41. باب قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ
حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِى ابْنَ عُلَيَّةَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِىُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ». فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ - قَالَ - فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ آنْتَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ - أَوْ قَالَ - قَتَلَهُ قَوْمُهُ قَالَ وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِى.
Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Who will find out for us what happened to Abu Jahl?' Ibn Mas'ud set out and found that he had been struck by the two sons of 'Afra' and he was cold (near death). He took hold of his beard and said: 'Are you Abu Jahl?' He said: 'Is there anyone better than a man whom you have killed - or whose people have killed him?"' And Abu Mijlaz said: "Abu Jahl said: 'Would that someone other than a peasant had killed me."'
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ابو جہل کی خبر کون لے کر آئے گا ؟ حضرت ابن مسعود گئے تو دیکھا عفراء کے دو بیٹوں نے ابوجہل کو مار دیا ہے اور اس کا جسم ٹھنڈا ہونے والا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی داڑھی پکڑ کر فرمایا: کیا تو ابوجہل ہے؟ اس نے کہا: کیا تم نے اتنے بڑے کسی اور آدمی کو بھی قتل کیا ہے؟ یا اس نے کہا: اس کی قوم نے اتنے بڑے آدمی کو قتل کیا ہے؟ ابومجلز کہتے ہیں: کہ ابوجہل نے یہ بھی کہا: کاش کہ مجھے کسان کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِىُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ يَعْلَمُ لِى مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ ». بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَقَوْلِ أَبِى مِجْلَزٍ كَمَا ذَكَرَهُ إِسْمَاعِيلُ.
Anas said: "The Prophet of Allah (s.a.w) said: 'Who will find out for me what happened to Abu Jahl?'" A Hadith like that of Ibn 'Ulayyah, (no. 4662) and the words of Abu Mijlaz as narrated by Isma'il.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھے کوئی آدمی آکر یہ بتائے کہ ابو جہل کا کیا ہوا؟ اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
42. باب قَتْلِ كَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ طَاغُوتِ الْيَهُودِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ الزُّهْرِىُّ كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لِلزُّهْرِىِّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ». فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ « نَعَمْ ». قَالَ ائْذَنْ لِى فَلأَقُلْ قَالَ « قُلْ ». فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ وَذَكَرَ مَا بَيْنَهُمَا وَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَرَادَ صَدَقَةً وَقَدْ عَنَّانَا. فَلَمَّا سَمِعَهُ قَالَ وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ. قَالَ إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ الآنَ وَنَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَىِّ شَىْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ - قَالَ - وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ تُسْلِفَنِى سَلَفًا قَالَ فَمَا تَرْهَنُنِى قَالَ مَا تُرِيدُ. قَالَ تَرْهَنُنِى نِسَاءَكُمْ قَالَ أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ أَنَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا قَالَ لَهُ تَرْهَنُونِى أَوْلاَدَكُمْ. قَالَ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَيُقَالُ رُهِنَ فِى وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ. وَلَكِنْ نَرْهَنُكَ اللأْمَةَ - يَعْنِى السِّلاَحَ - قَالَ فَنَعَمْ. وَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِالْحَارِثِ وَأَبِى عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ فَجَاءُوا فَدَعَوْهُ لَيْلاً فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ غَيْرُ عَمْرٍو قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ إِنِّى لأَسْمَعُ صَوْتًا كَأَنَّهُ صَوْتُ دَمٍ قَالَ إِنَّمَا هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعُهُ وَأَبُو نَائِلَةَ إِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِىَ إِلَى طَعْنَةٍ لَيْلاً لأَجَابَ. قَالَ مُحَمَّدٌ إِنِّى إِذَا جَاءَ فَسَوْفَ أَمُدُّ يَدِى إِلَى رَأْسِهِ فَإِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَدُونَكُمْ قَالَ فَلَمَّا نَزَلَ نَزَلَ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ فَقَالُوا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الطِّيبِ قَالَ نَعَمْ تَحْتِى فُلاَنَةُ هِىَ أَعْطَرُ نِسَاءِ الْعَرَبِ. قَالَ فَتَأْذَنُ لِى أَنْ أَشُمَّ مِنْهُ قَالَ نَعَمْ فَشُمَّ. فَتَنَاوَلَ فَشَمَّ ثُمَّ قَالَ أَتَأْذَنُ لِى أَنْ أَعُودَ قَالَ فَاسْتَمْكَنَ مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ دُونَكُمْ. قَالَ فَقَتَلُوهُ.
It was narrated that 'Amr heard Jabir say: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Who will (deal with) Ka'b bin Al-Ashraf? For he has offended Allah and His Messenger.' Muhammad bin Maslamah said: 'O Messenger of Allah, do you want me to kill him?' He said: 'Yes.' He said: 'Give me permission to speak to him (with no restrictions).' He said: 'Speak to him (and say whatever you want).' So he went to him and spoke to him, and reminded him of that which was between them. He said: 'This man is asking us for charity and he is asking us for too much.' When he heard that he said: 'And by Allah, you will become more tired of him.' He said: 'We have become his followers now, and we would not like to leave him until we see what turn things will take.' He said: 'I want you to give me a loan.' He said: 'What will you give me as a collateral?' He said: 'What do you want?' He said: 'Give me your womenfolk as collateral.' He said: 'You are the most handsome of the Arabs; why would we give you our womenfolk as collateral?' He said: 'Give me your children as collateral.' He said: 'Our children will be slandered, and it will be said that they were given as collateral for two Sa' of dates.' Rather we will give you our weapons as collateral.' He said: 'Yes, then.' So he promised him that he would come to him with Al-Harith, Abu 'Abs bin Jabr, and 'Abbad bin Bishr. They came and called to him at night, and he went down to them." - Sufyan said: (all the narrators) except 'Amr said: "His wife said to him: 'I hear a sound like the sound of one who wants to shed blood.' He said: 'It is only Muhmmmad bin Maslamah, his foster brother, and Abu Na'ilah. When a gentleman is called he must respond, even if he will be stabbed.' Muhammad said: 'When he comes, I will stretch out my hands towards his head, and when I hold him, do your job.' When he came down, he came down holding his cloak under his arm. They said: 'We smell a nice fragrance coming from you.' He said: 'Yes, I am married to so-and-so who is the most fragrant of Arab women.' He said: 'Let me smell it.' He said: 'Yes, smell it.' So he held his head and smelled it. Then he said: 'Will you let me smell it again?' Then he held him firmly by the head and said: 'Do your job,' and they killed him."
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف پہنچائی ہے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپﷺ پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں، آپﷺ نے فرمایا: ہاں،انہوں نے عرض کیا: پھر مجھے کچھ تعریضا کہنے کی اجازت دیجئے ، آپﷺنے فرمایا: کہہ دینا، وہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور اس سے باتیں کی اپنے اور آپﷺ کے درمیان ایک فرضی معاملہ بیان کیا اور کہا: یہ آدمی ہم سے صدقہ وصول کرتا ہے اور ہمیں مشقت میں ڈال رکھا ہے جب کعب نے سنا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! ابھی تو تم کو اور مصیبت پڑے گی ، محمد بن مسلمہ نے کہا: اب تو ہم ان کی اتباع کر چکے ہیں اور ہم اسے اس کے معاملہ کا انجام دیکھے بغیر چھوڑنا پسند نہیں کرتے، انہوں نے مزید کہا: کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے کچھ دے دے، کعب نے کہا: تم میرے پاس کون سی چیز گروی رکھو گے؟ ابن مسلمہ نے کہا: جو تم چاہو گے، کعب نے کہا: تم اپنی عورتیں میرے پاس گروی رکھ دو۔ ابن مسلمہ نے کہا: تم تو عرب کا خوبصورت آدمی ہو، کیا ہم تیرے پاس اپنی عورتیں گروی رکھیں۔ کعب نے کہا: اچھا تم اپنی اولاد گروی رکھ دو، ابن مسلمہ نے کہا: ہمارے بیٹوں کو گالی دی جائے گی تو کہا جائے گا ان کو دو وسق کھجور کے بدلے گروی رکھا گیا ہے البتہ ہم اسلحہ تیرے پاس گروی رکھ سکتے ہیں کعب بن اشرف نے کہا: ٹھیک ہے ابن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے پاس حارث، ابو عبس بن جبر اور عباد بن بشر کو لے آئے گا پس یہ لوگ اس کے پاس گئے اور رات کے وقت اسے بلایا وہ ان کی طرف آنے لگا تو اسے اس کی بیوی نے کہا: میں آواز سنتی ہوں گویا کہ وہ خون کی آواز ہے کعب نے کہا: یہ محمد بن مسلمہ اور اس کا رضاعی بھائی اور ابو نائلہ ہے اورمعزز آدمی کو اگر رات کے وقت بھی نیزہ بازی کی طرف بلایا جائے تو اسے بھی قبول کر لیتا ہے۔ ادھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا تھا ،کہ جب وہ آئے گا میں اس کے سر کی طرف اپنے ہاتھ کو بڑھاؤں گا جب میں اسے قبضہ میں لے لوں تو تم حملہ کر دینا۔ جب وہ نیچے اترا تو اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ان حضرات نے کہا: ہم آپ سے خوشبو کی مہک محسوس کر رہے ہیں اس نے کہا: ہاں، میری بیوی فلاں ہے جو عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ خوشبو کو پسند کرنے والی ہے ابن مسلمہ نے کہا: کیا آپ مجھے خوشبو سونگھنے کی اجازت دیتے ہیں ، اس نے کہا: سونگھ لو، پھر دوبارہ کہا: کیا آپ مجھے دوبارہ سونگھنے کی اجازت دیں گے ، اس دفعہ انہوں نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا ، اور ساتھیوں سے کہا: حملہ کردو پھر انہوں نے اسے قتل کر دیا۔
43. باب غَزْوَةِ خَيْبَرَ
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِى ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- غَزَا خَيْبَرَ قَالَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِى طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِى لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَانْحَسَرَ الإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَإِنِّى لأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ « اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ». قَالَهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ - قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا - وَالْخَمِيسَ قَالَ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً.
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) launched a campaign against Khaibar. "We prayed Fajr there when it was still dark, then the Prophet of Allah (s.a.w) rode and Abu Talhah rode, and I was seated behind Abu Talhah (on his mount). The Prophet (s.a.w) let his mount run through the narrow streets of Khaibar, and my knee was touching the thigh of the Prophet of Allah (s.a.w). The Izar slipped from the thigh of the Prophet of Allah (s.a.w), and I could see the whiteness of the thigh of the Prophet of Allah (s.a.w). When he entered the town, he said: 'Allahu-Akbar! Khaibar is destroyed! Then, when we descend in their courtyard (i.e. near to them), evil will be the morning for those who had been warned!' He said it three times. The people had come out to their work and they said: 'Muhammad!'" - (One of the narrators) 'Abdul-'Aziz said: "Some of our companions said: 'And the army!"'- He said: "And we seized Khaibar by force."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے جنگ کی ،ہم نے خیبر کے قریب پہنچ کر فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کرلی اللہ کے نبی ﷺ اور ابوطلحہ سوار ہو گئے اور میں ابوطلحہ کے پیچھے سوار ہو گیا اللہ کے نبی ﷺ نے سواری خیبر کی گلیوں کی طرف دوڑائی اور میرا گھٹنا اللہ کےنبیﷺ کی ران سے لگ جاتا تھا نبی ﷺ کی ران سے چادر ہٹ گئی تھی تو میں نے اللہ کے نبی ﷺ کی ران کی سفیدی دیکھی پس جب آپ ﷺ بستی میں پہنچے تو فرمایا: اللہ اکبر ! خیبر ویران ہو گیا ،ہم جب کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے، یہ جملہ آپﷺنے تین مرتبہ دہرایا، اور اہل خیبر اس وقت اپنے اپنے کاموں کی طرف نکلے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا: محمد آ گئے اور بعض راویوں نے کہا: لشکر کے ساتھ آ گئے اور ہم نے خیبر کو جنگ سے فتح کرلیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ أَبِى طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِى تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُئُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ».
قَالَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
It was narrated that Anas said: "I was riding behind Abu Talhah on the day of (the battle of) Khaibar, and my foot was touching the foot of the Messenger of Allah (s.a.w). We came to them when the sun had risen and they had brought out their flocks and had come out with their axes, large baskets and shovels. They said: 'Muhammad and the army!' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Khaibar is destroyed! Then, when we descend in their courtyard (i.e. near to them), evil will be the morning for those who had been warned!' And Allah defeated them."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں خیبر کے دن ابوطلحہ کے پیچھے سوار تھا اور میرا قدم رسول اللہ ﷺ کے قدم کو لگ رہا تھا ،ہم ان کے پاس اس وقت آئے جب سورج نکل چکا تھا اور انہوں نے اپنے جانوروں کو نکال لیا تھا اور خود درانتیاں اور ٹوکریاں اور درختوں پر چڑھنے کے لیے رسیاں لے کر باہر نکل رہے تھے انہوں نے کہا: محمد ﷺ بمعہ لشکر آ گئے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خیبر برباد ہو گیا جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے پھر اللہ رب العزت نے انہیں شکست سے دوچار کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَتَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَيْبَرَ قَالَ « إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ».
It was narrated that Anas bin Malik said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) came to Khaibar he said: 'Then, when we descend in their courtyard (i.e. near to them), evil will be the morning for those who had been warned!'"
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ خیبر تشریف لائے تو آپﷺ نے فرمایا: جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى خَيْبَرَ فَتَسَيَّرْنَا لَيْلاً فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الأَكْوَعِ أَلاَ تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلاً شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا اقْتَفَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ هَذَا السَّائِقُ ». قَالُوا عَامِرٌ. قَالَ « يَرْحَمُهُ اللَّهُ ». فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلاَ أَمْتَعْتَنَا بِهِ. قَالَ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ثُمَّ قَالَ « إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْكُمْ ». قَالَ فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِى فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُوقِدُونَ ». فَقَالُوا عَلَى لَحْمٍ. قَالَ « أَىُّ لَحْمٍ ». قَالُوا لَحْمُ حُمُرِ الإِنْسِيَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا ». فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ يُهَرِيقُوهَا وَيَغْسِلُوهَا فَقَالَ « أَوْ ذَاكَ ». قَالَ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِىٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِى قَالَ فَلَمَّا رَآنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَاكِتًا قَالَ « مَا لَكَ ». قُلْتُ لَهُ فِدَاكَ أَبِى وَأُمِّى زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ « مَنْ قَالَهُ ». قُلْتُ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الأَنْصَارِىُّ فَقَالَ « كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لأَجْرَيْنِ ». وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ « إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِىٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ ». وَخَالَفَ قُتَيْبَةُ مُحَمَّدًا فِى الْحَدِيثِ فِى حَرْفَيْنِ وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّادٍ وَأَلْقِ سَكِينَةً عَلَيْنَا.
It was narrated that Salamah bin Al-Akwa' said: "We set out with the Messenger of Allah (s.a.w) to Khaibar, travelling by night. One of the men said to 'Amir bin Al-Akwa': 'Will you not let us hear some of your poetry?' For 'Amir was a poet. So he started to chant to the people, saying: 'O Allah, were it not for You, we would not have been guided, Or given charity or offered prayers. So forgive us, we want to lay down our lives for You Make us steadfast when we meet (the enemy) And bestow tranquillity upon us When we are called upon.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Who is this camel-driver?' They said: "Amir.' He said: 'May Allah have mercy on him.' One of the men said: 'It (martyrdom) is .guaranteed for him, O Messenger of Allah. Would that you had let us benefit from him.' Then we came to Khaibar and besieged them until we began to suffer extreme hunger. Then he said: 'Allah, exalted is He, has granted victory over them.' When the evening of the day when victory was granted came, the people lit many fires. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'What are these fires? What have they been lit for?' They said: 'For cooking meat.' He said: 'What kind of meat?' They said: 'The meat of domestic donkeys.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Throw it away and break the pots.' A man said: 'Or may they throw it away and wash the pots?' He said: 'Or that.' When the people were drawn up in ranks, 'Amir's sword was somewhat short. He went to strike the leg of a Jew, but his sword recoiled and struck his own knee, and he died as a result of that. When they returned (from Khaibar)" - Salamah said it while holding my hand - "when the Messenger of Allah (s.a.w) saw me looking subdued, he said: 'What is the matter with you?' I said to him: 'May my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah. They are saying that 'Amir's deed was in vain.' He said: 'Who said that?' I said: 'So-and- so, and so-and-so, and Usaid bin Haider Al-Ansari.' He said: 'Those who said that are lying. He will have two rewards,' and he held up two fingers together, 'for he strove hard in worship and engaged in Jihad in the cause of Allah, and there are few Arabs who strove as he did.'"
یزید بن ابی عبید مولی حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ حضرت سلمہ بن اکوع سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلے اور رات کے وقت سفر کیا قوم میں سے ایک آدمی نے عامر بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: آپ ﷺ ہمیں اپنے اشعار میں سے کچھ شعر نہ سنائیں گے اور عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شاعر تھے عامر قوم کے ساتھ اترے اور یہ شعر کہے۔ اے اللہ اگر تو ہماری مدد نہ کرتا تو ہمیں ہدایت نہ ملتی نہ ہم زکوۃادا کرتے اور نہ نماز پڑھتےبس ہماری طلب یہی ہے کہ آپ ہمیں معاف فرمادیں،ہم تجھ پر فدا ہوں اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر دے اگر ہم دشمنوں سے مقابلہ کریں اور ہم پر تسلی نازل فرما جب ہم کو بلایا جاتا ہے تو ہم پہنچ جاتے ہیں اور ندا میں لوگ ہم پر بھروسہ کر لیتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ہنکانے والا کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: عامر ہے آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم فرمائے قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! اس پر رحمت واجب ہوگئی، کاش آپ ﷺ ہمیں بھی اس سے مستفید کرتے۔ ہم خبیر میں پہنچے اور ان کا محاصرہ کر لیا یہاں تک کہ ہمیں سخت بھوک لگی پھر آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ نے خبیر تمہارے لئے فتح کر دیا ہے جب لوگوں نے شام کی اس دن جس دن خبیر ان کے لئے فتح کیا گیا تو لوگوں نے بہت زیادہ آگ روشن کی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ آگ کیسی ہے؟ اور کس چیز کےلیے جلا رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: گوشت، آپ ﷺ نے فرمایا: کونسا گوشت؟ صحابہ نے عرض کیا: پالتو گدھے کا گوشت، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہانڈیاں الٹ دو، اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو ایک صحابی نے عرض کیا: کیا ہم اسے انڈیل دیں اور ہانڈیوں کو دھولیں آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا کرلو جب لوگوں نے صف بندی کی تو عامر کی تلوار چھوٹی تھی انہوں نے یہودی کی پنڈلی پر وہ تلوار ماری لیکن تلوار کی دھار واپس آ کر عامر کے زانوں پر لگی جس سے وہ فوت ہو گئے، پھر جب صحابہ واپس لوٹے تو حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: جب رسول اللہ نے مجھے خاموش دیکھا تو فرمایا: کیا بات ہے میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان لوگوں کا خیال ہے کہ عامر کے تمام اعمال برباد ہو گئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: کس نے یہ بات کہی ہے؟ میں نے عرض کیا: فلاں فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے، آپ ﷺنے فرمایا: جس نے یہ کہا ہے جھوٹ کہا ہے اس کے لئے تو دوہرا اجر ہے اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ اس نے اس طرح جہاد کیا جس کی مثال عرب میں بہت کم ہے۔
قتیبہ نے دو حرفوں میں راوی محمد کی مخالفت کی ہے اور ابن عباد کی روایت میں " الق سکینۃ علینا" ہے۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ - وَنَسَبَهُ غَيْرُ ابْنِ وَهْبٍ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِى قِتَالاً شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ فِى سِلاَحِهِ. وَشَكُّوا فِى بَعْضِ أَمْرِهِ.
قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِى أَنْ أَرْجُزَ لَكَ.
فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَعْلَمُ مَا تَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « صَدَقْتَ ». وَأَنْزِلَنَّ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا قَالَ فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ قَالَ هَذَا ». قُلْتُ قَالَهُ أَخِى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَرْحَمُهُ اللَّهُ ». قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلاَحِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا ». قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِى عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ - حِينَ قُلْتُ إِنَّ نَاسًا يَهَابُونَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ». وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ.
Salamah bin Al-Akwa' said: "On the day of (the battle of) Khaibar, my brother fought fiercely alongside the Messenger of Allah (s.a.w), but his sword recoiled on him and killed him. The Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) said concerning that - doubting (that it was martyrdom): 'A man died by his own weapon.' And they were uncertain about him." Salamah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) came back from Khaibar and I said: 'O Messenger of Allah, give me permission to recite some lines of poetry to you."' The Messenger of Allah (s.a.w) gave him permission, but 'Umar bin Al-Khattab said: "I know what you are going to say." "I said: 'O Allah, were it not for You, we would not have been guided, Or given charity or offered prayers.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'You are right.' 'Bestow tranquillity upon us And make us steadfast when we meet (the enemy), For the idolaters have wronged us.' When I had finished reciting these lines, the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Who said this?' I said: 'My brother said it.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'May Allah have mercy on him.' I said: 'By Allah, O Messenger of Allah, people are reluctant to offer the funeral prayer for him, and they are saying that he is a man who died by his own weapon.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'He died having striven hard in worship and engaged in Jihad in the cause of Allah."' Ibn Shihab said: "Then I asked a son of Salamah bin Al-Akwa', and he told me something similar, except that he said - 'When I said that people were reluctant to offer the funeral prayer for him - that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "They are lying. He died having striven hard in worship and engaged in Jihad in the cause of Allah, and he will have a two fold reward," and he gestured with two fingers."'
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میرے بھائی نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سخت لڑائی کی مگر اتفاق سے اس کی اپنی تلوار پلٹ کر اس کو لگی جس سے وہ شہید ہو گئے ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اس کے بارے میں گفتگو کی اور ایسے آدمی کی شہادت میں شک کیا جو اپنے اسلحہ سے وفات ہوجائے اور اسی طرح اس کے بعض حالات میں شک کیا۔ سلمہ نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ خبیر سے لوٹے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ ﷺ کو کچھ رجزیہ اشعار سناؤں تو رسول اللہ ﷺ نے اجازت دے دی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: جو کچھ کہو سوچ سمجھ کر کہو تو میں نے یہ شعر کہا: اللہ کی قسم! اگر اللہ ہمیں ہدایت عطا نہ فرماتا تو ہم نہ زکوۃ ادا کرتے اور نہ نماز پڑھتے رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم نے سچ کہا اور ہم پر اپنی رحمت نازل فرما اور اگر ہم مقابلہ کریں تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور کفار نے ہم پر حملہ کیا ہوا تھا، جب میں اپنے اشعار پورے کر چکا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ اشعار کس کے ہیں ؟، میں نے عرض کیا: یہ میرے بھائی عامرکے شعر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی ان پر رحم فرمائے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! بعض لوگ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے میں ہچکچاتے ہیں اور کہتے تھے کہ یہ ایسا شخص ہے جو اپنے اسلحہ سے شہید ہوا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ اللہ کی اطاعت اور جہاد کرتے ہوئے شہید ہوا ہے۔ ابن شہاب نے کہا: پھر میں نے سلمہ بن اکوع کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اپنے والد سے مجھے بیان کی اور اس میں یہ کہا: جب میں نے عرض کیا کہ بعض لوگ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے میں ہچکچا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے جھوٹ کہا ہے بلکہ وہ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوا ہے اور اس کے لئے دوہرا اجر و ثواب ہوگا اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔
44. باب غَزْوَةِ الأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الأَحْزَابِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَلَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ « وَاللَّهِ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا ». قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ « إِنَّ الْمَلاَ قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا ». وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ.
Al-Bara' said: "On the day of (the battle of) Al-Ahzab, the Messenger of Allah (s.a.w) was moving dirt with us. The dirt had covered the whiteness of his stomach, and he was saying: 'O Allah, were it not for You we would not have been guided Or given charity or offered prayers. Send down tranquility upon us For those have wronged us.' And he said: 'The men are refusing to listen to us, But if they want mischief we shall refuse.' And he raised his voice when saying these words.''
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احزاب میں رسول اللہﷺہمارے ساتھ مٹی اٹھارہے تھے اور مٹی کی وجہ سے آپﷺکی پیٹ کی سفیدی اٹی ہوئی تھی ، اور آپﷺ یہ فرمارہے تھے ۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ کی مدد نہ ہوتی تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے ۔ اے اللہ ! تو ہم پر سکون نازل فرما ، بے شک دشمن ہم پر ٹوٹ پڑا تھا۔ اور کبھی یوں فرمایا: ان کافروں نے ہماری بات ماننے سے انکار کردیا۔ جب وہ فساد کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں ۔ جب آپ "ابینا" فرماتے تو آواز بلند فرماتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ. فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ « إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ».
It was narrated that Abu Ishaq said: "I heard Al-Bara' mention something similar (to no. 4670) , except that he said: 'For those have transgressed against us."'
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت مروی ہے ، البتہ اس میں" ان الالی قد بغوا علینا "ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَافِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ ».
It was narrated that Sahl bin Sa'd said: "The Messenger of Allah (s.a.w) came to us when we were digging the ditch and carrying away the dirt on our shoulders. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O Allah, there is no life but the life of the Hereafter, so forgive the Muhajirin and the Ansar."'
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ ہم خندق کھود رہے تھے ، اور اپنے کندھوں پر مٹی ڈھورہے تھے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اے اللہ! زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے سو تو مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ».
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (s.a.w) said: "O Allah, there is no life but the life of the Hereafter, So forgive the Ansar and the Muhajirin."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اے اللہ ! زندگی تو صرف آخرت ہی کی زندگی ہے ، سو تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُولُ « اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الآخِرَةِ ». قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ « اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ ».
It was narrated from Qatadah: "Anas bin Malik told us that the Messenger of Allah (s.a.w) used to say: 'O Allah, there is -no life but the life of the Hereafter."' (One of the narrators) Shu'bah said: "Or he said: 'O Allah, there is no life but the life of the Hereafter, So honor the Ansar and the Muhajirin."'
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺفرماتے تھے : (شعبہ نے کہا یا فرمایا) اے اللہ! زندگی تو صرف آخرت ہی کی زندگی ہے سو تو انصار اور مہاجرین پر کرم فرما۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ شَيْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِى التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ وَفِى حَدِيثِ شَيْبَانَ بَدَلَ فَانْصُرْ فَاغْفِرْ.
Anas bin Malik said: "They were chanting lines of poetry, when the Messenger of Allah (s.a.w) was with them, and they were saying: 'O Allah, there is no goodness but the goodness of the Hereafter So help the Ansar and the Muhajirin."' According to the Hadith of Shaiban, instead of "help"they said "forgive."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ رجز کرتے تھے ، اور ان کے ساتھ رسول اللہﷺ بھی رجز کرتے تھے اور صحابہ یہ کہتے تھے : اے اللہ! بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے ، سو تو مہاجرین اور انصار کی مدد فرما۔ اور شیبان کی حدیث میں " فانصر" کی جگہ " فاغفر" ہے۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- كَانُوا يَقُولُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الإِسْلاَمِ مَا بَقِينَا أَبَدًا أَوْ قَالَ عَلَى الْجِهَادِ. شَكَّ حَمَّادٌ وَالنَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ».
It was narrated from Anas that the Companions of Muhammad (s.a.w) were saying on the day of (the battle of) Al-Khandaq: 'We are the ones who swore allegiance to Muhammad (Swearing) to follow Islam as long as we live.' Or he said: '(Swearing) to engage in Jihad'"- (One of the narrators) Hammad was not sure - "And the Prophet (s.a.w) was saying: 'O Allah, the (true) goodness is the goodness of the Hereafter, So forgive the Ansar and Muhajirin."'
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺکے صحابہ جنگ خندق کے دن یہ کہہ رہے تھے : ہم نے محمد ﷺسے تاحیات اسلام پر بیعت کی ہے ۔ حماد کو شک ہے کہ شاید اسلام کے بدلہ میں جہاد کہا تھا اور نبی ﷺیہ فرماتے تھے : اے اللہ! بھلائی تو فقط آخرت کی بھلائی ہے سو تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔
45. بابُ غَزْوَةِ ذِي قَرَدٍ وَغَيْرِهَا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ يَقُولُ خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالأُولَى وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تَرْعَى بِذِى قَرَدٍ - قَالَ - فَلَقِيَنِى غُلاَمٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ قَالَ فَصَرَخْتُ ثَلاَثَ صَرَخَاتٍ يَا صَبَاحَاهْ. قَالَ فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِى حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ بِذِى قَرَدٍ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْقُونَ مِنَ الْمَاءِ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِى وَكُنْتُ رَامِيًا وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمَ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلاَثِينَ بُرْدَةً - قَالَ - وَجَاءَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَالنَّاسُ فَقُلْتُ يَا نَبِىَّ اللَّهِ إِنِّى قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ فَابْعَثْ إِلَيْهِمُ السَّاعَةَ فَقَالَ « يَا ابْنَ الأَكْوَعِ مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ ». - قَالَ - ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ.
Salamah bin Al-Akwa' said: "I went out before the first Adhan, and the milch-camels of the Messenger of Allah (s.a.w) were grazing at Dhu Qarad. A slave of 'Abdur-Rahman bin 'Awf met me and said: 'The milch-camels of the Messenger of Allah (s.a.w) have been stolen.' I said: 'Who took them?' He said: 'Ghatafan.' So I shouted three times: 'Ya Sabahah! (a cry of alarm),' and I made the whole city between the two lava plains hear me. Then I ran off in pursuit until I caught up with them in Dhu Qarad, and they were watering (the animals). I started shooting them with my arrows, as I was an archer, and saying: 'I am the son of Al-Akwa' And today is the day when the ignoble meet their doom.' I kept chanting these lines, until I rescued the milch-camels from them, and I snatched thirty cloaks from them too. Then the Prophet (s.a.w) and the people came, and I said: 'O Prophet of Allah, I kept the people away from the water when they were thirsty. Send someone after them now.' He (s.a.w) said: 'O son of Al-Akwa', you have taken (what you have taken); be kind.' Then we came back, and the Messenger of Allah (s.a.w) seated me behind him on his she-camel, until we entered Al-Madinah."
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ پہلی اذان سے قبل(مدینہ سے) باہر نکلا تو وہاں مقام ذی قرد میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں چر رہیں تھیں تو مجھے عبدالرحمن بن عوف کا غلام ملا اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیوں کو پکڑ لیا گیا ہے، میں نے پوچھا کس نے پکڑی ہیں؟ غلام نے کہا: غطفان نے، حضرت سلمہ بن اکوع فرماتے ہیں: کہ میں نے چیخ چیخ کر تین مرتبہ یا صباحاہ کہا ،مدینہ کے دونوں کناروں تک میری آواز سنی گئی پھر میں سامنے کی طرف چلا یہاں تک کہ میں نے ذی قرد میں غطفان کے لوگوں کو پکڑ لیا وہ لوگ اونٹنیوں کو پانی پلا رہے تھے میں نے اپنے تیروں سے انہیں مارنا شروع کردیا اور میں تیر مارتےہوئے یہ کہہ رہا تھا۔ میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ تو میں یہ رجز پڑھتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان سے اونٹنیوں کو چھڑا لیا اور ان سےتیس چادریں بھی لے لیں اتنے میں رسول اللہﷺصحابہ کے ہمراہ تشریف لائے ، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میں نے ان لوگوں کو پانی سے روک رکھا ہے حالانکہ وہ پیاسے ہیں آپﷺ ان کی طرف ابھی لوگ بھیجیں آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابن اکوع! تم نے اپنی چیزیں تو لے لیں ہیں اب انہیں چھوڑ دو ۔ پھر ہم واپس لوٹے اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کیا یہاں تک کہ ہم مدینہ میں داخل ہو گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِىُّ كِلاَهُمَا عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ - وَهَذَا حَدِيثُهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِىٍّ الْحَنَفِىُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنِى إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِى أَبِى قَالَ قَدِمْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لاَ تُرْوِيهَا - قَالَ - فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى جَبَا الرَّكِيَّةِ فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَسَقَ فِيهَا - قَالَ - فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا. قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَعَانَا لِلْبَيْعَةِ فِى أَصْلِ الشَّجَرَةِ. قَالَ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِى وَسَطٍ مِنَ النَّاسِ قَالَ « بَايِعْ يَا سَلَمَةُ ». قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِى أَوَّلِ النَّاسِ قَالَ « وَأَيْضًا ». قَالَ وَرَآنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَزِلاً - يَعْنِى لَيْسَ مَعَهُ سِلاَحٌ - قَالَ فَأَعْطَانِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِى آخِرِ النَّاسِ قَالَ « أَلاَ تُبَايِعُنِى يَا سَلَمَةُ ».
قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِى أَوَّلِ النَّاسِ وَفِى أَوْسَطِ النَّاسِ قَالَ « وَأَيْضًا ». قَالَ فَبَايَعْتُهُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ قَالَ لِى « يَا سَلَمَةُ أَيْنَ حَجَفَتُكَ أَوْ دَرَقَتُكَ الَّتِى أَعْطَيْتُكَ ». قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيَنِى عَمِّى عَامِرٌ عَزِلاً فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا - قَالَ - فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقَالَ « إِنَّكَ كَالَّذِى قَالَ الأَوَّلُ اللَّهُمَّ أَبْغِنِى حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ نَفْسِى ». ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّى مَشَى بَعْضُنَا فِى بَعْضٍ وَاصْطَلَحْنَا. قَالَ وَكُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَسْقِى فَرَسَهُ وَأَحُسُّهُ وَأَخْدُمُهُ وَآكُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَكْتُ أَهْلِى وَمَالِى مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَكَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَكَسَحْتُ شَوْكَهَا فَاضْطَجَعْتُ فِى أَصْلِهَا - قَالَ - فَأَتَانِى أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَجَعَلُوا يَقَعُونَ فِى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَبْغَضْتُهُمْ فَتَحَوَّلْتُ إِلَى شَجَرَةٍ أُخْرَى وَعَلَّقُوا سِلاَحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِى يَا لَلْمُهَاجِرِينَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ. قَالَ فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِى ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَى أُولَئِكَ الأَرْبَعَةِ وَهُمْ رُقُودٌ فَأَخَذْتُ سِلاَحَهُمْ. فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا فِى يَدِى قَالَ ثُمَّ قُلْتُ وَالَّذِى كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لاَ يَرْفَعُ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَأْسَهُ إِلاَّ ضَرَبْتُ الَّذِى فِيهِ عَيْنَاهُ.
قَالَ ثُمَّ جِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - وَجَاءَ عَمِّى عَامِرٌ بِرَجُلٍ مِنَ الْعَبَلاَتِ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزٌ. يَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى فَرَسٍ مُجَفَّفٍ فِى سَبْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « دَعُوهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُورِ وَثِنَاهُ » فَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنْزَلَ اللَّهُ (وَهُوَ الَّذِى كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ) الآيَةَ كُلَّهَا. قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِى لَحْيَانَ جَبَلٌ وَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِمَنْ رَقِىَ هَذَا الْجَبَلَ اللَّيْلَةَ كَأَنَّهُ طَلِيعَةٌ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابِهِ - قَالَ سَلَمَةُ - فَرَقِيتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ مَعَ الظَّهْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِىُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِهِ - قَالَ - ثُمَّ قُمْتُ عَلَى أَكَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلاَثًا يَا صَبَاحَاهْ. ثُمَّ خَرَجْتُ فِى آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ أَقُولُ أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمَ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ رَجُلاً مِنْهُمْ فَأَصُكُّ سَهْمًا فِى رَحْلِهِ حَتَّى خَلَصَ نَصْلُ السَّهْمِ إِلَى كَتِفِهِ - قَالَ - قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَىَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِى أَصْلِهَا ثُمَّ رَمَيْتُهُ فَعَقَرْتُ بِهِ حَتَّى إِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِى تَضَايُقِهِ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ - قَالَ - فَمَا زِلْتُ كَذَلِكَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلاَّ خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِى وَخَلَّوْا بَيْنِى وَبَيْنَهُ ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثِينَ بُرْدَةً وَثَلاَثِينَ رُمْحًا يَسْتَخِفُّونَ وَلاَ يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلاَّ جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابُهُ حَتَّى أَتَوْا مُتَضَايِقًا مِنْ ثَنِيَّةٍ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَتَاهُمْ فُلاَنُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِىُّ فَجَلَسُوا يَتَضَحَّوْنَ - يَعْنِى يَتَغَدَّوْنَ - وَجَلَسْتُ عَلَى رَأْسِ قَرْنٍ قَالَ الْفَزَارِىُّ مَا هَذَا الَّذِى أَرَى قَالُوا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ وَاللَّهِ مَا فَارَقَنَا مُنْذُ غَلَسٍ يَرْمِينَا حَتَّى انْتَزَعَ كُلَّ شَىْءٍ فِى أَيْدِينَا. قَالَ فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ أَرْبَعَةٌ. قَالَ فَصَعِدَ إِلَىَّ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فِى الْجَبَلِ - قَالَ - فَلَمَّا أَمْكَنُونِى مِنَ الْكَلاَمِ - قَالَ - قُلْتُ هَلْ تَعْرِفُونِى قَالُوا لاَ وَمَنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ أَنَا سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ وَالَّذِى كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- لاَ أَطْلُبُ رَجُلاً مِنْكُمْ إِلاَّ أَدْرَكْتُهُ وَلاَ يَطْلُبُنِى رَجُلٌ مِنْكُمْ. فَيُدْرِكَنِى قَالَ أَحَدُهُمْ أَنَا أَظُنُّ. قَالَ فَرَجَعُوا فَمَا بَرِحْتُ مَكَانِى حَتَّى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ - قَالَ - فَإِذَا أَوَّلُهُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِىُّ عَلَى إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الأَنْصَارِىُّ وَعَلَى إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ الْكِنْدِىُّ - قَالَ - فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ الأَخْرَمِ - قَالَ - فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ قُلْتُ يَا أَخْرَمُ احْذَرْهُمْ لاَ يَقْتَطِعُوكَ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابُهُ. قَالَ يَا سَلَمَةُ إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلاَ تَحُلْ بَيْنِى وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ. قَالَ فَخَلَّيْتُهُ فَالْتَقَى هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ - قَالَ - فَعَقَرَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ وَتَحَوَّلَ عَلَى فَرَسِهِ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ فَوَالَّذِى كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- لَتَبِعْتُهُمْ أَعْدُو عَلَى رِجْلَىَّ حَتَّى مَا أَرَى وَرَائِى مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- وَلاَ غُبَارِهِمْ شَيْئًا حَتَّى يَعْدِلُوا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ ذُو قَرَدٍ لِيَشْرَبُوا مِنْهُ وَهُمْ عِطَاشٌ - قَالَ - فَنَظَرُوا إِلَىَّ أَعْدُو وَرَاءَهُمْ فَحَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ - يَعْنِى أَجْلَيْتُهُمْ عَنْهُ - فَمَا ذَاقُوا مِنْهُ قَطْرَةً - قَالَ - وَيَخْرُجُونَ فَيَشْتَدُّونَ فِى ثَنِيَّةٍ - قَالَ - فَأَعْدُو فَأَلْحَقُ رَجُلاً مِنْهُمْ فَأَصُكُّهُ بِسَهْمٍ فِى نُغْضِ كَتِفِهِ. قَالَ قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمَ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ يَا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ أَكْوَعُهُ بُكْرَةَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَكْوَعُكَ بُكْرَةَ - قَالَ - وَأَرْدَوْا فَرَسَيْنِ عَلَى ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - وَلَحِقَنِى عَامِرٌ بِسَطِيحَةٍ فِيهَا مَذْقَةٌ مِنْ لَبَنٍ وَسَطِيحَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَتَوَضَّأْتُ وَشَرِبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِى حَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ أَخَذَ تِلْكَ الإِبِلَ وَكُلَّ شَىْءٍ اسْتَنْقَذْتُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَكُلَّ رُمْحٍ وَبُرْدَةٍ وَإِذَا بِلاَلٌ نَحَرَ نَاقَةً مِنَ الإِبِلِ الَّذِى اسْتَنْقَذْتُ مِنَ الْقَوْمِ وَإِذَا هُوَ يَشْوِى لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا - قَالَ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلِّنِى فَأَنْتَخِبُ مِنَ الْقَوْمِ مِائَةَ رَجُلٍ فَأَتَّبِعُ الْقَوْمَ فَلاَ يَبْقَى مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلاَّ قَتَلْتُهُ - قَالَ - فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فِى ضَوْءِ النَّارِ فَقَالَ « يَا سَلَمَةُ أَتُرَاكَ كُنْتَ فَاعِلاً ». قُلْتُ نَعَمْ وَالَّذِى أَكْرَمَكَ. فَقَالَ « إِنَّهُمُ الآنَ لَيُقْرَوْنَ فِى أَرْضِ غَطَفَانَ ». قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ فَقَالَ نَحَرَ لَهُمْ فُلاَنٌ جَزُورًا فَلَمَّا كَشَفُوا جِلْدَهَا رَأَوْا غُبَارًا فَقَالُوا أَتَاكُمُ الْقَوْمُ فَخَرَجُوا هَارِبِينَ. فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كَانَ خَيْرَ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرَ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ ». قَالَ ثُمَّ أَعْطَانِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَهْمَيْنِ سَهْمُ الْفَارِسِ وَسَهْمُ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا لِى جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ - قَالَ - فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ قَالَ وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ لاَ يُسْبَقُ شَدًّا - قَالَ - فَجَعَلَ يَقُولُ أَلاَ مُسَابِقٌ إِلَى الْمَدِينَةِ هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ فَجَعَلَ يُعِيدُ ذَلِكَ - قَالَ - فَلَمَّا سَمِعْتُ كَلاَمَهُ قُلْتُ أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَلاَ تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لاَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِى وَأُمِّى ذَرْنِى فَلأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ « إِنْ شِئْتَ ». قَالَ قُلْتُ اذْهَبْ إِلَيْكَ وَثَنَيْتُ رِجْلَىَّ فَطَفَرْتُ فَعَدَوْتُ - قَالَ - فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ أَسْتَبْقِى نَفَسِى ثُمَّ عَدَوْتُ فِى إِثْرِهِ فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ثُمَّ إِنِّى رَفَعْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ - قَالَ - فَأَصُكُّهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ - قَالَ - قُلْتُ قَدْ سُبِقْتَ وَاللَّهِ قَالَ أَنَا أَظُنُّ. قَالَ فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْنَا إِلاَّ ثَلاَثَ لَيَالٍ حَتَّى خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَجَعَلَ عَمِّى عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ تَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ هَذَا ». قَالَ أَنَا عَامِرٌ. قَالَ « غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ ». قَالَ وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لإِنْسَانٍ يَخُصُّهُ إِلاَّ اسْتُشْهِدَ. قَالَ فَنَادَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ يَا نَبِىَّ اللَّهِ لَوْلاَ مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ. قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ قَالَ خَرَجَ مَلِكُهُمْ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَيَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّى مَرْحَبُ شَاكِى السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ وَبَرَزَ لَهُ عَمِّى عَامِرٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّى عَامِرٌ شَاكِى السِّلاَحِ بَطَلٌ مُغَامِرٌ قَالَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِى تُرْسِ عَامِرٍ وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْفُلُ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ. قَالَ سَلَمَةُ فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُونَ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا أَبْكِى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ قَالَ ذَلِكَ ». قَالَ قُلْتُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ. قَالَ « كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ». ثُمَّ أَرْسَلَنِى إِلَى عَلِىٍّ وَهُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ « لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ». قَالَ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَبَسَقَ فِى عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّى مَرْحَبُ شَاكِى السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِىٌّ أَنَا الَّذِى سَمَّتْنِى أُمِّى حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ فَضَرَبَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ ثُمَّ كَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْهِ.
قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ.وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِىُّ السُّلَمِىُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا.
Iyas bin Salamah narrated: "My father said: 'We came to Al-Hudaibiyah with the Messenger of Allah (s.a.w) and we were fourteen hundred strong. They had fifty sheep that they could not water. The Messenger of Allah (s.a.w) sat at the edge of the well, and he either offered supplication or spat into the well, then the water welled up, and we drank and gave water to the animals. Then the Messenger of Allah (s.a.w) called upon us to swear allegiance at the foot of the tree. I swore allegiance to him with the first of the people, then one group after another swore allegiance to him. Then when the people were halfway done, he said: "Swear allegiance, O Salamah!" I said: "I swore allegiance to you, O Messenger of Allah, with the first of the people." He said: "Do it again." And the Messenger of Allah (s.a.w) saw that I had no weapon, so the Messenger of Allah (s.a.w) gave me a large shield or a small shield, then I swore allegiance to him again. Then when he reached the last of the people, he said: "Will you not swear allegiance to me, O Salamah?" I said: "I have sworn allegiance to you, O Messenger of Allah, with the first of the people and when the people were halfway done." He said: "Do it again." So I swore allegiance to him a third time. Then he said to me: "O Salamah, where is the shield that I gave you?" I said: "O Messenger of Allah, my paternal uncle 'Amir met me and he had no weapon, so I gave it to him." The Messenger of Allah (s.a.w) smiled and said: "You are like the one who said in the past: 'O Allah, give me a friend who is dearer to me than my own self."' Then the idolaters sent an offer of peace, so we started to mix with one another and we concluded a truce. I was a servant of Talhah bin 'Ubaidullah; I used to water and groom his horse, and serve him, and I ate from his food. I had left behind my family and wealth to emigrate in the cause of Allah and to join His Messenger (s.a.w). When we made peace with the people of Makkah and began to mix with one another, I came to a tree, swept away its thorns and lay down at its base. Then four of the idolaters from Makkah came to me and started to speak ill of the Messenger of Allah (s.a.w). I got angry with them and I moved to another tree, and they hung up their weapons and lay down. While they were like that, a caller cried out from the bottom of the valley: "O Muhajirin! Ibn Zunaim has been killed!" I drew my sword and attacked those four men while they slept, and I took their weapons and gathered them in my hand. Then I said: "By the One Who has honored the face of Muhammad, none of you will raise his head but I will strike his face." Then I brought them to the Messenger of Allah (s.a.w), and my paternal uncle 'Amir brought a man from Al-'Abalat who was called Mikraz, leading him to the Messenger of Allah (s.a.w) on a horse with a thick covering on its back, along with seventy of the idolaters. The Messenger of Allah (s.a.w) looked at them and said: "Let them go, so that it may be proven that they are evildoers from beginning to end." So the Messenger of Allah (s.a.w) pardoned them, then Allah revealed (the words): 'And He it is Who has withheld their hands from you and your hands from them in the midst of Makkah, after He had made you victors over them. Then we set out back to Al-Madinah, and we made a stop where there was a mountain between us and Bani Lihyan, who were idolaters. The Messenger of Allah (s.a.w) prayed for forgiveness for the one who would climb the mountain that night as a scout for the Prophet (s.a.w) and his Companions. I climbed that mountain two or three times. Then we came to Al-Madinah and the Messenger of Allah (s.a.w) sent his mounts with Rabah, the slave of the Messenger of Allah (s.a.w), and I went with him. I also took out the horse of Talhah, to let it graze with the other mounts. The next morning, 'Abdur-Rahman Al-Fazari had raided the mounts of the Messenger of Allah (s.a.w) and driven them all away, and had killed the herdsman. I said: "O Rabah, take this horse and go to Talhah bin 'Ubaidullah, and tell the Messenger of Allah (s.a.w) that the idolaters have raided his mounts." Then I stood on a hillock and turned to face Al-Madinah, and I called out three times: Ya Sabahah! (a cry of alarm). Then I set off in pursuit of the people, shooting arrows at them, and reciting lines of poetry, saying: "I am the son of Al-Akwa' And today is the day when the ignoble meet their doom." I caught up with one of them, and shot an arrow that went through his saddle and pierced his shoulder, and I said: "Take that!" "I am the son of Al-Akwa' And today is the day when the ignoble meet their doom."' He said: 'By Allah, I kept shooting at them and killing their mounts; every time a horseman came back towards me, I went to a tree and sat at its foot, then I shot him and killed his horse. Then when the mountains narrowed in and they entered a narrow gorge, I climbed up the mountain and started repelling them with stones, and I kept following them until I managed to recapture all the camels of the Messenger of Allah (s.a.w) and they gave up. But I pursued them, shooting at them, until they dropped more than thirty cloaks and thirty spears in order to lighten their loads. They did not throw down anything but I put a stone on it as a marker for the Messenger of Allah (s.a.w) and his Companions , to recognize it. Then they came to a narrow pass, and so-and-so the son of Badr Al-Fazari came to them, and they sat down to eat lunch. I sat atop a stone and Al-Fazari said: "What is this that I see?" They said: "By Allah, yesterday we encountered this one and he has not left us since it was dark; he kept shooting at us until he took everything that was in our hands." He said: "Four of you should get up and rush at him." So four of them climbed up the mountain towards me, and when it became possible to talk, I said: "Do you know me?" They said: "No, who are you?" I said: "I am Salamah bin Al-Akwa', and by the One Who has honored the face of Muhammad, I will not pursue any man among you but I will catch him, but no man among you who pursues me will catch me." One of them said: "I think (he is right)." So they went back, but I did not move from that place until I saw the horsemen of the Messenger of Allah (s.a.w) riding through the trees. The first of them was Al-Akhram Al-Asadi, after whom came Abu Qatadah Al-Ansari, after whom came Al-Miqdad bin Al-Aswad Al-Kindi. I took hold of the reins of Al-Akhram and they (the idolaters) turned and fled. I said: "O Akhram, guard yourselves against them lest they cut you off, until the Messenger of Allah (s.a.w) and his Companions join you." He said: "O Salamah, if you believe in Allah and the Last Day, and you know that Paradise is true and Hell is true, then do not stand between me and martyrdom." So I let him go, and he and 'Abdur-Rahman met. He killed the horse of 'Abdur-Rahman and 'Abdur-Rahman stabbed him and killed him, then he turned his horse around. Abu Qatadah, the horseman of the Messenger of Allah (s.a.w), caught up with 'Abdur-Rahman and stabbed him and killed him. By the One Who has honored the face of Muhammad, I followed them, running on foot, until I could not see the Companions of Muhammad (s.a.w) or their dust behind me, until before the sun set, when they reached a pass where there was water, which was called Dhu Qarad, where they could drink, because they were thirsty. They looked at me, running behind them, and I turned them out of there before they even tasted a drop of it. They went out and ran down a mountain path, and I ran behind one of their men and shot him in the shoulder blade. I said: "Take that! I am the son of Al-Akwa' and today is the day when the ignoble meet their doom." He said: "May his mother be bereft of him! He has been chasing us since morning." I said: "Yes, O enemy of yourself, I have been chasing you since morning." They left behind two horses on the mountain path, and I brought them to the Messenger of Allah (s.a.w). 'Amir met me with a container in which there was milk diluted with water, and a container in which their was water, and I performed Wudu' and drank some of it. Then I went to the Messenger of Allah (s.a.w). who was at the water from which I had driven them away. The Messenger of Allah (s.a.w) had taken those camels and everything that I had captured from the idolaters, and all of the spears and cloaks. Bilal had slaughtered one of the camels that I had captured from the people, and he was roasting part of its liver and hump for the Messenger of Allah (s.a.w). I said: "O Messenger of Allah, let me select one hundred men from among the people and follow those people, so that there will be no one who could convey the news but I will kill him." The Messenger of Allah (s.a.w) smiled so broadly that his molars appeared in the light of the fire, then he said: "O Salamah, do you think that you can do that?" I said: "Yes, by the One Who' has honored you." He said: "Now they are being welcomed in the land of Ghatafan." A man from Ghatafan came and so-and-so slaughtered a camel for them. As they were skinning it, they saw a cloud of dust, and they said: "The people have come!" They fled, and the next morning the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The best of our horsemen today was Abu Qatadah, and the best of our foot soldiers was Salamah." Then the Messenger of Allah (s.a.w) gave me two shares, the share of a horseman and the share of a foot soldier; he gave me them both. Then the Messenger of Allah (s.a.w) seated me behind him on Al-'Adba' (his she-camel), and we came back to Al-Madinah. There was a man among the Ansar who could not be beaten in a race. He started saying: "Is there anyone who will race me back to Al-Madinah? Who will race me back to Al-Madinah?" And he started repeating that. When I heard his words, I said: "Will you not show honor and respect to a noble man?" He said: "No, unless he is the Messenger of Allah (s.a.w)." I said: "O Messenger of Allah, may my father and mother be ransomed for you; let me get down and race this man." He said: "If you wish." I said: "I am coming to you." I leapt up and started running. I slowed down on one or two high places where I starting gasping, then I followed his tracks, then I slowed down on one or two high places, then I rushed and caught up with him. I tapped him between the shoulders and said: "You have been overtaken, by Allah!" I said: "I think so." Then I beat him to Al-Madinah. Then by Allah, we only stayed there for three nights before we went out to Khaibar with the Messenger of Allah (s.a.w). My paternal uncle 'Amir started reciting lines of poetry to the people, saying: "By Allah, were it not for Allah we would not have been guided, Or given charity or offered prayers. We cannot do without Your favor, So keep us steadfast when we meet (the enemy) And send down tranquility upon us." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Who is this?" He said: "I am 'Amir." He said: "May your Lord forgive you." Whenever the Messenger of Allah (s.a.w) prayed for forgiveness for a certain person, he would be martyred. 'Umar bin Al-Khattab, who was riding a camel of his, called out: "O Prophet of Allah, would that you had let us benefit from 'Amir." When we reached Khaibar, their king Marhab came out, brandishing his sword and saying: "Khaibar knows that I am Marhab A fully armed warrior, a tried and tested hero When war comes, spreading its flames." My paternal uncle 'Amir came out to meet him in single combat, and said: "Khaibar knows that I am 'Amir, A fully-armed warrior who plunges into battle." They exchanged blows; the sword of Marhab struck the shield of my uncle 'Amir, and 'Amir went to attack from below, but his sword recoiled and struck the artery in his forearm, and that led to his death.' Salamah said: 'I went out and saw a group of the Companions of the Prophet (s.a.w), who were saying: "Amir's deed was in vain; he killed himself." I went to the Prophet (s.a.w) weeping, and said: "O Messenger of Allah, was 'Amir's deed in vain?" He said: "Who said that?" I said: "Some of your Companions." He said: "Whoever said that is lying. Rather he will have a twofold reward." Then he sent me to 'Ali, who had sore eyes, and he said: "I will give the banner to a man who loves Allah and His Messenger (s.a.w), or who is loved by Allah and His Messenger (s.a.w). " I brought 'Ali, leading him because he had sore eyes. I brought him to the Messenger of Allah (s.a.w), who put spittle in his eyes, and they were healed, then he gave him the banner. Marhab came out, saying: "Khaibar knows that I am Marhab A fully armed warrior, a tried and tested hero When war comes, spreading its flames." 'Ali said: "I am the one whose mother called him Haidar (lion) Like a lion in the forest with a fearsome countenance. I return their attack with one more fierce." He struck the head of Marhab and killed him, then victory came at his hands."'
حضرت ایاس بن سلمہ سے روایت ہے کہ میرے والد(سلمہ بن اکوع) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر آئے اور ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے اور(اس جگہ پانی کی اتنی کمی تھی)کہ وہاں پچاس بکریاں بھی سیراب نہیں ہوسکتی تھیں، رسول اللہﷺکنویں کے کنارے بیٹھ گئے ، پھر یا تو آپﷺنے دعا کی ، یا پھر آپﷺنے اپنا لعاب دہن ڈال دیا، تو کنویں کا پانی جوش میں آگیا ، ہم نے خود پانی پیا ،اور جانوروں کو بھی پلایا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں درخت کی جڑ میں بیٹھ کر بیعت کے لئے بلایا ، اور لوگوں میں سب سے پہلے میں نے بیعت کی، پھر اور لوگوں نے بیعت کی یہاں تک کہ جب آدھے لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا:اے سلمہ! بیعت کرو ،میں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! میں تو سب سے پہلے بیعت کر چکا ہوں آپﷺ نے فرمایا: پھر دوبارہ کرلو اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میرے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ہے تو رسول اللہﷺ نے مجھے ایک ڈھال عطا فرمائی پھر بیعت کا سلسلہ شروع ہو گیا جب سب لوگوں نے بیعت کرلی تو آپﷺ نے فرمایا: اے سلمہ! کیا تو نے بیعت نہیں کی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول لوگوں میں سب سے پہلے تو میں نے بیعت کی اور لوگوں کے درمیان میں بھی میں نے بیعت کی آپ ﷺ نے فرمایا پھر کرلو حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے تیسری مرتبہ بیعت کی، پھر آپﷺ نے مجھے فرمایا: اے سلمہ! وہ ڈھال کہاں ہے جو میں نے تجھے دی تھی؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے چچا عامر کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا وہ ڈھال میں نے ان کو دے دی۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسکرا پڑے اور فرمایا: کہ تم بھی اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے سب سے پہلے دعا کی تھی اے اللہ !مجھے وہ دوست عطا فرما جو مجھے میری جان سے زیادہ پیارا ہو۔ پھر مشرکین نے ہمیں صلح کا پیغام بھیجا یہاں تک کہ ہر ایک جانب کا آدمی دوسری جانب جانے لگا اور ہم نے صلح کرلی حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ کی خدمت میں تھا اور میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا تھا اور اسے چرایا کرتا اور ان کی خدمت کرتا اور کھانا بھی ان کے ساتھ ہی کھاتا کیونکہ میں اپنے گھر والوں اور اپنے مال و اسباب کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہجرت کر آیا تھا پھر جب ہماری اور مکہ والوں کی صلح ہوگئی اور ایک دوسرے سے میل جول ہونے لگا تو میں ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے نیچے سے کانٹے وغیرہ صاف کر کے اس کی جڑ میں لیٹ گیا اور اسی دوران مکہ کے مشرکین میں سے چار آدمی آئے اور رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہنے لگے مجھے ان مشرکوں پر بڑا غصہ آیا پھر میں دوسرے درخت کی طرف چلاگیا اور انہوں نے اپنا اسلحہ لٹکایا اور لیٹ گئے وہ لوگ اس حال میں تھے کہ اسی دوران وادی کے نشیب سے ایک آواز آئی، اے مہاجرو! ابن زنیم شہید کر دئے گئے میں نے یہ سنتے ہی اپنی تلوار سیدھی کی اور پھر میں نے ان چاروں پر اس حال میں حملہ کیا کہ وہ سو رہے تھے اور ان کا اسلحہ میں نے پکڑ لیا اور ان کا ایک گٹھا بنا کر اپنے ہاتھ میں رکھا پھر میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ اقدس کو عزت عطا فرمائی تم میں سے کوئی اپنا سر نہ اٹھائے ورنہ میں تمہارے اس حصہ میں ماروں گا کہ جس میں دونوں آنکھیں ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر میں ان کوگھسیٹتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور میرے چچا حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی قبیلہ عبلات کے آدمی کو جسے مکرز کہا جاتا ہے اس کے ساتھ مشرکوں کے ستر آدمیوں کو گھسیٹ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جھول پوش گھوڑے پر سوار تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا: ان کو چھوڑ دو، کیونکہ جھگڑے کی ابتداء بھی انہی کی طرف سے ہوئی اور تکرار بھی انہی کی طرف سے، الغرض رسول اللہ ﷺ نے ان کو معاف فرما دیا۔ اور اللہ تعالی نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی اور وہ اللہ کہ جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روکا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکاجبکہ اللہ تعالیٰ تم کومکہ میں ان پر غالب کرچکا تھا ، پھر ہم مدینہ جانے کے لیے واپس لوٹے ، ہم نے راستہ میں ایک منزل پر قیام کیا جہاں ہمارے اور بنو لحیان کے مشرکوں کے درمیان ایک پہاڑ حائل تھا ، نبی ﷺنے اس آدمی کے لیے دعائے مغرت کی جو اس رات کو پہاڑ پر چڑ ھ کر نبی ﷺاور آپﷺکے اصحاب کے لیے پہرہ دے ، حصرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں اس رات کو اس پہاڑ پر دو یا تین بار چڑھا ،جب ہم مدینہ پہنچے تو رسول اللہﷺنے رباح کے ساتھ اپنے اونٹ روانہ کیے ، میں بھی حضرت طلحہ کے گھوڑے پر ان اونٹوں کے ساتھ گیا ، جب صبح ہوئی تو عبد الرحمن فزاری نے رسو ل اللہ ﷺکے اونٹوں کو لوٹ لیا اور سب کو ہنکاکر لے گیا اور ان کے چرواہے کو قتل کردیا ، حضرت ابن اکوع کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے رباح! یہ گھوڑا لو اور اس کو حضرت طلحہ بن عبد اللہ کے پاس پہنچادو اور رسول اللہﷺکو یہ خبر دو کہ مشرکین نے آپ کےاونٹوں کو لوٹ لیا ہے۔حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں ایک ٹیلے پر کھڑا ہوا اور میں نے اپنا رخ مدینہ منورہ کی طرف کر کے بہت بلند آواز سے پکارا یا صباحاہ! پھر میں ان لٹیروں کے پیچھے ان کو تیر مارتا ہوا اور رجز پڑھتے ہوئے نکلا میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی بربادی کا دن ہے۔ میں ان میں سے ایک ایک آدمی سے مقابلہ کرتا اور اسے تیر مارتا یہاں تک کہ تیر ان کے کندھے سے نکل جاتا اور میں کہتا اب اس وار کو سنبھالو ، میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں ان کو لگاتار تیر مارتا رہا اور ان کو زخمی کرتا رہا تو جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف لوٹتا تو میں درخت کے نیچے آ کر اس درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر میں اس کو ایک تیر مارتا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو جاتا یہاں تک کہ وہ لوگ پہاڑ کے تنگ راستہ میں گھسے اور میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں سے میں نے ان کو پتھر مارنے شروع کر دئے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں لگاتار ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺکی سواریوں میں سے جس اونٹ کو بھی پیدا کیا تھا ، میں نے اس کو پیچھے چھوڑ دیا ، وہ میرے اور اونٹوں کے درمیان سے ہٹ گئے ، میں تیر مارتا ہوا ان کے پیچھے لگا رہا ، یہاں تک کہ انہوں نے وزن کرم کرنے کے لیے تیس سے زیادہ چادریں اور تیس نیزے پھینک دیے ، وہ جس چیز کو بھی پھینکتے تھے میں اس کے اوپر پتھر سے نشان رکھ دیتا تھا ، تاکہ اس کو رسول اللہ ﷺاور آپﷺکے اصحاب پہچان لیں۔وہ چلتے چلتے ایک تنگ وادی پر پہنچے وہاں فلاں بن بدر فزاری بھی پہنچ گیا ، سب لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر بیٹھ گیا فزاری کہنے لگا کہ یہ کون سا آدمی ہمیں دیکھ رہا ہے لوگوں نے کہا: اس آدمی نے ہمیں بڑا تنگ کر رکھا ہے اللہ کی قسم اندھیری رات سے ہمارے ساتھ ہے اور لگاتار ہمیں تیر مار رہا ہے یہاں تک کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے سب کچھ چھین لیا ہے فزاری کہنے لگا کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف جائیں،پھر ان میں سے چار آدمی میری طرف آنے کےلیے پہاڑ پر چڑھے،تو جب وہ اتنی دور تک پہنچ گئے جہاں میری بات سن سکیں حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: کیا تم مجھے پہچانتے ہو انہوں نے کہا: نہیں،تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سلمہ بن اکوع ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد ﷺ کے عزت دی، میں تم میں سے جسے چاہوں مار دوں اور تم میں سے کوئی مجھے نہیں مار سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا: کہ ہاں، لگتا تو ایسے ہی ہے پھر وہ سب وہاں سے واپس لوٹ گئے،اور میں ابھی اپنی جگہ پر ہی تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سواروں کو دیکھ لیا وہ درختوں میں گھس گئے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ان میں سب سے آگے حضرت اخرم اسدی تھے اور ان کے پیچھے حضرت ابوقتادہ انصاری تھے اور ان کے پیچھے حضرت مقداد بن اسور کندی تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے جاکر اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑی وہ لٹیرے بھاگ پڑے، میں نے کہا: اے اخرم! ان سے محتاط رہنا یہ کہیں آپ کو نقصان نہ پہنچائیں جب تک کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نہ آ جائیں۔ اخرم کہنے لگے: اے ابوسلمہ! اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو تم میرے اور میری شہادت کے درمیان حائل مت ہوجاؤ۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے ان کو چھوڑ دیا اور پھر اخرم کا مقابلہ عبدالرحمن فرازی سے ہوا۔ اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کو زخمی کر دیا اور پھر عبدالرحمن فزاری نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کر دیا اور اخرم کے گھوڑے پر سوار ہوگیا ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے شہسوار حضرت ابوقتادہ آ گئے تو حضرت ابوقتادہ نے عبدالرحمن فرازی نیزہ مارا اور اس کو قتل کردیا۔ قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کے عزت دی ہے میں ان کے تعاقب میں لگا رہا اور میں اپنے پاؤں سے ایسے بھاگ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت محمدﷺ کا کوئی صحابی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ان کا گرد و غبار، یہاں تک کہ وہ لیٹرے سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھاٹی پر پہنچے جس میں پانی تھا اس کا نام ذو قرد تھا،وہ لوگ سخت پیاسے تھے اور پانی پینے کے لیے پہنچے تھے ، پھر انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں دوڑا ہوا چلا آرہا ہوں ، بالآخر میں نے ان کو پانی سے دور بھگادیا اور وہ ایک قطرہ بھی پی نہ سکے۔ حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ اب وہ کسی اور گھاٹ کی طرف نکلے، میں بھی ان کے پیچھے دوڑا اور ا ن میں سے ایک آدمی کے کندھے پر تیر مارا جو کندھے کے پار نکل گیا ، میں نے کہا: لو اس کو سنبھالو، میں ابن الاکوع ہوں اور آج کمینوں کی تباہی کا دن ہے ۔ اس نے کہا: اس پر اس کی ماں روئے ، کیا یہ وہی اکوع ہے جو صبح سے ہی ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے ؟ میں نے کہا: ہاں ! اے اپنی جان کے دشمن ! یہ تمہارا وہی اکوع ہے جو صبح سے تمہارے پیچھے ہے ، حضرت ابن اکوع نے کہا: انہوں نے دو گھوڑے گھاٹی پر چھوڑ دیے ، میں ان دونوں گھوڑوں کو ہنکاکر رسول اللہﷺکی خدمت میں آیا ۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ وہاں عامر سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک چھاگل تھا جس میں دودھ تھا اور ایک مشیکزے میں پانی تھا۔ پانی سے میں نے وضو کیا اور دودھ پی لیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپﷺ اسی پانی والی جگہ پر تھے جہاں سے میں نے لرییوں کو بھگا دیا تھا اور میں نے دیکھا: کہ رسول اللہ ﷺنے ان تمام اونٹوں اور تمام چیزوں پر قبضہ کرلیا تھا ، جو میں نے مشرکین سے چھین لی تھیں اور سب نیزے اور چادریں لے لیں تھیں، اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ان اونٹوں میں جو میں نے لٹیروں سے چھینے تھے ایک اونٹ کو ذبح کیا اور اس کی کلیجی اور کوہان کو رسول اللہ ﷺ کے لئے بھونا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں لشکر میں سے سو آدمیوں کا انتخاب کروں اور پھر میں ان لریگوں کا مقابلہ کروں اور میں ان میں سے کسی کو زندہ نہیں چھوڑوں گا کہ وہ اپنی قوم میں جاکر مخبری کرے ، رسول اللہﷺہنسے یہاں تک کہ آگ کی روشنی میں آپﷺ کی داڑھیں دکھائی دیں ، آپﷺنے فرمایا: اے سلمہ! کیا تمہارا خیال ہے کہ تم ایسا کرسکتے ہو؟ میں نے کہا: جی ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ہے ، ابھی تک وہ غطفان کے علاقہ میں ہوں گے اسی دوران علاقہ غطفان سے ایک آدمی آیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں آدمی نے ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کیا تھا اور ابھی اس اونٹ کی کھال ہی اتار پائے تھے کہ انہوں نے کچھ غبار دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ لوگ آ گئے وہ لوگ وہاں سے بھی بھاگ کھڑے ہوئے، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ آج کے دن ہمارا سب سے بہترین شاہسوار ابو قتادہ ہے او ربہترین پیادہ سلمہ ہے ،پھر رسول اللہﷺ نے مجھے دو حصے عطا فرمائے اور ایک سوار کا حصہ اور ایک پیادہ کا حصہ اور دونوں حصے اکٹھے مجھے ہی عطا فرمائے پھر رسول اللہ ﷺ نے غضباء اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور ہم سب مدینہ منورہ واپس آگئے دوران سفر انصار کا ایک آدمی جس سے دوڑنے میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا وہ کہنے لگا کیا کوئی مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگانے والا ہے اور وہ بار بار یہی کہتا رہا۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتے ہیں جب میں نے اس کا چیلنچ سنا تو میں نے کہا: کیا تجھے کسی بزرگ کی بزرگی کا لحاظ نہیں اور کیا تو کسی بزرگ سے ڈرتا نہیں، اس انصاری شخص نے کہا: نہیں، سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، مجھے اجازت عطا فرمائیں تاکہ میں اس آدمی سے دوڑ لگاؤں آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو توجاؤ۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے اس انصاری سے کہا کہ میں تیری طرف آتا ہوں اور میں نے اپنا پاؤں ٹیڑھا کیا پھر میں کود پڑا اور دوڑنے لگا اور پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو میں نے سانس لیا پھر میں اس کے پیچھے دوڑا پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو پھر میں نے سانس لیا پھر میں دوڑا یہاں تک کہ میں نے اس کے دونوں شانوں کے درمیان میں ایک گھونسا مارا اور میں نے کہا: اللہ کی قسم میں آگے بڑھ گیا اور پھر اس سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! ابھی ہم مدینہ منورہ میں صرف تین راتیں ہی ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکل پڑے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میرے چچا حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رجزیہ اشعار پڑھنے شروع کر دیے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی مدد نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی ہم نماز پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں، اور تو ہمیں ثابت قدم رکھ جب ہم دشمن سے ملیں اور اے اللہ ہم پر سکینت نازل فرما۔ جب یہ رجزیہ اشعار سنے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ کون ہے انہوں نے عرض کیا: میں عامر ہوں آپﷺ نے فرمایا: تیرا رب تیری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی انسان کے لئے خاص طور پر مغفرت کی دعا فرماتے تو وہ ضرور شہادت کا درجہ حاصل کرتا۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اپنے اونٹ پر تھے کہ بلند آواز سے آواز دی اے اللہ کے نبیﷺ! آپ ﷺ نے ہمیں عامر سے فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا، جب ہم خیبر آئے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا یہ رجز پڑھتا ہوا نکلا : خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے لیس، بہادر تجربہ کار ہوں جس وقت جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر میرے چچا عامر یہ رجز پڑھتے ہوئے اس کے مقابلے کے لیے نکلے: خیبر خوب جانتا ہے کہ میں عامر ہوں ، ہتھیاروں سے لیس ، بہادر او رلڑائیوں میں گھسنے والا ہوں ۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ عامر اور مرحب دونوں کی ضربیں مختلف طور پر پڑنے لگیں مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر لگی اور عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو تلوار مارنے کے لیے نیچے جھکے ، مگر تلوار لوٹ کر خود ان کو لگ گئی جس سے ان کے بازو کی ایک رگ کٹ گئی اور وہ شہد ہوگئے ، حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتے ہیں کہ میں نکلا تو میں نے نبیﷺ کے چند صحابہ کو دیکھا وہ کہنے لگے حضرت عامر کا عمل ضائع ہوگیا انہوں نے اپنے آپ کو خود مار ڈالا ہے۔حضرت سلمہ کہتے ہیں، میں نبیﷺ کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول عامر کا عمل ضائع ہوگیا؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ کس نے کہا ہے؟ میں نے عرض کیا: آپﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے آپﷺ نے فرمایا: جس نے بھی کہا ہے جھوٹ کہا ہے بلکہ عامر کے لئے دگنا اجر ہے پھر آپﷺ نے مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا ان کی آنکھ دکھ رہی تھی آپﷺ نے فرمایا: میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر آپﷺ کی خدمت میں لے کر آیا کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہوگئیں۔ آپﷺ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا اور مرحب یہ کہتا ہوا نکلا: خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر تجربہ کار ہوں جب جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی جواب میں کہا: کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے جو جنگلوں میں شیر کی طرح رعب او ردبدبہ والا ہے ، میں لوگوں کے ایک صاع کے بدلہ میں اس سے بڑا پیمانہ دیتا ہوں ،حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرحب کے سر پر ایک ضرب لگائی تو وہ قتل ہوگیا پھر خبیر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں پر فتح ہوگیا۔ ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت عکرمہ بن عمار نے یہ حدیث اس حدیث سے بھی زیادہ لمبی نقل کی ہے دوسری سند کے ساتھ عکرمہ بن عمار سے اسی طرح روایت منقول ہے۔
46. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ} الآيَةَ
حَدَّثَنِى عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَهُوَ الَّذِى كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ)
It was narrated from Anas bin Malik that eighty armed men from Makkah swooped down upon the Messenger of Allah (s.a.w) from the mountain of At-Tan'im, seeking to attack the Prophet (s.a.w) and his Companions. He captured them but spared their lives. Then Allah revealed (the words): "And He it is Who has withheld their hands from you and your hands from them in the midst of Makkah, after He had made you victors over them."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ کے اسی آدمی جبل تنعیم سے مسلح ہوکر اترے ، وہ رسو ل اللہ ﷺاور آپ ﷺکے اصحاب کو دھوکہ دیکر غفلت میں حملہ کرنا چاہتے تھے ، آپ ﷺنے ان کو پکڑ کر قید کرلیا اور بعد میں چھوڑ دیا ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : وہی جس نے وادی مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کردیا تھا۔
47. باب غَزْوَةِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا فَكَانَ مَعَهَا فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خَنْجَرٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا هَذَا الْخَنْجَرُ ». قَالَتِ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّى أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ. فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَضْحَكُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ ».
It was narrated from Anas that on the day of (the battle of) Hunain, Umm Sulaim kept a dagger with her. Abu Talhah saw her and said: "O Messenger of Allah, Umm Sulaim has a dagger with her." The Messenger of Allah (s.a.w) said to her: "What is this dagger (for)?" She said: "I am keeping it so that if any of the idolaters come near me, I will rip his belly open with it." The Messenger of Allah (s.a.w) smiled and she said: "O Messenger of Allah, kill all those, other than us, whom you set free, because they are the ones who deserted you." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "O Umm Sulaim, Allah is sufficient and He has been kind to us."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ حنین کے دن ایک خنجر لیا جو ان کے پاس تھا، حضرت ابو طلحہ نے وہ خنجر دیکھ لیا ،اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ ام سلیم ہیں ان کے پاس ایک خنجر ہے تو رسول اللہ ﷺنے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا یہ خنجر کیسا ہے؟ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: اگر مشرکین میں سے کوئی مشرک میرے پاس آئے گا تو میں اس کے ذریعہ سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی یہ سن کر رسول اللہ ﷺہنس پڑے، ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے بعد جو طلقاء (فتح مکہ کے دن جو اہل مکہ مسلمان ہوئے ان کو طلقاء کہا جاتا ہے ) ہیں جو آپ سے شکست کھا چکے ہیں ان کو قتل کر دیجئے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے ام سلیم ! اللہ کافی ہے اور اس نے اچھا کیا ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِى قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَ حَدِيثِ ثَابِتٍ.
A Hadith like that of Thabit (no. 4680) was narrated from Anas bin Malik concerning the story of Umm Sulaim and the Prophet (s.a.w).
ایک اور سند سے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ام سلیم کا نبی ﷺسے یہ قصہ نقل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا فَيَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى.
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) allowed Umm Sulaim and some of the Ansari women to accompany him on military campaigns. They would bring water and treat the wounded."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ جہاد کرتے تھے تو آپ ﷺکے ساتھ حضرت ام سلیم اور انصار کی کچھ عورتیں بھی ہوتیں تھیں ، وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کو دوا دیتیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو - وَهُوَ أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِىُّ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ - قَالَ - وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلاً رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ وَكَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا - قَالَ - فَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ فَيَقُولُ انْثُرْهَا لأَبِى طَلْحَةَ. قَالَ وَيُشْرِفُ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِىَّ اللَّهِ بِأَبِى أَنْتَ وَأُمِّى لاَ تُشْرِفْ لاَ يُصِبْكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ نَحْرِى دُونَ نَحْرِكَ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِى بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُلاَنِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِى أَفْوَاهِهِمْ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلآنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ تُفْرِغَانِهِ فِى أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَىْ أَبِى طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلاَثًا مِنَ النُّعَاسِ.
It was narrated that Anas said: "On the day of (the battle of) Uhud, when some of the people felt defeated and deserted the Prophet (s.a.w), Abu Talhah stood in front of the Prophet (s.a.w), covering him with a shield. Abu Talhah was a powerful archer and he broke two or three bows that day (because of excessive use). Whenever a man passed in front of him with a quiver of arrows, he (s.a.w) would say: 'Spread them for Abu Talhah.' The Prophet of Allah would look out over the people, and Abu Talhah would say to him: 'O Prophet of Allah, may my father and mother be ransomed for you. Do not raise your head, lest you be struck by an arrow from the people. My neck is before your neck.' And I saw 'Aishah bint Abi Bakr and Umm Sulaim, with their garments folded up, and I could see their anklets on their feet, carrying water skins on their backs, pouring it into their mouths. Then they would go back and fill them again, then bring them and pour water into the people's mouths. The sword fell from Abu Talhah's hand two or three times, because of drowsiness."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن کچھ لوگوں نے شکست کھائی او رنبی ﷺکا ساتھ چھوڑ دیا ، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے اور ایک ڈھال سے آپ پر آڑ کی ہوئی تھی، اور ابوطلحہ بہت زبردست تر انداز تھے اور اس دن انہوں نے دو یا تنچ کمانں توڑیں تھںک اور جب کوئی آدمی آپ ﷺکے پاس سے ترووں کا ترکش لئے گزرتا تو آپ ﷺفرماتے انہںب ابوطلحہ کے لئے بکھرز دو اور اللہ کے نبیﷺگردن اٹھا اٹھا کر کافروں کو دیکھ رہے تھے تو ابوطلحہ نے عرض کاو :اے اللہ کے نبی ﷺ!آپ ﷺپر مرتے ماں باپ قربان آپ ﷺگردن نہ اٹھائںو کہںا دشمنوں کے ترےوں مںا سے کوئی آپ ﷺکو نہ لگ جائے اور مروا سنہر آپکے سنہا کے سامنے رہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہںن کہ حضرت عائشہ بنت ابی بکر اور حضرت ام سلیم اپنے پائنچے اوپر کیے ہوئے تھیں اور میں نے ان کی پنڈلیوں کی پازیب کو دیکھا، و ہ دونوں اپنی پشت پر مشکیزے بھر کر لارہی تھیں، اور صحابہ کے منہ میں ڈال کر لوٹ آتیں ، پھر بھرتیں اورصحابہ کے منہ میں ڈال دیتی تھیں، اور اس دن ابو طلحہ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ اونگھ کی وجہ سے تلوار گر گئی تھی۔
48. باب النِّسَاءُ الْغَازِيَاتُ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلاَ يُسْهَمُ وَالنَّهْيُ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلاَلٍ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْلاَ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ. كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِى هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَغْزُو بِالنِّسَاءِ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ وَمَتَى يَنْقَضِى يُتْمُ الْيَتِيمِ وَعَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِى هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَغْزُو بِالنِّسَاءِ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ وَأَمَّا بِسَهْمٍ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلاَ تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِى مَتَى يَنْقَضِى يُتْمُ الْيَتِيمِ فَلَعَمْرِى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الأَخْذِ لِنَفْسِهِ ضَعِيفُ الْعَطَاءِ مِنْهَا فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِى عَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ وَإِنَّا كُنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا. فَأَبَى عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاكَ.
It was narrated from Yazid bin Hurmuz that Najdah wrote to Ibn 'Abbas, asking him about five things. Ibn 'Abbas said: "Were it not for (fear of) concealing knowledge, I would not have written to him." Najdah wrote to him (saying): "Tell me, did the Messenger of Allah (s.a.w) take women on campaigns with him? Did he give them a share (of the spoils of war)? Did he kill children? How long is an orphan considered to be such? And about the Khums - who is it for?" Ibn 'Abbas wrote to him saying: "You wrote and asked me whether the Messenger of Allah (s.a.w) took women on campaigns with him. He did take them with him, so that they might treat the wounded, and they were given a reward from the spoils of war; as for a regular share, that was not given to them. The Messenger of Allah (s.a.w) did not kill children, so do not kill children. And you wrote and asked me how long an orphan is considered to be such. By Allah, if a man's beard has grown but he is still incapable of getting his due from others or fulfilling his obligations towards them (then he is still regarded as an orphan). But when he can look after his affairs like other people, then he is no longer regarded as an orphan. And you wrote and asked me about the Khums and who it is for. We used to say that it was for us, but our people have denied it to us."
حضرت یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پانچ باتوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اگر مجھے علم چھپانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نہ لکھتا، ان کی طرف نجدہ نے لکھا: کہ آپ مجھے بتائیں کیا رسول اللہ ﷺعورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے؟ اور کیا آپ ﷺان کے لئے حصہ مقرر فرماتے تھے؟ اور کیا آپ بچوں کو قتل کرتے تھے؟ اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ کس کا حق ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی طرف(جواباً) تحریر فرمایا: تم نے مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا، کیا رسول اللہ ﷺعورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے؟ رسول اللہ ﷺعورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺانہیں جہاد میں ساتھ لے جاتے تھے اور وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور انہیں مال غنیمت میں سے کچھ عطا بھی کیا جاتا تھا بہرحال مال غنیمت میں سے ان کے لئے حصہ مقرر نہیں کیا جاتا تھا اور رسول اللہﷺبچوں کو قتل نہیں کرتے تھے سو تم بھی بچوں کو قتل نہ کرنا اور تم نے مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہو جاتی ہے؟ سو مجھے اپنی زندگی کی قسم ! بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی داڑھی نکل آتی ہے لیکن وہ اپنے لین دین میں کمزور ہوتے ہیں پس جب وہ باسلیقہ لوگوں کی طرح اپنا فائدہ حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں تو اس کی مدت یتیمی ختم ہو جائے گی اور تم نے مجھ سے مال غنیمت میں پانچواں حصہ کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ اس کا حقدار کون ہے؟ ہم کہا کرتے تھے کہ وہ ہمارا حق ہے لیکن قوم نے ہمیں یہ حق دینے سے انکار کردیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلاَهُمَا عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلاَلٍ. بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِ حَاتِمٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلاَ تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِىِّ الَّذِى قَتَلَ. وَزَادَ إِسْحَاقُ فِى حَدِيثِهِ عَنْ حَاتِمٍ وَتُمَيِّزَ الْمُؤْمِنَ فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ.
It was narrated from Yazid bin Hurmuz that Najdah wrote to Ibn 'Abbas and asked him about some things... a Hadith like that of Sulaiman bin Bilal (no. 4684), except that in the Hadith of Hatim it says: "The Messenger of Allah (s.a.w) did not kill children, so do not kill children, unless you know what Al-Khidr knew about the boy whom he killed." Ishaq added in his Hadith from Hatim: "...and you can tell who is a believer, in which case kill the disbelievers and leave the believers."
حضرت یزید بن ہرمزسے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھ کر چند چیزوں کا سوال کیا ، یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، البتہ اس میں یہ ہے کہ رسو ل اللہﷺبچوں کو قتل نہیں کرتے تھے ، سو تم بھی بچوں کو قتل نہ کرو، ہاں اگر تمہیں ایسا علم ہو جس کی بناء پر حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچہ کو قتل کردیا تھا ، اور زیاد کی روایت میں یہ ہے کہ یا تم یہ تمیز کرلو کہ یہ بچہ مومن ہوگا یا کافر ،سو جو کافر ہو اس کو قتل کردو اور جو مومن ہو اس کو چھوڑ دو۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ الْحَرُورِىُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنْ ذَوِى الْقُرْبَى مَنْ هُمْ فَقَالَ لِيَزِيدَ اكْتُبْ إِلَيْهِ فَلَوْلاَ أَنْ يَقَعَ فِى أُحْمُوقَةٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ اكْتُبْ إِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِى عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا شَىْءٌ وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يُحْذَيَا وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِى عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَقْتُلْهُمْ وَأَنْتَ فَلاَ تَقْتُلْهُمْ إِلاَّ أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلاَمِ الَّذِى قَتَلَهُ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِى عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ وَإِنَّهُ لاَ يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ حَتَّى يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِى عَنْ ذَوِى الْقُرْبَى مَنْ هُمْ وَإِنَّا زَعَمْنَا أَنَّا هُمْ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا.
It was narrated that Yazid bin Hurmuz said: "Najdah bin 'Amir Al-Haruri wrote to Ibn 'Abbas and asked him about slaves and women who are present at the time when the spoils of war are distributed - do they get a share of it? (And he asked) about killing children, and when an orphan is no longer regarded as such, and who are the kinsmen (Dhawil-Qurba') (of the Prophet (s.a.w))? He said to Yazid: 'Write to him. Were it not that he is likely to fall into folly, I would not have written to him. Write: You wrote and asked me about women and slaves who are present at the time when the spoils of war are distributed - do they get a share of it? They do not get a share of it, but they are to be given a reward. You wrote and asked me about killing children. The Messenger of Allah (s.a.w) did not kill them, so do not kill them, unless you know about them what the companion of Musa knew about the boy whom he killed. You wrote and asked me about an orphan and when he is no longer regarded as an orphan. He continues to be regarded as an orphan until he reaches puberty and attains maturity of mind. And you wrote and asked me about the kinsmen (of the Prophet (s.a.w)), and who they are. We believed that we were they, but our people denied that to us."
حضرت یزید بن ہرمز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامرحروری (خارجی) نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ پوچھا کہ اگر جہاد میں غلام اور عورت شریک ہوں تو کیا ان کو مال غنیمت سے حصہ مل جائے گا؟ اور بچوں کے قتل کے بارے میں اور یتیم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اور ذوی القربی کون ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید سے کہا: اس کی طرف لکھو اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ حماقت میں واقع ہو جائے گا تو اس کا جواب نہ لکھتا ۔ لکھو! تم نے عورت اور غلام کے بارے میں مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ جہاد میں شریک ہوں تو کیا انہیں بھی مال غنیمت سے کچھ ملے گا؟ ان کو مال غنیمت سے کچھ نہیں ملے گا ہاں بطور عطیہ انہیں دیا جاسکتا ہے اور تم نے مجھ سے بچوں کے قتل کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو رسول اللہﷺنے انہیں قتل نہیں کیا اور تم بھی انہیں قتل نہ کرو، ہاں اگر کسی بچے کے متعلق تمہیں علم ہوجائے جیسا کہ حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچہ کے بارے میں علم تھا جس کو انہوں نے قتل کردیا تھا اور تم نے مجھ سے یتیم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ جب تک بچہ بالغ نہ ہوجائے اور اس کو عقل اور شعور حاصل نہ ہو اس وقت تک اس کو یتیم کہا جائے گا اور تم نے ذوی القربی کے حوالے سے پوچھا کہ وہ کون ہیں ؟ ہمارا خیال یہ ہے کہ وہ ہم ہیں لیکن ہماری قوم نے اس کا انکار کیا۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ.
It was narrated that Yazid bin Hurmuz said: "Najdah wrote to Ibn 'Abbas..." and he quoted a similar Hadith (as no. 4684). Abu Ishaq said: 'Abdur-Rahman bin Bishr narrated: Sufyan narrated this Hadith, in full.
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا اور باقی حدیث اسی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِى أَبِى قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنِى قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْلاَ أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ نَتْنٍ يَقَعُ فِيهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلاَ نُعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِى الْقُرْبَى الَّذِى ذَكَرَ اللَّهُ مَنْ هُمْ وَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- هُمْ نَحْنُ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا وَسَأَلْتَ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِى يُتْمُهُ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَدُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ وَسَأَلْتَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلاَ تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلاَمِ حِينَ قَتَلَهُ وَسَأَلْتَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلاَّ أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ.
It was narrated that Yazid bin Hurmuz said: "Najdah bin 'Amir wrote to Ibn 'Abbas." He said: "I was present with Ibn 'Abbas when he read his letter and when he wrote his answer. Ibn 'Abbas said: 'By Allah, were it not in order to prevent him from falling into wickedness, I would not have written to him. May he never be honored.' He wrote to him (saying): 'You asked about the share of the kinsmen whom Allah mentioned - who are they? We used to think that we are the kinsmen of the Messenger of Allah (s.a.w), but our people denied that to us. You asked about the orphan and when he is no longer regarded as such. When he reaches the age of marriage and attains maturity of mind, then his wealth may be given to him, and he is no longer regarded as an orphan.
You asked: "Did the Messenger of Allah (s.a.w) kill any of the children of the idolaters?" The Messenger of Allah (s.a.w) did not kill any of them, so you should not kill any of them, unless you know about them what Al-Khidr knew about the boy whom he killed. You asked about women and slaves, and whether they are to be given a defined share if they are present in battle? They are not to be given a defined share, but they should be given some reward from the spoils of war."'
حضرت یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا، جس وقت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس خط کو پڑھا اور اس کا جواب لکھا ،میں اس وقت موجود تھا ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ بدبو یعنی کسی برے کام میں پڑ جائے گا تو میں اس کی طرف جواب نہ لکھتا اور نہ اس کی آنکھیں خوش ہوتیں پس ابن عباسں نے نجدہ کی طرف لکھا کہ تم نے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے میں پوچھا جن کا اللہ نے ذکر فرمایا کہ وہ کون ہیں؟ ہمارا خیال ہے کہ رسول اللہﷺکے قرابت دار ہم ہیں لیکن ہماری قوم نے اس کا انکار کیا اور تم نے یہ پوچھا تھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوگی ؟ بچہ جب نکاح کے قابل ہوجائے اور وہ عقل اور شعور کے کام کرنے لگے تو اس کو اس کا مال دے دیا جائے گا ، اور اس کی یتیمی ختم ہوجائے گی ،اور تم نے یہ سوال کیا رسول اللہﷺنےمشرکین کے بچوں میں سے کسی کو قتل کیا تھا ؟ رسول اللہﷺنے مشرکین کے بچوں میں کسی کو قتل نہیں کیا ، سو تم بھی ان کے بچوں میں سے کسی کو قتل نہ کرو، ہاں اگر کسی بچے کے بارے میں تمہیں یہ علم ہوجائے جیسا کہ حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچہ کے متعلق علم تھا جس کو انہوں نے قتل کردیا تھا ، او رتم نے عورت اور غلام کے متعلق پوچھاہے کہ اگر وہ جہاد میں شامل ہوں تو کیا انہیں مال غنیمت سے حصہ مقر ر ہے ؟ ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہے ، البتہ ان کو مال غنیمت میں سے عطیہ دیا جاسکتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِىٍّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ. فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُتِمَّ الْقِصَّةَ كَإِتْمَامِ مَنْ ذَكَرْنَا حَدِيثَهُمْ.
It was narrated that Yazid bin Hurmuz said: "Najdah wrote to Ibn 'Abbas..." and he mentioned part of the Hadith but he did not narrate it in full, like the Hadith we have mentioned above.
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس کی طرف خط لکھا اور اس حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا اور اس راوی نے پورا قصہ بیان نہیں کیا جیسا کہ دوسری حدیثوں میں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِى رِحَالِهِمْ فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ وَأُدَاوِى الْجَرْحَى وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى.
It was narrated that Umm 'Atiyyah Al-Ansariyyah said: "I went out on seven campaigns with the Messenger of Allah (s.a.w); I would stay behind in the camp, make food for them, treat the wounded and look after the sick."
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے سات غزوات میں رسول اللہﷺکے ساتھ شرکت کی ، میں مجاہدین کے عقب میں خیموں میں رہتی تھی ان کے لیے کھانا تیار کرتی ، زخمیوں کو دوا دیتی ، اور بیماروں کی عیادت کرتی۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
Hisham narrated a similar report (as no. 4690) with this chain of narration.
یہ روایت ایک اور سندسے بھی اسی طرح مروی ہے۔
49. باب عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ خَرَجَ يَسْتَسْقِى بِالنَّاسِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ اسْتَسْقَى قَالَ فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ - وَقَالَ - لَيْسَ بَيْنِى وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ أَوْ بَيْنِى وَبَيْنَهُ رَجُلٌ - قَالَ - فَقُلْتُ لَهُ كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ فَقُلْتُ كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً - قَالَ - فَقُلْتُ فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَالَ ذَاتُ الْعُسَيْرِ أَوِ الْعُشَيْرِ.
It was narrated from Abu Ishaq that 'Abdullah bin Yazid went out to lead the people in prayers for rain. He prayed two Rak'ah then he prayed for rain. He said: "On that day I met Zaid bin Arqam, and there was only one man between me and him. I said to him: 'How many campaigns did the Messenger of Allah (s.a.w) wage?' He said: 'Nineteen.' I said: 'On how many campaigns were you with him?' He said: 'Seventeen.' I said: 'What was the first campaign he waged?' He said: 'Dhat Al-'Usair' or 'Al' Ushair.'"
ابو اسحاق سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن یزید لوگوں کو نما ز استسقاء پڑھانے کے لیے نکلے ، تو دو رکعت نماز استسقاء پڑھا کر انہوں نے بارش کے لیے دعا کی ، اس دن میری حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، میرے اور ان کے درمیان صرف ایک آدمی تھا ، میں نے ان سے پوچھا : رسو ل اللہ ﷺکتنے غزوات میں تشریف لے گئے ؟ انہوں نے کہا: انیس غزوات میں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کتنے غزوات میں آپﷺکے ساتھ تھے؟ انہوں نے کہا: سترہ غزوات میں ، میں نے پوچھا: رسول اللہﷺکا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ انہوں نے کہا: ذات العبیر یا ذات العشیر۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ سَمِعَهُ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَحَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا حَجَّةَ الْوَدَاعِ.
It was narrated from Ibn lshaq, from Zaid bin Arqam from whom he heard it, that the Messenger of Allah (s.a.w) went on nineteen campaigns, and after he emigrated he performed Hajj only once, the Farewell Hajj.
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے انیس غزوات میں شمولیت کی اورہجرت کے بعد آپﷺنے ایک حج کیا اور حجۃ الوداع کے سوا اور کوئی حج نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً - قَالَ جَابِرٌ - لَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا وَلاَ أُحُدًا مَنَعَنِى أَبِى فَلَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى غَزْوَةٍ قَطُّ.
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin 'Abdullah say: "I went on nineteen campaigns with the Messenger of Allah (s.a.w)." Jabir said: "I was not present at (the battles of) Badr or Uhud, because my father did not let me go. When 'Abdullah (i.e., his father) was killed on the day of Uhud, I did not stay behind from any campaign with the Messenger of Allah (s.a.w).''
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں انیس غزوات میں رسو ل اللہﷺکے ساتھ رہا، لیکن بدر اور احد میں شریک نہیں تھا، مجھے میرے والد نے روک دیا تھا ، اورجب جنگ احد میں عبد اللہ (میرے والد) شہید ہوگئے تو پھر میں نے کسی غزوہ میں رسول اللہ ﷺکا ساتھ نہیں چھوڑا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ. قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَاتَلَ فِى ثَمَانٍ مِنْهُنَّ. وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ مِنْهُنَّ. وَقَالَ فِى حَدِيثِهِ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ.
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (s.a.w) went on nineteen campaigns, and he fought in eight of them."
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے انیس غزوات میں شرکت کی ، ان میں سے آٹھ غزوات میں آپﷺنے جنگ کی ، راوی ابو بکر نے " ان میں سے" کا ذکر نہیں کیا ، اور " عن" کے بجائے " حدثنی عبد اللہ بن بریدہ" کہا۔
وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ كَهْمَسٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً.
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said that he went on sixteen campaigns with the Messenger of Allah (s.a.w).
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ سولہ غزوات میں شریک رہا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ - وَهُوَ ابْنُ أَبِى عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ يَقُولُ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ.
It was narrated that Yazid bin Abi 'Ubaid said: "I heard Salamah say: 'I went on seven campaigns with the Messenger of Allah (s.a.w), and I went out on nine campaigns that he sent out. On one occasion Abu Bakr was in charge of us and on another occasion Usamah bin Zaid was in charge of us."'
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺکے ساتھ سات غزوات میں شریک تھا اور جو لشکر آپﷺنے روانہ کیے ان میں نو مرتبہ شریک رہا۔ ایک مرتبہ ہمارے سردار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے او رایک مرتبہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِى كِلْتَيْهِمَا سَبْعَ غَزَوَاتٍ.
Hatim narrated it with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4697), except that he said in both cases: "Seven campaigns."
یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے دونوں میں سات غزوات کا ذکر ہے۔
50. باب غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِىُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِى عَامِرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ - قَالَ - فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا فَنَقِبَتْ قَدَمَاىَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِى فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نُعَصِّبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ. قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ. قَالَ كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ. قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَزَادَنِى غَيْرُ بُرَيْدٍ وَاللَّهُ يَجْزِى بِهِ.
It was narrated that Abu Musa said: "We went out with the Messenger of Allah (s.a.w) on a campaign, and there were six of us. We had only one camel, which we took turns riding. Our feet became sore, and my feet became so sore that my toenails fell off. We wrapped rags around out feet, so the campaign became known as Dhat Ar-Riqa' because of the rags that we used to bandage our feet." Abu Burdah said: "Abu Musa narrated this Hadith, then he did not like to do so. It is as if he did not like to broadcast his deeds."
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺکے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے ، ہم میں سے چھ آدمیوں کے حصہ میں ایک اونٹ تھا، جس پر ہم باری باری سے سوار ہوتے تھے ، ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے ، میرا پاؤں بھی زخمی ہوا اور ناخن نکل گیا ،تو ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹے ، اس وجہ سے اس غزوہ کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑگیا ، حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے یہ حدیث بیان کی، پھر ان کو اس حدیث کا بیان کرنا نا گوار ہوا ، شاید وہ اپنے کسی عمل کوظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے ، ابو اسامہ بیان کرتے ہیں کہ بریدہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے اس حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس محنت کا اجر دے گا۔