےپاس آئے تو آپ نے فر مایا مرحبا ان لوگوں جو آن پہنچے نہ ذلیل ہوئے نہ شرمندہ (خوشی سے مسلمان ہوگئے ورنہ مارے جاتے شرمندہ ہوتے )وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ہم ربیعہ قبیلے کی ایک شاخ ہیں اور ہمارے اور آپ کے بیچ میں (کمبخت ) مضرکے کافر حائل ہیں تو ہم آپ تک صرف ماہ حرام میں آسکتے ہیں (جس میں لوٹ کھسوٹ نہیں ہوتی )ہم ایسی ایک جچی ہوئی بات بتلا دیجئےجس پر عمل کرکے بہشت حاصل کریں اور جو لوگ ہمارے ملک میں ہیں ان کو بھی اس کی دعوت دیں آپ نے فر مایا چار چار باتیں میں بتلاتا ہوں (چار کرنے کی چار نہ کرنے کی )نماز پڑھو زکوۃدیا کرو رمضان کے روزے رکھا کرو کافروں سے جو لوٹ ملے اس کا پانچواں حصہ (میرے پاس )داخل کر دیا کرو کدو کی تو بنی سبز لاکھی مرتبان لکڑی کے کریدے برتن اور رال لگے ہوئے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ۔

99. باب مَا يُدْعَى النَّاسُ بِآبَائِهِمْ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْغَادِرُ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "For every betrayer (perfidious person), a flag will be raised on the Day of Resurrection, and it will be announced (publicly) 'This is the betrayal (perfidy) of so-and-so, the son of so-and-so.'"

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے عبیداللہ عمری سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فر مایا دغاباز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا یہ فلاں شخص فلاں کے بیٹے کی دغا بازی کا نشان ہے (سب لوگ اس کو دیکھ لو )


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said, "A flag will be fixed on the Day of Resurrection for every betrayer, and it will be announced (publicly in front of everybody), 'This is the betrayal (perfidy) so-and-so, the son of so-and-so."

ہم سےعبد اللہ بن مسلمہ (قعنبی)نے بیان کیا انہوں نے امام مالکؒ انہوں نے عبد اللہ بن دینار سے انہوں نے ابن عمرؓ سے کہ رسول اللہ ﷺنے فر مایا دغاباز کے لئے قیامت کے دن ایک جھندا اٹھا جائے گا اور پکار دیا جائے گا یہ فلاں شخص فلاں کے بیٹے کی دغا بازی کا نشان ہے ۔

100. باب لاَ يَقُلْ :خَبُثَتْ نَفْسِي

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي‏.‏ وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet said, "None of you should say Khabuthat Nafsi, but he is recommended to say 'Laqisat Nafsi."

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے نبیﷺسے آپؐ نے فر مایا کوئی تم میں سے یوں نہ کہے میرا نفس پلید ہو گیا بلکہ یوں کہے میرا نفس خراب یا پر یشان ہو گیا ۔


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ‏.‏

Narrated By Sahl : The Prophet said, "None of you should say Khabuthat Nafsi but he is recommended to say 'Laqisat Nafsi."

ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم سے عبد اللہ بن مبارک نے انہوں نے یونس سے انہوں نے زہری سے انہوں نے ابوامامہ بن سہل سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے نبی ﷺسے آپ نے فر مایا کوئی تم میں سے یوں نہ کہے میرا نفس پلید ہو گیا بلکہ یوں کہے میرا نفس خراب یا پریشان ہو گیا یونس کے سَاتھ اس حدیث کو عقیل نے بھی ابن شہاب سے روایت کیا ۔

‹ First89101112Last ›