40. باب الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْجُبْنِ وَالْكَسَلِ
{كُسَالَى} وَكسالى وَاحِدٌ
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ".
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet used to say, "O Allah! I seek refuge with You from worry and grief, from incapacity and laziness, from cowardice and miserliness, from being heavily in debt and from being overpowered by (other) men."
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے کہا مجھ سے عمرو بن ابی عمرو نے کہا میں نے انس سے سنا انہوں نے کہا نبیﷺ فرماتے تھے یا اللہ میں رنج اور غم اور عاجزی اور سستی اور نامردی اور بخیلی اور کمر توڑقرض اور دشمنوں کے غلبہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
41. باب التَّعَوُّذِ مِنَ الْبُخْلِ،
الْبُخْلُ وَالْبَخَلُ وَاحِدٌ، مِثْلُ الْحُزْنِ وَالْحَزَنِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ يَأْمُرُ بِهَؤُلاَءِ الْخَمْسِ، وَيُحَدِّثُهُنَّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "
Narrated By Mus'ab bin Sa'd : Sa'd bin Abi Waqqas used to recommend these five (statements) and say that the Prophet said so (and they are): "O Allah! I seek refuge with You from miserliness, and seek refuge with You from cowardice, and seek refuge with You from being brought back to geriatric old age, and seek refuge with You from the afflictions of the world, and seek refuge with You from the punishment of the grave."
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا کہا مجھ سے غندر (محمد بن جعفر) نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عبدالملک ابن عمیر سے انہوں نے مصعف بن سعد سے انہوں نے سعد بن ابی وقاصؓ سے وہ ان پانچ چیزوں کی دعا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ نبیﷺ بھی ان کی دعا فرماتے تھے یا اللہ میں بخیلی سےتیری پناہ چاہتاہوں اور نامرادی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور نکمی عمر تک پہنچنے سے تیری پناہ چاہتاہوں اور دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
42. باب التَّعَوُّذِ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ.
{أَرَاذِلُنَا} أَسْقَاطُنَا
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَعَوَّذُ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ "
Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle used to seek refuge with Allah saying, "O Allah! I seek refuge with You from laziness, and seek refuge with You from cowardice, and seek refuge with You from geriatric old age, and seek refuge with You from miserliness."
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے انہوں نے عبدالعزیز سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ یوں پناہ مانگتے آپ فرماتے یا اللہ میں سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور نامرادی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور بےانتہا بڑھاپے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور بخیلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
43. باب الدُّعَاءِ بِرَفْعِ الْوَبَاءِ وَالْوَجَعِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ، كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا "
Narrated By 'Aisha : The Prophet said, "O Allah! Make us love Medina as You made us love Mecca, or more, and transfer the fever that is in it, to Al-Juhfa. O Allah! Bless our Mudd and our Saa' (kinds of measures)."
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں کہا نبیﷺ نے فرمایا ۔یا اللہ مدینہ سے ہم کو ایسی محبت دے جیسی تو نے مکہ سے دی ہے یا اس سے بھی زیادہ اور مدینہ کا بخار جحفہ میں بھی دے ( جو ایک مقام کا نام ہے مصر والوں کا میقات ) یا اللہ ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت دے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ شَكْوَى، أَشْفَيْتُ مِنْهَا عَلَى الْمَوْتِ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الْوَجَعِ، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلاَ يَرِثُنِي إِلاَّ ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَىْ مَالِي قَالَ " لاَ ". قُلْتُ فَبِشَطْرِهِ قَالَ " الثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ، إِلاَّ أُجِرْتَ، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ ". قُلْتُ أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلاَّ ازْدَدْتَ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ ". قَالَ سَعْدٌ رَثَى لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ
Narrated By 'Amir bin Sa'd : That his father said, "In the year of Hajjatal-Wada', the Prophet paid me a visit while I was suffering from an ailment that had brought me to the verge of death. I said, 'O Allah's Apostle! My sickness has reduced me to the (bad) state as you see, and I am a rich man, but have no heirs except one daughter. Shall I give 2/3 of my property in charity?' He said, 'No.' I said, 'Then 1/2 of it?' He said, 'Even 1/3 is too much, for, to leave your inheritors wealthy is better than to leave them in poverty, begging from people. And (know that) whatever you spend in Allah's Cause, you will get reward for it, even for the morsel of food which you put in your wife's mouth.' I said, 'O Allah's Apostle! Will I be left behind my companions (in Mecca)?' He said, 'If you remain behind, whatever good deed you will do for Allah's Sake, will raise and upgrade you to a higher position (in Allah's Sight). May be you will live longer so that some people may benefit by you, and some e others (pagans) may get harmed by you. O Allah! Complete the migration of my companions and do not turn them on their heels; But (we pity) the poor Sa'd bin Khaula (not the above mentioned Sa'd) (died in Mecca)" Allah's Apostle lamented (or pitied) for him as he died in Mecca.
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی انہوں نے عامر بن سعد سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص نے کہا رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع کے زمانے میں ایک بیماری کی وجہ سے جس میں میں مرنے کے قریب ہو گیا تھا میری عیادت کی ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ میری بیماری کا جو حال ہے وہ آپ ملاحظہ فرماتے ہیں اور میں مالدار ہوں میرا وارث ایک بیٹی ( ام حکم کبریٰ) کے سوا کوئی نہیں ، کیا میں اپنا دو تہائی مال تصدق کر ڈالوں آپ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا اچھا آدھا مال آپ نے فرمایا نہیں ۔ بس تہائی مال بہت ہے ( تہائی خیرات کر سکتا ہے) بات یہ ہے کہ اگر تو وارثوں کو مال دار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ان کو متحاج اور مفلس چھوڑ جائے وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے (بھیک مانگے) پھریں اور تو اللہ کی رضا مندی کے لیے ( تھوڑا یا بہت) جو خرچ کرے گا اس کا ثواب پائے گا یہاں تک کہ اپنی جورو کے منہ میں جو لقمہ ڈالے گا ( اس پر بھی ثواب پائے گا ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اپنے ساتھیوں سے ( دوسرے مہاجرین) سے پیچھے ہو کر مکہ میں رہ جاؤں گا آپ نے فرمایا کیا ہو گا اگر پیچھے رہ جائے گا اور کوئی نیک عمل اللہ کی رضا مندی کے لیے کرے گا تو اس کی وجہ سے تیرا درجہ بڑھے گا بلند ہو گا اور شاہد ایسا معلوم ہوتا ہے) تو ابھی زندہ رہے گا تجھ سے کچھ لوگ ( مسلمان ) فائدہ اٹھائیں گے کچھ لوگ ( کافر) نقصان اٹھائیں گے یا اللہ میرے اصحاب کی ہجرت پوری کر دے اور ان کی ایڑیوں کے بل الٹا مت پھرا ہاں افسوس ہے تو سعد بن خولہ کا ہے سعد بن ابی وقاص نے کہا نبیﷺنے سعد بن خولہ پر افسوس کیا اس کی وجہ سے کہ وہ مکہ میں ہی مر گئے تھے۔
44. باب الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ
حَدَّثَنى إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُصْعَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تَعَوَّذُوا بِكَلِمَاتٍ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ الْقَبْرِ "
Narrated By Sa'd : Seek refuge with Allah by saying the words which the Prophet used to say while seeking refuge with Allah, "0 Allah! I seek refuge with You from cowardice, and seek refuge with You from miserliness, and seek refuge with You from reaching a degraded geriatric old age, and seek refuge with You from the afflictions of the world and from the punishment in the grave."
ہم سے اسحاق بن ابراہیم ( مشہور مجتہد) نے بیان کیا کہا ہم کو حسین بن علی جعفی نے خبر دی انہوں نے زائدہ بن قدامہ سے انہوں نے عبدالملک (بن عمیر) سے انہوں نے مصعب (بن سعد) سے انہوں نے اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے انہوں نے کہا پانچ چیزوں سے پناہ مانگا کرو نبیﷺ بھی ان سے پناہ مانگتے تھے آپ فرماتے تھے یا اللہ میں نامردی سے پناہ مانگتا ہوں اور بخیلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور نکمی عمر تک زندہ رہنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے عذاب سے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ".
Narrated By 'Aisha : The Prophet used to say, "O Allah! I seek refuge with You from laziness from geriatric old age, from being in debt, and from committing sins. O Allah! I seek refuge with You from the punishment of the Fire, the afflictions of the grave, the punishment in the grave, and the evil of the affliction of poverty and from the evil of the affliction caused by Al-Masih Ad-Dajjal. O Allah! Wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart from the sins as a white garment is cleansed of filth, and let there be a far away distance between me and my sins as You have set far away the East and the West from each other."
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے وکیع نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ نبیﷺ یوں دعا کرتے یا اللہ میں سستی اور بے انتہا بڑھاپے اور ڈنڈا اور گناہ سے تیری پناہ چاہتاہوں یاا للہ میں دوزخ کے فتنے اور دوزخ کے عذاب اور قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے اور مالدار ی کے فتنے اور متحاجی کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتاہوں یا اللہ میرے گناہ برف اور اولوں کے پانی سے دھو ڈال اور میرا دل گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے پاک ہو جاتا ہے اور مجھ میں اور میرے گناہوں میں اتنا فاصلہ کر دے جتنا پورب اور پچھم میں فاصلہ ہے ۔
45. باب الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالَتِهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَعَوَّذُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ "
Narrated By 'Aisha : The Prophet used to seek refuge with Allah (by saying), "O Allah! I seek refuge with You from the affliction of the Fire and from the punishment in the Fire, and seek refuge with You from the affliction of the grave, and I seek refuge with You from the affliction of wealth, and I seek refuge with You from the affliction of poverty, and seek refuge with You from the affliction of Al-Masih Ad-Dajjal."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے سلام بن ابی مطیع نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد انہوں نے اپنی خالہ (حضرت عائشہ صدیقہؓ) سے انہوں نے کہا نبیﷺ یوں دعا کرتے تھے یا اللہ میں دوزخ کے فتنے اور دوزخ کی عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ میں قبر کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ میں مالداری کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور محتاجی کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
46. باب التَّعَوُّذِ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ قَلْبِي بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا، كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ "
Narrated By 'Aisha : The Prophet used to say, 'O Allah! I seek refuge with You from the affliction of the Fire, the punishment of the Fire, the affliction of the grave, the punishment of the grave, and the evil of the affliction of poverty. O Allah! I seek refuge with You from the evil of the affliction of Al-Masih Ad-Dajjal, O Allah! Cleanse my heart with the water of snow and hail, and cleanse my heart from all sins as a white garment is cleansed from filth, and let there be a far away distance between me and my sins as You made the East and West far away from each other. O Allah! I seek refuge with You from laziness, sins, and from being in debt."
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا کہا ہم کو ابو معاویہ نے خبر دی کہا ہم سےہشام بن عروہ نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ سے انہوں نے کہا نبیﷺ یوں دعا کرتے تھے یا اللہ میں دوزخ کے فتنے اور دوزخ کے عذاب سے اور قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کے فتنے اور محتاجی کے فتنے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ برائی فتنے مسیح دجال کے سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ میرا دل برف اور اولوں کے پانی سے دھو ڈال اور میرا دل گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے سپید کپڑا میل کچیل سے تو پاک صاف کرتا ہے اور مجھ میں اور میرے گناہوں میں اتنا فاصلہ کر دے جتنا پورب اور پچھم میں فاصلہ ہوتا ہے یا میں سستی اور گناہ اور ڈنڈ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
47. باب الدُّعَاءِ بِكَثْرَةِ الْمَالِ مَعَ الْبَرَكَةِ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ ". وَعَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، مِثْلَهُ
Narrated By Um Sulaim : That she said, "O Allah's Apostle! Anas is your servant, so please invoke for Allah's blessing for him." The Prophet said, "O Allah! Increase his wealth and offspring and bless (for him) whatever You give him."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غنذر (محمد بن جعفر) نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا میں نے قتادہ سے سنا انہوں نے انس سے انہوں نے ام سلیم سے انہوں نے (آپﷺسے) عرض کیا یارسول اللہﷺ انس آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرمائیے آپ نے دعا دی یا اللہ اس کو بہت مال اور اولاد عطا فرما اور جو اس کو عنائت فرمائے اس میں برکت دے اور اسی سند سے ہشام بن زید سے مروی ہے انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک سے سنا پھر یہی حدیث نقل کی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ ". وَعَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، مِثْلَهُ
Narrated By Um Sulaim : That she said, "O Allah's Apostle! Anas is your servant, so please invoke for Allah's blessing for him." The Prophet said, "O Allah! Increase his wealth and offspring and bless (for him) whatever You give him."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غنذر (محمد بن جعفر) نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا میں نے قتادہ سے سنا انہوں نے انس سے انہوں نے ام سلیم سے انہوں نے (آپﷺسے) عرض کیا یارسول اللہﷺ انس آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرمائیے آپ نے دعا دی یا اللہ اس کو بہت مال اور اولاد عطا فرما اور جو اس کو عنائت فرمائے اس میں برکت دے اور اسی سند سے ہشام بن زید سے مروی ہے انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک سے سنا پھر یہی حدیث نقل کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ أَنَسٌ خَادِمُكَ. قَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ ".
Narrated By Anas : Um Sulaim said (to the Prophet), "Anas is your servant; so please invoke for Allah's blessings for him." He said "O Allah! Increase his wealth and offspring, and Bless (for him) whatever You give him."
ہم سے ابو زید سعید بن ربیع نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے قتادہ سے کہا میں نے انس بن مالکؓ سے سنا وہ کہتے تھے ام سلیمؓ (میری والدہ) نے (رسول اللہﷺ سے) عرض کیا انسؓ آپؐ کا خادم ہے (اس کے لئے دعا فرمائیے) آپؐ نے یوں دعا دی یا اللہ اس کو بہت مال اور بہت اولاد دے اور جو اس کو دے اس میں برکت دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ أَنَسٌ خَادِمُكَ. قَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ ".
Narrated By Anas : Um Sulaim said (to the Prophet), "Anas is your servant; so please invoke for Allah's blessings for him." He said "O Allah! Increase his wealth and offspring, and Bless (for him) whatever You give him."
ہم سے ابو زید سعید بن ربیع نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے قتادہ سے کہا میں نے انس بن مالکؓ سے سنا وہ کہتے تھے ام سلیمؓ (میری والدہ) نے (رسول اللہﷺ سے) عرض کیا انسؓ آپؐ کا خادم ہے (اس کے لئے دعا فرمائیے) آپؐ نے یوں دعا دی یا اللہ اس کو بہت مال اور بہت اولاد دے اور جو اس کو دے اس میں برکت دے۔
48. باب الدُّعَاءِ عِنْدَ الاِسْتِخَارَةِ
حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا الاِسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ كُلِّهَا كَالسُّورَةِ مِنَ الْقُرْآنِ " إِذَا هَمَّ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ فَاقْدُرْهُ لِي، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ. وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ "
Narrated By Jabir : The Prophet used to teach us the Istikhara for each and every matter as he used to teach us the Suras from the Holy Qur'an. (He used to say), "If anyone of you intends to do something, he should offer a two-Rak'at prayer other than the obligatory prayer, and then say: 'Allahumma inni astakhiruka bi'ilmika, wa astaqdiruka biqudratika, wa as'aluka min fadlika-l-'azim, fa innaka taqdiru wala aqdiru, wa ta'lamu wala a'lamu, wa anta'allamu-l-ghuyub. Allahumma in kunta ta'lamu anna hadha-lamra khairun li fi dini wa ma'ashi wa 'aqibati amri (or said, fi 'ajili amri wa ajilihi) fa-qdurhu li, Wa in junta ta'lamu anna ha-dha-l-amra sharrun li fi dini wa ma'ashi wa 'aqibati amri (or said, fi ajili amri wa ajilihi) fasrifhu 'anni was-rifni 'anhu wa aqdur li alkhaira haithu kana, thumma Raddani bihi," Then he should mention his matter (need).
ہم سے ابو مصعب مطرف بن عبداللہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے انہوں نے کہا نبیﷺ ہم سب کو (مباح) کاموں میں استخارہ کرنا اس طرح سکھاتے جیسے قرآن شریف کی سورت سکھلاتے۔ آپؐ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی (مباح) کام کا قصد کرے (ابھی پکا عزم نہ ہوا ہو) تو دو رکعتیں (نفل) پڑھے اس کے بعد یوں دعا کرے یا اللہ میں تجھ سے (انجام کی) بھلائی چاہتا ہوں تیرے علم کے وسیلے سے اور قدرت (یا توفیق) چاہتا ہوں تیری قدرت کے وسیلے سے اور تیرابڑا فضل و کرم مانگتا ہوں کیونکہ (ساری) قدرت تجھ ہی کو ہےمجھ کو قدرت نہیں ہے اور انجام کا علم بھی تجھی کو ہے مجھ کو علم نہیں ۔ تو ہی غیب کی باتیں جانتا ہے (کہ آئندہ کیا ہو گا)۔ یا اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کا میں نے قصد کیا ہے) میرے دین دنیا اور انجام میں (یا یوں فرمایا حال اور مال میں) میرے لئے بہتر ہے تب تو وہ میرے حصّے میں کر دے (اس کی توفیق دے) اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین دنیا اور انجام میں (یا یوں فرمایا میرے حال اور مال میں) میرے لئے برا ہے تو اس کو مجھ سے ہٹا دے۔ اور مجھ کو اس سے ہٹا دے اور پھر جہاں جس کام میں میرے لئے بھلائی ہو وہ میرے حصّے میں کر دے اور مجھ کو اس پر راضی بنا دے (راضی برضا رکھ) دعا کے وقت اس کام کو بیان کرے۔
49. باب الدُّعَاءِ عِنْدَ الْوُضُوءِ
حَدَّثَنى مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ ". وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ ".
Narrated By Abu Musa : The Prophet asked for some water and performed the ablution, and then raised his hands (towards the sky) and said, "O Allah! Forgive 'Ubaid Abi 'Amir." I saw the whiteness of his armpits (while he was raising his hands) and he added, "O Allah! Upgrade him over many of Your human creatures on the Day of Resurrection."
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابواسامہ نے انہوں نے بُرید بن عبداللہ سے انہوں نے اپنے دادا ابوبردہ عامر بن ابو موسٰی اشعری سے انہوں نے ابو موسٰیؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے پانی منگوایا اور وضو کیا پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی یا اللہ ابو عامر عبید کو بخش دے۔ ابو موسٰیؓ کہتے ہیں آپؐ نے اتنے ہاتھ اٹھائے کہ میں نے آپؐ کے بغلوں کی سپیدی دیکھی۔ آپؐ نے فرمایا یا اللہ عبید ابو عامر کو قیامت کے دن اپنی بہت خلقت سے بڑھ چڑھ کر رکھ۔