41. بابُ مِنْ فَضَائِلِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ وَأَهْلِ سَفِينَتِهِمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ ، أَنَا وَأَخَوَانِ لِي ، أَنَا أَصْغَرُهُمَا ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ ، إِمَّا قَالَ بِضْعًا وَإِمَّا قَالَ : ثَلاَثَةً وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي ، قَالَ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً ، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا هَاهُنَا ، وَأَمَرَنَا بِالإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا ، فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا ، قَالَ : فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ ، فَأَسْهَمَ لَنَا ، أَوْ قَالَ أَعْطَانَا مِنْهَا ، وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا ، إِلاَّ لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ ، إِلاَّ لأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ ، قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ ، قَالَ فَكَانَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا ، يَعْنِي لأَهْلِ السَّفِينَةِ: نَحْنُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ.
It was narrated that Abu Musa said: "We heard about the migration of the Messenger of Allah (s.a.w) when we were in Yemen, so we set out to migrate to him, my two brothers and I. I was the youngest of them; one of them was Abu Burdah and the other was Abu Ruhm, and fifty-odd or fifty-three of my people. We embarked on a ship and our ship took us to the Negus in Abyssinia. We met Ja'far bin Abi Talib and his companions there, and Ja'far said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) sent us here, and told us to stay here, so stay with us.' We stayed with him, until we came all together. And we met the Messenger of Allah (s.a.w) when he conquered Khaibar, and he gave us a share (of the spoils of war) or he gave us some of it. He did not give anything to anyone who had not been present at the conquest of Khaibar, except those who were present with him, and those who had been on our ship along with Ja'far and his companions. He gave them a share too. Some of the people said to us - meaning the people of the ship - 'We migrated before you."'
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم یمن میں تھے تو ہم کو رسو ل اللہﷺکی روانگی کی خبر ملی ، میں اور میرے دو بھائی، ابو بردہ ، اور ابو رہم ہم سب ہجرت کرکے آپ کی طرف روانہ ہوئے ، میں ان دونوں سے چھوٹا تھا ، ہمارے ساتھ ہماری قوم کے باون یا تریپن آدمی بھی تھے ، ہم کشتی میں سوار ہوئے ، کشتی نے ہمیں حبشہ کی طرف جا پھینکا ، وہاں پر ہماری حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی ، حضرت جعفر نے کہا: رسول اللہ ﷺنے ہمیں یہاں بھیجا ہے ، اور ہمیں یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے ، تم بھی ہمارے ساتھ یہاں ٹھہرو ، ہم ان کے ساتھ ٹھہرے یہاں تک کہ ہم سب اکٹھے آئے، اس وقت رسول اللہ ﷺنے خیبر فتح کیا تھا ، آپﷺنے مال غنیمت میں سے ہمیں بھی حصہ دیا ، ہمارے علاوہ جو لوگ غزوۂ خیبر میں شریک نہیں ہوئے تھے ، اور ہماری کشتی والے اور جعفر اور ان کے اصحاب کو مال غنیمت سے حصہ عطا فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر کچھ صحابہ ہم سے کہتے تھے کہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے۔
قَالَ فَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ، وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا ، عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً ، وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ ، وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا ، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَتْ : أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ، قَالَ عُمَرُ : الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ ؟ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ ؟ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : نَعَمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ ، فَغَضِبَتْ ، وَقَالَتْ كَلِمَةً : كَذَبْتَ يَا عُمَرُ كَلاَّ ، وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ ، وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ ، وَكُنَّا فِي دَارِ ، أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ فِي الْحَبَشَةِ ، وَذَلِكَ فِي اللهِ وَفِي رَسُولِهِ ، وَايْمُ اللهِ لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ ، وَوَاللَّهِ لاَ أَكْذِبُ وَلاَ أَزِيغُ وَلاَ أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ : كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ ، وَلَهُ وَلأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ ، أَهْلَ السَّفِينَةِ ، هِجْرَتَانِ. قَالَتْ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالاً ، يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، مَا مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلاَ أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى ، وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي.
He said: "Asma' bint 'Umais, who was one of those who had come with us, entered upon Hafsah, the wife of the Prophet (s.a.w) ' to visit her. She was one of those who had migrated to Abyssinia. 'Umar entered upon Hafsah when Asma' was with her, and when he saw Asma', 'Umar said: 'Who is this?' She said: 'Asma' bint 'Umais.' 'Umar said: 'Is this the Abyssinian woman? Is this the seafaring woman?' Asma' said: 'Yes.' 'Umar said: 'We migrated before you, so we have more right to the Messenger of Allah (s.a.w) than you.' She got angry and spoke up: 'You are lying, O 'Umar! No, by Allah, you were with the Messenger of Allah (s.a.w), and he was feeding your hungry ones, and exhorting your ignorant, while we were in a hostile land far away in Abyssinia, and that was for the sake of Allah and His Messenger (s.a.w). By Allah, I will not eat or drink anything until I tell the Messenger of Allah (s.a.w) about what you said. We were in a state of constant trouble and fear, and I will say that to the Messenger of Allah (s.a.w) and I will ask him. By Allah, I am not lying or adding anything to that.' When the Prophet (s.a.w) came, she said: 'O Prophet of Allah, 'Umar said such-and-such.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'No one has more right to me than you. He and his companions migrated once, but you, the people of the ship, migrated twice.' "She said: 'I saw Abu Musa and the people of the ship coming to me in groups, asking me about that Hadith, and there is nothing in this world more pleasing to them or more significant than what the Messenger of Allah (s.a.w) said to them."' Abu Burdah said: "Asma' said: 'I saw Abu Musa asking me to repeat this Hadith.'"
حضرت اسماء بنت عمیس بھی ہمارے ساتھ آنے والوں میں سے تھیں ، وہ نبی ﷺکی زوجہ حضرت حفصہ کی ملاقات کے لیے گئیں ، حضرت اسماء نے بھی ہجرت کرنے والوں کے ساتھ نجاشی کی طرف ہجرت کی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت حفصہ کے پاس آئے اس وقت ان کے پاس حضرت اسماء بھی تھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء کی طرف دیکھ کر فرمایا: یہ کون ہیں؟ حضرت حفصہ نے کہا: یہ اسماء بنت عمیس ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ حبشیہ اور بحریہ ہیں ، حضرت اسماء نے کہا: ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے ، ہم رسول اللہ کے تم سے زیادہ حقدار ہیں ، حضرت اسماء کو غصہ آگیا اور انہوں نے ایک بات کہی : اے عمر ! تم نے غلط کہا، اللہ کی قسم ! تم رسول اللہﷺکے ساتھ تھے ، وہ تمہارے بھوکوں کو کھلاتے تھے اور تمہارے جاہلوں کو نصیحت کرتے تھے اور ہم دور دراز دشمنوں کے ملک حبش میں تھے اور ہمارا وہاں جانا محض اللہ اور اس کے رسول ﷺکی وجہ سے تھا ، اور اللہ کی قسم! میں اس وقت تک کوئی چیز نہ کھاؤں گی اور نہ پیوں گی جب تک کہ میں تمہاری کہی ہوئی بات کا رسول اللہ سے ذکر نہ کروں ،حبشہ میں ہم کو تکلیف دی جاتی تھی اور ہم کو خوف زدہ کیا جاتا تھا ، میں عنقریب رسول اللہﷺسے اس کا ذکر کروں گی ، اور آپﷺسے اس کے متعلق سوال کروں گی ، اللہ کی قسم ! میں نہ جھوٹ بولوں گی ، اور نہ کج بحثی کروں گی اور نہ اصل واقعہ پر زیادتی کروں گی ۔ راوی کہتے ہیں کہ جب نبیﷺتشریف لائے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! بے شک عمر رضی اللہ عنہ نے اس اس طرح کہا ہے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: ان کا مجھ پر تم سے زیادہ حق نہیں ہے ، ان کی اور ان کے اصحاب کی ایک ہجرت ہے ، اور اے اہل سفینہ ! تمہاری دو ہجرتیں ہیں ، حضرت اسماء کہتی ہیں کہ میں نے دیکھاکہ حضرت ابو موسیٰ اور اصحاب سفینہ گروہ در گروہ آتے اور مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کرتے ، ان کے نزدیک دنیا کی کوئی چیز رسول اللہﷺکے اس فرمان سے زیادہ عظیم اور زیادہ خوش کن نہیں تھی، ابو بردہ کہتےہیں کہ حضرت اسماء نے کہا: حضرت ابو موسیٰ اس حدیث کو مجھ سے دہرایا کرتے تھے ۔
42. بابُ مِنْ فَضَائِلِ سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلاَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ ، أَتَى عَلَى سَلْمَانَ ، وَصُهَيْبٍ ، وَبِلاَلٍ فِي نَفَرٍ ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللهِ مَأْخَذَهَا ، قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ ، لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ ، لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ. فَأَتَاهُمْ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ ؟ قَالُوا: لاَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَخِي.
It was narrated from 'A'idh bin 'Amr that Abu Sufyan came to Salman, Suhaib and Bilal among a group of people, and they said: "By Allah, the swords of Allah did not reach the neck of an enemy of Allah they were supposed to reach." Abu Bakr said: "Do you say this to an elder and chief of Quraish?" He went to the Prophet (s.a.w) and told him, and he said: "O Abu Bakr, perhaps you annoyed them, and if you have annoyed them you have annoyed your Lord." Abu Bakr went to them and said: "O my brothers, have I annoyed you?" They said: "No, may Allah forgive you, 0 my brother."
عائذ بن عمرو سے روایت ہے کہ حضرت سلمان ، حضرت صہیب اور حضرت بلال کے پاس چند لوگوں کی موجودگی میں حضر ت ابو سفیان آئے تو انہوں نے کہا: اللہ کی تلوار یں ، اللہ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ پر نہیں پہنچیں ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم قریش کے شیخ اور سردار کے بارے میں اس طرح کہتے ہو ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبیﷺکے پاس جاکر آپ کو اس کی خبر دی ، آپﷺنے فرمایا: اے ابو بکر ! شاید تم نے ان کو ناراض کردیا، اور اگر تم نے ان کو ناراض کیا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کردیا ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا: اے میرے بھائیو! میں نے تم کو ناراض کردیا ؟ انہوں نے کہا: اے بھائی ! نہیں ، اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : فِينَا نَزَلَتْ : {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا} بَنُو سَلِمَةَ وَبَنُو حَارِثَةَ ، وَمَا نُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ ، لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا}.
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Verse 'When two parties from among you were about to lose heart, but Allah was their Waif (Supporter and Protector), was revealed concerning us; Banu Salamah and Banu Harithah – and we would not like for it not to have been revealed, because Allah, Glorified and Exalted is He, said: 'But Allah was their Wall (Supporter and Protector).'"
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت ہم میں نازل ہوئی ہے ، جب تم میں سے دو جماعتوں نے بزدلی کا ارادہ کیا اور اللہ ان دونوں کا مددگار ہے ، یہ آیت بنوسلمہ اور بنو حارثہ کے متعلق نازل ہوئی ، ہماری یہ خواہش نہ تھی کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ، اللہ ان دونوں کا مددگار ہے۔
43. بابُ مِنْ فَضَائِلِ الأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ ، وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ.
It was narrated that Zaid bin Arqam said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O Allah, forgive the Ansar and the children of the Ansar, and the children of the children of the Ansar."'
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما ، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما، انصار کے پوتوں کی مغفرت فرما۔
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
Shu'bah narrated it with this chain of narrators.
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اسْتَغْفَرَ لِلأَنْصَارِ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَلِذَرَارِيِّ الأَنْصَارِ، وَلِمَوَالِي الأَنْصَارِ لاَ أَشُكُّ فِيهِ.
Anas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) prayed for forgiveness for the Ansar - he said, "And I think he said: 'And the children of the Ansar, and the freed slaves of the Ansar."'
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے انصار کے لیے استغفار کیا ، راوی نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپﷺنے فرمایا: انصار کی اولاد اور انصار کے غلاموں کی مغفرت فرما ، اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلاً ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ ، اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الأَنْصَارَ.
It was narrated from Anas that the Prophet (s.a.w) saw some children and women coming back from a wedding, and the Prophet of Allah (s.a.w) stood up and said: "By Allah, you are among the dearest of people to me, by Allah, you are among the dearest of people to me" - meaning the Ansar.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے انصار کے کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہوئے دیکھا ، نبی ﷺسیدھے کھڑے ہوگئے ، آپﷺنے فرمایا: مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ تم محبوب ہو ، مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ تم محبوب ہو ، آپ ﷺ کی مراد انصار تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَخَلاَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ.
Anas bin Malik said: "A woman of the Ansar came to the Messenger of Allah (s.a.w) ' and the Messenger of Allah (s.a.w) stood aside with her, and said: 'By the One in Whose Hand is my soul, you (the Ansar) are the dearest of people to me' (and He (s.a.w) said this) three times."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہﷺکے پاس آئی ، رسول اللہﷺنے اس سے علیحدگی میں بات کی اور تین مرتبہ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ تم محبوب ہو۔
حَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Shu'bah (a similar Hadith as no. 6418) with this chain of narrators.
یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى ، قَالاَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِنَّ الأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ.
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The Ansar are my inner circle and trusted friends. The people will increase in number but the Ansar will decrease, so appreciate their good deeds and overlook their bad deeds."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: انصار میرے بااعتماد اور مخصوص لوگ ہیں ، اور لوگ بڑھتے رہیں گے اور انصار کم ہوتے رہیں گے ، تم ان کی نیکیوں کو قبول کرنا اور ان کی لغزشوں کو درگزر کرنا۔
44. بابُ فِي خَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ فَقَالَ سَعْدٌ: مَا أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلاَّ قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا ، فَقِيلَ : قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ.
It was narrated that Abu Usaid said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The best clans of the Ansar are Banu An-Najjar, then Banu 'Abdul-Ashhal, then Banu Al-Harith bin Al-Khazraj, then Banu Sa'idah. And- in all the clans of the Ansar there is goodness.' Sa'd said: 'I think that the Messenger of Allah (s.a.w) placed others above us.' It was said: 'He placed you above many others."'
حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر بنو النجار ہیں ، پھر بنو عبد الاشہل ہیں، پھر بنو الحارث بن خزرج ہیں ، پھر بنو ساعدہ ہیں ، اور انصار کے تمام گھر انوں میں خیر ہے ، حضرت سعد نے کہا: میرا خیال ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے ہم پر (اور لوگوں کو ) فضیلت دی ہے ، ان سے کہا گیا کہ آپ کو بھی بہتوں پر فضیلت دی ہے۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
A similar report (as Hadith no. 6421) was narrated from Abu Usaid Al-Ansari from the Prophet (s.a.w).
حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس حدیث کی طرح روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَذْكُرُ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَ سَعْدٍ.
A similar report (as Hadith no. 6422) was narrated from Anas from the Prophet (s.a.w) ' except that he did not mention the words of Sa'd.
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبیﷺسے اس حدیث کی طرح روایت کی ہے ، البتہ اس حدیث میں حضرت سعد کا قول نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ ، خَطِيبًا عِنْدَ ابْنِ عُتْبَةَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ، وَدَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ ، وَدَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، وَدَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَاللَّهِ لَوْ كُنْتُ مُؤْثِرًا بِهَا أَحَدًا لَآثَرْتُ بِهَا عَشِيرَتِي.
It was narrated that Ibrahim bin Muhammad bin Talhah said: "I heard Abu Usaid delivering a Khutbah in the presence of Ibn 'Utbah and he said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said: "The best clans of the Ansar are the clan of Banu An-Najjar, the clan of Banu 'Abdul-Ashhal, the clan of Banu Al-Harith bin Al-Khazraj and the clan of Banu Sa'idah.' By Allah, if I were to give preference to anyone I would give preference to my clan."
حضرت ابو اسید نے ابن عتبہ کے پاس خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: انصار کا بہترین گھرانہ بنو نجار کا ہے ، اور بنو عبد الاشہل کا گھرانہ ہے ، اور بنو حارث بن الخزرج کا گھرانہ ہے ، اور بنو ساعدہ کا گھرانہ ہے ، اللہ کی قسم! اگر میں انصار پر کسی خاندان کو ترجیح دیتا تو اپنے خاندان کو ترجیح دیتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ: شَهِدَ أَبُو سَلَمَةَ لَسَمِعَ أَبَا أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ ، بَنُو النَّجَّارِ ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ ، وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أُتَّهَمُ أَنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ لَوْ كُنْتُ كَاذِبًا لَبَدَأْتُ بِقَوْمِي بَنِي سَاعِدَةَ ، وَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، فَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ ، وَقَالَ خُلِّفْنَا فَكُنَّا آخِرَ الأَرْبَعِ ، أَسْرِجُوا لِي حِمَارِي آتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمَهُ ابْنُ أَخِيهِ سَهْلٌ ، فَقَالَ: أَتَذْهَبُ لِتَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ ، أَوَلَيْسَ حَسْبُكَ أَنْ تَكُونَ رَابِعَ أَرْبَعٍ ، فَرَجَعَ وَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، وَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَحُلَّ عَنْهُ.
It was narrated that Abu Az-Zinnad said: "Abu Salamah bore witness, that he heard Abu Usaid Al-Ansari bear witness, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The best clans of the Ansar are Banu An-Najjar, then Banu 'Abdul-Ashhal, then Banu Al-Harith bin Al-Khazraj, then Banu Sa'idah, and in every clan of the Ansar there is goodness."' Abu Salamah said: "Abu Usaid said: 'Would I tell a lie about the Messenger of Allah (s.a.w)? If I were lying I would have started with my own people, Banu Sa'idah.' News of that reached Sa'd bin 'Ubadah and he was a little upset, and he said: 'We have been left behind, we are the last of the four. Saddle my donkey for me so that I might go to the Messenger of Allah (s.a.w).' But his nephew Sahl spoke to him and said: 'Are you going to reject what the Messenger of Allah (s.a.w) said when the Messenger of Allah (s.a.w) knows best? Is it not sufficient for you that you are the fourth of four?' So he changed his mind and said: 'Allah and His Messenger know best,' and he ordered that his donkey be unsaddled."
حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ یہ گواہی دیتے تھے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر بنو نجار کا گھرانہ ہے ، پھر بنو عبد الاشہل کا ، پھر بنو حارث بن خزرج کا ، پھر بنو ساعدہ کا ، اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے ، ابو سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو اسید نے کہا: کیا میں رسو ل اللہﷺکی طرف غلط بات منسوب کررہا ہوں ؟ اگر میں جھوٹ بولتا تو اپنی قوم بنو ساعدہ سے ابتداء کرتا ، یہ بات حضرت سعدبن عبادہ تک پہنچی تو ان کو دکھ ہوا ، انہوں نے کہا: ہم کو پیچھے کردیا گیا ، ہم کو چاروں خاندانوں کے آخر میں رکھا گیا ، میرے گدھے پر زین کسو میں رسول اللہﷺکی خدمت میں جانا چاہتا ہوں ، ان کے بھتیجے سہل نے کہا: کیا تم رسول اللہﷺکی بات کو مسترد کرنے جارہے ہو؟ حالانکہ رسول اللہﷺسب سے زیادہ جاننے والے ہیں ، کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ تم چوتھے درجہ میں ہو ، پھر وہ لوٹ گئے اور کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں ، یہ کہہ کر گدھے سے زین اتارنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: خَيْرُ الأَنْصَارِ ، أَوْ خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ ، فِي ذِكْرِ الدُّورِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
Abu Usaid Al-Ansari narrated that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "The best of the Ansar," or; "the best clans of the Ansar," a similar Hadith about the clan (as no. 6425), but he did not mention the story of Sa'd bin 'Ubadah (may Allah be pleased with him).
حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ انصار میں سے بہترین گھرانہ ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، اور اس میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قصے کا ذکر نہیں ہے ۔
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ عَظِيمٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ قَالُوا: نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ قَالُوا : ثُمَّ مَنْ ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ: ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ قَالُوا: ثُمَّ مَنْ ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ: ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالُوا: ثُمَّ مَنْ ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ: ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ قَالُوا : ثُمَّ مَنْ ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ: ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مُغْضَبًا ، فَقَالَ: أَنَحْنُ آخِرُ الأَرْبَعِ ؟ حِينَ سَمَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَهُمْ ، فَأَرَادَ كَلاَمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ: اجْلِسْ ، أَلاَ تَرْضَى أَنْ سَمَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَكُمْ فِي الأَرْبَعِ الدُّورِ الَّتِي سَمَّى ؟ فَمَنْ تَرَكَ فَلَمْ يُسَمِّ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَمَّى ، فَانْتَهَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ كَلاَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abu Hurairah said: "While he was in a large gathering of Muslims, the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Shall I tell you about the best clans of the Ansar?' They said: 'Yes, O Messenger of Allah.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Banu 'Abdul-Ashhal.' They said: 'Then who, O Messenger of Allah?' He said: 'Then Banu An-Najjar.' They said: 'Then who, O Messenger of Allah?' He said: 'Then Banu Al-Harith bin Al-Khazraj.' They said: 'Then who, O Messenger of Allah?' He said: 'Then Banu Sa'idah.' They said: 'Then who, O Messenger of Allah?' He said: 'Then in every clan of the Ansar there is goodness.' "Sa'd bin 'Ubadah stood up angrily and said: 'Are we the last of the four?' And he wanted to speak to the Messenger of Allah (s.a.w) ' but a man among his people said: 'Sit down. Are you not pleased that the Messenger of Allah (s.a.w) mentioned your clan among the four clans whom he mentioned by name? Those whom he left and did not mention by name are more than those whom he did mention by name.' So Sa'd bin 'Ubadah dropped the idea of speaking to the Messenger of Allah (s.a.w)."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مسلمانوں کی ایک بڑی مجلس میں فرمایا: میں تم کو انصار کا بہترین گھرانہ بتاؤں ؟ صحابہ نے کہا: جی ، یا رسول اللہﷺ!آپ ﷺنے فرمایا: بنو عبد الاشہل ، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر کون ہیں ؟ پھر فرمایا: بنو نجار ہیں ، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر کون ہیں ؟ فرمایا: پھر بنو حارث بن خزرج ہیں ، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر کون ہیں ؟ فرمایا: پھر بنو ساعدہ ہیں ، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر کون ہیں ؟ فرمایا: پھر انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے ، جب رسول اللہﷺنے ان کے گھروں کے نام لیے تو حضرت سعد بن عبادہ غصہ میں کھڑے ہوئے اور یہ کہنے کا ارادہ کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! ہم چاروں کے اخیر میں ہیں ؟ انہوں نے رسول اللہﷺکے کلام پر اعتراض کرنا چاہا ، ان کی قوم کے لوگوں نے کہا: بیٹھ جاؤ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ رسول اللہ ﷺنے تمہارا گھرانہ ان چار گھرانوں میں رکھا ہے ، حالانکہ جن گھروں کا آپﷺنے نام نہیں لیا ان کی تعداد تو بہت زیادہ ہے ، پھر حضرت سعد رسول اللہ ﷺپر اعتراض کرنے سے رک گئے۔
45. بابُ فِي حُسْنِ صُحْبَةِ الأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عَرْعَرَةَ ، وَاللَّفْظُ لِلْجَهْضَمِيِّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ فِي سَفَرٍ فَكَانَ يَخْدُمُنِي فَقُلْتُ لَهُ: لاَ تَفْعَلْ ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الأَنْصَارَ تَصْنَعُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، آلَيْتُ أَنْ لاَ أَصْحَبَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلاَّ خَدَمْتُهُ. زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِمَا: وَكَانَ جَرِيرٌ أَكْبَرَ مِنْ أَنَسٍ ، وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: أَسَنَّ مِنْ أَنَسٍ.
It was narrated that Anas bin Malik said: "I went out with Jarir bin 'Abdullah Al-Bajali on a journey, and he was serving me. I said to him: 'Do not do that.' He said: 'I saw the Ansar doing something for the Messenger of Allah (s.a.w) ' and I decided that if I accompanied any of them I would serve him."' Ibn Al-Muthanna and Ibn Bashshar added in their Hadith: "Jarir was older than Anas."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی کے ساتھ ایک سفر میں گیا ، وہ اس سفر میں میری خدمت کرتے تھے ، میں نے ان سے کہا: ایسا نہ کرو ، انہوں نے کہا: میں نے انصار کو جب سے نبی ﷺکی خدمت کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے قسم کھائی کہ میں جب بھی کسی انصاری کے ساتھ جاؤں گا تو اس کی خدمت کروں گا ، حضرت جریر انس سے بڑے تھے ، ابن بشار نے کہا: حضرت انس سے زیادہ عمر کے تھے ۔
46. بابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ.
It was narrated by 'Abdullah bin As-Samit from Abu Dharr that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "May Allah pardon (Ghafara) Ghifar and may Allah keep Aslam safe and sound (salama)."'
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: غفار کی اللہ مغفرت کرے ، اور اسلم کو اللہ سلامت رکھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتِ قَوْمَكَ فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا.
It was narrated that Abu Dharr said: The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: "Go to your people and say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said: May Allah keep Aslam safe and sound (Salama) and may Allah pardon (Ghafara) Ghifar."'
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مجھ سے فرمایا: اپنی قوم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ہے : اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اورغفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ.
Shu'bah narrated it with this chain of narrators.
یہ حدیث ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ (ح) وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، كُلُّهُمْ قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا.
It was narrated from Jabir that the Prophet (s.a.w) said: "May Allah keep Aslam safe and sound (Salama) and may Allah pardon (Ghafara) Ghifar."
یہ حدیث سات سندوں کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور اللہ غفار کی مغفرت فرمائے۔
وحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْهَا وَلَكِنْ قَالَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "May Allah keep Aslam safe and sound (Salama) and may Allah pardon (Ghafara) Ghifar. As for me, I did not say it, rather Allah [the Mighty and Sublime] said it."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: غفار کی اللہ مغفرت کرے ، اور اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے ، یہ کوئی میرا قول نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيْمَاءَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي صَلاَةٍ اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ ، وَرِعْلاً ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ.
It was narrated that Khufaf bin Ima' Al-Ghifari said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said during the prayer: 'O Allah, curse Banu Lihyan, Ri'l and Dhakwan, and 'Usayyah, for they have disobeyed Allah and His Messenger, and may Allah pardon (Ghafara) Ghifar and may Allah keep Aslam safe and sound (Salama)."'
خفاف بن ایماء الغفاری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے نماز میں دعا کی : اے اللہ ! بنو لحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ پر لعنت فرما جنہوں نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی ہے ، اور غفار کی اللہ مغفرت فرمائے ، اور اسلم کو اللہ سلامت رکھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ: يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وقَالَ الآخَرُونَ: حَدَّثَنَا ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
It was narrated from 'Abdullah bin Dinar that he heard Ibn 'Umar say: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'May Allah pardon (Ghafara) Ghifar and may Allah keep Aslam safe and sound (Salama), but 'Usayyah have disobeyed Allah and His Messenger."'
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: غفار کی اللہ مغفرت فرمائے اور اسلم کو اللہ سلامت رکھے ، اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ (ح) وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ (ح) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ , كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ. وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ ، وَأُسَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ.
A similar report (as Hadith no. 6435) was narrated from Nafi', from Ibn 'Umar, from the Prophet (s.a.w). In the Hadith of Salih and Usamah it says that the Messenger of Allah (s.a.w) said that on the Minbar.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس حدیث کی طرح روایت کی ہے ، اور اسامہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺنے منبر پر یہ ارشاد فرمایا۔
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مِثْلَ حَدِيثِ هَؤُلاَءِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
Ibn 'Umar said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ..." A similar Hadith (as no. 6436).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ، پھر اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ۔
47. باب مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ وَأَسْلَمَ وُجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ وَمُزَيْنَةَ وَتَمِيمٍ وَدَوْسٍ وَطَيِّئٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأَنْصَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَغِفَارُ ، وَأَشْجَعُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللهِ ، مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلاَهُمْ.
It was narrated that Abu Ayyub said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The Ansar, Muzainah, Juhainah, Ghifar and Ashja', and whoever was from Banu 'Abdullah, are my supporters among the people, and Allah and His Messenger are their protectors."'
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: انصار ، مزینہ ، جہینہ ، غفار اور اشجع اور جو عبد اللہ کی اولاد سے ہے وہ لوگوں کے علاوہ میرے مددگار ہیں ، اور اللہ اور اس کا رسول ان کا مددگار ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُرَيْشٌ ، وَالأَنْصَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَأَشْجَعُ ، مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللهِ وَرَسُولِهِ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The Quraish, the Ansar, Muzainah, Juhainah, Aslam, Ghifar and Ashja' are my supporters and they have no protector other than Allah and His Messenger."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: قریش ، انصار ، مزینہ ، جہینہ ، اسلم ، غفار ، اور اشجع میرے مددگار ہیں ، اور ان کا اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي الْحَدِيثِ : قَالَ سَعْدٌ فِي بَعْضِ هَذَا فِيمَا أَعْلَمُ.
A similar report (as Hadith no. 6439) was narrated from Sa'd bin Ibrahim with this chain of narrators, except that in the Hadith (it says): "Sa'd said concerning some of this: 'As far as I know."'
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ: أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ ، أَوْ جُهَيْنَةُ ، خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَامِرٍ ، وَالْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Aslam, Ghifar, Muzainah and whoever was from Juhainah" - or Juhainah - "are better than Band Tamim and Band 'Amir and the two allies, Asad and Ghatafan."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اسلم ، غفار ، اور مزینہ اور جو لوگ جہینہ سے ہیں ، یا جہینہ بنو تمیم سے بہتر ہیں ، اور بنو عامر اور دو حلیف اسد اور غطفان سے بہتر ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنِي ، وقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغِفَارُ ، وَأَسْلَمُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ ، أَوْ قَالَ : جُهَيْنَةُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ ، خَيْرٌ عِنْدَ اللهِ ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، مِنْ أَسَدٍ ، وَطَيِّئٍ ، وَغَطَفَانَ.
Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, Ghifar, Aslam, Muzainah, whoever was from Juhainah - or he said, Juhainah and whoever was from Muzainah - will be better before Allah on the Day of Resurrection than Asad, Tayy' and Ghatafan."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺکی جان ہے ، غفار ، اسلم ، مزینہ ، اور جو جہینہ سے ہیں یا آپ نے جہینہ فرمایا اور جو مزینہ سے ہیں قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اسد ، طیء اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِيَانِ ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ ، وَجُهَيْنَةَ ، أَوْ شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ ، وَمُزَيْنَةَ ، خَيْرٌ عِنْدَ اللهِ ، قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، مِنْ أَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ ، وَهَوَازِنَ ، وَتَمِيمٍ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Aslam, Ghifar, some of Muzainah and Juhainah - or whoever was from Juhainah and Muzainah- will be better before Allah - I think he said, on the Day of Resurrection - than Asad, Ghatafan, Hawazin and Tamim."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اسلم اور غفار اور کچھ مزینہ سے اور جہینہ یا کچھ جہینہ سے اور مزینہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسد ، غطفان ، ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ ، وَغِفَارَ ، وَمُزَيْنَةَ ، وَأَحْسِبُ جُهَيْنَةَ ، مُحَمَّدٌ الَّذِي شَكَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَحْسِبُ جُهَيْنَةُ ، خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَامِرٍ ، وَأَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ ، أَخَابُوا وَخَسِرُوا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لأَخْيَرُ مِنْهُمْ. وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ : مُحَمَّدٌ الَّذِي شَكَّ.
'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah narrated from his father that Al-Aqra' bin Habis came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: "The thieves of Aslam, Ghifar and Muzainah, and I think Juhainah" – Muhammad (one of the narrators) is the one who was not sure - "who plundered the pilgrims, have sworn allegiance to you." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "What do you think if Aslam, Ghifar and Muzainah," and I think Juhainah, "are better than Banu Tamim, Banu 'Amir, Asad and Ghatafan - would the latter be doomed and lost?" He said: "Yes." He said: "By the One in Whose Hand is my soul, they are better than them." In the Hadith of Ibn Abi Shaibah it does not say: "Muhammad is the one who was not sure."
حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺکے پاس آئے اور کہا: آپ کی بیعت حاجیوں کا مال چرانے والوں نے کی ہیں اسلم ، غفار ، اور مزینہ اور میرا خیال ہے کہ جہینہ بھی کہا (راوی محمد کو شک ہے) رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر اسلم ،غفار ، اور مزینہ اور میرا خیال ہے کہ جہینہ بھی بنو تمیم ، بنو عامر ، اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو کیا یہ ناکامی اور نقصان میں رہیں گے ، اس نے کہا: ہاں ! آپﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بے شک یہ لوگ ان سے بہتر ہیں۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ . وَقَالَ وَجُهَيْنَةُ وَلَمْ يَقُلْ أَحْسِبُ.
The chief of Banu Tamim, Muhammad bin 'Abdullah bin Abi Ya'qub Ad-Dabbi narrated a similar report (as Hadith no. 6444) with this chain of narrators, and he said: "and Juhainah" and he did not say: "I think."
یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں جہینہ کا بغیر شک کے ذکر ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ ، خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَمِنْ بَنِي عَامِرٍ ، وَالْحَلِيفَيْنِ ، بَنِي أَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ.
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah, from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Aslam, Ghifar, Muzainah and Juhainah are better than Bani Tamim and Banu 'Amir, and the two allies, Bani Asad and Ghatafan."
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اسلم ، غفار ، مزینہ ، اور جہینہ بنو تمیم اور بنو عامر اور دو حلیف بنو اسد اور غطفان سے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ (ح) وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Abu Bishr with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6446).
یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی مروی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَبْدِ اللهِ بْنِ غَطَفَانَ ، وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ ، فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا ، قَالَ : فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ.
وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ.
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah that his father said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'What do you think, if Juhainah, Aslam and Ghifar are better than Banu Tamim and Banu 'Abdullah bin Ghatafan and 'Amir bin Sa'sa'ah?" He said it in a loud voice and they said: "O Messenger of Allah, they would be doomed and lost." He said: "Then they are better." According to the report of Abu Kuraib: "What do you think if Juhainah, Muzainah, Aslam and Ghifar...?”
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یہ بتاؤ کہ اگر جہینہ ، اسلم ، اور غفار ، بنو تمیم اور بنو عبد اللہ بن غطفان اور عامر بن صعصعہ سے بہتر ہوں ؟ آپ ﷺنے آواز بلند کی ، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر وہ نامرادی اور نقصان میں رہیں گے ، آپﷺنے فرمایا: بے شک وہ ان سے بہتر ہوں گے ۔ ابو کریب کی روایت میں ہے : یہ بتاؤ کہ اگر جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور غفار۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لِي: إِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ ، صَدَقَةُ طَيِّئٍ ، جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: "I came to 'Umar bin Al-Khattab and he said to me: 'The first charity that brightened the face of the Messenger of Allah (s.a.w) and the faces of his Companions was that charity of Tayy' which you brought to the Messenger of Allah (s.a.w)."'
حضرت عدی بن حاتم سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: سب سے پہلا وہ صدقہ جس نے رسول اللہﷺاور آپﷺکے صحابہ کے چہروں کو روشن کردیا تھا ، وہ بنو طیء کے صدقہ کا مال تھا ، جس کو میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں لے کرآیا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَدِمَ الطُّفَيْلُ وَأَصْحَابُهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ كَفَرَتْ وَأَبَتْ ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا فَقِيلَ : هَلَكَتْ دَوْسٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "At-Tufail and his companions came and said: 'O Messenger of Allah, Daws have disbelieved and persisted in disbelief; pray to Allah against them.' It was said: 'Daws are doomed.' He said: 'O Allah, guide Daws and bring them here."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت طفیل او ر ان کے اصحاب آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ﷺ! دوس نے کفر کیا ، اور اسلام لانے سے انکار کیا ، آپ ان کے لیے بد دعا کریں ، کہا گیا کہ اب دوس ہلاک ہوگئے ، آپﷺنے فرمایا: اے اللہ دوس کو ہدایت دے او ران کو یہاں لے آ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مِنْ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ.
قَالَ : وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا، قَالَ : وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ.
It was narrated from Abu Zur'ah that Abu Hurairah said: "I still love Banu Tamim for three things that I heard from the Messenger of Allah (s.a.w). I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'They will put up the strongest resistance of my Ummah against the Dajjal.' Their charity (Zakat) came and the Prophet (s.a.w) said: 'This is the charity of our people.' And he said: 'Aishah had a slave girl from among them,' and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Set her free, for she is from the children of Isma'il.' "
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بنو تمیم کے بارے میں تین باتیں سنی ہیں ، جس کی وجہ سے میں ان سے ہمیشہ محبت کرتاہوں ، رسول اللہﷺنے فرمایا: وہ میری امت میں سب سے زیادہ دجال پر سخت ہیں ، ایک مرتبہ ان کے صدقات آئے تونبی ﷺنے فرمایا: یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں ، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے پاس ان کی ایک باندی تھی ، آپﷺنے فرمایا: اس کو آزاد کردو ، یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "I still love Banu Tamim for three things that I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say about them." And he mentioned a similar report (as Hadith no. 6451).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺسے جو تین باتیں سنی ہیں ان کی وجہ سے میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں ۔ اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ ، إِمَامُ مَسْجِدِ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ثَلاَثُ خِصَالٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي بَنِي تَمِيمٍ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُمْ ، بَعْدُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : هُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالاً فِي الْمَلاَحِمِ وَلَمْ يَذْكُرِ الدَّجَّالَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "There are three things that I heard from the Messenger of Allah (s.a.w) about Banu Tamim, and I still love them after that." He quoted a similar Hadith (as no. 6451), except that he said: "They are the bravest of people in the battlefield.'' But he did not mention the Dajjal.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو تمیم کے حوالے سے میں نے رسول اللہﷺسے تین باتیں سنی ہیں جس کی وجہ سے میں ان سے ہمیشہ محبت کرتاہوں ، اس کے بعد مذکورہ بالاحدیث کی طرح ہے ، البتہ اس میں دجال کا ذکر نہیں ہے ، اور یہ ہے کہ یہ لڑائی میں سب سے زیادہ سخت ہیں۔
48. بابُ خِيَارِ النَّاسِ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقِهُوا ، وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الأَمْرِ ، أَكْرَهُهُمْ لَهُ ، قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ ، وَتَجِدُونَ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "You will find that people are of different qualities. The best of them in the Jahiliyyah will be the best of them in Islam, when they attain Fiqh (the true understanding of Islam). And you will find that among the best of people in positions of authority are those who dislike it most, before it is thrust upon them. And you will find that among the worst of people is the one who is two-faced, showing one face to these people and another face to those."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم لوگوں کو معدنیات کی طرح پاؤگے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہوں گے ، بشرطیکہ وہ دین میں فقیہ ہوں اور اس امر میں تم اسی شخص کو سب سے بہتر پاؤگے جو اس امر میں واقع ہونے سے پہلے سب سے زیادہ اس سے متنفر تھا اورتم لوگوں میں سب سے برا اس کو پاؤگے جس کے دو چہرے ہوں گے ، ایک کے پاس ایک چہرے سے ملاقت کرے گا ، اور دوسرے کے پاس دوسرے چہرے سے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ. غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ وَالأَعْرَجِ تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ كَرَاهِيَةً حَتَّى يَقَعَ فِيهِ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'You will find that people are of different qualities"' - a Hadith like that of Az-Zuhri, (no. 6454) except that in the Hadith of Abu Zur'ah and Al-A'raj it says: "You will find the best of people in this matter are those who hate it the most until it is thrust upon them."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم لوگوں کو معدنیات کی طرح پاؤگے ، یہ حدیث زہری کی طرح ہے ، البتہ ابو زرعہ اور اعرج کی روایت میں ہے : تم اس امر میں سب سےبہتر اس کو پاؤگے جوجاہلیت میں سب سے شدید اس سے متنفر تھا۔
49. باب مِنْ فَضَائِلِ نِسَاءِ قُرَيْشٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.وَعَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ، وَقَالَ الآخَرُ : نِسَاءُ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى يَتِيمٍ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The best women who ride camels are' - one of them (the sub narrator) said: 'the righteous women of the Quraish,' and the other said: 'the women of the Quraish, - 'they are the kindest to the orphans when they are small, and they are the best at looking after the wealth of their husbands."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں بہترین وہ ہیں ، ایک راوی نے کہا: جو قریش کی نیک عورتیں ہیں ، دوسرے راوی نے کہا: وہ قریش کی عورتیں ہیں جو اپنے بچوں پر کم سنی میں مہربان ہوتی ہیں، اور اپنے شوہر کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.وَابْنُ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَرْعَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَلَمْ يَقُلْ يَتِيمٍ.
A similar report (as Hadith no. 6456) was narrated from Abu Hurairah, and attributed to the Prophet~' and from Ibn Tawus from his father, who attributed it to the Prophet (s.a.w), except that he said: "They are the kindest to children when they are small" and he did not say: "orphans."
یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ جو اپنی اولاد کی کم سنی میں زیادہ حفاظت کرتی ہیں ، اس میں یتیم کا لفظ نہیں ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ ، أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ.
قَالَ: يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ : وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ.
Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'The women of the Quraish are the best of women who ride camels; they are the kindest to children and they are the best at looking after their husbands' wealth."' Abu Hurairah said following that: "Mariam bint 'Imran never rode a camel."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: قریش کی بہترین عورتیں وہ ہیں جو اونٹوں پر سفر کرتی ہیں ، بچوں پر زیادہ شفیق ہوتی ہیں ، اور اپنے خاوند کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں ، حضرت ابو ہریرہ اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد کہتے تھے کہ حضرت مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ ، بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ ، وَلِي عِيَالٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ ... ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) proposed marriage to Umm Hani' bint Abi Talib, and she said: "O Messenger of Allah, I have grown old and I have children." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "The best of women who ride ...” Then he mentioned a Hadith like that of Yunus (no. 6458), except that he said: "They are the kindest to children when they are small."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کو نکاح کا پیغام دیا ، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور میرے بچے ہیں ،پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: بہترین عورتیں وہ ہیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں ، اس کے بعد حسب سابق حدیث مروی ہے ، البتہ اس میں یہ ہے کہ جو اپنے بچوں پر کم سنی میں زیادہ شفیق ہوتی ہیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ ، صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The best of women who ride camels are the righteous women of the Quraish. They are the kindest to children when they are small and they are the best at looking after their husband's wealth."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو عورتیں اونٹوں پر سفر کرتی ہیں ان میں بہترین قریش کی نیک عورتیں ہیں جو اپنی اولاد پر کم سنی میں زیادہ شفیق ہوتی ہیں اور خاوند کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ هَذَا سَوَاءً.
A Hadith like that of Ma'mar (no. 6460) was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے معمر کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۔
50. باب مُؤَاخَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ.
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (s.a.w) established brotherhood between Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah and Abu Talhah.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے حضرت ابو عبیدہ بن جراح اورحضرت ابو طلحہ کو آپس میں بھائی بنایا۔
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، قَالَ: قِيلَ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ حِلْفَ فِي الإِسْلاَمِ ؟ فَقَالَ أَنَسٌ: قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ ، وَالأَنْصَارِ فِي دَارِهِ.
'Asim Al-Ahwal narrated that it was said to Anas bin Malik: "Have you heard that the Messenger of Allah said: 'There is no Hilf (alliance) in Islam?' So Anas said that the Messenger of Allah (s.a.w) established an alliance (Hilf) between the Quraish and the Ansar, in his house."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : کیا آپ تک یہ حدیث پہنچی ہے ، کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: " اسلام میں حلف نہیں ہے " حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہﷺنے خود اپنے مکان میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالأَنْصَارِ ، فِي دَارِهِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ.
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) established an alliance between the Quraish and the Ansar in my house in Al-Madinah."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مدینہ میں اپنے گھر میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ حِلْفَ فِي الإِسْلاَمِ ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الإِسْلاَمُ إِلاَّ شِدَّةً.
It was narrated that Jubair bin Mut’im said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: "There is no alliance (Hilf) in Islam. Alliances existed during the Jahiliyyah; Islam only strengthened them."
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اسلام میں حلف نہیں ہے ، جس آدمی نے جاہلیت میں کوئی حلف کیا تھا ، اسلام میں وہ حلف اور مضبوط ہوگا۔