50. باب الدُّعَاءِ إِذَا عَلاَ عَقَبَةً
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَكُنَّا إِذَا عَلَوْنَا كَبَّرْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا، وَلَكِنْ تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا ". ثُمَّ أَتَى عَلَىَّ وَأَنَا أَقُولُ فِي نَفْسِي لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ. فَقَالَ " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قُلْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ فَإِنَّهَا. كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ". أَوْ قَالَ " أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ هِيَ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ "
Narrated By Abu Musa : We were in the company of the Prophet on a journey, and whenever we ascended a high place, we used to say Takbir (in a loud voice). The Prophet said, "O people! Be kind to yourselves, for you are not calling upon a deaf or an absent one, but You are calling an All-Hearer, and an All-Seer." Then he came to me as I was reciting silently, "La haul a wala quwwata illa bil-lah." He said, "O 'Abdullah bin Qais! Say: La haul a walaquwata illa bil-lah, for it is one of the treasures of Paradise." Or he said, "Shall I tell you a word which is one of the treasures of Paradise? It is: La haul a wala quwwata illa bil-lah."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے ابو موسٰی اشعریؓ سے انہوں نے کہا ہم ایک سفر میں تھے جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے (زور زور سے پکار کر)۔ نبیﷺ نے فرمایا لوگو! اپنے اوپر آسانی کرو (اتنا چلّانے کی کیا ضرورت ہے) تم ایسے خدا کو پکارتے ہو جو بہرہ یا غائب نہیں ہے (رتی رتی) سنتا اور دیکھتا ہے۔ اس کے بعد آپؐ میرے پاس تشریف لائے میں دل میں آہستہ آہستہ لا حول و لا قوۃ الّا باللہ پڑھ رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا لا حول و لا قوۃ الّا باللہ پڑھا کر یہ بہشت کا ایک خزانہ ہے۔ یا یوں فرمایا میں تجھ کو بہشت کا ایک خزانہ بتلا دوں وہ یہی کلمہ ہے لا حول و لا قوۃ الّا باللہ۔
51. باب الدُّعَاءِ إِذَا هَبَطَ وَادِيًا
فِيهِ حَدِيثُ جَابِرٍرضى الله عنه
52. باب الدُّعَاءِ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَوْ رَجَعَ
فيه يحي بن أبي إسحاق
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الأَرْضِ ثَلاَثَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهْوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا، حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ".
Narrated By Ibn Umar : Whenever Allah's Apostle returned from a Ghazwa or Hajj or 'Umra, he used to say, "Allahu Akbar," three times; whenever he went up a high place, he used to say, "La ilaha illal-lahu wahdahu la sharika lahu, lahu-l-mulk wa lahu-l-hamd, wa huwa'ala kulli Shai 'in qadir. Ayibuna ta'ibuna 'abiduna lirabbina hamidun. Sadaqa-l-lahu wa'dahu, wa nasara'abdahu wa hazama-l-ahzaba wahdahu."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہ رسول اللہﷺ جب جہاد یا حج یا عمرہ کر کے لوٹتے تو ہر بلندی (چڑھائی) پر چڑھتے وقت تین بار اللہ اکبر کہتے پھر یوں فرماتے اللہ کے سوا کوئی سچا خدا نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کی تعریف زیب دیتی ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ ہم اللہ تعالٰی کی طرف لوٹنے والے ہیں اسی کی درگاہ میں توبہ کرنے والے ہیں۔ اپنے پروردگار کے شکرگزار۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا اپنے بندے (محمدﷺ) کی مدد کی اور کافروں کی ساری فوجوں کو اس نے اکیلے بھگا دیا۔
53. باب الدُّعَاءِ لِلْمُتَزَوِّجِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ " مَهْيَمْ ". أَوْ " مَهْ ". قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. فَقَالَ " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
Narrated By Anas : The Prophet seeing a yellow mark (of perfume) on the clothes of 'Abdur-Rahman bin 'Auf, said, "What about you?" 'Abdur-Rahman replied, "I have married a woman with a Mahr of gold equal to a date-stone." The Prophet said, "May Allah bestow His Blessing on you (in your marriage). Give a wedding banquet, (Walima) even with one sheep."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ثابت سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف پر(ان کے بدن یا کپڑے پر)زرد دھبہ دیکھا پوچھا کہو کیا حال ہے؟(یہ زردی کیسی)انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے گٹھلی برابر سونا مہر مقرر کر کے ایک عورت سے نکاح کیا ہے آپ نے فرمایا۔بارک اللہ لک۔ولیمہ تو کر ایک بکری کا سہی۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ ـ أَوْ تِسْعَ ـ بَنَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ". قُلْتُ ثَيِّبًا. قَالَ " هَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ، أَوْ تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ". قُلْتُ هَلَكَ أَبِي فَتَرَكَ سَبْعَ ـ أَوْ تِسْعَ ـ بَنَاتٍ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ. قَالَ " فَبَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ ". لَمْ يَقُلِ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرٍو " بَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ "
Narrated By Jabir : My father died and left behind seven or nine daughters, and I married a woman. The Prophet said, "Did you get married, O Jabir?" I replied, "Yes." He asked, "Is she a virgin or a matron?" I replied, "She is a matron." He said, "Why didn't you marry a virgin girl so that you might play with her and she with you (or, you might make her laugh and she make you laugh)?" I said, "My father died, leaving seven or nine girls (orphans) and I did not like to bring a young girl like them, so I married a woman who can look after them." He said, "May Allah bestow His Blessing on you."
ہم سے ابو نعمان نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے وہ کہتے تھے میرے والد(جنگ احد میں)شہید ہوئے اور سات یا نو بیٹیاں چھوڑ گئے(ان کے نام معلوم نہیں ہوئے۔)پھر میں نے ایک عورت سے نکاح کیا نبیﷺ نے مجھ سے پوچھا جابر تو نے نکاح کیا میں نے عرض کیا،جی ہاں فرمایا باکرہ(کنواری) یا ثیّبہ( شوہر دیدہ) سے میں نے عرض کیا ثیّبہ سے آپ نے فرمایا ارے کنواری چھوکری کیوں نہیں کی وہ تجھ سے کھیلتی تو اس سے کھیلتا وہ تجھ سے ہنستی بولتی تو اس سے ہنستا بولتا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہوا یہ کہ میرے باپ شہید ہوئے اور سات یا نو بیٹیاں(میری بہنیں) چھوڑ گئے میں نے پسند نہ کیا کہ انہی کی سی ایک اور (کم عمر) چھوکری بیاہ لاؤں اس لیے میں نے ایک جہاندیدہ عورت سے نکاح کیا جو ان کی نگرانی رکھے تب آپ نے فرمایا۔بارک اللہ علیک۔سفیان بن عیینہ اور محمد بن مسلم نے اس حدیث کو عمرو بن دینار سے روایت کیا ان کی روایتوں میں یہ فقرہ نہیں ہے بارک اللہ علیک۔
54. باب مَا يَقُولُ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا "
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "If anyone of you, when intending to have a sexual intercourse with his wife, says: 'Bismillah, Allahumma jannibna-sh-shaitan, wa jannibi-sh-shaitan ma razaqtana,' and if the couple are destined to have a child (out of that very sexual relation), then Satan will never be able to harm that child."
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے جریر بن عبد الحمید نے انہوں نے منصور سے انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے انہوں نے کریب سے انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا اگر کوئی تم میں اپنی جورو سے صحبت کرتے وقت(یعنی جب صحبت کا ارادہ کرے) یوں کہہ لے بسم اللہ۔یااللہ ہم کو شیطان کے شر سے بچائے رکھ اور جو بچہ ہم کو عنایت فرمائے شیطان کو اس سے الگ رکھ پھر اگر ان کے حصے میں بچہ لکھا ہے اور بچہ پیدا ہو تو شیطان اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
55. باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً }
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ "
Narrated By Anas : The most frequent invocation of The Prophet was: "O Allah! Give to us in the world that which is good and in the Hereafter that which is good, and save us from the torment of the Fire." (2.201)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے انہوں نے عبدالعزیز بن صہیب سے انہوں نے انس بن مالک سے انہوں نے کہا نبیﷺ اکثر یوں دعا فرماتے اللّھم ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
56. باب التَّعَوُّذِ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا تُعَلَّمُ الْكِتَابَةُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ نُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ الْقَبْرِ "
Narrated By Sa'd bin Abi Waqqas : The Prophet used to teach us these words as he used to teach us the Book (Qur'an): "O Allah! seek refuge with You from miserliness, and seek refuge with You from cowardice, and seek refuge with You from being brought back to (senile) geriatric old age, and seek refuge with You from the affliction of the world and from the punishment in the Hereafter."
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا کہا ہم سے عبیدہ بن حمید نے انہوں نے عبدالملک بن عمیر سےانہوں نے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے انہوں نے اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے انہوں نے کہا نبیﷺ ہم کو یہ پانچ دعایئں اس طرح سکھلاتے تھے جیسے کوئی کسی کو لکھنا سکھاتا ہے(بڑی محنت اور احتیاط کے ساتھ)یااللہ بخیلی سے تیری پناہ۔یااللہ نامردی سے تیری پناہ یااللہ نکمی عمر تک زندہ رہنے سے تیری پناہ یااللہ دنیا کے فتنے سے تیری پناہ،یااللہ قبر کے عذاب سے تیری پناہ۔
57. باب تَكْرِيرِ الدُّعَاءِ
حَدَّثَنىِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْذِرٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طُبَّ حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ قَدْ صَنَعَ الشَّىْءَ وَمَا صَنَعَهُ، وَإِنَّهُ دَعَا رَبَّهُ ثُمَّ قَالَ " أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " جَاءَنِي رَجُلاَنِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ. قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ. قَالَ فِيمَا ذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ. قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي ذَرْوَانَ، وَذَرْوَانُ بِئْرٌ فِي بَنِي زُرَيْقٍ ". قَالَتْ فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَ " وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ". قَالَتْ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهَا عَنِ الْبِئْرِ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلاَّ أَخْرَجْتَهُ قَالَ " أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا ". زَادَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ وَاللَّيْثُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَا وَدَعَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ
Narrated By 'Aisha : That Allah's Apostle was affected by magic, so much that he used to think that he had done something which in fact, he did not do, and he invoked his Lord (for a remedy). Then (one day) he said, "O 'Aisha!) Do you know that Allah has advised me as to the problem I consulted Him about?" 'Aisha said, "O Allah's Apostle! What's that?" He said, "Two men came to me and one of them sat at my head and the other at my feet, and one of them asked his companion, 'What is wrong with this man?' The latter replied, 'He is under the effect of magic.' The former asked, 'Who has worked magic on him?' The latter replied, 'Labid bin Al-A'sam.' The former asked, 'With what did he work the magic?' The latter replied, 'With a comb and the hair, which are stuck to the comb, and the skin of pollen of a date-palm tree.' The former asked, 'Where is that?' The latter replied, 'It is in Dharwan.' Dharwan was a well in the dwelling place of the (tribe of) Bani Zuraiq. Allah's Apostle went to that well and returned to 'Aisha, saying, 'By Allah, the water (of the well) was as red as the infusion of Hinna, (1) and the date-palm trees look like the heads of devils.' 'Aisha added, Allah's Apostle came to me and informed me about the well. I asked the Prophet, 'O Allah's Apostle, why didn't you take out the skin of pollen?' He said, 'As for me, Allah has cured me and I hated to draw the attention of the people to such evil (which they might learn and harm others with).'"
Narrated Hisham's father: 'Aisha said, "Allah's Apostle was bewitched, so he invoked Allah repeatedly requesting Him to cure him from that magic)." Hisham then narrated the above narration.
مجھ سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا کہا ہم سے انس بن عیاض نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے،انہوں نے کہا رسول اللہﷺ پر جادو کیا گیا آپ کو ایسا خیال پیدا ہوتا جیسے ایک کام کر چکے ہیں حالانکہ وہ کام آپ نے نہ کیا ہوتا آخر آپ نے (مجبور ہوکر) پروردگار سے دعا کی (مجھ سے) کہنے لگے عائشہؓ تجھ کو معلوم ہوا میں نے جو بات اللہ تعالٰی سے پوچھی تھی وہ اس نے بتلا دی حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کیوں کیسے بتلایئے آپ نے فرمایا ایسا ہوا میرے پاس دو مرد(دو فرشتے) آئے ایک تو میرے سرہانے بیٹھ گیا ایک پائنتین،ایک نے دوسرے سے پوچھا اجی یہ تو کہو ان صاحب کا کیا ہو گیا ہے اس نے کہا ہو کیا گیا ہے ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا کس نے کیا ہے دوسرا بولا لبید بن اعصم نے۔پوچھا جادو کا سامان کیا ہے؟دوسرے نے کہا کنگھی اور بال(جو کنگھی کرنے میں جھڑتے ہیں) اورنر کھجور کے خوشے کا غلاف(انہی چیزوں میں جادو کیا)پوچھا اچھا یہ سارا سامان کہاں ہے دوسرے نے کہا زروان میں حضرت عائشہ کہتی ہیں پھر رسول اللہﷺ اس کنویئں پر تشریف لے گئے لوٹ کر آئے تو مجھ سے فرمانے لگے عائشہ خدا کی قسم اس کنویئں کے پانی کا رنگ ایسا تھا جیسے مہندی کاپانی،اور وہاں پر کھجور کے درخت تھے وہ ایسے بھیانک،جیسے سانپوں کے پھن(یا بھتنوں کے سر) غرض آپ نے وہاں کا سب حال حضرت عائشہؓ کو سنایا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے اس سامان کو کھلوایا کیوں نہیں۔(یا کنویئں سے نکلوایا کیوں نہیں یاجادو کا توڑ کیوں نہیں کیا)آپ نے فرمایا بات یہ ہے کہ اللہ نے(اپنے فضل وکرم سے) مجھ کو تندرست کر دیا اب میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ خواہ مخواہ لوگوں میں ایک شور پھیلاؤں۔عیسٰی بن یونس اور لیث بن سعد کی روایت میں جو انہوں نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کی ہے یوں ہے آپ نے دعا کی پھر دعا کی۔
58. باب الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ
وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ ". وَقَالَ " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ ". وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا ". حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ}
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الأَحْزَابِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ "
Narrated By Ibn Abi Aufa : Allah's Apostle asked for Allah's wrath upon the Ahzab (confederates), saying, "O Allah, the Revealer of the Holy Book, and the One swift at reckoning! Defeat the confederates; Defeat them and shake them."
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا کہا ہم کو وکیع نے خبر دی انہوں نے اسمٰعیل بن ابی خالد سے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفٰی سے سنا انہوں نے کہارسول اللہﷺ نے جنگ خندق میں کافروں کے لشکروں پر بددعا کی فرمایا یااللہ کتاب کے اتارنے والے حساب جلد لینے والے ان کافروں کی فوجوں کو بھگا دے ان کے پاؤں اکھیڑ دے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ". فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاَةِ الْعِشَاءِ قَنَتَ " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ "
Narrated By Abu Huraira : When the Prophet said, "Sami' al-lahu Liman hamidah (Allah heard him who sent his praises to Him)" in the last Rak'a of the 'Isha prayer, he used to invoke Allah, saying, "O Allah! Save 'Aiyash bin Abi Rabi'a; O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid; O Allah! Save the weak people among the believers; O Allah! Be hard on the Tribe of Mudar; O Allah! Inflict years of drought upon them like the years (of drought) of the Prophet Joseph."
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام دستوائی نے انہوں نے یحیٰی بن ابی کیثر سے انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ نبی ﷺ عشاء کی اخیر رکعت میں جب رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ چکتے اس وقت دعائے قنوت پڑھتے آپ یوں فرماتے یااللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو (کافروں کے پنجے سے)چھڑا دے یااللہ ولید بن ولید کو چھڑا دے،یااللہ سلمہ بن ہشام کو چھڑا دے یااللہ کمزور مسلمانوں(عورتوں اور بچوں) کو چھڑا دے یااللہ ان مضر کے کافروں (قریش) کو سخت عذاب میں اتار،روند ڈال،یااللہ ان پر ایسے قحط بھیج جیسے حضرت یوسفؑ کے زمانے میں قحط آئے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ فَأُصِيبُوا، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ عَلَى شَىْءٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، فَقَنَتَ شَهْرًا فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ وَيَقُولُ " إِنَّ عُصَيَّةَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ "
Narrated By Anas : The Prophet sent a Sariya (an army detachment) consisting of men called Al-Qurra', and all of them were martyred. I had never seen the Prophet so sad over anything as he was over them. So he said Qunut (invocation in the prayer) for one month in the Fajr prayer, invoking for Allah's wrath upon the tribe of 'Usaiya, and he used to say, "The people of 'Usaiya have disobeyed Allah and His Apostle."
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا کہا ہم سے ابوالاحوص(سلام بن سلیم نے) انہوں نے عاصم بن سلیمان احول سے انہوں نے انسؓ بن مالک سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے فوج کی ایک ٹکڑی روانہ کی جس کو قاریوں کی ٹکڑی کہتے تھے(کیوں کہ ان میں اکثر لوگ قرآن کے قاری تھے) یہ ساری ٹکڑی شہید کی گئی میں دیکھا نبیﷺ کو ان لوگوں کو اتنا رنج ہوا کہ اتنا رنج کبھی نہیں ہوا تھااور ایک مہینہ تک فجر کی نماز میں آپ قنوت پڑھتے رہے اور فرماتے تھے کہ عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ الْيَهُودُ يُسَلِّمُونَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُونَ السَّامُ عَلَيْكَ. فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ إِلَى قَوْلِهِمْ فَقَالَتْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ ". فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا يَقُولُونَ قَالَ " أَوَلَمْ تَسْمَعِي أَنِّي أَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ وَعَلَيْكُمْ "
Narrated By 'Aisha : The Jews used to greet the Prophet by saying, "As-Samu 'Alaika (i.e., death be upon you), so I understood what they said, and I said to them, "As-Samu 'alaikum wal-la'na (i.e. Death and Allah's Curse be upon you)." The Prophet said, "Be gentle and calm, O 'Aisha, as Allah likes gentleness in all affairs." I said, "O Allah's Prophet! Didn't you hear what they said?" He said, "Didn't you hear me answering them back by saying, 'Alaikum (i.e., the same be upon you)?"
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا یہودی لوگ نبیﷺ کو سلام کرتے تو(کمبخت سلام کے بدل)سام کہتے حضرت عائشہؓ ان کا کہنا سمجھ گیئں انہوں نے یوں جواب دیا تم ہی پر سام(موت) اور لعنت پڑے نبیﷺ نے فرمایا۔عائشہؓ اللہ تعالٰی ہر کام میں نرمی(خوش اخلاقی) کو پسند کرتا ہے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ نے ان کا کہنا نہیں سنا(سلام کے بدل انہوں نے سام کہا) آپ نے فرمایا تو نے میرا جواب نہیں سنا میں نے جواب دیا وعلیکم۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ " مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ". وَهْىَ صَلاَةُ الْعَصْرِ
Narrated By 'Ali bin Abi Talib : We were in the company of the Prophet on the day (of the battle) of Al-Khandaq (the Trench). The Prophet said, "May Allah fill their (the infidels') graves and houses with fire, as they have kept us so busy that we could not offer the middle prayer till the sun had set; and that prayer was the 'Asr prayer."
ہم سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے کہا ہم سے ہشام بن حسان نے کہا ہم سے محمد بن سیرین نے کہا ہم سے عبیدہ سلمانی نے کہا ہم سے علیؓ بن ابی طالب نے انہوں نے کہا ہم خندق کے دن نبیﷺ کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا اللہ ان کافروں کی قبروں اور گھروں کو انگار سے بھر دے جیسے ان کمبختوں نے ہم کو بیچ والی نماز(عصر کی نماز) نہ پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا۔
59. باب الدُّعَاءِ لِلْمُشْرِكِينَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا. فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، فَقَالَ " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ "
Narrated By Abu Huraira : At-Tufail bin 'Amr came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! The tribe of Daus has disobeyed (Allah and His Apostle) and refused (to embrace Islam), therefore, invoke Allah's wrath for them." The people thought that the Prophet would invoke Allah's wrath for them, but he said, "O Allah! Guide the tribe Of Daus and let them come to us."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے ابوالزناد نے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے انہوں نے کہا طفیل بن عمرو(دوس قبیلے کا سردار)رسول اللہﷺ کے پاس آیا کہنے لگا یا رسول اللہ دوس کے لوگوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور مسلمان ہونے سے انکار کیا آپ ان کے لیے بددعا فرمایئے لوگ سمجھے کہ آپ اب ان پر بددعا کریں گے لیکن آپ نے دعا کی اور فرمایا یااللہ دوس والوں کو ہدایت کر ان کو میرے پاس لے آ۔