- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First23456

31. باب مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ ، وَلَيْسَ مَكَانٌ أُرِيدُ مِنَ الْجَنَّةِ إِلاَّ طَارَتْ إِلَيْهِ ، قَالَ فَقَصَصْتُهُ عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَصَّتْهُ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَى عَبْدَ اللهِ رَجُلاً صَالِحًا.

It was narrated from Nafi' that Ibn 'Umar said: "I saw in a dream as if I had a piece of Istabraq in my hand, and there was no place I wanted to go to in Paradise but it flew with me to it. I told Hafsah about it, and Hafsah told the Prophet (s.a.w), and the Prophet (s.a.w) said: 'I think that 'Abdullah is a righteous man."'

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرے ہاتھ میں استبرق (ریشم) کا ایک ٹکڑا ہے اور میں جنت میں جس جگہ بھی جانا چاہتا ہوں وہ ٹکڑا اڑ کر اس جگہ آجاتا ہے ، میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺسے بیان کیا ، نبیﷺنے فرمایا: میرا خیال ہے کہ عبد اللہ بن عمر نیک آدمی ہیں۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا رَأَى رُؤْيَا ، قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا عَزَبًا ، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَيِ الْبِئْرِ ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، قَالَ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ فَقَالَ لِي : لَمْ تُرَعْ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ ، عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ. قَالَ سَالِمٌ : فَكَانَ عَبْدُ اللهِ ، بَعْدَ ذَلِكَ ، لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً.

It was narrated from Salim that Ibn 'Umar said: "During the lifetime of the Messenger of Allah (s.a.w) ' if a man saw a dream he would tell it to the Messenger of Allah (s.a.w). I wished that I could see a dream and tell it to the Prophet (s.a.w). I was young and unmarried, and I used to sleep in the Masjid at the time of the Messenger of Allah (s.a.w) - I saw myself in a dream, as if two angels took hold of me and brought me to the fire, and it was built like a well, and it had two poles like the poles of a well. In it were some people whom I recognized, and I started saying, 'I seek refuge with Allah from the Fire, I seek refuge with Allah from the Fire, I seek refuge with Allah from the Fire.' They were joined by another angel who said to me: 'Do not fear.' I told this to Hafsah, and Hafsah told it to the Messenger of Allah (s.a.w) ' and the Prophet (s.a.w) said: 'What a good man 'Abdullah is, if only he prayed at night.'" Salim said: "After that, 'Abdullah only slept a little at night."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکی زندگی میں جو آدمی بھی خواب دیکھتا وہ اس کو رسول اللہﷺکے سامنے بیان کرتا ، میری بھی یہ تمنا تھی کہ میں کوئی خواب دیکھوں اور اس کو رسول اللہﷺسے بیان کروں ، میں ایک غیر شادی شدہ نوجوان تھا ، اور رسول اللہﷺکے زمانہ میں مسجد میں سویا کرتا تھا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے مجھے پکڑ کر جہنم کی طرف لے گئے میں نے دیکھا کہ جہنم کنویں کی طرح پیچ در پیچ گہری ہے اور کنویں کی طرح اس پر دو لکڑیاں رکھی ہیں اور دوزخ میں کچھ لوگ تھے جن کو میں نے پہچان لیا ، میں کہنے لگا : میں دوزخ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، میں دوزخ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، میں دوزخ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، پھر ان سے ایک اور فرشتہ ملا اور مجھ سے کہا: تم خوف نہ کر ، میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے یہ خواب بیان کیا ، تو حفصہ نے رسول اللہﷺسے بیان کیا ، نبی ﷺنے فرمایا: عبد اللہ کتنا ہی اچھا آدمی ہے ، کاش ! وہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ، سالم کہتے ہیں اس کے بعد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو بہت کم سوتے تھے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ ، خَتَنُ الْفِرْيَابِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ ، وَلَمْ يَكُنْ لِي أَهْلٌ ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا انْطُلِقَ بِي إِلَى بِئْرٍ ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ.

It was narrated from Nafi' that Ibn 'Umar said: "I used to stay in the Masjid at night, and I did not have any family. I saw in a dream as if I was taken to a well..."and he narrated from the Prophet (s.a.w) a Hadith like that of Az-Zuhri, from Salim (no. 6370), from his father.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رات کو مسجد میں سوتا تھا ، اور میری بیوی نہیں تھی(غیر شادی شدہ تھا)میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے مجھے کسی کنویں کی طرف لے جایا گیا ہے ، اس کے بعد نبیﷺکا وہ ارشاد ہے جو پچھلی روایت میں گزر چکا ہے۔

32. باب مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، خَادِمُكَ أَنَسٌ ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ.

It was narrated from Anas, from Umm Sulaim, that she said: "O Messenger of Allah, here is your servant Anas, pray to Allah for him. He said: 'O Allah, increase his wealth and his offspring, and bless him in what You give to him."'

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! انس آپ کا خادم ہے ، آپ اس کے لیے دعا کیجئے ، آپﷺنے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں اضافہ کردے ، اور اس کو جو کچھ دیا ہے اس میں برکت فرما دے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللهِ ، خَادِمُكَ أَنَسٌ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

It was narrated from Qatadah: "I heard Anas say: 'Umm Sulaim said: O Messenger of Allah, here is your servant Anas ... a similar report (as Hadith no. 6372).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! انس آپ کا خادم ہے ، پھر اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.

It was narrated that Hisham bin Zaid said: "I heard Anas bin Malik say ...” a similar report (as Hadith no. 6372).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔


وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا ، وَمَا هُوَ إِلاَّ أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ ، خَالَتِي . فَقَالَتْ أُمِّي : يَا رَسُولَ اللهِ ، خُوَيْدِمُكَ ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ ، قَالَ فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ ، وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ أَنْ قَالَ : اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ.

It was narrated that Anas said: "The Prophet (s.a.w) entered upon us, and there was no one there but myself, my mother and Umm Haram, who was my maternal aunt. My mother said: 'O Messenger of Allah, here is your little servant, pray to Allah for him.' He prayed for all goodness for me, and at the end of his supplication he said: 'O Allah, increase his wealth and his offspring, and bless them for him.'"

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺہمارے ہاں تشریف لائے ، اس وقت گھر میں صرف میں ، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام تھیں ، میری والدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ!انس آپ کا چھوٹا خادم ہے ، اس کے حق میں اللہ سے دعا کیجئے ، آپﷺنے میرے لیے ہر خیر کی دعا کی ، آپﷺنے میرے لیے جو دعا کی اس کے آخر میں کہا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں اضافہ فرما ، اور اس میں اس کو برکت عطا فرما۔


حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: جَاءَتْ بِي أُمِّي أُمُّ أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِنِصْفِ خِمَارِهَا، وَرَدَّتْنِي بِنِصْفِهِ ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا أُنَيْسٌ ابْنِي، أَتَيْتُكَ بِهِ يَخْدُمُكَ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ. قَالَ أَنَسٌ: فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ، وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَى نَحْوِ الْمِئَةِ الْيَوْمَ.

Anas said: "My mother, Umm Anas, brought me to the Messenger of Allah (s.a.w) and she had made me an Izar out of half of her head cover and had made the other half into a Rida'. She said: 'O Messenger of Allah, this is Unais, my son. I have brought him to you to serve you, so pray to Allah for him.' He said: 'O Allah, increase his wealth and offspring."' Anas said: "By Allah, my wealth is great and today my children and my children's children are now more than one hundred in number."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ مجھے رسول اللہﷺکے پاس لے کر آئیں ، انہوں نے اپنا دوپٹہ پھاڑ کر آدھے دوپٹے کی میری چادر بنادی ، میری والدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ انس میرا بیٹا ہے ، میں آپ کی خدمت کے لیے اس کو آپ کے پاس لائی ہوں ، آپ اس کے حق میں اللہ سے دعا کیجئے ، آپﷺنے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں اضافہ فرما ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا مال بہت زیادہ ہے اور آج میری اولاد اور اولاد کی اولاد سو کے لگ بھگ ہیں ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَتْ أُمِّي ، أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ ، فَقَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ ، أُنَيْسٌ ، فَدَعَا لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثَلاَثَ دَعَوَاتٍ قَدْ رَأَيْتُ مِنْهَا اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا ، وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الآخِرَةِ.

Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) passed by and my mother Umm Sulaim heard his voice. She said: 'May my father and mother be sacrificed for you, 0 Messenger of Allah, (this is) Unais.' 'The Messenger of Allah (s.a.w) prayed for three things for me. I have seen two of them in this world and I hope for the third in the Hereafter."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکا گزر ہوا ، تو میری ماں ام سلیم نے آپﷺکی آواز سنی ، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، یہ چھوٹا انس ہے اس کے لیے دعا فرمائیے ، پھر رسول اللہﷺنے میرے لیے تین دعائیں مانگیں ، جن میں سے دو کی قبولیت کو میں نے دنیا میں دیکھ لیا ، اور تیسری کی قبولیت کے بارے میں آخرت میں امید رکھتا ہوں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، قَالَ : فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ ، فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي ، فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ : مَا حَبَسَكَ ؟ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ، قَالَتْ : مَا حَاجَتُهُ ؟ قُلْتُ : إِنَّهَا سِرٌّ ، قَالَتْ : لاَ تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا. قَالَ أَنَسٌ : وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ.

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) came to me when I was playing with some other boys. He greeted us with Salam and sent me on an errand, and I was late in coming back to my mother. When I came she said: 'What kept you?' I said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) sent me on an errand.' She said: 'What errand?' I said: 'It is a secret.' She said: 'Do not tell the secret of the Messenger of Allah (s.a.w) to anyone."' Anas said: "By Allah, if I were to have told it to anyone, I would have told it to you, O Thabit."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺتشریف لائے اس حال میں کہ میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، آپﷺنے ہمیں سلام کیا ، اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا ، اور اس طرح مجھے اپنی والدہ کے پاس جانے میں دیر ہوگئی ، جب میں پہنچا تو والدہ نے پوچھا : تم کس وجہ سے لیٹ ہوگئے ہو؟میں نے کہا: مجھے رسول اللہﷺنے کسی کام کے لیے بھیجا تھا ، میری والدہ نے پوچھا: وہ کام کیا تھا ؟ میں نے کہا: وہ ایک راز ہے ، میری والدہ نے کہا: تم رسول اللہﷺکا راز کسی کو نہیں بتانا ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ثابت ! اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تم کو بتاتا۔


حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَسَرَّ إِلَيَّ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا ، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "The Prophet of Allah (s.a.w) told me a secret, and I have not told it to anyone since. Umm Sulaim asked me about it, but I did not tell her."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک راز کی بات کی ، میں نے اب تک وہ راز کسی کو نہیں بتایا ، میری والدہ حضرت ام سلیم نے اس کے بارے میں پوچھا تھا ، میں نے ان کو بھی نہیں بتایا۔

33. بابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَيٍّ يَمْشِي ، إِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ إِلاَّ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ.

It was narrated that 'Amir bin Sa'd said: "I heard my father say: 'I did not hear the Messenger of Allah (s.a.w) say, to any living person, that he would be in Paradise, apart from 'Abdullah bin Salam."'

عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام کے علاوہ میں نے زمین پر چلنے والے کسی زندہ آدمی کے متعلق رسول اللہﷺسے یہ نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فِي نَاسٍ ، فِيهِمْ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا ، ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ ، وَدَخَلْتُ ، فَتَحَدَّثْنَا ، فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ : إِنَّكَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ ، قَالَ رَجُلٌ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : سُبْحَانَ اللهِ مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لاَ يَعْلَمُ ، وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ ؟ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ ، رَأَيْتُنِي فِي رَوْضَةٍ ، ذَكَرَ سَعَتَهَا وَعُشْبَهَا وَخُضْرَتَهَا ، وَوَسْطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ ، أَسْفَلُهُ فِي الأَرْضِ ، وَأَعْلاَهُ فِي السَّمَاءِ ، فِي أَعْلاَهُ عُرْوَةٌ ، فَقِيلَ لِي : ارْقَهْ ، فَقُلْتُ لَهُ : لاَ أَسْتَطِيعُ ، فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَالْمِنْصَفُ الْخَادِمُ ، فَقَالَ بِثِيَابِي مِنْ خَلْفِي ، وَصَفَ أَنَّهُ رَفَعَهُ مِنْ خَلْفِهِ بِيَدِهِ ، فَرَقِيتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى الْعَمُودِ ، فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ ، فَقِيلَ لِيَ : اسْتَمْسِكْ. فَلَقَدِ اسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : تِلْكَ الرَّوْضَةُ الإِسْلاَمُ ، وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الإِسْلاَمِ ، وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى ، وَأَنْتَ عَلَى الإِسْلاَمِ حَتَّى تَمُوتَ. قَالَ : وَالرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلاَمٍ.

It was narrated that Qais bin 'Ubad said: "I was in Al-Madinah with some people, among whom were some Companions of the Prophet (s.a.w) 'when a man came whose face showed signs of the fear of Allah. Some of the people said: 'This man is one of the people of Paradise, this man is one of the people of Paradise.' He prayed two Rak'ah, making them short, then he went out. I followed him, and he entered his house, and I entered, and we spoke together. When he was at ease, I said to him: 'When you came in before, a man said such-and-such.' He said: 'Subhan Allah! No one should say what he does not know.' He said: 'Shall I tell you why that is? I saw a dream at the time of the Messenger of Allah (s.a.w) ' and I told him about it. I saw myself in a garden' - and he mentioned its vastness and richness and lushness- 'and in the middle of the garden there was a pillar of iron. Its base was in the earth and its top was in the sky, and at the top of it, there was a handhold. It was said to me: "Climb it." I said: "I cannot." Then a helper came to me and he pushed me up from behind. So I climbed until I was at the top of the pillar, and I took hold of the handhold. It was said to me: "Hold it tightly." "I woke up and it was in my hand. I told the Prophet (s.a.w) about it, and he said: 'That garden is Islam, and that pillar is the pillar of Islam, and that handhold is the most trustworthy handhold. You will remain a Muslim until you die.'" He said: "And the man was 'Abdullah bin Salam."

قیس بن عباد سے روایت ہے کہ میں مدینہ منورہ کے کچھ لوگوں کی مجلس میں تھا ، جن میں نبی ﷺکے بعض صحابہ بھی تھے ، اس وقت ایک آدمی آیا جس کے چہرے پر اللہ خشوع و خضوع کے آثار تھے ، مجلس میں سے ایک آدمی نے کہا: یہ آدمی جنت والوں میں سے ہے ، یہ آدمی جنت والوں میں سے ہے ، اس آدمی نے اختصار سے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر اٹھ کر چلا گیا ، میں بھی اس کے پیچھے پیچھے گیا ، یہاں تک کہ وہ آدمی اپنے گھر میں داخل ہوگیا ، میں بھی داخل ہوا ، پھر ہم باتیں کرنے لگے ، جب وہ کچھ مانوس ہوگیا تو میں نے کہا: جب آپ اس سے پہلے مسجد میں آئے تھے تو آپ کے بارے میں ایک آدمی نے اس طرح کہا ہے ، اس نے کہا: سبحان اللہ! کسی آدمی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ بغیر علم کے کوئی بات کہے ، اور میں تمہیں اس کا سبب ابھی بتاتا ہوں ، میں نے رسو ل اللہ ﷺکے زمانے میں ایک خواب دیکھا ، میں نے آپﷺکے سامنے وہ خواب بیان کیا ، میں نے اپنے آپ کو باغ میں دیکھا جو بہت وسیع پھل دار اور بہت سرسبز تھا ، باغ کے وسط میں لوہے کا ستون تھا ، جو نیچے سے زمین کے اندر تھا ، اور اس کا اوپر کا حصہ آسمان میں تھا ، اس کے اوپر کی جانب ایک حلقہ تھا ، مجھ سے کہا گیا : اس پر چڑھوں ، میں نے کہا: میں اس پر نہیں چڑھ سکتا ، پھر ایک منصف آیا ، ابن عون نے کہا: منصف خادم کوکہتےہیں ، اس نے میرے پیچھے سے کپڑے اٹھائے اور اس نے اپنے ہاتھ سے مجھے پیچھے سے اٹھایا ، پھر میں اس پر چڑھا یہاں تک کہ میں ستون کے اوپر کی جانب پہنچ گیا ، پھر میں نے اس حلقہ کو پکڑ لیا ، مجھ سے کہا گیا: اس کو پکڑے رہو ، پھر میں بیدار ہوا اس حال میں کہ وہ حلقہ اس وقت بھی میرے ہاتھ میں تھا ، میں نے نبی ﷺکے سامنے وہ خواب بیان کیا ، آپﷺنے فرمایا: وہ باغ اسلام ہے ، اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے ، اور وہ حلقہ عروۃ الوثقیٰ ہے اور تم تاحیات اسلام پر قائم رہوگے ، وہ آدمی عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ : كُنْتُ فِي حَلَقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ، وَابْنُ عُمَرَ ، فَمَرَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلاَمٍ ، فَقَالُوا : هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُمْ قَالُوا كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : سُبْحَانَ اللهِ مَا كَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ ، إِنَّمَا رَأَيْتُ كَأَنَّ عَمُودًا وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ ، فَنُصِبَ فِيهَا ، وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ ، وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ ، وَالْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ ، فَقِيلَ لِيَ : ارْقَهْ ، فَرَقِيتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَمُوتُ عَبْدُ اللهِ وَهُوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى.

It was narrated that Muhammad bin Sirin said: "Qais bin 'Ubad said: 'I was in a circle in which Sa'd bin Malik and Ibn 'Umar were present. ’Abdullah bin Salam passed by and they said: "This man is one of the people of Paradise." I got up and said to him: "They said such-and-such." He said: "Subhan Allah! They should not say what they do not know. I saw a pillar placed in the middle of a green garden, set up there. At the top of it there was a handhold, and at the bottom of it there was a helper. It was said to me: 'Climb up.' So I climbed up until I took hold of the handhold. I told the Messenger of Allah (s.a.w) about it and the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Abdullah will die when he is still holding on to the most trustworthy handhold."'

قیس بن عباد سے روایت ہے کہ میں ایک جماعت میں بیٹھا تھا جس میں حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابن عمر بھی تھے ، اتنے میں حضرت عبد اللہ بن سلام وہاں سے گزرے ، لوگوں نے کہا: یہ آدمی جنت والوں میں سے ہے ، میں کھڑا ہوا اور میں نے ان سے کہا: آپ کے متعلق لوگ اس اس طرح کہہ رہے تھے ، انہوں نے کہا: سبحان اللہ ! انہیں بغیر علم کے ایسی بات نہیں کہنی چاہیے ، میں نے خواب میں دیکھا کہ سر سبز باغ میں ایک ستون رکھا گیا ہے ، اس ستون کی چوٹی پر ایک حلقہ ہے اور اس کے نیچے ایک خدمت گار کھڑا ہے ، مجھ سے کہا گیا : اس پر چڑھو ، میں اس پر چڑھا یہاں تک کہ میں نے اس حلقہ کو پکڑ لیا ، پھر میں نے رسول اللہﷺکے سامنے وہ خواب بیان کیا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: عبد اللہ اس حال میں فوت ہوگا کہ اس نے عروہ وثقی پکڑا ہوا ہوگا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلَقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : وَفِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ ، وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلاَمٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا ، قَالَ فَلَمَّا قَامَ قَالَ الْقَوْمُ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ، قَالَ فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لأَتْبَعَنَّهُ فَلأَعْلَمَنَّ مَكَانَ بَيْتِهِ ، قَالَ فَتَبِعْتُهُ ، فَانْطَلَقَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي ، فَقَالَ : مَا حَاجَتُكَ ؟ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَكَ ، لَمَّا قُمْتَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ، فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ ، قَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَسَأُحَدِّثُكَ مِمَّ قَالُوا ذَاكَ ، إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ ، إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ لِي : قُمْ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ،قَالَ : فَإِذَا أَنَا بِجَوَادَّ عَنْ شِمَالِي ، قَالَ : فَأَخَذْتُ لِآخُذَ فِيهَا ، فَقَالَ لِي لاَ تَأْخُذْ فِيهَا فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ ، قَالَ فَإِذَا جَوَادُّ مَنْهَجٌ عَلَى يَمِينِي ، فَقَالَ لِي : خُذْ هَاهُنَا ، فَأَتَى بِي جَبَلاً ، فَقَالَ لِيَ : اصْعَدْ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَى اسْتِي ، قَالَ : حَتَّى فَعَلْتُ ذَلِكَ مِرَارًا ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا ، رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ وَأَسْفَلُهُ فِي الأَرْضِ ، فِي أَعْلاَهُ حَلْقَةٌ ، فَقَالَ لِيَ : اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا ، قَالَ قُلْتُ : كَيْفَ أَصْعَدُ هَذَا ؟ وَرَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي ، قَالَ : فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ ، قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَخَرَّ ، قَالَ وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّى أَصْبَحْتُ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِكَ , فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ ، قَالَ : وَأَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ، وَأَمَّا الْجَبَلُ فَهُوَ مَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ ، وَلَنْ تَنَالَهُ ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الإِسْلاَمِ ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الإِسْلاَمِ , وَلَنْ تَزَالَ مُتَمَسِّكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ.

It was narrated that Kharashah bin Al-Hurr said: "I was sitting in a circle in the Masjid of Al-Madinah, and in it there was a Shaikh who was of a handsome appearance. And he was 'Abdullah bin Salam. He started telling them good things and when he left, the people said: 'Whoever would like to look at a man from among the people of Paradise, let him look at this man.' I said: 'By Allah, I shall follow him and find out where his house is.' So I followed him, and he set out until he almost left Al-Madinah, then he entered his house. I asked permission to enter, and he gave me permission. He said: 'What do you want, O son of my brother?' I said: 'I heard the people saying of you when you left: "Whoever would like to look at a man from among the people of Paradise, let him look at this man," and I wanted to be with you."' "He said: 'Allah knows best who the people of Paradise are, but I will tell you why they said that. While I was sleeping, a man came to me and said: "Get up." He took me by the hand and I went with him. I saw paths to my left, and I was about to follow them, but he said to me: "Do not follow them, for they are the paths of those of the Left Hand."[l]Then I saw clear and straight paths on my right, and he said to me: "Follow these.'' He brought me to a mountain, and he said to me: "Climb up.'' But when I wanted to climb, I fell on my buttocks, and this happened several times. Then he brought me to a pillar, the head of which was in the sky and its base was on the ground, at the top of it there was a ring." He said to me: "Climb to the top of this." I said: "How can I climb this when its top is in the sky?" He took hold of my hand and pushed me up. Then I was hanging on to that ring. Then he struck the pillar and it fell down, but I carried on holding on to the ring, until morning came. I went to the Prophet (s.a.w) and told him about that, and he said: "As for the paths on your left, they are the paths of those on the Left Hand. As for the paths which you saw on your right, they are the paths of those on the Right Hand. As for the mountain, it is the status of the martyrs, which you will never attain. As for the pillar, it is the pillar of Islam, and as for the handhold, it is the handhold of Islam, and you will continue to adhere to it until you die."'

خرشہ بن حر سے روایت ہے کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، اس میں ایک حسین و جمیل بوڑھا بیٹھا ہوا تھا ، وہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے ، وہ لوگوں سے بہت اچھی باتیں کررہے تھے ، جب وہ چلے گئے تو لوگوں نے کہا: جو آدمی کسی جنتی آدمی کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتا ہو وہ اس آدمی کو دیکھ لے ، میں نے دل میں کہا: میں ضرور اس آدمی کا پیچھا کروں گا ، اور اس کا ٹھکانہ معلوم کروں گا ، پھر میں ان کے پیچھے چل پڑا ، وہ چلتے رہے یہاں تک کہ شہر سے باہر نکلنے کے قریب ہوگئے ، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے ، میں نےان سے آنے کی اجازت طلب کی ، انہوں نے اجازت دے دی ، انہوں نے کہا: اے بھتیجے ! کیا کام ہے ؟ میں نے کہا: میں نے لوگوں سے یہ سنا ہے کہ جس آدمی کو کوئی جنتی آدمی دیکھنا اچھا لگتا ہو ، اسے اس آدمی کو دیکھنا چاہیے ، تو مجھے آپ کے ساتھ رہنا اچھا معلوم ہوا ، انہوں نے فرمایا: اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اہل جنت کون ہیں؟ اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ وہ کس وجہ سے ایسا کہتے ہیں، جس وقت میں سویا ہوا تھا تو میرے پاس ایک آدمی آیا ، اور مجھ سے کہا: اٹھو ! پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس کے ساتھ چل پڑا ، میں نے بائیں طرف ایک راستہ دیکھا ، میں اس میں جانے لگا ، اس نے کہا: اس طرف مت جاؤ یہ کفار کے راستے ہیں ، پھر دائیں جانب ایک راستہ ملا ، اس نے کہا: اس طرف چلے جاؤ ، پھر ایک پہاڑ آیا ، اس نے کہا : اس پر چڑھو ، میں اس پر چڑھنے لگا تو میں سرین کے بل گر پڑا ، میں نے بار بار چڑھنا چاہا ، اور ہر بار گرا ، پھر وہ آدمی مجھے لے کر چلا ، یہاں تک کہ ایک ستون آیا ، جس کی چوٹی آسمان میں تھی ، اور اس کا نچلا حصہ زمین میں تھا ، اور اس کی چوٹی پر ایک حلقہ تھا ، اس نے مجھ سے کہا: اس کے اوپر چڑھو، میں نے کہا: میں اس پر کیسے چڑھوں ؟ اس کی چوٹی تو آسمان میں ہے ، پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اوپر چڑھا دیا ، پھر میں نے دیکھا کہ میں اس حلقہ کو پکڑے ہوئے تھا ، پھر اس نے اس ستون پر ضرب لگائی جس سے وہ گر پڑا ، اور میں حلقے سے لٹکا رہا ، یہاں تک کہ صبح ہوگئی ، پھر میں نے نبی ﷺکے پاس جاکر یہ خواب بیان کیا ، آپﷺ نے فرمایا: تم نے بائیں طرف جو راستے دیکھے وہ اصحاب شمال کے راستے ہیں اور دائیں طرف جو راستے دیکھے وہ اصحاب یمین کے راستے ہیں اور جو پہاڑ دیکھا وہ شہداء کا مقام ہے جس کو تم نہیں پاسکوگے ( یعنی شہادت کی موت نہیں مروگے) اور جو ستون دیکھا وہ اسلام ہے اور جو حلقہ دیکھا وہ عروہ اسلام ہے ، اور تم مرتے دم تک اس کو تھامے رہوگے۔

34. باب فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ عُمَرَ ، مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَحَظَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ ، وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ.

It was narrated from Abu Hurairah that 'Umar passed by Hassan when he was reciting poetry in the Masjid and he glared at him. He said: "I used to recite poetry here when there was one here who was better than you." Then he turned to Abu Hurairah and said: "I adjure you by Allah, did you hear the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Reply on my behalf. 0 Allah, support him with the Holy Spirit'?" He said: "By Allah, yes."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گھور کر ان کی طرف دیکھا ، حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مسجد میں اس وقت بھی شعر پڑھتا تھا ، جب مسجد میں تم سے افضل آدمی موجود تھے ، پھر انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف مڑکر کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں ، کیا تم نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ، میری طرف سے جواب دو ، اے اللہ! اس کی روح القدس سے تائید فرما۔ انہوں نے کہا: ہاں۔


حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ حَسَّانَ ، قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

It was narrated from Ibn Al-Musayyab that Hassan said, in a circle among whom was Abu Hurairah: "I adjure you by Allah, O Abu Hurairah, did you hear the Messenger of Allah (s.a.w)...?" And he narrated something similar (to Hadith no. 6384).

ابن مسیب کہتے ہیں کہ ایک حلقہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، کیا تم نے رسو ل اللہﷺسے یہ سنا ہے ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : نَعَمْ.

Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman narrated that he heard Hassan bin Thabit Al-Ansari asking Abu Hurairah to bear witness (saying): "I adjure you by Allah, did you hear the Prophet (s.a.w) say: 'O Hassan, answer on behalf of the Messenger of Allah (s.a.w). O Allah, support him with the Holy Spirit'?" Abu Hurairah said: "Yes."

ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ گواہی طلب کی میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اے حسان! رسول اللہﷺکی طرف سے جواب دو ، اے اللہ! اس کی روح القدس کی طرف سے تائید فرما، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: اهْجُهُمْ ، أَوْ هَاجِهِمْ ، وَجِبْرِيلُ مَعَكَ.

Al-Bara' bin 'Azib said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say to Hassan bin Thabit: 'Lampoon them, and Jibril is with you."'

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان (کافروں ) کی ہجو کرو ، اور جبریل بھی تمہارے ساتھ ہیں ۔


حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ (ح) وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as Hadith no. 6387) was narrated from Shu'bah with this chain of narrators.

یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَبَبْتُهُ فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي دَعْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated from Hisham, from his father, that Hassan bin Thabit was one of those who spoke too much to 'Aishah. I scolded him but she said: "O son of my brother, let him be, for he used to defend the Messenger of Allah (s.a.w)."

ہشام اپنے والد عروہ سے روایت ہے کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بہت کچھ کہا تھا ، میں نے ان کو برا کہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بھتیجے ! اس کو چھوڑ دو ، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺکی طرف سے کافروں کو جواب دیتے تھے۔


حَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Hisham with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ۔


حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ فَقَالَ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ. فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ ، قَالَ مَسْرُوقٌ : فَقُلْتُ لَهَا: لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ ؟ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ: {وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ} فَقَالَتْ: فَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى ؟ إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ ، أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated that Masruq said: "I entered upon 'Aishah and Hassan bin Thabit was with her, reciting poetry to her. He said: 'She is chaste and prudent, she is beyond any suspicion; She rises hungry in the morning but she does not consume the flesh of the chaste and innocent.' 'Aishah said to him: 'But you are not like that."' Masruq said: "I said to her: 'Why do you give him permission to enter upon you, when Allah says: '...And as for him among them who had the greater share therein, his will be a great torment. ?' She said: 'What torment is greater than blindness?' She said: 'He used to defend' – or 'compose satirical verse on behalf of- the Messenger of Allah (s.a.w)."'

مسروق کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اس حال میں کہ ان کے پاس حضرت حسان رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے ان کو اپنے اشعار سنا رہے تھے ، انہوں نے کہا: " وہ پاکیزہ عقل مند ہیں ، ان پر کسی عیب کی تہمت نہیں ہے ، وہ صبح غافلوں کے گوشت سے بھوکی اٹھتی ہیں (یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتیں)" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: لیکن تم اس طرح نہیں تھے ، مسروق نے کہا: آپ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " اور جس نے ان میں سے اس بہتان میں سب سے بڑا حصہ لیا ہے اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اندھے ہونے سے زیادہ اور کون سا بڑا عذاب ہوگا؟ حسان تو رسول اللہﷺکی طرف سے کفار کو جواب دیتے تھے ، یا ان کی ہجو کرتے تھے۔


حَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ قَالَتْ: كَانَ يَذُبُّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَصَانٌ رَزَانٌ.

It was narrated from Shu'bah with this chain of narrators (a Hadith similar as no. 6391), .and he said: She said: "He used to compose satire as a rebuttal on behalf of the Messenger of Allah (s.a.w). But he did not mention the words: 'She is chaste and prudent."'

اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضرت حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺکی طرف سے جواب دیتے تھے ، اس روایت میں" حصان رزان " کے الفاظ نہیں ہیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ حَسَّانُ: يَا رَسُولَ اللهِ ، ائْذَنْ لِي فِي أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: كَيْفَ بِقَرَابَتِي مِنْهُ ؟ قَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْخَمِيرِ ، فَقَالَ حَسَّانُ : وَإِنَّ سَنَامَ الْمَجْدِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ ... بَنُو بِنْتِ مَخْزُومٍ وَوَالِدُكَ الْعَبْدُ قَصِيدَتَهُ هَذِهِ.

It was narrated that 'Aishah said: "Hassan said: 'O Messenger of Allah: "Do you give me permission (to lampoon) Abu Sufyan?" He said: "How can I, when I am related to him?" He said: "By the One Who has honored you, I shall draw you out from among them as a hair is drawn out from dough." Then Hassan said: "The pinnacle of glory belongs to the tribe of Hashim, the children of Bint Makhzum, whereas your father was a slave." This was his Qasidah.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے ابو سفیان کی ہجو کرنے کی اجازت دیجئے آپ ﷺنے فرمایا: اس کے ساتھ میری جو قرابت ہے اس کا کیا کروگے ؟ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپﷺکو کرامت دی ہے ، میں آپﷺکو ان سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح گندھےہوئے آٹے سے بل نکال لیا جاتا ہے پھر حضرت حسان نے یہ قصیدہ کہا: آل ہاشم کی بزرگی کی کوہان، بنت مخزوم کی اولاد ہے اور تیرا بات تو غلام تھا۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ ، النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا سُفْيَانَ ، وَقَالَ بَدَلَ ، الْخَمِيرِ ، الْعَجِينِ.

Hisham bin 'Urwah narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6393). She said: "Hassan bin Thabit asked the Prophet (s.a.w) for permission to lampoon the idolaters," but he did not mention Abu Sufyan.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نےرسول اللہ ﷺسے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت طلب کی ، اور ابو سفیان کا ذکر نہیں کیا اور خمیر کی بجائے عجین کا ذکر کیا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اهْجُوا قُرَيْشًا ، فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ فَقَالَ : اهْجُهُمْ فَهَجَاهُمْ فَلَمْ يُرْضِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ ، قَالَ حَسَّانُ : قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تُرْسِلُوا إِلَى هَذَا الأَسَدِ الضَّارِبِ بِذَنَبِهِ ، ثُمَّ أَدْلَعَ لِسَانَهُ فَجَعَلَ يُحَرِّكُهُ ، فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لأَفْرِيَنَّهُمْ بِلِسَانِي فَرْيَ الأَدِيمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ تَعْجَلْ ، فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ أَعْلَمُ قُرَيْشٍ بِأَنْسَابِهَا ، وَإِنَّ لِي فِيهِمْ نَسَبًا ، حَتَّى يُلَخِّصَ لَكَ نَسَبِي فَأَتَاهُ حَسَّانُ ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، قَدْ لَخَّصَ لِي نَسَبَكَ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِينِ. قَالَتْ عَائِشَةُ : فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لِحَسَّانَ : إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لاَ يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ ، مَا نَافَحْتَ عَنِ اللهِ وَرَسُولِهِ ، وَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى وَاشْتَفَى قَالَ حَسَّانُ : هَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ ... وَعِنْدَ اللهِ فِي ذَاكَ الْجَزَاءُ هَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا حَنِيفًا ... رَسُولَ اللهِ شِيمَتُهُ الْوَفَاءُ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي ... لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ ثَكِلْتُ بُنَيَّتِي إِنْ لَمْ تَرَوْهَا ... تُثِيرُ النَّقْعَ مِنْ كَنَفَيْ كَدَاءِ يُبَارِينَ الأَعِنَّةَ مُصْعِدَاتٍ ... عَلَى أَكْتَافِهَا الأَسَلُ الظِّمَاءُ تَظَلُّ جِيَادُنَا مُتَمَطِّرَاتٍ ... تُلَطِّمُهُنَّ بِالْخُمُرِ النِّسَاءُ فَإِنْ أَعْرَضْتُمُو عَنَّا اعْتَمَرْنَا ... وَكَانَ الْفَتْحُ وَانْكَشَفَ الْغِطَاءُ وَإِلاَّ فَاصْبِرُوا لِضِرَابِ يَوْمٍ ... يُعِزُّ اللَّهُ فِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَقَالَ اللَّهُ : قَدْ أَرْسَلْتُ عَبْدًا ... يَقُولُ الْحَقَّ لَيْسَ بِهِ خَفَاءُ وَقَالَ اللَّهُ : قَدْ يَسَّرْتُ جُنْدًا ... هُمُ الأَنْصَارُ عُرْضَتُهَا اللِّقَاءُ لَنَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنْ مَعَدٍّ ... سِبَابٌ ، أَوْ قِتَالٌ ، أَوْ هِجَاءُ فَمَنْ يَهْجُو رَسُولَ اللهِ مِنْكُمْ ... وَيَمْدَحُهُ وَيَنْصُرُهُ سَوَاءُ وَجِبْرِيلٌ رَسُولُ اللهِ فِينَا ... وَرُوحُ الْقُدُسِ لَيْسَ لَهُ كِفَاءُ

It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Lampoon the Quraish, for it will hurt them more than arrows." He sent word to Ibn Rawahah, saying: "Lampoon them." So he lampooned them but it was not good enough. Then he sent word to Ka'b bin Malik, then he sent word to Hassan bin Thabit. When he entered upon him, Hassan said: "Now you have sent for this lion who wreaks vengeance then waves his tail about," then he stuck out his tongue and moved it. He said: "By the One Who sent you with the Truth, I shall tear them with my tongue as leather is torn." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do not be hasty. Abu Bakr is most knowledgeable about their lineage, and I share a lineage with them. (Wait) until he summarizes my lineage for you." Hassan went to him, then he came back and said: "O Messenger of Allah, he has summarized your lineage for me. By the One Who sent you with the Truth, I shall draw you out from among them as a hair is drawn out of the dough." 'Aishah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say to Hassan: 'The Holy Spirit will continue to support you, so long as you are defending Allah and His Messenger."' She said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Hassan has lampooned them and has satisfied himself and others.' Hassan said: 'You satirized Muhammad, but I replied on his behalf, And there is reward with Allah for this. You satirized Muhammad, virtuous, righteous, The Messenger of Allah, whose nature is sincerity. So verily my father and my mother and my honor Are a protection to the honor of Muhammad. May I lose my dear daughter, if you don't see them (horses), Stirring up the dust on the two sides of Kada' (a hill near Makkah)... They (horses) pull at the reins, going upwards, On their shoulders are spears thirsting (for the blood of the enemy). Our steeds are galloping, our women wipe them with their mantles. If you leave us alone, we will perform 'Umrah And this will be a victory. Otherwise wait for the fighting on the day on which Allah will honor whom He pleases. And Allah said: "I have sent a servant who speak the truth in which there is no ambiguity.'' And Allah said: "I have prepared an army" - they are the Ansar whose object is fighting (the enemy) There reaches every day from Ma'dd abuse, or fighting, or satire. Whoever satirizes the Messenger from among you, or praises him and helps, it is all the same, And Jibril, the Messenger of Allah is among us, and the Holy Spirit who has no match."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: قریش کی ہجو کرو، کیونکہ ان پر اپنی ہجو تیروں کی بوچھاڑ سے زیادہ مشکل گزرتی ہے ، پھر آپﷺنے حضرت ابن رواحہ کی طرف پیغام بھیجا کہ قریش کے کفار کی ہجو کرو، انہوں نے قریش کے کفار کی ہجو کی ، وہ آپﷺکو پسند نہیں آئی ، پھر انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا ، پھر حسان بن ثابت کی طرف پیغام بھیجا ، جب حضرت حسان رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اب وقت آگیا ہے کہ آپ نے اس شیر کی طرف پیغام بھیجا ہے جو اپنی دم سے مارتا ہے ، پھر اپنی زبان نکال کر اس کو ہلانے لگے ، پھر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپﷺکو حق دے کر بھیجا ہے ، میں ان کو اپنی زبان سے اس طرح چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا جس طرح چمڑے کو پھاڑتے ہیں ، رسول اللہﷺنے فرمایا: جلدی نہ کرو، کیونکہ ابو بکر قریش کے نسب کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں ، اور ان میں میرا نسب بھی ہے ، تاکہ ابو بکر میرا نسب ان سے الگ کردیں ، حضرت حسان ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، پھر لوٹ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ کا نسب الگ کردیا گیا ہے ، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ، میں آپ کو ان سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک تم اللہ اور رسول ﷺکی طرف سے جواب دیتے رہتے ہو روح القدس تمہاری تائید کرتا رہتا ہے ، اس کے علاوہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کفار قریش کی ہجو کرکے مسلمانوں کو شفاء دی ،اور کفار کے دلوں کو بیمار کردیا ، حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے وہ اشعار یہ ہیں : تو نے محمد ﷺکی ہجو کی تو میں نے آپﷺکی طرف سے جواب دیا اور اس کی اصل جزاء اللہ ہی کے پاس ہے ۔تو نے محمدﷺکی ہجو کی جو نیک اور ادیان باطلہ سے اعراض کرنے والے ہیں وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کی خصلت وفا کرنا ہے۔بلا شبہ میرے ماں باپ اور میری عزت تم سے محمدﷺکی عزت بچانے کے لیے قربان ہے۔ میں خود پر گریہ کروں(یعنی مرجاؤں) اگر تم گھوڑوں کی مقام کداء کی طرف گرد اڑاتے نہ دیکھو۔وہ گھوڑے جو تمہاری طرف دوڑتے ہیں ، ان کے کندھوں پر پیاسے نیزے ہیں ۔ ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ان کی تھوتھنیوں کو عورتیں دوپٹوں سے صاف کریں گی۔اگر تم ہم سے روگردانی کرو تو ہم عمرہ کرلیں گے ، پردہ اٹھ جائے گا اور فتح حاصل ہوجائے گی۔ورنہ اس دن کا انتظار کروگے جس دن اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا عزت دے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ایک بندہ کو رسول بنایا ہے جو حق کہتا ہے اور اس میں کوئی پوشیدگی نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ایک لشکر بنایا ہے جو انصار ہیں اور ان کا مقصد صرف دشمن کا مقابلہ کرنا ہے ۔ وہ لشکر ہر روز مذمت ، جنگ یا ہجو کرنے کے لیے تیار ہے ۔ پس تم میں سے جو آدمی رسول اللہ ﷺکی ہجو کرے ، تعریف کرے یا آپ کی مدد کرے ، سب برابر ہے۔ہم میں اللہ کے رسول جبریل موجود ہیں ، وہ روح القدس ہیں جن کا کوئی کفو نہیں ہے۔

35. بابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الإِسْلاَمِ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الإِسْلاَمِ فَتَأْبَى عَلَيَّ ، فَدَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ , فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا جِئْتُ فَصِرْتُ إِلَى الْبَابِ ، فَإِذَا هُوَ مُجَافٌ ، فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَيَّ ، فَقَالَتْ : مَكَانَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ ، قَالَ : فَاغْتَسَلَتْ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا , وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا ، فَفَتَحَتِ الْبَابَ ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ وَأَنَا أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ. قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَبْشِرْ قَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعْوَتَكَ وَهَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ خَيْرًا ، قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيْنَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا ، يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَحَبِّبْ إِلَيْهِمِ الْمُؤْمِنِينَ , فَمَا خُلِقَ مُؤْمِنٌ يَسْمَعُ بِي وَلاَ يَرَانِي إِلاَّ أَحَبَّنِي.

Abu Hurairah said: "I used to call my mother to Islam when she was a idolator. I called her one day, and she said to me something about the Messenger of Allah (s.a.w) that I disliked. I came to the Messenger of Allah (s.a.w) weeping, and said: 'O Messenger of Allah, I have been calling my mother to Islam but she refuses. I called her today and she said to me something about you that I disliked. Pray to Allah to guide the mother of Abu Hurairah.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O Allah, guide the mother of Abu Hurairah.' I went out, feeling optimistic because of the supplication of the Prophet of Allah (s.a.w). "When I came near the door, I found it closed. My mother heard my footsteps and said: 'Stay where you are, O Abu Hurairah!' I heard the sound of falling water. She performed Ghusl then she put on her chemise and quickly put on her head cover, then she opened the door and said: 'O Abu Hurairah, I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger."' He said: "I went back to the Messenger of Allah (s.a.w) and I came to him, weeping with joy. I said: 'O Messenger of Allah, be of good cheer, for Allah has answered your prayer and has guided the mother of Abu Hurairah.' He praised and glorified Allah and said good things. "I said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to make my mother and I beloved to His believing slaves, and to make them beloved to us.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O Allah, make this slave of Yours' - meaning Abu Hurairah - 'and his mother beloved to Your believing slaves, and make the believers beloved to them.' There is no believer created who hears of me or sees me, but he loves me."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ مشرکہ تھیں ، میں ان کو اسلام کی دعوت دیتا تھا ، ایک دن میں نے ان کو دعوت دی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺکے بارے میں ایسی بات کہی جو مجھے ناگوار گزری ، میں روتا ہوا رسول اللہﷺکے پاس آیا ، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دیتا تھا وہ انکار کرتی تھی ، آج میں نے اس کو دعوت دی تو اس نے آپﷺکے متعلق ایسا کلمہ کہاجو مجھے ناگوار گزرا ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اے اللہ ! ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے ، میں رسول اللہﷺکی دعا لے کر خوشی سے روانہ ہوا ، جب گھر کے دروازہ پر پہنچا تو دروازہ بند تھا ، ماں نے میرے قدموں کی آہٹ سنی ، اس نے کہا: اے ابو ہریرہ ! اپنی جگہ ٹھہرو ، پھر میں نے پانی گرنے کی آواز سنی ، میری ماں نے غسل کیا ، اور قمیص پہنی اور جلدی میں بغیر دوپٹہ کے باہر آئیں ، پھر دروازہ کھولا اور کہا: اے ابو ہریرہ ! میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر میں خوشی سے روتا ہوا آپﷺ کے پاس آیا ، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ!آپ کو بشارت ہو ، اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ابو ہریرہ رضی اللہ کی ماں کو ہدایت دے دی ، آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی اور کلمہ خیر فرمایا، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میری اور میری ماں کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور ہمارے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اے اللہ ! اپنے بندے اور اس کی ماں کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں پیدا کردے ، اور مومنوں کی محبت ان کے دل میں ڈال دے ، پھر ایسا کوئی مسلمان پیدا نہیں ہوا جو میرا ذکر سن کر یامجھے دیکھ کر مجھ سے محبت نہ کرے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ ، كُنْتُ رَجُلاً مِسْكِينًا ، أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَبْسُطْ ثَوْبَهُ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي فَبَسَطْتُ ثَوْبِي حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ ، ثُمَّ ضَمَمْتُهُ إِلَيَّ ، فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ.

Abu Hurairah said: "You say that Abu Hurairah narrates too many Ahadith from the Messenger of Allah (s.a.w), and our reckoning will be with Allah. I was a poor man and I served the Messenger of Allah (s.a.w) in return for having enough to eat. The Muhajirin were busy with their trading in the market, and the Ansar were busy with tending to their property. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Who will spread out his garment so that he will never forget anything that he hears from me?' So I spread out my garment until he had finished speaking, then I gathered it to me, and I have not forgotten anything that I heard from him.''

اعرج بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم یہ خیال کرتے ہو کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺکی احادیث بکثرت بیان کرتا ہے ، اللہ ہی حساب لینے والا ہے ، میں ایک مسکین آدمی تھا ، پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہﷺکی خدمت کیا کرتا تھا ، مہاجرین کو بازار کی خرید و فروخت سے فرصت نہیں تھی ، اور انصار اپنے اموال کی حفاظت میں مشغول رہتے تھے ، رسول ﷺ نے فرمایا: جو آدمی اپنا کپڑا بچھادے گا وہ مجھ سے سنی ہوئی حدیث کبھی نہیں بھولے گا ، میں نے اپنا کپڑا بچھا دیا یہاں تک کہ آپﷺنے حدیث پوری کرلی، پھر میں نے اس کپڑے کو اپنے ساتھ چمٹا لیا ، اس کے بعد آپﷺسے سنی ہوئی بات کو کبھی نہیں بھولا۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْنٌ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا ، انْتَهَى حَدِيثُهُ عِنْدَ انْقِضَاءِ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ الرِّوَايَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَبْسُطْ ثَوْبَهُ إِلَى آخِرِهِ.

This Hadith was narrated from Abu Hurairah (a similar narration as no. 6397), except that Malik (a sub narrator) ended his Hadith where the words of Abu Hurairah end, and he did not mention in his Hadith the words of the Prophet (s.a.w): "Who will spread out his garment ...”

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے ، اور اس میں رسول اللہﷺکا یہ ارشاد نہیں ہے کہ کو ن اپنا کپڑا پھیلاتا ہے ؟ اخیر حدیث تک۔


وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَلاَ يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُسْمِعُنِي ذَلِكَ ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي ، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : يَقُولُونَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدْ أَكْثَرَ ، وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ ، وَيَقُولُونَ : مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لاَ يَتَحَدَّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ ؟ وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ : إِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَرَضِيهِمْ ، وَإِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ ، وَكُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي ، فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا ، وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا ، وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا : أَيُّكُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ ، فَيَأْخُذُ مِنْ حَدِيثِي هَذَا ، ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَى صَدْرِهِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْسَ شَيْئًا سَمِعَهُ فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَدِيثِهِ ، ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي ، فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ ، وَلَوْلاَ آيَتَانِ أَنْزَلَهُمَا اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَا حَدَّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا : {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى} إِلَى آخِرِ الآيَتَيْنِ. وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : إِنَّكُمْ تَقُولُونَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

It was narrated from 'Urwah bin Az-Zubair that 'Aishah said: "Are you surprised that Abu Hurairah came and sat beside my apartment and narrated from the Prophet (s.a.w) so that I could hear it. But I was offering a voluntary prayer, and he left before I finished my prayer. If I had caught up with him I would have told him: 'The Messenger of Allah (s.a.w) did not speak as quickly as you do.'" Ibn Shihab said: "Ibn Al-Musayyab said: 'Abu Hurairah said: "They say that Abu Hurairah narrates too much (A Hadith from the Messenger of Allah (s.a.w)), and the reckoning is with Allah. They say: 'Why don't the Muhajirin and Ansar narrate as much as he does?' I will tell you about that. "My brothers among the Ansar were busy working the land, and my brothers among the Muhajirin were busy trading in the marketplace. But I used to stay close to the Messenger of Allah (s.a.w) in return for enough to eat. Hence I was present when they were absent, and I remembered when they forgot. The Messenger of Allah (s.a.w) said one day: 'Who among you will spread out his cloak and listen to what I say, then gather it to his chest, then he will not forget anything that he hears.' So I spread out a garment that I was wearing, until he finished speaking, then I gathered it to my chest, and after that day I did not forget anything that he told me. Were it not for two verses that Allah revealed in His Book, I would never have narrated anything: 'Verily, those who conceal Al-Bayyinat (the clear proofs, evidences) and the guidance, which We have sent down" to the end of the two Verses.

حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کیا تم کو حضرت ابو ہریرہ پر تعجب نہیں ہوتا ، وہ آئے اور میرے حجرے کے پہلو میں بیٹھ کر رسول اللہﷺکی احادیث بیان کرنے لگے ، میں اس وقت تسبیح پڑھ رہی تھی ، وہ مجھ کو احادیث سنانے لگے اور میری تسبیح ختم ہونے سے قبل اٹھ گئے ، اگر مجھے بات کرنے کا موقع ملتا تو میں ان کو ٹوکتی ، کیونکہ رسول اللہﷺتمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے ، ابن مسیب نے کہا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ بہت زیادہ احادیث بیان کرتے ہیں اور اللہ ہی حساب لینے والا ہے ، لوگ کہتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ مہاجرین اور انصار ابو ہریرہ کی طرح احادیث بیان نہیں کرتے ؟ میں تم کو اس کی وجہ بیان کرتا ہوں ، میرے انصار بھائیوں کو ان کی کھیتی باڑی کا کام مشغول رکھتا تھا اور مہاجرین بھائیوں کو بازار کی خرید و فروخت مصروف رکھتی تھی ، اور میں پیٹ بھر نے کے بعد رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر رہتا تھا ، جب وہ غائب ہوتے تو میں حاضر ہوتا تھا ، اور جن باتوں کو وہ بھول جاتے تھے ، میں ان کو یاد رکھتا تھا ، ایک دن رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں سے کون آدمی اپنا کپڑا بچھائے گا تاکہ میری اس حدیث کو یاد رکھے ، پھر اس کپڑے کو اپنے سینے سے لگالے تو پھر وہ آدمی کبھی کوئی سنی ہوئی بات نہیں بھولے گا ، پھر میں نے اپنی چادر بچھادی ، پھر اس کے بعد میں آج تک آپﷺکی بیان کی ہوئی کوئی حدیث نہیں بھولا ، اور اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ دو آیتیں نازل نہ کی ہوتیں تو میں کبھی کوئی حدیث بیان نہ کرتا : " لوگوں کے لیے کتاب میں ہمارے بیان فرمادینے کے بعد جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں ، بے شک اللہ ان پر لعنت کرتا ہے ، اور لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

It was narrated from Az-Zuhri: Sa'eed bin Al-Musayyab and Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman narrated that Abu Hurairah said: "You say that Abu Hurairah narrates too many Ahadith from the Messenger of Allah (s.a.w)…" a similar Hadith (as no. 2492).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ یہ کہتے ہو کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺکی احادیث بہت بیان کرتا ہے ، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے۔

36. بابُ مِنْ فَضَائِلِ أَهْلِ بَدْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَقِصَّةِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرُونَ : حَدَّثَنَا ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، وَهُوَ كَاتِبُ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ : ائْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ ، فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا ، فَإِذَا نَحْنُ بِالْمَرْأَةِ ، فَقُلْنَا : أَخْرِجِي الْكِتَابَ ، فَقَالَتْ : مَا مَعِي كِتَابٌ ، فَقُلْنَا : لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ ، أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا ، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا فِيهِ : مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا حَاطِبُ مَا هَذَا ؟ قَالَ : لاَ تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي كُنْتُ امْرَءًا مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ ،قَالَ سُفْيَانُ : كَانَ حَلِيفًا لَهُمْ ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا ، وَكَانَ مِمَّنْ كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ ، أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي ، وَلَمْ أَفْعَلْهُ كُفْرًا وَلاَ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي ، وَلاَ رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ فَقَالَ عُمَرُ : دَعْنِي ، يَا رَسُولَ اللهِ ، أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ}. وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ ، وَزُهَيْرٍ ، ذِكْرُ الآيَةِ ، وَجَعَلَهَا إِسْحَاقُ ، فِي رِوَايَتِهِ مِنْ تِلاَوَةِ سُفْيَانَ.

'Ubaidullah bin Abi Rafi', who was the scribe of 'Ali, said: "I heard 'Ali, [may Allah be pleased with him] say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) sent us; myself, Az-Zubair and Al-Miqdad, and he said: "Go to the garden of Khakh, in which you will find a woman riding a camel with whom there is a letter, and take it from her." "We set out, with our horses galloping, and we found the woman. We said: 'Give us the letter.' She said: 'I do not have a letter.' We said: 'Either you give us the letter, or we will remove your clothes (to search for the letter).' So she brought it out from her braided hair, and we brought it to the Messenger of Allah (s.a.w) And in it (was written): 'From Hatib bin Abi Balt'ah' to some of the idolaters of Makkah, telling them something about the Messenger of Allah (s.a.w). The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O Hatib, what is this?' He said: 'Do not be hasty in judging me, O Messenger of Allah. I am a man who was attached to the Quraish' - Sufyan (a sub narrator) said: 'He was an ally of theirs, but he was not one of them' - 'and the Muhajirin with you have relatives who will protect their families. As I have no blood ties among them, I wanted to do them a favor so that they would protect my family. I did not do it out of disbelief or because I apostatized from my religion, nor because I approved of disbelief after becoming Muslim.'" "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'He has spoken the truth.' 'Umar said: 'O Messenger of Allah, let me strike the neck of this hypocrite.' He (s.a.w) said: "He was present at (the battle of) Badr, and you do not know, perhaps Allah looked upon the people of Badr and said: 'Do what you wish, for I have forgiven you.' Then Allah revealed the words: 'O you who believe! Take not My enemies and your enemies (i.e. disbelievers and polytheists) as friends."'

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مجھے ، حضرت زبیر اور حضرت مقداد کو روانہ کیا اور فرمایا: خاخ کے باغ میں جاؤ اور وہاں ایک مسافرہ ملے گی جس کے پاس ایک خط ہوگا ، تم اس سے وہ خط لے لینا ، ہم لوگ روانہ ہوگئے ، ہم نے اپنے گھوڑوں کو دوڑایا ، پھر ہم کو ایک عورت ملی ، ہم نے اس سے کہا: خط نکالو ، اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ، ہم نے اس سے کہا: خط نکالو ، ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتاردیں گے ، اس نے اپنے بالوں کے گچھے سے خط نکال کر دیا ، ہم رسول اللہ ﷺکے پاس وہ خط لے کر آئے ، اس خط میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کے بعض مشرکین کو خبر دی تھی اور رسول اللہﷺکے بعض منصوبوں سے مطلع کیا تھا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اے حاطب ! کیامعاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے بارے میں جلدی مت کریں ، میں قریش کے ساتھ چسپاں تھا ، راوی سفیان نے کہا: وہ ان کے حلیف تھے ، اور قریش سے نہ تھے ، آپ کے ساتھ جو مہاجر ہیں ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں ، ان رشتہ داریوں کی بناء پر قریش ان کے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے ، میں نے یہ چاہا کہ ہر چند کہ میرا ان کے ساتھ کوئی نسبی تعلق نہیں ہے ، تاہم میں ان پر ایک احسان کرتا ہوں ، جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں گے ، میں نے یہ اقدام کسی کفر کی وجہ سے نہیں کیا ، نہ اپنے دین سے مرتد ہونے کی بناء پر کیا ہے اور نہ اسلام لانے کے بعد کفر پر راضی ہونے کے سبب سے کیا ہے ، نبی ﷺنے فرمایا: اس نے سچ کہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے اجازت دیں میں اس منافق کی گردن اڑادوں ، آپﷺنے فرمایا: یہ غزوۂ بدر میں حاضر ہوا ہے ، اور تم کیا جانو کہ اللہ تعالیٰ یقینا غزوۂ بدر والوں کے تمام حالات سے واقف ہے ، اور اس نے فرمایا: تم جو چاہو کرو، میں نے تم کو بخش دیا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : اے ایمان والو! میرے دشمن اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ ، ابو بکر اور زبیر کی روایات میں اس آیت کا ذکر نہیں ہے ، اور اسحاق نے اپنی روایت میں سفیان کی تلاوت کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ (ح) وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ ، كُلُّهُمْ عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ فَقَالَ : انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ، فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا كِتَابٌ مِنْ حَاطِبٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ.

It was narrated that 'Ali said: "The Messenger of Allah (s.a.w) sent myself and Abu Marthad Al-Ghanawi and Az-Zubair bin Al-'Awwam, and we were all horsemen. He said: 'Go until you come to the garden of Khakh, in which there is a woman from among the idolaters who has a letter with her from Hatib, written to the idolaters.'"And he mentioned a Hadith like that of 'Ubaidullah bin Abi Rafi' from 'Ali (no. 6402)."

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مجھے، اور حضرت ابو مرثد غنوی اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا ، ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے ، آپﷺنے فرمایا: تم خاخ کے باغ کی طرف روانہ ہو ، وہاں ایک مشرکہ عورت ہوگی ، اس کے پاس مشرکین کے نام حاطب کا ایک خط ہوگا ، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبْتَ لاَ يَدْخُلُهَا ، فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ.

It was narrated from Jabir that a slave of Hatib came to the Messenger of Allah (s.a.w) complaining about Hatib. He said: "O Messenger of Allah, Hatib is going to go to Hell." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "You are lying, he is not going to go to Hell, for he was present at (the battle of) Badr and AI-Hudaibiyah."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حاطب کا ایک غلام رسول اللہﷺکے پاس آیا اور حضرت حاطب کی شکایت کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! حاطب جہنم میں داخل ہوجائے گا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: تم جھوٹ کہتے ہو ، وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا ، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں حاضر ہوا ہے۔

37. بابُ مِنْ فَضَائِلِ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَهْلِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عِنْدَ حَفْصَةَ : لاَ يَدْخُلُ النَّارَ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ ، الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا قَالَتْ : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللهِ ، فَانْتَهَرَهَا ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ : {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا} فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا}.

Jabir bin 'Abdullah said: "Umm Mubashshir told me that, in the presence of Hafsah, she heard the Prophet (s.a.w) say: 'None of the companions of the tree, those who swore their oath of allegiance beneath it, will enter the Fire, if Allah wills.' She said: 'Yes they will, O Messenger of Allah.' And he scolded her. Hafsah said: 'There is not one of you .but will pass over it (Hell). The Prophet (s.a.w) said: 'But Allah says: 'Then We shall save those who use to fear Allah and were dutiful to Him. And We shall leave the wrongdoers therein (humbled) to their knees (in Hell)."'

حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے حضرت حفصہ کے پاس نبی ﷺسے یہ سنا ہے کہ ان شاء اللہ اصحاب شجرہ میں سے کوئی آدمی جہنم میں داخل نہیں ہوگا ، جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی ، حضرت حفصہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیوں نہیں ، آپﷺنے ان کو جھڑکا ، حضرت حفصہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم میں سے ہر آدمی جہنم سے گزرےوالا ہے ، نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر ہم پرہیزگاروں کو (جہنم ) سے نجات دے دیں گے ، اور ظالموں کو جہنم میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے۔

38. بابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي مُوسَى وَأَبِي عَامِرٍ الأَشْعَرِيَّيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، وَمَعَهُ بِلاَلٌ ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : أَلاَ تُنْجِزُ لِي ، يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْشِرْ فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ : أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلاَلٍ ، كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَى ، فَاقْبَلاَ أَنْتُمَا فَقَالاَ : قَبِلْنَا ، يَا رَسُولَ اللهِ ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ ، وَمَجَّ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : اشْرَبَا مِنْهُ ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا ، وَأَبْشِرَا فَأَخَذَا الْقَدَحَ ، فَفَعَلاَ مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَتْهُمَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ : أَفْضِلاَ لِأُمِّكُمَا مِمَّا فِي إِنَائِكُمَا فَأَفْضَلاَ لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً.

It was narrated that Abu Musa said: "I was with the Prophet (s.a.w) when he was camping in Al-Ji'ranah, between Makkah and Al-Madinah, and Bilal was with him. A Bedouin man came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: 'Will you fulfill your promise to me, 0 Muhammad?' The Messenger of Allah (s.a.w) said to him: 'Accept the glad tidings.' The Bedouin said to him: How often you say to me; 'Accept the good news.' The Messenger of Allah (s.a.w) turned to Abu Musa and Bilal, looking angry, and said: 'This one has rejected glad tidings; you two accept it.' They said: 'We accept it, O Messenger of Allah.' Then the Messenger of Allah (s.a.w) called for a vessel of water, and he washed his hands and face in it, and rinsed his mouth, then he said: 'Drink from it, and pour some on your faces and chests, and accept the glad tidings.' Umm Salamah called out to them from behind the curtain: 'Leave some of that which is in your vessel for your mother.' So they left some of it for her."

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺکے ساتھ تھا ۔ اس وقت آپﷺمقام جعرانہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان اترےتھے ، اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی آپﷺکے ساتھ تھے ، رسول اللہﷺکے پاس ایک دیہاتی آدمی آیا ، اس نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺنے مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کیا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: خوش ہوجاؤ ، اس دیہاتی نے آپﷺسے کہا: آپ نے مجھ سے بہت دفعہ کہا ہے کہ خوش ہوجاؤ ، رسول اللہﷺغصہ کی حالت میں حضرت ابو موسیٰ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ، آپﷺنے فرمایا: اس آدمی نے میری بشارت کو مسترد کردیا ہے ، اب تم دونوں میری بشارت کو قبول کرلو، ان دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے قبول کیا ، پھر رسول اللہﷺنے پانی کا ایک پیالہ منگوایا ، آپﷺنے اس پیالہ میں اپنے ہاتھ اور اپنا چہرہ دھویا ، اور اس میں کلی کی ، پھر فرمایا: تم دونوں اس کو پی لو ، اور اس کو اپنے اپنے چہرے اور سینہ پر مل لو او رخوش ہوجاؤ ، ان دونوں نے رسول اللہ ﷺکے حکم کے مطابق کیا ، پھر ان دونوں کو حضرت ام سلمہ ام المؤمنین نے پردہ کی اوٹ سے آواز دی : اس برتن میں جو بچا ہوا پانی ہے وہ اپنی ماں کے لیے بھی لاؤ ، پھر وہ اس میں سے کچھ پانی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے لیے بھی لے گئے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي عَامِرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ حُنَيْنٍ ، بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ ، فَقُتِلَ دُرَيْدٌ وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ ، قَالَ : فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي جُشَمٍ بِسَهْمٍ ، فَأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : يَا عَمِّ مَنْ رَمَاكَ ؟ فَأَشَارَ أَبُو عَامِرٍ إِلَى أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : إِنَّ ذَاكَ قَاتِلِي ، تَرَاهُ ذَلِكَ الَّذِي رَمَانِي ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَقَصَدْتُ لَهُ فَاعْتَمَدْتُهُ فَلَحِقْتُهُ ، فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى عَنِّي ذَاهِبًا ، فَاتَّبَعْتُهُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ : أَلاَ تَسْتَحْيِي ؟ أَلَسْتَ عَرَبِيًّا ؟ أَلاَ تَثْبُتُ ؟ فَكَفَّ ، فَالْتَقَيْتُ أَنَا وَهُوَ ، فَاخْتَلَفْنَا أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ ، فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي عَامِرٍ فَقُلْتُ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ صَاحِبَكَ ، قَالَ : فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ ، فَنَزَعْتُهُ فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلاَمَ ، وَقُلْ لَهُ : يَقُولُ لَكَ أَبُو عَامِرٍ : اسْتَغْفِرْ لِي. قَالَ : وَاسْتَعْمَلَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ ، وَمَكَثَ يَسِيرًا ثُمَّ إِنَّهُ مَاتَ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ ، وَهُوَ فِي بَيْتٍ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ ، وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ ، وَقَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنْبَيْهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ ، وَقُلْتُ لَهُ : قَالَ : قُلْ لَهُ : يَسْتَغْفِرْ لِي ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ ، أَوْ مِنَ النَّاسِ فَقُلْتُ : وَلِي ، يَا رَسُولَ اللهِ ، فَاسْتَغْفِرْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلاً كَرِيمًا. قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : إِحَدَاهُمَا لأَبِي عَامِرٍ ، وَالأُخْرَى لأَبِي مُوسَى.

It was narrated from Abu Burdah that his father said: "When the Prophet (s.a.w) had finished with (the battle of) Hunain, he sent Abu 'Amir at the head of an army to Awtas, where he met Duraid bin As-Simmah, who was killed, and Allah caused his companions to be defeated. Abu Musa said: 'And he sent me with Abu 'Amir.' He said: 'Abu 'Amir was struck in the knee with an arrow by a man of Banu Jusham, and it was stuck in his knee. I came to him and said: "O uncle, who struck you?"' Abu 'Amir pointed him out to Abu Musa and said: "That one killed me, do you see the one who struck me?" Abu Musa said: "I went to him and caught up with him, and when he saw me, he ran away from me. I followed him and I started saying: 'Don't you feel ashamed? Aren't you an Arab? Won't you stand firm?' So he stopped, and we met and traded blows, then I struck him with the sword and killed him. Then I went back to Abu 'Amir and said: 'Allah has killed your opponent.' He said: 'Pull this arrow out.' So I pulled it out and water came out of it (the wound). He said: 'O son of my brother, go to the Messenger of Allah (s.a.w) and convey greetings of Salam to him from me, and say to him: "Abu 'Amir says to you: 'Pray for forgiveness for me.'" "Abu 'Amir appointed me in charge of the people, then it was not long before he died. When I came back to the Prophet (s.a.w) ' I entered upon him when he was in a house on a bed made of rope without a mattress, and the ropes had left marks on the back and sides of the Messenger of Allah (s.a.w). I told him what had happened to us and to Abu 'Amir, and I said to him: 'He said: "Tell him to pray for forgiveness for me."' The Messenger of Allah (s.a.w) called for some water and he performed Wudu', then he raised his hands and said: 'O Allah, forgive 'Ubaid Abu 'Amir,' until I could see the whiteness of his armpits. Then he said: 'O Allah, on the Day of Resurrection make him above many of Your creation,' or; 'many of the people.' I said: 'And me, O Messenger of Allah! Pray for forgiveness for me!' The Prophet (s.a.w) said: 'O Allah, forgive 'Abdullah bin Qais for his sins, and admit him to a gate of great honor on the Day of Resurrection."' Abu Burdah said: "One of them was for Abu 'Amir and the other was for Abu Musa."

حضرت ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبیﷺغزوۂ حنین سے فارغ ہوئے تو آپﷺنے حضرت ابو عامر کو ایک لشکر کے ساتھ اوطاس کی طرف روانہ کیا ، درید بن صمہ نے ان کا مقابلہ کیا ، وہ قتل کردیا گیا ، اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دی ، حضرت ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بھی آپﷺنے حضرت ابو عامر کے ساتھ روانہ کیا تھا ، حضرت ابو عامر کے گھٹنے میں تیر لگا تھا ، بنو جشم کے ایک آدمی نے وہ تیر مارا تھا ، وہ تیر ان کے گھٹنے میں گھس گیا تھا ، میں ان کے پاس گیا اور پوچھا: اے چچا ! آپ کو یہ تیر کس نے مارا تھا ؟ حضرت ابو عامر نے حضرت ابو موسیٰ کو اشارہ کرکے بتایا کہ تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو، وہ میرا قاتل ہے ، اسی نے مجھ کو تیر مارا ہے ، حضرت ابو موسیٰ نے کہا: میں نے اس آدمی کا ارادہ کیا اور اس کو جالیا ، وہ مجھے دیکھ کر پشت پھیر کر بھاگا ، میں نے اس کا پیچھا کیا اس حال میں کہ میں اس سے کہہ رہا تھا کہ تجھے شرم نہیں آتی ؟ کیا تو عرب نہیں ہے ؟ کیا تو ٹھہرے گا نہیں ؟ وہ ٹھہرا ، پھر اس کا اور میرا مقابلہ ہوا ، ہم دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیے ، پھر میں نے تلوار سے ضرب لگاکر اس کو قتل کردیا، پھر میں حضرت ابو عامر کی طرف لوٹا ، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے قاتل کو قتل کردیا ہے ، حضرت ابو عامر نے کہا: اب اس تیر کو نکالو ، میں نے تیر کو نکالا تو تیر کی جگہ سے پانی نکلا ، انہوں نے کہا: اے بھتیجے! رسول اللہﷺکے پاس جاؤ اور جاکر میرا سلام عرض کرو، اور ان سے عرض کرنا کہ ابو عامر یہ کہتا تھا کہ میرے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں ۔ اور حضرت ابو عامر نے مجھے لوگوں کا امیر بنادیا ، وہ تھوڑی دیر تک اور زندہ رہے پھر فوت ہوگئے ، جب میں نبیﷺکی طرف لوٹا اور آپﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ، آپﷺبان کی ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے ، جس پر بستر تھا ، اس کے باوجود رسول اللہﷺکی پشت اور دونوں پہلوؤں پر چار پائی کے بانوں کے نشانات تھے ، میں نے آپﷺکے سامنے اپنا اور حضرت ابو عامر کا ماجرا بیان کیا ، اور میں نے بتایا کہ انہوں نے کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺسے عرض کرنا کہ میرے لیے استغفار کریں ، رسول اللہﷺنے پانی منگاکر اس سے وضو کیا ، پھر آپﷺنے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ میں نے آپﷺکی بغلوں کی سفیدی دیکھی ، پھر آپﷺنے فرمایا: اے اللہ ! عبید ابو عامر کی مغفرت فرما، اے اللہ ! اس کو قیامت کے دن اپنی بہت سی مخلوق پر فائق کر دے ، یا فرمایا: لوگوں پر فائق کر دینا ، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے لیے دعا فرمائیں ، تو نبیﷺنے فرمایا: اے اللہ ! عبد اللہ بن قیس کے گناہ کو معاف فرما ، اور اس کو قیامت کے دن عزت کے مقام میں داخل فرما، حضرت ابو بردہ کہتے ہیں کہ ایک دعا حضرت ابو عامر کے لیے ہے ، اور ایک حضرت ابو موسیٰ کے لیے ہے۔

39. بابُ مِنْ فَضَائِلِ الأَشْعَرِيِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ ، بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ ، وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ ، أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ ، قَالَ لَهُمْ : إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ.

It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'I recognize the voices of a group of the Ash'aris when they recite Qur'an, when they enter at night, and I can tell where they are from their voices when they recite Qur'an at night, even though I did not see where they stopped during the day. Among them is a Hakim who, when he meets the horsemen"' - or "the enemy - he says to them: "My companions are telling you to wait for them."

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اشعری رفقاء کے قرآن مجید پڑھنے کی آواز کو پہچان لیتا ہوں جب وہ رات کو آتے ہیں ، اور رات کو ان کی آواز سے ان کے گھروں کو بھی پہچان لیتا ہوں ، خواہ دن میں ان کے گھر وں کو میں نے نہ دیکھا ہو ، ان میں سے ایک آدمی حکیم ہے ، جب وہ گھڑ سواروں یا دشمن سے مقابلہ کرتا ہے تو ان سے کہتا ہے کہ میرے ساتھی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرو۔


حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، قَالَ : أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ ، جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، بِالسَّوِيَّةِ ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ.

It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If the Ash'aris run short of provisions during a campaign, or they run short of food for their families in Al-Madinah, they gather whatever they have in a single cloth and divide it equally among themselves. They belong to me and I belong to them."'

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اشعری جب جہاد میں نادار ہوں ، یامدینہ میں ان کے اہل و عیال کا کھانا کم ہو تو ان کے پاس جو کچھ بچا ہو اس کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرلیتے ہیں ، پھر ایک ہی برتن سے آپس میں برابر تقسیم کرلیتے ہیں ، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔

40. بابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي سُفْيَانَ صخر بْنِ حَرْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ لاَ يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلاَ يُقَاعِدُونَهُ ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللهِ ثَلاَثٌ أَعْطِنِيهِنَّ ، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ ، أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ ، أُزَوِّجُكَهَا ، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ ، تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ ، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ ، كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: وَلَوْلاَ أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ ، لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلاَّ قَالَ: نَعَمْ.

Ibn 'Abbas said: "The Muslims would not look at Abu Sufyan nor sit with him. He said to the Prophet (s.a.w): 'O Prophet of Allah, give me three things.' He said: 'Yes.' He said: 'I have with me the most beautiful and best (woman) of the Arabs, Umm Habibah bint Abi Sufyan, and I will give her to you in marriage.' He said: 'Yes.' He said: 'Make Mu'awiyah your scribe.' He said: 'Yes.' He said: 'And appoint me as a commander so that I can fight the disbelievers as I used to fight the Muslims.' He said: 'Yes.'" Abu Zumail said: "If he had not asked the Prophet (s.a.w) for that, he would not have given him that, because whenever he was asked for something he would say: 'Yes.'"

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمان ، حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے بات نہیں کرتے تھے ، اور نہ ہی ان کے ساتھ نشست برخاست کرتے تھے ، انہوں نے نبی ﷺسے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میری تین باتیں قبول فرمائیے ، آپ ﷺنے فرمایا: اچھا ، انہوں نے کہا: حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان عرب کی سب سے حسین و جمیل لڑکی ہیں میں آپ کا اس سے نکاح کرتا ہوں ، آپﷺنے فرمایا: اچھا ، پھر انہوں نے کہا: حضرت معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنا لیجئے ، آپﷺنے فرمایا: اچھا ، پھر کہا: آپ مجھے لشکر کا امیر بنا دیجئے تاکہ میں کفار سے جنگ کروں ، جس طرح میں مسلمانوں سے جنگ کرتا تھا ، آپﷺنے فرمایا: اچھا ! ابو زمیل نے کہا: اگر وہ خود نبی ﷺسے درخواست نہ کرتے تو آپﷺیہ کام نہیں کرتے ، لیکن آپ ﷺکی عادت کریمہ یہ تھی کہ جب بھی آپﷺسے سوال کیا جاتا تو آپﷺہاں فرمادیتے تھے۔

‹ First23456