31. باب فَتْحِ مَكَّةَ
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَذَلِكَ فِى رَمَضَانَ فَكَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ فَقُلْتُ أَلاَ أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى رَحْلِى فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِىِّ فَقُلْتُ الدَّعْوَةُ عِنْدِى اللَّيْلَةَ فَقَالَ سَبَقْتَنِى. قُلْتُ نَعَمْ. فَدَعَوْتُهُمْ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَلاَ أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ثُمَّ ذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ فَقَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الأُخْرَى وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِى وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى كَتِيبَةٍ - قَالَ - فَنَظَرَ فَرَآنِى فَقَالَ « أَبُو هُرَيْرَةَ ». قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ « لاَ يَأْتِينِى إِلاَّ أَنْصَارِىٌّ ». زَادَ غَيْرُ شَيْبَانَ فَقَالَ « اهْتِفْ لِى بِالأَنْصَارِ ». قَالَ فَأَطَافُوا بِهِ وَوَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا. فَقَالُوا نُقَدِّمُ هَؤُلاَءِ فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَىْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ. وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِى سُئِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ». ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ثُمَّ قَالَ « حَتَّى تُوَافُونِى بِالصَّفَا ». قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَمَا شَاءَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلاَّ قَتَلَهُ وَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا - قَالَ - فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لاَ قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ. ثُمَّ قَالَ « مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِى سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ». فَقَالَتِ الأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِى قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ.
قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَاءَ الْوَحْىُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ الْوَحْىُ لاَ يَخْفَى عَلَيْنَا فَإِذَا جَاءَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى يَنْقَضِىَ الْوَحْىُ فَلَمَّا انْقَضَى الْوَحْىُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ». قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِى قَرْيَتِهِ ». قَالُوا قَدْ كَانَ ذَاكَ. قَالَ « كَلاَّ إِنِّى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ». فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ وَيَقُولُونَ وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِى قُلْنَا إِلاَّ الضِّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ ». قَالَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى دَارِ أَبِى سُفْيَانَ وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ - قَالَ - وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى أَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ - قَالَ - فَأَتَى عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ - قَالَ - وَفِى يَدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعُنُهُ فِى عَيْنِهِ وَيَقُولُ « جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ». فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَى الصَّفَا فَعَلاَ عَلَيْهِ حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: Some delegations came to Mu'awiyah. (The sub-narrator said:) That was during Ramadan, and we used to make food for one another. Abu Hurairah was one of those who frequently invited us to his place. I said: Should I not make some food and invite them to my place? So I ordered that food be prepared, then I met Abu Hurairah in the afternoon and said: The invitation is at my place tonight. He said: Have you beaten me to it? I said: Yes, and I have invited them. Abu Hurairah said: Shall I not tell you one of your Ahadith, O Ansar? Then he mentioned the conquest of Makkah and said: The Messenger of Allah (s.a.w) came to Makkah, and he appointed Az-Zubair in charge of one flank of the army and Khalid in charge of the other, and he appointed Abu 'Ubaidah in charge of the troops that had no armour. They seized the bottom of the valley, and the Messenger of Allah (s.a.w) was in the midst of a large troop. He looked and saw me, and he said: "O Abu Hurairah!" I said: Here I am, O Messenger of Allah. He said: "Do not let anyone come to me but the Ansar." Someone other than Shayban added: He (s.a.w) said: "Call the Ansar to me," and they gathered around him. Quraish gathered together their followers from various tribes, and said: Let us send these people forward, and if any of them gets anything, we will be with them, but if anything happens to them, we will give what we are asked for. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Look at the followers of Quraish," then he gestured with his hands, one on top of the other. Then he said: "Until you meet me at As-Safa." So we set out, and not one of us wanted to kill a particular person but he killed him, and not one among them could offer any resistance. Abu Sufyan came and said: O Messenger of Allah, shedding the blood of Quraish has become permissible; there will be no more Quraish after today. Then he (s.a.w) said: "Whoever enters the house of Abu Sufyan will be safe." The Ansar said to one another: The man has been overtaken by love for his city and compassion towards his kinsmen. Abu Hurairah said: The Revelation came upon him, and when the Revelation came, it was obvious to us, and no one could raise his eyes to the Messenger of Allah (s.a.w) until the Revelation ceased. When the Revelation ceased, the Messenger of Allah (s.a.w) said: "O Ansar." They said: Here we are, O Messenger of Allah. He said: "Did you say: The man has been overtaken with love for his city?" They said: That is so. He said: "No. I am the slave of Allah and His Messenger. I emigrated for the sake of Allah and to you. I will live with you and I will die with you." They came to him weeping and said: By Allah, we only said what we said out of devotion to Allah and His Messenger (s.a.w). The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Allah and His Messenger affirm your sincerity and accept your apology." Then the people went to the house of Abu Sufyan, and the people locked their doors. The Messenger of Allah (s.a.w) came to the Black Stone and touched it, then he circumambulated the House. Then he came to an idol that was beside the House, that they used to worship. The Messenger of Allah (s.a.w) had a bow in his hand, and he took hold of the end of the bow, and when he came to the idol he poked it in the eyes and said: "Truth (i.e., Islamic Monotheism or this Qur'an or Jihad against polytheists) has come and Batil (falsehood, i.e. Satan or polytheism) has vanished" [Al-Isra' 17:81]. When he had completed his Tawaf he went to As-Safa and climbed up it, until he could see the House, and he raised his hands and started to praise Allah and supplicate him as He willed he should supplicate.
عبد اللہ بن رباح سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کہ رمضان المبارک میں کئی وفد حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اور ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں اکثر اپنے ٹھکانے پر بلاتے تھے میں نے کہا: کیا میں کھانا نہ پکاؤں اور پھر انہیں اپنے مکان پر آنے کی دعوت دوں تو میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر شام کے وقت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: آج رات میرے ہاں دعوت ہے انہوں نے کہا تم نے مجھ پر سبقت حاصل کرلی ہے میں نے کہا: جی ہاں میں نے انہیں دعوت دی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیا میں تمہیں تمہارے بارے میں حدیث نہ بتاؤں، پھر فتح مکہ کا ذکر کیا تو فرمایا: رسول اللہﷺ چل کر مکہ پہنچے اور دو اطراف میں سے ایک جانب آپﷺنے زبیر کو اور دوسری جانب خالد کو بھیجا اور ابوعبیدہ کو بے زرہ لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا وہ بطن الوادی سے گزرے اور رسول اللہﷺ لشکر کے ایک حصہ میں رہ گئےآپﷺنےنظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو فرمایا: ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! میں حاضر ہوں آپﷺ نے فرمایا: میرے پاس انصار کے علاوہ کوئی نہ آئے دوسری روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا انصار کو میرے پاس بلاؤ، پس وہ سب آپ ﷺ کے اردگرد جمع ہو گئے اور قریش نے بھی اپنے حمایتی اور متبعین کو اکٹھا کر لیا اور کہا ہم ان کو آگے بھیج دیتے ہیں اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہو جائیں گے اوراگر انہیں کچھ ہو گیا تو ہم سے جو کچھ مانگا جائے گا دے دیں گے رسول اللہﷺ نے فرمایا تم قریش کے حمایتیوں اور متبعین کو دیکھ رہے ہو، تو اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا اورتم مجھ سے کوہ صفا پر ملاقات کرنا ہم چل دیے اور ہم میں سے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا تو کر دیتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کر سکتا پس ابوسفیان نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! قریش کی سرداری ختم ہوگئی آج کے بعد کوئی قریشی باقی نہیں رہے گا پھر آپﷺ نے فرمایا: جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ امن میں رہے گا۔ انصار نے ایک دوسرے سے کہا: آپﷺ کو اپنے شہر کی محبت اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ نرمی غالب آ گئی ہے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا آپﷺ پر وحی آئی اور جب وحی آپﷺپر نازل ہوتی تھی تو ہم سے پوشیدہ نہیں رہتی ہے (یعنی ہمیں پتا چل جاتا تھا)
اور جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی تو کوئی بھی شخص رسول اللہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ وحی منقطع نہیں ہوجاتی ، پس جب وحی منقطع ہوگئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! انہوں نے کہا: لبیک یا رسول اللہﷺ! آپﷺ نے فرمایا: تم نے کہا ہے کہ اس شخص کو اپنے شہر کی محبت غالب آ گئی ہےانہوں نے عرض کیا واقعہ تو یہی ہوا تھا آپﷺ نے فرمایا: ہرگز نہیں، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہےاب میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور موت تمہاری موت کے ساتھ ہے پس وہ روتے ہوئے آپﷺ کی طرف بڑھے اور عرض کرنے لگے: اللہ کی قسم! ہم نے جو کچھ کہا: وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کی حرص میں کہا تھا رسول اللہﷺ نے فرمایا بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں پس لوگ ابوسفیان کے گھر کی طرف جانے لگے اور کچھ لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لئے رسول اللہﷺ روانہ ہو کر حجر اسود تک پہنچے اور اسے بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا کعبہ کے ایک کونہ میں موجود ایک بت کے پاس آئے جس کی وہ پوجا کرتے تھے اور رسول اللہﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک کمان تھی جس کا کونہ آپﷺ پکڑے ہوئے تھے جب بت کے پاس آئے تو آپ ﷺنے اس کی آنکھوں میں اس کمان کا کونہ چبھونا شروع کر دیا اور فرماتے تھے حق آ گیا اور باطل چلا گیا جب آپﷺ اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو کوہ صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھ کر بیت اللہ کی طرف نظر دوڑائی اور آپ نے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ کی حمد و ثناء شروع کر دی اور پھر جو چاہا اللہ سے مانگتے رہے۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى « احْصُدُوهُمْ حَصْدًا ». وَقَالَ فِى الْحَدِيثِ قَالُوا قُلْنَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « فَمَا اسْمِى إِذًا كَلاَّ إِنِّى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ».
Sulaiman bin Al-Mughirah narrated it with this chain ( a similar Hadith as no. 4622) and added: Then he gestured with his hands, one on top of the other: "Mow them down." And he said in the Hadith: They (i.e., the Ansar) said: We said that, O Messenger of Allah. He said: "What is my name then? Verily I am the slave of Allah and His Messenger."
یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھ کر فرمایا: ان کو کاٹ دو، اور ایک حدیث میں ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے یہ کہا ہے ۔ آپﷺنے فرمایا: میرا نام کیا ہے ؟ ہرگز نہیں ، میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسو ل ہوں ۔
حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِى سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَكَانَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لأَصْحَابِهِ فَكَانَتْ نَوْبَتِى فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الْيَوْمُ نَوْبَتِى. فَجَاءُوا إِلَى الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِكْ طَعَامُنَا فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَوْ حَدَّثْتَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى يُدْرِكَ طَعَامُنَا فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَى وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْبَيَاذِقَةِ وَبَطْنِ الْوَادِى فَقَالَ « يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ادْعُ لِى الأَنْصَارَ ». فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ فَقَالَ « يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ هَلْ تَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ ». قَالُوا نَعَمْ. قَالَ « انْظُرُوا إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ تَحْصِدُوهُمْ حَصْدًا ». وَأَخْفَى بِيَدِهِ وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ وَقَالَ « مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا ». قَالَ فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَنَامُوهُ - قَالَ - وَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الصَّفَا وَجَاءَتِ الأَنْصَارُ فَأَطَافُوا بِالصَّفَا فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لاَ قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِى سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلاَحَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ». فَقَالَتِ الأَنْصَارُ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِى قَرْيَتِهِ. وَنَزَلَ الْوَحْىُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِى قَرْيَتِهِ. أَلاَ فَمَا اسْمِى إِذًا - ثَلاَثَ مَرَّاتٍ - أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ». قَالُوا وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلاَّ ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ « فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ ».
It was narrated that 'Abdullah bin Rabah said: We came to Mu'awiyah bin Abi Sufyan, and Abu Hurairah was among us. Each man among us used to make food one day for his companions, and it was my turn. I said: O Abu Hurairah, today is my day.. They came to the place, but the food was not yet ready. I said: O Abu Hurairah, why don't you narrate to us something from the Messenger of Allah (s.a.w) until our food is ready? He said: We were with the Messenger of Allah (s.a.w) on the day of the conquest (of Makkah). He (s.a.w) put Khalid bin Al-Walid in charge of the right flank and Az-Zubair on the left, and he put Abu 'Ubaidah in charge of the foot soldiers who (were to advance to) the bottom of the valley. Then he said: "O Abu Hurairah, call the Ansar for me." So I called them and they came rushing. He said: "O Ansar, do you see the followers of Quraish?" They said: Yes. He said: "Look, when you meet them tomorrow, mow them down," and he gestured with his hand, placing his right hand on top of his left. And he said: "Meet us at As-Safa." And any of them whom they saw was killed. The Messenger of Allah (s.a.w) climbed up As-Safa, and the Ansar came and surrounded As-Safa. Abu Sufyan came and said : O Messenger of Allah, Quraish have perished; there will be no more Quraish after this day. Abu Sufyan said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever enters the house of Abu Sufyan will be safe. Whoever throws down his arms will be safe. Whoever locks his door will be safe." The Ansar s aid: The man has been overtaken by compassion for his tribe and love for his city. The Revelation came down to the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: "You said: The man has been overtaken by compassion for his tribe and love for his city . So what is my name then? (and he said it) - three times - I am Muhammad , the slave of Allah and His Messenger. I emigrated for the sake of Allah and to you, and I will live with you and die with you." They said: By Allah, we only said that out of devotion to Allah and His Messenger (s.a.w). The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Allah and His Messenger affirm your sincerity and accept your apology."
حضرت عبدالرحمن بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت معاویہ بن ابوسفیان کے پاس گئے اور ہم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے اور ہم میں سے ایک آدمی ایک دن اپنے ساتھیوں کے لئے کھانا پکاتا تھا میری باری تھی تو میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج میری باری ہے پس وہ گھر آ گئے لیکن کھانا ابھی تک تیار نہ ہوا تھا تو میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاش آپ ﷺہمیں کھانا تیار ہونے تک رسول اللہ کی کوئی حدیث بیان کر دیتے تو انہوں نے کہا فتح مکہ کے دن ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے آپ ﷺنے خالد بن ولید کو دائیں طرف لشکر پر اور زبیر کو بائیں طرف کے لشکر پر اور ابوعبیدہ کو پیدل لشکر پر امیر مقرر کر کے وادی کے اندر روانہ فرمایا پھر آپ ﷺنے فرمایا اے ابوہریرہ میرے پاس انصار کو بلاؤ میں نے انہیں بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے آپ ﷺنے فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم قریش کے کمی لوگوں کو دیکھ رہے ہو انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺنے فرمایا انہیں دیکھ لو جب کل تم ان سے مقابلہ کرو تو انہیں کھیتی کی طرح کاٹ دینا آپ ﷺنے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر اشارہ فرمایا اور فرمایا تمہارے ملنے کی جگہ صفا ہے اس دن ان کا جو شخص بھی انصار کو ملا اسے انصار نے سلا دیا(یعنی موت کے گھاٹ اتار دیا) اور رسول اللہ ﷺکوہ صفا پر چڑھے اور انصار نے حاضر ہو کر صفا کو گھیر لیا پس ابوسفیان نے حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! قریش کی تمام جماعتیں ختم ہو گئیں آج کے بعد کوئی قریشی نہ ہوگا ابوسفیان نے کہا کہ رسول اللہ نے اعلان فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اسے امن ہوگا اور جو ہتھیار ڈال دے وہ بھی مامون ہوگا اور جو اپنا دروازہ بند کر لے وہ بھی بحفاظت رہے گا انصار نے کہا ایسے آدمی ہیں جنہیں اپنے خاندان کے ساتھ نرمی اور اپنے وطن کی محبت پیدا ہوگئی ہے اور اللہ کے رسولﷺ پر وحی نازل ہوئی آپ ﷺنے فرمایا تم نے یہ کہا تھا کہ اس آدمی کو اپنے خاندان کے ساتھ نرمی کرنے اور اپنے وطن کی محبت پیدا ہوگئی ہے کیا تم جانتے ہو اس وقت میرا نام کیا ہوگا؟ آپ ﷺنے تین بار یہ فرمایا کہ میں محمد ہوں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے میرا جینا تمہارے ساتھ اور میرا مرنا بھی تمہارے ساتھ ہوگا انصار نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم نے یہ بات صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ محبت کی حرص میں ہی کی تھی آپ ﷺنے فرمایا بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔
32. باب إِزَالَةِ الأَصْنَامِ مِنْ حَوْلِ الْكَعْبَةِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِى شَيْبَةَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِى مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- مَكَّةَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلاَثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ « (جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا) (جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ) زَادَ ابْنُ أَبِى عُمَرَ يَوْمَ الْفَتْحِ.
It was narrated that 'Abdullah said: The Prophet (s.a.w) entered Makkah, and around the Ka'bah there were three hundred and sixty idols. He started poking them with a stick that was in his hand, saying: "Truth (i.e. Islamic Monotheism or this Qur'an or Jihad against polytheists) has come and Batil (falsehood, i.e. Satan or polytheism) has vanished. Surely, Batil is ever bound to vanish" [Al-Isra' 17:81] and ''Al-Haqq (the truth, i.e. the Qur'an and Allah's Revelation) has come, and Al-Batil [falsehood- Iblees (Satan)] can neither create anything nor resurrect (anything)" [Saba' 34:49]. Ibn 'Umar added: On the day of the conquest.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھےآپﷺنے اپنے ہاتھ میں موجود لکڑی سے انہیں چبھونا شروع کر دی اور فرما رہے تھے حق آ گیا اور باطل چلا گیا بے شک باطل جانے ہی والا ہے حق آ گیا اور باطل کسی چیز کو پیدا کرتا ہے اور نہ لوٹاتا ہے ابن ابی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فتح مکہ کے دن اضافہ کیا ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِىُّ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ زَهُوقًا. وَلَمْ يَذْكُرِ الآيَةَ الأُخْرَى وَقَالَ بَدَلَ نُصُبًا صَنَمًا.
It was narrated from Ibn Abi Najih with this chain (a Hadith similar to no. 4625), up to the word Zahuqan' (bound to vanish), and he did not mention the other Verse.
یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں "ذھوقا "کے بعد والی آیت نہیں ہے اور "نصب" کی جگہ صنم کا لفظ ہے۔
33. باب لاَ يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْفَتْحِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَوَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّاءَ عَنِ الشَّعْبِىِّ قَالَ أَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ « لاَ يُقْتَلُ قُرَشِىٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ».
It was narrated that Ash-Sha'bi said: Abdullah bin Muti' narrated to me that his father said: I heard the Prophet (s.a.w) say on the day of the conquest of Makkah: "No man of Quraish is to be captured then killed after this day, until the Day of Resurrection."
عبد اللہ بن مطیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فتح مکہ کے دن فرمایا: آج کے بعد قیامت تک کسی قرشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَزَادَ قَالَ وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ كَانَ اسْمُهُ الْعَاصِى فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُطِيعًا.
Zakariya narrated it with this chain (a Hadith similar to no. 4627) and added: None of the rebellious men of Quraish became Muslim except Muti'. His name was Al-'Asi (meaning disobedient) but the Messenger of Allah (s.a.w) named him Muti' (meaning obedient).
ایک اور سندسے یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ قریش کے جن لوگوں کا نام عاصی تھا ان میں سے عاص بن اسود کے سوا کوئی مسلمان نہیں ہوا۔ نبیﷺنے ان کا نام مطیع رکھا۔
34. باب صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَةِ
حَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ كَتَبَ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ الصُّلْحَ بَيْنَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ فَكَتَبَ « هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ». فَقَالُوا لاَ تَكْتُبْ رَسُولُ اللَّهِ فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نُقَاتِلْكَ. فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- لِعَلِىٍّ « امْحُهُ ». فَقَالَ مَا أَنَا بِالَّذِى أَمْحَاهُ. فَمَحَاهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدِهِ قَالَ وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ فَيُقِيمُوا بِهَا ثَلاَثًا وَلاَ يَدْخُلُهَا بِسِلاَحٍ إِلاَّ جُلُبَّانَ السِّلاَحِ. قُلْتُ لأَبِى إِسْحَاقَ وَمَا جُلُبَّانُ السِّلاَحِ قَالَ الْقِرَابُ وَمَا فِيهِ.
Al-Bara' bin 'Azib said: 'Ali bin Abi Talib wrote down the truce between the Prophet (s.a.w) and the idolaters on the day of Al-Hudaibiyah. He wrote: "This is what has been agreed by Muhammad the Messenger of Allah." They (the Kuffar of Makkah) said: Do not write, the Messenger of Allah (s.a.w), for if we knew that you were the Messenger of Allah we would not have fought you. The Prophet (s.a.w) said to 'Ali: "Erase it." He said: I am not the one who will erase it. So the Prophet m erased it with his hand. And among the things that they stipulated was that they (the Muslims) would enter Makkah and stay there for three days, and they would not enter with weapons, except weapons that were wrapped (in leather bags made for that purpose).
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب نے صلح حدیبیہ کے دن نبیﷺاورمشرکین کے درمیان ہونے والا معاہدہ صلح لکھا تو اس میں یہ لکھا کہ یہ وہ معاہد ہ ہے جس کو رسول اللہﷺنے لکھا ہے ،تو مشرکین نے کہا: آپ رسول اللہﷺ نہ لکھیں کیونکہ اگر ہم جانتے کہ آپ ﷺاللہ کے رسول ہیں تو آپ ﷺسے جنگ نہ کرتے، نبی ﷺنے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اسے مٹا دو انہوں نے عرض کیا میں تو نہیں مٹاؤں گا، تو نبی ﷺنے خود اپنے ہاتھ مبارک سے مٹا دیا اس معاہدہ کی ایک شرط یہ تھی کہ مسلمان مکہ میں داخل ہوں تو صرف تین دن قیام کر سکیں گے اور مکہ میں اسلحہ کے بغیر آئیں گے ہاں اگر اسلحہ نیام میں ہو تو کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ كَتَبَ عَلِىٌّ كِتَابًا بَيْنَهُمْ قَالَ فَكَتَبَ « مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ » ثُمَّ ذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِى الْحَدِيثِ « هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ ».
It was narrated that Abu Ishaq said: I heard Al-Bara' bin 'Azib say: When the Messenger of Allah (s.a.w) made a treaty with the people of Al-Hudaibiyah, 'Ali wrote down the treaty between them. He wrote "Muhammad the Messenger of Allah"... then he mentioned a Hadith like that of Mu'adh (no. 4629), except that he did not say in his Hadith: "This is what has been agreed."
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺنے حدیبیہ والوں سے مصالحت کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان ہونے والے معاہدہ کو تحریر کیا اور محمد رسول اللہﷺ لکھا باقی حدیث معاذ کی طرح ہے، لیکن اس میں " ھذا ما کاتب علیہ " کے الفاظ نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِىُّ جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ لَمَّا أُحْصِرَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا فَيُقِيمَ بِهَا ثَلاَثًا وَلاَ يَدْخُلَهَا إِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ السَّيْفِ وَقِرَابِهِ. وَلاَ يَخْرُجَ بِأَحَدٍ مَعَهُ مِنْ أَهْلِهَا وَلاَ يَمْنَعَ أَحَدًا يَمْكُثُ بِهَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ.
قَالَ لِعَلِىٍّ « اكْتُبِ الشَّرْطَ بَيْنَنَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ». فَقَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ تَابَعْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. فَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَمْحَاهَا فَقَالَ عَلِىٌّ لاَ وَاللَّهِ لاَ أَمْحَاهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَرِنِى مَكَانَهَا ». فَأَرَاهُ مَكَانَهَا فَمَحَاهَا وَكَتَبَ « ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ». فَأَقَامَ بِهَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا أَنْ كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ قَالُوا لِعَلِىٍّ هَذَا آخِرُ يَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِكَ فَأْمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ. فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ « نَعَمْ ». فَخَرَجَ. وَقَالَ ابْنُ جَنَابٍ فِى رِوَايَتِهِ مَكَانَ تَابَعْنَاكَ بَايَعْنَاكَ.
It was narrated that Al-Bara' said: When the Prophet m was prevented from reaching the Ka'bah, the people of Makkah made a treaty with him stating that he could enter (Makkah) and stay there for three days, and that he could enter it with his weapons wrapped (in leather bags made for that purpose), meaning the sword and its sheath; he could not take away with him any of its inhabitants and he could not prevent any of those who were with him if they wanted to stay there. He said to 'Ali: "Write down the terms between us: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. This is what has been agreed by Muhammad the Messenger of Allah." The Mushrikun said to him: If we knew that you were the Messenger of Allah we would have followed you. Rather write: Muhammad bin 'Abdullah. So he told 'Ali to erase it, but 'Ali said: No, by Allah, I will not erase it. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Show me where it is." So he showed him where it was and he erased it, and he wrote: "bin 'Abdullah." He stayed there for three days, then on the third day they said to 'Ali: This is the last day stipulated for your companion. Tell him to leave. So he told him about that and he said: "Yes," and left. Ibn Janab said in his narration, instead of 'we would have followed you,' 'we would have sworn allegiance to you.'
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکو بیت اللہ کے نزدیک گھیر لیا گیا تو اہل مکہ نے آپ ﷺسے ان باتوں پر صلح کرلی کہ آپ ﷺمکہ میں داخل ہو کر صرف تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں تلواریں نیاموں میں ہوں اور اہل مکہ میں سے کسی کو بھی آپ ﷺلے کر نہ جائیں گے اور جو مکہ میں ٹھہرنا چاہے اسے منع بھی نہ کریں گے جو آپ ﷺکے ساتھ آئے ہوں آپ ﷺنے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا ان شرائط کو ہمارے درمیان تحریر کر دو بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ وہ شرائط ہیں جن کا فیصلہ محمد رسول اللہﷺ نے کیا ہے آپ ﷺسے مشرکین نے کہا اگر ہم آپ ﷺکو رسول اللہ جانتے ہوتے تو آپ ﷺکی اتباع کر لیتے بلکہ محمد بن عبداللہ لکھو آپ ﷺنے علی کو اسے مٹانے کا حکم دیا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: نہیں اللہ کی قسم! میں تو اسے نہیں مٹاؤں گا رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اس کی جگہ مجھے دکھاؤ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺکو اس لفظ کی جگہ دکھائی تو آپ ﷺنے خود اسے مٹا دیا اور ابن عبداللہ لکھ دیا گیا۔پھر آپﷺنے مکہ میں صرف تین دن قیام کیا ، جب تیسرا دن ہوا تو قریش نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : یہ تمہارے صاحب (نبی) کی شرط کا آخری دن ہے، ان کو روانگی کے لیے کہو، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو یہ پیغام پہنچایا ، آپﷺنے فرمایا: ٹھیک ہے اور روانہ ہوگئے ، ای: روایت میں " تابعناک " کی جگہ " بایعناک" کا لفظ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- لِعَلِىٍّ « اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ». قَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِاسْمِ اللَّهِ فَمَا نَدْرِى مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَكِنِ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ « اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ». قَالُوا لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لاَتَّبَعْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبِ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ. فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ». فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَكْتُبُ هَذَا قَالَ « نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَمَنْ جَاءَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا ».
It was narrated from Anas that Quraish made a treaty with the Prophet (s.a.w), and among them was Suhail bin 'Amr. The Prophet (s.a.w) said to 'Ali: "Write: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful." Suhail said: As for in the Name of Allah, we do not know what 'In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful is.' Rather write what we know: Bismika Allahumma (In Your Name O Allah). He said: "Write: From Muhammad the Messenger of Allah." They said: If we knew that you were the Messenger of Allah, we would have followed you. Rather write your name and the name of your father. So the Prophet (s.a.w) said: "Write: from Muhammad bin 'Abdullah.'' And they stipulated to the Prophet (s.a.w): Whoever comes (to us) from you, we will not return him to you, but whoever comes to you from among us, you will send him back to us. They said: O Messenger of Allah, should we write this? He said: Yes. Whoever among us goes to them, may Allah keep him away, and whoever comes to us from them, Allah will grant him a way out."
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جن قریشیوں نے نبیﷺسے صلح کی ان میں سہیل بن عمرو بھی تھا نبیﷺنے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم، سہیل نے کہا: بسم اللہ تو ہم نہیں جانتے بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا ہے البتہ (باسمک اللہم) لکھو جسے ہم جانتے ہیں پھر آپ ﷺنے فرمایا: محمد رسول اللہﷺکی طرف سے (کفار) نے کہا: اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانتے تو آپ ﷺکی پیروی کرتے بلکہ آپﷺاپنا اور اپنے باپ کا نام لکھیں نبی ﷺنے فرمایا: محمد بن عبداللہ کی طرف سے لکھو انہوں نے نبی ﷺسے یہ شرط باندھی کہ تم میں سے جو ہمارے پاس آ جائے گا ہم اسے واپس نہیں کریں گے اور اگر تمہارے پاس ہم میں سے کوئی آئے گا تو تم اسے ہمارے پاس واپس کر دو گے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا ہم یہ بھی لکھ دیں آپ ﷺنے فرمایا: ہاں، لیکن ہم میں سے جو ان کی طرف جائے گا اللہ اسے دور کر دے گا اور جو ان میں سے ہمارے پاس آئے گا اللہ عنقریب اس کے لئے کوئی راستہ اور کشائش پیدا فرما دیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - وَتَقَارَبَا فِى اللَّفْظِ - حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَوْمَ صِفِّينَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالاً لَقَاتَلْنَا وَذَلِكَ فِى الصُّلْحِ الَّذِى كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ قَالَ « بَلَى ». قَالَ أَلَيْسَ قَتْلاَنَا فِى الْجَنَّةِ وَقَتْلاَهُمْ فِى النَّارِ قَالَ « بَلَى ». قَالَ فَفِيمَ نُعْطِى الدَّنِيَّةَ فِى دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ « يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِى اللَّهُ أَبَدًا ». قَالَ فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ قَالَ بَلَى. قَالَ أَلَيْسَ قَتْلاَنَا فِى الْجَنَّةِ وَقَتْلاَهُمْ فِى النَّارِ قَالَ بَلَى. قَالَ فَعَلاَمَ نُعْطِى الدَّنِيَّةَ فِى دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا. قَالَ فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْفَتْحِ فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَفَتْحٌ هُوَ قَالَ « نَعَمْ ». فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ.
It was narrated that Abu Wa'il said: Sahl bin Hunayf stood up on the day of (the battle of) Siffin and said: O people, blame yourselves, for we were with the Messenger of Allah (s.a.w) on the Day of Al-Hudaibiyah, and if we had seen fit to fight, we would have fought. That was in reference to the truce that was made between the Messenger of Allah (s.a.w) and the idolaters. 'Umar bin Al-Khattab came and approached the Messenger of Allah (s.a.w), and said: O Messenger of Allah, are we not following truth whilst they are following falsehood? He said: "Of course." He said: Are not our slain in Paradise whilst their slain are in Hell? He said: "Of course." He said: Then why should we accept a deal that is detrimental to the interests of our religion and go back when Allah has not decided the issue between us and them? He said: "O son of Al-Khattab, I am the Messenger of Allah (s.a.w) and Allah will never forsake me." 'Umar went away, but he could not bear his feelings of anger. He went to Abu Bakr and said: O Abu Bakr, are we not following truth whilst they are following falsehood? He said: Of course. He said: Are not our slain in Paradise whilst their slain are in Hell? He said: Of course. He said: Then why should we accept a deal that is detrimental to the interests of our religion and go back when Allah has not decided the issue between us and them? He said: O son of Al-Khaqab, he is the Messenger of Allah and Allah will never forsake him. Then Qur'an was revealed to the Messenger of Allah (s.a.w), speaking of victory, and he (s.a.w) sent for 'Umar and recited it to him. He said: O Messenger of Allah, is it really a victory? He said: "Yes." Then he ('Umar) felt relieved and he went back.
حضرت ابووائل سے روایت ہے کہ صفین کے دن حضرت سہل بن حنیف کھڑے ہوئے اور کہا اے لوگو! اپنے آپ کو غلط تصور کرو تحقیق ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہﷺ کے ہمراہ تھےاگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو ضرور کرتے اور یہ اس صلح کا واقعہ ہے جو رسول اللہﷺ اورمشرکین کے درمیان ہوئی حضرت عمر بن خطاب ﷺ نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں آپ ﷺنے فرمایا: کیوں نہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: کیا ہمارے شہداء جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں ہیں، آپ ﷺنے فرمایا: کیوں نہیں، حضرت عمر رضی اللہ نے عرض کیا: پھر ہم اپنے دین میں جھکاؤ اور ذلت کیوں قبول کریں اور حالانکہ اللہ تعالی نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کا حکم نہیں دیا آپ ﷺنے فرمایا: اے ابن خطاب میں اللہ کا رسول ہوں اللہ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں فرمائے گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے صبر نہ ہوسکا اور غصہ ہی کی حالت میں حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ کہنے لگے: کیا ہمارے شہداء جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، عمر کہنے لگے پھر ہم کس وجہ سے اپنے دین میں کمزوری قبول کریں حالانکہ اللہ تعالی نے ہمارا اور ان کے درمیان فیصلہ کا حکم نہیں دیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن خطاب! آپ ﷺاللہ کے رسول ہیں اللہ انہیں کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا۔ پس رسول اللہ ﷺپر سورة فتح نازل ہوئی تو آپ ﷺنے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا اور انہیں سے وہ آیات پڑھوائیں تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺکیا یہ فتح ہے آپﷺ نے فرمایا: جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دلی طور پر خوش ہو کر لوٹ گئے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُ بِصِفِّينَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِى يَوْمَ أَبِى جَنْدَلٍ وَلَوْ أَنِّى أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَرَدَدْتُهُ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ قَطُّ إِلاَّ أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلاَّ أَمْرَكُمْ هَذَا. لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ نُمَيْرٍ إِلَى أَمْرٍ قَطُّ.
It was narrated that Shaqiq said: I heard Sahl bin Hunayf say at Siffin: O people, do not put too much faith in your own ideas, for by Allah, I remember the day of Abu Jandal (i.e. Al-Hudaibiyah). If I could have gone against the command of the Messenger of Allah (s.a.w) I would have done so. By Allah, we have never put our swords on our shoulders for any purpose, but the fighting resulted in a situation we feel comfortable with, except in this affair of yours (i.e., the fighting between 'Ali and Mu'awiyah, may Allah be pleased with them).
حضرت شقیق سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف سے جنگ صفین میں سنا وہ فرماتے تھے : اے لوگو! اپنی رائے کو غلط سمجھو اللہ کی قسم! اگر تم ابو جندل کے دن دیکھتے (یعنی جس دن آپﷺنے معاہدہ کی وجہ سے ابو جندل کو مشرکین کی طرف واپس بھیجا تھا حالانکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جانا چاہتے تھے) تو اگر میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کو مسترد کرنے کی طاقت رکھتا تو اس وقت آپﷺ کے حکم کو مسترد کردیتا۔ اللہ کی قسم! ہم نے اپنی تلواریں اسی وقت اٹھائی ہیں جب ان سے کوئی امر معروف مقصود تھا ، البتہ تم نے جو یہ آپس میں جنگ شروع کر رکھی ہے۔۔۔
وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِى حَدِيثِهِمَا إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا.
It was narrated from Al-A'mash with this chain (a Hadith similar to no. 4634), except that he said: For any purpose that could be difficult for us.
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے ، اس میں ہے "الی امر یفظعنا"۔
وَحَدَّثَنِى إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ أَبِى حَصِينٍ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ بِصِفِّينَ يَقُولُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِى يَوْمَ أَبِى جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِى خُصْمٍ إِلاَّ انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ.
It was narrated that Abu Wa'il said: I heard Sahl bin Hunayf at Siffin saying: Do not rely on your own opinions with regard to matters of religion, for I remember the day of Abu Jandal (i.e. Al-Hudaibiyah). If I could have gone against the command of the Messenger of Allah (s.a.w) (I would have done so). When we rely upon your opinion to solve a problem, another problem arises to take its place.
ابو حصین حضرت ابووائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین میں سنا وہ فرماتے تھے : اپنے دین کے معاملہ میں اپنی رائے کو غلط تسلیم کرو ، کیونکہ میں نے ابوجندل کے دن دیکھا کہ اگر میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کو رد کرنے کی طاقت رکھتا تو ضرور رد کر دیتا، تمہاری رائے ایسی ہے کہ جب ہم اس کا ایک کونہ کھولتے ہیں تو اس کا دوسرا کونہ خود بخود کھل جاتا ہے۔
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ الْجَهْضَمِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ (إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ) إِلَى قَوْلِهِ (فَوْزًا عَظِيمًا) مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ يُخَالِطُهُمُ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْىَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ « لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ آيَةٌ هِىَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا ».
It was narrated from Qatadah that Anas bin Malik said: When the Verses "Verily, We have given you (O Muhammad (s.a.w))a manifest victory. 2. That Allah may forgive you your sins of the past and the future, and complete His Favor on you, and guide you on the Straight Path, 3. And that Allah may help you with strong help. 4. He it is Who sent down As-Sakinah (calmness and tranquillity) into the hearts of the believers, that they may grow more in Faith along with their (present) Faith. And to Allah belong the hosts of the heavens and the earth, and Allah is Ever All-Knower, All-Wise. 5. That He may admit the believing men and the believing women to Gardens under which rivers flow (i.e. Paradise) to abide therein forever, and He may expiate from them their sins; and that is with Allah a supreme success" [Al-Fath 48:1-5] were revealed, on the way back from Al-Hudaibiyah, they were overwhelmed with grief and distress. He (the Prophet (s.a.w)) had sacrificed his Hady (sacrificial animal) at Al-Hudaibiyah and he said: "There has been revealed to me a Verse that is dearer to me than the whole world."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:"انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ"۔۔ فوزا عظیما تک۔ اس وقت آپﷺحدیبیہ سے واپس آرہے تھے اور صحابہ کرام کو بہت حزن و ملال تھا ، آپﷺنے حدیبیہ میں ایک اونٹ ذبح کیا ، اور فرمایا: مجھ پر یہ ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ پیاری ہے۔
وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِىُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِى عَرُوبَةَ.
A Hadith like that of Ibn Abi 'Arubah (no. 4637) was narrated from Qatadah, from Anas.
یہ حدیث تین سندوں کے ساتھ حضرت انس سے اسی طرح مروی ہے۔
35. باب الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ قَالَ مَا مَنَعَنِى أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلاَّ أَنِّى خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِى - حُسَيْلٌ - قَالَ فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ قَالُوا إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا مَا نُرِيدُهُ مَا نُرِيدُ إِلاَّ الْمَدِينَةَ. فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلاَ نُقَاتِلُ مَعَهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ « انْصَرِفَا نَفِى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ ».
Hudhaifah bin Al-Yaman said: Nothing prevented me from being present at (the battle of) Badr except the fact that Abu Husayl and I set out and were captured by the Kuffar of Quraish. They said: Are you looking for Muhammad? We said: We are not looking for him; we are only headed towards Al-Madinah. They took a covenant from us in the Name of Allah that we would carry on to Al-Madinah and not fight alongside him. We went to the Messenger of Allah (s.a.w) and told him about that, and he said: "Go back; we will fulfill the covenant made with them, and we will seek the help of Allah against them."
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر میں میرے شامل نہ ہونے کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں اور میرے والد حسیل دونوں نکلے تو ہمیں کفار قریش نے گرفتار کیا اور کہا: تم محمد ﷺکے پاس جانا چاہتے ہو، ہم نے کہا: ہم رسول اللہﷺکا ارادہ نہیں رکھتے ، بلکہ ہم صرف مدینہ منورہ جانا چاہتے ہیں ، تو انہوں نے ہم سے اللہ کا یہ وعدہ اور میثاق لیا کہ ہم مدینہ واپس چلے جائیں گے اور آپﷺکے ساتھ مل کر جنگ نہیں کریں گے ، ہم نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ بیان کیا ، آپﷺنے فرمایا: تم واپس جاؤ، ہم ان سے کیا ہوا عہد پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں گے ۔
36. باب غَزْوَةِ الأَحْزَابِ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَاتَلْتُ مَعَهُ وَأَبْلَيْتُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِكَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَيْلَةَ الأَحْزَابِ وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَلاَ رَجُلٌ يَأْتِينِى بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ». فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ « أَلاَ رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ». فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ « أَلاَ رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ». فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ فَقَالَ « قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ». فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِى بِاسْمِى أَنْ أَقُومَ قَالَ « اذْهَبْ فَأْتِنِى بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلاَ تَذْعَرْهُمْ عَلَىَّ ». فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِى فِى حَمَّامٍ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَصْلِى ظَهْرَهُ بِالنَّارِ فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِى كَبِدِ الْقَوْسِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَلاَ تَذْعَرْهُمْ عَلَىَّ ». وَلَوْ رَمَيْتُهُ لأَصَبْتُهُ فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِى فِى مِثْلِ الْحَمَّامِ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَفَرَغْتُ قُرِرْتُ فَأَلْبَسَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّى فِيهَا فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحْتُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قَالَ « قُمْ يَا نَوْمَانُ ».
It was narrated from Ibrahim At-Taimi that his father said: We were with Hudhaifah, and a man said: If I had met the Messenger of Allah (s.a.w) I would have fought alongside him and striven hard. Hudhaifah said: Would you really have done that? I remember that we were with the Messenger of Allah (s.a.w) on the night of Al-Ahzab, and there was a strong wind and extreme cold. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Is there any man who will bring me news of the people, and Allah, exalted and glorious is He, will join him with me on the Day of Resurrection?" We stayed quiet and none of us answered him. Then he said: "Is there any man who will bring me news of the people, and Allah, exalted and glorious is He, will join him with me on the Day of Resurrection?" We stayed quiet and none of us answered him. Then he said: "Is there any man who will bring me news of the people, and Allah, exalted and glorious is He, will join him with me on the Day of Resurrection?" We stayed quiet and none of us answered him. Then he said: "Get up, O Hudhaifah, and bring us news of the people." I had no alternative but to get up when he called me by name. He said: "Go and bring me news of the people, but do not provoke them against me." When I left him, it became as if I was walking in a heated bath, until I came to them. I saw Abu Sufyan warming his back against the fire, and I put an arrow in my bow and wanted to shoot him, but then I remembered the words of the Messenger of Allah (s.a.w): "Do not provoke them against me." If I had shot I would have hit him. Then I came back, walking as if I were in a heated bath. When I reached him, I told him the news of the people, and when I had finished, I began to feel cold. The Messenger of Allah (s.a.w) gave me a spare cloak that he used to wear when he prayed, and I slept until morning, then when morning came he said: "Get up, O heavy sleeper!"
حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ کے پاس تھے ایک آدمی نے کہا اگر میں رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پا لیتا تو میں آپ ﷺ کے ساتھ جہاد کرتا اور بہت کوشش کرتا حضرت حذیفہ رضی اللہ نے کہا: تم ایسے کرتے، (مجھے وہ منظر ابھی بھی یاد ہے) کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احزاب کی رات سخت ہوا اور سردی دیکھ چکے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا ہے جوقوم(کفار) کی خبر میرے پاس لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا، ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا۔ پھر فرمایا: کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا ہے جوقوم(کفار) کی خبر میرے پاس لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا۔ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا ہے جوقوم(کفار) کی خبر میرے پاس لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا۔ ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا۔ پھرآپﷺ نے فرمایا: اے حذیفہ! کھڑے ہو جاؤ اور ہمارے پاس قوم(کفار) کی خبر لے آؤ۔ جب آپ ﷺ نے میرا نام لیا تو مجھے سوائے اٹھنے کے کوئی چارہ نہ تھا آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اور قوم(کفار) کی خبر میرے پاس لے کر آؤ مگر انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں، جب میں آپ ﷺ سے پیٹھ پھیر کر چلنے لگا تو مجھے یوں محسوس ہونے لگا گویا کہ میں حمام میں چل رہا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا میں نے ابوسفیان کو اپنی پیٹھ آگ سے سینکتے دیکھا ،میں نے فورا کمان کے درمیان میں تیر رکھا اور اسے مارنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کا قول یاد آ گیا کہ انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں، اگر میں تیر مار دیتا تو صحیح نشانہ پر ہی لگتا، میں واپس لوٹا تو میں حمام میں ہی چل رہا تھا جب میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا آپ ﷺ کو قوم(کفار) کی خبر دے کر فارغ ہوا تو مجھے سردی محسوس ہونے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی بقیہ چادر اوڑھا دی جسے آپ ﷺ اوڑھ کر نماز ادا کر رہے تھے اور میں صبح تک سویا رہا۔ پھر جب صبح ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے بہت سونے والے! اٹھ جا۔
37. باب غَزْوَةِ أُحُدٍ
وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِىِّ بْنِ زَيْدٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِىِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِى سَبْعَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ « مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِى فِى الْجَنَّةِ ». فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا فَقَالَ « مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِى فِى الْجَنَّةِ ». فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِصَاحِبَيْهِ « مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا ».
It was narrated from Anas bin Malik that on the day of (the battle of) Uhud the Messenger of Allah (s.a.w) was left with only seven men of the Ansar and two men of Quraish. When they were surrounded, he said: "Who will repel them from us and Paradise will be his, or he will be my companion in Paradise?" One of the Ansari men went forward and fought until he was killed. Then they were surrounded again, and he said: "Who will repel them from us and Paradise will be his, or he will be my companion in Paradise?" Another Ansari man went forward and fought until he was killed, and that continued until all seven had been killed. The Messenger of Allah (s.a.w) said to his two companions: "We have not been fair to our companions."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ سات انصاریوں اور قریش کے دو آدمیوں کے ہمراہ اکیلے رہ گئے جب آپﷺ کو گھیر لیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو انہیں ہم سے ہٹائے گا اس کے لئے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا تو انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھا،اور لڑائی کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا پھربھی کافروں نے آپﷺ کو گھیرے رکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو انہیں ہم سے دور کرے گا اس کے لئے جنت ہوگی یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا ، تو انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھ کر لڑا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا یہ سلسلہ برابر اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تَغْسِلُ الدَّمَ وَكَانَ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ يَسْكُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لاَ يَزِيدُ الدَّمَ إِلاَّ كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا ثُمَّ أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ.
'Abdul' Aziz bin Abi Hazim narrated that his father heard Sahl bin Sa'd being asked about the wounds sustained by the Messenger of Allah (s.a.w) on the day of (the battle of) Uhud. He said: The face of the Messenger of Allah (s.a.w) was wounded and his front tooth was broken, and his helmet was crushed on his head. Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah (s.a.w), was washing away the blood, and 'Ali bin Abi Talib was pouring water on it from a shield. When Fatimah saw that the water was only making the bleeding worse, she took a piece of reed mat and burnt it until it turned to ashes, then she placed it on the wound and the bleeding stopped.
حضرت عبدالعزیز بن ابوحازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ان سے رسول اللہﷺ کے غزوہ احد کے دن زخمی ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ کا چہرہ اقدس زخمی کیا گیا اور آگے سے ایک دانت ٹوٹ گیا اورآپﷺ کے سر مبارک پر خود(Helmet) ٹوٹ گیا تھا ، فاطمہ بنت رسول اللہﷺ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ڈھال میں پانی لا کر ڈال رہے تھے جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی سے خون میں کمی نہیں ہوئی بلکہ زیادتی ہو رہی ہے انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا اور اس کی راکھ کو زخم پر لگادیا ، پھر خون بند ہوگیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىَّ - عَنْ أَبِى حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ أَمَ وَاللَّهِ إِنِّى لأَعْرِفُ مَنْ كَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَمَنْ كَانَ يَسْكُبُ الْمَاءَ. وَبِمَاذَا دُووِىَ جُرْحُهُ. ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ وَجُرِحَ وَجْهُهُ وَقَالَ مَكَانَ هُشِمَتْ كُسِرَتْ.
It was narrated from Abu Hazim that he head Sahl bin Sa'd being asked about the wounds sustained by the Messenger of Allah (s.a.w). He said: By Allah, I know who washed the wounds of the Messenger of Allah (s.a.w) and who poured the water, and with what his wound was treated. Then he mentioned a Hadith like that of 'Abdul-'Aziz (no. 4642), except that he added: ...And his face was wounded. And instead of 'crushed', he said, 'broken'.
ابو حازم سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے اس حال میں سنا کہ ان سے رسول اللہﷺکے زخم کے متعلق سوال کیا گیا ، انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺکے زخم کو کون دھورہاتھا ، اور کون پانی ڈال رہا تھا ، اور کس چیز سے آپﷺکے زخم کا علاج کیا گیا ۔ پھر راوی نے عبد العزیز کی حدیث کی طرح بیان کیا، لیکن اس میں راوی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپﷺکا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا اور "ھشمت" کی جگہ "کسرت" ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى هِلاَلٍ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِىُّ حَدَّثَنِى ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِى ابْنَ مُطَرِّفٍ - كُلُّهُمْ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ. بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.
فِى حَدِيثِ ابْنِ أَبِى هِلاَلٍ أُصِيبَ وَجْهُهُ. وَفِى حَدِيثِ ابْنِ مُطَرِّفٍ جُرِحَ وَجْهُهُ.
This Hadith was narrated from Sahl bin Sa'd (a Hadith similar to no. 4642), from the Prophet (s.a.w). In the Hadith of Ibn Abi Hilal (it says): His face was injured. And in the Hadith of Ibn Mutarrif it says: His face was wounded.
یہ حدیث تین سندوں کے ساتھ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی نبی ﷺسے روایت کی گئی ہے ، ابن ابی ہلال کی سند میں " اصیب وجہہ " ہے ، اور ابن مطرف کی سند میں " جرح وجہہ " کا لفظ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِى رَأْسِهِ فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ وَيَقُولُ « كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ». فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ)
It was narrated from Anas that the front tooth of the Messenger of Allah (s.a.w) was broken on the day of (the battle of) Uhud, and he was wounded in his head. He started to wipe away the blood and said: "How can any people prosper when they wound their Prophet and break his tooth when he is calling them to Allah?" Then Allah revealed the words: "Not for you (O Muhammad (s.a.w), but for Allah) is the decision" [Al 'Imran 3:128].
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں رسول اللہﷺکا سامنے کا دانت ٹوٹ گیا تھا اور آپﷺکے سر میں چوٹ لگی تھی، آپﷺاپنے سر سے خون صاف کرتے فرمارہے تھے : وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جس نے اپنے نبی کو زخمی کیا ،او ران کے سامنے کا دانٹ توڑا ، حالانکہ وہ ان کو اللہ کی طرف دعوت دیتا تھا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "لیس لک من الامر شیء"۔ ترجمہ: (اے پیغمبر!) اس معاملے میں تمہیں کچھ بھی اختیار نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَحْكِى نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ « رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِى فَإِنَّهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ ».
It was narrated that 'Abdullah said: It is as if I can see the Messenger of Allah (s.a.w), telling the story of one of the Prophets who was beaten by his people, and he wiped the blood from his face and said: "Lord forgive my people, for they do not know."
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ(مجھے اچھی طرح یاد ہے) گویا کہ میں رسول اللہﷺکی طرف دیکھ رہا ہوں آپﷺانبیاء میں سے کسی نبی کا قصہ بیان فرما رہے تھے جنہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرہ سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور فرماتے تھے: اے میرے رب! میری قوم کو بخش دینا ان کو علم نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَهُوَ يَنْضِحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ.
It was narrated from Al-A'mash with this chain (a Hadith similar to no. 4646), except that he said: He wiped the blood from his forehead.
مذکورہ بالا حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپﷺاپنی پیشانی سے خون صاف کررہے تھے ۔
38. باب اشْتِدَادِ غَضَبِ اللَّهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا هَذَا بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ». وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ».
Ma'mar bin Hammam bin Munabbih said: This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w), and he mentioned a number of Ahadith including the following: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Great is the wrath of Allah, Exalted and Glorified is He, towards people who do this to the Messenger of Allah (s.a.w)," and he pointed to his front tooth. And the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Great is the wrath of Allah towards a man who is killed by the Messenger of Allah (s.a.w) (in battle) for the sake of Allah, Exalted and Glorified is He."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس قوم پر سخت غضبناک ہوگا جس نے اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ یہ معاملہ کیا اور آپ ﷺاس وقت اپنے دانت کی طرف اشارہ فرما رہے تھے اور اس کے علاوہ رسول ﷺنے فرمایا: اس آدمی پر بھی اللہ تعالیٰ سخت غضب نا ک ہوتا ہے جس کو رسول اللہﷺ اللہ کی راہ میں قتل کردیں۔
39. باب مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ - يَعْنِى ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنْ زَكَرِيَّاءَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِىِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى عِنْدَ الْبَيْتِ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ وَقَدْ نُحِرَتْ جَزُورٌ بِالأَمْسِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى سَلاَ جَزُورِ بَنِى فُلاَنٍ فَيَأْخُذُهُ فَيَضَعُهُ فِى كَتِفَىْ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَأَخَذَهُ فَلَمَّا سَجَدَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ قَالَ فَاسْتَضْحَكُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَمِيلُ عَلَى بَعْضٍ وَأَنَا قَائِمٌ أَنْظُرُ. لَوْ كَانَتْ لِى مَنَعَةٌ طَرَحْتُهُ عَنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَالنَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- سَاجِدٌ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْطَلَقَ إِنْسَانٌ فَأَخْبَرَ فَاطِمَةَ فَجَاءَتْ وَهِىَ جُوَيْرِيَةُ فَطَرَحَتْهُ عَنْهُ. ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَشْتِمُهُمْ فَلَمَّا قَضَى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَتَهُ رَفَعَ صَوْتَهُ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِمْ وَكَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلاَثًا. وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ « اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ». ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا سَمِعُوا صَوْتَهُ ذَهَبَ عَنْهُمُ الضِّحْكُ وَخَافُوا دَعْوَتَهُ ثُمَّ قَالَ « اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِى جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِى مُعَيْطٍ ». وَذَكَرَ السَّابِعَ وَلَمْ أَحْفَظْهُ فَوَالَّذِى بَعَثَ مُحَمَّدًا -صلى الله عليه وسلم- بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ سَمَّى صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ غَلَطٌ فِى هَذَا الْحَدِيثِ.
It was narrated that Ibn Mas'ud said: "While the Messenger of Allah (s.a.w) was praying at the Ka'bah, Abu Jahl and some of his companions were sitting there. A she-camel had been slaughtered the previous day, and Abu Jahl said: 'Which of you will go and get the placenta of the she-camel of Banu so-and-so and put it on the shoulders of Muhammad - (s.a.w) - when he prostrates?' The worst of the people went and got it, and when the Prophet (s.a.w) prostrated, he put it on his shoulders. They laughed, and started leaning against one another, and I was standing there, watching. If I had been in a strong position, I would have removed it from the back of the Messenger of Allah (s.a.w). The Prophet (s.a.w) remained prostrating, and did not lift his head, until someone went and told Fatimah, who was a young girl. She came and removed it, then she turned to them and berated them. When the Messenger of Allah (s.a.w) had finished his prayer, he raised his voice and supplicated against them. When he supplicated, he would supplicate three times, and when he asked (of Allah), he would ask three times. Then he said: "O Allah, it is for You to deal with the Quraish." - saying it three times. When they heard his voice, they stopped laughing and they were afraid because of his supplication. Then he said: "O Allah, it is for You to deal with Abu Jahl bin Hisham, 'Utbah bin Rabi'ah, Shaibah bin Rabi'ah, Al-Walid bin 'Uqbah, Umayyah bin Khalaf and 'Uqbah bin Abi Mu'ait" - and he mentioned the seventh but I [one of the narrators] did not remember it. - By the One Who sent Muhammad with the truth, I saw those whom he (s.a.w) named lying dead on the day of (the battle of) Badr, then they were dragged to the well, the well of Badr. Abu Ishaq said: "Al-Walid bin 'Uqbah was mentioned by mistake in this Hadith."
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺبیت اللہ کے پاس نماز ادا کر رہے تھے ابوجہل اور اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور گزشتہ کل ایک اونٹنی کو ذبح کیا گیا تھا ابوجہل نے کہا: تم میں سے کون ہے جو فلاں قبیلہ کی اونٹنی کی اوجھڑی کو اٹھا لائے اور اسے محمد ﷺکے دونوں کندھوں پر رکھ دے جب وہ سجدہ کریں، تو قوم میں سب سے بدبخت اٹھا اور اوجھڑی کو اٹھا لایا اور جب نبی ﷺنے سجدہ کیا تو اس نے آپ ﷺکے کندھوں کے درمیان رکھ دی پھر انہوں نے ہنسنا شروع کر دیا یہاں تک کہ ایک دوسرے پر گرنے لگے اور میں کھڑا دیکھ رہا تھا، کاش! میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ میں اسے رسول اللہﷺکی پشت مبارک سے دور کر دیتا، اور نبی ﷺسجدہ میں تھے کہ اپنے سر مبارک کو اٹھا نہ سکتے تھے یہاں تک کہ ایک شخص نے جا کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اطلاع دی، وہ آئیں اس حال میں کہ وہ کم سن تھیں انہوں نے آپ ﷺسے (اوجھڑی کو) دور کیا پھر کافروں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں برا بھلا کہا: جب نبیﷺنے اپنی نماز مکمل کرلی تو آپ ﷺنے باآواز بلند ان کے لئے بد دعا کی: اور آپ ﷺکی عادت تھی کہ جب آپ ﷺدعا فرماتے تو تین مرتبہ کرتے پھر آپ ﷺنے تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! قریش کی گرفت فرما، جب انہوں نے آپﷺکی آواز سنی تو ان کی ہنسی ختم ہوگئی اور آپ ﷺکی دعا سے ڈرنے لگے پھر آپ ﷺنے فرمایا: اے اللہ! ابوجہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عقبہ اور امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط پر گرفت فرما اور ساتویں آدمی کا ذکر کیا جسے میں یاد نہ رکھ سکا اس ذات کی قسم! جس نے محمدﷺکو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں نے ان لوگوں کو جن کا آپ ﷺنے نام لیا تھا بدر کے دن مردہ دیکھا پھر انہیں بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا۔ ابو اسحاق نے کہا:اس حدیث میں ولید بن عقبہ کے نام میں راوی نے غلطی کی ہے (صحیح ولید بن عتبہ ہے)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِى مُعَيْطٍ بِسَلاَ جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ فَقَالَ « اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِى مُعَيْطٍ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ أَوْ أُبَىَّ بْنَ خَلَفٍ ». شُعْبَةُ الشَّاكُّ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِى بِئْرٍ غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيًّا تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِى الْبِئْرِ.
It was narrated that 'Abdullah said: "While the Messenger of Allah (s.a.w) was prostrating, and some people of the Quraish were around him, 'Uqbah bin Abi Mu'ait brought the placenta of a she-camel and threw it on the back of the Messenger of Allah (s.a.w). He did not raise his head, then Fatimah came and took it off his back, and she supplicated against those who had done this. Then he (s.a.w) supplicated, saying: 'O Allah, it is for You to deal with this group of the Quraish; Abu Jahl bin Hisham, 'Utbah bin Rabi'ah, Shaibah bin Rabi'ah, 'Uqbah bin Abi Mu'ait, and Umayyah bin Khalaf or Ubayy bin Khalaf" - Shu'bah was not sure. - He said: "And I saw them slain on the day of (the battle) Badr, and they were thrown into a well, except for Umayyah or Ubayy, who ended up in pieces, and was not thrown into the well."
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺسجدہ میں تھے اور قریش آپ ﷺکے ارد گرد تھے کہ عقبہ بن ابی معیط اونٹنی کی اوجھڑی لے کر آیا اور اسے رسول اللہ ﷺکی پشت مبارک پر پھینک دیا جس سے آپﷺسر مبارک نہ اٹھا سکتے تھے، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں اور اسے آپﷺکی پشت مبارک سے اٹھایا اور ان لوگوں کو بد دعا دی جنہوں نے یہ حرکت کی تھی، آپﷺنے فرمایا: اے اللہ! قریش کے سردار ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف یا ابی بن خلف پر گرفت فرما۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ یہ سب جنگ بدر کے دن قتل کیے گئے اور ان کو وادی بدر کے کنوئیں میں ڈال دیا گیا ، البتہ امیہ بن خلف یا ابی بن خلف کو کنویں میں نہیں ڈالا گیا ، کیونکہ اس کے جوڑ جوڑ کٹ چکے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ ثَلاَثًا يَقُولُ « اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ » ثَلاَثًا وَذَكَرَ فِيهِمُ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ وَلَمْ يَشُكَّ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَنَسِيتُ السَّابِعَ.
A similar report (as no. 4650) was narrated from Abu Ishaq with this chain of narration, and he added: "And he (s.a.w) liked to repeat his supplication three times: 'O Allah, it is for You to deal with the Quraish, O Allah, it is for You to deal with the Quraish, O Allah, it is for You to deal with the Quraish,' - three times. And among them he mentioned Al-Walid bin 'Utbah and Umayyah bin Khalaf - he was not uncertain." Abu Ishaq said: "And I forgot the seventh."
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپﷺتین مرتبہ دعا کرنے کو پسند فرماتے تھے ، اور آپﷺنے تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! قریش پر گرفت فرما، اے اللہ قریش پر گرفت فرما ، اے اللہ ! قریش پر گرفت فرما! اور اس میں ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف کا بھی ذکر فرمایا، اور راوی کے شک کا ذکر نہیں ہے ، ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں ساتویں آدمی کا نام بھول گیا ہوں۔
وَحَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْبَيْتَ فَدَعَا عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ. فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِى مُعَيْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ. قَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا.
It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) turned to face the Ka'bah and he supplicated against six persons of the Quraish, including Abu Jahl, Umayyah bin Khalaf, 'Utbah bin Rabi'ah, Shaibah bin Rabi'ah and 'Uqbah bin Abi Mu'ait. And I swear by Allah that I saw them slain at Badr, and they had been changed by the sun, for it was a hot day."
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے قریش کے چھ آدمیوں کے خلاف دعا کی، ان میں ابو جہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، عقبہ بن ابی معیط شامل ہیں ،میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بدر کے کنوئیں میں گرے پرے ہوئے دیکھا ہے ، اور سورج نے ان کا حلیہ تبدیل کردیا تھا، اور وہ بہت سخت گرم دن تھا۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِىُّ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ فَقَالَ « لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِى عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلاَلٍ فَلَمْ يُجِبْنِى إِلَى مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِى فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلاَّ بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِى فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِى فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِى فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ قَالَ فَنَادَانِى مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَىَّ. ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِى رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِى بِأَمْرِكَ فَمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الأَخْشَبَيْنِ ». فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلاَبِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ».
It was narrated from Ibn Shihab: ·'Urwah bin Az-Zubair told me that 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w), narrated that she said to the Messenger of Allah (s.a.w): 'O Messenger of Allah, was there ever a day that was worse for you than the day of (the battle of) Uhud?' He said: 'I suffered at the hands of your people, and the worst that I suffered from them was the day of Al-'Aqabah, when I presented myself to Ibn 'Abd Yalil bin 'Abd Kulal, and he did not respond to what I wanted. So I went, with signs of distress on my face, and I did not recover until I was in Qarn Ath-Tha 'Alib, where I lifted my head and saw that a cloud was shading me. I looked and saw therein Jibra'il, who called me and said: "Allah has heard what your people said to you, and how they have rejected you. He has sent to you the angel of the mountains, so that you can tell him to do whatever you want to them. Then he called the angel of the mountains to me and he greeted me with Salam, then said: O Muhammad, Allah has heard what your people have said to you, and I am the angel of the mountains. Your Lord has sent me so that you can tell me what to do. What do you want? If you wish I will bring together Al-Akhshabain (the two mountains of Makkah) to crush them." The Messenger of Allah (s.a.w) said to him: Rather I hope that Allah will bring forth from their loins people who will worship Allah alone, not associating anything with Him."'
نبی ﷺکی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺسے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺپر کوئی دن احد کے دن سے بھی سخت آیا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: مجھے تمہاری قوم سے بہت زیادہ تکلیف پہنچی اور سب سے شدید تکلیف وہ تھی جو مجھے یوم عقبہ کو پہنچی ، جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یالیل بن عبد کلال پر پیش کیا (یعنی اس کو دعوت اسلام دی) لیکن اس نے وہ چیز قبول نہیں کی جو میں چاہتا تھا ،پھر میں غمزدہ ہوکر چلا گیا ، اور قرن ثعالب پر پہنچ کر کچھ افاقہ ہوا میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے ایک بادل دیکھا جو مجھ پر سایہ کئے ہوئے تھا ، اس میں جبریل تھا انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا: اللہ رب العزت نے آپ کی قوم کی بات اور ان کا آپ ﷺکو جواب دینا سن لیا اور آپﷺکے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ آپ اس کو ان کے متعلق جو چاہیں حکم کریں ، آپﷺنے فرمایا: پھر پہاڑوں کے فرشتہ نے مجھے آواز دی اور سلام کیا ،اور کہا: اے محمد ﷺ!اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا جواب سن لیا ، اور میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں ،اور مجھے آپ کے رب نے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں،اگر آپ چاہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو ان پر بچھادوں ، رسول اللہﷺنے فرمایا: بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسی قوم کو پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى عَوَانَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى بَعْضِ تِلْكَ الْمَشَاهِدِ فَقَالَ « هَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ».
It was narrated that Jundab bin Sufyan said: "The finger of the Messenger of Allah (s.a.w) was wounded in one of the battles and he said: 'You are just a finger that has bled. What you have experienced is in the cause of Allah."'
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی جنگ میں رسو ل اللہ ﷺکی انگلی خون آلود ہوگئی ، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تو تو ایک انگلی ہے جو خون آلود ہوگئی ہے اور تو نے جو تکلیف اٹھائی ہے وہ اللہ کی راہ میں اٹھائی ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى غَارٍ فَنُكِبَتْ إِصْبَعُهُ.
It was narrated from Al-Aswad bin Qais with this chain of narration. He said: "The Messenger of Allah (s.a.w) was in a cave, and his finger was hurt."
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے ، اس میں ہے کہ رسول اللہﷺایک لشکر میں تھے اور وہاں آپ کی انگلی زخمی ہو گئی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا يَقُولُ أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى)
It was narrated from Al-Aswad bin Qais that he heard Jundab say: "Jibril was delayed in coming to the Messenger of Allah (s.a.w) and the idolaters said: 'Muhammad has been forsaken.' Then Allah, [the Mighty and Sublime] revealed (the words): "By the forenoon (after sunrise). By the night when it darkens (and stands still). Your Lord (O Muhammad (s.a.w)) has neither forsaken you nor hates you."
حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل کو تاخیر ہوگئی تو مشرکین نے کہا: محمدﷺ کو چھوڑ دیا گیا ، تب اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل کی ، قسم ہے چاشت کے وقت کی، اور رات کے وقت کی قسم جب وہ پھیل جائے، آپﷺ کو آپ کے پروردگار نے نہیں چھوڑا اور نہ ناراض ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ يَقُولُ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ إِنِّى لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ( وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى)
It was narrated that Al-Aswad bin Qais said: "I heard Jundab bin Sufyan say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) fell sick and did not get up to pray Qiyam (the late night prayer) for two or three nights. Then a woman came to him and said: "O Muhammad, I hope that your Shaitan has left you; I have not seen him approach you for two or three nights." Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed (the words): "By the forenoon (after sunrise). By the night when it darkens (and stands still). Your Lord (O Muhammad (s.a.w)) has neither forsaken you nor hates you."
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے اور دو یا تین راتیں اٹھ نہ سکے ایک عورت آپ ﷺکے پاس آئی اور اس نے کہا: اے محمدﷺ! میں امید کرتی ہوں کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے کیونکہ میں نے اسے دو یا تین راتوں سے آپ ﷺکے پاس نہیں دیکھا، تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں: چاشت کے وقت کی قسم اور رات کی جب وہ چھا جائے آپ ﷺکے پروردگار نے نہ آپﷺکو چھوڑا اور نہ ناراض ہوا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُلاَئِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلاَهُمَا عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا.
(Two similar Ahadith) were narrated from Al-Aswad bin Qais with this chain of narration.
یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔
40. باب فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اللَّهِ وَصَبْرِهِ عَلَى أَذَى الْمُنَافِقِينَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِى بَنِى الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَذَاكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ وَفِى الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ لاَ تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا. فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ أَيُّهَا الْمَرْءُ لاَ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَلاَ تُؤْذِنَا فِى مَجَالِسِنَا وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ اغْشَنَا فِى مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ. قَالَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا فَلَمْ يَزَلِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يُخَفِّضُهُمْ ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ « أَىْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ - يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ - قَالَ كَذَا وَكَذَا ». قَالَ اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِى أَعْطَاكَ وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِى أَعْطَاكَهُ شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ. فَعَفَا عَنْهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated from 'Urwah, that Usamah bin Zaid told him that the Prophet (s.a.w) rode a donkey, on which was a saddle beneath which was a blanket from Fadak, and Usamah rode on it with him, behind him, when he went to visit Sa'd bin 'Ubadah (who was sick) in (the dwellings of) Banu Al-Harith bin Al-Khazraj. That was before the battkof Badr. He passed by a gathering which was a mixed company of Muslims, idolaters and Jews, among whom was 'Abdullah bin Ubayy. 'Abdullah bin Rawahah was also present in the gathering. When the gathering was engulfed by dust stirred up by the animal, 'Abdullah bin Ubayy covered his nose with his cloak and said: "Do not scatter dust over us." The Prophet (s.a.w) greeted them with Salam, then he dismounted and called them to Allah, and recited Our' an to them. 'Abdullah bin Ubayy said: "O man, is there is nothing better than that? If what you say is true, do not bother us in our gatherings. Go back to your place, and if any of us come to you, you can tell him your stories." 'Abdullah bin Rawahah said: "Come to us in our gatherings, for we love that." Then the Muslims, idolaters and Jews began to rebuke one another, until they were about to come to blows, and the Prophet (s.a.w) kept trying to calm them down. Then he rode his animal until he entered upon Sa'd bin 'Ubadah and said: "O Sa'd, have you not heard what Abu Hubab said? - meaning 'Abdullah bin Ubayy - he said such and such." He said: "Pardon him, O Messenger of Allah, and forgive him, for by Allah, Allah has given you that which He has given you, but the people of this town had agreed to make him their king, and when Allah changed that by means of the truth that He has given you, that upset him, and that is why he is the way he is." So the Prophet (s.a.w) pardoned him.
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ (ایک) گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا اور آپ ﷺ کے نیچے فدک کی ایک چادرتھی اور آپﷺ نے اپنے پیچھے اسامہ کو سوار کر لیا، آپ قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے جارہے تھے ،اور یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے، آپﷺراستہ میں ایک ایسی مجلس سے گزرے جہاں مسلمان،مشرکین، بت پرست اور یہود وغیرہ اکٹھے بیٹھے تھے ان میں عبداللہ بن ابی اور عبداللہ بن رواحہ بھی بیٹھے تھے جب مجلس میں سواری کی گرد پہنچی تو عبد اللہ بن ابی نے اپنی ناک کو اپنی چادر سے ڈھانپ لیا اور کہا: ہم پر گرد نہ اڑاؤ۔نبیﷺ نے ان کو سلام کیا پھر ٹھہر گئے اورسواری سے اتر کر ان کو اسلام کی دعوت دی،اور ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کی، تو عبداللہ بن ابی نے کہا: اے آدمی! اس سے بہتر کوئی بات نہیں اگر جو کچھ تم کہہ رہے ہو سچ ہو تو بھی ہم کو ہماری مجلس میں تکلیف نہ دو اور اپنے گھر واپس لوٹ جاؤ اور ہم میں سے جو تمہارے پاس آئے اس کو وعظ کرو۔ عبداللہ بن رواحہ نے کہا: آپ ﷺ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں ہمیں یہ بات پسند ہے پھر مسلمان، مشرکین اور یہود ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے یہاں تک کہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے، اور نبیﷺ ان کو مسلسل ٹھنڈا کرتے رہے ، پھر اپنی سواری پر سوار ہو گئے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے تو فرمایا: اے سعد! کیا تم نے ابوحباب عبداللہ بن ابی کی بات سنی اس نے اس اس طرح کہا ہے انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسے معاف فرما دیں اور درگزر فرمائیں اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو جو مرتبہ دیا ہے سو دیا ہے ، اس شہر کے لوگوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ اس کو تاج پہنائیں گے اور اس کے سر پر عمامہ باندھیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کرکے اور آپ کو مرتبہ دے کر اس کو مسترد کردیا، اس وجہ سے یہ جل گیا ، اور جو کچھ آپ نے دیکھا ہے یہ اسی وجہ سے ہے ، تو نبی ﷺنے اس کو معاف کردیا۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ - يَعْنِى ابْنَ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِى هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ.
A similar report (as no. 4659) was narrated from Ibn Shihab with this chain of narration, and he added: "That was before 'Abdullah became Muslim."
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس وقت تک عبداللہ بن ابی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِىُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ قَالَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ وَرَكِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ وَهِىَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ إِلَيْكَ عَنِّى فَوَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِى نَتْنُ حِمَارِكَ. قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ - قَالَ - فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ - قَالَ - فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ - قَالَ - فَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالأَيْدِى وَبِالنِّعَالِ - قَالَ - فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ (وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ).
It was narrated that Anas bin Malik said: "It was said to the Prophet (s.a.w): 'Why don't you go to 'Abdullah bin Ubayy?' So he went to him, riding a donkey, and the Muslims set out too, and (they passed over) saline ground. When the Prophet (s.a.w) came to him, he said: 'Do not come near me, for by Allah the stench of your donkey offends me.' One of the Ansar said: 'By Allah, the donkey of the Messenger of Allah (s.a.w) smells better than you do.' One of 'Abdullah's people got angry on his behalf, and the two groups got angry with one another and struck one another with palm branches, hands and shoes. And we . heard that the following words were revealed concerning them: 'And if two parties (or groups) among the believers fall to fighting, then make peace between them both."'
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺسے کہا گیا کہ اگر آپ عبد اللہ بن ابی کے پاس تشریف لے جائیں،نبی ﷺگدھے پر سوار ہوکر اس کی طرف گئے ،اور مسلمان بھی آپﷺکے ساتھ تھے ،وہ زمین شور والی تھی، جب نبیﷺاس کےپاس پہنچے ،وہ کہنے لگا: ایک طرف ہوجاؤ ، اللہ کی قسم! تمہارے گدھے کی بو سے مجھے اذیت ہورہی ہے ، ایک انصاری نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہﷺکے گدھے کی بو تم سے زیادہ خوشبودار ہے ، اس پر عبد اللہ بن ابی کی قوم کا ایک آدمی غصہ میں آگیا ، پھر ہر طرف سے لوگ غصہ میں آگئے اور وہ ہاتھوں ، چھڑیوں اور جوتوں سے ایک دوسرے سے لڑنے لگے ، راوی کہتا ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔