21. بَابُ مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ خَافَ أَنْ لاَ يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ فَإِنَّ صَلاَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ ». وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَحْضُورَةٌ.
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever fears that he will not get up at the end of the night, let him pray Witr at the beginning. Whoever is sure that he will get up at the end of the night, let him pray Witr at the end, for prayer at the end of the night is witnessed, and that is better." Abu Mu'awiyah (in his narration) said: "is attended."
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس آدمی کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں وتر پڑھ لے اور جس آدمی کو اس بات کی تمنا ہو کہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرے تو اسے چاہیے کہ وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ اس کے لئے افضل ہے اور ابومعاویہ نے مشہودۃ کی جگہ محضورہ کا لفظ کہا ہے۔
وَحَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « أَيُّكُمْ خَافَ أَنْ لاَ يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ ثُمَّ لْيَرْقُدْ وَمَنْ وَثِقَ بِقِيَامٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ ».
It was narrated that Jabir said: "I heard the Prophet (s.a.w) say: 'Any one of you who fears that he will not get up at the end of the night, let him pray Witr then go to sleep. Whoever is confident that he will get up at the end of the night, let him pray Witr at the end, for recitation at the end of the night is attended, and that is better."'
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جس آدمی کو اس بات کا ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہ اٹھ سکے گا تو اسے چاہیے کہ وتر پڑھ لے پھر سو جائے اور جس آدمی کو رات کو اٹھنے کا یقین ہو تو اسے چاہیے کہ وہ وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ میں قرات کرنا ایسا ہے کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے۔
22. بَابُ أَفْضَلِ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَفْضَلُ الصَّلاَةِ طُولُ الْقُنُوتِ ».
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The best prayer is that in which one stands for a long time."'
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا وہ نماز زیادہ فضیلت والی ہے جس میں لمبا قیام ہو۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَىُّ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ قَالَ « طُولُ الْقُنُوتِ ». قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ.
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) was asked which prayer is best. He said: 'That in which one stands for a long time."'
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے دریافت کیا گیا کون سی نماز زیادہ افضل ہے؟ آپﷺنے فرمایا جس میں لمبا قیام ہو۔
23. بَاب فِي اللَّيْلِ سَاعَةٌ مُسْتَجَابٌ فِيهَا الدُّعَاءُ
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّ فِى اللَّيْلِ لَسَاعَةً لاَ يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ ».
It was narrated from Abu Sufyan that Jabir said: "I heard the Prophet (s.a.w) say: 'In the night there is an hour when, if a Muslim asks Allah for good in this world and in the Hereafter, He will give him it, and that happens every night.'"
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رات میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس وقت جو مسلمان آدمی اللہ تعالی سے دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگے گا تو اللہ تعالی اسے ضرور عطا فرما دیں گے اور یہ گھڑی ہر رات میں ہوتی ہے۔
وَحَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةً لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ».
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "In the night there is an hour when, if the Muslim slave asks Allah for something good, He will give him it."
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس وقت جو مسلمان بندہ بھی اللہ تعالی سے جو بھی بھلائی مانگے گا اللہ تعالی اسے ضرور عطا فرمائیں گے۔
24. بَاب التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَالْإِجَابَةِ فِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ وَعَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِى فَأَسْتَجِيبَ لَهُ وَمَنْ يَسْأَلُنِى فَأُعْطِيَهُ وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِى فَأَغْفِرَ لَهُ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Our Lord, may He be blessed and exalted, comes down to the lowest heaven every night when the last third of the night is left, and He says: 'Who will call upon Me, that I may answer him? Who will ask of Me, that I may give him? Who will ask Me for forgiveness, that I may forgive him?"'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک وتعالی ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، جس وقت رات کے آخر کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں اور کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں اسے بخش دوں۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىُّ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِى ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ مَنْ ذَا الَّذِى يَدْعُونِى فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِى يَسْأَلُنِى فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِى يَسْتَغْفِرُنِى فَأَغْفِرَ لَهُ فَلاَ يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِىءَ الْفَجْرُ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Allah comes down to the lowest heaven every night when the first third of the night has passed, and says: 'I am the Sovereign, I am the Sovereign. Who will call upon Me, that I may answer him? Who will ask of Me, that I may give him? Who will ask Me for forgiveness, that I may forgive him?' And that continues until the light of dawn."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے جس وقت رات کا تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میں بادشاہ ہوں میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اسکی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں اسے معاف کر دوں، اللہ تعالی اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح روشن ہو جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ يَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى هَلْ مِنْ دَاعٍ يُسْتَجَابُ لَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'When half of the night has passed, or two-thirds, Allah, may He be blessed and exalted, comes down to the lowest heaven and says: Who will ask of Me, that I may give him? Who will call upon Me, that I may answer him? Who will ask Me for forgiveness, that I may forgive him? until dawn breaks."'
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب آدھی رات یا رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اسے عطا کیا جائے، کیا ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اسکی دعا قبول کی جائے، کیا ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ اسے بخش دیا جائے، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے۔
حَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِى ابْنُ مَرْجَانَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَنْزِلُ اللَّهُ فِى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لِشَطْرِ اللَّيْلِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الآخِرِ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِى فَأَسْتَجِيبَ لَهُ أَوْ يَسْأَلُنِى فَأُعْطِيَهُ. ثُمَّ يَقُولُ مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدِيمٍ وَلاَ ظَلُومٍ ». قَالَ مُسْلِمٌ ابْنُ مَرْجَانَةَ هُوَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمَرْجَانَةُ أُمُّهُ.
It was narrated from Ibn Marjanah, from Abu Hurairah who said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah, may He be exalted, comes down to the lowest heaven halfway through the night, or in the last third of the night, and says: "Who will call upon Me, that I may answer him? Who will ask of Me, that I may give him? Then He says: Who will lend to One Who is neither indigent nor unjust?'" Muslim said: Ibn Marjanah is Sa'eed bin 'Abdullah, and Marjanah is his mother.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی آدھی رات یا رات کے آخری تہائی حصہ میں آسمان دنیا میں نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں یا وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کروں، پھر فرماتا ہے اس ذات کو کون قرض دے گا جو کبھی مفلس نہ ہوگا اور نہ ہی کسی پر ظلم کرے گا، امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ابن مر جانہ وہ سعید بن عبداللہ ہے اور مرجانہ ان کی ماں ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ « ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ وَلاَ ظَلُومٍ ».
It was narrated from Sa'd bin Sa'eed with this chain (as similar Hadith as no. 1775), and he added: "Then He spreads out His Hand, may He be blessed and exalted, and says: 'Who will lend to One Who is neither indigent nor unjust?"'
حضرت سعد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے اور یہ زائد ہے کہ پھر اللہ تبارک وتعالی اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ کون ہے جو اسے قرض دیتا ہے جو نہ کبھی فنا ہوگا اور نہ ہی کسی پر ظلم کرے گا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ - وَاللَّفْظُ لاِبْنَىْ أَبِى شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الأَغَرِّ أَبِى مُسْلِمٍ يَرْوِيهِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ وَأَبِى هُرَيْرَةَ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ نَزَلَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ هَلْ مِنْ تَائِبٍ هَلْ مِنْ سَائِلٍ هَلْ مِنْ دَاعٍ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ ».
It was narrated that Abu Sa'eed and Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah waits until the first two-thirds of the night have gone, then He descends to the lowest heaven and says: Is there anyone who will ask for forgiveness? Is there anyone who will repent? Is there anyone who will ask? Is there anyone who will call? until dawn breaks."'
حضرت ابو سعید او ر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی مہلت عطا فرماتا ہے یہاں تک کہ رات کا تہائی حصہ گز رجاتا ہے تو آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا کوئی مغفرت مانگنے والا ہے؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے؟ یہاں تک کہ فجر ہو جاتی ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَنْصُورٍ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ.
It was narrated from Abu Ishaq with this chain (a similar Hadith as no. 1777), but the Hadith of Mansur is more complete.
ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے مگر پہلی روایت مکمل اور مفصل ہے۔
25. بَاب التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ وَهُوَ التَّرَاوِيحُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever prays Qiyam in Ramadan out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے ایمان اور ثواب سمجھ کر رمضان کی رات کو قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُرَغِّبُ فِى قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ « مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ». فَتُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِى خِلاَفَةِ أَبِى بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to encourage them to pray Qiyam in Ramadan without saying that it was obligatory. He would say: 'Whoever prays Qiyam in Ramadan out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven.' Then the Messenger of Allah (s.a.w) died and that is how it was, and it remained like that throughout the Khilafah of Abu Bakr and at the beginning of the Khilafah of 'Umar."
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺرمضان میں قیام کی ترغیب دیا کرتے تھے اور اس کا تاکیدا حکم نہیں دیتے تھے ۔ فرماتے کہ جو آدمی رمضان میں ایمان اور ثواب سمجھ کر قیام کرے تو اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے رسول اللہ ﷺوصال فرما گئے اور آپ ﷺکا یہ حکم اسی طرح باقی رہا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے آغاز میں اسی طرح یہ حکم باقی رہا۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ».
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever fasts Ramadan out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven. Whoever spends the night of Lailat Al-Qadr in prayer out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس آدمی نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِى وَرْقَاءُ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَيُوَافِقُهَا - أُرَاهُ قَالَ - إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever spends the night in prayer and that coincides with Lailat Al-Qadr" - I think he said - "out of faith and in the hope of reward, will be forgiven."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو آدمی شب قدر میں قیام کرتا ہے اور اس کی شب قدر سے موافقت ہو جائے راوی نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ ﷺنے فرمایا کہ ایمان اور ثواب کی نیت ہو تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى فِى الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ « قَدْ رَأَيْتُ الَّذِى صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِى مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلاَّ أَنِّى خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ ». قَالَ وَذَلِكَ فِى رَمَضَانَ.
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) prayed in the Masjid one night, and some people followed his prayer. The next night he prayed again, and the numbers of people increased. Then they gathered on the third or fourth night, but the Messenger of Allah (s.a.w) did not come out to them. When morning came, he said: "I saw what you did, and nothing kept me from coming out to you but the fact that I was afraid that it would be made obligatory for you." He said: "And that was in Ramadan."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ ﷺکے ساتھ کچھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی پھر آپ ﷺنے اگلی رات نماز پڑھی تو لوگ زیادہ ہو گئے پھر لوگ تیسری یا چوتھی رات بھی مسجد میں جمع ہو گئے تو رسول اللہ ﷺباہر تشریف نہ لائے پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا میں نے تمہیں دیکھا تھا تو مجھے تمہاری طرف نکلنے کے لئے کسی نے نہیں روکا سوائے اسکے کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ رمضان المبارک ہی کے بارے میں تھا۔
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاَتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ ذَلِكَ فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ الصَّلاَةَ. فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى خَرَجَ لِصَلاَةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ « أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَىَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ وَلَكِنِّى خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاَةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا ».
'Aishah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) came out in the middle of the night and prayed in the Masjid, and some men followed his prayer. The next day the people were talking about that, then more of them gathered and the Messenger of Allah (s.a.w) came out on the second night, and they followed his prayer. The next day the people were talking about that, and the number of people in the Masjid increased on the third night. He came out, and they followed his prayer. Then on the fourth night, the Masjid could hardly contain the people, and the Messenger of Allah (s.a.w) did not come out to them. Some people started calling out, saying: "The prayer!" But the Messenger of Allah (s.a.w) did not come out to them until he came out for Fajr prayer. When he had finished Fajr he turned to the people, recited the Shahadah, and said: "I was not unaware of your situation last night, but I feared that the night prayer might be made obligatory for you, and you would be unable to do it."
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺرات کے درمیانی حصہ میں نکلے، آپ ﷺنے مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ آدمیوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی تو صبح لوگ اس کا تذکرہ کرنے لگے، رسول اللہ ﷺدوسری رات نکلے تو پہلی رات سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو انہوں نے بھی آپ ﷺکے ساتھ نماز پڑھی تو لوگوں نے صبح کو اس بات کا ذکر کیا، تیسری رات میں مسجد والے بہت زیادہ جمع ہو گئے تو آپ ﷺباہر نکلے، لوگوں نے آپ ﷺکے ساتھ نماز پڑھی پھر جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھر گئی تو آپ ﷺمسجد والوں کی طرف نہ نکلے، مسجد والوں میں سے کچھ آدمی پکار کر کہنے لگے نماز! رسول اللہ ﷺپھر بھی ان کی طرف نہ نکلے یہاں تک کہ آپ ﷺفجر کی نماز کے لئے نکلے تو جب فجر کی نماز پوری ہوگئی تو صحابہ کرام کی طرف آپ ﷺمتوجہ ہوئے پھر تشہد پڑھا اور فرمایا اما بعد کہ تمہاری آج کی رات کی حالت مجھ سے چھپی ہوئی نہ تھی لیکن مجھے ڈر لگا کہ کہیں تم پر رات کی نماز فرض نہ کر دی جائے پھر تم اس کے پڑھنے سے عاجز آجاؤ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى عَبْدَةُ عَنْ زِرٍّ قَالَ سَمِعْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ - وَقِيلَ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَنْ قَامَ السَّنَةَ أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ - فَقَالَ أُبَىٌّ وَاللَّهِ الَّذِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ إِنَّهَا لَفِى رَمَضَانَ - يَحْلِفُ مَا يَسْتَثْنِى - وَوَاللَّهِ إِنِّى لأَعْلَمُ أَىُّ لَيْلَةٍ هِىَ. هِىَ اللَّيْلَةُ الَّتِى أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِقِيَامِهَا هِىَ لَيْلَةُ صَبِيحَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِى صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لاَ شُعَاعَ لَهَا.
It was narrated that Zirr said: "I heard Ubayy bin Ka'b say - when it was said to him that 'Abdullah bin Mas'ud was saying that whoever prays Qiyam for a year will attain Lailat Al-Qadr : 'By Allah, besides Whom there is none worthy of worship! It is in Ramadan' - and he swore with no reservation - 'and by Allah, I know which night it is! It is the night which the Messenger of Allah (s.a.w) commanded us to spend in prayer; it is the night of the twenty-seventh, and its sign is that the sun rises that day bright with no rays."'
حضرت زر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابی بن کعب کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور ان سے کہا گیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو آدمی سارا سال قیام کرے وہ لیلۃ القدر کو پہنچ گیا، حضرت ابی فرمانے لگے اس اللہ کی قسم کہ جس کے سواکوئی معبود نہیں وہ شب قدر رمضان میں ہے وہ بغیر استثناء کے قسم کھاتے اور فرماتے اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ وہ کونسی رات ہے وہ وہی رات ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے قیام کا حکم فرمایا وہ رات کہ جس کی صبح ستائیس (تاریخ) ہوتی ہے اور اس شب قدر کی علامت یہ ہے کہ اس دن کی صبح روشن ہوتی ہے تو اس میں شعاعیں نہیں ہوتیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِى لُبَابَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ أُبَىٌّ فِى لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّى لأَعْلَمُهَا وَأَكْثَرُ عِلْمِى هِىَ اللَّيْلَةُ الَّتِى أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِقِيَامِهَا هِىَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ - وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِى هَذَا الْحَرْفِ - هِىَ اللَّيْلَةُ الَّتِى أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ وَحَدَّثَنِى بِهَا صَاحِبٌ لِى عَنْهُ.
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said: "Ubayy said concerning Lailat Al-Qadr: 'By Allah I know when it is, and I am certain it is the night that the Messenger of Allah (s.a.w) commanded us to spend in prayer; it is the night of the twenty-seventh."'
حضرت زر بن حبیش سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے شب قدر کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم میں اس رات کو جانتا ہوں اور مجھے زیادہ علم ہے کہ وہ وہی رات ہے جس میں رسول اللہ ﷺنے ہمیں قیام کا حکم فرمایا وہ ستائیسویں کی رات ہے، اور شعبہ کو اس بات میں شک ہے کہ ابی بن کعب نے فرمایا کہ وہ رات جس میں رسول اللہ ﷺنے ہمیں قیام کا حکم فرمایا شعبہ نے کہا کہ یہ حدیث میرے ایک ساتھی نے ان سے نقل کی ہے۔
وَحَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ إِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ. وَمَا بَعْدَهُ.
Shu'bah narrated something similar (to no. 1786) with this chain.
ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے مگر اس میں شعبہ کے شک کا ذکر نہیں ہوا۔
26. بَابُ النَّدَبِ الْأَكِيْدِ إِلَى قِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ بَيَانُ دَلِيلٍ مَنْ قَالَ: إِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَ عِشْرِيْنَ
حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِى ابْنَ مَهْدِىٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِى مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ وَلَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّى كُنْتُ أَنْتَبِهُ لَهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِى فَأَدَارَنِى عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَامَّتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ فِى دُعَائِهِ « اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِى قَلْبِى نُورًا وَفِى بَصَرِى نُورًا وَفِى سَمْعِى نُورًا وَعَنْ يَمِينِى نُورًا وَعَنْ يَسَارِى نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَأَمَامِى نُورًا وَخَلْفِى نُورًا وَعَظِّمْ لِى نُورًا ». قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعًا فِى التَّابُوتِ فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِى بِهِنَّ فَذَكَرَ عَصَبِى وَلَحْمِى وَدَمِى وَشَعَرِى وَبَشَرِى وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said: "One night I stayed with my maternal aunt Maimunah. The Prophet (s.a.w) got up in the night, relieved himself, then he washed his face and hands, and went to sleep. Then he got up, went to the water skin, undid its straps, and performed a Wudu' that was somewhere between the most perfect and the most light, and he only washed each part once, but he made water reach everywhere it should go. Then he stood and prayed, and I got up and stretched, not wanting him to think that I was watching him, and I performed Wudu'. He stood and prayed, and I stood on his left, but he took me by the hand and brought me to his right. I followed the prayer of the Messenger of Allah (s.a.w) at night, thirteen Rak'ah. Then he lay down and slept until he was breathing deeply, for when he slept he would breathe deeply. Then Bilal came to him and called him for prayer, and he got up and prayed, and did not perform Wudu'. In his supplication he said: 'Allahummaj'al fi qalbi nuran wa fi basari nuran wa fi sam'i nuran wa 'an yamini nuran wa 'an yasari nuran wa fawqi nuran wa tahti nuran wa amami nuran wa khalfi nuran wa 'azzimli nura (O Allah, put in my heart light, in my seeing light, in my hearing light, to my right light, to my left light, above me light, below me light, in front of me light, behind me light, give me abundant light.)"' Kuraib said: "And seven more phrases regarding the heart. I met one of the sons of Al-'Abbas and he told them to me. He mentioned: 'My sinews, my flesh, my blood, my hair and my skin,' and he mentioned two others."
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں ٹھہرا تو نبی ﷺرات کو اٹھ کھڑے ہوئے، قضاء حاجت کے لئے آئے، پھر اپناچہرہ انور اور اپنے مبارک ہاتھوں کو دھویا پھر سو گئے پھر آپ ﷺکھڑے ہوئے اور مشکیزہ کی طرف آکر اس کا منہ کھولا پھر وضو فرمایا دو وضوؤں کے درمیان والا وضو یعنی کثرت سے پانی نہیں گرایا اور وضو پورا فرمایا پھر آپ ﷺکھڑے ہوئے اور نماز پڑھی پھر میں بھی اٹھا اور انگڑائی لی تاکہ آپ ﷺاس کو یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ ﷺکی کیفیت کو دیکھنے کے لئے بیدار تھا تو میں نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لئے آپ ﷺکے بائیں طرف کھڑا ہوگیا، آپ ﷺنے میرا ہاتھ پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں طرف لے آئے تو رسول اللہ ﷺنے تیرہ رکعت نماز پڑھائی پھر لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺخراٹے لینے لگے اور یہ آپ ﷺکی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ ﷺسوتے تو خراٹے لیا کرتے تھے پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور آپ ﷺکو نماز کے لئے بیدار فرمایا تو آپ ﷺاٹھے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا اور آپ ﷺنے یہ دعا کی اے اللہ میرا دل روشن فرما اور میری آنکھیں روشن فرما اور میرے کانوں میں نور اور میرے دائیں نور اور میرے بائیں نور اور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور میرے آگے نور اور میرے پیچھے نوراور میرے لئے نور کو بڑا فرما، راوی کریب نے کہا کہ سات الفاظ اور فرمائے جو کہ میرے تابوت (دل) میں ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بعض اولاد سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے ان الفاظ کا ذکر کیا اور وہ الفاظ یہ ہیں میرے پٹھے اور میرے گوشت اور میرے خون اور میرے بال اور میری کھال میں نور فرما دے اور دو (اور) چیزوں کا ذکر فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - وَهِىَ خَالَتُهُ - قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِى عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَهْلُهُ فِى طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِى وَأَخَذَ بِأُذُنِى الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ.
It was narrated from Kuraib, the freed slave of Ibn 'Abbas, that Ibn 'Abbas told him that he stayed one night with Maimunah, the Mother of the Believers, who was his maternal aunt. "I lay down across the width of the mattress and the Messenger of Allah (s.a.w) and his wife lay along its length. The Messenger of Allah (s.a.w) slept until halfway through the night, or just before or after that. The Messenger of Allah (s.a.w) woke up and started wiping the sleep from his face with his hand. Then he recited the last ten verses of Surah AI 'Imran, then he got up and went to a water skin that was hanging there, and performed Wudu' from it, and did it well then he stood and prayed." ' Ibn 'Abbas said: "I got up and did what the Messenger of Allah (s.a.w) had done, then I went and stood by his side. The Messenger of Allah (s.a.w) put his right hand on my head and took hold of my right ear and twisted it, then he prayed two Rak'ah, then two Rak'ah, then two Rak'ah, then two Rak'ah, then two Rak'ah then two Rak'ah, then he prayed Witr, then he lay down until the Mu'adhdhin came. Then he got up and prayed two brief Rak'ah, then he went out and prayed Subh."
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات انہوں نے اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ کے پاس گزاری، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بچھونے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ ﷺاور آپ ﷺکی اہلیہ محترمہ بچھونے کے طول میں لیٹے تو رسول اللہ ﷺسوگئے یہاں تک کہ آدھی رات یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد بیدار ہوگئے اور رسول اللہ ﷺنیند کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو مل رہے تھے پھر آپ ﷺنے سورۃآل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں پھر آپ ﷺایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف کھڑے ہوگئے، آپ ﷺنے اس میں وضو فرمایا اور اچھی طرح وضو فرمایا پھر آپ ﷺکھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی کھڑا ہوا اور اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺنے کیا تھا پھر میں گیا اور آپ ﷺکے پہلو میں کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ ﷺنے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر مروڑا پھر آپ ﷺنے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ﷺنے وتر کی نماز پڑھی، پھر آپ ﷺلیٹ گئے یہاں تک کہ اذان دینے والا آیا تو آپ ﷺکھڑے ہوئے اور آپ ﷺنے دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں پھر آپ ﷺباہر تشریف لائے اور آپ ﷺنے صبح کی نماز پڑھائی۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِىِّ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى شَجْبٍ مِنْ مَاءٍ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ وَلَمْ يُهْرِقْ مِنَ الْمَاءِ إِلاَّ قَلِيلاً ثُمَّ حَرَّكَنِى فَقُمْتُ. وَسَائِرُ الْحَدِيثِ نَحْوُ حَدِيثِ مَالِكٍ.
It was narrated from Makhramah bin Sulaiman with this chain (as similar Hadith as no. 1789), and he added: "Then he went to a water skin and he cleaned his teeth with a Siwak and performed Wudu', and performed Wudu' well, although he used only a little water. Then he woke me up and I got up..." and the rest of the Hadith is like the (previous) Hadith of Malik.
اسی سند سے ایک اور روایت منقول ہے جس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺنے بیدار ہوکر پانی کی ایک پرانی مشک سے پانی لیا ، مسواک کی اور مکمل وضو کیا ، اور کم پانی بہایا ، پھر مجھے حرکت دیکر اٹھایا ۔
حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِى فَجَعَلَنِى عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى فِى تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. قَالَ عَمْرٌو فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ فَقَالَ حَدَّثَنِى كُرَيْبٌ بِذَلِكَ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said: "I slept in the house of Maimunah, the wife of the Prophet (s.a.w), and the Messenger of Allah (s.a.w) was with her that night. The Messenger of Allah (s.a.w) performed Wudu', then he stood and prayed, and I stood on his left. He took hold of me and made me stand on his right. On that night he prayed thirteen Rak'ah, then the Messenger of Allah (s.a.w) slept until he started to breathe deeply, for when he slept he used to breathe deeply. Then the Mu'adhdhin came to him and he went out and prayed, and he did not perform Wudu'." 'Amr (one of the narrators) said: "So I narrated it to Bukair bin Al-Ashaj, so he said: 'Kuraib narrated that to me.'"
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺکی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں میں سویا اور رسول اللہ ﷺاس رات حضرت میمونہ کے پاس تھے تو رسول اللہ ﷺنے وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو میں آپ ﷺکے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺنے مجھے کان سے پکڑا اور اپنی دائیں طرف کرلیا، آپ ﷺنے اس رات میں تیرہ رکعتیں نماز پڑھی پھر رسول اللہ ﷺسو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺخراٹے لینے لگے اور جب بھی سوتے تو خراٹے لیتے تھے پھر آپ ﷺکے پاس مؤذن آیا تو آپ ﷺباہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی اگرچہ آپ ﷺنے وضو نہیں فرمایا۔ عمر ونے کہا کہ میں نے اس حدیث کو بکیر بن اشج سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کریب نے ان سے اسی طرح بیان کیا ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقُلْتُ لَهَا إِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَيْقِظِينِى. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِى فَجَعَلَنِى مِنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِى - قَالَ - فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ احْتَبَى حَتَّى إِنِّى لأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said: "I stayed one night with my maternal aunt Maimunah bint Al-Harith, and I said to her: 'When the Messenger of Allah (s.a.w) gets up, wake me up.' The Messenger of Allah (s.a.w) got up and I stood on his left side. He took me by the hand and made me stand on his right side. If I dozed off, he would take hold of my earlobe. He prayed eleven Rak'ah, then he sat with his legs drawn up to his chest, wrapped in his garment, until I could hear his breathing as he slept. When dawn came, he prayed two brief Rak'ah."
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری تو میں نے اپنی خالہ سے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺکھڑے ہوں تو مجھے جگا دیں تو رسول اللہ ﷺکھڑے ہوئے تو میں بھی آپ ﷺکے بائیں پہلو کی طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کردیا اور مجھے جب بھی اونگھ آنے لگتی تو آپ ﷺمیرے کان کی لو پکڑتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺنے گیارہ رکعتیں پڑھی پھر آپ ﷺسو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺکی سوتے ہوئے آواز سنی پھر جب فجر ظاہر ہوگئی تو آپ ﷺنے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا - قَالَ وَصَفَ وُضُوءَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِى فَجَعَلَنِى عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- خَاصَّةً لأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ.
It was narrated from Ibn 'Abbas that he stayed overnight with his maternal aunt Maimunah. The Messenger of Allah (s.a.w) got up at night and performed a light Wudu' from a hanging water skin - and he described his Wudu', which was brief and that he used little water. Ibn 'Abbas said: "I got up and did what the Prophet (s.a.w) had done, then I came and stood on his left, and he made me go behind him and stand on his right. He prayed, then he lay down and slept until he was breathing deeply. Then Bilal came and called him to prayers, and he went out and prayed Subh and he did not perform Wudu'." Sufyan (one of the narrators) said: "This was only for the Prophet (s.a.w), because we heard that the Prophet's eyes slept but his heart did not sleep."
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری تو رسول اللہ ﷺرات کو کھڑے ہوئے، آپ ﷺنے ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے ہلکا سا وضو فرمایا، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ہلکے وضو کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺکا وضو ہلکا تھا اور آپ ﷺنے پانی بھی کم استعمال فرمایا، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میں بھی کھڑا ہوا اور اسی طرح سے کیا جس طرح نبی ﷺنے کیا اور میں آپ ﷺکے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺنے مجھے پیچھے کر کے اپنے دائیں طرف کھڑا کر دیا اور نماز پڑھی پھر آپ ﷺلیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺخراٹے لینے لگے پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺکے پاس آئے اور نماز کی اطلاع دی تو آپ ﷺباہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھائی حالانکہ آپ نے وضو نہیں فرمایا ( راوی) سفیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺکے لئے یہ خصوصیت ہے کیونکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی ہیں اور آپ کا قلب اطہر نہیں سوتا۔ (اس لئے وضو نہیں ٹوٹا )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ فِى بَيْتِ خَالَتِى مَيْمُونَةَ فَبَقَيْتُ كَيْفَ يُصَلِّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - فَقَامَ فَبَالَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِى الْجَفْنَةِ أَوِ الْقَصْعَةِ فَأَكَبَّهُ بِيَدِهِ عَلَيْهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّى فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ - قَالَ - فَأَخَذَنِى فَأَقَامَنِى عَنْ يَمِينِهِ فَتَكَامَلَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى فَجَعَلَ يَقُولُ فِى صَلاَتِهِ أَوْ فِى سُجُودِهِ « اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِى قَلْبِى نُورًا وَفِى سَمْعِى نُورًا وَفِى بَصَرِى نُورًا وَعَنْ يَمِينِى نُورًا وَعَنْ شِمَالِى نُورًا وَأَمَامِى نُورًا وَخَلْفِى نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَاجْعَلْ لِى نُورًا أَوْ قَالَ وَاجْعَلْنِى نُورًا ».
It was narrated that Ibn 'Abbas said: "I stayed overnight in the house of my maternal aunt Maimunah, and I watched to see how the Messenger of Allah (s.a.w) would pray. He got up, urinated, then washed his face and hands, then he slept. Then he got up and went to a water skin, undid its straps, and poured some water into a bowl or vessel. He tipped it towards himself with his hand and performed Wudu' well, a Wudu' that was somewhere between the most perfect and the most light. Then I came and stood beside him, and stood on his left. He took hold of me and made me stand on his right. The prayer of the Messenger of Allah (s.a.w) included thirteen Rak'ah, then he slept until he was breathing deeply. We knew that when he slept he breathed deeply. Then he went out to pray, and he prayed, and said in his prayer, or in his prostration: 'Allahummaj'al fi qalb'i nuran, wa fi sam'i nuran wa fi basari nuran wa 'an yam'in'i nuran wa 'an shimal'i nuran wa amam'i nuran wa khalfi nuran wa fawqi nuran wa taht'i nuran waj'al li nura (O Allah, put in my heart light, in my hearing light, in my seeing light, to my right light, to my left light, in front of me light, behind me light, above me light, below me light, give me light) - or he said: 'waj'alni nura (make me light.)"'
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ایک رات گزاری تو میں رسول اللہ ﷺکی نماز کی کیفیت کو دیکھنے کے لئے جا گتا رہا، ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ ﷺکھڑے ہوئے اور پیشاب فرمایا پھر آپ ﷺنے اپنے چہرہ مبارک اور ہاتھوں کو دھویا ، پھر سو گئے۔پھر آپ ﷺکھڑے ہو کر مشکیزے کی طرف گئے آپ ﷺنے اس کا منہ کھولا اور اس کا پانی ایک بڑے گیلن یا ایک بڑے پیالے میں ڈالا پھر آپ ﷺنے اس برتن کو اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر جھکایا پھر آپ ﷺنے وضو فرمایا اور اچھے طریقے سے درمیانہ وضو فرمایا، پھر آپ ﷺکھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آیا اور آپ ﷺکے بائیں پہلو کی طرف کھڑا ہوگیا آپ ﷺنے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا تو رسول اللہ ﷺنے تیرہ رکعتیں نماز مکمل پڑھیں پھر آپ ﷺسوگئے یہاں تک کہ آپ ﷺخراٹے لینے لگے ہم پہچانتے تھے کہ آپ ﷺجب سوتے تو خراٹے لیتے ہیں پھر آپ ﷺنماز کے لئے باہر تشریف لائے اور اپنی نمازوں اور اپنے سجدوں میں دعا مانگتے ہوئے یہ فرماتے ( اللہم اجعل فی قلبی نورا وفی سمعی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن شمالی نورا و امامی نورا وخلفی نورا وفوقی نورا وتحتی نورا واجعل لی نورا او قال واجعلنی نورا) اے اللہ میرے دل کو روشن اور میرے کانوں میں روشنی اور میری آنکھوں میں نور اور میرے دائیں کو روشن اور میرے بائیں کو روشن میرے آگے پیچھے اوپر نیچے کو روشن فرما اور مجھے روشن فرمایا آپ ﷺنے فرمایا کہ مجھے سر سے پاؤں تک روشن فرما۔
وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ سَلَمَةُ فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِى مَيْمُونَةَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ. وَقَالَ « وَاجْعَلْنِى نُورًا ». وَلَمْ يَشُكَّ.
It was narrated from Kuraib, from Ibn 'Abbas. Salamah said: "I met Kuraib and he said: Ibn 'Abbas said: 'I was with my maternal aunt Maimunah, and the Messenger of Allah (s.a.w) came...' then he mentioned a Hadith like that of Ghundar (no. 1794), and he said: "And make me light," and he was not uncertain.
حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کریب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس کو فرماتے سنا کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تھا تو رسول اللہ ﷺتشریف لائے۔ پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر فرمائی غندر راوی کہتے ہیں کہ بغیر کسی شک کے آپ ﷺنے دعا فرمائی ( واجعلنی نورا) اے اللہ مجھے روشن کر دے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِىِّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِى رِشْدِينٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِى مَيْمُونَةَ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ وَقَالَ « أَعْظِمْ لِى نُورًا ». وَلَمْ يَذْكُرْ « وَاجْعَلْنِى نُورًا ».
It was narrated that Ibn 'Abbas said: "I stayed overnight with my maternal aunt Maimunah, and he narrated the Hadith, but he did not mention washing his face and hands, but he said: 'Then he went to a water skin and undid its straps, and performed a Wudu' that was somewhere between the most perfect and the most light. Then he went to his bed and slept, then he got up again and went to the water skin and undid its straps, then he performed Wudu' and he said: 'Azim li nuran (Give me abundant light)."' and he did not say, "Waj'alni nuran (make me light)."
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری اور آگے اسی طرح حدیث بیان کی لیکن اس حدیث میں منہ اور ہاتھ دھونے کا ذکر نہیں ہے البتہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ پھر آپ ﷺمشکیزے کے پاس آئے اور اس کا منہ کھولا اور دو وضوؤں کے درمیان والا وضو فرمایا پھر آپ ﷺاپنے بستر پر آکر سو گئے پھر آپ ﷺدوسری مرتبہ اٹھ کھڑے ہوئے تو آپ ﷺمشکیزے کے پاس آئے اور اس کا منہ کھولا پھر آپ ﷺنے وضو فرمایا وہی وضو (جو پہلے کیا تھا) اور آپ ﷺنے فرمایا اے اللہ مجھے عظیم روشنی فرما ( واجعلنی نورا) کا ذکر نہیں کیا۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلْمَانَ الْحَجْرِىِّ عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى الْقِرْبَةِ فَسَكَبَ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُكْثِرْ مِنَ الْمَاءِ وَلَمْ يُقَصِّرْ فِى الْوُضُوءِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَيْلَتَئِذٍ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً.
قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنِيهَا كُرَيْبٌ فَحَفِظْتُ مِنْهَا ثِنْتَىْ عَشْرَةَ وَنَسِيتُ مَا بَقِىَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِى فِى قَلْبِى نُورًا وَفِى لِسَانِى نُورًا وَفِى سَمْعِى نُورًا وَفِى بَصَرِى نُورًا وَمِنْ فَوْقِى نُورًا وَمِنْ تَحْتِى نُورًا وَعَنْ يَمِينِى نُورًا وَعَنْ شِمَالِى نُورًا وَمِنْ بَيْنِ يَدَىَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِى نُورًا وَاجْعَلْ فِى نَفْسِى نُورًا وَأَعْظِمْ لِى نُورًا ».
Salamah bin Kuhail narrates from Kuraib that Ibn Abbas stayed one night with the Messenger of Allah (s.a.w). He said, "The Messenger of Allah (s.a.w) got up and went to a waterskin. He poured some water out of it and performed Wudu without using too much water or falling short in his Wudu ..." and he quoted the Hadith, in which he said: "The Messenger of Allah (s.a.w) supplicated that night with nineteen phrases." Salamah said, "Kuraib told them to me, and I memorized twelve of them, and forgot the rest. The Messenger of Allah (s.a.w) said, 'O Allah, put in my heart light, on my tongue light, in my hearing light, in my seeing light, above me light, below me light, on my right light, on my left light, in front of me light, behind me light, in my soul light, grant me abundant light.'"
سلمہ بن کہیل، کریب سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک رات رسول اللہﷺ کے ہاں گزاری وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے اس سے پانی بہایا اور وضو فرمایا اور پانی زیادہ استعمال نہیں فرمایا اور نہ ہی آپ ﷺنے وضو میں کمی فرمائی اور آگے حدیث اسی طرح سے ہے اور اس حدیث میں ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے اس رات میں انیس کلموں سے دعا فرمائی، سلمہ کہتے ہیں کہ کریب نے مجھے وہ کلمات بیان کئے ہیں مجھے ان میں سے بارہ کلمات یاد ہیں اور باقی کلمات میں بھول گیا ہوں رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے اللہ میرے دل میں نور فرما اور میری زبان کو روشن کر اور میرے کانوں کو روشن کر اور میری آنکھوں کو روشن کر اور میرے اوپر روشنی کر اور میرے نیچے روشنی کر اور میرے دائیں روشنی کر اور میرے بائیں روشنی کر اور میرے آگے روشنی کر اور میرے پیچھے روشنی کر اور میرے نفس کو روشن کر اور میرے لئے بڑی روشنی فرما۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِى شَرِيكُ بْنُ أَبِى نَمِرٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ رَقَدْتُ فِى بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةَ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَهَا لأَنْظُرَ كَيْفَ صَلاَةُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِاللَّيْلِ - قَالَ - فَتَحَدَّثَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ.
It was narrated from Kuraib that Ibn 'Abbas said: "I slept in the house of Maimunah on a night when the Prophet (s.a.w) was with her, so that I could see how the Prophet (s.a.w) prayed at night. The Prophet (s.a.w) spoke with his wife for a while, then he went to sleep..." and he quoted the Hadith, and in it he said: "Then he got up, performed Wudu' and used the Siwak."
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گزاری جس رات کہ نبیﷺمیمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھے تاکہ میں نبیﷺکی رات کی نماز کی کیفیت کو دیکھ سکوں، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے رات کو کچھ وقت اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ باتیں فرمائیں پھر آپ ﷺسو گئے اور آگے اسی طرح حدیث بیان کی اور اس حدیث میں ہے کہ پھر آپ ﷺکھڑے ہوئے آپ ﷺنے وضو فرمایا اور مسواک استعمال فرمائی۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ (إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِى الأَلْبَابِ) فَقَرَأَ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلاَثٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ وَهُوَ يَقُولُ « اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِى قَلْبِى نُورًا وَفِى لِسَانِى نُورًا وَاجْعَلْ فِى سَمْعِى نُورًا وَاجْعَلْ فِى بَصَرِى نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِى نُورًا وَمِنْ أَمَامِى نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِى نُورًا وَمِنْ تَحْتِى نُورًا. اللَّهُمَّ أَعْطِنِى نُورًا »
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that he slept at the house of the Messenger of Allah (s.a.w). He (s.a.w) woke up, cleaned his teeth with the Siwak and performed Wudu' while saying: "Verily, in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding.", and he recited these verses until the end of the Surah. Then he stood and prayed two Rak'ah, in which he stood, bowed and prostrated for a long time. Then he went and slept until he started to breathe deeply. Then he did that three times, six Rak'ah in all, cleaning his teeth with the Siwak, performing Wudu' and reciting these verses. Then he prayed Witr with three Rak'ah. Then the Mu'adhdbin called the Adhan and he went out to pray, saying: 'Allahummaj'al fi qalbi nuran, wa fi lisani nuran waj'al fi sam'i nuran waj'al fi basari nuran waj'al min khalfi nuran wa min amami nuran waj'al min fawqi nuran wa min tahti nuran. Allahumma a'tini nura (O Allah, put in my heart light and on my tongue light, put in my hearing light, put in my seeing light, put behind me light and in front of me light, put above me light and below me light. O Allah, give me light.)"'
علی بن عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ ﷺکے ہاں گزاری تو آپ ﷺبیدار ہوئے اور آپ ﷺنے مسواک فرمائی اور وضو فرمایا اور یہ فرما رہے تھے ( ان فی خلق السماوات والارض واختلاف اللیل والنہار لآیات لاولی الالباب) بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں، آپ ﷺنے یہ آیات پڑھیں یہاں تک کہ سورۃآل عمران ختم ہوگئی پھر آپ ﷺکھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور ان میں قیام اور رکوع اور سجدوں کو لمبا فرمایا پھر آپ ﷺسو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے پھر آپ نے تین مرتبہ اسی طرح کر کے چھ رکعتیں پڑھیں ہر مرتبہ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور یہی آیات پڑھتے پھر آپ ﷺنے تین رکعات نماز وتر پڑھی پھر مؤذن نے آپ ﷺکو اطلاع دی تو آپ ﷺنماز کے لئے یہ فرماتے ہوئے باہر تشریف لائے اے اللہ میرے دل میں نور اور میری زبان میں نور اور میرے کانوں میں اور میری آنکھوں کو روشن اور میرے پیچھے اور میرے آگے اور میرے اوپر اور میرے نیچے روشن فرما اے اللہ مجھے روشنی سے نواز دے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ خَالَتِى مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى مُتَطَوِّعًا مِنَ اللَّيْلِ فَقَامَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ فَقَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ فَتَوَضَّأْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِى مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ يَعْدِلُنِى كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ إِلَى الشِّقِّ الأَيْمَنِ. قُلْتُ أَفِى التَّطَوُّعِ كَانَ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said: "I stayed one night with my maternal aunt Maimunah. The Messenger of Allah (s.a.w) got up to offer voluntary prayers during the night. The Prophet (s.a.w) got up and went to the water skin and performed Wudu', then he stood and prayed. When I saw him do that, I got up and performed Wudu' from the water skin, then I stood on his left side, and he took my hand from behind his back and moved me like that from behind his back to his right side." I (the narrator) said: "Was that in the voluntary prayer?" He said: "Yes."
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری تو نبی ﷺرات کو نفل پڑھنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو نبی ﷺایک مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے آپ ﷺنے وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو میں بھی کھڑا ہوگیا اور میں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح میں نے آپ ﷺکو کرتے دیکھا اور مشکیزے سے میں نے وضو کیا اور میں آپ ﷺکے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺنے میری پیٹھ کے پیچھے سے ہاتھ پکڑ کر اپنی پشت کے پیچھے سے دائیں جانب کھڑا کردیا ۔ میں نے کہا کہ کیا یہ کام نفل میں کیا تھا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جی ہاں۔
وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ أَخْبَرَنِى أَبِى قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَنِى الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ فِى بَيْتِ خَالَتِى مَيْمُونَةَ فَبِتُّ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَقَامَ يُصَلِّى مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَتَنَاوَلَنِى مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَجَعَلَنِى عَلَى يَمِينِهِ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said: "Al-'Abbas sent me to the Prophet (s.a.w) when he was in the house of my maternal aunt Maimunah, and I stayed with him that night. He got up and prayed at night, and I stood on his left, but he made me move behind his back and put me on his right."
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ﷺکی طرف بھیجا اور آپ ﷺمیری خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں تھے تو میں نے ان کے ساتھ وہ رات گزاری تو آپ ﷺرات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ ﷺکے بائیں طرف کھڑا ہوگیا آپ ﷺنے مجھے اپنے پیچھے سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کردیا۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِى مَيْمُونَةَ. نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ.
It was narrated from Ibn 'Abbas: "I stayed overnight with my maternal aunt Maimunah..." a Hadith similar to that of Ibn Juraij and Qais bin Sa'd (no. 1800).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حسب سابق روایت منقول ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً.
It was narrated that Abu Hamzah said: "I heard Ibn 'Abbas say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) used to pray thirteen Rak'ah at night."'
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺرات کو تیرہ رکعات پڑھتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ أَنَّهُ قَالَ لأَرْمُقَنَّ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اللَّيْلَةَ فَصَلَّى. رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِكَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً.
It was narrated from Zaid bin Khalid Al-Juhani that he said: "I will certainly watch how the Messenger of Allah (s.a.w) prays tonight. He prayed two brief Rak'ah, then he prayed two long, long, long Rak'ah, then he prayed two Rak'ah that were shorter than the two that came before them. Then he prayed two Rak'ah that were shorter than the two that came before them. Then he prayed two Rak'ah that were shorter than the two that came before them. Then he prayed two Rak'ah that were shorter than the two that came before them. Then he prayed Witr, and that was thirteen Rak'ah."
حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں آج کی رات رسول اللہ ﷺکی نماز کا مشاہدہ کروں گا آپ ﷺنے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں پھرلمبی سے لمبی بلکہ اس سے بھی لمبی دو رکعت پڑھیں۔پھر پہلی نماز سے کچھ کم دورکعت پڑھیں ، پھر اس سے مختصر دور کعت پڑھیں ، پھر اس سے مختصر دو رکعت پڑھیں ، پھر اس سے مختصر دو رکعت پڑھیں ، پھر وتر پڑھے اور یہ تیرہ رکعت ہیں۔
وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِىُّ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ فَقَالَ « أَلاَ تُشْرِعُ يَا جَابِرُ ». قُلْتُ بَلَى - قَالَ - فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَشْرَعْتُ - قَالَ - ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا - قَالَ - فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِى ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِى فَجَعَلَنِى عَنْ يَمِينِهِ.
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "I was with the Messenger of Allah (s.a.w) on a journey, and we came to a crossing place. He said: 'Won't you cross it, O Jabir?' I said: 'Of course.' The Messenger of Allah (s.a.w) dismounted and I crossed it. Then he went and relieved himself, and I set out his water for Wudu'. He came and performed Wudu ', then he stood and prayed wearing a single garment with its ends on his shoulders. I stood behind him, and he took hold of my ear and made me stand on his right.''
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک سفر میں تھا تو ہم ایک گھاٹ پرپہنچے، آپ ﷺنے فرمایا اے جابر! کیا تم پار نہیں اترتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں! پھررسول اللہ ﷺاترے اور میں بھی اترا پھر آپ ﷺقضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میں نے آپ ﷺکے لئے وضو کا پانی رکھا آپ ﷺآئے اور وضو فرمایا پھر کھڑے ہوئے ایک ہی کپڑا دونوں سمتوں کی طرف اس کے کنارے اوڑھے ہوئے آپ نے نماز پڑھی تو میں بھی آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور آپ نے میرے کان کو پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کردیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ - أَخْبَرَنَا أَبُو حُرَّةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِيُصَلِّىَ افْتَتَحَ صَلاَتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ.
It was narrated that 'Aishah said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) got up at night to pray, he would start his prayer with two brief Rak'ah."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب رات کو نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ ﷺاپنی نماز کو دو ہلکی رکعتوں سے شروع فرماتے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلاَتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "When one of you gets up to pray at night, let him start his prayer with two brief Rak'ah."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی رات کو کھڑا ہو تو اسے چاہئے کہ کہ وہ اپنی نماز کو دو ہلکی رکعتوں سے شروع کرے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُولُ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ « اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِى مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ».
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (s.a.w) used to say, when he got up to pray in the middle of the night: ''Allahumma! Lakal-hamdu, anta nurus-samawati wal-ard, lakal-hamdu, anta qayyamus-samawati wal-ard, wa lakal-hamdu, anta rabbus-samawati wal-ard, wa man fihinna, antal-haqqun, wa wa'dukal-haqqu, wa qawlukal-haqqu, wa liqa'uka haqqun, Allahumma laka aslamtu, wa bika amantu, wa 'alaika tawakkaltu, wa ilaika anabtu wa bika khasamtu, wa ilaika hakamtu, faghfirli ma qaddamtu wa akhkhartu, wa asrartu wa a'lantu, anta ilahi lailaha illa ant (O Allah, to you be praise, You are the Light of the heavens and the earth. To You be praise, You are the Sustainer of the heavens and the earth. To You be praise, You are the Lord of the heavens and the earth and everyone in them. You are the Truth, Your promise is true, Your Word is true, the meeting with You is true, Paradise is true, Hell is true, the Hour is true. O Allah, to You I have submitted, in You I have believed, in You I have put my trust, to You I repent, by Your help I have disputed, to You I refer for judgement. So forgive me my past and future sins, what I have done secretly and openly. You are my God, there is none worthy of worship but You.)"
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب آدھی رات کو نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے اے اللہ ساری تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور ساری تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں توہی آسمانوں اور زمینوں کو قائم کرنے والا ہے۔ اور ساری تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تو ہی آسمانوں اور زمین اور ان میں رہنے والوں کا رب ہے تو سچا ہے تیرا وعدہ سچا ہے ، تیرا قول سچا ہے ۔ تجھ سے ملاقات حق ہے ، جنت حق ہے جہنم حق ہے ۔ اور قیامت حق ہے ۔ اے اللہ ! میں تیرا ہی فرمانبردار ہوں اور تجھی پر ایمان لایا ہوں اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور میں تیری ہی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور میں تیری خاطر اوروں سے جھگڑتا ہوں اور تجھ ہی سے فیصلہ چاہتا ہوں پس تو میرے اگلے پچھلے اور باطنی اور ظاہری گناہ بخش دے تو ہی میرا معبود ہے تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ فَاتَّفَقَ لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِكٍ لَمْ يَخْتَلِفَا إِلاَّ فِى حَرْفَيْنِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ مَكَانَ قَيَّامُ قَيِّمُ وَقَالَ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ فَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ وَيُخَالِفُ مَالِكًا وَابْنَ جُرَيْجٍ فِى أَحْرُفٍ.
It was narrated from Ibn 'Abbas, from the Prophet (s.a.w) (a similar Hadith as no. 1808) The Hadith of Ibn 'Uyaynah contains some additions, and is different from that of Malik and Ibn Juraij in some phrases.
طاؤس نے حضرت ابن عباس کی روایت اس طرح بیان کی ہے ، ابن جریج اور مالک کی روایت بھی ان کے موافق ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ ابن جریج نے قیام کی جگہ قیم کہا اور وما اسررت کا لفظ کہا البتہ ابن عیینہ کی روایت مالک اور جرج کے خلاف ہے اور اس میں بعض الفاظ کی زیادتی اور کمی ہے۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا مَهْدِىٌّ - وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفَاظِهِمْ.
This Hadith was narrated from Ibn 'Abbas from the Prophet (s.a.w). Its wording is very similar (to no. 1808).
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِىُّ قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى كَثِيرٍ حَدَّثَنِى أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَىِّ شَىْءٍ كَانَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَفْتَتِحُ صَلاَتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلاَتَهُ « اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِى لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِى مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ».
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman bin 'Awf said: "I asked 'Aishah, the Mother of the Believers, how the Prophet of Allah (s.a.w) used to start his prayer when he got up at night. She said: 'When he got up to pray at night, he would start his prayer with the words: Allahuma rabba jabra'ila wa mika'ila wa israfila fatiras-samawati wal-ard, 'alimal-ghaibi wash-shahadah, anta tahkumu bain 'ibadika fima kanu fihi yakhtalifun, indin'i limakhtulifa fihi minatl-haqqi bi-idhnika innaka tahd'i man tasha'u ila siratin mustaqim. (O Allah, Lord of Jibra'il, Mika'il and Israfil, Originator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, You judge between Your slaves concerning that wherein they differ. Guide me concerning that wherein they differ of the truth by Your leave, for You guide whomsoever You will to a straight path.)'"
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ نبی ﷺجب رات کو اپنی نماز شروع فرماتے تو کس طرح شروع کرتے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جب بھی رات کو آپ ﷺاپنی نماز شروع فرماتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ جبرائیل اور میکائیل اور اسرافیل کے پروردگار! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! ظاہر اور باطن کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے والاہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔اے اللہ حق کی جن باتوں میں اختلاف ہوگیا ہے تو مجھے ان میں سیدھے راستے پر رکھ بے شک تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ الْمُقَدَّمِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى رَافِعٍ عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ قَالَ « وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ. أَنْتَ رَبِّى وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِى وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِى فَاغْفِرْ لِى ذُنُوبِى جَمِيعًا إِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاهْدِنِى لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ لاَ يَهْدِى لأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّى سَيِّئَهَا لاَ يَصْرِفُ عَنِّى سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِى يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ». وَإِذَا رَكَعَ قَالَ « اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِى وَبَصَرِى وَمُخِّى وَعَظْمِى وَعَصَبِى ». وَإِذَا رَفَعَ قَالَ « اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ ». وَإِذَا سَجَدَ قَالَ « اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِى لِلَّذِى خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ». ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ « اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّى أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ».
It was narrated from 'Ali bin Abi Talib that when the Messenger of Allah (s.a.w) got up to pray, he said: "Wajjahtu wajhia lilladhi fataras-samawati wal-arda hanifan wa ma ana min al-mushrikn, inna salati wa nusuki wa mahyaya wa mamati lillahi rabbil-'alamin, la sharika lahu wa bidhalika umirtu wa ana min al-muslimin. Allahumma antal-maliku la ilaha illa ant, anta rabbi, wa ana 'abduka zalamtu nafsi wa'taraftu bibhanbi fagbfirli dhunubi jami'an, innahu la yaghfir adh-dhunuba ilia ant. Wahdini li-ahsanil-akhlaqi Ia yahdi li-ahsaniha illa ant, wasrif 'anni sayyi'aha, la tasrifu 'anni sayyi'aha illa ant. Labaika wa sa'daika, wal-khairu kulluhu fi yadaika, wash-sharru laisa ilaik, wa ana bika wa ilaik, tabarakta wa ta'alaita astaghfiruka wa atubu ilaik." (I have turned my face in submission to the One who originated the heavens and the earth, and I am not one of the idolators. Verily, my Salat (prayer), my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of the 'Alamin (mankind, jinn and all that exists). He has no partner. And of this I have been commanded, and I am one of the Muslims. O Allah, You are the Sovereign, there is none worthy of worship but You. You are my Lord and I am Your slave. I have wronged myself and I admit my sin, so forgive me all my sins, for no one can forgive sins except You. Guide me to the best of conduct, for none can guide to that except You. Remove from me my evil deeds, for none can remove them except You. Here I am at Your service, all goodness is in Your hand and evil cannot be attributed to You. My existence is due to You and my return is to You. Blessed and exalted are You, I seek Your forgiveness and I repent to You.) When he bowed, he said: ''Allahumma laka raka'tu ba bika amantu wa laka aslamtu khasha'a laka sam'i wa basari wa mukhkhi wa 'azmi, wa 'asbi (O Allah, to You I have bowed, in You I have believed and to You I have submitted. My hearing, my sight, my brain, my bones and my sinews submit to You.) When he rose from bowing he said: ''Allahumma rabbana lakal-Hamdu mil'as samawati wal-ardi wa mil'a ma bainahuma, wa mil'a ma shi'ta min shai'in ba'd." (O Allah our Lord, to You be praise, filling the heavens, filling the earth, filling that which is between them and filling whatever else You will besides.) When he prostrated he said: ''Allahumma laka sajadtu wa bika amantu wa laka aslamtu, sajada wajhi lilladhi khalaqahu wa suwwarahu wa shaqqa sam'ahu wa basarahu tabarak Allahu ahsanul-khaliqin." (O Allah, to You I have prostrated, in You I have believed and to You I have submitted. My face has prostrated to the One Who created it and gave it shape, and opened its hearing and sight. Blessed be Allah, the Best of creators.) Then the last thing he said between the Tashah-hud and the Taslim was: ''Allahummaghfirli ma qaddamtu wa ma akhkhrtu wa ma asrartu wa ma a'lantu wa ma asraftu, wa ma anta a'lamu bihi minni antal-muqaddimu wa antal-mu'akhkhiru, Ia ilaha ilia ant." (O Allah, forgive me my past and future sins, what I have done in secret and what I have done openly, what I have transgressed and what you know more than I. You are the One who brings forward and the One Who puts back, there is none worthy of worship but You.)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو فرماتے (وجھت وجھی للذی فطر السماوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا من المسلمین) میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا فرمایا اور میں شریک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔اے اللہ تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے پس تو میرے گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے اور مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت عطا فرما تیرے سوا کوئی اچھے اخلاق کی ہدایت نہیں دے سکتا اور برے اخلاق مجھ سے دور فرما تیرے سوا مجھ سے کوئی برے اخلاق دور کرنے والا نہیں ہے میں حاضر ہوں اور فرمانبردار ہوں اور ساری بھلائیاں تیرے دست قدرت میں ہیں اور شر کی نسبت تیری طرف نہیں ہے میں تیری طرف آتا ہوں تو برکت والا ہے اور تو بلند ہے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ اور جب آپ ﷺرکوع میں جاتے تو فرماتے: اے اللہ تیرے لئے میں نے رکوع کیا اور تجھی پر ایمان لایا اور میں تیرا ہی فرمانبردار ہوں میرا کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میرے پٹھے سب تجھ سے ڈرتے ہیں۔اور جب آپ ﷺرکوع سے سر اٹھاتے تو یہ فرماتے اے اللہ اے ہمارے پروردگار تیرے ہی لئے ساری ایسی تعریفیں ہیں جس سے سارے آسمان بھر جائیں اور زمین بھر جائے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ بھر جائے اور جو تو چاہے اس سے وہ بھر جائے۔ اور جب آپ ﷺسجدہ کرتے تو یہ فرماتے اے اللہ میں نے تیرے لئے سجدہ کیا اور تجھی پر ایمان لایا اور تیرا ہی فرمانبردار ہوں میرا چہرہ اس ذات کو سجدہ کر رہا ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی صورت بنائی اور اس کے کانوں اور اس کی آنکھوں کو تراش کر بنایا اللہ برکتوں والا ہے اور سب سے اچھا پیدا کرنے والا ہے۔ پھر آپ ﷺآخر میں تشہد اور سلام کے درمیان یہ فرماتے اے اللہ میرے ان گناہوں کی مغفرت فرما جو میں نے پہلے کئے اور جو میں نے بعد میں کئے اور جو میں نے چھپ کر کئے اور جو میں نے ظاہر کئے اور جو میں نے زیادتی کی اور جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی مبعود نہیں ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِى سَلَمَةَ عَنِ الأَعْرَجِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ « وَجَّهْتُ وَجْهِى ». وَقَالَ « وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ». وَقَالَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ». وَقَالَ « وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ ». وَقَالَ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ « اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى مَا قَدَّمْتُ ». إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ.
It was narrated from Al-A'raj with this chain (a similar Hadith as no. 1812), and he said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) started his prayer, he would say the Takbir and then say: 'I have turned my face...' and he said: 'I am the first of the Muslims.' And when raising his head from bowing he said: 'Allah hears those who praise Him; our Lord, to You be praise.' And he said: '... Who has formed it and formed it well.' And when he said the Salam, he said: 'O Allah, forgive me my previous sins...' And he did not say: "between the Tashah-hud and the Taslim.''
اسی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تھے تو اللہ اکبر کہتے تھے پھر فرماتے”وجھت وجھی“ اور فرماتے (وانا اول المسلمین) اور جب آپ ﷺ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے (سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد)۔ اور فرماتے ”وصور فاحسن صورۃ“اور جب آپ سلام پھیرتے تو فرماتے: ”اللہم اغفرلی ما قدمت “حدیث کے آخر تک اور تشہد اور سلام کے درمیان کا ذکر نہیں فرمایا۔
27. بَابُ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ دُعَائِهِ بِالَّليْلِ
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ. ثُمَّ مَضَى فَقُلْتُ يُصَلِّى بِهَا فِى رَكْعَةٍ فَمَضَى فَقُلْتُ يَرْكَعُ بِهَا. ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلاً إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُولُ « سُبْحَانَ رَبِّىَ الْعَظِيمِ ». فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ». ثُمَّ قَامَ طَوِيلاً قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ « سُبْحَانَ رَبِّىَ الأَعْلَى ». فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ. قَالَ وَفِى حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنَ الزِّيَادَةِ فَقَالَ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ».
It was narrated that Hughaifah said: "I prayed with the Prophet (s.a.w) one night, and he started to recite Al-Baqarah and I thought: 'He will bow when he reaches one hundred (verses),' but he carried on. Then I thought that he would finish it in the two Rak'ah, but he carried on. Then I thought he would bow after finishing it, but he started to recite An-Nisa' and recited it all, then he started to recite Al-'Imran and recited it all, reciting with a slow and measured pace. When he reached a verse that spoke of glorifying Allah, he glorified Allah; when he reached a verse that spoke of asking of Him, he asked of Him; when he reached a verse that spoke of seeking refuge with Him, he sought refuge with Him. Then he bowed and started saying: 'Subhana Rabbil-'Azim (Glory be to my Lord the Almighty).' And his bowing was almost as long as his standing. Then he said: 'Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him).' Then he stood for a long time, almost as long as he had bowed. Then he prostrated and said: 'Subhana Rabbil-A'Ia (Glory be to my Lord Most High),' and his prostration was almost as long as his standing.'' In the Hadith of Jarir it adds: "And he said: 'Sami' Allahu liman hamidah, rabbana lakal-hzamd (Allah hears those who praise Him, our Lord to You be praise)."'
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبیﷺکے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺنے سورةالبقرہ شروع فرما دی تو میں نے کہا کہ آپ ﷺسو آیات پر رکوع فرمائیں گے مگر آپ بدستور پڑھتے رہے ، میں نے سوچا کہ شاید سورت مکمل کرنے کے بعد آپﷺرکوع کریں گے لیکن آپﷺمسلسل پڑھتے رہے اور آپﷺنے سورہ نساء شروع کردی۔اس کے بعد سورہ آل عمران شروع کردی۔ترتیل کے ساتھ قرأت کرتے رہے ، جب کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپﷺاللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے (مثلا سبحان اللہ کہتے) اور جب کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں سوال کا ذکر ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور جب آپ ﷺتعوذ والی آیت پر سے گزرتے تو آپ ﷺپناہ مانگتے پھر آپ ﷺنے رکوع فرمایا اور (سبحان ربی العظیم) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺکا رکوع بھی قیام کے برابر ہوگیا پھر آپ ﷺنے ( سمع اللہ لمن حمدہ) کہا پھر اس کے بعد رکوع کے برابر دیر تک لمبا قیام فرمایا پھر آپ ﷺنے سجدہ کیا اور سبحان ربی الاعلی کہا، اور آپ کا سجدہ بھی آپ ﷺکے قیام کے برابر لمبا تھا اور جریر کی حدیث میں اتنا زائد ہے کہ آپ ﷺنے ( سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد) بھی کہا۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ - قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ - عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَطَالَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ قَالَ قِيلَ وَمَا هَمَمْتَ بِهِ قَالَ هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ.
'Abdullah said: "I prayed with the Messenger of Allah (s.a.w) and he prayed for so long that I thought of something bad. It was said: 'What did you think of?' He said: 'I thought of sitting down and leaving him.'"
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺنے بہت لمبا قیام کیایہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کرلیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ تو نے کس کام کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ ﷺکو قیام میں چھوڑ دوں۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَلِىِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 1815) was narrated from Al-A'mash with this chain.
ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔
28. بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِى وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ قَالَ « ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِى أُذُنَيْهِ ». أَوْ قَالَ « فِى أُذُنِهِ ».
Mention was made in the presence of the Messenger of Allah (s.a.w) of a man who slept the entire night until morning. He said: "That is a man in whose ear the Shaitan has urinated." Or he said: "in whose ears."
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا کہ رات سویا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے آپ ﷺنے فرمایا اس آدمی کے دونوں کانوں میں شیطان پیشاب کردیتاہے یا آپ ﷺنے فرمایا اس کے کان میں۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عَلِىِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِىٍّ حَدَّثَهُ عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ « أَلاَ تُصَلُّونَ ». فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا. فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ « وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً ».
It was narrated from 'Ali bin Abi Talib that the Prophet (s.a.w) came to him and Fatimah at night and said: "Are you not praying?" I said: "O Messenger of Allah, our souls are in the Hand of Allah and if He wills to wake us, He will wake us." The Messenger of Allah (s.a.w) turned away when I said that to him, then I heard him walking away, striking his thigh and saying: "But, man is ever more quarrelsome than anything."
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے ایک مرتبہ انہیں اور حضرت فاطمہ کو جگایا اور فرمایا کیا تم نماز نہیں پڑھتے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ جب ہمیں اٹھانا چاہے ہمیں اٹھا دیتا ہے جس وقت میں نے آپ ﷺسے یہ کہا تو رسول اللہ ﷺتشریف لے گئے پھر میں نے آپ ﷺسے جاتے ہوئے سنا اپنی رانوں پر ہاتھ مار رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- « يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلاَثَ عُقَدٍ إِذَا نَامَ بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلاً طَوِيلاً فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَتَانِ فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ وَإِلاَّ أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلاَنَ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "The Shaitan ties three knots at the back of the head of any one of you when he goes to sleep, striking each knot and saying: 'You have a long night ahead, so sleep.' If he wakes up and remembers Allah, one knot is undone. If he performs Wudu', two knots are undone. If he prays, all the knots are undone, and he starts the day energetic and in a good mood. Otherwise, he starts his day in a bad mood and feeling lazy."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان تک یہ بات پہنچی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا کہ شیطان تم میں سے ہر ایک آدمی کی گردن پر جب وہ سوجاتا ہے تین گرہیں لگا دیتا ہے ہر ایک گرہ پر پھونک مارتا ہے کہ ابھی رات بڑی لمبی ہے تو جب کوئی بیدار ہوتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وضو کرتا ہے تو اس پر سے دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور جب وہ نماز پڑھ لیتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں پھر وہ صبح کو ہشاش بشاش خوش مزاج اٹھتا ہے ورنہ اس کی صبح نفس کی خباثت اور سستی کے ساتھ ہوتی ہے۔
29. بَابُ الْحَثِّ عَلَى صَلَاةِ الَّليْلِ وَإِنْ قَلَّتْ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « اجْعَلُوا مِنْ صَلاَتِكُمْ فِى بُيُوتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ».
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "Perform some of your prayers in your houses and do not make them like graves."
حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ تم اپنی نمازوں کو اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « صَلُّوا فِى بُيُوتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ».
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "Pray in your houses, and do not make them like graves."
حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں میں )نفل) نماز پڑھو اور گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا قَضَى أَحَدُكُمُ الصَّلاَةَ فِى مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلاَتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِى بَيْتِهِ مِنْ صَلاَتِهِ خَيْرًا ».
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'When one of you has finished praying in the Masjid, let him give his house a share of his prayer, for Allah will instill goodness in his house because of his prayer."'
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی مسجد میں نماز پوری کر لے تو اسے چاہیے کہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے رکھ لے کیونکہ اللہ اس کے گھر میں اس کی نمازوں کی برکت سے خیر فرما دے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِى يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ وَالْبَيْتِ الَّذِى لاَ يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ مَثَلُ الْحَىِّ وَالْمَيِّتِ ».
It was narrated from Abu Musa that the Prophet (s.a.w) said: "The likeness of a house in which Allah is remembered and the house in which Allah is not remembered is that of the living and the dead."
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد نہیں کیا جاتا زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىُّ - عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِى تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do not make your houses into graves, for the Shaitan flees from a house in which Surat Al-Baqarah is recited."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس گھر میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ أَوْ حَصِيرٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى فِيهَا - قَالَ - فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ - قَالَ - ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْهُمْ - قَالَ - فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُغْضَبًا. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاَةِ فِى بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِى بَيْتِهِ إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ ».
It was narrated that Zaid bin Thabit said: "The Messenger of Allah (s.a.w) sectioned off an area using palm-tree leaves or a reed mat, and the Messenger of Allah (s.a.w) went out and prayed in it. Some men followed him and they started to follow his prayer. Then they came one night and waited for him, but the Messenger of Allah (s.a.w) stayed away and did not come out to them. They raised their voices and threw pebbles at the door, and the Messenger of Allah (s.a.w) came out to them angrily. The Messenger of Allah (s.a.w) said to them: 'You were so persistent (in praying behind me) that I thought that it would be made obligatory for you. You should pray in your houses, for the best of a man's prayer is in his house, apart from the obligatory prayers."'
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کھجور کے پتوں یا چٹائی سے ایک حجرہ بنایا تو رسول اللہ ﷺاس میں نماز پڑھنے کے لئے باہر تشریف لائے بہت سے آدمیوں نے آپ ﷺکی اقتداء کی اور آپ ﷺکی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے پھر ایک رات سب لوگ آئے اور رسول اللہ نے دیر فرمائی اور ان کی طرف آپ ﷺباہر تشریف نہ لائے تو ان لوگوں نے اپنی آوازوں کو بلند کیا اور دروازے پر کنکریاں ماریں پھر رسول اللہ ﷺان کی طرف غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺنے ان سے فرمایا کہ تم اس طرح کرتے رہے تو میرا خیال ہے کہ یہ نماز تم پر فرض کر دی جائے گی اور تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے علاوہ آدمی کی بہترین نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- اتَّخَذَ حُجْرَةً فِى الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِيهَا لَيَالِىَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ « وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ ».
It was narrated from Zaid bin Thabit that the Prophet (s.a.w) sectioned off an area using a reed mat in the Masjid, and the Messenger of Allah (s.a.w) prayed in it for several nights, until people gathered to join him... and he mentioned a similar Hadith (as no. 1825), and added: "If it were made obligatory for you, you would not be able to do it."
حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے مسجد میں ایک چٹائی سے ایک حجرہ بنایا تو رسول اللہ ﷺنے اس حجرہ میں کئی راتیں نماز پڑھی یہاں تک کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اکٹھے ہو گئے پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر فرمائی اور اس میں یہ زائد ہے کہ اور اگر تم پر فرض کر دی جاتی تو تم اسے قائم نہ رکھ سکتے۔
30. بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِيْ بَيْتِهِ وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ وَسَوَاءً فِي هَذَا الرَّاتِبَةِ وَغَيْرِهَا، إِلَّا الشَّعَائِرَ الظَاهِرَةِ: وَهِيَ العِيْدُ وَالْكَسُوفُ وَالْاِسْتِسْقَاءُ وَالتَّرَاوِيْحُ ، وَكَذَا مَا لَا يَتَأَتَى فِيْ غَيْرِ الْمَسْجِدِ كَتَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ أَوْ يَنْدُبُ كَوْنُهُ فِي الْمَسْجِدِ وَهِيَ رَكْعَتَا الطَّوَافِ.
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِى الثَّقَفِىَّ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَصِيرٌ وَكَانَ يُحَجِّرُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّى فِيهِ فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَثَابُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ « يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ ». وَكَانَ آلُ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا عَمِلُوا عَمَلاً أَثْبَتُوهُ.
It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) had a reed mat with which he used to section off an area at night and pray in it, and the people started to follow his prayer, and he used to spread (that mat) out during the day. One night they gathered and he said: 'O people, you should only do deeds that you are able for, for Allah does not grow weary but you do. The most beloved of deeds to Allah is that which is done persistently, even if it is little.' And if the family of Muhammad (s.a.w) started to do something, they would persist in it.''
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے پاس ایک چٹائی تھی اور آپ ﷺرات کو اس کا ایک حجرہ سا بنا لیتے تھے پھر اس میں نماز پڑھتے تو صحابہ بھی آپ ﷺکی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے اور دن کو اس چٹائی کو بچھا لیتے ایک رات صحابہ کا ہجوم ہوگیا تو آپ ﷺنے فرمایا اے لوگوں تم پر اتنا عمل کرنا لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکتا جبکہ تم عمل کرنے سے تھک جاتے ہو اور اللہ کے نزدیک اعمال میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہے جس پر دوام ہو اور اگرچہ وہ عمل تھوڑا ہو اور آل محمد ﷺکا بھی یہی معمول تھا کہ جب کوئی عمل کرتے تو اسے مستقل مزاجی سے کرتے۔ (یعنی ہمیشہ کرتے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سُئِلَ أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ « أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ ».
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) was asked: "Which deed is most beloved to Allah?" He said: "That which is done persistently, even if it is little."
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کونسا عمل ہے آپ ﷺنے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ قَالَتْ لاَ. كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَسْتَطِيعُ
It was narrated that 'Alqamah said: "I asked the Mother of the Believers 'Aishah: 'O Mother of the Believers, how were the actions of the Messenger of Allah (s.a.w)? Did he do anything specific on any particular day?' She said: 'No, his actions were persistent, and who of you can do what the Messenger of Allah (s.a.w) could do?"'
علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺکے عمل کا طریقہ کیا تھا کیا دنوں میں کسی دن میں کوئی مخصوص عمل فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں!آپ ﷺتو ہمیشہ عمل فرماتے تھے اور تم میں سے کون ایسی طاقت رکھتا ہے جس کی رسول اللہ ﷺطاقت رکھتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِى الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ ». قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا عَمِلَتِ الْعَمَلَ لَزِمَتْهُ.
It was narrated by Al-Qasim bin Muhammad, that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The most beloved of actions to Allah are those which are done persistently, even if they are little."' He said: "If 'Aishah did something, she would persist in it."
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ کو اعمال میں سب سے پسندیدہ ترین وہ عمل ہے کہ جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب بھی کوئی عمل کرتی تھیں تو پھر اسے اپنے لئے لازم کر لیتی تھیں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ « مَا هَذَا ». قَالُوا لِزَيْنَبَ تُصَلِّى فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ. فَقَالَ « حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ قَعَدَ ». وَفِى حَدِيثِ زُهَيْرٍ « فَلْيَقْعُدْ ».
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) entered the Masjid and there was a rope tied between two columns. He said: 'What is this?' They said: 'It belongs to Zainab; she prays, and when she feels tired or weary, she holds on to it'. He said: 'Untie it. Let one of you pray as long as he feels energetic, and if he feels tired or weary, let him sit down."'
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺمسجد میں داخل ہوئے اور ایک رسی دو ستونوں کے درمیان لٹکی ہوئی دیکھی، آپ ﷺنے فرمایا یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ہے وہ نماز پڑھتی رہتی ہیں تو جب انہیں سستی ہوتی ہے یا وہ تھک جاتی ہیں تو اس رسی کو پکڑ لیتی ہیں آپ ﷺنے فرمایا اس کو کھول دو تم میں سے ہر ایک کو نماز اپنے تازہ دم ہونے کے وقت پڑھنی چاہیے پھر جب سستی یا تھکاوٹ ہو جائے تو وہ بیٹھ جائے اور زہیر کی حدیث میں ہے کہ اسے چاہیے کہ بیٹھ جائے۔
وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 1832) was narrated from Anas, from the Prophet (s.a.w).
حضرت انس سے ایک اور روایت اسی طرح منقول ہے۔
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الْحَوْلاَءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ هَذِهِ الْحَوْلاَءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ وَزَعَمُوا أَنَّهَا لاَ تَنَامُ اللَّيْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَنَامُ اللَّيْلَ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لاَ يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا ».
'Urwah bin Az-Zubair narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w), told him that AI-Hawla' bint Tuwait bin Habib bin Asad bin 'Abdul' Uzza passed by her and the Messenger of Allah (s.a.w) was with her. I said: "This is AI-Hawla' bint Tuwait; they say that she does not sleep at night." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "She does not sleep at night! Do as much as you are able to, for by Allah, Allah does not grow weary but you do."
عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ نبی ﷺکی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ حولا بنت تویت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے پاس سے گزریں اور رسول اللہ ﷺبھی ان کے پاس تشریف فرما تھے، میں نے عرض کیا کہ اس حولا بنت تویت کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ وہ رات کو نہیں سوتیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا رات کو نہیں سوتیں؟ تم اتنا عمل کرو جس کی تم طاقت رکھتی ہو اللہ کی قسم اللہ ثواب عطا فرمانے سے نہیں تھکے گا، یہاں تک کہ تم تھک جاؤ گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِى أَبِى عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَعِنْدِى امْرَأَةٌ فَقَالَ « مَنْ هَذِهِ ». فَقُلْتُ امْرَأَةٌ لاَ تَنَامُ تُصَلِّى.
قَالَ « عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لاَ يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا ». وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَفِى حَدِيثِ أَبِى أُسَامَةَ أَنَّهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِى أَسَدٍ.
It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) entered upon me and there was a woman with me. He said: 'Who is this?' I said: 'It is a woman who does not sleep, she prays.' He said: 'You should do what you are able to, for by Allah, Allah does not grow weary but you do.' And the most beloved of religious practices to him was that in which a person persisted." According to the Hadith of Abu Usamah: "It was a woman from Banu Asad."
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺمیرے پاس تشریف لائے اور ایک عورت میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی تو آپ ﷺنے فرمایا یہ عورت کون ہے؟ میں نے کہا یہ ایک ایسی عورت ہے جو سوتی نہیں ہے نماز پڑھتی رہتی ہے، آپ ﷺنے فرمایا کہ تم پر اتنا عمل لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتی ہو، اللہ کی قسم اللہ تعالی ثواب عطا فرمانے سے نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم تھک جاتی ہو اور آپ ﷺکو دین میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہی عمل تھا کہ جس پرہمیشگی ہو۔اور ابواسامہ کی حدیث میں ہے کہ وہ عورت قبیلہ بنی اسد کی عورت تھی۔