- احادیثِ نبوی ﷺ

 

123

21. بابُ تَحْرِيمِ إِفْشَاءِ سِرِّ الْمَرْأَةِ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِىِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِى إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِى إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا ».

Abu Sa'eed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'One of the most evil people before Allah on the Day of Resurrection will be a man who is intimate with his wife and she is intimate with him, then he publicizes her secrets."'

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برترین شخص وہ ہوگا جو اپنی بیوی کے قریب جائے اور عورت اس کے قریب جائے ، پھر وہ اس کا راز افشاء کردے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِى إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِى إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا ». وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ « إِنَّ أَعْظَمَ ».

Abu Sa'eed Al-Kbudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The most serious breach of trust before Allah on the Day of Resurrection will be a man who is intimate with his wife and she is intimate with him, then he publicizes her secrets."'

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی عورت کے قریب جائے ، عورت اپنا جسم اس کے حوالے کردے اور پھر آدمی اس راز کو افشاء کردے۔

22. بابُ حُكْمِ الْعَزْلِ

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِى رَبِيعَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةَ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَذْكُرُ الْعَزْلَ فَقَالَ نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- غَزْوَةَ بَلْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ فَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِى الْفِدَاءِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَ أَظْهُرِنَا لاَ نَسْأَلُهُ. فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِىَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ سَتَكُونُ ».

It was narrated from Ibn Muhairiz that he said: "Abu Sirmah and I entered upon Abu Sa'eed Al-Kbudri, and Abu Sirmah asked him: 'Did you hear the Messenger of Allah (s.a.w) speak about 'Azl?' He said: 'Yes. We went on a campaign with the Messenger of Allah (s.a.w) to Banu Al-Mustaliq, and we captured some noble Arab women. We had been away from our wives for too long, but we also wanted the ransom, so we wanted to have intercourse with them then withdraw (coitus interruptus). Then we said: "How could we do this when the Messenger of Allah (s.a.w) is among us, and we have not asked him?:' So we asked the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: It does not matter if you do not do it, for Allah has not decreed that any soul will exist, until the Day of Resurrection, but it will come into being.'"

ابن محیریز بیان کرتے ہیں کہ میں اور ابو صرمہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔ابو صرمہ نے ابو سعید خدری سے پوچھا ، اے ابو سعید!کیا آپ نے رسول اللہ ﷺسے عزل کے بارے میں کچھ سنا ہے؟انہوں نے کہا: ہاں ،ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ غزوہ بنو مصطلق میں تھے ، ہم نے عرب کی معزز عورتوں کو قید کرلیاتھا،اور ہمیں عورتوں سے الگ ہوئے ایک لمبا عرصہ گزرا، ہم نے چاہا کہ مشرکین سے فدیہ لیکر ان عورتوں کو چھوڑدیں، اورہم نے یہ بھی چاہا کہ ہم عورتوں سے فائدہ بھی حاصل کریں اور عزل کرلیں، پھر ہم نے سوچا کہ ہم عزل کریں اور رسول اللہ ﷺہمارے درمیان موجود ہیں تو کیوں نہ آپ ﷺسے اس کا حکم معلوم کریں ۔ہم نے رسول اللہ ﷺسے پوچھا: تو آپﷺنے فرمایا:تمہیں عزل چھوڑنے پر کوئی نقصان نہیں ہوگا ،کیونکہ قیامت تک اللہ تعالیٰ نے جس کے پیدا ہونے کے بارے میں لکھ دیا ہے وہ پیدا ہوکر رہے گا۔ - (عزل کا معنی: انزال کے وقت عضو تناسل باہر نکالنا تاکہ حمل نہ ہو)۔


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ مَوْلَى بَنِى هَاشِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ فِى مَعْنَى حَدِيثِ رَبِيعَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ».

A Hadith similar to that of Rabi'ah (no. 3554) was narrated from Muhammad bin Yahya bin Habban with this chain, except that he said: "For Allah has decreed whom He is going to create until the Day of Resurrection.''

ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک جو کچھ پیدا کرنے والا ہے اس کو اس نے لکھ دیا ہے۔


حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِىُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا فَكُنَّا نَعْزِلُ ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَنَا « وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ هِىَ كَائِنَةٌ ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "We captured some female prisoners and we engaged in coitus interruptus, then we asked the Messenger of Allah (s.a.w) about that, and he said to us: 'Do you do that? Do you do that? Do you do that? There is no soul that is to exist, until the Day of Resurrection, but it will come into being.'"

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے ایک جنگ میں چند عورتیں قید کرلیں ،ہم ان سے عزل کرتے تھے ، پھر ہم نے رسول اللہ ﷺسے اس کے بارے میں پوچھا ، تو آپﷺنے فرمایا: تم ضرور ایسا کروگے ، تم ضرور ایسا کروگے ، تم ضرور ایسا کروگے ، قیامت تک جو روح پیدا ہونے والی ہوگی وہ ہرصورت میں پیدا ہوکر رہے گی۔


وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ الْجَهْضَمِىُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ نَعَمْ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ ».

It was narrated from Anas bin Sirin, from Ma'bad bin Sirin, from Abu Sa'eed Al-Khudri. He (one of the narrators) said: "I said to him: 'Did you hear it from Abu Sa'eed?' He said: 'Yes, from the Prophet (s.a.w) who said: It does not matter if you do not do it, for it is only he Divine Decree (that decides)."'

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: تمہیں عزل چھوڑنے میں کوئی نقصان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِى ابْنَ الْحَارِثِ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ وَبَهْزٌ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِهِمْ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فِى الْعَزْلِ « لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ ». وَفِى رِوَايَةِ بَهْزٍ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ نَعَمْ.

A similar report (as no. 3546) was narrated from Anas bin Sirin with this chain, except that in their Hadith it says: "From the Prophet (s.a.w) who said concerning 'Azl: 'It does not matter if you do not do it, for it is only the Divine Decree (that decides)."' According to the report of Bahz, Shu'bah said: "I said to him: 'Did you hear it from Abu Sa'eed?' He said: 'Yes."'

حضرت انس بن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے عزل کے بارے میں فرمایا: تمہیں عزل چھوڑنے میں کوئی نقصان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِى كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ رَدَّهُ إِلَى أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ سُئِلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ « لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ ». قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَوْلُهُ « لاَ عَلَيْكُمْ ». أَقْرَبُ إِلَى النَّهْىِ.

It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Bishr bin Mas'ud who attributed it to Abu Sa'eed Al-Khudri, who said: "The Prophet (s.a.w) was asked about 'Azl and he said: 'It does not matter if you do not do it, for it is only the Divine Decree (that decides)."' (One of the narrators) Muhammad said: "The words: 'It does not matter' are more likely to mean that it is not allowed."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺسے عزل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپﷺنے فرمایا: تمہیں عزل چھوڑنے میں کوئی نقصان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الأَنْصَارِىِّ. قَالَ فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « وَمَا ذَاكُمْ ». قَالُوا الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ. قَالَ « فَلاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ ». قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ.

Abu Sa'eed Al-Khudri said: "Mention of 'Azl was made in the presence of the Prophet (s.a.w) and he said: 'Why do you do that?' They said: 'A man may have a wife who is breastfeeding and he has intercourse with her, but he does not want her to become pregnant. And a man may have a slave woman and he has intercourse with her, but he does not want her to become pregnant.' He said: 'It does not matter if you do not do it, for it is only the Divine Decree (that decides)."' Ibn 'Awn said: "I narrated this to Al-Hasan, and he said: 'By Allah, it is as if it is a rebuke."'

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺکے سامنے عزل کا تذکرہ کیا گیا تو آپﷺنے فرمایا: تم عزل کیوں کرتے ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: کسی کے پاس دودھ پلانے والی عورت ہوتی ہے وہ اس سے مقاربت کرتا ہے تو اس کے حاملہ ہونے کو ناپسند کرتا ہے ۔ اسی طرح کسی کے پاس باندی ہوتی ہےوہ اس سے مقاربت کرتاہے اور وہ اس کے حاملہ ہونے کو ناپسند کرتا ہے ۔ آپﷺنے فرمایا:تمہیں عزل چھوڑنے میں کوئی نقصان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے یہ حدیث سن کر کہا: اللہ کی قسم ! اس میں عزل پر ناراضگی کا اظہار ہے۔


وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثْتُ مُحَمَّدًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ - يَعْنِى حَدِيثَ الْعَزْلِ - فَقَالَ إِيَّاىَ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ.

The Hadith of 'Abdur-Rahman bin Bishr (no. 3550) was narrated from Ibrahim, meaning, the Hadith about 'Azl. He said: "It was to me that 'Abdur-Rahman bin Bishr narrated it."

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْنَا لأَبِى سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَذْكُرُ فِى الْعَزْلِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ إِلَى قَوْلِهِ « الْقَدَرُ ».

It was narrated that Mab'ad bin Sirin said: "We said to Abu Sa'eed: 'Did you hear the Messenger of Allah (s.a.w) mention anything about 'Azl?' He said: 'Yes ..."' and he quoted a Hadith like that of Ibn 'Awn (no. 3550), as far as the words: "Divine Decree."

معبد بن سیرین کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺسے عزل کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ، اور بقیہ حدیث حسب سابق ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ - وَلَمْ يَقُلْ فَلاَ يَفْعَلْ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ - فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلاَّ اللَّهُ خَالِقُهَا ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "Mention of 'Azl was made to the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: 'Why would one of you do that?' - but he did not say, one of you should not do that - 'There is no soul that is meant to be created but Allah will definitely create it."'

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے سامنے عزل کا تذکرہ ہوا ، آپ ﷺنے فرمایا: تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ اور یہ نہیں فرمایا: کہ یہ نہ کرو ، کیونکہ جو نفس بھی پیدا ہونے والا ہے اس کو اللہ تعالیٰ پیدا کرکے رہے گا۔


حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مُعَاوِيَةُ - يَعْنِى ابْنَ صَالِحٍ - عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَبِى الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ سَمِعَهُ يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ « مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ خَلْقَ شَىْءٍ لَمْ يَمْنَعْهُ شَىْءٌ ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) was asked about 'Azl and he said: 'The child does not come from all the water; if Allah wants to create something nothing can prevent it."'

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے عزل کے بارے پوچھا گیا تو آپﷺنے فرمایا: ہر پانی سے بچہ پیدا نہیں ہوتا ، اور جب کسی چیز کو اللہ تعالیٰ پیدا کرنا چاہے تو اس کو کوئی چیز روک نہیں سکتی۔


حَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْبَصْرِىُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ أَخْبَرَنِى عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَلْحَةَ الْهَاشِمِىُّ عَنْ أَبِى الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 3554) was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri, from the Prophet (s.a.w).

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنَّ لِى جَارِيَةً هِىَ خَادِمُنَا وَسَانِيَتُنَا وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ. فَقَالَ « اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا ». فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ. فَقَالَ « قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا ».

It was narrated from Jabir that a man came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: "I have a slave woman who is our servant and brings water for us. I have intercourse with her, but I do not want her to become pregnant." He said: "Withdraw from her ('Azl) if you wish, but what has been decreed for her will come to her." Some time passed, then the man came to him and said that the slave woman had become pregnant. He said: "I told you that what had been decreed for her would come to her."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺکے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جوہمارے گھر کاکام کاج کرتی ہے اور پانی لاتی ہے اور میں اس کے پاس جاتا ہوں اوراس کے حاملہ ہونے کو ناپسند کرتا ہوں، آپﷺنے فرمایا: اگر تم چاہو تو تم اس سے عزل کرلو، لیکن جو تقدیر میں ہوگا وہ ہوکر رہے گا ،کچھ عرصہ بعد وہ آدمی آیا اور کہنے لگا : لونڈی حاملہ ہوگئی ہے۔آپﷺنے فرمایا: میں نے تمہیں بتایا تھا کہ جو تقدیر میں ہوگا وہ ہوکر رہے گا۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنَّ عِنْدِى جَارِيَةً لِى وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ ذَلِكَ لَنْ يَمْنَعَ شَيْئًا أَرَادَهُ اللَّهُ ». قَالَ فَجَاءَ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْجَارِيَةَ الَّتِى كُنْتُ ذَكَرْتُهَا لَكَ حَمَلَتْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ».

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "A man asked the Prophet (s.a.w): 'I have a slave woman and I withdraw from her ('Azl).' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'That does not prevent anything that Allah wills.' The man came (a second time) and said: 'O Messenger of Allah, the slave woman whom I mentioned to you has become pregnant.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'I am the slave of Allah and His Messenger.'"

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نےنبیﷺسے پوچھا میرے پاس ایک باندی ہے اور میں اس سے عزل کرتا ہوں، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یہ کام اس چیز کو روک نہیں سکتا جس کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہو،کچھ عرصہ بعد وہ آدمی آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ !جس باندی کا میں نے ذکر کیا تھا وہ حاملہ ہوگئ ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں۔


وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ قَاصُّ أَهْلِ مَكَّةَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ عَدِىِّ بْنِ الْخِيَارِ النَّوْفَلِىُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "A man came to the Prophet (s.a.w)..." a Hadith like that of Sufyan (no. 3557).

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے پاس ایک آدمی آیا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. زَادَ إِسْحَاقُ قَالَ سُفْيَانُ لَوْ كَانَ شَيْئًا يُنْهَى عَنْهُ لَنَهَانَا عَنْهُ الْقُرْآنُ.

It was narrated that Jabir said: "We used to engage in 'Azl (and) the Qur'an was being revealed." Ishaq added: "Sufyan said: 'If anything were to have forbidden it, we would have been forbidden it by the Qur'an."'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم عزل کرتےتھے اور قرآن مجید کو نزول بھی ہوتا تھا۔ سفیان نےکہا: کہ اگر عزل کرنا برا کام ہوتا تو قرآن ہمیں اس سے روک دیتا۔


وَحَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ لَقَدْ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

Jabir said: "We used to engage in 'Azl at the time of the Messenger of Allah(s.a.w)."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے زمانے میں عزل کرتے تھے ۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - يَعْنِى ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمْ يَنْهَنَا.

It was narrated that Jabir said: "We used to engage in 'Azl at the time of the Messenger of Allah (s.a.w). News of that reached the Messenger of Allah (s.a.w) and he did not forbid us to do it."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے زمانے میں عزل کرتے تھے ، نبی ﷺکو اس کی خبر پہنچتی تھی تو آپﷺہمیں اس سے منع نہیں فرماتے تھے۔

23. باب تَحْرِيمِ وَطْءِ الْحَامِلِ الْمَسْبِيَّةِ

وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ أَتَى بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ فَقَالَ « لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا ». فَقَالُوا نَعَمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ ».

It was narrated from Abu Ad-Darda' that the Prophet (s.a.w) passed by a heavily pregnant (captive) woman, at the door of a tent and he said: "Perhaps he (the owner) wants to have intercourse with her?" They said: "Yes." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "I was thinking of cursing him with a curse that would go to his grave with him. How can he make him his heir when that is not permissible for him? How can he make him his slave when that is not permissible for him?"

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے سامنے ایک ایسی عورت پیش کی گئی جس کا زمانہ ولات قریب تھا ، آپ ﷺنے فرمایا: شاید وہ آدمی اس سے جماع کرنا چاہتا تھا ، صحابہ نے عرض کیا : ہاں جی ۔آپﷺنے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے قبر تک ساتھ جائے ، وہ اس بچہ کا وارث کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ اس کی وراثت اس کے لیے حلال ہی نہیں ہے ،اس بچے کو کیسے غلام بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال ہی نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ فِى هَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Shu'bah with this chain (a Hadith similar to no. 3562).

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

24. بابُ جَوَازِ الْغِيلَةِ وَهِيَ وَطْءُ الْمُرْضِعِ وَكَرَاهَةِ الْعَزْلِ

وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلاَ يَضُرُّ أَوْلاَدَهُمْ ». قَالَ مُسْلِمٌ وَأَمَّا خَلَفٌ فَقَالَ عَنْ جُذَامَةَ الأَسَدِيَّةِ. وَالصَّحِيحُ مَا قَالَهُ يَحْيَى بِالدَّالِ.

It was narrated from Judamah bint Wahb Al-Asadiyyah that she heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "I was thinking of forbidding intercourse with a breastfeeding woman, until it occurred to me that the Romans and Persians do that and it does not harm their children."

حضرت جذامہ بنت وہب اسدیہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا کہ آپﷺفرماتے تھے : میں نے ارادہ کیا کہ میں دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنے کو منع کردوں ،پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس دودھ پلانے والی عورتوں کے ساتھ جماع کرتے ہیں اور ان کے بچوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى أَيُّوبَ حَدَّثَنِى أَبُو الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ قَالَتْ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ « لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ فَنَظَرْتُ فِى الرُّومِ وَفَارِسَ فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلاَدَهُمْ فَلاَ يَضُرُّ أَوْلاَدَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا ». ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِىُّ ». زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِى حَدِيثِهِ عَنِ الْمُقْرِئِ وَهْىَ (وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ)

It was narrated from 'Aishah that Judamah bint Wahb, the sister of 'Ukashah, said: "I came to the Messenger of Allah (s.a.w) along with some other people and he was saying: 'I was thinking of forbidding intercourse with a breastfeeding woman, then I looked at the Romans and Persians; they have intercourse with their wives during the breastfeeding period and their children are not harmed by that at all.' Then they asked him about 'Azl and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'It is a hidden form of burying alive."' Ubaidullah added in his Hadith from Al-Muqri': This is a reference to (the verse): "And when the female (infant) buried alive is questioned."

حضرت جذامہ بنت وہب ، عکاشہ کی بہن سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں میں چند آدمیوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس وقت آپﷺفرمارہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ دودھ پلانے والی عورتوں کے ساتھ جماع سے منع کروں ،پھر میں نے دیکھا کہ روم اور فارس والے تو دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرتے ہیں اور ا ن کے بچوں کو نقصان نہیں ہوتا ،پھر آپﷺسے عزل کے بارے میں سوال ہوا ، تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یہ حکما زندہ درگور کرنا ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِى أَيُّوبَ فِى الْعَزْلِ وَالْغِيلَةِ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « الْغِيَالِ ».

It was narrated from 'Aishah that Judamah bint Wahb AI-Asadiyyah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ..." and he (the narrator) mentioned a Hadith like that of Sa'eed bin Abi Ayyub (no. 3565) about 'Azl and Ghilah.

حضرت جذامہ بنت وہب اسدیہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِىُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ حَدَّثَنِى عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ أَبِى وَقَّاصٍ أَنَّ رَجُلاً جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنِّى أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِى. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ ». فَقَالَ الرَّجُلُ أُشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا أَوْ عَلَى أَوْلاَدِهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْ كَانَ ذَلِكَ ضَارًّا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ ». وَقَالَ زُهَيْرٌ فِى رِوَايَتِهِ « إِنْ كَانَ لِذَلِكَ فَلاَ مَا ضَارَ ذَلِكَ فَارِسَ وَلاَ الرُّومَ ».

It was narrated from 'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas that Usamah bin Zaid told his father Sa'd bin Abi Waqqas that a man came to the Prophet (s.a.w) and said: "I withdraw ('Azl) from my wife." The Messenger of Allah (s.a.w) said to him: "Why do you do that?" The man said: "Out of compassion towards her child, or, her children." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "If that was harmful, it would have harmed the Persians and Romans." Zuhair said in his report: "If it is because of that, then no (do not do it), for that does not harm the Persians and Romans."

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا او رعرض کرنے لگا کہ میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کیوں ؟ اس نے کہا: گود کے بچے کے نقصان سے ایسا کرتا ہوں ، آپﷺنے فرمایا: اگر یہ کام نقصان دہ ہوتا تو اس سے روم اور فارس والوں کو نقصان ہوتا۔

123