41. بَاب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ وَتَعَلُّمِهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلاَثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ». قُلْنَا نَعَمْ. قَالَ « فَثَلاَثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِى صَلاَتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلاَثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Would any one of you like to go back to his family and find among them three large, fat, pregnant she-camels?' We said: 'Yes.' He said: 'Three verses that one of you recites in his prayer are better for him than three large, fat, pregnant she-camels."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی اس کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائے تو وہاں تین حاملہ اونٹنیاں موجود ہوں اور وہ بہت بڑی اور موٹی ہوں ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺنے فرمایا تم میں سے جو کوئی اپنی نماز میں تین آیات پڑھتا ہے وہ تین بڑی بڑی موٹی اونٹنیوں سے اس کے لئے بہتر ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَنَحْنُ فِى الصُّفَّةِ فَقَالَ « أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ فَيَأْتِىَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِى غَيْرِ إِثْمٍ وَلاَ قَطْعِ رَحِمٍ ».
فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُحِبُّ ذَلِكَ. قَالَ « أَفَلاَ يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمَ أَوْ يَقْرَأَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلاَثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلاَثٍ وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ ».
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) came out when we were in As-Suffah and said: 'Which of you would like to go out in the morning every day to Buthan or Al-'Aqiq and bring back two large she-camels without that involving any sin or severing of family ties?' We said: 'O Messenger of Allah, we would like that.' He said: 'For one of you to go to the Masjid in the morning and learn, or recite two verses from the Book of Allah, is better for him than two she-camels, and three (verses) are better for him than three (she-camels), and four (verses) are better for him than four (she-camels), and so on."'
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اس حال میں تشریف لائے کہ ہم صفہ میں تھے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ روزانہ صبح بطحان(مدینہ کی پتھریلی زمین) کی طرف یا عقیق (ایک بازار) کی طرف جائے اور وہ وہاں سے بغیر کسی گناہ اور بغیر کسی قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لے آئے؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں تو آپ ﷺنے فرمایا پھر تم میں سے کوئی شخص صبح کو مسجد میں کیوں نہیں جاتا تاکہ قرآن مجید کی دو آیتیں خود سیکھے یا کسی کو سکھائے اور یہ (دو آیتوں کی تعلیم )دو اونٹنیوں (کےحصول ) سے بہتر ہے۔اور تین ،تین سے بہتر ہے اور چار، چار سے بہتر ہے اس طرح آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے۔
42. بَاب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ
حَدَّثَنِى الْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ - وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - يَعْنِى ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ يَقُولُ حَدَّثَنِى أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِىُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لأَصْحَابِهِ اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلاَ تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ ». قَالَ مُعَاوِيَةُ بَلَغَنِى أَنَّ الْبَطَلَةَ السَّحَرَةُ.
It was narrated from Zaid that he heard Abu Salam saying: "Abu Umamah Al-Bahili narrated to me: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Recite the Qur'an, for it will come on the Day of Resurrection interceding for its companions. Recite the two bright ones, Sural Al-Baqarah and Sural Al 'Imran, for they will come on the Day of Resurrection as if they were two clouds, or as if they were two shadows, or as if they were two flocks of birds in ranks, pleading on behalf of their companions. Recite Surat Al-Baqarah, for reciting it regularly is a blessing and forsaking it is a loss, and Al-Batalah (the magicians) cannot withstand it." Mu'awiyah (one of the narrators) said: "It was conveyed to me that Al-Batalah is the magicians."
حضرت ابوامامہ باہلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺفرماتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا اور دو روشن سورتوں کو پڑھا کرو سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران کیونکہ یہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے کہ دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی، سورۃ البقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا چھوڑنا باعث حسرت ہے اور جادوگر اس کو حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى - يَعْنِى ابْنَ حَسَّانَ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « وَكَأَنَّهُمَا ». فِى كِلَيْهِمَا وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ مُعَاوِيَةَ بَلَغَنِى.
Mu'awiyah narrated something similar (as no. 1874) with this chain.
ایک اور سند سے بھی یہ روایت بھی منقول ہے۔
حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِىِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلاَبِىَّ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ ». وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثَلاَثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ « كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا ».
Al-Nawwas bin Sim'an Al-Kilabi said: "I heard the Prophet (s.a.w) say: 'The Qur'an will be brought on the Day of Resurrection, as will its people who used to act in accordance with it, led by Surat Al-Baqarah and Al-'Imran.' And the Messenger of Allah (s.a.w) likened them to three things, which we did not forget afterwards. He said: 'As if they are two clouds, or two black canopies, with light between them, or as if they are two flocks of birds in ranks, pleading on behalf of their companions."'
حضرت جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن قرآن مجید اور ان لوگوں کو جو اس پر عمل کرنے والے تھے لایا جائے گا ان کے آگے سورۃالبقرہ اور سورۃ آل عمران ہوں گی رسول اللہ ﷺنے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں ارشاد فرمائی ہیں جنہیں میں اب تک نہیں بھولا وہ اس طرح سے ہیں جس طرح کہ دو بادل ہوں یا دو سیاہ سائبان ہوں اور ان دونوں کے درمیان روشنی ہو یا صف بندھی ہوئی پرندوں کی دو قطاریں ہوں وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔
43. بَابُ فَضْلِ الْفَاتِحَةِ وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَالْحَثِّ عَلَى قِرَاءَةِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلاَّ الْيَوْمَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ فَقَالَ هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلاَّ الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِىٌّ قَبْلَكَ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلاَّ أُعْطِيتَهُ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said: "While Jibril was sitting with the Prophet (s.a.w), he heard a creaking sound from above him. He raised his head and said: 'This is a door in heaven that has been opened today, and it has never been opened before today.' An Angel came down from it and he said: 'This is an Angel who has come down to earth, and he has never come down before today.' He greeted him and said: 'Glad tidings of two lights that have not been given to any Prophet before you: The Opening of the Book and the closing verses of Surat Al-Baqarah. You will never recite one letter of them but you will be given (reward)."'
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام نبیﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک اوپر سے ایک آواز سنی تو آپ ﷺنے اپنا سر مبارک اٹھایا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ دروازہ آسمان کا ہے جسے صرف آج کے دن کھولا گیا اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا پھر اس سے ایک فرشتہ اترا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ فرشتہ جو زمین کی طرف اترا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا اس فرشتے نے سلام کیا اور کہا کہ آپ ﷺکو ان دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ ﷺکو دیے گئے جو کہ آپ ﷺسے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے ایک سورۃالفاتحہ اور دوسری سورۃ البقرہ کی آخری آیات آپ ﷺان میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے آپ ﷺکو اس کے مطابق دیا جائے گا۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَيْتِ فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِى عَنْكَ فِى الآيَتَيْنِ فِى سُورَةِ الْبَقَرَةِ. فَقَالَ نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِى لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ».
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Yazid said: "I met Abu Mas'ud at the Ka'bah and I said: 'I have heard a Hadith from you concerning the two verses in Surat Al-Baqarah.' He said: 'Yes; the Messenger of Allah (s.a.w) said: The two verses at the end of Surat Al-Baqarah; whoever recites them at night, they will suffice him.'"
عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیت اللہ کے پاس ملا تو میں نے کہا کہ سورۃالبقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں آپ ﷺکی حدیث مجھ تک پہنچی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں رسول اللہ ﷺنے سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتوں کے بارے میں فرمایا کہ جو اسے رات کو پڑھے گا وہ اسے کافی ہوں گی۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Mansur with this chain (a similar Hadith as no. 1878).
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِىُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ قَرَأَ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِى لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ». قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِى بِهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Yazid, from 'Alqamah bin Qais, from Abu Mas'ud Al-Ansari, who said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever recites these two verses at the end of Surat Al-Baqarah during the night, they will suffice him.'" 'Abdur-Rahman said: "I met Abu Mas'ud when he was circumambulating the Ka'bah and I asked him, and he narrated it to me from the Prophet (s.a.w)."
حضرت ابومسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جو آدمی سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں رات کے وقت پڑھے گا وہ اسے کافی ہو جائیں گی راوی عبدالرحمن نے کہا میں حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیت اللہ کے طواف کے دوران ملا میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے نبی ﷺسے نقل کر کے یہی حدیث بیان کی۔
وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِى ابْنَ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 1880) was narrated from Abu Mas'ud, from the Prophet (s.a.w).
ایک اور سند سے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے یہی روایت بیان کی ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 1880) was narrated from Abu Mas'ud, from the Prophet (s.a.w).
ایک دیگر سند سے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی روایت منقول ہے۔
44. بَابُ فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ الْغَطَفَانِىِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ الْيَعْمَرِىِّ عَنْ أَبِى الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ».
It was narrated from Abu Ad-Darda' that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever memorizes ten verses from the beginning of Surat Al-Kahf, will be protected from the tribulation of the Dajjal."
حضرت ابودرداء سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا جو آدمی سورۃکہف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لے گا وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ شُعْبَةُ مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ. وَقَالَ هَمَّامٌ مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ كَمَا قَالَ هِشَامٌ.
It was narrated from Qatadah with this chain (a Hadith similar to no. 1883). Shu'bah said: "from the end of Al-Kahf." Hammam said: "from the beginning of Al-Kahf," as Hisham said.
قتادہ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے لیکن اس میں شعبہ کی روایت میں سورہ کہف کی آخری آیات اور ہمام کی روایت میں سورہ کہف کی ابتدائی آیات کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى عَنِ الْجُرَيْرِىِّ عَنْ أَبِى السَّلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِىِّ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِى أَىُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَكَ أَعْظَمُ ». قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ « يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِى أَىُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَكَ أَعْظَمُ ». قَالَ قُلْتُ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ. قَالَ فَضَرَبَ فِى صَدْرِى وَقَالَ « وَاللَّهِ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ ».
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O Abu Al-Mundhir, do you know which verse from the Book of Allah that you have learned is greatest?' I said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: 'O Abu Al-Mundhir, do you know which verse from the Book of Allah that you have learned is greatest?' I said: "'Allahu! la ilaha illa Huwa (none has the right to be worshiped but He), Al-Hayyul-Qayyum (the Ever Living, the One Who sustains and protects all that exists...)."' He struck me on the chest and said: 'I congratulate you on your knowledge, O Abu Al-Mundhir.'"
حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے ابوالمنذر کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے نزدیک اللہ کی کتاب میں سے سب سے بڑی آیت کونسی ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺنے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے نزدیک اللہ تعالی کی کتاب میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے میں نے کہا (اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم) آخر تک آپ ﷺنے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا اے ابوالمنذر یہ علم تجھے مبارک ہو۔
45. بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَبِى الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِى لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ». قَالُوا وَكَيْفَ يَقْرَأُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالَ « (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) يَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ».
It was narrated from Abu Ad-Darda' that the Prophet (s.a.w) said: "Is any one of you incapable of reciting one-third of the Qur'an during the night?" They said: "How could he recite one-third of the Qur'an?" He said: "Say: "He is Allah the One" is equivalent to one-third of the Qur'an."
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی رات میں تہائی قرآن مجید پڑھ سکتا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ وہ کیسے پڑھا جا سکتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ سورۃ (قل ھو اللہ احد) تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى عَرُوبَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانٌ الْعَطَّارُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِى حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلاَثَةَ أَجْزَاءٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ ».
It was narrated from Qatadah with this chain. In their Hadith it says that the Prophet (s.a.w) said: "Allah divided the Qur'an into three parts and He made "Say: "He is Allah the One" one of the parts of the Qur'an."
حضرت قتادہ سے اس سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺکا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا اللہ تعالی نے قرآن مجید کے تین حصے فرمائے ہیں اور قرآن کے ان تین حصوں میں سے ( قل ھو اللہ احد) کو ایک حصہ مقرر فرمایا ہے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى - قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « احْشِدُوا فَإِنِّى سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ». فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَرَأَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِنِّى أُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاكَ الَّذِى أَدْخَلَهُ. ثُمَّ خَرَجَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « إِنِّى قُلْتُ لَكُمْ سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ أَلاَ إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Gather together, for I am going to recite one-third of the Qu'an to you.' So the people gathered, then the Prophet of Allah (s.a.w) came out and recited: "Say: "He is Allah, (the) One)" then he went in. We said to one another: 'Perhaps there is news that has come to him from heaven and that is why he has gone in.' Then the Prophet of Allah (s.a.w) came out and said: 'I told you that I was going to recite one-third of the Qur'an to you, and it is equivalent to one-third of the Qur'an.'"
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ تم سب اکٹھے ہوجاؤ تاکہ میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھوں پھر جنہوں نے اکٹھا ہونا تھا وہ اکٹھے ہو گئے پھر نبی ﷺنکلے اور آپ ﷺنے سورۃ قل ہو اللہ احد پڑھی پھر آپ ﷺتشریف لے گئے ہم آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے جس کی وجہ سے آپ ﷺاندر تشریف لے گئے ہیں پھر نبی ﷺباہر تشریف لائے توفرمایا میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تم پر تہائی قرآن پڑھوں گا۔سنو آگاہ رہو یہ سورۃ(قل ہو اللہ احد) تہائی قرآن کے برابر ہے۔
وَحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ بَشِيرٍ أَبِى إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ». فَقَرَأَ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ) حَتَّى خَتَمَهَا.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) came out to us and said: 'I will recite one-third of the Qur'an to you,' and he recited: "Say: "He is Allah, (the) One )" until its end."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺہماری طرف تشریف لائے تو فرمایا کہ میں تمہارے اوپر تہائی قرآن مجید پڑھتا ہوں پھر آپ نے پوری سورۃ قل ھو اللہ احد پڑھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى هِلاَلٍ أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَتْ فِى حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَ رَجُلاً عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لأَصْحَابِهِ فِى صَلاَتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) فَلَمَّا رَجَعُوا ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « سَلُوهُ لأَىِّ شَىْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ ». فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ ».
It was narrated from 'Amrah bint 'Abdur-Rahman, who was under the care of 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w), that the Messenger of Allah (s.a.w) sent a man in charge of a raiding party, and he used to recite for his companions when leading them in prayer, and he would end with: "Say: He is Allah, (the) One)". When they came back, they mentioned that to the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: "Ask him why he does that." So they asked him and he said: "Because it is a description of the Most Merciful and I love to recite it." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Tell him that Allah loves him."
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک آدمی کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں قرات ختم کر کے ( قل ھو اللہ احد) بھی پڑھتے تھے جب وہ لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر رسول اللہ ﷺسے کیا گیا آپ ﷺنے فرمایا کہ اس سے پوچھو کہ وہ اس طرح کیوں کرتا تھا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ وہ اسطرح کیوں کرتا تھا تو اس نے کہا اس سورۃ میں رحمن (اللہ جل جلالہ) کی صفات بیان کی گئی ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ میں اسے پڑھوں رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اس آدمی سے کہہ دو کہ اللہ تعالی بھی اس سے محبت کرتا ہے۔
46. بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِى حَازِمٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) وَ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ) ».
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do you not see verses that have been revealed tonight, the like of which has never been seen? (They are:) Say: I seek refuge with (Allah), the Lord of the daybreak, and: Say: 'I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind.' "
حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ رات ایسی آیات نازل کی گئی ہیں کہ ان کی طرح پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں (قل اعوذ برب الفلق و قل اعوذ برب الناس)۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أُنْزِلَ - أَوْ أُنْزِلَتْ - عَلَىَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ ».
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'There have been revealed to me verses the like of which has never been seen (they are): Al-Mu'awwidhatain. '"
حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا کہ مجھ پر (ایسی آیات) نازل کی گئی ہیں کہ ان کی طرح پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں (قل اعوذ برب الفلق و قل اعوذ برب الناس)۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلاَهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ. وَفِى رِوَايَةِ أَبِى أُسَامَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِىِّ وَكَانَ مِنْ رُفَعَاءِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم-.
A similar report (as no. 1892) was narrated from Isma'il with this chain. In the report of Abu Usamah it says: "It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir Al-Juhani, who was one of those who narrated directly from Muhammad (s.a.w)."
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
47. بَاب فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ وَيُعَلِّمُهُ وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - حَدَّثَنَا الزُّهْرِىُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِى اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ».
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (s.a.w) said: "There is no envy except in two cases: A man to whom Allah gives (causes to learn) the Qur'an and he recites it during the night and during the day, and a man to whom Allah gives wealth, and he spends it during the night and during the day."
حضرت سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالی نے قرآن مجید عطا فرمایا ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا ہو اور وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالی نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ رات اور دن اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہو۔
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ حَسَدَ إِلاَّ عَلَى اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ هَذَا الْكِتَابَ فَقَامَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَتَصَدَّقَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ».
Salim bin 'Abdullah bin 'Umar narrated that his father said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'There is no envy except in two cases: A man to whom Allah gives (causes to learn) this Book and he recites it by night and by day, and a man to whom Allah gives wealth, and he gives it in charity by night and by day.'"
حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ کہ جسے اللہ تعالی نے کتاب عطا فرمائی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالی نے مال عطا فرمایا اور وہ اس مال سے رات دن صدقہ کرتا رہتا ہو۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِى اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِى الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِى بِهَا وَيُعَلِّمُهَا ».
It was narrated that Qais said: "I heard 'Abdullah bin Mas'ud say: The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'There is no cause for envy except in two cases: 'A man to whom Allah gives wealth and enables him to spend it in support of the truth, and a man to whom Allah gives wisdom and he rules in accordance with it and teaches it."'
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالی نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اسے حق کے راستے میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالی نے دانائی عطا فرمائی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور اسے لوگوں کو سکھاتا ہو۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِى أَبِى عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِىَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى مَكَّةَ فَقَالَ مَنِ اسْتَعْمَلْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِى فَقَالَ ابْنَ أَبْزَى. قَالَ وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى قَالَ مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا. قَالَ فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى قَالَ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ. قَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ قَالَ « إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ ».
It was narrated from 'Amir bin Wathilah that Nafi' bin 'Abdul-Harith met 'Umar in 'Usfan, and 'Umar had appointed him as governor of Makkah. He said: "Whom did you appoint over the people of the valley?" He said: "Ibn Abza." He said: "Who is Ibn Abza?" He said: "One of our freed slaves." He said: "You have appointed a freed slave over them?!" He said: "He is well versed in the Book of Allah, the Mighty and Sublime, and he is knowledgeable about the Fara'id." 'Umar said: "Your Prophet (s.a.w) said: 'Allah raises some in status because of this Book and He lowers others because of it."'
عامر بن واثلہ بیان کرتے ہیں کہ نافع بن عبد الحارث نےحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عسفان میں ملاقات کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں مکہ کا امیر مقرر کرنے کا حکم دیا ہوا تھا آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم نے مکہ میں کس کو حاکم بنایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ابن ابزی کو۔آپ نے پوچھا کہ ابن ابزی کون آدمی ہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ ہمارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے آپ نے فرمایا کہ تو نے ایک غلام کو ان کا امیر بنا دیا ہے؟ اس نے کہا کہ وہ اللہ کی کتاب کا قاری ہے اور فرائض کا عالم ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے نبی ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔
وَحَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ قَالَ حَدَّثَنِى عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ اللَّيْثِىُّ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِىَّ لَقِىَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ. بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ.
'Amir bin Wathilah Al-Laithi narrated that Nafi' bin 'Abdul-Harith Al-Khuza'i met 'Umar bin Al-Khattab in 'Usfan..." a Hadith similar to that of Ibrahim bin Sa'd from Az-Zuhri (no. 1897).
ایک اور سند سے بھی ایسی روایت منقول ہے۔
48. بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِىِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَرْسِلْهُ اقْرَأْ ». فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِى سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَكَذَا أُنْزِلَتْ ». ثُمَّ قَالَ لِىَ « اقْرَأْ ». فَقَرَأْتُ فَقَالَ « هَكَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ».
'Umar bin Al-Khattab said: "I heard Hisham bin Halim bin Hizam reciting Surat Al-Furqan in a manner other than I recited it, and the Messenger of Allah (s.a.w) had taught it to me. I was about to argue with him, but I restrained myself until he had finished (praying), then I caught him by his Rida' and brought him to the Messenger of Allah (s.a.w), and said: 'O Messenger of Allah, I heard this man reciting Surat Al-Furqan in a manner other than you taught it to me.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Let go of him. Recite it.' He recited it in the manner in which I had heard him recite, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Thus it was revealed.' Then he said to me: 'Recite it.' So I recited it and he said: 'Thus it was revealed. This Qur'an has been revealed in seven modes of recitation, so recite whatever is easy for you."'
عبد الرحمن بن عبد القاری سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ وہ سورۃ الفرقان کو اس قرات پر نہیں پڑھ رہے کہ جس قرات کے ساتھ رسول اللہ نے مجھے پڑھائی قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کرتا لیکن میں نے انہیں مہلت دی تاکہ وہ نماز سے فارغ ہو جائیں پھر میں ان کو چادر سے کھینچتا ہوا رسول اللہ ﷺکے پاس لے آیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے ان کو سورۃالفرقان اس طرح پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ ﷺنے مجھے نہیں پڑھایا رسول اللہ ﷺنے فرمایا اسے چھوڑ دو۔ پھر ان سے کہا اب پڑھو! انہوں نھ اسی طرح وہ سورت پڑھی جس طرح میں ان سے سن چکا تھا۔آپﷺنے فرمایا یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی۔پھر مجھ سے فرمایا تم پڑھو،میں نے وہ سورت پڑہی ۔ آپ ﷺنے فرمایا یہ سورۃ اسی طرح نازل کی گئی ہے پھر آپ ﷺنے فرمایا کہ یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے تمہیں جس طرح آسانی ہو پڑھو۔
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِىَّ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِى حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِى الصَّلاَةِ فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ.
'Umar bin Al-Khattab said: "I heard Hisham bin Hakim reciting Surat Al-Furqan during the lifetime of the Messenger of Allah (s.a.w)..." and he quoted a similar Hadith (as no. 1899) and added: "I was about to grab hold of him while he was praying, but I restrained myself until he had finished."
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہین کہ میں نے رسول اللہ ﷺکی زندگی میں ہشام بن حکیم کو سورہ فرقان اس طر ح پڑھتے ہوئے سنا ۔۔۔۔اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے اس میں یہ زیادتی ہے کہ قریب تھا کہ میں اس کو حالت نماز میں گھسیٹ کر لاتا لیکن میں نے اس کے سلام پھیرنے تک صبر کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ كَرِوَايَةِ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ.
A report similar to that of Yunus (no. 1900) was narrated from Az-Zuhri with the same chain.
ایک اور سند سے بھی ایسی روایت منقول ہے۔
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَقْرَأَنِى جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ فَيَزِيدُنِى حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ». قَالَ ابْنُ شِهَابٍ بَلَغَنِى أَنَّ تِلْكَ السَّبْعَةَ الأَحْرُفَ إِنَّمَا هِىَ فِى الأَمْرِ الَّذِى يَكُونُ وَاحِدًا لاَ يَخْتَلِفُ فِى حَلاَلٍ وَلاَ حَرَامٍ.
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Jibril - peace be upon him - recited to me with one mode of recitation, but I asked him to recite it in another way, and I kept asking him for more, and he gave me more, until there were seven modes of recitation." Ibn Shihab said: "I heard that these seven modes of recitation are essentially one, and there is no difference between them concerning lawful and unlawful."
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایک حرف پر قرآن مجید پڑھایا میں نے انہیں زیادہ کے لئے کہا یہاں تک کہ سات حرفوں تک قرآن مجید کی قرات ہوگئی ابن شہاب راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا کہ ان سات حروف کا معنی ایک ہوتا ہے اور ان میں حلال اور حرام کے لحاظ سے کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Az-Zuhri with this chain (a similar Hadith as no. 1902).
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ جَدِّهِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كُنْتُ فِى الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّى فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلاَةَ دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَرَءَا فَحَسَّنَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- شَأْنَهُمَا فَسُقِطَ فِى نَفْسِى مِنَ التَّكْذِيبِ وَلاَ إِذْ كُنْتُ فِى الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا قَدْ غَشِيَنِى ضَرَبَ فِى صَدْرِى فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا فَقَالَ لِى « يَا أُبَىُّ أُرْسِلَ إِلَىَّ أَنِ اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِى. فَرَدَّ إِلَىَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ.
فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِى. فَرَدَّ إِلَىَّ الثَّالِثَةَ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا. فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِى. اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِى. وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَىَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتَّى إِبْرَاهِيمُ -صلى الله عليه وسلم- ».
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said: "I was in the Masjid, and a man came in and offered prayers, and (in it) he recited in a manner which I found strange. Then another man came in and recited in a manner different from his companion. When we had finished the prayer, we all entered upon the Messenger of Allah (s.a.w) and I said: 'This man recited in a manner which I found strange, then another man came in and recited in a manner different from his companion.' The Messenger of Allah (s.a.w) told them to recite, and they did so, and the Prophet (s.a.w) expressed his approval. I felt in my heart a kind of doubt such as I had never felt even during the Jahiliyyah. When the Messenger of Allah (s.a.w) saw that I was affected and had broken into a sweat, as if I was looking at Allah, the Mighty and Sublime, with fear, he said to me: 'O Ubayy, it was conveyed to me that I should recite the Qur'an in one mode of recitation, and I replied: Make it easy for my Ummah. It was conveyed to me the second time that I should recite it in two modes of recitation. I replied: Make it easy for my Ummah. It was conveyed to me the third time that I should recite it in seven modes of recitation, and: For each time you replied, you may ask Me for something. I said: O Allah, forgive my Ummah; O Allah, forgive my Ummah, and I have delayed the third one for the Day when all of mankind will tum to me, even Ibrahim, peace be upon him."'
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا اور وہ ایسی قرات پڑھنے لگا کہ جو میرے علم میں نہیں تھی پھر ایک دوسرا آدمی مسجد میں داخل ہوا اور وہ اس کے علاوہ کوئی اور قرات پڑھنے لگا پھر جب ہم نے نماز پوری کرلی تو ہم سب رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آئے میں نے عرض کیا کہ اس آدمی نے ایسی قرات پڑھی کہ جس پر مجھے تعجب ہوا اور پھر ایک دوسرا آدمی آیا تو اس نے اس کے علاوہ کوئی اور قرات پڑھی، رسول اللہ ﷺنے ان دونوں کو پڑھنے کاحکم دیاتو انہوں نے پڑھا نبی ﷺنے ان دونوں کے پڑھنے کو اچھا فرمایا اور میرے دل میں ایسی تکذیب سی آئی جو زمانہ جاہلیت میں نہیں تھی تو جب رسول اللہ ﷺنے میری اس کیفیت کو دیکھا جو مجھ پر ظاہر ہو رہی تھی تو آپ ﷺنے میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہوگیا گو یا کہ میں اللہ کی طرف دیکھ رہا ہوں پھر آپ ﷺنے مجھ سے فرمایا اے ابی! پہلے مجھے حکم تھا کہ میں قرآن کو ایک حرف پر پڑھوں تو میں نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما دوسری مرتبہ مجھے دو حرفوں پر پڑھنے کا حکم ملا تو میں نے پھر اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما تو تیسری مرتبہ مجھے سات حرفوں پر پڑھنے کا حکم ملا ۔ اور فرمایا تم نے جتنی بار امت پر آسانی کے لیے دعا کی ہے اتنی بار کے عوض تم ہم سے ایک دعا مانگ لو! میں نے عرض کیا اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے محفوظ کرلی جس دن ساری مخلوق حتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرف آئیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنِى إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى أَخْبَرَنِى أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِى الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَرَأَ قِرَاءَةً وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
Ubayy bin Ka'b narrated that he was sitting in the Masjid when a man came in and offered prayers, and he recited in a manner... a Hadith similar to that of Ibn Numair (no. 1904).
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ مسجد حرام میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے آکر قرآن مجید پڑھا ، باقی روایت حسب سابق ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِى غِفَارٍ - قَالَ - فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ. فَقَالَ « أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِى لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ ». ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ فَقَالَ « أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِى لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ ». ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلاَثَةِ أَحْرُفٍ. فَقَالَ « أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِى لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ ». ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا.
It was narrated from Ubayy bin Ka'b that the Prophet (s.a.w) was at the pond of Banu Ghifar and Jibril - peace be upon him - came to him and said: "Allah commands you to teach the Qur'an to your Ummah according to one mode of recitation." He said: "I ask Allah for His pardon and forgiveness, my Ummah is not able for that." Then he came to him a second time and said: "Allah commands you to teach the Qur'an to your Ummah according to two modes of recitation." He said: "I ask Allah for His pardon and forgiveness, my Ummah is not able for that." Then he came to him a third time and said: "Allah commands you to teach the Qur'an to your Ummah according to three modes of recitation." He said: "I ask Allah for His pardon and forgiveness, my Ummah is not able for that." He came to him a fourth time and said: "Allah commands you to teach the Qur'an to your Ummah according to seven modes of recitation, and whichever mode of recitation they recite it in, they will be right."
حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ نبی ﷺقبیلہ غفار کے تالاب پر تھے کہ آپ ﷺکے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالی آپ ﷺکو حکم فرماتے ہیں کہ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیے، آپ ﷺنے فرمایا کہ میں اللہ تعالی سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام دوسری مرتبہ آپ ﷺکے پاس آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺکو حکم دیا ہے کہ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیے آپ ﷺنے فرمایا کہ میں اللہ تعالی سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں کہ میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام تیسری مرتبہ آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺکو حکم دیا ہے کہ اپنی امت کو تین حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیے آپ ﷺنے فرمایا کہ میں اللہ تعالی سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں کہ میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام چوتھی مرتبہ آپ ﷺکے پاس آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺکو حکم دیا ہے کہ آپ ﷺاپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیں اور ان حرفوں میں سے جس حرف پر قرآن مجید پڑھیں گے وہ صحیح ہوگا۔
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
Shu'bah narrated a similar report (as no. 1906) with this chain.
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
49. بَاب تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ - عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ أَلِفًا تَجِدُهُ أَمْ يَاءً مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِنٍ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَكُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذَا قَالَ إِنِّى لأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِى رَكْعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ أَقْوَامًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَكِنْ إِذَا وَقَعَ فِى الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ إِنِّى لأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ سُورَتَيْنِ فِى كُلِّ رَكْعَةٍ. ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فِى إِثْرِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ قَدْ أَخْبَرَنِى بِهَا. قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِى رِوَايَتِهِ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِى بَجِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ.
It was narrated that Abu Wa'il said: "A man called Nahik bin Sinan came to 'Abdullah and said: 'O Abu 'Abdur-Rahman, how do you recite this letter, as Alif or as Ya'? Min ma'in ghayri asin or Min ma'in ghayri yasin?' 'Abdullah said: 'Have you memorized the entire Qur'an apart from this?' He said: 'I recite Al-Muffassal, in one Rak'ah.' 'Abdullah said: 'This is like the hasty recitation of poetry. There are people who recite the Qur'an and it does not go any deeper than their collarbones, but if it settles in the heart and takes root, it will be beneficial. The best of prayer is bowing and prostration, and I know the pairs of Surahs that the Messenger of Allah (s.a.w) used to recite in each Rak'ah.' Then 'Abdullah stood up and 'Alqamah went in after him, then he came out and said: 'he has told me what they are."' Ibn Numair said in his report: A man from Banu Bajilah came to 'Abdullah, and he did not say: "Nahik bin Sinan."
حضرت ابووائل سے روایت ہے کہ نھیک بن سنان نامی ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمٰن! آپ اس لفظ کو کیسے پڑھتے ہیں الف کے ساتھ یا یا کے ساتھ؟ ”من ماء غیر آسن “ یا ”من ماء غیر یاسن“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تو نے اس لفظ کے علاوہ سارےقرآن کی تحقیق کرلی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ میں مفصل کی ساری سورتیں ایک ہی رکعت میں پڑھتا ہوں، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ شعر کی طرح تو جلدی جلدی پڑھتا ہوگا ، بہت سے لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا، لیکن قرآن مجید جب ذہن نشین اور راسخ ہو جائے تو نفع دیتا ہے ۔نماز میں سب سے افضل ارکان رکوع اور سجود ہیں اور میں ایسی باہم متماثل سورتوں کو جانتا ہوں جن میں سے رسول اللہ ﷺایک رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھ گئے اور حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیچھے گئے پھر باہر نکلے اور فرمایا کہ مجھے انہوں نے اس چیز کی خبر دی ہے، ابن منیر نے اپنی روایت میں کہا کہ بنی بجیلہ کا ایک آدمی حضرت عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں آیا اور نھیک بن سنان نہیں کہا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ. بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَجَاءَ عَلْقَمَةُ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ سَلْهُ عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْرَأُ بِهَا فِى رَكْعَةٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ فِى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ.
It was narrated that Abu Wa'il said: "A man called Nahik bin Sinan came to 'Abdullah...'' A Hadith similar to that of Waki' (no. 1908), except that he said: '" Alqamah came to enter upon him, and we said to him: 'Ask him about the pairs of Surahs that the Messenger of Allah (s.a.w) used to recite in each Rak'ah.' He entered upon him and asked him, then he came out to us and said: 'Twenty Surahs in ten Rak'ah of Al-Mufassal.'"
حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف آیا جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے باقی حدیث وکیع کی حدیث کی طرح نقل کی اس حدیث میں ہے کہ پھر حضرت علقمہ آئے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے ہم نے ان سے کہا کہ ان سے ان نظائر (متماثل)کے بارے میں پوچھ لو کہ جن کو رسول اللہ ﷺایک رکعت میں پڑھتے تھے تو وہ گئے اور ان سے جا کر پوچھا پھر آکر بتایا کہ وہ مفصل میں سے تیس سورتیں ہیں کہ ان کو دس رکعتوں میں پڑھا جاتا تھا اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف میں سے ہیں۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ فِى هَذَا الإِسْنَادِ. بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَقَالَ إِنِّى لأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِى كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اثْنَتَيْنِ فِى رَكْعَةٍ. عِشْرِينَ سُورَةً فِى عَشْرِ رَكَعَاتٍ.
Al-A'mash narrated something similar (to no. 1908) with this chain, and he said: "I know the pairs that the Messenger of Allah (s.a.w) used to recite, two in each Rak'ah, twenty Surah in ten Rak'ah.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ان متماثل سورتوں کو پہچانتا ہوں جن میں سے رسول اللہ ﷺدو دو کو ملا کر ایک رکعت میں پڑھتے دس رکعتوں میں بیس سورتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا مَهْدِىُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ فَأَذِنَ لَنَا - قَالَ - فَمَكَثْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً - قَالَ - فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ أَلاَ تَدْخُلُونَ فَدَخَلْنَا فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ فَقَالَ مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ فَقُلْنَا لاَ إِلاَّ أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ. قَالَ ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِى هَلْ طَلَعَتْ قَالَ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِىَ لَمْ تَطْلُعْ فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ قَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِى هَلْ طَلَعَتْ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِىَ قَدْ طَلَعَتْ. فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا - فَقَالَ مَهْدِىٌّ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا - قَالَ - فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ - قَالَ - فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّا لَقَدْ سَمِعْنَا الْقَرَائِنَ وَإِنِّى لأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِى كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم.
It was narrated that Abu Wa'il said: "We went to 'Abdullah bin Mas'ud one morning after we had prayed Al-Ghadah and we greeted him at the door, and he granted us permission (to enter). We stayed at the door for a while, then the slave girl came out and said: 'Will you not enter?' So we entered and found him sitting, reciting Tasbih. He said: 'What kept you from entering when permission had been given to you?' We said: 'Nothing, except that we thought that some of the people of the household might be sleeping.' He said: 'Do you think there is idleness among the family of Ibn Umm 'Abd?' Then he went back to reciting Tasbih until he thought that the sun had risen and he said: 'O girl, look and see whether it has risen.' She looked and saw that it had not risen. Then he went back to reciting Tasbih until he thought that the sun had risen and he said: 'O girl, look and see whether it has risen.' She looked and saw that it had risen. He said: 'Praise be to Allah Who has caused this day of ours to come when we are still in a state of soundness."' (One of the narrators) Mahdi said: "I think that he said: 'and has not destroyed us for our sins."' - "A man among the people said: 'I recited all of Al-Mufassal last night.' 'Abdullah said: 'This is like the hasty recitation of poetry. We heard the pairs, and I remember the pairs that the Messenger of Allah (s.a.w) used to recite: 'Eighteen Surah from Al-Mufassal and two Surah from the family of Ha-Mim."'
حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف گئے اور دروازے سے سلام کیا تو انہوں نے ہمیں اجازت دیدی مگر ہم تھوڑی دیر دروازے کے ساتھ ٹھہرے رہے تو ایک باندی آئی اور اس نے کہا کہ تم اندر کیوں نہیں داخل ہو رہے ہو؟ تو پھر ہم اندر داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے تسبیح پڑھ رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے اندر داخل ہونے سے روکا ہے جبکہ تمہیں اجازت دیدی گئی تھی! تو ہم نے کہا کہ کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ ہم نے خیال کیا کہ گھر والوں میں سے کوئی سو رہا ہو تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم نے ابن ام عبد کے گھر والوں کے بارے میں غفلت کا گمان کیا؟ راوی نے کہا کہ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تسبیح پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل گیا ہے تو باندی سے فرمایا دیکھو کیا سورج نکل آیا ہے اس نے دیکھا اور کہا کہ ابھی تک سورج نہیں نکلا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر تسبیح پڑھنی شروع کر دی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل رہا ہے تو پھر باندی سے فرمایا کہ دیکھو سورج نکل گیا ہے؟ پھر اس نے دیکھا تو سورج نکل چکا تھا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا (الحمد للہ الذی اقالنا یومنا ہذا) تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں آج معاف کردیا۔ راوی مہدی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ جملہ بھی فرمایا (ولم یھلکنا بذنوبنا) اور ہم کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہیں فرمایا جماعت میں سے ایک آدمی نے کہا میں نے آج کی رات مفصل کی ساری سورتیں پڑھی ہیں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تو نے اس طرح پڑھا ہوگا کہ جس طرح کوئی شعر تیزی کے ساتھ پڑھتا ہے بے شک ہم نے قرآن مجید سنا اور مجھے وہ ساری سورتیں یاد ہیں کہ جن کو رسول اللہ ﷺپڑھا کرتے تھے اور مفصل کی وہ اٹھارہ سورتیں ہیں اور دو سورتیں ال حم کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِىٍّ الْجُعْفِىُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِى بَجِيلَةَ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّى أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِى رَكْعَةٍ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِى رَكْعَةٍ.
It was narrated that Shaqiq said: "A man from Banu Bajilah, who was called Nahik bin Sinan, came to 'Abdullah and said: 'I recite Al-Mufassal in one Rak'ah.' 'Abdullah said: 'This is like the hasty recitation of poetry. I know the pairs that the Messenger of Allah (s.a.w) used to recite, two Surahs in one Rak'ah."'
حضرت شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنی بجیلہ کا ایک آدمی جسے نھیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک رکعت میں مفصل پڑھتا ہوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم شعر کی طرح تیزی سے پڑھتے ہو ں گے، میں ان متماثل سورتوں کو جانتا ہوں جن سے رسول اللہ ﷺایک رکعت میں دو سورتیں پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً جَاءَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنِّى قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ كُلَّهُ فِى رَكْعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ - قَالَ - فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِى كُلِّ رَكْعَةٍ.
Abu Wa'il narrated that a man came to Ibn Mas'ud and said: "I recited all of Al-Mufassal in a single Rak'ah last night." 'Abdullah said: "This is like the hasty recitation of poetry." 'Abdullah said: "I know the pairs that the Messenger of Allah (s.a.w) used to put together." And he mentioned twenty Surah of Al-Mufassal, two by two, in every Rak'ah.
حضرت ابووائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں نے رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھی ہیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تو نے شعر کی طرح تیزی سے پڑھا ہوگا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں ان متماثل سورتوں کو جانتا ہوں کہ جن کو رسول اللہ ﷺ ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مفصل میں سے بیس سورتوں کا ذکر کیا ایک رکعت میں دو دو سورتیں۔
50. بَاب مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً سَأَلَ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِى الْمَسْجِدِ فَقَالَ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ أَدَالاً أَمْ ذَالاً قَالَ بَلْ دَالاً سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مُدَّكِرٍ ». دَالاً.
Abu Ishaq said: "I saw a man asking Al-Aswad bin Yazid, when he was teaching Qur'an in the Masjid: 'How do you recite this verse -fa hal min muddakir (Then is there any that will remember (or receive admonition))? - with a Dal or a Dhal?' He said: 'With a Dal. I heard 'Abdullah bin Mas'ud say: I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Muddakir' with a Dal.'"
حضرت ابو اسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اسود بن یزید سے پوچھ رہا تھا اس حال میں کہ وہ مسجد میں قرآن سکھا رہے تھے اس نے کہا کہ آپ اس آیت (فھل من مدّکر) کو کیسے پڑھتے ہیں کیا دال پڑھتے ہیں کہا یا ذال پڑھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ دال، میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ”مدّکر “ دال کے ساتھ پڑھتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ « فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ».
It was narrated from 'Abdullah that the Prophet (s.a.w) used to recite this phrase: ''fa hal min muddakir [Then is there any that will remember (or receive admonition)]?"
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی ﷺاس حرف کو (فھل من مدّکر) پڑھا کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا. قَالَ فَكَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ ( وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى) قَالَ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى ). قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْرَؤُهَا وَلَكِنْ هَؤُلاَءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ وَمَا خَلَقَ. فَلاَ أُتَابِعُهُمْ.
It was narrated that 'Alqamah said: "We arrived in Ash-Sham, and Abu Ad-Darda' came to us and said: 'Is there among you anyone who recites Qur'an according to the recitation of 'Abdullah?' I said: 'Yes, I do.' He said: 'How did you hear 'Abdullah recite this verse - Wal-laili idha yaghsha (By the night as it envelops)?' He said: 'I heard him recite: Wal-laili idha yaghsha wadh-dhakari wal-untha (By the night as it envelops and the male and female). He said: 'By Allah, this is how I heard the Messenger of Allah (s.a.w) recite it, but these people want me to include the words wa ma khalaqa (and by Him Who created), but I do not want to do that."'
حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم شام گئے تو ہمارے پاس حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اور فرمایا کہ تم میں کوئی حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرات پر پڑھنے والا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں میں ہوں انہوں نے فرمایا کہ تو نے اس آیت کو حضرت ابن مسعود کو کبھی پڑھتے سنا ہے (واللیل اذا یغشی) تو میں نے کہا کہ میں نے (واللیل اذا یغشی والذکر والانثی) پڑھتے ہوئے سنا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نے بھی رسول اللہ ﷺکو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے لیکن یہ سارے لوگ چاہتے ہیں کہ میں (وما خلق) پڑھوں لیکن میں ان کی بات نہیں مانتا۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا - قَالَ - فَجَاءَ رَجُلٌ فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ. قَالَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِى ثُمَّ قَالَ أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
It was narrated that Ibrahim said: "'Alqamah came to Ash-Sham and entered a Masjid and prayed. Then he went to a circle (assembly) and sat in it. Then a man came and sat beside me, and he said: 'Did you memorize Qur'an as 'Abdullah recited it?..."' And he mentioned something similar (no. 1917).
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام آئے وہ مسجد میں داخل ہوئے اور نماز پڑھی پھر ایک حلقہ کی طرف تشریف لے گئے اور اس میں بیٹھ گئے پھر ایک آدمی آیا میں نے محسوس کیا کہ وہ ان لوگوں سے ناراض ہے وہ میرے پہلو میں آکر بیٹھ گئے پھر انہوں نے کہا کیا تمہیں یاد ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیسے پڑھتے تھے؟۔اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِى هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لِى مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ. قَالَ مِنْ أَيِّهِمْ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
قَالَ هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ فَاقْرَأْ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى) قَالَ فَقَرَأْتُ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى ). قَالَ فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْرَؤُهَا.
It was narrated that 'Alqamah said: "I met Abu Ad-Darda' and he said to me: 'Where are you from?' I said: 'From Al-'Iraq.' He said: 'Which part?' I said: 'Al-Kufah.' He said: 'Do you recite Qur'an according to the recitation of 'Abdullah bin Mas'ud?' I said: 'Yes.' He said: 'Recite "Wal-laili idha yaghsha (By the night as it envelops)"' I recited: 'Wail- laili idha yaghsha wan-nahari idha tajalla wadh-dhakari wal-untha (By the night as it envelops, the day as it appears in brightness, and the male and the female).' He smiled then he said: 'This is how I heard the Messenger of Allah (s.a.w) recite it."'
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوالدردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تو کہاں کا رہنے والا ہے؟ میں نے عرض کیا میں عراق والوں میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کہ کس شہر کے؟ میں نے عرض کیا کوفہ والوں میں سے، انہوں نے فرمایا کہ تو نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات کو پڑھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں، انہوں نے فرمایا کہ تو پھر (واللیل اذا یغشی) کو پڑھو میں نے پڑھا (واللیل اذا یغشی والنھار اذا تجلی والذکر والانثی) تو وہ ہنس پڑے پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِى عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
It was narrated that 'Alqamah said: "I came to Ash-Sham and I met Abu Ad-Darda'..." and he quoted a Hadith similar to that of Ibn 'Ulayyah (no. 1918).
حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں شام آیا اور میں نے حضرت ابوالدردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔