20. باب مَا يُكْرَهُ مِنَ السَّجْعِ فِي الدُّعَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا هَارُونُ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدِّثِ النَّاسَ، كُلَّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ أَبَيْتَ فَمَرَّتَيْنِ، فَإِنَّ أَكْثَرْتَ فَثَلاَثَ مِرَارٍ وَلاَ تُمِلَّ النَّاسَ هَذَا الْقُرْآنَ، وَلاَ أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقُصُّ عَلَيْهِمْ، فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ فَتُمِلُّهُمْ، وَلَكِنْ أَنْصِتْ، فَإِذَا أَمَرُوكَ فَحَدِّثْهُمْ وَهُمْ يَشْتَهُونَهُ، فَانْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَاجْتَنِبْهُ، فَإِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ لاَ يَفْعَلُونَ إِلاَّ ذَلِكَ. يَعْنِي لاَ يَفْعَلُونَ إِلاَّ ذَلِكَ الاِجْتِنَابَ.
Narrated By 'Ikrima : Ibn 'Abbas said, "Preach to the people once a week, and if you won't, then preach them twice, but if you want to preach more, then let it be three times (a week only), and do not make the people fed-up with this Qur'an. If you come to some people who are engaged in a talk, don't start interrupting their talk by preaching, lest you should cause them to be bored. You should rather keep quiet, and if they ask you, then preach to them at the time when they are eager to hear what you say. And avoid the use of rhymed prose in invocation for I noticed that Allah's Apostle and his companions always avoided it."
ہم سے یحییٰ بن محمد بن سکن نے بیا ن کیا کہا ہم سے ابو حبیب جہاں ابن ھلال نے کہا ہم سے ہارون مقری نے کہا زبیر بن خرّیت نے انہوں نے عکر مہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے یہ حکم دیا کہ ہر جمعہ میں ایک بار لوگوں کو وعظ سنایا کر اگر اس سے زیادہ چاہے تو خیر دوبارہ اس سے زیادہ چاہے تو تین بار (بس اس سے زیادہ نہ کر )اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتا نہیں (نفرت مت دلا) اور ایسا بھی مت کر کہ لوگ اپنے (کام کاج کی )باتوں میں مشغول ہوں اور تو جا کر ان کو وعظ سنانے لگے ان کی باتیں بند ہو کر ان کو نفرت پہدا ہو بلکہ تجھ کو کاموش رہنا چاہے جب وہ خود کہیں (کہ کچھ فر مائے )اس وقت ان کی خواش کے موافق وعظ سنا اور دیکھ دعا میں سجع اور قافیہ بندی سے پر ہیز رکھ میں نے رسول اللہﷺاور آپ ﷺکے صحابہ کو دیکھا ہے وہ سجع اوعر قافیہ بندی سے ہمیشہ پر ہیز کرتے تھے ۔
21. باب لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، وَلاَ يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي. فَإِنَّهُ لاَ مُسْتَكْرِهَ لَهُ ".
Narrated By Anas : Allah's Apostle said, "When anyone of you appeal to Allah for something, he should ask with determination and should not say, 'O Allah, if You wish, give me.', for nobody can force Allah to do something against His Will.
ہم سے مسدد نے بیا ن کیا کہا ہم سےاسمٰعیل بن علیہ نے کہا ہم کو عبد العزیز ابن سہیب نے خبر دی انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺنے فر مایا جب کوئی تم میں سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ سے قطعی طور پر مانگے (کہ یہ چیز مجھ کو عنایت فر ما) یوں نہ کہے اگر تو چاہے تو عنایت فر ما اس لئے کہ اللہ پر کوئی زبر دستی تھورے کر سکتا ہے )
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، إِنْ شِئْتَ. لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لاَ مُسْتَكْرِهَ لَهُ ".
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "None of you should say: 'O Allah, forgive me if You wish; O Allah, be merciful to me if You wish,' but he should always appeal to Allah with determination, for nobody can force Allah to do something against His Will."
ہم سےعبد اللہ بن مسلمہ نے بیا ن کیا کہا انہوں نے امام مالکؒ سے انہوں نے ابو الزناد سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فر مایا کوئی تم میں سے یوں دعا نہ کرے یا اللہ اگر تو چاہے تو مجھ کو بخش دے اگر تو چاہے مجھ پر رحم کر بلکہ قطعی طور سے سوال کرے کیونکہ اللہ پر کسی کا زور تھوڑےہے ۔
22. باب يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَعْجَلْ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ يَقُولُ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The invocation of anyone of you is granted (by Allah) if he does not show impatience (by saying, "I invoked Allah but my request has not been granted.")
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالکؒ نے خبر دی انہوں نے شہاب سے انہوں نے ابو عبیدہ عبد الرحمٰن بن ازہر کے غلام سے انہوں نے فر مایا تم ابو ہریرہؓ سے ارسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں ہر ایک کی دعا جب تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلدی نہ کہے میں نے دعا کی لیکن قبول نہیں ہوئی ۔
23. باب رَفْعِ الأَيْدِي فِي الدُّعَاءِ،
وَقَالَ أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ. وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ "
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ الأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَشَرِيكٍ، سَمِعَا أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
Narrated Anas (ra), “The Prophet (pbuh) raised his hands (in invocation) till I saw the whiteness of his armpits.”
امام بخاری نے کہا عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے کہا مجھ سے ابن جعفر نے بیان کیا انہوں نے یحیٰی بن سعید اور شریک بن ابی نمر سے ان دونوں نے انسؓ سے سنا انہوں نے کہا نبیﷺ نے (دعا میں) اپنے دونوں ہاتھ اتنے اتھائے کہ میں نے آپؐ کی بغلوں کی سپیدی دیکھی۔
24. باب الدُّعَاءِ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا. فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَمُطِرْنَا، حَتَّى مَا كَادَ الرَّجُلُ يَصِلُ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَلَمْ تَزَلْ تُمْطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَصْرِفَهُ عَنَّا، فَقَدْ غَرِقْنَا. فَقَالَ " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا ". فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَقَطَّعُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ، وَلاَ يُمْطِرُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ
Narrated By Anas : While the Prophet was delivering a sermon on a Friday, a man stood up and said, "O Allah's Apostle! Invoke Allah to bless us with rain." (The Prophet invoked Allah for rain.) So, the sky became overcast and it started raining till one could hardly reach one's home. It kept on raining till the next Friday when the same man or another man got up and said (to the Prophet), "Invoke Allah to withhold the rain from us, for we have been drowned (with heavy rain)." The Prophet said, "O Allah! Let it rain around us and not on us." Then the clouds started dispersing around Medina and rain ceased to fall on the people of Medina.
ہم سےمحمد بن محبوب نے بیا ن کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا ایسا ہوا ایک بار نبیﷺ جمعہ کے دن خطبہ پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک گنوار (نام معلوم )کھڑا ہوا کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ دعا فر مائیے اللہ ہم پا نی بر سائے
(آپ ﷺنے دعا کی ) آسمان پر ابر آیا پانی بر سنے لگا لوگون کو گھر تک پہنچنا مشکل ہو گیا اور دوسرے جمعہ تک یکساں بارش ہوتی رہی پھر دوسرے جمعہ میں وہی شخص یا کوئی اور دوسرا کھڑا ہوا کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ اللہ سے دعا فر مائیے یہ بارش موقوف کرے ہم لوگ دوب گئے اس وقت آپ ﷺ نے یوں دعا کی یا اللہ ہمارے اردگر د برسا ہم پر نہ برسا اسی وقت ابر پھٹ کر مد ینہ کے گرد اگرد ہو گیا اور مد ینہ والوں پر بارش موقوف ہو گئی ۔
25. باب الدُّعَاءِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى هَذَا الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، فَدَعَا وَاسْتَسْقَى ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ.
Narrated By 'Abdullah bin Zaid : Allah's Apostle went out to this Musalla (praying place) to offer the prayer of Istisqa.' He invoked Allah for rain and then faced the Qibla and turned his Rida' (upper garment) inside out.
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیا ن کیا کہا ہم سے وہیب نم خالد نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے انہون نے عباد بن تمیم سے انہوں نے عبد اللہ بن زید انصاری سے انہوں نے کہا نبیﷺ اس عید گاہ میں استسقاء (پانی مانگنے) کے لائے تشریف لائے آپ ﷺنے دعا کی اللہ تعالیٰ سے پانی مانگا پھر قبلے کی طرف منہ کیا اور چادر الٹی ۔
26. باب دَعْوَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِخَادِمِهِ بِطُولِ الْعُمُرِ وَبِكَثْرَةِ مَالِهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَتْ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ خَادِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ. قَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ "
Narrated By Anas : My mother said, "O Allah's Apostle! Please invoke Allah on behalf of your servant." He said, "O Allah! Increase his wealth and children, and bestow Your Blessing on whatever You give him." a time of distress.
ہم سے عبد اللہ بن ابی الاسود نے بیا ن کیا کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا میری والد ہ (ام سلیمؓ ) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ !ﷺآپ ﷺ کا خادم انسؓ ہے اس کئے دعا فرمائیے آپ ﷺ نے دعا کی یا اللہ !اس کو مال دولت اولاد بہت دے اس میں برکت عنایت فر ما ۔
27. باب الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ".
Narrated By Ibn Abbas : The Prophet used to invoke Allah at the time of distress, saying, "La ilaha illal-lahu al-'Azim, al-Halim, La ilaha illal-lahu Rabbu-s-samawati wal-ard wa Rabbu-l-arsh il-azim."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیا ن کیا کہا ہم سے ہشام دتوائی نے کہا ہم سے قتادہ نے انہوں نے ابو عالیہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبی ﷺ سختی اور مصیب کے وقت یوں دعا کرتے لا الَہَ اِالَّا اللہُ العظیمُ الحَلیم لا اِلَہَ اِلاَّ اللہُ رَبُّ السَمٰوٰتِ والارضِ رَبُّ العَرشِ العَظیمُ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ، وَرَبُّ الأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ". وَقَالَ وَهْبٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ مِثْلَهُ.
Narrated By Ibn 'Abbas : Allah's Apostle used to say at a time of distress, "La ilaha illal-lahu Rabbul-l-'arsh il-'azim, La ilaha illallahu Rabbu-s-samawati wa Rabbu-l-ard, Rabbu-l-'arsh-il-Karim."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیا ن کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے ہشام بن ابی عبد اللہ سے انہوں نے قتادہ ؓ سے انہوں نے ابو العا لیہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سختی اور مصیب کے وقت یوں دعا فر ماتے لا الہ الا اللہ العظیم الحلیم لا الہ الا اللہ رب العرش العظیم الا الہ اللہ اللہ رب السٰمٰو ت و رب ا لا رض ورب العرش الکریم اور وہب بن جر یر حازم نے کہا ہم سے شعبہ نے بیا ن کیا انہوں نے قتادہ سے ایسی ہی حدیث بیان کی ۔
28. باب التَّعَوُّذِ مِنْ جَهْدِ الْبَلاَءِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سُمَىٌّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلاَءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ. قَالَ سُفْيَانُ الْحَدِيثُ ثَلاَثٌ زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً، لاَ أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ.
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle used to seek refuge with Allah from the difficult moment of a calamity and from being overtaken by destruction and from being destined to an evil end, and from the malicious joy of enemies. Sufyan said, "This narration contained three items only, but I added one. I do not know which one that was."
ہم سے علی بن مد ینی نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا مجھ سے سمی نے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے ابو ہر یرہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ بلا کی شدت اور بدبختی کی آفت اور تقدیر کی زحمت اور دشمنوں کی فرحت سے پناہ ما نگتے سفیان نے ( اسی سند سے کہا حدیث میں صرف تین باتوؓں کا ذکر تھا اور ایک چو تھی بات میں نے (اپنی طرف سے بڑھا دی تھی (پہلے مجھ کو یاد تھی ) اب مجھ کو یاد نہیں رہا وہ چو تھی بات میں نے بڑھا ئی تھی کو نسی تھی ۔
29. باب دُعَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى "
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهْوَ صَحِيحٌ " لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ ". فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي، غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ". قُلْتُ إِذًا لاَ يَخْتَارُنَا، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا، وَهْوَ صَحِيحٌ. قَالَتْ فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ".
Narrated By 'Aisha : When Allah's Apostle was healthy, he used to say, "No prophet dies till he is shown his place in Paradise, and then he is given the option (to live or die)." So when death approached him(during his illness), and while his head was on my thigh, he became unconscious for a while, and when he recovered, he fixed his eyes on the ceiling and said, "O Allah! (Let me join) the Highest Companions (see Qur'an 4:69)," I said, "So, he does not choose us." Then I realized that it was the application of the statement he used to relate to us when he was healthy. So that was his last utterance (before he died), i.e. "O Allah! (Let me join) the Highest Companions."
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کی کیا کہا مجھ سے لیث بن سعد نے کہا مجھ سے عقیل نے انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے اور عروہ بن زیبرؓ اور کئی عا لموں نے کبر دی کہ حضرت عائشہؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ حالت صحت میں یوں فر ماتے تھے کوئی پغمبر اس وقت تک نہیں مر تا جب تک بہشت میں اپنا ٹھکانا نہیں دیکھ لیتا اور اس کو اختیار دیا جاتا ہے (اگر چاہے تو اور دنیا میں رہے ) پھر جب آپؐ بیمار ہو ئے اورموت آن پہنچی اس وقت آپ ﷺ کا سر مبارک میری را ن پر تھا آپ ﷺ ایک گھڑی تک بیہوش رہے اس کے بعد ہو شیار ہو ئے تو اپنی نگاہ چھت کی طرف لگائی اور فر مایا اللہ میں بلند رفیقوں میں رہنا چاہتا ہوں تب میں نے (پنے دل میں ) کہا دنیا میں ہمارے پاس رہنا اب پسند نہیں فر مائیں گے کہا اور مجھ کو معلوم ہوا کہ جو بات آپ ﷺ نے (حالت صحت میں )فر مائی تھی وہ صیحح تھی حضرت عا ئشہؓ کہتی ہیں یہ اللہم الر فیق الا علی آخری کلمہ تھا جو آپ ﷺ کی زبان سے نکلا ۔