11. باب اسْتِحْبَابِ التَّزَوُّجِ وَالتَّزْوِيجِ فِي شَوَّالٍ وَاسْتِحْبَابِ الدُّخُولِ فِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى شَوَّالٍ وَبَنَى بِى فِى شَوَّالٍ فَأَىُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّى. قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِى شَوَّالٍ.
It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) married me in Shawwal and consummated the marriage with me in Shawwal, and which of the wives of the Messenger of Allah (s.a.w) was dearer to him than me?" And 'Aishah liked for marriages with her women folk to be consummated in Shawwal.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے مجھ سے شوال کے مہینہ میں نکاح کیا ، اور شوال کے مہینے ہی میں میری رخصتی ہوئی ،رسول اللہ ﷺکی ازواج میں مجھ سے زیادہ خوش نصیب اور آپ ﷺکی نگاہ میں پسندیدہ اور کون تھا ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ پسند تھا کہ ان کی رخصتی شوال میں کی جائے۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِعْلَ عَائِشَةَ.
Sufyan narrated with this chain (a Hadith similar to no. 3483), but he did not mention what 'Aishah did (liked).
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
12. بَابُ نَدْبِ مَنْ أَرَادَ نِكَاحَ امْرَأَةٍ إِلَى أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وَجْهِهَا وَكَفَّيْهَا قَبْلَ خِطْبَتِهَا
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا ». قَالَ لاَ. قَالَ « فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِى أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا ».
It was narrated that Abu Hurairah said: I was with the Prophet (s.a.w) when a man came to him and told him that he had gotten married to a woman from among the Ansar. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Did you look at her?" He said: "No." He said: "Go and look at her, for there is something in the eyes of the Ansar."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبیﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی نے آکر کہا : میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کرلی۔رسول اللہ ﷺنے اس کو کہا: کیا تم نے اس کو دیکھ لیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ، آپﷺنے فرمایا: جاؤ جاکر دیکھ لو ، کیونکہ انصار عورتوں کی آنکھوں میں کچھ (عیب ) ہوتا ہے۔
وَحَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنِّى تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ. فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِى عُيُونِ الأَنْصَارِ شَيْئًا ». قَالَ قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا. قَالَ « عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا ». قَالَ عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ. فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ مَا عِنْدَنَا مَا نُعْطِيكَ وَلَكِنْ عَسَى أَنْ نَبْعَثَكَ فِى بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ ». قَالَ فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِى عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فِيهِمْ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Prophet (s.a.w) and said: 'I have married a woman from among the Ansar.' The Prophet (s.a.w) said to him: 'Did you look at her? For there is something in the eyes of the Ansar.' He said: 'I looked at her.' He said: 'For how much did you marry her?' He said: 'For four Uqiyah.' The Prophet (s.a.w) said to him: 'For four Uqiyah? It is as if you are going to dig the silver out from the side of this mountain. We do not have anything to give you, but perhaps we will send you on an expedition and you will get something from it.' And he sent an expedition to Banu 'Abs, and he sent that man with them."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺکی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کرلی، نبی ﷺنے اس سے فرمایا: کیا تم نے اس عورت کو دیکھا ہے ؟کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ (عیب ) ہوتا ہے ۔اس نے کہا: میں نے اس کو دیکھا ہے۔آپﷺنے فرمایا: کتنے مہر کے عوض نکاح کیا ہے؟اس نے کہا : چار اوقیہ چاندی پر ، نبی ﷺنے فرمایا: چار اوقیہ چاندی پر؟گویا تم اس پہاڑ کی پہنائی سے چاندی کھرچ لیتے ہو؟ ہمارے پاس تو تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔، لیکن ہوسکتا کہ ہم تمہیں اپنے آدمیوں کے ساتھ بھیجتے ہیں تاکہ تمہیں کچھ مل جائے ، پھر رسول اللہ ﷺنے بنو عبس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جس میں اس شخص کو بھی بھیجا تھا۔
13. بابُ الصَّدَاقِ وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ وَخَاتَمَ حَدِيدٍ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لاَ يُجْحَفُ بِهِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِىُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىَّ - عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِىِّ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِى. فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا. فَقَالَ « فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ». فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
فَقَالَ « اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ». فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ ». فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ. فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ. وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِى - قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ - فَلَهَا نِصْفُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَىْءٌ ». فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِىَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ « مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ». قَالَ مَعِى سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا - عَدَّدَهَا. فَقَالَ « تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ». قَالَ نَعَمْ. قَالَ « اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ». هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِى حَازِمٍ وَحَدِيثُ يَعْقُوبَ يُقَارِبُهُ فِى اللَّفْظِ.
It was narrated that Sahl bin Sa'd As-Sa'idi said: "A woman came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: 'O Messenger of Allah (s.a.w), I have come to give myself to you (in marriage).' The Messenger of Allah (s.a.w) looked her up and down, then the Messenger of Allah (s.a.w) lowered his head. When the woman saw that he had not made any decision about her, she sat down. A man among his Companions stood up and said: 'O Messenger of Allah, if you have no need of her then marry her to me.' He said: 'Do you have anything?' He said: 'No, by Allah, O Messenger of Allah.' He said: 'Go to your family and see if you can find something.' So he went, then he came back and said: 'No, by Allah, O Messenger of Allah, not even a ring of iron, only this Izar (lower garment) of mine"' - Sahl said: "He did not have a Rida' (upper garment) - 'and she may have half of it.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'What will she do with your Izar? If you wear it she will not have anything of it and if she wears it you will not have anything of it.' The man sat down, and after he had sat for a long time, he got up (to leave). The Messenger of Allah (s.a.w) saw him turning away, and he ordered that he be called to him. When he came, he said: 'What do you know of the Qur'an?' He said: 'I know Surah such-and-such and Surah such-and-such' - and he listed them. He said: 'Do you recite them by heart?' He said: 'Yes.' He said: 'Go. You have been given her (in marriage) for what you know of the Qur'an.'" This is the Hadith of Ibn Abi Hazim (a narrator), and the Hadith of Ya'qub (another narrator) is very similar in wording.
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی : یارسول اللہﷺ!میں آپﷺکےپاس اپنا نفس ہبہ کرنے کے لیے آئی ہوں ، رسول اللہﷺنے نظر اٹھاکر اسے نیچے سے اوپر تک دیکھا، پھر آپﷺنے اپنا سر مبارک جھکالیا ،جب اس عورت نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺنے کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی ۔ پھر صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑے ہوکر کہنے لگا یارسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو میرا نکاح اس سے کرادیں۔آپﷺنے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! کچھ بھی نہیں۔آپﷺنے فرمایا: جاؤ گھر جاکر دیکھو شاید تمہیں کوئی چیز مل جائے۔ وہ گھر گئے اور واپس آکر اس نے کہا : اللہ کی قسم ! کچھ بھی نہیں۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: جاؤ تلاش کرو،خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو، وہ گئے اور واپس آکر کہا: اللہ کی قسم ! یارسول اللہ ﷺ کچھ بھی نہیں۔میرے پاس صرف یہ تہبند ہے ، آدھا تہبند میں اس کو دوں گا۔راوی سہل کہتے ہیں کہ اس کے پاس اوپر والی چادر نہیں تھی،آپﷺنے فرمایا: تمہارا یہ تہبند کیا کرے گا؟اگر تم نے اس کو پہن لیا تو اس کے پاس کچھ نہیں رہے گا اور وہ پہن لے گی تو تمہارے پاس کچھ نہیں رہے گا۔ وہ آدمی بیٹھ گیا اورجب کافی دیر ہوگئی تو وہ آدمی اٹھا اور جانے لگا تو رسول اللہﷺنے دیکھ کر انہیں واپس بلالیا ، جب وہ آئے تو آپﷺنے فرمایا: تمہیں قرآن کتنا یاد ہے ؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں اور وہ سورتیں گن گن کر بتلائیں۔ آپﷺنے پوچھا : تم یہ سورتیں زبانی پڑھ سکتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں ۔ آپﷺنے فرمایا: جاؤ تمہیں جو قرآن یاد ہے اس کے سبب میں نے تمہارا نکاح اس عورت سے کردیا۔
وَحَدَّثَنَاهُ خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الدَّرَاوَرْدِىِّ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِىٍّ عَنْ زَائِدَةَ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِ زَائِدَةَ قَالَ « انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ ».
This Hadith was narrated from Sahl bin Sa'd (a Hadith similar to no. 3487); some of them added material to one another's reports, but in the Hadith there is an addition which says: "Go, for I have married her to you, so teach her Qur'an."
ایک اور سند سے بھی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کچھ اسی طرح کی حدیث مروی ہے صرف اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے تمہارا نکاح اس سے کردیا ، اب تم اس کو قرآن کی تعلیم دو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِى يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عُمَرَ الْمَكِّىُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ كَانَ صَدَاقُهُ لأَزْوَاجِهِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا. قَالَتْ أَتَدْرِى مَا النَّشُّ قَالَ قُلْتُ لاَ. قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ. فَتِلْكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لأَزْوَاجِهِ.
It was narrated that Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said: "I asked 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w): 'How much was the dowry of the Messenger of Allah (s.a.w)?' She said: 'The dowry that he gave to his wives was twelve Uqiyah and a Nashsh.' She said: 'Do you know what a Nashsh is?' I said: 'No.' She said: 'Half an Uqiyah; and that (the whole amount) was equal to five hundred Dirham. That was the dowry of the Messenger of Allah (s.a.w) to his wives.'"
ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ ﷺکا مہر کتنا ہوتا تھا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:آپﷺاپنی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش رکھتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگی : کیا تم جانتے ہو کہ نش کیا ہے ؟میں نے کہا: نہیں ۔ انہوں نے فرمایا: نصف اوقیہ، اور یہ کل مقدار پانچ سو درہم ہیں اور یہی رسول اللہ ﷺکی ازواج کا مہر ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِىُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ « مَا هَذَا ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ « فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ».
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (s.a.w) saw on 'Abdur-Rahman bin 'Awf traces of Sufrah and he said: "What is this?" He said: "O Messenger of Allah, I got married to a woman for a date-stone's weight of gold.'' He said: "May Allah bless you. Give a wedding feast, even if it is with a sheep.''
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بدن پر زرد رنگ کی خوشبو کے آثار دیکھے تو فرمایا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: یارسول اللہﷺ!میں نے ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض نکاح کرلیا ہے،آپﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے ، ولیمہ کروہ خواہ بکری سے ہو۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ».
It was narrated from Anas bin Malik that 'Abdur-Rahman bin 'Awf got married at the time of the Messenger of Allah (s.a.w), for a date-stone's weight of gold. The Messenger of Allah (s.a.w) said to him: "Give a feast, even if it is with a sheep."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺکے زمانے میں کجھور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا،آپﷺنے فرمایا : ولیمہ کرو خواہ بکری سے ہو۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَأَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ لَهُ « أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ».
It was narrated from Anas that 'Abdur-Rahman bin 'Awf married a woman for a date-stone's weight of gold, and the Prophet (s.a.w) said to him: "Give a feast, even if it is with a sheep."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے کجھور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا،تو نبیﷺنے ان سے فرمایا : ولیمہ کرو خواہ ایک بکری کا ہو۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُمَيْدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِ وَهْبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً.
It was narrated from Humaid with this chain (a Hadith similar to no. 3492), except that in the Hadith of Wahb it says: "'Abdur-Rahman said: 'I got married to a woman."'
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں ہے کہ حضرت عبد الرحمن نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَآنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَعَلَىَّ بَشَاشَةُ الْعُرْسِ فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ. فَقَالَ « كَمْ أَصْدَقْتَهَا ». فَقُلْتُ نَوَاةً. وَفِى حَدِيثِ إِسْحَاقَ مِنْ ذَهَبٍ.
Anas said: 'Abdur-Rahman bin 'Awf said: "The Messenger of Allah (s.a.w) saw on me the signs of happiness of a bridegroom. I said: 'I have got married to a woman from among the Ansar.' He said: "'How much did you give her as a dowry?'" He said: "A date-stone.'' In he Hadith of Ishaq (another narrator) it says: "Of gold.''
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بدن پر رسول اللہ ﷺنے شادی کے آثار دیکھے ، میں نے کہا: میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ، آپﷺنے پوچھا : تم نے اس کا مہر کتنا مقرر کیا ؟میں نے کہا: ایک گٹھلی کے برابر سونا۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى حَمْزَةَ - قَالَ شُعْبَةُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ.
It was narrated from Anas bin Malik that 'Abdur-Rahman married a woman for a date-stone's weight of gold .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک گٹھلی کجھور کے برابر سونے کے عوض ایک عورت سے شادی کی۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَهْبٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ ذَهَبٍ.
Shu'bah narrated it with this chain (a Hadith similar to no. 3495), except that he said: "One of the sons of Abdur-Rahman bin 'Awf said: 'Of gold.'"
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے کہ حضرت عبد الرحمن کے لڑکوں میں سے کسی ایک نے سونے (کی گٹھلی) کا ذکر کیا ہے ۔
14. بابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا
حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِى ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- غَزَا خَيْبَرَ قَالَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِى طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِى لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَانْحَسَرَ الإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَإِنِّى لأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ « اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ». قَالَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ. قَالَ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْىُ فَجَاءَهُ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِى جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ. فَقَالَ « اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً ». فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا نَبِىَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ مَا تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ. قَالَ « ادْعُوهُ بِهَا ». قَالَ فَجَاءَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا ». قَالَ وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا. فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَرُوسًا فَقَالَ « مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ » قَالَ وَبَسَطَ نِطَعًا قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِىءُ بِالأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِىءُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِىءُ بِالسَّمْنِ فَحَاسُوا حَيْسًا. فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (s.a.w) launched a campaign against Kbaibar. "We prayed Al-Ghadah (Fajr) there when it was still dark, then the Prophet of Allah (s.a.w) rode and Abu Talhah rode, and I was seated behind Abu Talhah (on his mount). The Prophet (s.a.w) let his mount run through the narrow streets of Khaibar, and my knee was touching the thigh of the Prophet of Allah (s.a.w). The Izar slipped from the thigh of the Prophet of Allah (s.a.w) and I could see the whiteness of the thigh of the Prophet of Allah (s.a.w). When he entered the town, he said: 'Allahu Akbar! Khaibar is destroyed! Then, when we descend in their courtyard (near to them), evil will be the morning for those who had been warned!' He said it three times. The people had come out to their work and they said: 'Muhammad! [by Allah!]'" - (one of the narrators) 'Abdul-'Aziz said: 'Some of our companions said: 'Muhammad and the army!' - "We seized .Khaibar by force, and the prisoners were gathered together. Dihyah came to him and said: 'O Messenger of Allah, give me a woman from among the prisoners.' He said: 'Go and take a woman.' He chose Safiyyah bint Huyayy, then a man came to the Prophet of Allah (s.a.w) and said: 'O Prophet of Allah, you have given Dihyah Safiyyah bint Huyayy, the first lady of Quraizah and An-Nadir? She is fit only for you.' He said: 'Call him to bring her here.' So he brought her, and when the Prophet (s.a.w) saw her, he said: 'Take another woman from among the prisoners.' And he set her free and married her.'' Thabit said to him: "O Abu Hamzah, what dowry did he give her?" He said: "Herself; he set her free then married her. Then when he was on the road, Umm Sulaim prepared her for him and gave her to him at night, and the following morning the Prophet (s.a.w) was a bridegroom, and he said: 'Whoever has anything (of food) let him bring it.' He spread out a cloth and men started bringing cottage cheese, dates and cooking fat. They made Hais, and that was the wedding feast of the Messenger of Allah (s.a.w).''
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے خیبر کا غزوہ لڑا ،اور ہم نے خیبر میں منہ اندھیرے فجر کی نماز پڑھی ،پھر رسول اللہ ﷺسوار ہوئے ، اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے ،میں ابوطلحہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا، نبی ﷺنے خیبر کی گلیوں میں اپنی سواری کو دوڑایا۔ اور میرا گھٹنا رسول اللہ ﷺکی ران کو چھو رہا تھا، نبی ﷺکی چادر ران سے کھسک گئی ،اور میری نظر آپﷺکی ران کی سفیدی پر پڑگئی۔ جب آپﷺبستی میں داخل ہوئے تو فرمایا: اللہ اکبر خیبر ویران ہوگیا،جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو اس قوم کی صبح بڑی ہو جاتی ہے جن کو ڈرایا جاتا ہے۔ ان الفاظ کو آپﷺنے تین مرتبہ دہرایا، لوگ اپنے کام کاج کے لیے نکل چکے تھے ،لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ! محمد اور ان کا لشکر آچکا ہے ، ہم نے جنگ سے خیبر کو فتح کرلیا اور قیدیوں کو جمع کرلیا گیا ، دحیہ کلبی نے حاضر ہوکر عرض کیایارسول اللہﷺ! ان قیدیوں میں سے ایک لونڈی مجھے بھی عنایت کیجئے گا۔آپﷺنے فرمایا: اچھا جاؤ ایک لونڈی لے لو، انہوں نے صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کو لے لیا۔نبی ﷺکے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا یانبی اللہﷺ!آپ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سردار صفیہ بنت حیی دحیہ کو دے دی ، وہ آپ کے علاوہ کسی کے لائق نہیں ۔ آپﷺنے فرمایا: دحیہ اور اس باندی کو بلاؤ، دحیہ ان کو لیکر آئے ، جب نبی ﷺنے ان کو دیکھاتو فرمایا: اس کے علاوہ کسی اور باندی کو لے لو ، اور آپﷺنے حضرت صفیہ کو آزاد کرکے شادی کرلی، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ثابت نے پوچھا : اے ابو حمزہ ! حضرت صفیہ کا مہر کتنا تھا ؟ حضرت انس نے کہا: ان کو آزاد کرنا ہی ان کا حق مہر تھا۔آپ ﷺنے راستہ میں ان سے نکاح کیا ، حضرت ام سلیم نے راستہ ہی میں رات کو انہیں تیار کرکے آپﷺکے پاس بھیجا اور نبی ﷺنے عروسی کی حالت میں صبح کی۔آپ ﷺنے فرمایا: جس شخص کے پاس جو کچھ ہے وہ لیکر آئے ،چمڑے کا دسترخوان بچھا دیا گیا ، کوئی شخص پنیر لیکر آیا ، اور کوئی کجھور یں ، اور کوئی گھی لیکر آیا ، پھر ان تمام چیزوں کو ملاکر مالیدہ حلوا تیار کرلیا او ریہی رسول اللہﷺکا ولیمہ تھا۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ وَشُعَيْبِ بْنِ حَبْحَابٍ عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِى عُثْمَانَ عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا. وَفِى حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ تَزَوَّجَ صَفِيَّةَ وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا.
It was narrated from Anas that the Prophet (s.a.w) manumitted Safiyyah and made her manumission her dowry. In the Hadith of Mu'adh from his father it says: "He married Safiyyah and her manumission was her dowry.''
چھ مختلف سندوں کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کے آزاد کرنے ہی کو ان کا مہر قرار دیا ، ایک روایت میں ہے کہ آپﷺنے ان کو آزاد کیا اور ان کو آزاد کرنا ہی ان کا مہر قرار پایا۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الَّذِى يُعْتِقُ جَارِيَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا « لَهُ أَجْرَانِ ».
It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said concerning the one who frees his slave woman then marries her: 'He will have two rewards.'
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص اپنی باندی کو آزاد کرے پھر اس سے شادی کرے اس کے لیے دوہرا ثواب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ أَبِى طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِى تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمَ وَخَرَجُوا بِفُئُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ - قَالَ - وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ». قَالَ وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَوَقَعَتْ فِى سَهْمِ دَحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا - قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَتَعْتَدُّ فِى بَيْتِهَا وَهِىَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ - قَالَ - وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالأَقِطَ وَالسَّمْنَ فُحِصَتِ الأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِىءَ بِالأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِيهَا وَجِىءَ بِالأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ - قَالَ - وَقَالَ النَّاسُ لاَ نَدْرِى أَتَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ. قَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهْىَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهْىَ أُمُّ وَلَدٍ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا فَقَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا. فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَدَفَعْنَا - قَالَ - فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ وَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَنَدَرَتْ فَقَامَ فَسَتَرَهَا وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ. قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ إِى وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ.
قَالَ أَنَسٌ وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَ يَبْعَثُنِى فَأَدْعُو النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلاَنِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ عَلَى نِسَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ « سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ كَيْفَ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ ». فَيَقُولُونَ بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ فَيَقُولُ « بِخَيْرٍ ». فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِى أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَمْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِى أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِى وَبَيْنَهُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآيَةَ ( لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ) الآيَةَ.
It was narrated that Anas said: "I was riding behind Abu Talhah on the Day of Khaibar, and my foot was touching the foot of the Messenger of Allah (s.a.w). We came to them (the people of Khaibar) when the sun had risen, and they had brought out their livestock and their axes, large baskets and hatchets. They said: 'Muhammad and the army!' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Khaibar is destroyed! When we descend in their courtyard (near to them), evil will be the morning for those who had been warned!' Allah, [the Mighty and Sublime], defeated them. There fell to the lot of Dihyah a beautiful slave woman, and. the Messenger of Allah (s.a.w) bought her for seven slaves, then he gave her to Umm Sulaim to prepare her and adorn her for him" - he (the narrator) said: "I think he said: 'And so that she could observe her 'Iddah in her house."' "That was Safiyyah bint Huyayy. The Messenger of Allah (s.a.w) made her wedding feast dates, cottage cheese, and cooking fat. Shallow pits were dug in the ground and leather mats were placed in them, and cottage cheese and cooking fat were brought and the people ate their fill. The people said: 'We do not know if he has married her or taken her as a concubine.' They said: 'If he veils her then she is his wife, and if he does not veil her then she is a concubine.' When he wanted to ride, he veiled her, and she sat on the back of the camel, so they knew that he had married her. When they drew near Al-Madinah, the Messenger of Allah (s.a.w) sped up and we sped up too . The she-camel Al-Adba' stumbled and the Messenger of Allah (s.a.w) fell, and she (Safiyyah) fell too, then he got up and screend her. The women were looking on and they said: 'May Allah keep the Jewess away from us!"' I (the narrator) said: "O Abu Hamzah, did the Messenger of Allah (s.a.w) fall?" He said: "Yes, by Allah, he fell." Anas said: "And I attended the Walimah (wedding feast) of Zainab. The people ate their fill of bread and meat, and he used to send me to invite the people. When he had finished (eating), he got up and I followed him. Two men stayed behind, talking, and they did not leave. He went around to his wives and greeted each one of them, saying: 'Peace be upon you, how are you, O members of the household?' And they would say: 'We are fine, O Messenger of Allah. How did you find your wife?' And he said: 'Fine.' When he had finished, he went back and I went back with him. When he reached the door, those two men were still there, talking. When they saw that he had come back, they got up and left. By Allah, I do not know whether I told him or whether it was revealed to him that they had left. So he went back, and I went back with him, and when he put his foot on the threshold of the door he drew the curtain between myself and himself, and Allah [the Most High] revealed this verse: "O you who believe! Enter not the Prophet's houses, unless permission is given to you for a meal, (and then) not (so early as) to wait for its preparation. But when you are invited, enter, and when you have taken your meal, disperse without sitting for a talk. Verily, such (behavior) annoys the Prophet, and he is shy of (asking) you (to go); but Allah is not shy of (telling you) the truth. And when you ask (his wives) for anything you want, ask them from behind a screen, that is purer for your hearts and for their hearts. And it is not (right) for you that you should annoy Allah's Messenger, nor that you should ever marry his wives after him (his death). Verily, with Allah that shall be an enormit."
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں خیبر کے دن ابوطلحہ کے پیچھے سوار تھا اور میرا قدم رسول اللہ ﷺکے قدم مبارک کو مس کررہا تھا سورج کے طلوع ہوتے ہی ہم خیبر جا پہنچے اور لوگوں نے اپنے جانوروں کو باہر نکال لیا تھا اور وہ اپنی کدالیں ، ٹوکریاں اور بیلچے لے جارہے تھے ،انہوں نے کہا محمد ﷺلشکر کے ساتھ آئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا خبیر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر تے ہیں تو ان کی صبح بری ہو جاتی ہے جن کو ڈرایا جاتا ہے۔ آپ ﷺنے ان کے سپرد اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ان کے گھر میں عدت پوری کریں حضرت انس فرماتے ہیں : اللہ نے انہیں شکست دی اور حضرت دحیہ کے حصہ میں ایک خوبصورت باندی آئی، جس کو رسول اللہ ﷺنے سات باندیوں کے عوض خرید لیا تھا ،پھر اسے ام سلیم کی طرف بھیجا کہ وہ اسے بنا سنوار کر تیار کردیں اور راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے آپ ﷺنے ان کے سپرد اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ان کے گھر میں عدت پوری کریں اور وہ باندی صفیہ بنت حیی تھیں اور رسول اللہ ﷺنے ان کے ولیمہ میں کھجور، پنیر اور مکھن کا کھانا تیار کروایا، زمیں کو کھود کر اس میں چمڑے کا دسترخوان بچھایا گیا ، اس میں پنیر اور گھی رکھا گیا ، لوگوں نے سیر ہوکر کھایا ، اور لوگوں نے کہا ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺنے ان سے شادی کی یا ام ولد بنایا ہے؟ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر آپ ﷺانہیں پردہ کروائیں تو آپ ﷺکی بیوی ہوں گی اور اگر انہیں پردہ نہ کروایا تو ام ولد ہوگی پس جب آپ ﷺنے سوار ہونے کا ارادہ کیا تو انہیں پردہ کروایا اور وہ اونٹ کے پچھلے حصہ پر بیٹھ گئیں تو صحابہ کو معلوم ہوا کہ آپ ﷺنے ان سے شادی کی ہے۔ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺنے اپنی اونٹنی کو دوڑانا شروع کیا تو ہم نے بھی اپنی سواریاں تیز کردیں آپ ﷺکی عصباء اونٹنی نے ٹھوکر کھائی اور رسول اللہ ﷺاور صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گر پڑے آپ ﷺاٹھے اور ان پر پردہ کیا اورعورتوں نے کہنا شروع کردیا اللہ یہودیہ کو دور کرے، راوی کہتے ہیں میں نے کہا: اے ابوحمزہ کیا رسول اللہ ﷺگر پڑے تھے؟تو انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم ! آپ ﷺگر پڑے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں حاضر ہوا تو آپ ﷺنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو روٹی اور گوشت سے سیر کردیا تھا اور لوگوں کو بلانے کے لئے آپ ﷺنے مجھے بھیجا تھا جب آپ ﷺفارغ ہو کر اٹھے تو میں آپ ﷺکے پیچھے چلا اور دو آدمیوں نے کھانے کے بعد بیٹھ کر گفتگو شروع کر دی وہ نہ نکلے آپ ﷺاپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے ان میں سے ہر ایک کو سلام کیا اور فرماتے سلام علیکم اے گھر والو تم کیسے ہو؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ خیریت کے ساتھ، آپ ﷺنے اپنی بیوی کو کیسا پایا؟ آپ ﷺفرماتے بہت بہتر ہے، جب آپ فارغ ہوکر واپس لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس لوٹا ، دروازے پر پہنچے تو وہ دونوں آدمی محو گفتگو تھے جب انہوں نے دیکھا کہ آپﷺلوٹ آئے ہیں تو وہ نکلنے کے لیے کھڑے ہوگئے ، اللہ کی قسم! مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ ﷺکو ان کے جانے کی خبر دی یا آپ ﷺپر وحی نازل کی گئی کہ وہ جا چکے ہیں تو آپ ﷺلوٹے اور میں واپس آیا جب آپ ﷺنے اپنا پاؤں دروازہ کی چوکھٹ پر رکھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ عز وجل نے یہ آیت نازل کی: لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم نبی ﷺکے گھروں میں بغیر اجازت داخل نہ ہوا کرو۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِثٍ عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنِى بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدَحْيَةَ فِى مَقْسَمِهِ وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا فِى السَّبْىِ مِثْلَهَا - قَالَ - فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّى فَقَالَ « أَصْلِحِيهَا ». قَالَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِى ظَهْرِهِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ ». قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِىءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ - قَالَ - فَقَالَ أَنَسٌ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَيْهَا - قَالَ - فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا فَرَفَعْنَا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَطِيَّتَهُ - قَالَ - وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ قَالَ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلاَ إِلَيْهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَتَرَهَا - قَالَ - فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ « لَمْ نُضَرَّ ». قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَخَرَجَ جَوَارِى نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا.
Anas said: "Safiyyah fell to the lot of Dihyah and they started praising her before the Messenger of Allah (s.a.w). They said: 'We have never seen any captive like her.' He sent word to Dihyah and gave him whatever he wanted, then he gave her to my mother, and said: 'Prepare her.' Then the Messenger of Allah (s.a.w) left Khaibar, and when it was behind him, he halted and put up a tent for her. The next morning the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever has any surplus provisions, let him bring it.' Men started bringing surplus dates and surplus Sawiq until they made a pile of Hais. They started eating from that Hais and drinking from a cistern of rainwater that was beside them." Anas said: "And that was the wedding feast of the Messenger of Allah (s.a.w) when he married her. Then we set out, and when we saw the walls of Al-Madinah we were excited and made our mounts go faster. The Messenger of Allah (s.a.w) also made his mount go faster. Safiyyah was riding behind the Messenger of Allah (s.a.w) and the mount of the Messenger of Allah (s.a.w) stumbled and he fell, and she fell too. No one among the people looked at him or her until the Messenger of Allah (s.a.w) got up and screened her. Then we came to him, and he said: 'We are not hurt.' Then we entered Al-Madinah, and the young ones among his wives came out to have a look at her, and they expressed joy at her fall."
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تقسیم میں صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دحیہ کے حصہ میں آئیں اور صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کی تعریف کرنا شروع کر دی اور انہوں نے کہا کہ قیدیوں میں ایسی عورت ہم نے نہیں دیکھی آپ ﷺ نےحضرت دحیہ کو بلوایا ، اور حضرت صفیہ کے عوض جو انہوں نے مانگا انہیں دے دیا ،پھر حضرت صفیہ کو میری والدہ کے حوالے کرکے فرمایا:ان کا بناؤ سنگھار کرو،پھر رسول اللہ ﷺ خیبر سے نکلے یہاں تک کہ خیبر آپﷺکے پیچھے رہ گیا،پھر آپﷺاترے اور صفیہ کےلیے خیمہ لگوایا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس زاد راہ بچا ہوا ہو وہ ہمارے پاس لے آئے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے بچی ہوئی کجھوریں اور ستو لانا شروع کردیا یہاں تک کہ انہوں نے اس سے مالیدہ بنایا اور پھر اس مالیدہ سے کھانا شروع کیا اور اپنے پہلو کی جانب آسمانی پانی کے حوض سے پانی پینا شروع کردیا ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺکا ولیمہ تھا،پھر ہم چلے یہاں تک کہ جب ہم نے مدینہ کی دیواریں دیکھیں اور ہم مدینہ کے مشتاق ہوئے تو ہم نے اپنی سواریاں دوڑائیں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی سواری کو دوڑایا اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھیں ،رسول اللہ ﷺ کی سواری نے ٹھوکر کھائی آپ ﷺ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گر پڑے اور کوئی بھی شخص آپ ﷺ کی طرف یا سیدہ صفیہ کی طرف نہ دیکھتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے سیدہ صفیہ پر پردہ کیا پھر ہم آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ میں داخل ہوئے اور آپ کی ازواج مطہرات کی کنیزیں آکر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کودیکھنے لگیں اور ان کے گرنے پر افسو کرنے لگیں۔
15. باب زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَنُزُولِ الْحِجَابِ وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَهَذَا حَدِيثُ بَهْزٍ قَالَ لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِزَيْدٍ « فَاذْكُرْهَا عَلَىَّ ». قَالَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ حَتَّى أَتَاهَا وَهْىَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِى صَدْرِى حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَكَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِى وَنَكَصْتُ عَلَى عَقِبِى فَقُلْتُ يَا زَيْنَبُ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَذْكُرُكِ. قَالَتْ مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُوَامِرَ رَبِّى. فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ فَقَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِىَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِى الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَاتَّبَعْتُهُ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ قَالَ فَمَا أَدْرِى أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ خَرَجُوا أَوْ أَخْبَرَنِى - قَالَ - فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِى وَبَيْنَهُ وَنَزَلَ الْحِجَابُ قَالَ وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ. زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِى حَدِيثِهِ (لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ) إِلَى قَوْلِهِ (وَاللَّهُ لاَ يَسْتَحْيِى مِنَ الْحَقِّ)
It was narrated, and this is the Hadith of Bahz, that, Anas said: "When the 'Iddah of Zainab was over, the Messenger of Allah (s.a.w) said to Zaid: 'Make, mention of me to her (for marriage).' Zaid set out, and came to her when she was adding yeast to her dough. He said: When I saw her, I felt a great deal of respect for her, and I could not look at her, because the Messenger of Allah (s.a.w) had mentioned her. So I turned my back on her and stepped backwards, and I said: "O Zainab, the Messenger of Allah (s.a.w) has sent a proposal of marriage to you.'' She said: "I will not do anything until I consult my Lord.' Then she went to her prayer place. Then Qur'an was revealed, and the Messenger of Allah (s.a.w) came and entered upon her without permission." He said: "And I remember the Messenger of Allah (s.a.w) gave us bread and meat to eat when it was daylight, then the people left, but some men stayed behind in the house, talking after the meal. The Messenger of Allah (s.a.w) went out and I followed him. He started going around to the apartments of his wives, greeting them, and they said: 'O Messenger of Allah, how did you find your wife?' I do not know whether I told him that those people had left or he told me. He went and entered the house, and I went to enter with him, but he drew the curtain between myself and himself, and the verse of Hijab was revealed, and the people were exhorted with what they were exhorted." Ibn Rafi' added in his Hadith: "Enter not the Prophet's houses, unless permission is given to you for a meal, (and then) not (so early as) to wait for its preparation" up to His saying: "Allah is not shy of (telling you) the truth."
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی عدت ختم ہوگئی تو رسول اللہ ﷺنے حضرت زید کو فرمایا : حضرت زینب سے میرا ذکر کرو،راوی انس فرماتے ہیں کہ جب زید حضرت زینب کے پاس گئے تو وہ اپنے آٹے کا خمیر کر رہی تھیں۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں اس قدر عظمت پیدا ہوئی کہ میں ان کی طرف نظر بھر کر دیکھ نہ سکا، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺنے ان کا ذکر کیا تھا۔چنانچہ میں نے ان سے پیٹھ پھیری اور اپنی ایڑیوں پر لوٹا پھر میں نے کہا اے زینب! رسول اللہ ﷺنے آپ کی طرف پیغام بھیجا ہے اور آپ ﷺتجھے یاد کرتے ہیں اس نے کہا :میں کچھ بھی نہیں کر سکتی اس وقت تک جب تک کہ میرے رب کا حکم نہ آئے،اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑی ہوگئی، اور قرآن نازل ہوا اور آپﷺتشریف لائے اور بغیر اجازت کے ان کے گھر میں داخل ہوئے۔راوی کہتا ہے کہ ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا اور جب دن چڑھ گیا تو لوگ کھا کر چلے گئے اور چند لوگوں نے گھر میں ہی کھانے کے بعد گفتگو کرنا شروع کر دی ، رسول اللہ ﷺتشریف لے چلے اور میں آپ ﷺکے پیچھے پیچھے چلا ،آپ ﷺاپنی ازواج کے حجرات کی طرف گئے انہیں سلام کیا اور انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺنے اپنے گھر والوں کو کیسا پایا ، راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں میں نے آپ ﷺکے خبر دی کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ ﷺنے مجھے خبر دی آپ ﷺچلے یہاں تک کہ گھر میں داخل ہوئے اور میں نے آپ ﷺکے ساتھ داخل ہونا چاہا تو آپ ﷺنے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور آیت حجاب نازل ہوئی ، راوی کہتا ہے قوم کو نصیحت کی گئی جو کرنا تھی، ابن رافع نے اپنی روایت میں اس آیت کا ذکر کیا ہے (ترجمہ: اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی ﷺ کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے، تو وہ لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا)۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ - وَفِى رِوَايَةِ أَبِى كَامِلٍ سَمِعْتُ أَنَسًا - قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ - وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ عَلَى شَىْءٍ - مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً.
It was narrated that Anas said: "I did not see the Messenger of Allah (s.a.w) give a wedding feast for any of his wives like the feast he gave for Zainab, for which he slaughtered a sheep."
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو کسی زوجہ کے نکاح پر ایسا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح حضرت زینب کے نکاح پر ولیمہ کیا تھا،کیونکہ آپﷺنے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِى رَوَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ. فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِىُّ بِمَا أَوْلَمَ قَالَ أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ.
It was narrated that 'Abdul-'Aziz bin Suhaib said: "I heard Anas bin Malik say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) did not give a wedding feast for any of his wives greater or better than the feast he gave for Zainab." Thabit Al-Bunani said: "What did he give them?" He said: "He gave them bread and meat, until they had eaten their fill."
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے کسی زوجہ کے نکاح پر ایسا عمدہ ولیمہ نہیں کیا جو حضرت زینب کے نکاح پر کیاتھا،ثابت البنانی نے کہا آپ ﷺنے کس چیز کے ساتھ ولیمہ کیا؟ راوی نے کہا :آپ ﷺنے لوگوں کوروٹی کھلائی ، اور گوشت کھلایا یہاں تک کہ انہوں نے (سیر ہوکر) چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى كُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَبِيبٍ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ - قَالَ - فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ. زَادَ عَاصِمٌ وَابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى فِى حَدِيثِهِمَا قَالَ فَقَعَدَ ثَلاَثَةٌ وَإِنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- جَاءَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا - قَالَ - فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا - قَالَ - فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِى وَبَيْنَهُ - قَالَ - وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ) إِلَى قَوْلِهِ (إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا ).
It was narrated that Anas bin Malik said: "When the Prophet (s.a.w) married Zainab bint Jahsh, he invited the people and they ate, then they sat and talked. He made a move as if to stand up, but they did not get up. When he saw that, he got up, and when he got up, some of the people got up and left." 'Asim and Ibn 'Abdul-A'la added in their Hadith: "Three men remained sitting, and when the Prophet (s.a.w) came to enter the apartment, they were still sitting there, then they got up and left. I came and told the Prophet (s.a.w) that they had left, so he came and went in. I went to go in as well, but he drew the curtain between myself and himself, and Allah, [the Mighty and Sublime] revealed: O you who believe! Enter not the Prophet's houses, unless permission is given to you for a meal, (and then) not (so early as) to wait for its preparation. up to His saying: Verily, with Allah that shall be an enormity."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺنے زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کی تو لوگوں کو بلاکر کھانا کھلایا ،انہوں نے کھایا پھر باتیں کرنے بیٹھ گئے ، رسول اللہ ﷺاٹھنے کے لیے تیار ہوئے مگر وہ پھر بھی نہ اٹھے ،جب آپﷺنے یہ صورت حال دیکھی تو کھڑے ہوئے ، جب آپﷺکھڑے ہوئے تو لوگوں میں سے جنہوں نے اٹھنا تھا وہ کھڑے ہوگئے ۔عاصم اور ابن عبدالاعلی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے تین آدمی بیٹھے رہے نبی ﷺتشریف لائے تاکہ داخل ہوں دیکھا تو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں پھر وہ لوگ کھڑے ہوئے اور چلے گئے، میں نے حاضر ہوکرنبی ﷺ کو خبر دی کہ وہ جا چکے ہیں آپ ﷺتشریف لائے اور حجرہ میں داخل ہوئے میں نے بھی داخل ہونا چاہا تو آپ ﷺنے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل کی، (ترجمہ: اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی ﷺ کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے، تو وہ لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔۔۔) آخر آیت تک۔
وَحَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ لَقَدْ كَانَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِى عَنْهُ. قَالَ أَنَسٌ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ - قَالَ - وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَمَشَى فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا فَضَرَبَ بَيْنِى وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ.
Anas bin Malik said: "I am the most knowledgeable of the people concerning Hijab. Ubayy bin Ka'b used to ask me about it." Anas said: "The day after the Messenger of Allah (s.a.w) married Zainab bint Jahsh, whom he married in Al-Madinah, he invited the people to come and eat in the mid-morning. The Messenger of Allah (s.a.w) sat and some men sat with him after the people had left. Then the Messenger of Allah ~ got up and walked, and I walked with him, until he reached the door of 'Aishah's apartment. Then he thought that they had left, so he went back, and I went back with him, and they were still sitting there. Then he went back to 'Aishah's door a second time, and I went with him, then he went back and I went back, and they had left. Then he drew the curtain between myself and himself, and the verse of Hijab was revealed."
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں حجاب کے بارے میں اور لوگوں سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مجھ سے حجاب کے بارے میں پوچھتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے صبح اس حال میں کی کہ آپﷺنے حضرت زینب سے شادی کی ہوئی تھی،اور آپﷺنے شادی ان سے مدینہ میں کی تھی اور دن چڑھنے کے بعد لوگوں کو کھانے کی دعوت دی۔رسول اللہ ﷺبیٹھ گئے اور چند آدمی لوگوں کے جانے کے بعد بھی بیٹھ گئے ،پھر رسول اللہ ﷺچلنے کے لیے اٹھے میں بھی آپﷺکے ساتھ چل پڑا، آپﷺحضرت عائشہ کے حجرے تک گئے ، پھر خیال فرمایا شاید کہ لوگ چلے گئے ہوں گے ، آپ واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا ،وہ لوگ اس وقت بھی اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے ، آپﷺپھر واپس چل پڑے،میں بھی واپس ہوا ،اور آپﷺدوبارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے تک گئے اس کے بعد پھر آپﷺلوٹے ، میں بھی آپﷺکے ساتھ لوٹا،اس بار وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ،پھر آپﷺنے میرے اور اپنے درمیان حجاب ڈال دیا اوراللہ تعالیٰ نے آیت حجاب نازل کی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ - يَعْنِى ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنِ الْجَعْدِ أَبِى عُثْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ - قَالَ - فَصَنَعَتْ أُمِّى أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِى تَوْرٍ فَقَالَتْ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْ بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّى وَهْىَ تُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ - قَالَ - فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّى تُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ « ضَعْهُ - ثُمَّ قَالَ - اذْهَبْ فَادْعُ لِى فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا وَمَنْ لَقِيتَ ». وَسَمَّى رِجَالاً - قَالَ - فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ. قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ عَدَدَ كَمْ كَانُوا قَالَ زُهَاءَ ثَلاَثِمِائَةٍ. وَقَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا أَنَسُ هَاتِ التَّوْرَ ». قَالَ فَدَخَلُوا حَتَّى امْتَلأَتِ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ وَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ ». قَالَ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا - قَالَ - فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ. فَقَالَ لِى « يَا أَنَسُ ارْفَعْ ». قَالَ فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِى حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ - قَالَ - وَجَلَسَ طَوَائِفُ مِنْهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فِى بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ فَثَقُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ رَجَعَ ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ - قَالَ - فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى أَرْخَى السِّتْرَ وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِى الْحُجْرَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَىَّ. وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِى النَّبِىَّ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ. قَالَ الْجَعْدُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الآيَاتِ وَحُجِبْنَ نِسَاءُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated that Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) got married, then entered with his wife. My mother Umm Sulaim made some lfais and put it in a stone vessel, then she said: 'O Anas, take this to the Messenger of Allah (s.a.w) and say: "My mother has sent this to you, and she sends greetings of Salam to you," and tell him she says: "This is a small gift to you from us, O Messenger of Allah."' So I took it to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: 'My mother sends greetings of Salam to you and she says: "This is a small gift to you from us, O Messenger of Allah."' He said: 'Put it down.' Then he said: 'Go and invite so-and-so for me, and whomever you meet,' and he mentioned some men by name. I invited those whom he had named, and whoever else I met." He (the narrator) said: "I said to Anas: 'How many were they?' He said: 'Around three hundred."' And the Messenger of Allah (s.a.w) said to me: "O Anas, bring the stone vessel." They came in until they filled the courtyard and the apartment. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Let them make circles of ten, and let each man eat from what is nearest to him." Groups came one after another and they all ate until they were full, then he said to me: "O Anas, clear it away." I picked it up, and I do not know whether it held more when I put it down or when I picked it up. Some of them sat talking in the house of the Messenger of Allah (s.a.w), and the Messenger of Allah (s.a.w) was sitting there, and his wife had her face turned towards the wall. They were bothering the Messenger of Allah (s.a.w), so the Messenger of Allah (s.a.w) went out and greeted his wives, then he came back. When they saw that the Messenger of Allah (s.a.w) had come back, they realized that they were bothering him. So they all rushed to the door and left. The Messenger of Allah (s.a.w) came and hung up a curtain and went in, and I was sitting in the apartment. It was not long before he came out to me, and this verse had been revealed. The Messenger of Allah (s.a.w) went out and recited it to the people: "O you who believe! Enter not the Prophet's houses, unless permission is given to you for a meal, (and then) not (so early as) to wait for its preparation. But when you are invited, enter, and when you have taken your meal, disperse without sitting for a talk. Verily, such (behaviour) annoys the Prophet" Al-Ja'd said: "Anas bin Malik said: 'I was the first among the people to hear these verses, and the wives of the Prophet (s.a.w) observed Hijab."'
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے شادی کی اور اپنی زوجہ مطہرہ کے پاس گئے ، میری والدہ ام سلیم نے حیس (کجھور ، ستو، اور گھی پر مشتمل کھانا) بنایا، اور اسے ایک طباق (برتن) میں ڈال کر فرمایا: اے انس! یہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں لے جاؤ ، اور جاکر عرض کرنا کہ اس کو میری ماں نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے اور وہ آپ کو سلام عرض کررہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ یہ ہماری طرف سے آپ کی خدمت میں ایک مختصر سا نذرانہ ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں وہ کھانا لیکر آپﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میری ماں آپ کو سلام عرض کررہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ یہ آپ کے لیے تھوڑا سا نذرانہ ہے ۔ آپﷺنے فرمایا: اس کو رکھ دو ، پھر آپﷺنے فرمایا: جاؤ فلاں فلاں کو بلاؤ، اور جو تم کو ملیں ان کو بھی اور چند لوگوں کا نام لیا ، جن لوگوں کا نام آپ ﷺنے لیا میں نے انہیں بلایا اور ان کو بھی جو مجھے ملے ۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ان لوگوں کی کتنی تعداد تھی ؟ انہوں نے کہا: اندازا تین سو آدمی تھے ، پھر رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا: اے انس ! وہ طباق لے آؤ، پھر وہ لوگ اندر آئے یہاں تک کہ چبوترہ اور کمرہ بھر گیا ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: دس دس آدمی ایک حلقہ بنالیں اور ہر آدمی اپنے آگے سے کھائے ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے اس قدر کھایا کہ وہ سیر ہوگئے ، ایک جماعت کھاکر جاتی تو دوسری جماعت آجاتی ، جب سب لوگ کھا چکے تو آپ ﷺنے فرمایا : اے انس ! اس برتن کو اٹھاؤ، میں نے اس برتن کو اٹھایا تو میں فیصلہ نہیں کرسکا کہ جس وقت میں نے یہ برتن رکھا تھا اس وقت اس میں کھانا زیادہ تھا یا جس وقت اس کو اٹھایا اس وقت اس میں کھانا زیادہ تھا۔بعض لوگوں نے (کھانے کے بعد)رسول اللہ ﷺکے گھر میں بیٹھ کر باتیں کرنی شروع کردیں اس حال میں کہ آپﷺخود تشریف فرما تھے اور آپﷺکی زوجہ مطہرہ دیوار کی طرف چہرہ کیے ہوئے بیٹھی تھیں۔ان لوگوں کا بیٹھنا رسول اللہﷺپر گراں گزررہا تھا، رسول اللہ ﷺگھر سے باہر نکلے ، اپنی ازواج مطہرات کو سلام کیا اور واپس آئے ، جب ان لوگوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺواپس لوٹ آئے ہیں تب انہوں نے سوچا کہ یہاں بیٹھنا رسول اللہﷺپر گراں گزررہا ہے وہ سب جلدی سے دروازے کی طرف بڑھے اور چلے گئے ،رسول اللہ ﷺتشریف لائے اور آپﷺنے پردہ گرادیا،اور داخل ہوگئے اور میں حجرہ میں بیٹھا ہوا تھا ، آپﷺتھوڑی دیر ٹھہرے اور پھر میرے پاس آئے اس حال میں کہ آپﷺکے اوپر یہ آیت نازل ہوئی تھی،کہ ''اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبیﷺ کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کےلئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے (تو) جاؤ اور جب (کھانا) کھا چکو تو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو۔ نبیﷺ کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے۔ وہ تو لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔'' آخر آیت تک۔ (الاحزاب : 53)۔ (راوی حدیث) جعد نے کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سب سے پہلے یہ آیتیں میں نے سنی ہیں اور رسول اللہ ﷺکی ازواج مطہرات پردہ میں رہنے لگیں۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِى عُثْمَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- زَيْنَبَ أَهْدَتْ لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِى تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَقَالَ أَنَسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اذْهَبْ فَادْعُ لِى مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ». فَدَعَوْتُ لَهُ مَنْ لَقِيتُ فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ وَوَضَعَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ فَدَعَا فِيهِ وَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلاَّ دَعَوْتُهُ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا وَبَقِىَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ فَجَعَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَسْتَحْيِى مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِى الْبَيْتِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ) قَالَ قَتَادَةُ غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ طَعَامًا وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّى بَلَغَ (ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ)
It was narrated that Anas said: "When the Prophet (s.a.w) married Zainab, Umm Sulaim gave him a gift of some Hais in a stone vessel. "Anas said: "The Prophet (s.a.w) said: 'Go and invite for me whoever you meet of the Muslims.' So I invited for him whomever I met. They started coming in, eating, and leaving, and the Prophet (s,a.w) kept his hand on that food and prayed for blessing for it, saying whatever Allah willed he should say. I did not leave anyone whom I met but I invited him, and they ate their fill and left, but a few of them stayed behind and chatted at length. The Prophet (s.a.w) felt too shy to say anything to them, so he went out and left them in the house. Then Allah [Most High] revealed the words: "O you who believe! Enter not the Prophet's houses, unless permission is given to you for a meal, (and then) not (so early as) to wait for its preparation." - Qatadah said: "Not waiting for the time for food.'' - "But when you are invited, enter" until he reached "that is purer for your hearts and for their hearts.''
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو حضرت ام سلیم نے آپﷺکے لیے ایک طباق میں حیس (ستو، گھی،اور کجھور سے بنایا ہوا کھانا) بھیجا، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جاؤ اور مسلمانوں میں سے جو تمہیں ملے انہیں بلاؤ ، چنانچہ مجھے جو ملا میں نے اس کو بلایا ، وہ لوگ گھر میں داخل ہوتے ، کھانا کھاتے اور نکل جاتے ،نبی ﷺنے کھانے پر ہاتھ مبارک رکھا اور دعا فرمائی جو اللہ کو منظور تھا وہ کلمات آپﷺنے دعا میں کہے ، مجھے جو شخص بھی ملا اس کو لے آیا تھا ، ان سب نے سیر ہوکر کھانا کھایا اور چلے گئے ، چند لوگ بیٹھے رہے اور انہوں نے لمبی باتیں شروع کردیں ، نبی ﷺانہیں شرم کے مارے کچھ نہ کہہ سکے ، آپﷺگھر سے باہر گئے وہ وہیں بیٹھے رہیں ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:
اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبیﷺ کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کےلئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے (تو) جاؤ اور جب (کھانا) کھا چکو تو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو۔ نبیﷺ کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے۔ وہ تو لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا ۔۔۔ آخر آیت تک۔ (الاحزاب)
16. باب الأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا دُعِىَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا ».
It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If one of you is invited to a feast, let him accept.'"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ولیمہ میں بلایا جائے تو اس کو چاہیے کہ ضرور جائے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا دُعِىَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيُجِبْ ». قَالَ خَالِدٌ فَإِذَا عُبَيْدُ اللَّهِ يُنَزِّلُهُ عَلَى الْعُرْسِ.
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "If one of you is invited to a feast, let him accept."
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ولیمہ میں بلایا جائے تو اس کوچاہیے کہ قبول کرے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا دُعِىَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ فَلْيُجِبْ ».
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "If one of you is invited to a wedding feast, let him accept."
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کوشادی کے ولیمہ میں بلایا جائے تو اس کوچاہیے کہ قبول کرے۔
حَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ ».
It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Accept the invitation when you are invited."'
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب تمہیں دعوت میں مدعو کیا جائے تو جایا کرو۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ ».
It was narrated from Nafi' that Ibn 'Umar used to say, narrating from the Prophet (s.a.w): "If one of you invites his brother, let him accept, whether it is for a wedding or something similar."
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی دعوت کرے تو اس کوچاہیے کہ قبول کرے خواہ وہ دعوت شادی کی ہو یا اس جیسی کسی اور تقریب کی ہو۔
وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِى عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِىُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ دُعِىَ إِلَى عُرْسٍ أَوْ نَحْوِهِ فَلْيُجِبْ ».
It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever is invited to a wedding and the like, let him accept."'
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص کو شادی یا اس جیسی کسی تقریب کی دعوت دی جائے تو اس کوچاہیے کہ قبول کرے۔
حَدَّثَنِى حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ ».
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Accept invitations if you are invited.'"
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تمہیں دعوت دی جائے تو اس میں جاؤ۔
وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا ». قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَأْتِى الدَّعْوَةَ فِى الْعُرْسِ وَغَيْرِ الْعُرْسِ وَيَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ.
It was narrated that Nafi' said: 'I heard 'Abdullah bin 'Umar say: 'Accept this invitation if you are invited.'" He said: "And 'Abdullah used to accept invitations to weddings and other events, and he would come even if he was fasting.''
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: دعوت قبول کرو جب تمہیں اس کے لیے مدعو کیا جائے ۔ اور عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ شادی وغیرہ کی دعوت میں چلے جاتے تھے باوجود یہ کہ وہ روزے دار ہوتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ فَأَجِيبُوا ».
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "If you are invited to (a meal of) a sheep's foot, accept it."
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر تمہیں بکری کے پائے کی بھی دعوت دی جائے تو اس کو ضرور قبول کرو۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا دُعِىَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ ». وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى « إِلَى طَعَامٍ ».
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If one of you is invited to a feast, let him respond, then if he wishes he may eat and if he wishes he may refrain."' And Ibn Al-Muthanna (a narrator) did not mention the words "to a feast."
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ ضرور اس کو قبول کرے، چاہیے کھائے یا نہ کھائے۔ابن المثنی نے ”الی طعام“ کا ذکر نہیں کیا۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. بِمِثْلِهِ.
A similar report (as no. 3518) was narrated from Abu Az-Zubair with this chain.
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا دُعِىَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If one of you is invited let him respond; if he is fasting let him pray (for the people), and if he is not fasting let him eat."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو ضرور قبول کرے ، اگر روزہ دار ہوتو دعا کرے اور اگر نہ ہو تو کھالے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهِ الأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ فَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
It was narrated from Abu Hurairah that he used to say: "The worst of food is the food of a (wedding) feast to which the rich are invited and the poor are ignored. Whoever does not accept an invitation has disobeyed Allah and His Messenger."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے جس میں امیروں کو بلایا جاتا ہے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے ، اور جو دعوت میں نہیں گیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِىِّ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الأَغْنِيَاءِ فَضَحِكَ فَقَالَ لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الأَغْنِيَاءِ. قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ أَبِى غَنِيًّا فَأَفْزَعَنِى هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِىَّ فَقَالَ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ. ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
Sufyan said: "I said to Az-Zuhri: '0 Abu Bakr, what does this Hadith mean - "The worst of food is the food of the rich?" He laughed and said: It is not: 'The worst of food is the food of the rich."' Sufyan said: "My father was rich, and this Hadith troubled me when I heard it, so I asked Az-Zuhri about it. He said: ''Abdur Rahrman Al-A'raj told me that he heard Abu Hurairah say: "The worst of food is the food of a (wedding) feast..." then he quoted a Hadith like that of Malik (no. 3521)."'
سفیان کہتےہیں کہ میں نے زہری سے پوچھا : یہ حدیث کس طرح ہے کہ بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے ؟ وہ ہنس پڑے، پھر انہوں نے کہا : اس طرح نہیں ہے کہ بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے ، سفیان کہتے ہیں کہ میرا باپ امیر تھا اس لیے مجھے اس حدیث سے پریشانی رہتی تھی جب میں نے زہری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے، پھر باقی حدیث اسی طرح بیان کی
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ. نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ.
was narrated that Abu Hurairah said: "The worst of food is the food of a (wedding) feast..." a Hadith like that of Malik (no. 3521).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے ، اس کے بعد مالک کے حدیث کی طرح ہے۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ. نَحْوَ ذَلِكَ.
A similar report (as no. 3521) was narrated from Abu Hurairah.
ایک اور سند سے بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الأَعْرَجَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "The worst of food is the food of a feast from which those who come to it are turned away and those who refuse to come are invited to it. Whoever does not accept an invitation has disobeyed Allah and His Messenger."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے جس میں جو آنا چاہتا ہے اسے روک دیا جاتا ہے اور جو نہیں آنا چاہتا ہے اس سے بلایا جاتا ہے ، اور جس نے دعوت قبول نہیں کی اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کی۔
17. بابُ لاَ تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلاَثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ وَيَطَأَهَا ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِي عِدَّتُهَا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِى فَبَتَّ طَلاَقِى فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِى إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِى عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ ». قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ وَخَالِدٌ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى يَا أَبَا بَكْرٍ أَلاَ تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated that 'Aishah said: "The wife of Rifa'ah came to the Prophet (s.a.w) and said: 'I was married to Rifa'ah, then he divorced me and made the divorce irrevocable. Then I married 'Abdur-Rahman bin Az-Zubair, and what he has is like the edge of a garment.' The Messenger of Allah (s.a.w) smiled and said: 'Do you want to go back to Rifa'ah? No, not until you taste his ('Abdur-Rahman's) sweetness and he tastes your sweetness.'" She said: "And Abu Bakr was with him, and Khalid was at the door, waiting to be given permission to enter. He called out: 'O Abu Bakr, do you not hear what this woman dares to say in the presence of the Messenger of Allah (s.a.w)?"'
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نےرسول اللہ ﷺکے پاس آکر عرض کیا : میں رفاعہ کے نکاح میں تھی ، انہوں نے مجھے طلاق بتہ(طلاق مغلظہ) دے دی ، میں نے عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی او ران کے پاس تو صرف کپڑے کے پلو کی طرح تھا (یعنی وہ نامرد تھا) رسول اللہ ﷺنے مسکراکر فرمایا: کیا تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو، نہیں ! یہ نہیں ہوسکتا ، جب تک کہ تم ان کی مٹھاس نہ چکھ لو اوروہ تمہاری مٹھاس چکھ لیں،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابوبکر آپﷺکے پاس تھے اور خالد بن سعید دروازے پر اجازت کے منتظر تھے ، انہوں نے پکارکر کہا: اے ابو بکر!کیا آپ نہیں سن رہے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺکے پاس کیسی باتیں کررہی ہیں۔
حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِىَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلاَقَهَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ فَجَاءَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلاَّ مِثْلُ الْهُدْبَةِ وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا.
قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ضَاحِكًا فَقَالَ « لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِى إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِى عُسَيْلَتَهُ ». وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ قَالَ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِى أَبَا بَكْرٍ أَلاَ تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-
'Urwah bin Az-Zubair narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w), told him that Rifa'ah Al-Qurazi divorced his wife and made the divorce irrevocable, then after that she married 'Abdur-Rahman bin Az-Zubair. She came to the Prophet (s.a.w) and said: 'O Messenger of Allah, I was married to Rifa'ah, then he issued the last of three divorces to me. Then after that I married 'Abdur-Rahman bin Az-Zubair, and by Allah all he has is like the edge (of a garment)' - and she held up the edge of her Jilbab. The Messenger of Allah (s.a.w) smiled and said: 'Perhaps you want to go back to Rifa'ah? No, not until he ('Abdur-Rahman) tastes your sweetness and you taste his sweetness.' Abu Bakr As-Siddiq was sitting with the Messenger of Allah (s.a.w), and Khalid bin Sa'eed bin Al-'As was sitting at the door of the apartment, and had not been given permission to enter. Khalid called out to Abu Bakr: 'Will you not rebuke this woman for what she dares to say in the presence of the Messenger of Allah (s.a.w)?"'
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دے دی ، انہوں نے اس کے بعد حضرت عبد الرحمن بن زبیر سے شادی کرلی، پھر وہ آپﷺکے پاس آئی اور عرض کرنے لگی : اے اللہ کے رسول ﷺ!میں رفاعہ کے عقد میں تھی انہوں نے مجھے تین طلاقیں دے دی ، میں نے اس کے بعد عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی،اللہ کی قسم! انہوں نے چادر کا پلو پکڑکرکہا: ان کے پاس تو صرف کپڑے کے پلو کی طرح ہے ، رسول اللہ ﷺمسکرائے ، پھر فرمایا: شاید تم دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو ، نہیں ! جب تک کہ تم ان کی مٹھاس نہ چکھ لو اوروہ تمہاری مٹھاس چکھ لیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خالدبن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ حجرے کے دروازے پر اجازت کے منتظر تھے ان کو اجازت نہیں ملی ، پھر خالد نے پکار کر کہا : اے ابوبکر ! تم اس عورت کو ڈانٹتے کیوں نہیں یہ رسول اللہ ﷺکے سامنے کیا کہہ رہی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِىَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ فَجَاءَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ. بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.
It was narrated from 'Aishah that Rifa'ah Al-Qurazi divorced his wife, then she married 'Abdur-Rahman bin Az-Zubair. She came to the Prophet (s.a.w) and said: 'O Messenger of Allah, Rifa'ah issued the last of three divorces ..."' a Hadith like that of Yunus (no. 3527).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ، ان سے عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ نے شادی کرلی ،وہ نبی ﷺکے پاس آئی اور کہنے لگی : یارسول اللہ)!حضرت رفاعہ نے مجھے آخری تین طلاقین دے دیں۔ اس کے بعد یونس کے حدیث کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُطَلِّقُهَا فَتَتَزَوَّجُ رَجُلاً فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الأَوَّلِ قَالَ « لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا ».
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) was asked about a woman who got married to a man, then he divorced her, then another man married her, and divorced her before consummating the marriage - is it permissible for her to go back to her first husband? He said: 'No, not until he (the second husband) has tasted her sweetness."'
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے یہ سوال کیا گیا کہ ایک عورت سے کوئی آدمی شادی کرتا ہے پھر وہ اس کو طلاق دیتا ہے ،پھر اس نے دوسرے آدمی سے شادی کرلی ، اور اس نے عمل ازدواج سے قبل اس کو طلاق دے دی ، کیا وہ اب پہلے شوہر کے لیے حلال ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: نہیں، جب تک کہ وہ اس کی مٹھاس چکھ نہ لے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Hisham with this chain (a Hadith similar to no. 3529).
ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَأَرَادَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ « لاَ حَتَّى يَذُوقَ الآخِرُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا مَا ذَاقَ الأَوَّلُ ».
It was narrated that 'Aishah said: "A man divorced his wife three times, then another man married her and divorced her before consummating the marriage with her. Her first husband wanted to remarry her, and the Prophet (s.a.w) was asked ,about that. He said: 'No, not until the second husband tastes of her sweetness what the first one tasted."'
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ، پھر اس سے کسی آدمی نے شادی کرلی ، اور اس نے عمل ازدواج سے قبل ہی اس کو طلاق دے دی ،اور اس کا پہلا خاوند پھر اس سے شادی کرنا چاہتاہے ، رسول اللہ ﷺسے یہ مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپﷺنے فرمایا: نہیں ! یہاں تک کہ دوسرا شوہر اس مٹھاس کو چک نہ لیں جو پہلے شوہر نے چکھی تھی۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِى ابْنَ سَعِيدٍ - جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ. وَفِى حَدِيثِ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ.
A similar report (as no. 3531) was narrated with this Hadith from 'Ubaidullah .
ایک اورسند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح منقول ہے۔
18. بابُ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَقُولَهُ عِنْدَ الْجِمَاعِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِىَ أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِى ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا ».
It was narrated that Ibn 'Abbas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If one of you says, when he wants to have intercourse with his wife, "Bismillah, Allahumma! Jannibnash-Shaitan wa jannibish Shaitana ma razaqtana. (In the name of Allah, O Allah, keep the Shaitan away from us and keep the Shaitan away from that with which You provide us,' then if it is decreed that they should have a child from that, the Shaitan will never harm him."
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر تم میں کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرنے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے بسم اللہ اللہم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا اللہ کے نام سے ، اے اللہ ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ اور جو ہمیں دے اس کو بھی شیطان سے محفوظ رکھ ،اگر ان کے لیے کوئی بچہ مقدر ہوگیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ہمیشہ شیطان کے ضرر سے محفوظ رکھے گا۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنِ الثَّوْرِىِّ كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ شُعْبَةَ لَيْسَ فِى حَدِيثِهِ ذِكْرُ « بِاسْمِ اللَّهِ ». وَفِى رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِىِّ « بِاسْمِ اللَّهِ ». وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ مَنْصُورٌ أُرَاهُ قَالَ « بِاسْمِ اللَّهِ ».
A Hadith similar to that of Jarir (no. 3533) was narrated from Mansur, except that in the Hadith of Shu'bah it does not mention the words "In the name of Allah." In the report of 'Abdur-Razzaq from Ath-Thawri it does say "In the name of Allah." In the report of Ibn Numair, Mansur said: "I think he said: 'In the name of Allah."'
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
19. بابُ جَوَازِ جِمَاعِهِ امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا مِنْ قُدَّامِهَا وَمِنْ وَرَائِهَا مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلدُّبُرِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابرًا يَقُولُ كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِى قُبُلِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ فَنَزَلَتْ ( نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ)
Jabir said: "The Jews used to say that if a man had intercourse with a woman from the back, in the vagina, the child would have a squint. Then the following was revealed: 'Your wives are a tilth for you, so go to your tilth, when or how you will ..."'
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود یہ کہتے تھے کہ جب کوئی آدمی اپنی بیوی سے پیچھے سے آگے میں جماع کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ترجمہ : تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تم اپنی کھیتوں میں جس طرف سے چاہو آسکتے ہو۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ يَهُودَ كَانَتْ تَقُولُ إِذَا أُتِيَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ دُبُرِهَا فِى قُبُلِهَا ثُمَّ حَمَلَتْ كَانَ وَلَدُهَا أَحْوَلَ. قَالَ فَأُنْزِلَتْ (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ)
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Jews used to say: "If a man has intercourse with a woman in her vagina from the back, then she gets pregnant, her child will have a squint." Then the following was revealed: "Your wives are a tilth for you, so go to your tilth, when or how you will..."
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود یہ کہتے تھے کہ جب کوئی آدمی اپنی بیوی سے پشت کی جانب سے آگے میں جماع کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتاہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ترجمہ : تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تم اپنی کھیتوں میں جس طرف سے چاہو آسکتے ہو۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّى عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِى وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِىُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِى قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِىِّ ح وَحَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - وَهُوَ ابْنُ الْمُخْتَارِ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِى صَالِحٍ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِى حَدِيثِ النُّعْمَانِ عَنِ الزُّهْرِىِّ إِنْ شَاءَ مُجَبِّيَةً وَإِنْ شَاءَ غَيْرَ مُجَبِّيَةٍ غَيْرَ أَنَّ ذَلِكَ فِى صِمَامٍ وَاحِدٍ.
This Hadith was narrated from Jabir (a Hadith similar to no. 3536). The Hadith of An-Nu'man from Az-Zuhri adds: "...if he wishes, while she is lying on her front, and if he wishes while she is not lying on her front, so long as that is in only one opening."
چھ سندوں کے ساتھ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت ہے ، اس میں زہری نے یہ اضافہ کیا ہے کہ شوہر عورت کو الٹالٹائے یا سیدھا جماع آگے میں ہی ہونی چاہیے۔
20. بابُ تَحْرِيمِ امْتِنَاعِهَا مِنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ ».
It was narrated from Abu Zuhrah that the Prophet (s.a.w) said: "If a woman spends the night forsaking her husband's bed, the Angels will curse her until morning."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے خاوند سے الگ بستر پر رات گزارے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « حَتَّى تَرْجِعَ ».
Shu'bah narrated it with this chain (a Hadith similar to no. 3538) and said: "... until she goes back."
ایک اور سند سے بھی یہی مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ جب تک کہ وہ شوہر کے بستر پر واپس نہ جائے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ - يَعْنِى ابْنَ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلاَّ كَانَ الَّذِى فِى السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'By the One in Whose Hand is my soul, there is no man who calls his wife to his bed and she refuses, but the One Who is in heaven will be angry with her, until he is pleased with her."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ،کوئی آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاتا ہےتو وہ انکار کردیتی ہے اس سے اللہ تعالیٰ اس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک اس کا شوہر اس سے راضی نہ ہوجائے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ تَأْتِهِ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا لَعَنَتْهَا الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If a man calls his wife to his bed and she does not come to him, and he spends the night angry with her, the Angels will curse her until morning."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: اگر آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے تو آدمی اس پر ناراض ہوکر رات گزارے، تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں۔