11. باب شُهُودِ الْمَلاَئِكَةِ بَدْرًا
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ـ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ـ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ قَالَ مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ ـ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ـ قَالَ وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلاَئِكَةِ "
Narrated By Rifaa : (Who was one of the Badr warriors) Gabriel came to the Prophet and said, "How do you look upon the warriors of Badr among yourselves?" The Prophet said, "As the best of the Muslims." or said a similar statement. On that, Gabriel said, "And so are the Angels who participated in the Badr (battle)."
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم کو جریر نے خبر دی انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انہوں نے معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی سے انہوں نے اپنے والد رفاعہ سے جو بدر والوں میں تھے انہوں نے کہا حضرت جبریل نبیﷺ کے پاس آئے کہنے لگے آپ بدر والوں کو کیا سمجھتے ہیں آپﷺ نے فرمایا سب مسلمانوں میں افضل یا ایسا ہی کوئی کلمہ کہا حضرت جبریلؑ نے کہا اسی طرح وہ فرشتے جو جنگ بدر میں حاضر ہوئے تھے اور فرشتوں سے افضل ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ،، وَكَانَ، رِفَاعَةُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، وَكَانَ رَافِعٌ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ، فَكَانَ يَقُولُ لاِبْنِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنِّي شَهِدْتُ بَدْرًا بِالْعَقَبَةِ قَالَ سَأَلَ جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم. بِهَذَا
Narrated By Mu'adh bin Rifa'a bin Rafi : Rifa'a was one of the warriors of Badr while (his father) Rafi' was one of the people of Al-'Aqaba (i.e. those who gave the pledge of allegiance at Al-'Aqaba). Rafi' used to say to his son, "I would not have been happier if I had taken part in the Badr battle instead of taking part in the 'Aqaba pledge."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انہوں نے معاذ بن رفاعہ بن رافع سے اور رفاعہ بدر والوں میں اور ان کے والد رافع بیعت عقبہ والوں میں سے تھے ۔رافع اپنے بیٹے رفاعہ سے کہا کرتے تھے عقبہ کے برابر مجھے بدر میں شریک ہونے کی خوشی نہیں ہے کہتے تھے حضرت جبریلؑ نے نبیﷺ سے اس باب میں پوچھا تھا (یعنے بدر والوں کو جیسے اوپر گزرا)۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ رِفَاعَةَ، أَنَّ مَلَكًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم. وَعَنْ يَحْيَى، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْهَادِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ يَوْمَ حَدَّثَهُ مُعَاذٌ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ يَزِيدُ فَقَالَ مُعَاذٌ إِنَّ السَّائِلَ هُوَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
Narrated By Mu'adh : The one who asked (the Prophet) was Gabriel.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا انہوں نے معاذ بن رفاعہ سے سنا کہ ایک فرشتے (حضرت جبریلؑ) نے نبیﷺ سے پوچھا اور یحییٰ بن سعید انصاری نے (اسی اسناد سے) یزید بن ہاد سے روایت کی یحییٰ اس دن یزید کے ساتھ تھے جب معاذ نے ان سے یہ حدیث بیان کی یزید نے کہا معاذ نے کہا پوچھنے والے حضرت جبریلؑ تھے۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ " هَذَا جِبْرِيلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ ـ عَلَيْهِ أَدَاةُ الْحَرْبِ "
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said on the day (of the battle) of Badr, "This is Gabriel holding the head of his horse and equipped with arms for the battle.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے انھوں نے خالد حذّاء سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے کہ نبیﷺ نے بدر کے دن فرمایا یہ جبریلؑ آن پہنچے اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے لڑائی کے ہتھیا لگائے ہوئے۔
12. باب
حَدَّثَنِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَاتَ أَبُو زَيْدٍ وَلَمْ يَتْرُكْ عَقِبًا، وَكَانَ بَدْرِيًّا
Narrated By Anas : Abu Zaid died and did not leave any offspring, and he was one of the Badr warriors.
مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا کہا ہم سے محمّد بن عبداللہ انصاری نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا ابو زید (قیس بن سکن) صحابی لاولد مر گئے۔وہ بدری تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدِ بْنِ مَالِكٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الأَضْحَى فَقَالَ مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لأُمِّهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ إِنَّهُ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضٌ لِمَا كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الأَضْحَى بَعْدَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ
Narrated By Ibn Khabbab : Abu Said bin Malik Al-Khudri returned from a journey and his family offered him some meat of sacrifices offered at 'Id-ul-Adha. On that he said, "I will not eat it before asking (whether it is allowed)." He went to his maternal brother, Qatada bin N i 'man, who was one of the Badr warriors, and asked him about it. Qatada said, "After your departure, an order was issued by the Prophet cancelling the prohibition of eating sacrifices after three days."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید انصاری نے انہوں نے قاسم بن محمّد سےانہوں نے عبداللہ بن خباب سے کہ ابو سعید خدریؓ سفر سے واپس آئے ان کے گھر والوں نے ان کے سامنے قربانی کا گوشت رکھا انہوں نے کہا میں تو یہ نہیں کھانے کا جب تک مسئلہ نہ پوچھ لوں آخر وہ اپنے ماں جائے بھائی کے پاس گئے جو بدری تھے یعنے قتادہ بن نعمان انصاری کے پاس انہوں نےکہا تمھارے (سفر کو) جانے کے بعد ایک دوسرا حکم دیا گیا جس سےوہ حکم منسوخ ہو گیا جس میں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا منع ہوا تھا۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ الزُّبَيْرُ لَقِيتُ يَوْمَ بَدْرٍ عُبَيْدَةَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَهْوَ مُدَجَّجٌ لاَ يُرَى مِنْهُ إِلاَّ عَيْنَاهُ، وَهْوَ يُكْنَى أَبُو ذَاتِ الْكَرِشِ، فَقَالَ أَنَا أَبُو ذَاتِ الْكَرِشِ. فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالْعَنَزَةِ، فَطَعَنْتُهُ فِي عَيْنِهِ فَمَاتَ. قَالَ هِشَامٌ فَأُخْبِرْتُ أَنَّ الزُّبَيْرَ قَالَ لَقَدْ وَضَعْتُ رِجْلِي عَلَيْهِ ثُمَّ تَمَطَّأْتُ، فَكَانَ الْجَهْدَ أَنْ نَزَعْتُهَا وَقَدِ انْثَنَى طَرَفَاهَا. قَالَ عُرْوَةُ فَسَأَلَهُ إِيَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَهَا، ثُمَّ طَلَبَهَا أَبُو بَكْرٍ فَأَعْطَاهُ، فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ سَأَلَهَا إِيَّاهُ عُمَرُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا قُبِضَ عُمَرُ أَخَذَهَا، ثُمَّ طَلَبَهَا عُثْمَانُ مِنْهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ وَقَعَتْ عِنْدَ آلِ عَلِيٍّ، فَطَلَبَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَكَانَتْ عِنْدَهُ حَتَّى قُتِلَ
Narrated By 'Urwa : Az-Zubair said, "I met Ubaida bin Said bin Al-As on the day (of the battle) of Badr and he was covered with armour; so much that only his eyes were visible. He was surnamed Abu Dhat-al-Karish. He said (proudly), 'I am Abu-al-Karish.' I attacked him with the spear and pierced his eye and he died. I put my foot over his body to pull (that spear) out, but even then I had to use a great force to take it out as its both ends were bent." 'Urwa said, "Later on Allah's Apostle asked Az-Zubair for the spear and he gave it to him. When Allah's Apostle died, Az-Zubair took it back. After that Abu Bakr demanded it and he gave it to him, and when Abu Bakr died, Az-Zubair took it back. 'Umar then demanded it from him and he gave it to him. When 'Umar died, Az-Zubair took it back, and then 'Uthman demanded it from him and he gave it to him. When 'Uthman was martyred, the spear remained with Ali's offspring. Then 'Abdullah bin Az-Zubair demanded it back, and it remained with him till he was martyred.
مجھ سے عبید بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا (میرے والد) زبیر بن عوامؓ کہتے تھے بدر کے دن میں نے عبیدہ بن سعید بن عاص کو دیکھا ہتھیاروں میں غرق صرف دونوں آنکھیں اس کی کھلی ہوئی تھی اس کی کنیت ابو ذات الکرش تھی کہنے لگا میں ابو ذات الکرش ہوں میں نے ایک برچھی لے کر اس پر حملہ کیا اس کی آنکھ پر ماری وہ مر گیا ۔ہشام کہتے ہیں مجھ سے بیان کیا گیا زبیرؓ کہتے تھے (جب عبیدہ مر گیا تو) میں نے اپنا پاؤ ں اس پر رکھا اور دونوں ہاتھ لمبے کر کے بڑی مشکل سے میں نے وہ برچھی اس کی آنکھ میں سے نکالی اس کے دونوں کنارے ٹیڑھے ہوگئے تھے(مڑ گئے تھے) عروہ نے کہا یہ برچھی رسول اللہﷺ نے زبیرؓ سے مانگی انھوں نے دے دی جب رسول اللہﷺ کی وفات ہوگئی تو زبیر نے لے لی پھر ابو بکرؓ نے مانگی ان کو دے دی جب ابو بکرؓ کی وفات ہوئی تو عمرؓ نے مانگی ان کو دے دی جب عمرؓ کی وفات ہوئی پھر زبیرؓ نے لے لی تو عثمانؓ نے مانگی ان کو دے دی جب عثمانؓ شہید ہوئے تو یہ برچھی حضرت علیؓ (کے پاس ان کے بعد ان) کی اولاد کے پاس رہی آخر عبداللہ بن زبیرؓ نے ان سے مانگ لی ان کے پاس رہی جب تک وہ شہید ہوئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، وَكَانَ، شَهِدَ بَدْرًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَايِعُونِي ".
Narrated By 'Ubada bin As-Samit : (Who was one of the Badr warriors) Allah's Apostle said, "Give me the pledge of allegiance."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو ابو ادریس عائذ اللہ بن عبداللہ خولانی نے خبر دی کہ عبادہ بن صامت نے کہا جو بدری تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھ سے بیعت کرو(اخیر حدیث تک جو کتاب الایمان میں گزر چکی ہے)۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَبَنَّى سَالِمًا، وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ ـ وَهْوَ مَوْلًى لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ ـ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلاً فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ} فَجَاءَتْ سَهْلَةُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) Abu Hudhaifa, one of those who fought the battle of Badr, with Allah's Apostle adopted Salim as his son and married his niece Hind bint Al-Wahd bin 'Utba to him' and Salim was a freed slave of an Ansari woman. Allah's Apostle also adopted Zaid as his son. In the Pre-Islamic period of ignorance the custom was that, if one adopted a son, the people would call him by the name of the adopted-father whom he would inherit as well, till Allah revealed: "Call them (adopted sons) By (the names of) their fathers." (33.5)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انھوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب زہری سے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا انہوں نے حضرت عائشہؓ سے جو نبیﷺ کی بی بی تھیں کہ ابو حذیفہؓ ان لوگوں میں تھے جو بدر کی جنگ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ شریک تھے انہوں نے سالم کو جو ایک انصاری عورت(سہلتہ ابو حذیفہ کی جورو) کا غلام تھا۔(ایران کا رہنے والا) اپنا بیٹا بنا لیا تھا اور اپنی بھتیجی یعنے ہندہ ولید بن عتبہ کی بیٹی سے اس کا نکاح کر دیا تھا جیسے رسول اللہﷺ نے زید بن حارثہ کو اپنا بیٹا بنایا تھا اور جاہلیت کے زمانہ میں یہ رسم تھی (جیسے اب ہندوؤں میں ہے)جب کوئی کسی کو اپنا بیٹا بنا لیتا،متنبے کر لیتا،تو اسی کے نام سے پکارا جاتا(اسی کا بیٹا کہلاتا) اور اسی کے مال کا وارث ہوتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے (سورت احزاب کی(یہ آیت اتاری لے پالکوں کو ان کے………باپوں کا بیٹا کہو۔جب یہ آیت اتری تو سہلہ بنت سہل(ابو حذیفہ کی جورو) نبیﷺ کے پاس آئی پھر بیان کیا۔حدیث کو اخیر تک۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ بُنِيَ عَلَىَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، وَجُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، يَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِهِنَّ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى قَالَتْ جَارِيَةٌ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُولِي هَكَذَا، وَقُولِي مَا كُنْتِ تَقُولِينَ "
Narrated By Ar-Rubai bint Muauwidh : The Prophet came to me after consuming his marriage with me and sat down on my bed as you (the sub-narrator) are sitting now, and small girls were beating the tambourine and singing in lamentation of my father who had been killed on the day of the battle of Badr. Then one of the girls said, "There is a Prophet amongst us who knows what will happen tomorrow." The Prophet said (to her)," Do not say this, but go on saying what you have spoken before."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے بشر بن مفضل نے کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے انہوں نےربیع بن معوذ بن عفراء سے انہوں نے کہا نبیﷺ میرے جلوے کے روز (جس روز ان کے خاوند نےان سے صحبت کی) میرے پاس تشریف لائے اور میرے بچھونے پر بیٹھ گئے جیسے تو میرے پاس بیٹھا ہے( یہ ربیع نے خالد سے کہا ) اور کچھ چھوکریاں اس وقت دف بجا رہی تھیں بدر کے دن جو ان کے بزرگ مارے گئے تھے ان کی تعریفیں کر رہی تھیں ایک لڑکی ان میں(گاتے گاتے) یہ کہنے لگی مصرعہ ہم میں ہے ایک نبی جو جانتا ہے کل کی بات یعنے کل کیا ہوگا اس وقت نبیﷺ نے فرمایا یہ مت کہ۔ اور پہلے جو کہ رہی تھی وہی کہ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،.ح:وَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ ـ رضى الله عنه ـ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ ". يُرِيدُ التَّمَاثِيلَ الَّتِي فِيهَا الأَرْوَاحُ
Narrated By Ibn Abbas : Abu Talha, a companion of Allah's Apostle and one of those who fought at Badr together with Allah's Apostle told me that Allah's Apostle said. "Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture" He meant the images of creatures that have souls.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی انہوں نے معمر بن راشد سے انہوں نے زہری سے۔
دوسری سند اور امام بخاری نے کہا ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے انہوں نے سلیمان بن بلالؓ سے انہوں نے محمّد بن ابی عتیق سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے کہ ابن عباسؓ نے کہا مجھ کو ابو طلحہ نے خبر دی جو رسول اللہﷺ کے صحابی اور بدر کے جنگ میں شریک تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا(رحمت کے) فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس گھر میں کتا ہو یا مورتیں ہو ں(ابن عباسؓ نے کہا) جانداروں کی مورتیں مراد ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ،. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ،ح: عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ـ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَاعَدْتُ رَجُلاً صَوَّاغًا فِي بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ فَنَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَىَّ مِنَ الأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ، وَشَارِفَاىَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، حَتَّى جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا أَنَا بِشَارِفَىَّ قَدْ أُجِبَّتْ أَسْنِمَتُهَا، وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَىَّ حِينَ رَأَيْتُ الْمَنْظَرَ، قُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالُوا فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهْوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ، فِي شَرْبٍ مِنَ الأَنْصَارِ، عِنْدَهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابُهُ فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا أَلاَ يَا حَمْزَ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ، فَوَثَبَ حَمْزَةُ إِلَى السَّيْفِ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قَالَ عَلِيٌّ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الَّذِي لَقِيتُ فَقَالَ " مَا لَكَ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَىَّ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ، فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ، فَارْتَدَى ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي، وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَأُذِنَ لَهُ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ ثَمِلٌ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ، فَنَظَرَ إِلَى رُكْبَتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ وَهَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لأَبِي فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ثَمِلٌ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى، فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ
Narrated By 'Ali : I had a she-camel which I got in my share from the booty of the battle of Badr, and the Prophet had given me another she camel from the Khumus which Allah had bestowed on him that day. And when I intended to celebrate my marriage to Fatima, the daughter of the Prophet, I made an arrangement with a goldsmith from Bani Qainuqa 'that he should go with me to bring Idhkhir (i.e. a kind of grass used by gold-smiths) which I intended to sell to gold-smiths in order to spend its price on the marriage banquet. While I was collecting ropes and sacks of pack saddles for my two she-camels which were kneeling down beside an Ansari's dwelling and after collecting what I needed, I suddenly found that the humps of the two she-camels had been cut off and their flanks had been cut open and portions of their livers had been taken out. On seeing that, I could not help weeping. I asked, "Who has done that?" They (i.e. the people) said, "Hamza bin 'Abdul Muttalib has done it. He is present in this house with some Ansari drinkers, a girl singer, and his friends. The singer said in her song, "O Hamza, get at the fat she-camels!" On hearing this, Hamza rushed to his sword and cut of the camels' humps and cut their flanks open and took out portions from their livers." Then I came to the Prophet, with whom Zaid bin Haritha was present. The Prophet noticed my state and asked, "What is the matter?" I said, "O Allah's Apostle, I have never experienced such a day as today! Hamza attacked my two she-camels, cut off their humps and cut their flanks open, and he is still present in a house along some drinkers." The Prophet asked for his cloak, put it on, and proceeded, followed by Zaid bin Haritha and myself, till he reached the house where Hamza was. He asked the permission to enter, and he was permitted. The Prophet started blaming Hamza for what he had done. Hamza was drunk and his eyes were red. He looked at the Prophet then raised his eyes to look at his knees and raised his eves more to look at his face and then said, "You are not but my father's slaves." When the Prophet understood that Hamza was drunk, he retreated, walking backwards went out and we left with him.
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو یونس بن یزیدایلی نے ۔
دوسری سند امام بخاری نے کہا ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے کہا ہم سے یونس نے انہوں نے زہری سے کہا ہم کو امام زین العابدین علی بن حسین نے خبر دی ان کو ان کے والد امام حسین نے انہوں نے اپنے والد حضرت علی مرتضٰیٰؓ انہوں نے کہا بدر کی لوٹ میں سے ایک اونٹنی میرے حصے میں آئی اور نبیﷺ جو پانچواں حصّہ اس دن اللہ نے عطا کیا تھا اس میں سے ایک اونٹنی آپﷺ نے مجھ کو دی ( ایسی دو اونٹنیاں ہاتھ آئیں)جب میں نے حضرت فاطمہؓ نبیﷺ کی صاحبزادی سے صحبت کرنا چاہی تو میں نے ایک سنار(نام نامعلوم) سے وعدہ لیا جو بنی قینقاع کے یہود میں سے تھا کہ میرے ساتھ چلے اور دونوں مل کر اونٹنیوں پر لاد کر اذخر گھاس لائے (وہ سناروں کے کام آتی ہے) میرا مطلب تھا یہ گھانس بیچ کر میں اپنے نکاح کا ولیمہ کروں خیر میں اسی خیال میں اپنی اونٹنیوں کے لیے پالان رسیاں فراہم کر رہا تھا اور اونٹنیاں ایک نصاری مرد (نام نامعلوم) کے گھر کے بازو بیٹھی تھیں جب سامان اکٹھا کر کے میں اونٹنیوں کے پاس گیا دیکھتا کیا ہوں کسی نے ان کےکوہان کاٹ لیے ہیں اور ان کی کوکھیں چیر کر کلیجی نکال لی ہے یہ سماں دیکھ کر میں بے اختیار رو دیا اور میں نے لوگوں سے پوچھا (بھائی) یہ کس کا کام ہے انہوں نے کہا حمزہ بن عبدالمطلب کا اور کس کا اور وہ اس گھر میں کئی انصاریوں کے ساتھ(شراب پی رہے ہیں) ایک گانے والی لونڈی بھی ہے( نام نامعلوم) ان کے یار دوست بھی ہے ہوا یہ کہ گانے والی نے یوں گایا اٹھو حمزہ کاٹو یہ بلند اونٹنیاں؛ یہ سنتے ہی حمزہ تلوار لے کر لپکے اور( بیڈ ہڑک) ان اونٹنیوں کے کوہان کاٹ لئے اور کوکھیں پھاڑ کر ان کی کلیجیاں نکال لی حضرت علیؓ کہتے ہیں میں وہاں سے چلا اور نبیﷺ کے پاس آیا آپﷺ کے پاس زید بن حارثہ بیٹھے تھے نبیﷺ نے میرا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا (کہ میں سخت رنجیدہ ہوں) پوچھا کیوں خیریت تو ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ آج کی سی مصیبت میں نے کبھی نہیں دیکھی حمزہ نے میری اونٹنیوں پر ستم کیا ان کے کوہان کاٹ ڈالے کوکھیں پھاڑ ڈالی۔ اور وہ اس گھر میں بیٹھے شرابیوں کے ساتھ شراب پی رہے ہیں نبیﷺ نے اپنی چادر منگوائی چادر اوڑھ کر آپﷺ پیدل چلے میں اور زید بن حارثہ دونوں آپﷺ کے پیچھے چلے آپﷺ اس گھر پہنچے جس میں حمزہ تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگی اجازت دی گئی آپﷺ نے حمزہ کو ملامت کرنی شروع کی تم نے یہ کیا کیا۔دیکھا تو حمزہ نشے میں ہیں ان کی آنکھیں سرخ۔ حمزہ نے نبیﷺ پر نظر ڈالی پھر اونچی کی اور گھٹنوں تک آپﷺ کو دیکھا پھر اور اونچی کی آپﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا پھر کہنے لگے تم لوگ تو میرے باپ(عبدالمطلب) کے غلام معلوم ہوتے ہو اس وقت آپﷺ نے پہچان لیا کہ حمزہ بالکل نشہ میں( مست) ہے اور آپﷺ الٹے پاؤں وہاں سے لوٹے اور گھر کے باہر نکلے ہم لوگ بھی آپﷺ کے ساتھ نکلے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ أَنْفَذَهُ لَنَا ابْنُ الأَصْبَهَانِيِّ سَمِعَهُ مِنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ كَبَّرَ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فَقَالَ إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا
Narrated By Ibn Maqal : 'Ali led the funeral prayer of Sahl bin Hunaif and said, "He was one of the warriors of Badr."
مجھ سے محمّد بن عباد نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے کہا عبدالرحمٰن بن عبداللہ اصفہانی نے یہ حدیث مجھ کو لکھ کر بھیج دی انہوں نے عبداللہ بن معقل سے سنا کہ حضرت علیؓ نے سہل بن حنیف (انصاری کے جنازے) پر تکبیریں کہیں اور کہا کہ وہ جنگ بدر میں شریک تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ شَهِدَ بَدْرًا تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ. قَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي. فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، فَقَالَ قَدْ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا. قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ. فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا، فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَىَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلاَّ أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ ذَكَرَهَا، فَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Umar bin Al-Khattab said, "When (my daughter) Hafsa bint 'Umar lost her husband Khunais bin Hudhaifa As-Sahrni who was one of the companions of Allah's Apostle and had fought in the battle of Badr and had died in Medina, I met 'Uthman bin 'Affan and suggested that he should marry Hafsa saying, "If you wish, I will marry Hafsa bint 'Umar to you,' on that, he said, 'I will think it over.' I waited for a few days and then he said to me. 'I am of the opinion that I shall not marry at present.' Then I met Abu Bakr and said, 'if you wish, I will marry you, Hafsa bint 'Umar.' He kept quiet and did not give me any reply and I became more angry with him than I was with Uthman. Some days later, Allah's Apostle demanded her hand in marriage and I married her to him. Later on Abu Bakr met me and said, "Perhaps you were angry with me when you offered me Hafsa for marriage and I gave no reply to you?' I said, 'Yes.' Abu Bakr said, 'Nothing prevented me from accepting your offer except that I learnt that Allah's Apostle had referred to the issue of Hafsa and I did not want to disclose the secret of Allah's Apostle , but had he (i.e. the Prophet) given her up I would surely have accepted her."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انھوں نے زیری سے انہوں نے کہا مجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمرؓ سے سنا انہوں نے کہا جب ام المومنین حفصہؓ بیوہ ہوگئیں ان کے خاوند خنیس بن حذافہ سہمی جو رسول اللہﷺ کے صحابی اور جنگ بدر میں شریک تھے مدینہ میں گزر گئے تو حضرت عمرؓ نے کہا میں حضرت عثمانؓ سے ملا ان کے سامنے حفصہ کا ذکر کیا کہ وہ بیوہ ہیں اگر تم کہو تو میں نکاح تم سے کر دوں انھوں نے کہا اچھا میں سوچ کر کہوں گا میں کئی راتوں تک ٹھہرا رہا پھر ان سے ملا تو کہنے لگے ابھی میں یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ ان دنوں (دوسرا) نکاح نہ کروں پھر میں ابو بکرؓ سے ملا ان سے کہا اگر تم چاہو تو میں حفصہؓ کو تمہارے نکاح میں دے دوں یہ سن کر ابو بکرؓچپ ہو رہے ہست نیست کچھ جواب نہ دیا۔مجھ کو ابوبکرؓ کے اس چپ رہنے سے اس سے زیادہ رنج ہوا جتنا حضرت عثمانؓ سے ہوا تھا میں اور کئی راتیں ٹھہرا رہا اتنے میں رسول اللہﷺنے حفصہؓ کو پیغام بھیجا میں نے (جھٹ) ان کا نکاح آپﷺ سے کر دیا اس کے بعد ابوبکرؓ مجھ سے ملے کہنے لگے شاید تم کو رنج ہوا ہوگا جب تم نے حفصہؓ کا ذکر مجھ سے کیا تھا اور میں نے کچھ جواب نہیں دیا تھا میں نے کہا بے شک مجھ کو رنج تو ہوا تھا انھوں نے کہا بات یہ ہے کہ میں نے تم کو جواب نہ دیا وہ اس وجہ سے کہ رسول اللہﷺ نے(مجھ سے) حفٖصہؓ کا ذکر کیا تھا (مجھ سے مشورہ لیا تھا کیا میں اس سے نکاح کر لوں) اور میں رسول اللہﷺ کا راز فاش نہیں کر سکتا تھا اگر رسول اللہﷺ حفصہؓ سے نکاح کرنے کا ارادہ چھوڑ دیتے تو بیشک میں ان سے نکاح کر لیتا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ الْبَدْرِيَّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ "
Narrated By Abu Masud Al-Badri : The Prophet said, "A man's spending on his family is a deed of charity."
ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عدی بن ابان سےانہوں نے( اپنے نانا)عبداللہ بن یزید انصاری سے انہوں نے سنا ابو مسعودؓ (عقبہ بن عمرو انصاری) سے (جو بدری تھے)انہوں نے نبیﷺ سے آپﷺ نے فرمایا آدمی جو کچھ اپنے والوں پر خرچ کرےاس میں بھی صدقے کا ثواب ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ أَخَّرَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ الْعَصْرَ وَهْوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ، فَدَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الأَنْصَارِيُّ جَدُّ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ شَهِدَ بَدْرًا فَقَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمْسَ صَلَوَاتٍ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا أُمِرْتَ. كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ
Narrated By Az-Zuhri : I heard 'Urwa bin Az-Zubair talking to 'Umar bin 'Abdul 'Aziz during the latter's Governorship (at Medina), he said, "Al-Mughira bin Shu'ba delayed the 'Asr prayer when he was the ruler of Al-Kufa. On that, Abu Mas'ud. 'Uqba bin 'Amr Al-Ansari, the grand-father of Zaid bin Hasan, who was one of the Badr warriors, came in and said, (to Al-Mughira), 'You know that Gabriel came down and offered the prayer and Allah's Apostle prayed five prescribed prayers, and Gabriel said (to the Prophet), "I have been ordered to do so (i.e. offer these five prayers at these fixed stated hours of the day)."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی۔انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا میں نے عروہ بن زبیر سے سناوہ عمر بن عبدالعزیز کی حکومت کے زمانے کا حال بیان کرتے تھے تو کہنے لگے ایک روز مغیرہ بن شعبہ نے(جو معاویہ کے طرف سے کوفہ کے حاکم تھے)عصر کی نماز میں دیر کی تو ابو مسعود عقبہ بن عمر و انصاری جو زید بن حسن بن علیؑ کے نانا تھے اور بدر کی جنگ میں شریک ہوچکے تھے مغیرہ سے کہنے لگے تم تو جانتے ہو کہ حضرت جبریلؑ (معراج کی صبح کو) اترے انھوں نے نماز پڑھائی رسول اللہﷺ نے پانچوں نمازیں انکے پیچھے پڑھیں پھر جبریلؑ کہنے لگے تم کو(معراج کی رات میں)اسی طرح (انہی وقتوں میں) نماز پڑھنے کا حکم ہوا تھا عروہ نے کہا بشیر بن ابو مسعودؓاپنے والد سے یہ حدیث اسی طرح نقل کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ". قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهْوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِيهِ
Narrated By Abu Masud Al-Badri : Allah's Apostle said, "It is sufficient for one to recite the last two Verses of Surat-al-Baqara at night."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے (اپنے چچا) علقمہ بن قیس سے انہوں نے ابو مسعود بدریؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا سورت بقرہ کی اخیر کی دو آئتیں(آمَنَ الرَّسُولُ سے اخیر سورت تک) جو کوئی رات کو پڑھ لے وہ اس کو بس کرتی ہے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہا میں خود ابو مسعود سے ملا وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے میں نے یہ حدیث ان سے پوچھی۔انھوں نے (اسی طرح) بیان کی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Mahmud bin Ar-Rabi : That 'Itban bin Malik who was one of the companions of the Prophet and one of the warriors of Badr, came to Allah's Apostle.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے کہا مجھ کو محمود بن ربیع نے خبر دی کہ عتبان بن مالک نبیﷺ کے ان صحابہ میں تھے جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے وہ آپﷺ کے پاس آئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ـ هُوَ ابْنُ صَالِحٍ ـ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ ـ وَهْوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهْوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ ـ عَنْ حَدِيثِ، مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، فَصَدَّقَةُ
Narrated By Ibn Shihab : I asked Al-Husain bin Muhammad who was one of the sons of Salim and one of the nobles amongst them, about the narration of Mahmud bin Ar-Rabi 'from 'Itban bin Malik, and he confirmed it.
ہم سے احمد نے بیان کیا جو صالح کے بیٹے تھے کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے کہا ہم سے یونس بن یزید نے کہ ابن شہاب نے کہا میں نے حصین بن محمد انصاری سے جو بنی سالم کے شریف لوگوں میں تھے اس حدیث کو پوچھا جو محمود نے عتبان سے روایت کی انہوں نے کہا محمود سچ کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ، مِنْ أَكْبَرِ بَنِي عَدِيٍّ وَكَانَ أَبُوهُ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ قُدَامَةَ بْنَ مَظْعُونٍ عَلَى الْبَحْرَيْنِ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ خَالُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَحَفْصَةَ رضى الله عنهم
Narrated By 'Abdullah bin 'Amr bin Rabi'a : Who was one of the leaders of Bani 'Adi and his father participated in the battle of Badr in the company of the Prophet. 'Umar appointed Qudama bin Maz'un as ruler of Bahrain, Qudama was one of the warriors of the battle of Badr and was the maternal uncle of Abdullah bin 'Umar and Hafsa.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ کو عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے خبر دی اور وہ بنی عدی کے سب لوگوں میں بڑے تھے (جن سے زہری نے ملاقات کی) اور ان کے والد عامر بن ربیعہ بدر کی جنگ میں نبیﷺ کے ساتھ شریک تھے۔انہوں نے کہا حضرت عمرؓ نے قدامہ بن مظعون کو بحرین کا حاکم بنایااور قدامہ بھی بدر کی لڑائی میں شریک تھے یہ قدامہ عبداللہ بن عمرؓ اور ام المومنین حفصہؓ کے ماموں تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ عَمَّيْهِ، وَكَانَا، شَهِدَا بَدْرًا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ. قُلْتُ لِسَالِمٍ فَتُكْرِيهَا أَنْتَ قَالَ نَعَمْ، إِنَّ رَافِعًا أَكْثَرَ عَلَى نَفْسِهِ
Narrated By Az-Zuhri : Salim bin 'Abdullah told me that Rafi' bin Khadij told 'Abdullah bin 'Umar that his two paternal uncles who had fought in the battle of Badr informed him that Allah's Apostle forbade the renting of fields. I said to Salim, "Do you rent your land?" He said, "Yes, for Rafi' is mistaken."
ہم سے عبداللہ بن محمدبن اسماء نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے انہوں نے امام مالکؓ سے انہوں نے زہری سے ان سے سالم بن عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ رافع بن خدیج نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہا ان کے دونوں چچاؤں(ظہیر اور مظہر رافع بن عدی بن زید انصاری کے بیٹوں) نے ان سے بیان کیا جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے کہ رسول اللہﷺ نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کیا زہری نے کہا میں نے سالم سے کہا تو کرایہ پر دیا کرتے ہو انہوں نے کہا یاں رافع نے اپنے اوپر زیادتی کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ عَمَّيْهِ، وَكَانَا، شَهِدَا بَدْرًا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ. قُلْتُ لِسَالِمٍ فَتُكْرِيهَا أَنْتَ قَالَ نَعَمْ، إِنَّ رَافِعًا أَكْثَرَ عَلَى نَفْسِهِ
Narrated By Az-Zuhri : Salim bin 'Abdullah told me that Rafi' bin Khadij told 'Abdullah bin 'Umar that his two paternal uncles who had fought in the battle of Badr informed him that Allah's Apostle forbade the renting of fields. I said to Salim, "Do you rent your land?" He said, "Yes, for Rafi' is mistaken."
ہم سے عبداللہ بن محمدبن اسماء نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے انہوں نے امام مالکؓ سے انہوں نے زہری سے ان سے سالم بن عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ رافع بن خدیج نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہا ان کے دونوں چچاؤں(ظہیر اور مظہر رافع بن عدی بن زید انصاری کے بیٹوں) نے ان سے بیان کیا جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے کہ رسول اللہﷺ نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کیا زہری نے کہا میں نے سالم سے کہا تو کرایہ پر دیا کرتے ہو انہوں نے کہا یاں رافع نے اپنے اوپر زیادتی کی۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيَّ، قَالَ رَأَيْتُ رِفَاعَةَ بْنَ رَافِعٍ الأَنْصَارِيَّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا
Narrated By 'Abdullah bin Shaddad bin Al-Had Al-Laithi : I saw Rifa'a bin Rafi Al-Ansari who was a Badr warrior.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے حصین بن عبد الرحمٰن سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن شداد بن ہاد لیثی سے سنا انہوں نے کہا میں نے رفاعہ بن رافع انصاری کو دیکھا وہ بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهْوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمِ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتِ الأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَوَافَوْا صَلاَةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَعَرَّضُوا لَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَآهُمْ ثُمَّ قَالَ " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَىْءٍ ". قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ "
Narrated By Al-Miswar bin Makhrama : That 'Amr bin Auf, who was an ally of Bani 'Amir bin Luai and one of those who fought at Badr in the company of the Prophet , said, "Allah's Apostle sent Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah to Bahrain to bring the Jizya taxation from its people, for Allah's Apostle had made a peace treaty with the people of Bahrain and appointed Al-'Ala' bin Al-Hadrami as their ruler. So, Abu 'Ubaida arrived with the money from Bahrain. When the Ansar heard of the arrival of Abu 'Ubaida (on the next day) they offered the morning prayer with the Prophet and when the morning prayer had finished, they presented themselves before him. On seeing the Ansar, Allah's Apostle smiled and said, "I think you have heard that Abu 'Ubaida has brought something?" They replied, "Indeed, it is so, O Allah's Apostle!" He said, "Be happy, and hope for what will please you. By Allah, I am not afraid that you will be poor, but I fear that worldly wealth will be bestowed upon you as it was bestowed upon those who lived before you. So you will compete amongst yourselves for it, as they competed for it and it will destroy you as it did them."
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک مروزی نے خبر دی کہا ہم کو معمر اور یونس نے دونوں نے زہری سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے ان سے مسعود بن مخرمہؓ صحابی نے بیان کیا کہ عمرو بن عوف انصاری نے جو بنی عامر بن لوئی کے حلیف اور بدر کے جنگ میں نبیﷺ کے ساتھ شریک تھے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین جزیہ (ٹیکس) لانے کے لیے بھیجا آپﷺ نے بحرین والوں سے صلح کر کے علاء بن حضرمی کو وہاں کا حاکم مقرر کیا تھا خیر ابو عبیدہ بحرین سے روپیہ لے کر آئے (ایک لاکھ درہم) انصار نے جب یہ خبر سنی تو صبح کی نماز میں سب رسول اللہﷺ کے پاس آن موجود ہوئے جب آپﷺ نے سلام پھیرا تو انصار کے لوگ سامنے آئے۔رسول اللہﷺ ان کو دیکھ کر مسکرائے پھر فرمایا میں سمجھتا ہوں تم ابوعبیدہ کی روپیہ لانے کی خبر سن کر آئے ہو انھوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہﷺ (سچی بات تو یہی ہے) آپﷺ نے فرمایا تم خوش ہو جاؤ اور خوشی کی امید رکھو خدا کی قسم مجھ کو یہ ڈر نہیں ہے کہ تم محتاج ہو جاؤ گے مجھ کو یہ ڈر ہے کہیں تم کو اگلی امتوں کی طرح دنیا کی فراغت ہو جائے پھر تم ایک دوسرے سے رشک کرنے لگو اور دنیا تم کو بھی اسی طرح تباہ کر دے جیسے اگلی امتوں کو اس نے تباہ کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهَا
Narrated By Nafi : Ibn 'Umar used to kill all kinds of snakes
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا کہا ہم سے جریر بن حازم نے انہوں نے نافع سے کہ عبداللہ بن عمرؓ ہر سانپ کو مار ڈالتے
حَتَّى حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ الْبَدْرِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ، فَأَمْسَكَ عَنْهَا
until Abu Lubaba Al-Badri told him that the Prophet had forbidden the killing of harmless snakes living in houses and called Jinan. So Ibn 'Umar gave up killing them.
یہاں تک کہ ابوالبابہ(بشیر بن عبدالمنذر) صحابی بدری نے ان سے یہ حدیث بیان کی کہ نبیﷺ نے گھروں کے سپیریا پتلے پتلے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا اس وقت عبداللہ بن عمرؓ نے ان کا مارنا چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رِجَالاً، مِنَ الأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا ائْذَنْ لَنَا فَلْنَتْرُكْ لاِبْنِ أُخْتِنَا عَبَّاسٍ فِدَاءَهُ. قَالَ " وَاللَّهِ لاَ تَذَرُونَ مِنْهُ دِرْهَمًا "
Narrated By Anas bin Malik : Some men of the Ansar requested Allah's Apostle to allow them to see him, they said, "Allow us to forgive the ransom of our sister's son, 'Abbas." The Prophet said, "By Allah, you will not leave a single Dirham of it!"
مجھ سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن فلیح نے انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے کہ ابن شہاب نے کہا ہم سے انسؓ بن مالک نے بیان کیا انصار کے کئی لوگوں نے(ان کے نام معلوم نہیں ہوئے) رسول اللہﷺ سے یہ عرض کیا ہم کو اجازت دیجئے ہم اپنے بھانجے حضرت عباسؓ کو ان کا فدیہ معاف کردیں ۔آپﷺ نے فرمایا نہیں خدا کی قسم ایک روپیہ بھی نہ چھوڑنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ أَنَّ عُبَيْدَ، اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلاً مِنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَىَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لاَذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ. آأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقْتُلْهُ ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدَىَّ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ "
Narrated By 'Ubaidullah bin 'Adi bin Al-Khiyar : That Al-Miqdad bin 'Amr Al-Kindi, who was an ally of Bani Zuhra and one of those who fought the battle of Badr together with Allah's Apostle told him that he said to Allah's Apostle, "Suppose I met one of the infidels and we fought, and he struck one of my hands with his sword and cut it off and then took refuge in a tree and said, "I surrender to Allah (i.e. I have become a Muslim),' could I kill him, O Allah's Apostle, after he had said this?" Allah's Apostle said, "You should not kill him." Al-Miqdad said, "O Allah's Apostle! But he had cut off one of my two hands, and then he had uttered those words?" Allah's Apostle replied, "You should not kill him, for if you kill him, he would be in your position where you had been before killing him, and you would be in his position where he had been before uttering those words."
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے زہری سے انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے انہوں نے عبیداللہ بن عدی سے انہوں نے مقداد بن اسود سے دوسری سند امام بخاری نے کہا اور مجھ سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے کہا ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ) نے انہوں نے اپنے چچا (ابن شہاب)سے کہا مجھ کو عطاء بن یزید لیثی نے خبردی انکو عبید اللہ بن عدی بن خیار نے خبردی ان سے مقداد بن عمرو کندی نے جو بنی زہرہ کے حلیف اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہﷺ کے ساتھ شریک تھے بیان کیا انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ بتلائیے اگر میں (جنگ میں) ایک کافر سے مقابلہ کروں دونوں لڑیں پھر وہ کافر تلوار سے میرا یاتھ کاٹ ڈالے اس کے بعد ایک درخت کی پناہ لے کر مجھ سے کہے میں تو خدا کا تابعدار بن گیا (یعنے مسلمان ہو گیا) اب میں اس کو قتل کروں جب وہ ایسا کہتا ہے (اسلام کا کلمہ پڑھتا ہے) آپﷺ نے فرمایا نہیں اس کو قتل نہ کر مقدادنے عرض کیا یا رسول اللہﷺ اس نے تو میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا اور ہاتھ کاٹ کر ایسا کہنے لگا آپﷺ نے فرمایا(کچھ بھی ہو) اس کو قتل نہ کرو ورنہ اس کو وہ درجہ حاصل ہوگا جو تجھ کو اس کے قتل سے پہلے حاصل تھا اور تیرا وہ حال ہو جائے گا جو اسلام کا کلمہ پڑھنے سے پہلے اس کا حال تھا۔
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ " مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ". فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ، فَقَالَ آنْتَ أَبَا جَهْلٍ قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ سُلَيْمَانُ هَكَذَا قَالَهَا أَنَسٌ. قَالَ أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ قَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ قَالَ سُلَيْمَانُ أَوْ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ. قَالَ وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي
Narrated By Anas : Allah's Apostle said on the day of Badr, "Who will go and see what has happened to Abu Jahl?" Ibn Mas'ud went and saw him struck by the two sons of 'Afra and was on the point of death. Ibn Mas'ud said, "Are you Abu Jahl?" Abu Jahl replied, "Can there be a man more superior to the one whom you have killed (or as Sulaiman said, or his own folk have killed.)?" Abu Jahl added, "Would that I had been killed by other than a mere farmer."
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن علیہ نے کہا ہم سے سلیمان بن طرخان تیمی نے کہا ہم سے انسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے بدر کے دن فرمایا ابوجہل کو کون جا کر دیکھتا ہے اس کا کیا حال ہوا یہ سن کر عبداللہ بن مسعودؓ گئے دیکھا تو عفراء کے بیٹوں (معاذ اور معوذ) نے اس کو اتنا مارا ہے کہ وہ ٹھنڈا ہو گیاہے ابن مسعودؓ نے کہا کیا تو ہی ابوجہل ہے ابن علیہ نے کہا سلیمان نے کہا انس نے یوں ہی نقل کیا تو ہی ابوجہل ہے اس نے (مرتے مرتے) کیا جواب دیا مجھ سے بھی بڑھ کر کوئی ہے جس کو تم لوگوں نے مارا ہو سلیمان نے کہا یا یوں جواب دیا جس کو اس کی قوم نے ماراہو ابو مجلز(لاحق بن حمید) نے کہا ابوجہل مرتے وقت ابن مسعودؓ سے کہنے لگا کاش مجھ کو کنبے کے سوا اور کسی نے مارا ہوتا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ لأَبِي بَكْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الأَنْصَارِ. فَلَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلاَنِ صَالِحَانِ شَهِدَا بَدْرًا. فَحَدَّثْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ هُمَا عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ، وَمَعْنُ بْنُ عَدِيٍّ
Narrated By Ibn Abbas : 'Umar said, "When the Prophet died I said to Abu Bakr, 'Let us go to our Ansari brethren.' We met two pious men from them, who had fought in the battle of Badr." When I mentioned this to Urwa bin Az-Zubair, he said, "Those two pious men were 'Uwaim bin Sa'ida and Manbin Adi."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے کہا ہم سے معمر نے انہوں نے زہری سے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے کہا مجھ سے ابن عباؓس نے انہوں نے حضرت عمرؓ سے انہوں نے کہا جب نبیﷺ کی وفات ہوئی تو میں نے ابوبکرؓ سے کہا چلو اپنے بھائی انصاریوں کے پاس چلیں(وہ کیا کر رہے ہیں)پھر ہم کو(رستے میں)ان میں سے دو انصاری نیک بخت آدمی ملے دونوں بدر کی لڑائی میں شریک ہوچکے تھے عبیداللہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث عروہ بن زبیرؓ سے بیان کی تو انہوں نے کہا وہ آدمی عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، كَانَ عَطَاءُ الْبَدْرِيِّينَ خَمْسَةَ آلاَفٍ خَمْسَةَ آلاَفٍ. وَقَالَ عُمَرُ لأُفَضِّلَنَّهُمْ عَلَى مَنْ بَعْدَهُمْ
Narrated By Qais : The Badr warriors were given five thousand (Dirhams) each, yearly. 'Umar said, "I will surely give them more than what I will give to others."
ہم سے اسحٰق بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے محمّد بن فضیل سے سنا انہوں نے اسمٰعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن حازم سے انہوں نے کہا بدری صحابہؓ کا سالانہ پانچ پانچ ہزار ٹھہرا حضرت عمرؓ نے کہا میں بدری صحابہؓ کو دوسرے صحابہ سے زیادہ دوں گا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ، وَذَلِكَ أَوَّلَ مَا وَقَرَ الإِيمَانُ فِي قَلْبِي
Narrated By Jubair bin Mut'im : I heard the Prophet reciting Surat-at-Tur in Maghrib prayer, and that was at a time when belief was first planted in my heart.
مجھ سے اسحٰق بن منصور مروزی نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے محمّد بن جبیر بن مطعم سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا میں نبیﷺ کو مغرب کی نماز میں سورت والطور پڑھتے سنا اور یہ پہلا وقت تھا جب ایمان نے میرے دل میں جگہ لی تھی
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ " لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلاَءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ "وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الأُولَى ـ يَعْنِي مَقْتَلَ عُثْمَانَ ـ فَلَمْ تُبْقِ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَحَدًا، ثُمَّ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الثَّانِيَةُ ـ يَعْنِي الْحَرَّةَ ـ فَلَمْ تُبْقِ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ أَحَدًا ثُمَّ وَقَعَتِ الثَّالِثَةُ فَلَمْ تَرْتَفِعْ وَلِلنَّاسِ طَبَاخٌ
Narrated By Jubair bin Mut'im :The Prophet while speaking about the war prisoners of Badr, said, "Were Al-Mutim bin Adi alive and interceded with me for these filthy people, I would definitely forgive them for his sake."
Narrated Said bin Al-Musaiyab: When the first civil strife (in Islam) took place because of the murder of 'Uthman, it left none of the Badr warriors alive. When the second civil strife, that is the battle of Al-Harra, took place, it left none of the Hudaibiya treaty companions alive. Then the third civil strife took place and it did not subside till it had exhausted all the strength of the people.
اور اسی سند سے زہری سے روایت ہے انہوں نے محمّد بن جبیر بن مطعم سے انہوں نے اپنے والد سے کہ نبیﷺ نے بدر کے قیدیوں کے لیے یہ فرمایا اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور ان پلید لوگوں کی سفارش کرتا تو میں اس کے کہنے سے ان کو چھوڑ دیتا اور لیث نے یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت کی انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے کہا پہلا فساد( اسلام میں جو ہوا یعنے حضرت عثمانؓ شہید کئے گئے) اس میں بدر والوں میں سے کوئی باقی نہ رہا پھر دوسرا فساد حرہ کا ہوا (جس میں یزید پلید نے مدینے والوں کو قتل کیا) اس فساد میں ان صحابیوں میں سے جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے کوئی باقی نہ رہا پھر ایک تیسرا فساد ہوا وہ اس وقت تک نہیں گیا جب تک لوگوں میں کچھ بھی خوبی یا عقل باقی تھی۔
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كُلٌّ ـ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ـ قَالَتْ فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ. فَقُلْتُ بِئْسَ مَا قُلْتِ، تَسُبِّينَ رَجُلاً شَهِدَ بَدْرًا فَذَكَرَ حَدِيثَ الإِفْكِ
Narrated By Yunus bin Yazid : I heard Az-Zuhri saying, "I heard 'Urwa bin Az-Zubair. Said bin Al-Musaiyab, 'Alqama bin Waqqas and 'Ubaidullah bin 'Abdullah each narrating part of the narrative concerning 'Aisha the wife of the Prophet. 'Aisha said: When I and Um Mistah were returning, Um Mistah stumbled by treading on the end of her robe, and on that she said, 'May Mistah be ruined.' I said, 'You have said a bad thing, you curse a man who took part in the battle of Badr!." Az-Zuhri then narrated the narration of the Lie (forged against 'Aisha).
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے کہا ہم سے یونس بن یزید نے کہا میں نے زہری سے سنا وہ کہتے تھے میں نے عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب اور علقمہ بن وقاص لیثی اور عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے سنا ان چاروں نے حضرت عائشہ پر جو تہمت ہوئی تھی اس حدیث کا ایک ایک ٹکڑا نقل کیا حضرت عائشہؓ کہتی تھیں میں اور مسطح کی ماں (سلمیٰ بنت ابی رہم) دونوں پاخانہ کے لئے چلیں اتنے میں مسطح کی ماں کا پاؤں چادر میں الجھا وہ گر پڑی اس نے (اپنے بیٹے) مسطح کوکو سا کہنے لگی ہوانگوڑا میں نے کہا ہائیں بری بات ارے اس کو برا کہتی ہے جو بدر کی لڑائی میں شریک تھا پھر سارا قصّہ تہمت کا بیان کیا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ هَذِهِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُلْقِيهِمْ " هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ". قَالَ مُوسَى قَالَ نَافِعٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُنَادِي نَاسًا أَمْوَاتًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا قُلْتُ مِنْهُمْ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فَجَمِيعُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ قُرَيْشٍ مِمَّنْ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ أَحَدٌ وَثَمَانُونَ رَجُلاً، وَكَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَ الزُّبَيْرُ قُسِمَتْ سُهْمَانُهُمْ فَكَانُوا مِائَةً، وَاللَّهُ أَعْلَمُ
Narrated By Ibn Shihab : These were the battles of Allah's Apostle (which he fought), and while mentioning (the Badr battle) he said, "While the corpses of the pagans were being thrown into the well, Allah's Apostle said (to them), 'Have you found what your Lord promised true?" 'Abdullah said, "Some of the Prophet's companions said, "O Allah's Apostle! You are addressing dead people.' Allah's Apostle replied, 'You do not hear what I am saying, better than they.' The total number of Muslim fighters from Quraish who fought in the battle of Badr and were given their share of the booty, were 81 men." Az-Zubair said, "When their shares were distributed, their number was 101 men. But Allah knows it better."
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا کہا ہم سے محمّد بن فلیح بن سلیمان نے بیان کیا انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے(آپﷺ کے جہادوں کا ذکر کیا پھر) کہا یہ رسول اللہﷺ کے جہاد ہیں پھر بدر والوں کا قصہ بیان کیا کہنے لگے رسول اللہﷺکافروں کی لاشیں کنویں میں ڈال رہے تھے اس وقت آپﷺ نے فرمایا اب کہو جی جو تمہارے پروردگار نے تم سے قطعی وعدہ کیا تھا (عذاب اور سزا کا) وہ تم نے پایا یا نہیں اور اسی سند نے موسیٰ بن عقبہ نے کہا نافع نے کہا عبداللہ بن عمرؓ نے کہا آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے (جن میں حضرت عمر بھی تھے)عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپ مردوں کو پکارتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا ان سے بڑھ کر تم بھی میری بات نہیں سنتے ۔بدر میں قریش کے جو لوگ شریک تھے جن کا حصّہ ( لوٹ کر مال میں) لگایا گیا وہ اکاسی۸۱ آدمی تھے اور عروہ بن زبیرؓ کہتے تھے زبیر نے کہا میں نے ان لوگوں کے حصّے تقسیم کئے وہ سو آدمی تھے اور اللہ خوب جانتا ہے۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ ضُرِبَتْ يَوْمَ بَدْرٍ لِلْمُهَاجِرِينَ بِمِائَةِ سَهْمٍ
Narrated By Az-Zubair : On the day of Badr, (Quraishi) Emigrants received 100 shares of the war booty."
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام نے خبر دی انہوں نے معمر سے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے زبیر بن عوام سے انہوں نے کہا بدر کے دن مہاجرین کے لئے سو حصّے لگائے گئے۔
13. باب تَسْمِيةُ مَنْ سُمِّيَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ فِي الْجَامِعِ الَّذِي وَضَعَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَلَى حُرُوفِ الْمُعْجَمِ
النَّبِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ صلى الله عليه وسلم، إِيَاسُ بْنُ الْبُكَيْرِ، بِلاَلُ بْنُ رَبَاحٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيِّ، حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيُّ، حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ حَلِيفٌ لِقُرَيْشٍ، أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ الْقُرَشِيُّ، حَارِثَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيُّ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ وَهْوَ حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ كَانَ فِي النَّظَّارَةِ، خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيُّ، خُنَيْسُ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ، رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ، رِفَاعَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَبُو لُبَابَةَ الأَنْصَارِيُّ، الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ الْقُرَشِيُّ، زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو طَلْحَةَ الأَنْصَارِيُّ ـ أَبُو زَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ ـ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ الزُّهْرِيُّ، سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ الْقُرَشِيُّ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ الْقُرَشِيُّ، سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيُّ، ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ وَأَخُوهُ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْقُرَشِيُّ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الْهُذَلِيُّ، عُتْبَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الْهُذَلِيُّ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ، عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيُّ، عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ الأَنْصَارِيُّ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْعَدَوِيُّ، عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْقُرَشِيُّ خَلَّفَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى ابْنَتِهِ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْهَاشِمِيُّ، عَمْرُو بْنُ عَوْفٍ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ، عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الأَنْصَارِيُّ، عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ الْعَنَزِيُّ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ، عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ الأَنْصَارِيُّ، عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ، قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ، قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيُّ، مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، مُعَوِّذُ ابْنُ عَفْرَاءَ وَأَخُوهُ، مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ أَبُو أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ، مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيُّ، مَعْنُ بْنُ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيُّ، مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، مِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو الْكِنْدِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ الأَنْصَارِيُّ ـ رضى الله عنهم
14. باب حَدِيثِ بَنِي النَّضِيرِ وَمَخْرَجِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمْ فِي دِيَةِ الرَّجُلَيْنِ، وَمَا أَرَادُوا مِنَ الْغَدْرِ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
قَالَ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ كَانَتْ عَلَى رَأْسِ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنْ وَقْعَةِ بَدْرٍ قَبْلَ أُحُدٍ. وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ لأَوَّلِ الْحَشْرِ} وَجَعَلَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ بَعْدَ بِئْرِ مَعُونَةَ وَأُحُدٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ حَارَبَتِ النَّضِيرُ وَقُرَيْظَةُ، فَأَجْلَى بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلاَدَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِ الْمَدِينَةِ
Narrated By Ibn Umar : Bani An-Nadir and Bani Quraiza fought (against the Prophet violating their peace treaty), so the Prophet exiled Bani An-Nadir and allowed Bani Quraiza to remain at their places (in Medina) taking nothing from them till they fought against the Prophet again). He then killed their men and distributed their women, children and property among the Muslims, but some of them came to the Prophet and he granted them safety, and they embraced Islam. He exiled all the Jews from Medina. They were the Jews of Bani Qainuqa', the tribe of 'Abdullah bin Salam and the Jews of Bani Haritha and all the other Jews of Medina.
ہم سے اسحٰق بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے کہ ابن جریج نے موسیٰ بن عقبہ سے روایت کی انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا بنی نذیر نے بنی قریضہ ( یہود کی قوموں) نے نبیﷺ سے لڑائی کی آپﷺ نے بنی نذیر کو جلا وطن کیا اور بنی قریضہ پر احسان رکھ کر ان کو رہنے دیا لیکن انھوں نے ( دوبار جنگ خندق میں ) آپﷺ سے لڑائی کی۔آپﷺ نے ان کے مردوں کو قتل کیا ان کی عورتیں بچّے مال اسباب مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے مگر بعضے بنی قریضہ بچ گئے جو نبیﷺ سے آن کر مل گئے تھے اور مسلمان ہوگئےتھے آپﷺ نے ان کو امن دیا اور مدینہ کے سب یہودیوں بنی قینقاع کو جو عبداللہ بن سلام کی قوم والے تھے اور بنی حارثہ کے یہودیوں کو جو جو اور یہودی مدینہ میں تھے سب کو آپ نے نکال دیا۔
حَدَّثَنا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ سُورَةُ الْحَشْرِ. قَالَ قُلْ سُورَةُ النَّضِيرِ. تَابَعَهُ هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ
Narrated By Said bin Jubair : I mentioned to Ibn 'Abbas Surat-Hashr. He said, "Call it Surat-an-Nadir."
مجھ سے حسن بن مدرک نے بیان کیا ہم سے یحییٰ بن حماد نے کہا ہم کو ابو عوانہ نے خبر دی انہوں نے ابو بشر (جعفر بن ابی وحشیہ) سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے کہا میں نے ابن عباسؓ کے سامنے یوں کہا سورت الحشر انہوں نے کہا یوں کہ سورۂ نضیر ۔ ابو عوانہ نے ساتھ اس حدیث کو ہشیم نے بھی ابو بشر سے روایت کیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّخَلاَتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ
Narrated By Anas bin Malik : Some people used to allot some date palm trees to the Prophet as gift till he conquered Banu Quraiza and Bani An-Nadir, where upon he started returning their date palms to them.
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر نے انھوں نے اپنے والد سلیمان سے انھوں نے کہا میں نے انسؓ سے سنا انھوں نے کہا نبیﷺ کو لوگ کھجور کے درخت(بطور تحفہ کے)گزرانتے (تاکہ آپﷺ ان کا میوہ کھاکر گزر کریں)یہاں تک آپﷺ نے بنی قریضہ اور بنی نضیر پر فتح حاصل کی۔پھر تو آپﷺ ان لوگوں کے دیئے ہوئے درخت ان کو پھیرنے لگے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهْىَ الْبُوَيْرَةُ فَنَزَلَتْ {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ}
Narrated By Ibn Umar : Allah's Apostle had the date-palm trees of Bani Al-Nadir burnt and cut down at a place called Al-Buwaira. Allah then revealed: "What you cut down of the date-palm trees (of the enemy) Or you left them standing on their stems. It was by Allah's Permission." (59.5)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ہم سے لیث بن سعد نے انھوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انھوں نے کہا رسول اللہﷺ نے بنی نضیر یہودیوں کے کھجور کے درخت جلوادیئے اور کٹوا ڈالے یعنی بویرہ کے اس وقت (سورت حشر کی) یہ آیت اتری تم نے جو کھجور کے درخت کاٹ ڈالے یا ان کو (ہاتھ تک نہ لگایا) اپنی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ قَالَ وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَىٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ قَالَ فَأَجَابَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ أَدَامَ اللَّهُ ذَلِكَ مِنْ صَنِيعٍ وَحَرَّقَ فِي نَوَاحِيهَا السَّعِيرُ سَتَعْلَمُ أَيُّنَا مِنْهَا بِنُزْهٍ وَتَعْلَمُ أَىَّ أَرْضَيْنَا تَضِيرُ
Narrated By Ibn Umar : The Prophet burnt the date-palm trees of Bani An-Nadir. Hassan bin Thabit said the following poetic Verses about this event: "the terrible burning of Al-Buwaira Has been received indifferently By the nobles of Bani Luai (The masters and nobles of Quraish)." Abu Sufyan bin Al-Harith (i.e. the Prophet's cousin who was still a disbeliever then) replied to Hassan, saying in poetic verses: "May Allah bless that burning And set all its (i.e. Medina's) Parts on burning fire. You will see who is far from it (i.e. Al-Buwaira) And which of our lands will be Harmed by it (i.e. the burning of Al-Buwaira)."
مجھ سے اسحٰق (بن منصور یا بن راہویہ)نے بیان کیا کہا ہم کو حبان بن ہلال نے خبر دی کہا ہم کو جویریہ بن اسماء نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے بنی نضیر کے کھجور کے درخت جلوادئیے اور حسان بن ثابت (نبیﷺ کے شاعر نے اسی باب میں یہ کہا ہے )
بنی لوئی کے شریفوں پر ہوگیا آسان
لگی ہو بویرہ آگ میں سب طرف پر ان
ابوسفیان بن حارث بن عبداللمطّلب جو نبیﷺ کے چچا زاد بھائی جو اس وقت ایمان نہیں لائے تھے حسان کا ان شعروں سے جواب دیا
خدا کرے کہ ہمیشہ رہے وہاں یہ حال
مدینہ کے چاروں طرف ہو آتش سوزاں
یہ جان لوگے تم اب عنقریب کون ہم میں
رہے گا بچا کس کا ملک اٹھائے گا نقصان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ دَعَاهُ إِذْ جَاءَهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ فَقَالَ نَعَمْ، فَأَدْخِلْهُمْ. فَلَبِثَ قَلِيلاً، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ هَلْ لَكَ فِي عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ يَسْتَأْذِنَانِ قَالَ نَعَمْ. فَلَمَّا دَخَلاَ قَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فِي الَّذِي أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَنِي النَّضِيرِ، فَاسْتَبَّ عَلِيٌّ وَعَبَّاسٌ، فَقَالَ الرَّهْطُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الآخَرِ. فَقَالَ عُمَرُ اتَّئِدُوا، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ. قَالُوا قَدْ قَالَ ذَلِكَ. فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ قَالَ ذَلِكَ قَالاَ نَعَمْ. قَالَ فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الأَمْرِ، إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْفَىْءِ بِشَىْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ فَقَالَ جَلَّ ذِكْرُهُ {وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ} إِلَى قَوْلِهِ {قَدِيرٌ} فَكَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ، وَلاَ اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَقَسَمَهَا فِيكُمْ، حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ مِنْهَا، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَعَمِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَيَاتَهُ، ثُمَّ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَقَبَضَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَعَمِلَ فِيهِ بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ. فَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ وَقَالَ تَذْكُرَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ عَمِلَ فِيهِ كَمَا تَقُولاَنِ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهِ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ. فَقَبَضْتُهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي أَعْمَلُ فِيهِ بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيهِ صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي كِلاَكُمَا وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ، فَجِئْتَنِي ـ يَعْنِي عَبَّاسًا ـ فَقُلْتُ لَكُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". فَلَمَّا بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قُلْتُ إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهُ إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلاَنِ فِيهِ بِمَا عَمِلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ، وَمَا عَمِلْتُ فِيهِ مُذْ وَلِيتُ، وَإِلاَّ فَلاَ تُكَلِّمَانِي، فَقُلْتُمَا ادْفَعْهُ إِلَيْنَا بِذَلِكَ. فَدَفَعْتُهُ إِلَيْكُمَا، أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ فَوَاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ لاَ أَقْضِي فِيهِ بِقَضَاءٍ غَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهُ، فَادْفَعَا إِلَىَّ فَأَنَا أَكْفِيكُمَاهُ
Narrated By Malik bin Aus Al-Hadathan An-Nasri : That once 'Umar bin Al-Khattab called him and while he was sitting with him, his gatekeeper, Yarfa came and said, "Will you admit 'Uthman, 'Abdur-Rahman bin Auf, AzZubair and Sad (bin Abi Waqqas) who are waiting for your permission?" 'Umar said, "Yes, let them come in." After a while, Yarfa- came again and said, "Will you admit 'Ali and 'Abbas who are asking your permission?" 'Umar said, "Yes." So, when the two entered, 'Abbas said, "O chief of the believers! Judge between me and this (i.e. 'Ali). "Both of them had a dispute regarding the property of Bani An-Nadir which Allah had given to His Apostle as Fai (i.e. booty gained without fighting), 'Ali and 'Abbas started reproaching each other. The (present) people (i.e. 'Uthman and his companions) said, "O chief of the believers! Give your verdict in their case and relieve each from) the other." 'Umar said, "Wait I beseech you, by Allah, by Whose Permission both the heaven and the earth stand fast! Do you know that Allah's Apostle said, 'We (Prophets) our properties are not to be inherited, and whatever we leave, is to be spent in charity,' and he said it about himself?" They (i.e. 'Uthman and his company) said, "He did say it. "'Umar then turned towards 'Ali and 'Abbas and said, "I beseech you both, by Allah! Do you know that Allah's Apostle said this?" They replied in the affirmative. He said, "Now I am talking to you about this matter. Allah the Glorified favoured His Apostle with something of this Fai (i.e. booty won without fighting) which He did not give to anybody else. Allah said:
"And what Allah gave to His Apostle ("Fai"" Booty) from them... for which you made no expedition with either calvary or camelry. But Allah gives power to His Apostles over whomsoever he will and Allah is able to do all things." (59.6)
So this property was especially granted to Allah's Apostle. But by Allah, the Prophet neither took it all for himself only, nor deprived you of it, but he gave it to all of you and distributed it amongst you till only this remained out of it. And from this Allah's Apostle used to spend the yearly maintenance for his family, and whatever used to remain, he used to spend it where Allah's Property is spent (i.e. in charity), Allah's Apostle kept on acting like that during all his life, Then he died, and Abu Bakr said, 'I am the successor of Allah's Apostle.' So he (i.e. Abu Bakr) took charge of this property and disposed of it in the same manner as Allah's Apostle used to do, and all of you (at that time) knew all about it." Then 'Umar turned towards 'Ali and 'Abbas and said, "You both remember that Abu Bakr disposed of it in the way you have described and Allah knows that, in that matter, he was sincere, pious, rightly guided and the follower of the right. Then Allah caused Abu Bakr to die and I said, 'I am the successor of Allah's Apostle and Abu Bakr.' So I kept this property in my possession for the first two years of my rule (i.e. Caliphate and I used to dispose of it in the same was as Allah's Apostle and Abu Bakr used to do; and Allah knows that I have been sincere, pious, rightly guided an the follower of the right (in this matte Later on both of you (i.e. 'Ali and Abbas) came to me, and the claim of you both was one and the same, O 'Abbas! You also came to me. So I told you both that Allah's Apostle said, "Our property is not inherited, but whatever we leave is to be given in charity.' Then when I thought that I should better hand over this property to you both or the condition that you will promise and pledge before Allah that you will dispose it off in the same way as Allah's Apostle and Abu Bakr did and as I have done since the beginning of my caliphate or else you should not speak to me (about it).' So, both of you said to me, 'Hand it over to us on this condition.' And on this condition I handed it over to you. Do you want me now to give a decision other than that (decision)? By Allah, with Whose Permission both the sky and the earth stand fast, I will never give any decision other than that (decision) till the Last Hour is established. But if you are unable to manage it (i.e. that property), then return it to me, and I will manage on your behalf."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو مالک بن اوس بن حادثان نے انہوں نے کہا حضرت عمرؓ نے ان کو بلا بھیجا (وہ گئے ان کے پاس بیٹھیے تھے )اتنے میں یرفا آپ کا دربان آیا کہنے لگا کیا آپ چاہتے ہیں کہ عثمان اور عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر اور سعد بن ابی وقاص آپ سے ملے یہ لوگ اذن مانگ رہے ہیں انہوں نے کہا اچھا ان کو آنے دے تھوڑی دیر گزری تھی کہ پھر وہی یرفا آیا کہنے لگا کیا آپ چاہتے ہیں کہ عباسؓ اور علیؓ آپ سے ملے انہوں نے کہا اچھا ان کو آنے دے جب وہ آئے انہوں نے سلام کیا عباس نے کہا امیر المؤمنین میرا اور ان کا (یعنے علیؓ کا) جھگڑا فیصلہ کر دیجئیے وہ دونوں اس میں جھگڑ رہے تھے جو اللہ نے بنی نضیر کا مال اپنے پیغمبرﷺ کو بن لڑے بھڑے عنایت فرمایاتھا۔ان دونوں نے ایک دوسرے کو سخت سست کہااور عثمان اور ان کے ساتھی (عبدالرحمٰن زبیر سعد) بول اٹھے(اچھا تو ہے) امیر المومنین ان کا فیصلہ کر دیجئیے رات دن کے ٹلٹے سے ہر ایک کو نجات دلوائیے حضرت عمرؓ نے کہا ذرا دم لو جلدی نہ کرو میں تم کو اس پروردگار کی قسم دیتا ہوں جس کی حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں تم کو یہ معلوم ہے کہ نہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا ہم لوگوں کا ( اپنے تئیں اور دوسرے پیغمبروں کو) مراد لیا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو( مال و اسباب) چھوڑ جائے وہ صدقہ ہے ان لوگوں نے کہا بیشک رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے پھر حضرت عمرؓ علیؓ اور عباسؓ کی طرف مخاطب ہونے لگے اب میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں رسول اللہﷺ نے ایسا فرمایا ہے تم جانتے ہو یا نہیں انہوں نے کہا بے شک( آپ نے ایسا فرمایا ہے) تب حضرت عمرؓ نے کہا اب میں تم سے اس معاملہ کی حقیقت بیان کرتا ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبرؓ کو اس مال میں جو بن لڑے بھڑے ہاتھ آئے ایک خاص حق دیا ہے جو اوروں کو(دوسرے پیغمبروں کو) نہیں دیا فرمایا(سورت حشر میں) اور اللہ نے بن لڑے بھڑے اپنے پیغمبرﷺ کو جو عنایت فرمایا اس پر تم نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے اخیر آیت قدیر تک اس آیت کے بموجب اس قسم کے مال خاص رسول اللہﷺ کے تھے (ان میں مجاہدین کا حق نہ تھا) مگر خدا کی قسم آپﷺ نے ان مالوں کو خاص اپنی ذات کے لئے جوڑ نہیں رکھا نہ خاص اپنی ذات پر اٹھایا بلکہ تم لوگوں کو دیا اور بانٹا بانٹنے کے بعد جو بچ گیا وہ یہ مال ہے رسول اللہﷺ اس میں سے اپنے گھر والوں کا سال بھر کا خرچ نکال لیتے جو بچ رہتا اس کو انہی کاموں میں صرف کرتے جن میں اللہ کا مال صرف کیا جاتا ہے (یعنے ہتھیار گھوڑے سامان جنگ کی تیاری میں) آپﷺ اپنی زندگی بھر ایسا ہی کرتے رہے جب آپﷺ کی وفات ہوگئی تو ابوبکرؓ نے کہا میں رسول اللہﷺ کا قائم مقام ہوں اور اس مال کو اپنے قبضے میں لے کر ویسا ہی کرتے رہے جیسے رسول اللہﷺ کیا کرتے تھے اور تم دونوں حضرت علیؓ اور عباسؓ کی طرف مخاطب ہوئے اس وقت یوں کہتے تھے کہ ابوبکرؓ کی یہ کار روائی ٹھیک نہیں ہے اور اللہ خوب جانتا ہے ابوبکر اس کار روائی میں سچے راستباز ٹھیک رستے پر حق کے تابع تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکرؓ کو اٹھالیا اور میں نے یہ سوچا اب میں رسول اللہﷺ کا جانشین ہوں میں نے شروع شروع اپنی خلافت میں دوبرس تک اس مال کو اپنے قبضے میں رکھا اور جیسے جیسے ابوبکرؓ اور نبیﷺ کرتے تھے (جن جن کاموں میں اس مال کو خرچتے تھے)میں بھی وہی کرتا رہااور اللہ خوب جانتا ہے میں اس مال کے مقدمہ میں سچا راستباز ٹھیک رستے پر حق کا تابع تھا پھر تم دونوں میرے پاس آئیں اس وقت تم دونوں کی بات ایک تھی تمہارا معاملہ ایک تھا پھر عباسؓ تم (اکیلے بھی)میرے پاس آئے میں نے تم سے یہی کہا دیکھو رسول اللہﷺ نے تو یوں فرمایا ہے ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو (مال و اسباب) چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہےپھر مجھ کو (بوجہ کثرت کار) یہ مناسب معلوم ہوا کہ میں یہ مال تمہارے حوالے کردوں تو میں نے تم دونوں سے کہا دیکھو تم اگر چاہتے ہو تو میں یہ مال تم کو دیئے دیتا ہوں بشرطیکہ تم پر خدا کا عہد و پیمان ہے کہ تم اس مال میں وہی کرتے رہو گے جیسے رسول اللہﷺ کیا کرتے تھےاور جیسے ابوبکرؓ کرتے رہے اور میں کرتا رہا جب سے میں حاکم ہوا اگر تم کو یہ شرط منظور نہیں ہے تو مجھ سے کچھ گفتگو نہ کرو تم نے یہ کہا کہ اسی شرط پر یہ مال ہمارے حوالے کر دو میں نے حوالے کر دیا اب تم کیا اس کے سوا اور کوئی فیصلہ چاہتے ہو قسم اس پروردگار کی جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں میں تو قیامت تک اور کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں۔البتہ اگر تم سے اس مال کا بندوبست نہیں ہوسکتا تو پھر میرے سپرد کردو میں یہ کام بھی کرلوں گا
قَالَ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ صَدَقَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ، أَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، فَكُنْتُ أَنَا أَرُدُّهُنَّ، فَقُلْتُ لَهُنَّ أَلاَ تَتَّقِينَ اللَّهَ، أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ـ يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ ـ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَالِ ". فَانْتَهَى أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَا أَخْبَرَتْهُنَّ. قَالَ فَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ بِيَدِ عَلِيٍّ، مَنَعَهَا عَلِيٌّ عَبَّاسًا فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ كَانَ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَحَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، كِلاَهُمَا كَانَا يَتَدَاوَلاَنِهَا، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، وَهْىَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَقًّا
The sub-narrator said, "I told 'Urwa bin Az-Zubair of this Hadith and he said, 'Malik bin Aus has told the truth" I heard 'Aisha, the wife of the Prophet saying, 'The wives of the Prophet sent 'Uthman to Abu Bakr demanding from him their 1/8 of the Fai which Allah had granted to his Apostle. But I used to oppose them and say to them: Will you not fear Allah? Don't you know that the Prophet used to say: Our property is not inherited, but whatever we leave is to be given in charity? The Prophet mentioned that regarding himself. He added: 'The family of Muhammad can take their sustenance from this property. So the wives of the Prophet stopped demanding it when I told them of that.' So, this property (of Sadaqa) was in the hands of Ali who withheld it from 'Abbas and overpowered him. Then it came in the hands of Hasan bin 'Ali, then in the hands of Husain bin 'Ali, and then in the hands of Ali bin Husain and Hasan bin Hasan, and each of the last two used to manage it in turn, then it came in the hands of Zaid bin Hasan, and it was truly the Sadaqa of Allah's Apostle."
زہری نے کہا میں نے یہ حدیث عروہ بن زبیر سے بیان کی تو انہوں نے کہا مالک بن اوس نے سچ کہا میں نے حضرت عائشہؓ نبیﷺ کی بی بی سے سنا وہ کہتی تھیں نبیﷺ کی بیبیوں نے حضرت عثمان کو ابوبکرؓ کے پاس بھیجا ان مالوں میں سے جو اللہ نے اپنے پیغمبرﷺ کو بن لڑے بھڑے دیئے اپنا آٹھواں حصہ ترکہ کا مانگنے کے لئے میں نے ان کو منع کیا اور کہا کیا تم کو خدا کا خوف نہیں تم یہ نہیں جانتیں کہ نبیﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے آپ نے اپنے تئیں مراد لیا البتہ محمّدﷺ کی آل اس مال میں سے کھا ئے گی (گزارے کے موافق اس میں سے اپنا خرچ لیگی) یہ سن کر آپﷺ کی بیبیاں ترکہ مانگنے سے باز آگئیں عروہ نے کہا یہ مال حضرت علیؓ کے قبضے میں رہا انہوں نے حضرت عباسؓ کو اس پر قبضہ نہ کرنے دیا پھر (حضرت علیؓ کے بعد) امام حسن کے قبضے میں رہا پھر امام حسین کے پھر امام زین العابدین علی بن حسین اور امام حسن بن حسن (حسن مثنے)دونوں کے قبضے میں دونوں باری باری اس کا انتظام کرتے رہے پھر زید بن حسن بن علیؓ (ان کے بھائی) کے پاس اور ہر شخص کے پاس اسی طریق سے رہا کہ رسول اللہﷺ کا صدقہ ہے(یہ لوگ متولی رہے نہ مالک)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا، أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ.
Narrated By 'Aisha : Fatima and Al'Abbas came to Abu Bakr, claiming their inheritance of the Prophet's land of Fadak and his share from Khaibar.
ہم سےابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام نے خبر دی کہا ہم کو معمر نے انہوں نے زہری سےانہوں نے عروہ سےانہوں نےحضرت عائشہ سے انہوں نے کہا حضرت فاطمہ زہراءؓ اور حضرت عباسؓ دونوں ابوبکر صدیقؓ کے پاس آن کر اپنا ترکہ مانگنے لگے کہنے لگے آپﷺ کی زمین جو فدک میں ہے اور آپﷺ کا (پانچواں) حصّہ جو خیبر کی آمدنی میں ہے وہ ہم کو دے دو ۔
فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ ". وَاللَّهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي
Abu Bakr said, "I heard the Prophet saying, 'Our property is not inherited, and whatever we leave is to be given in charity. But the family of Muhammad can take their sustenance from this property.' By Allah, I would love to do good to the Kith and kin of Allah's Apostle rather than to my own Kith and kin."
ابوبکرؓ نے کہا میں نے تو نبیﷺ سے یوں سنا ہے آپﷺ فرماتے تھے ہم لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے البتہ محمدﷺ کی آل اس میں سے کھانے کے موافق لے گی (رہا سلوک کرنا تو ابوبکرؓ نے کہا) خدا کی قسم رسول اللہﷺ کی قرابت والوں سے سلوک کرنا مجھ کو اپنی قرابت والوں کے ساتھ سلوک کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
15. باب قَتْلُ كَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ". فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ " نَعَمْ ". قَالَ فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا. قَالَ " قُلْ ". فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا صَدَقَةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَنَّانَا، وَإِنِّي قَدْ أَتَيْتُكَ أَسْتَسْلِفُكَ. قَالَ وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ قَالَ إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ فَلاَ نُحِبُّ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَىِّ شَىْءٍ يَصِيرُ شَأْنُهُ، وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا، أَوْ وَسْقَيْنِ ـ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو غَيْرَ مَرَّةٍ، فَلَمْ يَذْكُرْ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ أَوْ فَقُلْتُ لَهُ فِيهِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ أُرَى فِيهِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ ـ فَقَالَ نَعَمِ ارْهَنُونِي. قَالُوا أَىَّ شَىْءٍ تُرِيدُ قَالَ فَارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ. قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ. قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُكَ أَبْنَاءَنَا فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ، فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ. هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا، وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللأْمَةَ ـ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي السِّلاَحَ ـ فَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَجَاءَهُ لَيْلاً وَمَعَهُ أَبُو نَائِلَةَ وَهْوَ أَخُو كَعْبٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْحِصْنِ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ أَيْنَ تَخْرُجُ هَذِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَأَخِي أَبُو نَائِلَةَ ـ وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو قَالَتْ أَسْمَعُ صَوْتًا كَأَنَّهُ يَقْطُرُ مِنْهُ الدَّمُ. قَالَ إِنَّمَا هُوَ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعِي أَبُو نَائِلَةَ ـ إِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَى طَعْنَةٍ بِلَيْلٍ لأَجَابَ قَالَ وَيُدْخِلُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مَعَهُ رَجُلَيْنِ ـ قِيلَ لِسُفْيَانَ سَمَّاهُمْ عَمْرٌو قَالَ سَمَّى بَعْضَهُمْ قَالَ عَمْرٌو جَاءَ مَعَهُ بِرَجُلَيْنِ وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو أَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ عَمْرٌو وَجَاءَ مَعَهُ بِرَجُلَيْنِ ـ فَقَالَ إِذَا مَا جَاءَ فَإِنِّي قَائِلٌ بِشَعَرِهِ فَأَشَمُّهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي اسْتَمْكَنْتُ مِنْ رَأْسِهِ فَدُونَكُمْ فَاضْرِبُوهُ. وَقَالَ مَرَّةً ثُمَّ أُشِمُّكُمْ. فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ مُتَوَشِّحًا وَهْوَ يَنْفَحُ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ، فَقَالَ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رِيحًا ـ أَىْ أَطْيَبَ ـ وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو قَالَ عِنْدِي أَعْطَرُ نِسَاءِ الْعَرَبِ وَأَكْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ عَمْرٌو فَقَالَ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشَمَّ رَأْسَكَ قَالَ نَعَمْ، فَشَمَّهُ، ثُمَّ أَشَمَّ أَصْحَابَهُ ثُمَّ قَالَ أَتَأْذَنُ لِي قَالَ نَعَمْ. فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ قَالَ دُونَكُمْ. فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ.
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : Allah's Apostle said, "Who is willing to kill Ka'b bin Al-Ashraf who has hurt Allah and His Apostle?" Thereupon Muhammad bin Maslama got up saying, "O Allah's Apostle! Would you like that I kill him?" The Prophet said, "Yes," Muhammad bin Maslama said, "Then allow me to say a (false) thing (i.e. to deceive Kab). "The Prophet said, "You may say it." Then Muhammad bin Maslama went to Kab and said, "That man (i.e. Muhammad demands Sadaqa (i.e. Zakat) from us, and he has troubled us, and I have come to borrow something from you." On that, Kab said, "By Allah, you will get tired of him!" Muhammad bin Maslama said, "Now as we have followed him, we do not want to leave him unless and until we see how his end is going to be. Now we want you to lend us a camel load or two of food." (Some difference between narrators about a camel load or two.) Kab said, "Yes, (I will lend you), but you should mortgage something to me." Muhammad bin Mas-lama and his companion said, "What do you want?" Ka'b replied, "Mortgage your women to me." They said, "How can we mortgage our women to you and you are the most handsome of the 'Arabs?" Ka'b said, "Then mortgage your sons to me." They said, "How can we mortgage our sons to you? Later they would be abused by the people's saying that so-and-so has been mortgaged for a camel load of food. That would cause us great disgrace, but we will mortgage our arms to you." Muhammad bin Maslama and his companion promised Kab that Muhammad would return to him. He came to Kab at night along with Kab's foster brother, Abu Na'ila. Kab invited them to come into his fort, and then he went down to them. His wife asked him, "Where are you going at this time?" Kab replied, "None but Muhammad bin Maslama and my (foster) brother Abu Na'ila have come." His wife said, "I hear a voice as if dropping blood is from him, Ka'b said. "They are none but my brother Muhammad bin Maslama and my foster brother Abu Naila. A generous man should respond to a call at night even if invited to be killed." Muhammad bin Maslama went with two men. (Some narrators mention the men as 'Abu bin Jabr. Al Harith bin Aus and Abbad bin Bishr). So Muhammad bin Maslama went in together with two men, and sail to them, "When Ka'b comes, I will touch his hair and smell it, and when you see that I have got hold of his head, strip him. I will let you smell his head." Kab bin Al-Ashraf came down to them wrapped in his clothes, and diffusing perfume. Muhammad bin Maslama said. " have never smelt a better scent than this. Ka'b replied. "I have got the best 'Arab women who know how to use the high class of perfume." Muhammad bin Maslama requested Ka'b "Will you allow me to smell your head?" Ka'b said, "Yes." Muhammad smelt it and made his companions smell it as well. Then he requested Ka'b again, "Will you let me (smell your head)?" Ka'b said, "Yes." When Muhammad got a strong hold of him, he said (to his companions), "Get at him!" So they killed him and went to the Prophet and informed him.
ہم سےعلی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہ عمرو بن دینار نے کہا میں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا کعب بن اشرف کی کون خبر لیتا ہے۔(اس کا کام تمام کرتا ہے) اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ستا رکھا ہے یہ سن کر محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپﷺ کو منظور ہے میں اس کو مار ڈالوں آپﷺ نے فرمایا ہاں انہوں نے کہا تو پھر اجازت دیجئے جو میں مناسب سمجھوں (کعب کو خوش کرنے کے لئے) کہوں آپ نے فرمایا جو مناسب سمجھے کہہ غرض محمد بن مسلمہ کعب کے پاس آئے اور کہنے لگے اجی یہ شخص ( یعنے پیغمبر صاحب) ہم سے زکوٰۃ مانگتا ہے (ہمارے پاس خود کھانے کو نہیں عجب تکلیف میں پھنسے ہیں) میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ مجھ کو کچھ قرض ہی دلواؤ۔کعب نے کہا ابھی کیا ہے قسم خدا کی آگے چل کر تم کو بہت تکلیف ہوگی محمد بن مسلمہ نے کہا (بھئی) بات یہ ہے کہ ہم ایک بار اس کی پیروی کر چکے اب یہ بھی تو اچھا نہیں لگتا کہ ایک دم اس کو چھوڑ دیں مگر دیکھ رہے ہیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے خیراب یہ کہو (یار) ہماری غرض یہ ہے کہ ایک وسق یا دو وسق (کھجور یا غلہ) ہم کو قرض دلواؤ سفیان کہتے ہیں عمروبن دینار نے یہ حدیث ہم سے ایک بار نہیں کئی بار بیان کی تو ایک بار نہیں کئی بار بیان کی تو ایک وسق یا دو وسق کا ذکر نہیں کیا میں نے جب کہا کہ اس میں ایک وسق یا دو وسق کا ذکر تھا؟ تو کہنے لگے کہ میں سمجھتا ہوں اس میں ایک وسق یا دو وسق کا ذکر تھا کعب نے کہا اچھا دلائیں گے مگر کچھ گروی رکھو ان لوگوں نے کہا تم کیا چیز گروی چاہتے ہو کعب نے کہا اپنی جو روئیں گروی کرو ان لوگوں نے کہا واہ اچھی ٹھہری سارے عرب لوگوں میں تو تم خوبصورت ہو بھلا جو روئیں تمہارے پاس کیوں گرو کریں اس نے کہا اچھا اپنے بیٹوں کو گروی کرو ان لوگوں نے کہا بیٹوں کو گروی کریں تو ساری عمر لوگ ان پر طعنہ مارتے رہیں گے کہ وسق یا دو وسق پر یہ گرو ہوئے تھے بڑے شرم کی بات ہے البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس گروی کر سکتے ہیں اتنی گفتگو کے بعد محمد بن مسلمہ رات کو پھر آنے کا وعدہ کر کے چلے گئے رات کو آئے تو ابو نائلہ کو ساتھ لائے کعب کا دودھ بھائی تھا کعب نے ان کو قلعہ کے پاس بلا لیا اور خود قلعہ سے اتر کر نیچے آن کر ملا جب وہ قلعہ سے اترنے لگا تو اس کی جوروں (نام نامعلوم) کہنے لگی اتنی رات کو کہا جاتا ہے کعب کہنے لگا یہ محمد بن مسلمہ اور میرا بھائی ابو نائلہ بلا رہے ہیں سفیان کہتے ہیں عمرو بن دینار کے سوا اور لوگوں نے اس حدیث میں اتنا اور بڑھایا ہےکہ اس کی جوروں کہنے لگی اس آواز سے تو گویا خون ٹپک رہا ہے۔کعب نے کہا واہ وہاں ہے کون محمد بن مسلمہ میرا دوست اور ابو نائلہ میرا دودھ بھائی۔اور شریف آدمی کو اگر رات کو برچھہ مارنے کو بلائیں تو وہ جائیگا ادھر محمد بن مسلمہ اپنے ساتھ دو آدمی اور لے کر آئے تھے سفیان سے پوچھا گیا عمرو نے ان لوگوں کا نام لیا تھا انہوں نے کہا بعضوں کا نام لیا تھا (محمد بن مسلمہ اور ابو نائلہ کا) عمرو نے اتنا ہی کہا محمد بن مسلمہ دو آدمیوں اور اپنے ساتھ لے کر آئے تھے ( ان کا نام نہیں لیا ) اور دوسرے لوگوں نے ابو عبس بن جبر اور حارث بن اوس اور عباد بن بشر کا نام لیا خیر عمرو نے اتنا ہی کہا محمد بن مسلمہ جو اپنے ساتھ دو آدمیوں کو لائے تھے ان سے کہنے لگے جب کعب یہاں آئے گا میں اس کے سر کے بال تھام کر سونگھوں گا جب تم دیکھنا میں نے اس کا سر مضبوط تھام لیا ہے تو تم اپنا کام کر ڈالنا (تلوار کی ضرب) لگانا ایک مرتبہ عمرو نے یوں کہا غرض کعب سر سے چادر اوڑھے ہوئے اترا اس کے بدن سے خوشبو مہک رہی تھے محمد بن مسملہ نے کہا میں نے تو ( ساری عمر میں) آج کی طرح خوشبودار ہوا نہیں سونگھی عمرو کے سوا دوسرے راوی یوں کہتے ہیں کعب نے جواب میں کہا میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو سب عورتوں سے زیادہ معتر رہی ہے اور حسن و جمال (یا علم و کمال) میں بھی بے نظیر ہے۔ عمرو بن دینار نے بیان کیا پھر محمد بن مسلمہ نے اس سے کہا تم مجھ کو اپنے سر سونگھنے کی اجازت دیتے ہوں اس نے کیا اچھا سونگوں انہوں نے خود بھی سونگھا اور اپنے ساتھیوں کو بھی سونگھایا پھر دوباہ درخواست کی میں تمہارا سر سونگھوں اس نے کہا اچھا محمد بن مسلمہ نے اس کا سر زور سے تھاما اور اپنے ساتھیوں سے کہا ہاں لو انہوں نے اس کا کام تمام کر دیا پھر نبیﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کو خبر کی۔
16. باب قَتْلُ أَبِي رَافِعٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ وَيُقَالُ سَلاَّمُ بْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ كَانَ بِخَيْبَرَ، وَيُقَالُ فِي حِصْنٍ لَهُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ
وَقَالَ الزُّهْرِيُّ هُوَ بَعْدَ كَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَهْطًا إِلَى أَبِي رَافِعٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ بَيْتَهُ لَيْلاً وَهْوَ نَائِمٌ فَقَتَلَهُ
Narrated By Al-Bara bin Azib : Allah's Apostle sent a group of persons to Abu Rafi. Abdullah bin Atik entered his house at night, while he was sleeping, and killed him.
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی زائدہ نے انہوں نے اپنے والد زکریا بن ابی زائدہ سے انہوں نے ابو اسحاق سبیعی سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے چند آدمیوں کو ابو رافع کے پاس بھیجا(منجملہ ان کے) عبداللہ بن عتیک رات کو اس کے گھر میں گھسے وہ سو رہا تھا اس کو قتل کیا۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي رَافِعٍ الْيَهُودِيِّ رِجَالاً مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيكٍ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيُعِينُ عَلَيْهِ، وَكَانَ فِي حِصْنٍ لَهُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنْهُ، وَقَدْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَرَاحَ النَّاسُ بِسَرْحِهِمْ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لأَصْحَابِهِ اجْلِسُوا مَكَانَكُمْ، فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ، وَمُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ، لَعَلِّي أَنْ أَدْخُلَ. فَأَقْبَلَ حَتَّى دَنَا مِنَ الْبَابِ ثُمَّ تَقَنَّعَ بِثَوْبِهِ كَأَنَّهُ يَقْضِي حَاجَةً، وَقَدْ دَخَلَ النَّاسُ، فَهَتَفَ بِهِ الْبَوَّابُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُغْلِقَ الْبَابَ. فَدَخَلْتُ فَكَمَنْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ، ثُمَّ عَلَّقَ الأَغَالِيقَ عَلَى وَتَدٍ قَالَ فَقُمْتُ إِلَى الأَقَالِيدِ، فَأَخَذْتُهَا فَفَتَحْتُ الْبَابَ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُسْمَرُ عِنْدَهُ، وَكَانَ فِي عَلاَلِيَّ لَهُ، فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْهُ أَهْلُ سَمَرِهِ صَعِدْتُ إِلَيْهِ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا فَتَحْتُ بَابًا أَغْلَقْتُ عَلَىَّ مِنْ دَاخِلٍ، قُلْتُ إِنِ الْقَوْمُ نَذِرُوا بِي لَمْ يَخْلُصُوا إِلَىَّ حَتَّى أَقْتُلَهُ. فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِيَالِهِ، لاَ أَدْرِي أَيْنَ هُوَ مِنَ الْبَيْتِ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ. قَالَ مَنْ هَذَا فَأَهْوَيْتُ نَحْوَ الصَّوْتِ، فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ، وَأَنَا دَهِشٌ فَمَا أَغْنَيْتُ شَيْئًا، وَصَاحَ فَخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ، فَأَمْكُثُ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ دَخَلْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ. فَقَالَ لأُمِّكَ الْوَيْلُ، إِنَّ رَجُلاً فِي الْبَيْتِ ضَرَبَنِي قَبْلُ بِالسَّيْفِ، قَالَ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أَثْخَنَتْهُ وَلَمْ أَقْتُلْهُ، ثُمَّ وَضَعْتُ ظُبَةَ السَّيْفِ فِي بَطْنِهِ حَتَّى أَخَذَ فِي ظَهْرِهِ، فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الأَبْوَابَ بَابًا بَابًا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى دَرَجَةٍ لَهُ، فَوَضَعْتُ رِجْلِي وَأَنَا أُرَى أَنِّي قَدِ انْتَهَيْتُ إِلَى الأَرْضِ فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ، فَانْكَسَرَتْ سَاقِي، فَعَصَبْتُهَا بِعِمَامَةٍ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى جَلَسْتُ عَلَى الْبَابِ فَقُلْتُ لاَ أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَعْلَمَ أَقَتَلْتُهُ فَلَمَّا صَاحَ الدِّيكُ قَامَ النَّاعِي عَلَى السُّورِ فَقَالَ أَنْعَى أَبَا رَافِعٍ تَاجِرَ أَهْلِ الْحِجَازِ. فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَقُلْتُ النَّجَاءَ، فَقَدْ قَتَلَ اللَّهُ أَبَا رَافِعٍ. فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ " ابْسُطْ رِجْلَكَ ". فَبَسَطْتُ رِجْلِي، فَمَسَحَهَا، فَكَأَنَّهَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّ
Narrated By Al-Bara bin Azib : Allah's Apostle sent some men from the Ansar to ((kill) Abu Rafi, the Jew, and appointed 'Abdullah bin Atik as their leader. Abu Rafi used to hurt Allah's Apostle and help his enemies against him. He lived in his castle in the land of Hijaz. When those men approached (the castle) after the sun had set and the people had brought back their livestock to their homes. Abdullah (bin Atik) said to his companions, "Sit down at your places. I am going, and I will try to play a trick on the gate-keeper so that I may enter (the castle)." So 'Abdullah proceeded towards the castle, and when he approached the gate, he covered himself with his clothes, pretending to answer the call of nature. The people had gone in, and the gate-keeper (considered 'Abdullah as one of the castle's servants) addressing him saying, "O Allah's Servant! Enter if you wish, for I want to close the gate." 'Abdullah added in his story, "So I went in (the castle) and hid myself. When the people got inside, the gate-keeper closed the gate and hung the keys on a fixed wooden peg. I got up and took the keys and opened the gate. Some people were staying late at night with Abu Rafi for a pleasant night chat in a room of his. When his companions of nightly entertainment went away, I ascended to him, and whenever I opened a door, I closed it from inside. I said to myself, 'Should these people discover my presence, they will not be able to catch me till I have killed him.' So I reached him and found him sleeping in a dark house amidst his family, I could not recognize his location in the house. So I shouted, 'O Abu Rafi!' Abu Rafi said, 'Who is it?' I proceeded towards the source of the voice and hit him with the sword, and because of my perplexity, I could not kill him. He cried loudly, and I came out of the house and waited for a while, and then went to him again and said, 'What is this voice, O Abu Rafi?' He said, 'Woe to your mother! A man in my house has hit me with a sword! I again hit him severely but I did not kill him. Then I drove the point of the sword into his belly (and pressed it through) till it touched his back, and I realized that I have killed him. I then opened the doors one by one till I reached the staircase, and thinking that I had reached the ground, I stepped out and fell down and got my leg broken in a moonlit night. I tied my leg with a turban and proceeded on till I sat at the gate, and said, 'I will not go out tonight till I know that I have killed him.' So, when (early in the morning) the cock crowed, the announcer of the casualty stood on the wall saying, 'I announce the death of Abu Rafi, the merchant of Hijaz. Thereupon I went to my companions and said, 'Let us save ourselves, for Allah has killed Abu Rafi,' So I (along with my companions proceeded and) went to the Prophet and described the whole story to him. "He said, 'Stretch out your (broken) leg. I stretched it out and he rubbed it and it became All right as if I had never had any ailment whatsoever."
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے انہوں نے اسرائیل بن یونس سے انہوں نے ابواسحاق سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے ابو رافع یہودی کے پاس انصار کے کئی آدمیوں کو بھیجا ان کا سردار عبداللہ بن عتیک کو کیا یہ ابو رافع رسول اللہﷺ کو تکلیف دیتا تھا اور آپؐ کے دشمنوں کی مدد کرتا تھا۔حجاز میں اس کا قلعہ تھا اس میں رہا کرتا تھا خیر یہ لوگ جب اس قلعہ کے قریب پہنچے تو سورج ڈوب گیا تھا لوگ اپنے اپنے جانوروں کو چرا کر لوٹ چکے تھے۔عبداللہ بن عتیک نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم یہاں(قلعہ کے باہر)اس جگہ بیٹھے رہو میں جاتا ہوں اور دربان سے مل ملا کر قلعہ کےاندر جانے کی کوئی تدبیر کرتا ہوں وہ آئے قلعہ کے دروازے پر پہنچ کر کپڑا ڈھانک کر اس طرح بیٹھے جیسے کوئی پاخانہ پھر رہا ہو قلعہ کے لوگ سب اندر جاچکے تھےاتنے میں دربان نے ان کو آواز دی أو بندۂ خدا تو اندر آتا ہے تو آجا میں دروازہ بند کرتا ہوں۔عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں یہ سن کر میں قلعہ کے اندر گیا اور چھپ رہا جب قلعہ والے سب اندر آچکے تو دربان نے دروازہ بند کیا اور کنجیاں ایک کیل پر لٹکا دیں (دربان غافل ہوگیا) میں نے اٹھ کر کنجیاں لیں اور قلعہ کا دروازہ کھول دیا (تاکہ بھاگتے وقت آسانی ہو) ادھر ابورافع کے پاس رات کو داستان ہوا کرتی تھی وہ اپنے بالا خانوں میں بیٹھا تھا جب داستان گوچل دیئے(ابو رافع لیٹ رہا)تو میں بالا خانے پر چڑھا اور جس دروازے میں گھستا تھا اس کو اندر سے بند کر لیتا تھا میرا مطلب یہ تھا کہ اگر لوگوں کو میری خبر ہو جائے جب بھی ان کے پہنچنے تک (دروازے توڑنے تک)میں ابو رافع کا کام تمام کر ڈالوں خیر میں ابو رافع تک پہنچا وہ ایک اندھیری کوٹھٹری میں اپنے بال بچوں کے بیچ میں سو رہا تھا مجھے اس کا ٹھکانا معلوم نہ ہوا کہ گھر میں کہاں ہے آخر میں نے پکارا ابورافع اس نے کہا کون ہے میں اسی طرف جھکا اور آواز پر تلوار کی ایک ضرب لگائی میرا دل خود دھک دھک کر رہا تھا (دہشت بھرا تھا اس ضرب سے کچھ کام نہ نکلا اور ابورافع چلایا میں کوٹھری کے باہر آگیا تھوڑی دیر ٹھہر کر پھر کوٹھٹری میں گیا اور میں نے(آواز بدل کر) پوچھا ابورافع تم چلائے کیوں وہ(مجھ کو اپنا آدمی سمجھ کر)کہنے لگا ارے تیری ماں مرےابھی ابھی کسی نے اس کوٹھری میں مجھ پر تلوار کا وار کیا یہ سنتے ہی میں نے اس پر ایک اور ضرب لگائی اگرچہ اب کے اس کو کاری زخم لگا پر وہ مرا نہیں آخرمیں نے تلوار کی دھار اس کے پیٹ پر رکھی(اور خوب زور کیا)وہ اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی جب مجھے یقین ہوا اب میں نے اس کو مار ڈالا اس وقت میں لوٹا ایک ایک دروازہ کھولتا جاتا تھا۔ سیڑھیوں پر اتر رہا تھا میں سمجھا کہ اب زمین آگئی چاندنی رات تھی میں گر پڑا میری پنڈلی ٹوٹ گئی مگر میں نے عمامہ سے اس کو باندھ لیا اور وہاں سے چلتا ہوا(قلعہ کے باہر آکر) دروازے پر بیٹھ گیا میں نے(اپنے دل میں) کہا میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک مجھ کو ابورافع کی موت کا یقین نہ ہو۔جب مرغ نے بانگ دی(صبح ہوگئی)اس وقت قلعہ کی دیوار پر موت کی خبر دینے والا کھڑا ہوا پکارنے لگا(لوگو) ابورافع حجاز کے سوداگر گزرے گئے یہ سنتے ہی میں اپنے ساتھیوں کی طرف چلا اور ان سے کہا جلدی بھاگو اللہ نے ابورافع کو قتل کرا دیا وہاں سے (بھاگتا ہوا) نبیﷺ کے پاس پہنچا اور یہ واقعہ آپؐ سے بیان کیا،آپؐ نے فرمایا ذرا اپنا پاؤں پھیلا میں نے پھیلایا آپؐ نے اس پر ہاتھ پھیر دیا مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے اس پاؤں پر کوئی صدمہ ہی نہیں ہوا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحٌ ـ هُوَ ابْنُ مَسْلَمَةَ ـ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي رَافِعٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيكٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ فِي نَاسٍ مَعَهُمْ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى دَنَوْا مِنَ الْحِصْنِ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ امْكُثُوا أَنْتُمْ حَتَّى أَنْطَلِقَ أَنَا فَأَنْظُرَ. قَالَ فَتَلَطَّفْتُ أَنْ أَدْخُلَ الْحِصْنَ، فَفَقَدُوا حِمَارًا لَهُمْ ـ قَالَ ـ فَخَرَجُوا بِقَبَسٍ يَطْلُبُونَهُ ـ قَالَ ـ فَخَشِيتُ أَنْ أُعْرَفَ ـ قَالَ ـ فَغَطَّيْتُ رَأْسِي كَأَنِّي أَقْضِي حَاجَةً، ثُمَّ نَادَى صَاحِبُ الْبَابِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ فَلْيَدْخُلْ قَبْلَ أَنْ أُغْلِقَهُ. فَدَخَلْتُ ثُمَّ اخْتَبَأْتُ فِي مَرْبِطِ حِمَارٍ عِنْدَ باب الْحِصْنِ، فَتَعَشَّوْا عِنْدَ أَبِي رَافِعٍ وَتَحَدَّثُوا حَتَّى ذَهَبَتْ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى بُيُوتِهِمْ، فَلَمَّا هَدَأَتِ الأَصْوَاتُ وَلاَ أَسْمَعُ حَرَكَةً خَرَجْتُ ـ قَالَ ـ وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْبَابِ حَيْثُ وَضَعَ مِفْتَاحَ الْحِصْنِ، فِي كَوَّةٍ فَأَخَذْتُهُ فَفَتَحْتُ بِهِ باب الْحِصْنِ. قَالَ قُلْتُ إِنْ نَذِرَ بِي الْقَوْمُ انْطَلَقْتُ عَلَى مَهَلٍ، ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَى أَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ، فَغَلَّقْتُهَا عَلَيْهِمْ مِنْ ظَاهِرٍ، ثُمَّ صَعِدْتُ إِلَى أَبِي رَافِعٍ فِي سُلَّمٍ، فَإِذَا الْبَيْتُ مُظْلِمٌ قَدْ طَفِئَ سِرَاجُهُ، فَلَمْ أَدْرِ أَيْنَ الرَّجُلُ، فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ. قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ فَعَمَدْتُ نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ، وَصَاحَ فَلَمْ تُغْنِ شَيْئًا ـ قَالَ ـ ثُمَّ جِئْتُ كَأَنِّي أُغِيثُهُ فَقُلْتُ مَا لَكَ يَا أَبَا رَافِعٍ وَغَيَّرْتُ صَوْتِي. فَقَالَ أَلاَ أُعْجِبُكَ لأُمِّكَ الْوَيْلُ، دَخَلَ عَلَىَّ رَجُلٌ فَضَرَبَنِي بِالسَّيْفِ. قَالَ فَعَمَدْتُ لَهُ أَيْضًا فَأَضْرِبُهُ أُخْرَى فَلَمْ تُغْنِ شَيْئًا، فَصَاحَ وَقَامَ أَهْلُهُ، قَالَ ثُمَّ جِئْتُ وَغَيَّرْتُ صَوْتِي كَهَيْئَةِ الْمُغِيثِ، فَإِذَا هُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ، فَأَضَعُ السَّيْفَ فِي بَطْنِهِ ثُمَّ أَنْكَفِئُ عَلَيْهِ حَتَّى سَمِعْتُ صَوْتَ الْعَظْمِ، ثُمَّ خَرَجْتُ دَهِشًا حَتَّى أَتَيْتُ السُّلَّمَ أُرِيدُ أَنْ أَنْزِلَ، فَأَسْقُطُ مِنْهُ فَانْخَلَعَتْ رِجْلِي فَعَصَبْتُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُ أَصْحَابِي أَحْجُلُ فَقُلْتُ انْطَلِقُوا فَبَشِّرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي لاَ أَبْرَحُ حَتَّى أَسْمَعَ النَّاعِيَةَ، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ صَعِدَ النَّاعِيَةُ فَقَالَ أَنْعَى أَبَا رَافِعٍ. قَالَ فَقُمْتُ أَمْشِي مَا بِي قَلَبَةٌ، فَأَدْرَكْتُ أَصْحَابِي قَبْلَ أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَشَّرْتُهُ
Narrated By Al-Bara : Allah's Apostle sent 'Abdullah bin 'Atik and 'Abdullah bin 'Utba with a group of men to Abu Rafi (to kill him). They proceeded till they approached his castle, whereupon 'Abdullah bin Atik said to them, "Wait (here), and in the meantime I will go and see." 'Abdullah said later on, "I played a trick in order to enter the castle. By chance, they lost a donkey of theirs and came out carrying a flaming light to search for it. I was afraid that they would recognize me, so I covered my head and legs and pretended to answer the call to nature. The gatekeeper called, 'Whoever wants to come in, should come in before I close the gate.' So I went in and hid myself in a stall of a donkey near the gate of the castle. They took their supper with Abu Rafi and had a chat till late at night. Then they went back to their homes. When the voices vanished and I no longer detected any movement, I came out. I had seen where the gate-keeper had kept the key of the castle in a hole in the wall. I took it and unlocked the gate of the castle, saying to myself, 'If these people should notice me, I will run away easily.' Then I locked all the doors of their houses from outside while they were inside, and ascended to Abu Rafi by a staircase. I saw the house in complete darkness with its light off, and I could not know where the man was. So I called, 'O Abu Rafi!' He replied, 'Who is it?' I proceeded towards the voice and hit him. He cried loudly but my blow was futile. Then I came to him, pretending to help him, saying with a different tone of my voice, ' What is wrong with you, O Abu Rafi?' He said, 'Are you not surprised? Woe on your mother! A man has come to me and hit me with a sword!' So again I aimed at him and hit him, but the blow proved futile again, and on that Abu Rafi cried loudly and his wife got up. I came again and changed my voice as if I were a helper, and found Abu Rafi lying straight on his back, so I drove the sword into his belly and bent on it till I heard the sound of a bone break. Then I came out, filled with astonishment and went to the staircase to descend, but I fell down from it and got my leg dislocated. I bandaged it and went to my companions limping. I said (to them), 'Go and tell Allah's Apostle of this good news, but I will not leave (this place) till I hear the news of his (i.e. Abu Rafi's) death.' When dawn broke, an announcer of death got over the wall and announced, 'I convey to you the news of Abu Rafi's death.' I got up and proceeded without feeling any pain till I caught up with my companions before they reached the Prophet to whom I conveyed the good news."
ہم سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف نے انہوں نے اپنے والد (یوسف بن اسحاق) سے انہوں نے اسحاق سے انہوں نے کہا میں نے براء سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے ابورافع کی طرف(اس کے مارنے کو) عبد اللہ بن عتیک اور عبداللہ بن عتبہ اور کئی آدمیوں کو ان کے ساتھ بھیجا یہ لوگ گئے جب قلعہ کے قریب پہنچے تو عبداللہ بن عتیک نے اپنے ہمراہیوں سے کہا تم یہیں ٹھہرے رہو میں جا کر دیکھوں(کیا تدبیر کرنا چاہیے) عبداللہ کہتے ہیں میں گیا اور دربان کو ملا مل کر میں چاہتا تھا کہ قلعہ میں گھس جاؤں اتنے میں کیا ہوا قلعہ والوں کا ایک گدھا گم ہو گیا وہ روشنی لے کر (رات کے وقت) اس کو ڈھونڈنے نکلے میں ڈرا کہیں مجھ کو پہنچان نہ لیں۔ میں نے اپنا سر چھپالیا (اور اس طرح بیٹھ گیا) جیسے کوئی پاخانہ پھر رہا ہے اب دربان نے آواز دی ارے جس کو اندر آنا ہو وہ آجائے میں دروازہ بند کرتا ہوں یہ سن کر میں قلعہ کے اندر گھس گیا اور قلعہ کے دروازے جہاں گدھے بندھا کرٍتے تھے چھپ رہا قلعہ والوں نے ابورافع کے پاس کھانا کھایا اور کچھ رات گزری تک وہیں (بیٹھے) باتیں کرتے رہے پھر اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے جب خاموشی ہوگئی اور کوئی آواز یا حرکت سنائی نہ دی(سب سو گئے)تو میں (اس طویلہ سے)باہر نکلا میں نے(پہلے ہی)دربان کو دیکھ لیا تھا اس نے دروازے کی کنجی ایک روزن میں رکھ دی گئی وہ کنجی لے کر میں نے دروازہ کھول دیا میرا مطلب یہ تھا کہ اگر لوگوں کو خبر ہوجائے تومیں آسانی سے چل دوں(بھاگتے وقت قفل کھولنا نہ پڑے)اب میں قلعہ میں جو گھر تھے ان کے دروازوں پر گیا اور سب کی زنجیریں باہر سے چھڑا دیں(تاکہ وہ باہر نہ نکل سکیں)اس کے بعد میں سیڑھی پر چڑھا جہاں ابورافع تھے اوپر جا کر کیا دیکھتا ہوں جس کو ٹھڑی میں ابورافع ہیں وہاں بالکل اندھیرا ہے چراغ بھی گل ہوگیا ہے اس کا ٹھکانہ مجھ کو معلوم نہ ہوا آخر میں نے پکارا ابو رافع اس نے پوچھا کون میں آواز کی طرف گیا اور تلوار کی ضرب لگائی ابورافع نے چیخ ماری مگر اس ضرب سے کچھ کام نہ نکلا عبداللہ بن عتیک کہتے ہے تھوڑی دیر ٹھہر کر پھر میں ابورافع کے پاس گیا جیسے اس کے مدد کو آیا ہوں میں نے آواز بدل کر پوچھا ابورافع کیوں خیر تو ہے اس نے کہا بڑا تعجب ہےارے مادربخطا ابھی ابھی کوئی میرے پاس گھس کر آیا اور مجھ پر تلوار کا وار لگایا یہ سنتے ہی میں نے ایک اور ضرب لگائی پھر کچھ کام نہ نکلا اس نے چیخ ماری اس کی جو روجاگ اٹھی عبداللہ بن عتیک کہتے ہے پھر تیسری بار میں آیا اور میں نے آواز بدلی جیسے کوئی مدد کو آتا ہے میں نے دیکھا وہ چت لیٹا ہوا ہے میں نے تلوار اس کے پیٹ پر رکھی پھر اپنے سارے بدن کا بوجھ اس پر ڈالا ہڈیاں ٹوٹنے کی آواز میں نے سنی اس کے بعد میں ڈرتا ڈرتا زینہ پر آیا چاہتا تھا لیکن گھبراہٹ اور جلدی میں میں نیچے گر پڑا میرے پاؤں کا جوڑ نکل گیا میں نے اس کو کپڑے سے باندھ لیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس اس طرح سے(آہستہ آہستہ چلتا) آیا جیسے قیدی بیڑیوں میں چلتا ہے میں نے ان سے کہا تم جاؤ اور رسول اللہﷺ کو خوشخبری دو میں تو یہاں سے اس وقت تک نہیں سرکوں گا جب تک موت کی خبر دینے والے کی آواز نہ سن لوں گا جب صبح ہوئی تو موت کی خبر دینے والا (قلعے کی دیوار پر) چڑھا اس نے یوں پکارا (لوگو) ابورافع گزر گئے اس وقت میں اٹھ کر چلا دیکھتا ہوں میرے پاؤ ں میں کچھ درد نہیں ہے میں نے اپنے ساتھیوں کو( جو مجھ سے آگے نکل چکے تھے) رستہ میں پالیا ابھی وہ نبیﷺ تک نہیں پہنچے تھے میں نے خود پہنچ کر نبیﷺ کو خوشخبر دی۔
17. باب غَزْوَةِ أُحُدٍ
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ {وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ * إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّالِمِينَ * وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ * أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ * وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ} وَقَوْلِهِ {وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} {وَلاَ تَحْسِبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا} الآيَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ " هَذَا جِبْرِيلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ عَلَيْهِ أَدَاةُ الْحَرْبِ "
Narrated By Ibn Abbas : On the day of Uhud. the Prophet said, "This is Gabriel holding the head of his horse and equipped with war material."
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو عبد الوہاب بن عبد المجید نے خبر دی کہا ہم سے خالد حذّاء، نے بیان کیا انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عبّاسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے احد کے دن فرمایا یہ جبریلؑ آن پہنچے ہتھیار لگائے ہوئے اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ " إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا ". قَالَ فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Uqba bin Amir : Allah's Apostle offered the funeral prayers of the martyrs of Uhud eight years after (their death), as if bidding farewell to the living and the dead, then he ascended the pulpit and said, "I am your predecessor before you, and I am a witness on you, and your promised place to meet me will be Al-Haud (i.e. the Tank) (on the Day of Resurrection), and I am (now) looking at it from this place of mine. I am not afraid that you will worship others besides Allah, but I am afraid that worldly life will tempt you and cause you to compete with each other for it." That was the last look which I cast on Allah's Apostle.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم (صاعقہ) نے بیان کیا کہا ہم کو زکریا بن عدی نے خبر دی کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے انہوں نے حیوہ سے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے انہوں نے ابوالخیر مرثد بن عبداللہ سے انہوں نے عقبہ بن عامر سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے آٹھ برس کے بعد (یعنی آٹھویں برس میں) احد کے شہیدوں پر اس طرح سے نماز پڑھی جیسے کوئی زندوں کو اور مردوں کو رخصت کرتا ہے (پھر وہاں سے آن کر) منبر پر چڑھے فرمایا میں تمہارا پیش خیمہ ہوں (تم سے پہلے عالم آخرت میں جاتا ہوں ) اور تمہارے اعمال کا گواہ ہوں اور میرے تمہارے ملنے کا وعدہ حوض کوثر پر ہے اور میں تو(اس وقت بھی) اسی مقام سے حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں (بطور کشف کے) اور مجھ کو اب اسکا ڈر نہیں رہا کہ تم(دوبارہ) مشرک ہو جاؤگے(اسلام سے پھر جاؤگے)بلکہ مجھ کو جو ڈر ہے وہ یہ ہے کہ تم دنیا کے مزوں میں پڑ کر کہیں ایک دوسرے سے رشک و حسد نہ کرنے لگو عقبہ کہتے ہیں بس دنیا میں رسول اللہﷺ کا یہ میرا آخری دیدار تھا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَقِينَا الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ، وَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَيْشًا مِنَ الرُّمَاةِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ وَقَالَ " لاَ تَبْرَحُوا، إِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ فَلاَ تَبْرَحُوا وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا فَلاَ تُعِينُونَا ". فَلَمَّا لَقِينَا هَرَبُوا حَتَّى رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ فِي الْجَبَلِ، رَفَعْنَ عَنْ سُوقِهِنَّ قَدْ بَدَتْ خَلاَخِلُهُنَّ، فَأَخَذُوا يَقُولُونَ الْغَنِيمَةَ الْغَنِيمَةَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ تَبْرَحُوا. فَأَبَوْا، فَلَمَّا أَبَوْا صُرِفَ وُجُوهُهُمْ، فَأُصِيبَ سَبْعُونَ قَتِيلاً، وَأَشْرَفَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ فَقَالَ " لاَ تُجِيبُوهُ ". فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ قَالَ " لاَ تُجِيبُوهُ ". فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلاَءِ قُتِلُوا، فَلَوْ كَانُوا أَحْيَاءً لأَجَابُوا، فَلَمْ يَمْلِكْ عُمَرُ نَفْسَهُ فَقَالَ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، أَبْقَى اللَّهُ عَلَيْكَ مَا يُخْزِيكَ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ أُعْلُ هُبَلْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَجِيبُوهُ ". قَالُوا مَا نَقُولُ قَالَ " قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ". قَالَ أَبُو سُفْيَانَ لَنَا الْعُزَّى وَلاَ عُزَّى لَكُمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَجِيبُوهُ ". قَالُوا مَا نَقُولُ قَالَ " قُولُوا اللَّهُ مَوْلاَنَا وَلاَ مَوْلَى لَكُمْ ". قَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ، وَتَجِدُونَ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِي
Narrated By Al-Bara : We faced the pagans on that day (of the battle of Uhud) and the Prophet placed a batch of archers (at a special place) and appointed 'Abdullah (bin Jubair) as their commander and said, "Do not leave this place; and if you should see us conquering the enemy, do not leave this place, and if you should see them conquering us, do not (come to) help us," So, when we faced the enemy, they took to their heel till I saw their women running towards the mountain, lifting up their clothes from their legs, revealing their leg-bangles. The Muslims started saying, "The booty, the booty!" 'Abdullah bin Jubair said, "The Prophet had taken a firm promise from me not to leave this place." But his companions refused (to stay). So when they refused (to stay there), (Allah) confused them so that they could not know where to go, and they suffered seventy casualties. Abu Sufyan ascended a high place and said, "Is Muhammad present amongst the people?" The Prophet said, "Do not answer him." Abu Sufyan said, "Is the son of Abu Quhafa present among the people?" The Prophet said, "Do not answer him." Abd Sufyan said, "Is the son of Al-Khattab amongst the people?" He then added, "All these people have been killed, for, were they alive, they would have replied." On that, 'Umar could not help saying, "You are a liar, O enemy of Allah! Allah has kept what will make you unhappy." Abu Safyan said, "Superior may be Hubal!" On that the Prophet said (to his companions), "Reply to him." They asked, "What may we say?" He said, "Say: Allah is More Elevated and More Majestic!" Abu Sufyan said, "We have (the idol) Al-'Uzza, whereas you have no 'Uzza!" The Prophet said (to his companions), "Reply to him." They said, "What may we say?" The Prophet said, "Say: Allah is our Helper and you have no helper." Abu Sufyan said, "(This) day compensates for our loss at Badr and (in) the battle (the victory) is always undecided and shared in turns by the belligerents. You will see some of your dead men mutilated, but neither did I urge this action, nor am I sorry for it."
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا انہوں نے اسرائیل سے انہوں نے ابواسحاق(عمر بن عبیداللہ سبیعی) سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا ایسا ہوا احد کےدن مشرکوں سے ہمارا مقابلہ ہوا نبیﷺ نے تیر اندازوں کی ایک ٹکڑی بٹھا دی ان کاافسر عبداللہ بن جبیر کو کیا ان سے فرمایا تم اس جگہ سے نہ سرکنا خواہ تم دیکھو ہم ان کافروں پر غالب ہوئے جب بھی نہ سرکنا خواہ تم دیکھو ہم مغلوب ہوئے(جب بھی نہ سرکنا) ہماری مدد بھی نہ کرنا خیر جب ہماری اور کافروں کی مڈبھیڑ ہوئی تو وہ بھاگ نکلے میں نے انکی عورتوں کو دیکھا پنڈلیوں پر سے کپڑا اٹھائے پہاڑ پربھاگی جارہی تھیں ان کی پازیبیں دکھلائی دے رہی تھیں مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کیا ارے لوٹ کا مال لو لوٹ کا مال لو عبداللہ بن جبیر نے ان کو سمجھایا دیکھو نبیﷺ تاکید کر گئے ہیں کہ اس جگہ سے نہ سرکنا اس جگہ سے مت ہلو انہوں نے نہ مانا اب مسلمانوں کے منہ پھرگئے(بھاگ نکلے)اور ستر مسلمان شہید ہوئےاور ابو سفیان ایک اونچے مقام پر چڑھا پکار کر کہنے لگا کیا مسلمانوں میں محمدﷺ زندہ ہیں آپؐ نے فرمایا خاموش رہو کچھ جواب نہ دو پھر کہنے لگا اچھا ابو قحافہ کے بیٹے(ابوبکرؓ)زندہ ہیں آپؐ نے فرمایا چپ رہو کچھ جواب نہ دو پھر کہنے لگا اچھا خطاب کے بیٹے(عمرؓ) زندہ ہیں تب ابوسفیان کہنے لگا بس معلوم ہوگیا یہ سب مارے گئے اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے یہ سن کر حضرت عمرؓ سے رہا نہیں گیا بے اختیار کہہ اٹھے ارے خدا کے دشمن تو جھوٹا ہے اللہ نے ابھی ان کو تجھے ذلیل کرنے کے لئے قائم رکھا ہے ابوسفیان نے کہا اب کیا ہے ھبل تو بلند ہوجا نبیﷺ نے صحابیؓ سے فرمایا اس کو جواب دو انہوں نے عرض کیا کیا جواب دیں آپؐ نے فرمایا یوں کہہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ بلند اور سب سے زیادہ بزرگی والا ہے پھر ابوسفیان کہنے لگا ہمارا مددگا عزیٰ ہے(جو ایک بت کا نام تھا) تم مسلمانوں کے پاس عزیٰ نہیں ہے آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا اس کو جواب دو انھوں نے عرض کیا کیا جواب دیں آپؐ نے فرمایا یوں کہو اللہ ہمارا مددگار ہے تمہارا مددگار نہیں ابوسفیان نے کہا خیر بدر کا بدلہ ہوگیا اور لڑائی تو ہےہی ڈولوں کی طرح دیکھو (بعضی لاشوں میں) ناک کان کترے ہوئے پاؤگے میں نے ایسا حکم نہیں دیا گو میں اس کو برا بھی نہیں سمجھتا۔
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اصْطَبَحَ الْخَمْرَ يَوْمَ أُحُدٍ نَاسٌ ثُمَّ قُتِلُوا شُهَدَاءَ.
Narrated Jabir: Some people took wine in the morning of the day of Uhud and were then killed as martyrs.
مجھ کو عبداللہ بن محمد مسندی نے خبر دی کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے جابرؓ سے انہوں نے کہا احد کے دن ایسا ہوا بعضے لوگوں نے صبح کو شراب پیا پھر جنگ میں شہید ہوئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، أُتِيَ بِطَعَامٍ، وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَهْوَ خَيْرٌ مِنِّي، كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلاَهُ، وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلاَهُ بَدَا رَأْسُهُ ـ وَأُرَاهُ قَالَ ـ وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهْوَ خَيْرٌ مِنِّي، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ، أَوْ قَالَ أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا، وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا. ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ
Narrated By Sad bin Ibrahim : A meal was brought to 'Abdur-Rahman bin 'Auf while he was fasting. He said, "Musab bin 'Umar was martyred, and he was better than I, yet he was shrouded in a Burda (i.e. a sheet) so that, if his head was covered, his feet became naked, and if his feet were covered, his head became naked." 'Abdur-Rahman added, "Hamza was martyred and he was better than 1. Then worldly wealth was bestowed upon us and we were given thereof too much. We are afraid that the reward of our deeds have been given to us in this life." 'Abdur-Rahman then started weeping so much that he left the food.
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی انہوں نے سعد بن ابراہیم سے انہوں نے اپنے والد ابراہیم سے ان کے والد عبدالرحمٰن بن عوف روزہ وار تھے(شام کو)ان کے سامنے کھانا رکھا گیا تو کہنے لگے مصعب بن عمیرؓ (احد کے دن)مارے گئے وہ مجھ سے اچھے تھے ایک چادر میں ان کو کفن دیا گیا اگر سر ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر کھل جاتا (اتنی چھوٹی چادر تھی) ابراہیم کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں عبدالرحمٰن نے یہ بھی کہا اور حمزہ بن عبدالمطلب(ابھی اسی دن)مارے گئے۔وہ مجھ سے اچھے تھے پھر تو ہم لوگوں کو دنیا کی فراغت دی گئی کیسی فراغت یا یوں کہا پھر تو ہم کو دنیا دی گئی کیسی دی گئی(یعنے بہت دی گئی)اور ہم ڈرتے ہیں کہیں ہماری نیکیوں کا ثواب جلدی سے دنیا ہی میں نہ مل گیا ہو اس کے بعد رونے لگے اتنا روئے کہ کھانا بھی نہیں کھایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ " فِي الْجَنَّةِ " فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : On the day of the battle of Uhud, a man came to the Prophet and said, "Can you tell me where I will be if I should get martyred?" The Prophet replied, "In Paradise." The man threw away some dates he was carrying in his hand, and fought till he was martyred.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے سنا انہوں نے کہا ایک شخص (ٰنام نامعلوم)نے جنگ احد کے دن آپؐ سے عرض کیا فرمائیے اگر میں مارا جاؤں تو(مارے جانے کے بعد) کہاں جاؤں گا آپؐ نے فرمایا بہشت میں وہ شخص یہ سن کر جو کھجوریں لیے ہوئے کھا رہا تھا ان کو پھینک دیا پھر لڑتا رہا یہاں تک کہ مارا گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ خَبَّابٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، وَمِنَّا مَنْ مَضَى أَوْ ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، لَمْ يَتْرُكْ إِلاَّ نَمِرَةً، كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلاَهُ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلِهِ الإِذْخِرَ ـ أَوْ قَالَ أَلْقُوا عَلَى رِجْلِهِ مِنَ الإِذْخِرِ ". وَمِنَّا مَنْ قَدْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدُبُهَا
Narrated By Khabbab bin Al-Art : We migrated in the company of Allah's Apostle, seeking Allah's Pleasure. So our reward became due and sure with Allah. Some of us have been dead without enjoying anything of their rewards (here), and one of them was Mus'ab bin 'Umar who was martyred on the day of the battle of Uhud, and did not leave anything except a Namira (i.e. a sheet in which he was shrouded). If we covered his head with it, his feet became naked, and if we covered his feet with it, his head became naked. So the Prophet said to us, "Cover his head with it and put some Idhkhir (i.e. a kind of grass) over his feet or throw Idhkhir over his feet." But some amongst us have got the fruits of their labour ripened, and they are collecting them.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے کہا ہم سے اعمش نے انہوں نے شقیق بن سلمہ سے انہوں نے خباب بن ارت سے انہوں نے کہا ہم نے جو رسول اللہﷺ کے ساتھ ہجرت کی(وطن چھوڑا)تو محض اللہ کی رضا مندی کے لئے اب ہمارا ثواب اللہ کے ذمہ ہوگیا ہم میں بعضے لوگ ایسے ہیں جو چل دیئے گزر گئے انہوں نے دنیا میں کچھ بدلہ ہی نہ پایا انہیں لوگوں میں مصعب بن عمیرؓ تھے جو احد کے دن شہید ہوئے انہوں نے صرف ایک دھاری دار کملی چھوڑی جب ہم اس سے ان کا سر ڈھاپتے پاؤں باہر نکل آتے جب پاؤں ڈھانپتے تو سر باہر نکل آتا آخر نبیﷺ نے فرمایا ان کا سر ڈھانپ دو اور پاؤں پر اذخر گھانس جمادو یا ڈال دو اور ہم میں بعضے ایسے ہیں جن کا میوہ خوب پکا وہ اس کو چن رہا ہے۔
أَخْبَرَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ عَمَّهُ، غَابَ عَنْ بَدْرٍ فَقَالَ غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، لَئِنْ أَشْهَدَنِي اللَّهُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أُجِدُّ. فَلَقِيَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَهُزِمَ النَّاسُ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلاَءِ ـ يَعْنِي الْمُسْلِمِينَ ـ وَأَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ الْمُشْرِكُونَ. فَتَقَدَّمَ بِسَيْفِهِ فَلَقِيَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ أَيْنَ يَا سَعْدُ إِنِّي أَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ دُونَ أُحُدٍ. فَمَضَى فَقُتِلَ، فَمَا عُرِفَ حَتَّى عَرَفَتْهُ أُخْتُهُ بِشَامَةٍ أَوْ بِبَنَانِهِ، وَبِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ.
Narrated Anas: His uncle (Anas bin An-Nadr) was absent from the battle of Badr and he said, "I was absent from the first battle of the Prophet (i.e. Badr battle), and if Allah should let me participate in (a battle) with the Prophet, Allah will see how strongly I will fight." So he encountered the day of Uhud battle. The Muslims fled and he said, "O Allah ! I appeal to You to excuse me for what these people (i.e. the Muslims) have done, and I am clear from what the pagans have done." Then he went forward with his sword and met Sad bin Mu'adh (fleeing), and asked him, "Where are you going, O Sad? I detect a smell of Paradise before Uhud." Then he proceeded on and was martyred. No-body was able to recognize him till his sister recognized him by a mole on his body or by the tips of his fingers. He had over 80 wounds caused by stabbing, striking or shooting with arrows.
ہم کو حسان ن بن حسان نے خبر دی کہا ہم کو محمد بن طلحہ نے بیان کیا کہا ہم سے حمید طویل نے انہوں نے انس سے ان کے چچا(انس بن نضر) بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے کہنے لگے ارے میں نبیﷺ کی پہلے جنگ میں شریک نہ ہوا خیر اگر اللہ نے اب کے کسی لڑائی میں مجھ کو نبیﷺ کے ساتھ رکھا تو اللہ دیکھ لے گا میں کیسی کوشش کرتا ہوں جب احد کا دن ہوا اور مسلمان بھاگے تو انس بن نضرؓ کہنے لگے یا اللہ تیری درگاہ میں اس کا عذر کرتا ہوں جو ان مسلمانوں نے کیا اور مشرکوں نے جو کیا اس سے میں بیزار ہوں یہ کہہ کر تلوار لے کر آگے بڑھے رستے میں سعد بن معاذ ملے(جو بھاگے آرہے تھے)انس نے کہا کیوں سعد کہاں جاتے ہو میں تو اس پہاڑ (احد)کے پاس سے بہشت کی خوشبو سونگھ رہا ہوں غرض انس گئے اور یہاں تک لڑے کہ شہید ہوئے (ان پر اتنے زخم تھے کہ) ان کی لاش پہچانی نہ گئی ان کی بہن نے ایک تل یا انگلی کی پور دیکھ کر ان کو پہچانا ان کو اسیّ پر کئی زخم بہالے اور تلوار اور تیر کے لگے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ فَقَدْتُ آيَةً مِنَ الأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ، كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْنَاهَا فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ } فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ.
Narrated By Zaid bin Thabit : When we wrote the Holy Qur'an, I missed one of the Verses of Surat-al-Ahzab which I used to hear Allah's Apostle reciting. Then we searched for it and found it with Khuzaima bin Thabit Al-Ansari. The Verse was:
'Among the Believers are men Who have been true to Their Covenant with Allah, Of them, some have fulfilled Their obligations to Allah (i.e. they have been Killed in Allah's Cause), And some of them are (still) waiting" (33.23) So we wrote this in its place in the Qur'an.
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے کہا ہم سے ابن شہاب نے کہا مجھ کو خارجہ بن زید بن ثابتؓ نے خبر دی انہوں نے زید بن ثابتؓ سے سنا وہ کہتے تھے ہم جب(حضرت عثمانؓ کی خلافت میں)مصحف لکھ رہے تھے سورت احزاب کی ایک آیت اس میں نہ ملی جس کو میں رسول اللہﷺسے سنا کرتا تھا آخر میں نے وہ آیت خزیمہ بن ثابت انصاریؓ کے پاس پائی َمنَ المؤمِنِینَ رِجَال صَدَوقُوا مَا عَاھَدُوا اللہَ عَلَیہِ فَمِنھُم مَن قَضَی نَحبَہُ وَ مِنھُم مَن یَنتَظِرُ۔اور میں نےمصحف میں اسی سورت میں شریک کردی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ،، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُحُدٍ، رَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ خَرَجَ مَعَهُ، وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِرْقَتَيْنِ، فِرْقَةً تَقُولُ نُقَاتِلُهُمْ. وَفِرْقَةً تَقُولُ لاَ نُقَاتِلُهُمْ. فَنَزَلَتْ {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} وَقَالَ " إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ ".
Narrated By Zaid bin Thabit : When the Prophet set out for (the battle of) Uhud, some of those who had gone out with him, returned. The companions of the Prophet were divided into two groups. One group said, "We will fight them (i.e. the enemy)," and the other group said, "We will not fight them." So there came the Divine Revelation: '(O Muslims!) Then what is the matter within you that you are divided. Into two parties about the hypocrites? Allah has cast them back (to disbelief) Because of what they have earned.' (4.88) On that, the Prophet said, "That is Taiba (i.e. the city of Medina) which clears one from one's sins as the fire expels the impurities of silver."
ہم سے ابوالولید طیالسی نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عدی بن ثابت سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن یزید سے سنا وہ زید بن ثابت سے روایت کرتے تھے جب نبیﷺ احد کی طرف (جنگ کے لئے) نکلے تو کچھ لوگ جو نکلتے وقت آپﷺ کے ساتھ تھے لوٹ آئے ان کے باب میں نبیﷺ کے صحابہؓ کے دو گروہ ہوگئے تھے ایک گروہ کہنے لگا ہم تو ان(منافقوں)کو قتل کریں گے ایک گروہ یہ کہتا تھا نہیں ان کو قتل نہیں کر سکتے اس وقت اللہ نے سورت نساء کی یہ آیت اتاری مسلمانو تم کو کیا ہوگیا ہے منافقوں کے باب میں دو گروہ ہوگئے ہو حالانکہ اللہ نے ان کی بدکاریوں کی سزا میں ان کو (کفر کی طرف پھیرا) الٹ دیا ہے اور نبیﷺ نے فرمایا مدینہ کا نام طیبہ(پاکیزہ) ہے وہ گنہگاروں کو اس طرح نکال کر پھینک دیتا ہے جیسے بھٹی چاندی کا میل نکال دیتی ہے ۔
18. باب
{إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا}
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِينَا {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ} بَنِي سَلِمَةَ وَبَنِي حَارِثَةَ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ، وَاللَّهُ يَقُولُ {وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا}
Narrated By Jabir : This Verse: "When two of your parties almost Decided to fall away..." was revealed in our connection, i.e. Bani Salama and Bani Haritha and I would not have liked that, if it was not revealed, for Allah said: But Allah was their Protector... (3.122)
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا انہوں نے سفیان بن عیینہ سے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے انہوں نے کہا (سورت ال عمران کی ) یہ آیت جب تم میں سے دو گروہوں نے ہمت ہار دینی چاہی ہم لوگوں کے حق میں اتری اس میں دو گروہوں سے بنی سلمہ مراد ہیں اور بنی حارثہ اور مجھے اس آیت کا اترنا ناپسند نہیں کیونکہ اللہ تعالٰی اس میں فرماتا ہے کہ اللہ ان کا مدد گار تھا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " مَاذَا أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ". قُلْتُ لاَ بَلْ ثَيِّبًا. قَالَ " فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُكَ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ كُنَّ لِي تِسْعَ أَخَوَاتٍ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ، وَلَكِنِ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ. قَالَ " أَصَبْتَ ".
Narrated By Jabir : "Allah's Apostle said to me, "Have you got married O Jabir?" I replied, "Yes." He asked "What, a virgin or a matron?" I replied, "Not a virgin but a matron." He said, "Why did you not marry a young girl who would have fondled with you?" I replied, "O Allah's Apostle! My father was martyred on the day of Uhud and left nine (orphan) daughters who are my nine sisters; so I disliked to have another young girl of their age, but (I sought) an (elderly) woman who could comb their hair and look after them." The Prophet said, "You have done the right thing."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم کو عمرو بن دینار نے خبر دی انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے انہوں نےکہا رسول اللہﷺ نے مجھ سے پوچھا جابر کیا تو نے نکاح کیا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا کنواری سے یا رانڈ سے میں نے کہا رانڈ سے آپﷺ نے فرمایا کنوری سے کیوں نہ کیا وہ تجھ سے کھیلتی رہتی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے باپ احد کے دن شہید ہوئے اور نو بیٹیاں چھوڑیں تو میری نو بہنیں تھیں میں نے مناسب نہ سمجھا کہ انہی کی طرح ایک نادان لڑکی لا کر ان کے شریک کروں میں نے چاہا( ایک سمجھدار عمر والی)عورت لاؤں جو ان کی کنگھی چوٹی اور ان کی خدمت کرے آپﷺ نے فرمایا تو نے اچھا کیا ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما أَنَّ أَبَاهُ، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا، وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ، فَلَمَّا حَضَرَ جِذَاذُ النَّخْلِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي قَدِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ دَيْنًا كَثِيرًا، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ. فَقَالَ " اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ ". فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّهُمْ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ، فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " ادْعُ لَكَ أَصْحَابَكَ ". فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ عَنْ وَالِدِي أَمَانَتَهُ، وَأَنَا أَرْضَى أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي، وَلاَ أَرْجِعَ إِلَى أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ، فَسَلَّمَ اللَّهُ الْبَيَادِرَ كُلَّهَا وَحَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّهَا لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً.
Narrated By Jabir bin Abdullah : That his father was martyred on the day of the battle of Uhud and was in debt and left six (orphan) daughters. Jabir, added, "When the season of plucking the dates came, I went to Allah's Apostle and said, "You know that my father was martyred on the day of Uhud, and he was heavily in debt, and I would like that the creditors should see you." The Prophet said, "Go and pile every kind of dates apart." I did so and called him (i.e. the Prophet). When the creditors saw him, they started claiming their debts from me then in such a harsh manner (as they had never done before). So when he saw their attitude, he went round the biggest heap of dates thrice, and then sat over it and said, 'O Jabir), call your companions (i.e. the creditors).' Then he kept on measuring (and giving) to the creditors (their due) till Allah paid all the debt of my father. I would have been satisfied to retain nothing of those dates for my sisters after Allah had paid the debts of my father. But Allah saved all the heaps (of dates), so that when I looked at the heap where the Prophet had been sitting, it seemed as if a single date had not been taken away thereof."
مجھ سے احمد بن ابی سریج نے بیان کیا کہا ہم کو عبیداللہ بن موسی نے خبر دی کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا انہوں نے فراس بن یحییٰ سے انہوں نے عامر بن شعبی سے کہا مجھ سے جابر بن عبداللہ انصاریؓ نے بیان کیا ان کے والد احد کے دن شہید ہوئے اور اپنے اوپر قرضہ چھوڑ گئے اور چھ بیٹیاں، جب ان کے باغ کی کھجور کٹنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہﷺ کے پاس گیاآپؐ سے عرض کیا (یا رسول اللہﷺ) آپؐ جانتے ہیں میرے والد احد کے دن شہید ہوگئے اور قرضداری بہت چھوڑ گئے میں چاہتا ہوں (آپؐ تشریف لے چلیں) آپؐ کو قرض خواہ دیکھیں گے آپؐ نے فرمایا اچھا تو باغ میں چل اور ہر ایک قسم کی کھجور کا الگ الگ ایک ڈھیر لگا میں نے ایسا ہی کیا اور آپؐ کو بلا بھیجا جب انہوں نے آپؐ کو دیکھا تو اس وقت اور ضد کرنے لگے آپؐ نے جب قرض خواہوں کی یہ ضد دیکھی تو ان میں جو بڑا ڈھیر تھا اس کے گرد پھرے تین دفعہ اور پھر اس پر بیٹھ گئے اور پھر قرض خواہوں کو بلایا آپؐ برابر ان کو ماپ ماپ کر دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے والد کا پورا قرضہ ادا کردیا اور میں تو اسی پر راضی تھا کہ اللہ میرے والد کا قرضہ ادا کردے گو میں اپنی بہنوں کے پاس ایک کھجور لے کر نہ لوٹوں(یعنے مجھ کو ایک کھجور بھی نہ بچے) اللہ نے سب ڈھیروں کو (جوں کا توں ) بچا دیا اور جس ڈھیر پر نبیﷺ بیٹھے تھے میں اس کو دیکھ رہا تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ، وَمَعَهُ رَجُلاَنِ يُقَاتِلاَنِ عَنْهُ، عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ، كَأَشَدِّ الْقِتَالِ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ
Narrated By Sad bin Abi Waqqas : I saw Allah's Apostle on the day of the battle of Uhud accompanied by two men fighting on his behalf. They were dressed in white and were fighting as bravely as possible. I had never seen them before, nor did I see them later on.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے اپنے والد سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمٰن بن عوف سے انہوں نے سعد بن ابی وقاصؓ سے انھوں نے کہا میں نےجنگ احد میں رسول اللہﷺ کے ساتھ دو مرد دیکھے جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور آپﷺ کی طرف سے خوب لڑ رہے تھے میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ نَثَلَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كِنَانَتَهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي "
Narrated By Sad bin Abi Waqqas : The Prophet took out a quiver (of arrows) for me on the day of Uhud and said, "Throw (arrows); let my father and mother be sacrificed for you."
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے کہا ہم سے ہشام بن ہاشم سعدی نے کہا میں نے سعید بن مسیب سے سنا وہ کہتے تھے میں نے سعد بن ابی وقاصؓ سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ نے احد کے دن اپنے ترکش میں سے تیر نکال کر میرے سامنے رکھے اور فرمایا (ای سعد) تیر چلا تجھ پر میرے ماں باپ قربان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ جَمَعَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ.
Narrated By Sad : Allah's Apostle mentioned both his father and mother for me on the day of the battle of Uhud.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے یحیٰی بن سعید انصاری سے انہوں نے کہا میں نے سعید بن مسیب سے سنا وہ کہتے تھے میں سعدبن ابی وقاصؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے احد کے دن اپنے ماں باپ دونوں کو مجھ سے ملا دیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ـ رضى الله عنه ـ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ كِلَيْهِمَا. يُرِيدُ حِينَ قَالَ " فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ". وَهُوَ يُقَاتِلُ
Narrated By Ibn Al Musaiyab : Sad bin Abi Waqqas said, "Allah's Apostle mentioned both his father and mother for me on the day of the battle of Uhud." He meant when the Prophet said (to Sad) while the latter was fighting. "Let my father and mother be sacrificed for you!"
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے یحیٰی بن سعید انصاری سے انہوں نے کہا میں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے سعد بن ابی وقاصؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے جنگ احد کے دن اپنے ماں باپ دونوں کو میرے لئے ملایا سعد کا مطلب یہ تھا کہ میں لڑ رہا تھا آپﷺ نے فرمایا میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدٍ
Narrated By 'Ali : I have never heard the Prophet mentioning both his father and mother for anybody other than Sad.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا کہا ہم سے مسعر بن کدام نے انہوں نے سعد بن ابراہیم سے انہوں نے عبداللہ بن شداد سے انہوں نے کہا میں نے حضرت علیؓ سے سنا وہ کہتے تھے میں نے نہیں سنا نبیﷺ نے سعد کے سوا اور کسی سے یوں فرمایا ہو میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ إِلاَّ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ " يَا سَعْدُ ارْمِ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي "
Narrated By 'Ali : I have never heard the Prophet mentioning his father and mother for anybody other than Sad bin Malik. I heard him saying on the day of Uhud, "O Sad throw (arrows)! Let my father and mother be sacrificed for you !"
ہم سے یسر ہ بن صفوان نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عبد اللہ بن شداد سے انہوں نے کہا میں نے حضرت علیؓ سے انہوں نے کہا میں نے تو نہیں سنا کہ نبیﷺ نے کسی کے لئے اپنے ماں باپ کو تصدق کیا ہو سوا سعد بن مالک کے احد کے دن میں نےآپؐ سے سنا آپؐ فرمارہے تھے سعد تیر مار تجھ پر میرے ماں باپ صدقے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُعْتَمِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ زَعَمَ أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي يُقَاتِلُ فِيهِنَّ غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ. عَنْ حَدِيثِهِمَا
Narrated By Mu'tamir's father : 'Uthman said that on the day of the battle of Uhud, none remained with the Prophet but Talha and Sad.
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا انہوں نے معتمر بن سلیمان سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا ابوعثمان نہدی کہتے تھے کہ ایک جنگ میں جس میں نبیﷺ لڑے (یعنے احد کے دن ) آپؐ کے ساتھ طلحہ بن عبید اللہ اور سعد بن ابی وقاص کے سوا کوئی نہ رہا یہ ابو عثمان نے طلحہ اور سعد سے سنا تھا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُعْتَمِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ زَعَمَ أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي يُقَاتِلُ فِيهِنَّ غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ. عَنْ حَدِيثِهِمَا
Narrated By Mu'tamir's father : 'Uthman said that on the day of the battle of Uhud, none remained with the Prophet but Talha and Sad.
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا انہوں نے معتمر بن سلیمان سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا ابوعثمان نہدی کہتے تھے کہ ایک جنگ میں جس میں نبیﷺ لڑے (یعنے احد کے دن ) آپؐ کے ساتھ طلحہ بن عبید اللہ اور سعد بن ابی وقاص کے سوا کوئی نہ رہا یہ ابو عثمان نے طلحہ اور سعد سے سنا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ صَحِبْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَالْمِقْدَادَ وَسَعْدًا رضى الله عنهم فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، إِلاَّ أَنِّي سَمِعْتُ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ
Narrated By As-Saib bin Yazid : I have been in the company of 'AbdurRahman bin 'Auf, Talha bin 'Ubaidullah, Al-Miqdad and Sad, and I heard none of them narrating anything from the Prophet excepting the fact that I heard Talha narrating about the day of Uhud (battle).
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا کہا ہم سے حاتم بن اسمٰعیل نے انہوں نے محمد بن یوسف سے انہوں نے کہا میں نے سائب بن یزید سے سنا انہوں نے کہا میں عبدالرحمٰن ابن عوف اور طلحہ بن عبیداللہ اور مقداد بن اسود اور سعد بن ابی وقاص کی صحبت میں رہا ۔ میں نے ان میں سے کسی کو نبیﷺ کی حدیث بیان کرتے نہیں سنا البتہ طلحہ کو احد کا قصّہ بیان کرتے سنا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلاَّءَ، وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ.
Narrated By Qais : I saw Talha's paralysed hand with which he had protected the Prophet on the day of Uhud.
ہم سے ابوبکر عبداللہ بن ابی شیبہ (حافظ مشہور) نے بیان کیا کہا ہم سے وکیع بن جراح نے انہوں نے اسمٰعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے کہا میں نے طلحہ کا ایک ہاتھ بیکار (شل) دیکھا انہوں نے احد کے دن نبیﷺ کو اس ہاتھ سے بچایا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلاً رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ، كَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، وَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ بِجَعْبَةٍ مِنَ النَّبْلِ فَيَقُولُ انْثُرْهَا لأَبِي طَلْحَةَ. قَالَ وَيُشْرِفُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لاَ تُشْرِفْ يُصِيبُكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ. وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ، وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُزَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلآنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَىْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلاَثًا.
Narrated By Anas : When it was the day of Uhud, the people left the Prophet while Abu Talha was in front of the Prophet shielding him with his leather shield. Abu Talha was a skilful archer who used to shoot violently. He broke two or three arrow bows on that day. If a man carrying a quiver full of arrows passed by, the Prophet would say (to him), put (scatter) its contents for Abu Talha." The Prophet would raise his head to look at the enemy, whereupon Abu Talha would say, "Let my father and mother be sacrificed for you ! Do not raise your head, lest an arrow of the enemy should hit you. (Let) my neck (be struck) rather than your neck." I saw 'Aisha, the daughter of Abu Bakr, and Um Sulaim rolling up their dresses so that I saw their leg-bangles while they were carrying water skins on their backs and emptying them in the mouths of the (wounded) people. They would return to refill them and again empty them in the mouths of the (wounded) people. The sword fell from Abu Talha's hand twice or thrice (on that day).
ہم سے ابو معمر (عبداللہ بن عمر و عقدی ) نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انہوں نے انس سے انہوں نے کہا جب احد کا دن ہوا تو لوگ نبیﷺ کو چھوڑ کر بھاگے۔لیکن ابوطلحہ انصاریؓ (انسؓ کی والدہ کے دوسرے خاوند) نبیﷺ کے سامنے ڈھال کی آڑ آپؐ پر کئے رہے(تاکہ آپؐ کو کافروں کا تیر وغیرہ نہ لگے) اور ابو طلحہؓ بڑے تیر انداز زور دار کمان والے تھے انہوں نے اس دن دو یا تین کمانیں توڑیں جو مسلمان اس دن تیروں کا ترکش لئے ہوئے گزرتا تو نبیﷺ اس سے فرماتے یہ تیر ابوطلحہؓ کے سامنے ڈال دے اور نبیﷺ (کھڑے کھڑے) سر اٹھا کر کافروں کو دیکھتے (کہ کم بخت کیا کر رہے ہیں) ابوطلحہؓ آپؐ سے عرض کرتے میرے ماں باپ آپؐ پر صدقے آپؐ سر نہ اٹھائیے ایسا نہ ہو ان کافروں کا کوئی تیر آپؐ کو لگ جائے میرے گلے پر تیر لگے اور وہ آپؐ کے گلے پر تصدق ہے انسؓ کہتے ہیں میں نے اس دن حضرت عائشہؓ اور (اپنی والدہ) ام سلیم کو دیکھا وہ کپڑا اٹھائے ہوئے پانی کی مشکیں بھر بھر کر اپنی پیٹھ پر لاتیں مردوں کے منہ میں ڈالتیں پھر لوٹ جاتیں مشک بھر کر لاتیں لوگوں کے منہ میں چھوڑتیں، ان کی پازیبیں میں نے دیکھیں اور ایسا ہوا (اللہ نے اس جنگ میں لوگوں پر اونگھ بھیجی) ابوطلحہؓ کے ہاتھ سے دو یا تین بار تلوار چھوٹ پڑی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ. فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ فَبَصُرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ فَقَالَ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي. قَالَ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ. قَالَ عُرْوَةُ فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ. بَصُرْتُ عَلِمْتُ، مِنَ الْبَصِيرَةِ فِي الأَمْرِ، وَأَبْصَرْتُ مِنْ بَصَرِ الْعَيْنِ وَيُقَالُ بَصُرْتُ وَأَبْصَرْتُ وَاحِدٌ
Narrated By 'Aisha : When it was the day of Uhud, the pagans were defeated. Then Satan, Allah's Curse be upon him, cried loudly, "O Allah's Worshippers, beware of what is behind!" On that, the front files of the (Muslim) forces turned their backs and started fighting with the back files. Hudhaifa looked, and on seeing his father Al-Yaman, he shouted, "O Allah's Worshippers, my father, my father!" But by Allah, they did not stop till they killed him. Hudhaifa said, "May Allah forgive you." (The sub-narrator, 'Urwa, said, "By Allah, Hudhaifa continued asking Allah's Forgiveness for the killers of his father till he departed to Allah (i.e. died).")
مجھ سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے ابواسامہ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ سے انہوں نے کہا احد کے دن (پہلے پہل) کافروں کو شکست ہوئی تو شیطان ملعون نے (دھوکا دینے کو) یوں آواز دی ارے خدا کے بندو تمہارے عقب میں جو لوگ آرہے ہیں ان سے بچو یہ سنتے ہی اگلے لوگ پچھلوں پر پلٹ پڑے اتنے میں معلوم ہوا حذیفہ کے والد یمان کو مسلمان مارے ڈال رہے ہیں حذیفہ نے پکارا ارے خدا کے بندو یہ تو میرا باپ ہے عروہ کہتے ہیں حضرت عائشہؓ نے کہا خدا کی قسم انہوں نے کسی طرح اس کو نہ چھوڑا مار ہی ڈالا حذیفہ ان سے کہنے لگے اللہ تم کو بخشے (سبحان اللہ کیا صبر ہے) عروہ کہتے ہیں خدا کی قسم حذیفہ جب تک جئے ان کے دل میں نیکی ہی رہی امام بخاری نے کہا حدیث میں جو بصر لفظ ہے بَصُرتُ سے ہے جو بصیرت سے نکلا ہے یعنے میں نے جانا اور اَبصَرتُ کا معنے آنکھ سے دکھنا بعضوں نے کہا بَصُرتُ اور اَبصَرتُ کا ایک ہی معنی ہے (جیسے سرعت اور اسرعت)۔
19. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى
{إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ }
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلاَءِ الْقُعُودُ قَالُوا هَؤُلاَءِ قُرَيْشٌ. قَالَ مَنِ الشَّيْخُ قَالُوا ابْنُ عُمَرَ. فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَىْءٍ أَتُحَدِّثُنِي، قَالَ أَنْشُدُكَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَتَعْلَمُهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَخَلَّفَ عَنْ بَيْعَةِ الرُّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَكَبَّرَ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ لأُخْبِرَكَ وَلأُبَيِّنَ لَكَ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ ". وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرُّضْوَانِ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ، فَبَعَثَ عُثْمَانَ، وَكَانَ بَيْعَةُ الرُّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ الْيُمْنَى " هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ ". فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ فَقَالَ " هَذِهِ لِعُثْمَانَ ". اذْهَبْ بِهَذَا الآنَ مَعَكَ.
Narrated By 'Uthman bin Mauhab : A man came to perform the Hajj to (Allah's) House. Seeing some people sitting, he said, "Who are these sitting people?" Somebody said, "They are the people of Quraish." He said, "Who is the old man?" They said, "Ibn 'Umar." He went to him and said, "I want to ask you about something; will you tell me about it? I ask you with the respect due to the sanctity of this (Sacred) House, do you know that 'Uthman bin 'Affan fled on the day of Uhud?" Ibn 'Umar said, "Yes." He said, "Do you know that he (i.e. 'Uthman) was absent from the Badr (battle) and did not join it?" Ibn 'Umar said, "Yes." He said, "Do you know that he failed to be present at the Ridwan Pledge of allegiance (i.e. Pledge of allegiance at Hudaibiya) and did not witness it?" Ibn 'Umar replied, "Yes," He then said, "Allahu-Akbar!" Ibn 'Umar said, "Come along; I will inform you and explain to you what you have asked. As for the flight (of 'Uthman) on the day of Uhud, I testify that Allah forgave him. As regards his absence from the Badr (battle), he was married to the daughter of Allah's Apostle and she was ill, so the Prophet said to him, 'You will have such reward as a man who has fought the Badr battle will get, and will also have the same share of the booty.' As for his absence from the Ridwan Pledge of allegiance if there had been anybody more respected by the Meccans than 'Uthman bin 'Affan, the Prophet would surely have sent that man instead of 'Uthman. So the Prophet sent him (i.e. 'Uthman to Mecca) and the Ridwan Pledge of allegiance took place after 'Uthman had gone to Mecca. The Prophet raised his right hand saying. 'This is the hand of 'Uthman,' and clapped it over his other hand and said, "This is for 'Uthman.'" Ibn 'Umar then said (to the man), "Go now, after taking this information."
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم کو ابو حمزہ نے خبر دی انہوں نے عثمان بن موہب سے انہوں نے کہا ایک شخص (زید بن بشر سکسکی) نے بیت اللہ کا حج کیا اس نے وہاں کئی لوگوں کو بیٹھا دیکھا (ان کے نام معلوم نہیں ہوئے) پوچھا یہ کون لوگ ہیں کسی نے کہا یہ قریش کے لوگ ہیں پوچھا یہ بوڑھا شخص ان میں کون ہے لوگوں نے کہا عبداللہ بن عمرؓ ہیں وہ شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں بتلاؤ گے میں تم کو اس گھر کی (یعنے خانہ کعبہ کی) عزت اور حرمت کی قسم دیتا ہوں کیا عثمان بن عفانؓ احد کے دن بھاگ نکلے تھے انہوں نے کہا ہاں پھر اس نے کہا تم جانتے ہو کہ عثمانؓ بدر کی لڑائی میں غیر حاضر تھے اس میں شریک نہ تھے انھوں نے کہا ہاں پھر اس نے کہا تم جانتے ہو وہ بیعتہ الرضوان سے بھی محروم رہے تھے اس وقت حاضر نہ تھے انھوں نے کہا ہاں تب اس نے تکبیر کہی عبداللہ عمرؓ نے کہا ادہر آ میں تجھ سے بیان کروں اور تیرے سوالات کی حقیقت کھولوں احد کے دن وہ بھاگ نکلے تھے تو میں گواہی دیتا ہوں یہ قصور (تو اللہ معاف کر چکا،جیسے اوپر آیت میں گزرا) رہا جنگ بدر میں شریک نہ ہونا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ رقیہ رسول اللہﷺ کی صاحبزادی ان کے نکاح میں تھیں وہ بیمار تھیں نبیﷺ نے ان سے فرمایا (تم مدینہ میں رہ کر ان کی تیمارداری کرو) تم کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا ایک شخص کو جو اس جنگ میں شریک ہوگا اور اتنا ہی لوٹ کے مال میں سے حصہ بھی ملے گا رہ گیا بیعتہ الرضوان میں شریک نہ ہونا تو اگر عثمانؓ سے زیادہ مکہ میں کوئی عزت اور شان والا ہوتا تو آپؐ (مشرکوں کے سمجھانے کو) اس کو بھیجتے آپؐ نے انہی کو بھیجا اور بیعتہ الرضوان اس وقت ہوئی جب عثمان مکہ کو جا چکے تھے تو نبیﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر مار کر فرمایا یہ عثمانؓ کا ہاتھ ہے(گویا ان سے بیعت لے لی یہ تو اور زیادہ عثمانؓ کا شرف ہوا) جا اب جایہ باتیں یاد رکھ۔
20. {إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلاَ تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلاَ مَا أَصَابَكُمْ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} {تُصْعِدُونَ} تَذْهَبُونَ، أَصْعَدَ وَصَعِدَ فَوْقَ الْبَيْتِ
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الرَّجَّالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ، فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ.
Narrated By Al-Bara' bin 'Azib : The Prophet appointed Abdullah bin Jubair as the commander of the cavalry archers on the day of the battle of Uhud. Then they returned defeated, and that what is referred to by Allah's Statement: "And the Apostle (Muhammad) in your rear was calling you." (3.153)
مجھ سے عمر و بن خالد حرانی نے بیان کیا کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے کہا ہم سے ابو اسحاق نے کہا میں نے براء بن عازبؓ سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ نے احد کے دن پیدل ٹکڑی کا سردار عبداللہ بن جبیر کو مقرر کیا وہ مدینہ کی طرف بھاگتے ہوئے چلے اسی باب میں یہ آیت اتری۔