- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First789

81. باب نُزُولُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْحِجْرَ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْحِجْرِ قَالَ ‏"‏ لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهُ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَجَازَ الْوَادِيَ‏.‏

Narrated By Ibn Umar : When the Prophet passed by Al-Hijr, he said, "Do not enter the dwelling places of those people who were unjust to themselves unless you enter in a weeping state lest the same calamity as of theirs should befall you." Then he covered his head and made his speed fast till he crossed the valley.

ہم سے عبداللہ بن محمّد جعفی نے بیان کیا ۔کہا ہم سے عبد الرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے زہری سے ،انہوں سالم بن عبداللہ سے،انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ حجر پر سے گزرے (آپ تبوک کو جا رہے تھے) تو (لوگوں سے) فرمایا ان ظالموں کے (اجڑے) دیار میں تم مت جانا ایسا نہ ہو کہ ان کی طرح تم پربھی عذاب اترے ۔اگر ایسے ہی جاتےہو تو (خدا کے خوف سے) روتے ہوئے جاؤ پھر آپؑ نے اپنا سر چھپالیا اور جلدی سے اس وادی(حجر کی سرحد )سے پار ہوگئے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِ الْحِجْرِ ‏"‏ لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn Umar : Allah's Apostle said to his companions who were at Al-Hijr, "Do not enter upon these people who are being punished, except in a weeping state, lest the same calamity as of theirs should befall you..."

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ۔کہا ہم سے امام مالک نے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے ،انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہﷺنے حجر والوں (یعنی قوم ثمود )کے حق میں فرمایا ۔ان ظالموں کے (گھروں کے ) پاس مت جاو مگر روتے ہوئے جاو تو خیر ایسا نہ ہو تم پر بھی وہی عذاب اترے جو ان پر اترا تھا۔

82. باب

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ ذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقُمْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ ـ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ـ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ عَلَيْهِ كُمُّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ‏.‏

Narrated By Urwa bin Al-Mughira : Al-Mughira bin Shu'ba, said, "The Prophet went out to answer the call of nature and (when he had finished) I got up to pour water for him." I think that he said that the event had taken place during the Ghazwa of Tabuk. Al-Mughira added. "The Prophet washed his face, and when he wanted to wash his forearms, the sleeves of his cloak became tight over them, so he took them out from underneath the cloak and then he washed them (i.e. his forearms) and passed wet hands over his Khuffs."

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ۔انہوں نے لیث بن سعد سے انہوں نے عبدالعزیز بن ابی سلمہ سے ،انہوں نے سعد بن ابراہیم سے انہوں نے نافع بن جبیر سے انہوں نے عروہ بن مغیرہ سے انہوں نے اپنے والد مغیر ہ بن شعبہ سے انہو ں نے کہانبیﷺ حاجت کو تشریف لے گئے ۔میں آپؑ پر پانی ڈالنے کے لئے کھڑا ہوا۔عروہ نے کہا میں سمجھتا ہوں مغیرہ نے یہ قصّہ جنگ تبوک کا بیا ن کیا ۔خیر آپؑ نے منہ دھویا اور بانہیں دھونا چاہیں ۔تو جبہ کی آستین تنگ تھی۔ آپؑ نے جبہ کے تلے سے اپنے دونوں ہاتھ باہر نکال لئے ۔پھر ان کو دھویا پھر موزو ں پر مسح کیا ۔


حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ ‏"‏ هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Humaid : We returned in the company of the Prophet from the Ghazwa of Tabuk, and when we looked upon Medina, the Prophet said, "This is Taba (i.e. Medina), and this is Uhud, a mountain that loves us and is loved by us."

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ،کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے کہا ۔مجھ سے عمرو بن یحییٰ مازنی نے انہوں نے عباس بن سہل بن سعد سے انہوں نے ابو حمید ساعدی سے، انہوں نے کہا ہم غزوہٗ تبوک سے لوٹ کر نبیﷺ کے ساتھ آئے ۔جب مدینہ دکھائی دینے لگا۔ توآپؑ نے فرمایا یہ طابہ(مدینہ کا نام ہے) آن پہنچا ۔اور یہ احد پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے ہم اس سے محبت رکھتے ہیں ۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلاَّ كَانُوا مَعَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ ‏"‏ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ‏"‏‏.

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle returned from the Ghazwa of Tabuk, and when he approached Medina, he said, "There are some people in Medina who were with you all the time, you did not travel any portion of the journey nor crossed any valley, but they were with you they (i.e. the people) said, "O Allah's Apostle! Even though they were at Medina?" He said, "Yes, because they were stopped by a genuine excuse."

ہم سے احمد بن محمّد نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو حمید طویل نے ،انہو ں نے انس بن مالکؓ سے ،انہوں نے کہا نبیﷺ غزوہ تبوک سے لوٹ کر آئے ۔جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا بعضے لوگ مدینہ میں ایسے ہیں ۔جو ہر رستے اور ہر وادی میں تمہارے ساتھ رہے (ان کے دل تمہارے ساتھ تھے )لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مدینے میں رہ کر آپؑ نے فرمایا ۔ہاں مدینہ میں رہ کر وہ عذر سے رہ گئے تھے۔

83. باب كِتَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ ـ فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ ـ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ‏.

Narrated By Ibn Abbas : Allah's Apostle sent a letter to Khosrau with Abdullah bin Hudhafa As-Sahmi and told him to hand it over to the governor of Al-Bahrain. The governor of Al-Bahrain handed it over to Khosrau, and when he read the latter, he tore it into pieces. (The sub-narrator added, "I think that Ibn Al-Musaiyab said, 'Allah 's Apostle invoked (Allah) to tear them all totally Khosrau and his companions) into pieces.

ہم سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے کہا ،ہم سے والد (ابراہیم بن سعد نے ) انہو نے صالح بن کیسان سے ،انہوں نے ابن شہاب سے کہا ،مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی۔ ان کو ابن عباسؓ نے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے عبداللہ بن حزامہ سہمی کو ایک خط دے کر کسریٰ کے پاس بھیجا آپؑ نے عبداللہ بن حذافہ سے فرمایا یہ خط بحرین کے رئیس (منذر بن سادیٰ )کو دینا(جو کسریٰ کا نائب تھا )بحرین کے رئیسنے وہ خط کسریٰ کو بھیج دیا ۔اس مردود نے کیا کیا پڑھ کر پھاڑ ڈالا زہری کہتے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں سعید بن مسیب نے یہ کہا رسول اللہﷺ نے یہ خبر سن کر ایران کے لئے بددعا کی آپؑ نے فرمایا اللہ ایران والوں کو بالکل پھاڑ ڈالے ۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيَّامَ الْجَمَلِ، بَعْدَ مَا كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَ مَعَهُمْ قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أَهْلَ فَارِسَ قَدْ مَلَّكُوا عَلَيْهِمْ بِنْتَ كِسْرَى قَالَ ‏"‏ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Bakra : During the days (of the battle) of Al-Jamal, Allah benefited me with a word I had heard from Allah's Apostle after I had been about to join the Companions of Al-Jamal (i.e. the camel) and fight along with them. When Allah's Apostle was informed that the Persians had crowned the daughter of Khosrau as their ruler, he said, "Such people as ruled by a lady will never be successful."

ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا کہا ہم سے عوف نے انہوں نے امام حسن بصری سے ،انہو ں نے ابو بکرہ سے انہوں نے کہا اللہ نے جنگ جمل کے دن مجھ کو اس بات سے فائدہ دیاجو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی تھی۔ ورنہ میں قریب تھا ۔کہ جمل والوں کے ساتھ یعنی حضرت عائشہؓ کے لشکر میں شریک ہو کر (مسلمانوں سے) لڑتا،ابوبکرہ نے کہا وہ بات یہ تھی ،جب رسول اللہﷺ کو یہ خبر پہنچی،کہ ایران والوں نے کسریٰ کی بیٹی (بورا بنت شیرویہ)کو تخت پر بٹھایا ۔تو فرمایا بھلا وہ قوم کہیں پنپ سکتی ہے۔جو اپنا کام ایک (نادان )عورت کے سپرد کردیں۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، يَقُولُ أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الْغِلْمَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً مَعَ الصِّبْيَانِ‏.‏

Narrated By As-Sa'ib bin Yazid : I remember that I went out with the boys to (the place called) Thaniyat-ul-Wada to receive Allah's Apostle.

ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا میں نے زہری سے سنا ۔انہوں نے سائب بن یزید سے انہوں نے کہا مجھ کو (اب تک) یہ یاد ہے کہ(بچپنی میں) دوسرے بچوں کے ساتھ ثنیہ وداع تک گیا تھا نبیﷺ کے استقبال کے لئے جب آپؑ غزوہٗ تبوک سے لوٹ کر واپس آرہے تھے ایک بار سفیان بن عیینہ نے اس حدیث میں غلمان کے بجائے صبیان کا لفظ کہا ہے (معنے ایک ہی ہیں )


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ، أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ نَتَلَقَّى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ مَقْدَمَهُ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ‏.‏

Narrated By As-Saib : I remember I went out with the boys to Thaniyat-ul-Wada' to receive the Prophet when he returned from the Ghazwa of Tabuk.

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ،کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ،انہوں نے زہری سے ،انہوں نے سائب بن یزید سے ،انہوں نے کہا مجھ کو یاد ہے میں بچوں کے ساتھ ثنیہ وداع تک نبیﷺ کے استقبال کے لئے گیا تھا جب آپؑ تبوک سے تشریف لارہے تھے۔

84. باب مَرَضِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَوَفَاتِهِ

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ‏}‏

وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السَّمِّ ‏"‏‏.‏

Narrated 'Aisha: The Prophet in his ailment in which he died, used to say, "O 'Aisha! I still feel the pain caused by the food I ate at Khaibar, and at this time, I feel as if my aorta is being cut from that poison."

اور یونس نے زہری سے روایت کی عروہ نے کہا عائشہؓ کہتی ہیں نبیﷺ مرض الموت میں یوں فرماتے تھے عائشہؓ مجھ کو اب تک اس (زہر آلود بکری کا گوشت) کھانے کی تکلیف معلوم ہوتی ہے جو میں نے خیبر میں کھایا تھا۔ اب مجھ کو معلوم ہوا اس زہر کے اثر سے میری زندگی کی رگ کٹ گئی۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ ـ ‏{‏الْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا‏}‏ ثُمَّ مَا صَلَّى لَنَا بَعْدَهَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ‏.‏

Narrated By Um Al-Fadl bint Al-Harith : I heard the Prophet reciting Surat-al-Mursalat 'Urfan (77) in the Maghrib prayer, and after that prayer he did not lead us in any prayer till he died.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ۔کہا ہم سے لیث بن سعد نے ،انہوں نے عقیل سے ،انہوں نے ابن شہاب سے ،انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے،انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے،انہوں نے ام الفضل بنت حارث سے ،انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۃوالمرسلات عرفاً پڑھتے سنا ۔پھر اسکے بعد وفات تک آپؑ نے ہم کو کوئی نماز نہیں پڑھائی۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يُدْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَهُ‏.‏ فَقَالَ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ‏.‏ فَسَأَلَ عُمَرُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ‏}‏ فَقَالَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ‏

Narrated By Ibn Abbas : 'Umar bin Al-Khattab used to let Ibn Abbas sit beside him, so 'AbdurRahman bin 'Auf said to 'Umar, "We have sons similar to him." 'Umar replied, "(I respect him) because of his status that you know." 'Umar then asked Ibn 'Abbas about the meaning of this Holy Verse: "When comes the help of Allah and the conquest of Mecca..." (110.1) Ibn 'Abbas replied, "That indicated the death of Allah's Apostle which Allah informed him of." 'Umar said, "I do not understand of it except what you understand."

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ،کہا ہم سے شعبہ نے ،انہوں نے ابو البشر سے،انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمرؓ مجھ کو پاس اپنے بٹھایا کرتے۔اس پر عبدالرحمٰن بن عوف کہنے لگے کہ ان کے برابر تو ہمارے بیٹے ہیں (ان کو بھی اپنے پاس بٹھلاوٗ) حضرت عمرؓ نے کہا تم اس کی وجہ جانتے ہو (کہ میں ابن عباسؓ کی کیوں تعظیم کرتا ہوں پھر انہوں نے مجھ سے اس آیت کو پوچھا ۔اذا جاء نصراللہ والفتح ،میں نے کہا رسول اللہﷺ کی وفات کا اشارہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے (یہ سورۃ اتار کر)آپ کو خبر دی(کہ اب وفات کاوقت آن پہنچا)حضرت عمرؓ نے کہا ۔میں بھی یہی سمجھتاہوں جو تم سمجھے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعُهُ فَقَالَ ‏"‏ ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا ‏"‏‏.‏ فَتَنَازَعُوا، وَلاَ يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏ وَأَوْصَاهُمْ بِثَلاَثٍ قَالَ ‏"‏ أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ ‏"‏‏.‏ وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ، أَوْ قَالَ فَنَسِيتُهَا‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : Thursday! And how great that Thursday was! The ailment of Allah's Apostle became worse (on Thursday) and he said, fetch me something so that I may write to you something after which you will never go astray." The people (present there) differed in this matter, and it was not right to differ before a prophet. Some said, "What is wrong with him ? (Do you think) he is delirious (seriously ill)? Ask him (to understand his state)." So they went to the Prophet and asked him again. The Prophet said, "Leave me, for my present state is better than what you call me for." Then he ordered them to do three things. He said, "Turn the pagans out of the 'Arabian Peninsula; respect and give gifts to the foreign delegations as you have seen me dealing with them." (Said bin Jubair, the sub-narrator said that Ibn Abbas kept quiet as rewards the third order, or he said, "I forgot it.")

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ،کہا ہم سے ،سفیان بن عیینہ نے انہوں نے سلیمان احول سے ،انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے کہا ابن عباسؓ کہتے تھے ،جمعرات کا دن !(ہائے) جمعرات کا دن !اسی دن رسول اللہﷺ کی بیماری سخت ہو گئی ،آپؑ نے فرمایا ۔لکھنے کا سامان لاوٗ میں تم کو ایک کتاب (وصیّت نامہ ) لکھوا جاوں ،تم اس پر چلو تو کبھی خراب نہ ہو گے ۔یہ سن کر صحابہ نے جھگڑنا شروع کیا۔ حالانکہ پیغمبر کے سامنے جھگڑا کرنا درست نہیں ،کوئی کہنے لگا کیا آپ (بیماری کی شدت سے )بڑبڑا رہے ہیں پھر تو پوچھو۔ اور لگے آپ سے پوچھنے ۔ آپؑ نے فرمایا ا جاؤ بھی ،جس کام میں مشغول ہوں ۔وہ اس سے بہتر ہے ،جس کے لئے تم کہہ رہے ہو اورآپ نے (زبانی)تین باتوں کی وصیّت کی، فرمایا مشرکوں کو عرب کے جزیرے سے باہر کر دینا ،(کوئی مشرک عرب میں نہ رہنے پائے )اور ایلچی لوگوں کی اسی طرح خاطر کرنا جس طرح میں کرتا تھا ،اور تیسری بات ابن عباسؓ نے (یا سعیدنے )بیان نہیں کی، یاسعید بن جبیر نے (یا سلیمان نے )کہا میں تیسری بات بھول گیاہوں۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلُمُّوا أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ‏.‏ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ‏.‏ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالاِخْتِلاَفَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قُومُوا ‏"‏‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَكَانَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ لاِخْتِلاَفِهِمْ وَلَغَطِهِمْ‏.‏

Narrated By Ubaidullah bin 'Abdullah : Ibn Abbas said, "When Allah's Apostle was on his deathbed and there were some men in the house, he said, 'Come near, I will write for you something after which you will not go astray.' Some of them (i.e. his companions) said, 'Allah's Apostle is seriously ill and you have the (Holy) Qur'an. Allah's Book is sufficient for us.' So the people in the house differed and started disputing. Some of them said, 'Give him writing material so that he may write for you something after which you will not go astray.' while the others said the other way round. So when their talk and differences increased, Allah's Apostle said, "Get up." Ibn Abbas used to say, "No doubt, it was very unfortunate (a great disaster) that Allah's Apostle was prevented from writing for them that writing because of their differences and noise."

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ،کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے کہا ،ہم کو معمر نے خبر دی ،انہوں نے زہری سے ،انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے ،انہوں نے کہا جب رسول اللہﷺ کی وفات ہونے لگی ۔اسوقت گھر میں کئی صحابہ بیٹھے تھے ۔آپ نے فرمایا۔ادھر آوٗ میں تم کو ایک کتاب (وصیّت نامہ)لکھوائے دیتا ہوں ۔تم اس پر چلتے رہو ۔تو کبھی گمراہ نہ ہو گے ،یہ سن کر کوئی (حضرت عمرؓ)کہنے لگے،رسول اللہﷺ پر تو بیماری سختی کی ہو رہی ہے اور تم لوگوں کے پاس قرآن (اللہ کی کتاب) موجود ہے ہم کو اللہ کی کتاب بس کرتی ہے۔اب گھر والوں میں جھگڑا ہونے لگا ۔کوئی کہتا تھا ۔لکھنے کا سامان لاوٗ اور کتاب لکھوا لو۔ اچھا ہے تم اس پر چلو تو گمراہ نہ ہو گے ۔کوئی اور کچھ کہتا تھا ۔(کہ کتاب لکھوانے کی ضرورت نہیں ) جب جھگڑابہت ہو گیا۔بکواس ہونے لگی ۔تو آپ نے فرمایا چلو اٹھو۔ عبیداللہ نے کہا ابن عباسؓ کہتے تھے ۔ہائے مصیبت وائے مصیبت ،رسول اللہﷺ کو بک بک اور اختلاف کرکے یہ کتاب لکھوانے نہ دی۔


حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ، فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَضَحِكَتْ فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ‏.‏ فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ‏.

Narrated By 'Aisha : The Prophet called Fatima during his fatal illness and told her something secretly and she wept. Then he called her again and told her something secretly, and she started laughing. When we asked her about that, she said, "The Prophet first told me secretly that he would expire in that disease in which he died, so I wept; then he told me secretly that I would be the first of his family to follow him, so I laughed (at that time)."

ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ،انہوں نے اپنے والد سعد بن ابراہیم سے ،انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے ،انہوں نے کہا نبیﷺ نے اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی حضرت فاطمہ الزہراؓ کو یاد فرمایا ۔ان کے کان میں بات کی وہ رونے لگیں ۔پھر بلایا اور کان میں بات کی تو وہ ہنس دیں ہم نے حضرت فاطمہؓ سے (جب آپؑ کی وفات ہو گئی )اسکی وجہ پوچھی انہوں نے کہا ۔پہلے تو نبیﷺ میرے کان میں یہ فرمایا تھا کہ میں اس بیماری سے بچنے والا نہیں یہ سن کر میں رو دی۔ پھر کان میں مجھ سے فرمایا کہ میںؓ آپ کے عزیزوں میں سب سے پہلے آپ سے ملوں گی تو میں ہنس دی۔


حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ، فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَضَحِكَتْ فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ‏.‏ ـ فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ‏.

Narrated By 'Aisha : The Prophet called Fatima during his fatal illness and told her something secretly and she wept. Then he called her again and told her something secretly, and she started laughing. When we asked her about that, she said, "The Prophet first told me secretly that he would expire in that disease in which he died, so I wept; then he told me secretly that I would be the first of his family to follow him, so I laughed (at that time)."

ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ،انہوں نے اپنے والد سعد بن ابراہیم سے ،انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے ،انہوں نے کہا نبیﷺ نے اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی حضرت فاطمہ الزہراؓ کو یاد فرمایا ۔ان کے کان میں بات کی وہ رونے لگیں ۔پھر بلایا اور کان میں بات کی تو وہ ہنس دیں ہم نے حضرت فاطمہؓ سے (جب آپؑ کی وفات ہو گئی )اسکی وجہ پوچھی انہوں نے کہا ۔پہلے تو نبیﷺ میرے کان میں یہ فرمایا تھا کہ میں اس بیماری سے بچنے والا نہیں یہ سن کر میں رو دی۔ پھر کان میں مجھ سے فرمایا کہ میںؓ آپ کے عزیزوں میں سب سے پہلے آپ سے ملوں گی تو میں ہنس دی۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لاَ يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ ‏{‏مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ‏}‏ الآيَةَ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ‏.‏

Narrated By 'Aisha : Used to hear (from the Prophet) that no Prophet dies till he is given the option to select either the worldly life or the life of the Hereafter. I heard the Prophet in his fatal disease, with his voice becoming hoarse, saying, "In the company of those on whom is the grace of Allah... (to the end of the Verse)." (4.69) Thereupon I thought that the Prophet had been given the option.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندرنے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے سعد بن ابراہیم سے ،انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا میں یہ سنا کرتی تھی کوئی پیغمبر اس وقت تک نہیں مرتا ۔جب تک اس کو(پروردگار کی طرف سے)یہ اختیار نہیں دیا جاتا کہ دنیا اختیار کرئے (یعنی دنیا میں اور رہنا)یا آخرت ،پھر میں نے نبیﷺ سے آپؑ کی وفات کی بیماری میں سنا آپ کو ٹھسکا لگا (اوچھو ہوا)فرماتے تھے یا اللہ ان لوگوں کے ساتھ رکھ جن پر تو نے اپناانعام کیا اخیر آیت تک جب میں سمجھی کہ آپ کو اختیار ملا۔


حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَرَضَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَعَلَ يَقُولُ ‏"‏ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : When the Prophet fell ill in his fatal illness, he started saying, "With the highest companion."

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے سعد بن ابراہیم سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نےحضرت عائشؓہ سے ،انہوں نے کہا جب نبیﷺ موت کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو فرماتے تھے یا اللہ بلند رفیقوں میں رکھ(یعنی پیغمبروں میں )۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ صَحِيحٌ يَقُولُ ‏"‏ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُحَيَّا أَوْ يُخَيَّرَ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ إِذًا لاَ يُجَاوِرُنَا‏.‏ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهْوَ صَحِيحٌ‏.‏

Narrated By 'Aisha : When Allah 's Apostle was in good health, he used to say, "Never does a prophet die unless he is shown his place in Paradise (before his death), and then he is made alive or given option." When the Prophet became ill and his last moments came while his head was on my thigh, he became unconscious, and when he came to his senses, he looked towards the roof of the house and then said, "O Allah! (Please let me be) with the highest companion." Thereupon I said, "Hence he is not going to stay with us? " Then I came to know that his state was the confirmation of the narration he used to mention to us while he was in good health.

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبردی۔ انہوں نے زہری سے ،کہ عروہ بن زبیر نے کہا حضرت عائشؓہ نے کہا رسول اللہﷺ جب اچھے تندرست تھے تو فرماتے تھے کوئی پیغمبر اس وقت تک نہیں مرا جب تک بہشت میں اس کا مقام اس کو نہیں دکھلایا گیا پھر اس کو اختیار نہیں دیا گیا چاہے (دنیا میں )زندہ رہے چاہے آخرت کو اختیار کرے،جب آپﷺ بیمار ہوئے آپ کا وقت آن پہنچا آپ کا سر میری ران پر تھا تو آپ کو غش آگیا ۔جب ہوش آئی تو نگاہ چھت کی طرف لگائی اور فرمایا بلند رفیقوں میں رکھ یا اللہ(جبرائیل ،اور میکائیل، اور اسرافیل کے ساتھ)اس وقت میں نے اپنے (دل میں )کہا اب آپ ہم لوگوں کے پاس رہنا گوارانہیں کریں گے اور میں سمجھ گئی آپ نے جو حدیث صحت کی حالت فرمائی تھی اسی کا ظہور ہوا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، وَمَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سِوَاكٌ رَطْبٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَأَبَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَصَرَهُ، فَأَخَذْتُ السِّوَاكَ فَقَصَمْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَنَّ بِهِ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَنَّ اسْتِنَانًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَمَا عَدَا أَنْ فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَفَعَ يَدَهُ أَوْ إِصْبَعَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ‏"‏‏.‏ ثَلاَثًا ثُمَّ قَضَى، وَكَانَتْ تَقُولُ مَاتَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي‏

Narrated By 'Aisha : 'Abdur-Rahman bin Abu Bakr entered upon the Prophet while I was supporting the Prophet on my chest. 'AbdurRahman had a fresh Siwak then and he was cleaning his teeth with it. Allah's Apostle looked at it, so I took the Siwak, cut it (chewed it with my teeth), shook it and made it soft (with water), and then gave it to the Prophet who cleaned his teeth with it. I had never seen Allah's Apostle cleaning his teeth in a better way. After finishing the brushing of his teeth, he lifted his hand or his finger and said thrice, "O Allah! Let me be with the highest companions," and then died. 'Aisha used to say, "He died while his head was resting between my chest and chin.

ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے بیان کیا کہا ہم سے عفّان بن مسلم نے انہوں نے صخر بن جویریہ سے ،انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے ،انہوں نے اپنے والد (قاسم بن محمد) سے ،انہوں نے حضرت عائشہؓ سے،انہوں نے کہا نبیﷺ کو (مرض موت میں ) میں نے اپنے سر پر ٹکا دئیے تھی اتنے میں عبدالرحمٰن بن ابی بکر ایک ہری مسواک لئے ہوئے آئے جس سے وہ مسواک کیا کرتے تھے ۔آپ نے اپنی نگاہ اس مسواک پر لگا دی ۔میں نے وہ مسواک عبدالرحمٰن سے لے کر کاٹ کر (یا دانتوں سے چبا کر نرم کرکے ) جھٹک کر پانی سے صاف پاک کرکے نبیﷺ کو دی ۔آپ نے مسواک کی اور ایسی خوبی کے ساتھ کی کہ اس سے اچھی مسواک کرتے میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا ۔پھر مسواک سے فارغ ہوتے ہی کچھ دیر نہیں گزری ۔کہ آپ نے اپنے ہاتھ یا انگلی کو اٹھایا پھر تین بار یہ فرمایا ۔بلند رفیقوں کا ساتھ عنایت فرما ۔اسکے بعد تمام ہوگئے (انتقال فرمایا) حضرت عائشؓہ کہتی تھیں نبیﷺ نے میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے بیچ میں انتقال فرمایا۔


حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ طَفِقْتُ أَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ‏.

Narrated By 'Aisha : Whenever Allah's Apostle became ill, he used to recite the Muawidhatan and blow his breath over himself (after their recitation) and rubbed his hands over his body. So when he was afflicted with his fatal illness. I started reciting the Muawidhatan and blowing my breath over him as he used to blow and made the hand of the Prophet pass over his body.

مجھ سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبردی ہم کو یونس نے انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے ان کو حضرت عائشہ صدیقہؓ نے انہوں نے کہا نبیﷺ جب بیمار ہوتے تو معوذات سورتیں (سورت اخلاص ،اور سورہ فلق اور سورت ناس)پڑھ کر دم کرتے اور ہاتھ اپنے بدن پر پھیرتے)جب آپؑ موت کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو میں نے یہ سورتیں پڑھ کر آپﷺ پر دم کیا اورآپ کا ہاتھ لے کر آپؑ کے بدن پر پھیرتی (اس امید سے کہ شاید آپ اچھے ہو جائیں )۔


حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، وَهْوَ مُسْنِدٌ إِلَىَّ ظَهْرَهُ يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : I heard the Prophet and listened to him before his death while he was leaning his back on me and saying, "O Allah! Forgive me, and bestow Your Mercy on me, and let me meet the companions."

ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ۔کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے کہا۔ہم سے ہشام بن عروہ نے ،انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر بن عوام سے ،ان سے حضرت عائشہؓ نے ،انہوں نے کہا وفات سے پہلے میں نے کان لگاکر نبیﷺ کی بات سنی ۔آپ اپنی پیٹھ کاٹیکا مجھ سے دئیےہوئے تھے ،اور یہ فرمارہے تھے یا اللہ مجھ کو بخش دے ،مجھ پر رحم کر ۔مجھ کو بلند رفیقوں سے ملا دے۔


حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلاَلٍ الْوَزَّانِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ ‏"‏ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ لَوْلاَ ذَلِكَ لأُبْرِزَ قَبْرُهُ‏.‏ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا‏.‏

Narrated By Urwa bin Az-Zubair : 'Aisha said, "The Prophet said during his fatal illness, "Allah cursed the Jews for they took the graves of their prophets as places for worship." 'Aisha added, "Had it not been for that (statement of the Prophet) his grave would have been made conspicuous. But he was afraid that it might be taken as a place for worship."

ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا ،کہا ہم سے ابو عوانہ (وضاح یشکری)نے ،انہوں نے ہلال بن ابی حمید وزان سے انہوں نے عروہ بن زبیر بن عوام سے ،انہوں نے حضرت عائشہؓ سے ،انہوں نے کہا نبیﷺ نے اس بیماری میں جس سے (اچھے ہو کر) نہیں اٹھے ۔یہ فرمایا یا اللہ یہودیوں پر لعنت کرے ۔جنہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنالیا ۔حضرت عائشہؓ نے کہا اگر مجھ کو یہ ڈرنہ ہوتا کہ لوگ آپ کی قبر کو مسجد بنا لیں گے۔ تو آپ کی قبر کھول دی جاتی۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ وَهْوَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ، بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قَالَ قُلْتُ لاَ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ عَلِيٌّ‏.‏ وَكَانَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا دَخَلَ بَيْتِي وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ قَالَ ‏"‏ هَرِيقُوا عَلَىَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ ‏"‏‏.‏ فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْقِرَبِ، حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ قَالَتْ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَصَلَّى لَهُمْ وَخَطَبَهُمْ‏.

Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) "When the ailment of Allah's Apostle became aggravated, he requested his wives to permit him to be (treated) nursed in my house, and they gave him permission. He came out (to my house), walking between two men with his feet dragging on the ground, between 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib and another man" 'Ubaidullah said, "I told 'Abdullah of what 'Aisha had said, 'Abdullah bin 'Abbas said to me, 'Do you know who is the other man whom 'Aisha did not name?' I said, 'No.' Ibn 'Abbas said, 'It was 'Ali bin Abu Talib." 'Aisha, the wife of the Prophet used to narrate saying, "When Allah's Apostle entered my house and his disease became aggravated, he said, " Pour on me the water of seven water skins, the mouths of which have not been untied, so that I may give advice to the people.' So we let him sit in a big basin belonging to Hafsa, the wife of the Prophet and then started to pour water on him from these water skins till he started pointing to us with his hands intending to say, 'You have done your job." 'Aisha added, "Then he went out to the people and led them in prayer and preached to them."

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا کہا مجھ سے لیث بن سعد نے کہا مجھ سے عقیل نے انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے کہا جب نبیﷺ (ام المؤمنین میمونہؓ کے گھر میں) بیمار ہوئے اور آپؐ کی بیماری سخت ہو گئی تو آپؐ نے اپنی (دوسری) بی بیوں سے اجازت لی کہ بیماری میں میرے گھر میں رہیں۔ انہوں نے اجازت دی۔ آپؐ دو آدمیوں ایک عباسؓ اور ایک اور شخص پر ٹیکا دیئے ہوئے اس طرح باہر نکلے کہ آپؐ کے دونوں پاؤں (ضعف اور ناتوانی سے) زمین پر لکیر کرتےجاتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا میں نے عائشہؓ کی یہ حدیث عبداللہ بن عباسؓ سے بیان کی انہوں نے کہا تو جانتا ہے وہ دوسرے شخص کون تھے جن کا نام عائشہؓ نے نہیں لیا۔ میں نے کہا میں نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا وہ علیؓ تھے۔ خیر عائشہؓ یہ بیان کرتی تھیں کہ نبیﷺ جب میرے حجرے میں تشریف لائے اور آپؐ کی بیماری سخت ہو گئی تو آپؐ نے یہ حکم دیا سات مشکیں پانی کی لاؤ جن کے منہ نہ کھولے گئے ہوں اور میرے اوپر بہاؤ شاید (مجھ کو تخفیف ہو اور) میں لوگوں کو وصیت کر سکوں۔ عائشہؓ کہتی تھیں ہم نے آپؐ کو صفیہؓ کے ایک کنگال میں بٹھایااور یہ مشکیں آپؐ پر چھوڑنا شروع کیں یہاں تک کہ آپؐ نے اشارے سے فرمایا بس کرو بس۔ پھر آپؐ لوگوں کی طرف برآمد ہوئے ان کو نماز پڑھائی اور وعظ سنائی۔


وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهم قَالاَ لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ وَهْوَ كَذَلِكَ يَقُولُ ‏"‏ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ‏"‏‏.‏ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا‏.‏

'Aisha and 'Abdullah bin 'Abbas said, "When Allah's Apostle became ill seriously, he started covering his face with his woollen sheet, and when he felt short of breath, he removed it from hi; face and said, 'That is so! Allah's (curse be on the Jews and the Christians, as they took the graves of their prophets as (places of worship),' intending to warn (the Muslims) of what they had done."

زہری نے کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ عائشہؓ اور ابن عباسؓ نے کہا جب رسول اللہﷺ پر بیماری آن پڑی تو آپؐ چادر سے منہ کو چھپانے لگے جب (گرمی سے) گھبراتے تو منہ کھول دیتے اور اسی حالت میں یوں فرماتے یہود و نصارٰی پر اللہ کی لعنت انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبر کو مسجد بنا لیا۔ آپؐ لوگوں کو اس برے کام سے ڈراتے تھے۔


وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهم قَالاَ لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ وَهْوَ كَذَلِكَ يَقُولُ ‏"‏ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ‏"‏‏.‏ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا‏.‏

'Aisha and 'Abdullah bin 'Abbas said, "When Allah's Apostle became ill seriously, he started covering his face with his woollen sheet, and when he felt short of breath, he removed it from hi; face and said, 'That is so! Allah's (curse be on the Jews and the Christians, as they took the graves of their prophets as (places of worship),' intending to warn (the Muslims) of what they had done."

زہری نے کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ عائشہؓ اور ابن عباسؓ نے کہا جب رسول اللہﷺ پر بیماری آن پڑی تو آپؐ چادر سے منہ کو چھپانے لگے جب (گرمی سے) گھبراتے تو منہ کھول دیتے اور اسی حالت میں یوں فرماتے یہود و نصارٰی پر اللہ کی لعنت انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبر کو مسجد بنا لیا۔ آپؐ لوگوں کو اس برے کام سے ڈراتے تھے۔


أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا، وَلاَ كُنْتُ أُرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ أَحَدٌ مَقَامَهُ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَبِي بَكْرٍ‏.‏ رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو مُوسَى وَابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

'Aisha added, "I argued with Allah's Apostle repeatedly about that matter (i.e. his order that Abu Bakr should lead the people in prayer in his place when he was ill), and what made me argue so much, was, that it never occurred to my mind that after the Prophet, the people would ever love a man who had taken his place, and I felt that anybody standing in his place, would be a bad omen to the people, so I wanted Allah's Apostle to give up the idea of choosing Abu Bakr (to lead the people in prayer)."

زہری نے کہا مجھ کو عبیداللہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہؓ نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے اس امر میں (یعنی ابو بکر صدیقؓ کی امامت میں) جو تکرار کی کئی بار معروضہ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں یہ نہیں سمجھی کہ رسول اللہﷺ کے بعد جو کوئی آپؐ کا جانشین ہو گا لوگ اس کو محبت کی نگاہ سے دیکھیں گے بلکہ میں یہ سمجھی کہ جو کوئی آپؐ کا جانشین ہو گا لوگ اس کو منحوس (سبز قدم) سمجھیں گے۔ اس لئے میں نے یہ چاہا کہ رسول اللہﷺ حضرت ابو بکرؓ کو اس کام سے (یعنی امامت سے) معاف رکھیں۔ اس حدیث کو عبداللہ بن عمرؓ اور ابو موسٰی اشعریؓ اور ابن عباسؓ نے بھی رسول اللہﷺ سے روایت کیا ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَاتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلاَ أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet died while he was between my chest and chin, so I never dislike the death agony for anyone after the Prophet.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے کہا ۔مجھ سے یزید بن عبداللہ بن ہاد نے ۔انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے،انہوں نے اپنے والد (قاسم بن محمد )سے ،انہوں نے حضرت عائشؓہ سے،انہوں نے کہا نبیﷺ نے میری دگدگی اور ٹھوڑی کے بیچ میں انتقال فرمایا۔ جب سے میں نے نبیﷺ پر موت کی سختی دیکھی اس کے بعدسےمیں موت کی سختی کسی کے لئے برا نہیں سمجھتی۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ ـ وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَحَدَ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنه ـ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ يَا أَبَا حَسَنٍ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا، فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلاَثٍ عَبْدُ الْعَصَا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لأُرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَوْفَ يُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ هَذَا، إِنِّي لأَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الأَمْرُ، إِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا عَلِمْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا‏.‏ فَقَالَ عَلِيٌّ إِنَّا وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَنَعَنَاهَا لاَ يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.

Narrated By 'Abdullah bin Abbas : Ali bin Abu Talib came out of the house of Allah's Apostle during his fatal illness. The people asked, "O Abu Hasan (i.e. Ali)! How is the health of Allah's Apostle this morning?" 'Ali replied, "He has recovered with the Grace of Allah." 'Abbas bin 'Abdul Muttalib held him by the hand and said to him, "In three days you, by Allah, will be ruled (by somebody else), And by Allah, I feel that Allah's Apostle will die from this ailment of his, for I know how the faces of the offspring of 'Abdul Muttalib look at the time of their death. So let us go to Allah's Apostle and ask him who will take over the Caliphate. If it is given to us we will know as to it, and if it is given to somebody else, we will inform him so that he may tell the new ruler to take care of us." 'Ali said, "By Allah, if we asked Allah's Apostle for it (i.e. the Caliphate) and he denied it us, the people will never give it to us after that. And by Allah, I will not ask Allah's Apostle for it."

مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم کو بشر بن شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی،کہا مجھ کو والد نے ،انہوں نے زہری سے کہا ،مجھ کو عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے خبردی ،ان کے والد کعب بن مالک انصاری نے خبر دی۔ان کے والد کعب بن مالکؓ ان تین شخصوں میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے (غزوہ تبوک سے بیٹھ رہنے کا گناہ)معاف کر دیا تھا۔(یہ قصّہ اوپر گزر چکاہے)ان کو عبداللہ بن عباسؓ نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی موت کی بیماری میں حضرت علیؓ آپ کے پاس سے باہر نکلے۔لوگوں نے ان سے پوچھا ابو الحسنؓ رسول اللہﷺ کا آج مزاج کیسا ہے ۔انہوں نے کہا اللہ کا شکر آج تو مزاج بحال ہے یہ سن کر عباسؓ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے خدا کی قسم تم تین دن کے بعد غلام بنو گے اور میں تو بخدا یہ سمجھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ اس بیماری میں عنقریب گزر جائیں گے۔ میں عبدالمطلب کی اولاد کا منہ دیکھ کر پہچان لیتا ہوں جب وہ مرنے والے ہوتے ہیں ۔دیکھو علیؓ (بہتر یہ ہے) ہم تم رسول اللہﷺ کے پاس جائیں (ابھی آپ زندہ ہیں ) آپؐ سے پوچھ لیں آپ کے بعد کون آپ کا خلیفہ ہو گا ۔اگر آپ ہم لوگوں کو (یعنی بنی ہاشم کو)خلافت دیں تب تو خیر ہم کو معلوم ہو جائیگا اگر آپؑ دوسرے کسی کو خلیفہ کریں تو اسکو فرماجائیں گے (وہ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہے گا)حضرت علیؓ نے کہا ایسا نہ ہو ہم آپ سے پوچھیں اور آپ ہم لوگوں کو خلافت نہ دیں پھر تو لوگ (قیامت تک) آپ کے بعد کبھی ہم کو خلیفہ نہیں بنانے کے اور میں رسول اللہﷺ سے خلافت کا سوال نہیں کرنے کا۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ الْمُسْلِمِينَ، بَيْنَا هُمْ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي لَهُمْ لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ فِي صُفُوفِ الصَّلاَةِ‏.‏ ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ فَقَالَ أَنَسٌ وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلاَتِهِمْ فَرَحًا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ الْحُجْرَةَ وَأَرْخَى السِّتْرَ‏

Narrated By Anas bin Malik : While the Muslims were offering the Fajr prayer on Monday and Abu Bakr was leading them in prayer, suddenly Allah's Apostle lifted the curtain of 'Aisha's dwelling and looked at them while they were in the rows of the prayers and smiled. Abu Bakr retreated to join the row, thinking that Allah's Apostle wanted to come out for the prayer. The Muslims were about to be put to trial in their prayer (i.e. were about to give up praying) because of being overjoyed at seeing Allah's Apostle. But Allah's Apostle beckoned them with his hand to complete their prayer and then entered the dwelling and let fall the curtain.

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا کہا مجھ سے لیث بن سعد نے کہا ہم سے عقیل نے ،انہوں نے ابن شہاب سے کہامجھ سے انس بن مالکؓ نے بیان کیا پیر کے دن مسلمان صبح کی نماز ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے پڑھ رہے تھے اتنے میں وہ چونک گئے رسول اللہﷺنے حضرت عائشہؓ کے حجرے کا پردہ اٹھایا ۔مسلمانوں کو دیکھا وہ نماز میں صفیں باندھے (کھڑے)ہیں ۔آپؑ مسکرا کر ہنس دئیے (خوش ہوئے کہ مسلمان نماز پر قائم ہیں )یہ حال دیکھ کر ابوبکرؓ ایڑیوں کے بل پیچھے سرکے تاکہ صف میں شامل ہو جائیں۔وہ یہ سمجھے کہ رسول اللہﷺ نماز کے لئے برآمد ہوا چاہتے ہیں انسؓ نے کہا رسول اللہﷺ کو دیکھ کر مسلمانوں کو تو اتنی خوشی ہوئی کی نماز توڑنے ہی کو تھے لیکن آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔اپنی نماز پوری کرو ۔پھر رسول اللہﷺ حجرے کے اندر ہوگئے پردہ ڈال لیا۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو، ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَىَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَأَنَّ اللَّهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ، دَخَلَ عَلَىَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبِيَدِهِ السِّوَاكُ وَأَنَا مُسْنِدَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاكَ فَقُلْتُ آخُذُهُ لَكَ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ، فَتَنَاوَلْتُهُ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَقُلْتُ أُلَيِّنُهُ لَكَ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ، فَلَيَّنْتُهُ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ ـ أَوْ عُلْبَةٌ يَشُكُّ عُمَرُ ـ فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ يَقُولُ ‏"‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ ‏"‏ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ‏"‏‏.‏ حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ‏.‏

Narrated By 'Aisha : It was one of the favours of Allah towards me that Allah's Apostle expired in my house on the day of my turn while he was leaning against my chest and Allah made my saliva mix with his saliva at his death. 'Abdur-Rahman entered upon me with a Siwak in his hand and I was supporting (the back of) Allah's Apostle (against my chest). I saw the Prophet looking at it (i.e. Siwak) and I knew that he loved the Siwak, so I said (to him), "Shall I take it for you ? " He nodded in agreement. So I took it and it was too stiff for him to use, so I said, "Shall I soften it for you ?" He nodded his approval. So I softened it and he cleaned his teeth with it. In front of him there was a jug or a tin, (The sub-narrator, 'Umar is in doubt as to which was right) containing water. He started dipping his hand in the water and rubbing his face with it, he said, "None has the right to be worshipped except Allah. Death has its agonies." He then lifted his hands (towards the sky) and started saying, "With the highest companion," till he expired and his hand dropped down.

مجھ سے محمد بن عبید نے بیان کیا ۔کہا ہم سے عیسےٰ بن یونس نے ،انہوں نے عمر بن سعید سے کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبردی کہ ابو عمر وذکوان نے جوحضرت عائشؓہ کا غلام تھا ۔ان سے بیان کیا حضرت عائشؓہ کہتی تھیں ،اللہ کے احسانوں میں سے ایک احسان مجھ پر یہ بھی ہے کہ رسول اللہﷺ نے میری باری کے دن میرے گھر میں وفات پائی وفات کے وقت آپ کا سر میرے سینے اور دگدگی کے بیچ میں تھا ۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے وقت میرا اور آپ کا تھوک ملا دیا ۔ہوا یہ کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر ایک مسواک لئے ہوئے آئے میں رسول اللہﷺ کو اپنے اوپر ٹیکا دئیے ہوئے تھی ،میں نے دیکھا آپ مسواک کو تک رہے ہیں اور مجھ کو معلوم تھا۔آپ مسواک کو جیسا پسند کرتے تھے میں نے عرض کیا یہ مسواک آپ کے لئے لے لوں ۔آپ نے اشارے سے فرمایا ہاں ،میں نے وہ مسواک(عبدالرحمٰن سے لے کر) آپ کو دی لیکن آپ پر بیماری کی سختی تھی میں نے کہا میں نرم کردوں ،آپ نے فرمایا ہاں ،میں نے چبا کر نرم کردی ،آپ نے وہ مسواک دانتوں پر پھیری ،آپ کے سامنے پانی کی ایک چھاگل رکھی تھی آپ اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈالتے اور منہ پر پھیر تے فرماتے لا الہ الا اللہ موت میں بڑی سختیاں ہوتی ہیں پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا (اللہ) بلند رفیقوں میں رکھ ،یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک نکل گئ آپ کا ہاتھ گرگیا۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ يَقُولَ ‏"‏ أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا ‏"‏ يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَىَّ فِيهِ فِي بَيْتِي، فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي، وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي ـ ثُمَّ قَالَتْ ـ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ‏.‏ فَأَعْطَانِيهِ فَقَضِمْتُهُ، ثُمَّ مَضَغْتُهُ فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَنَّ بِهِ وَهْوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى صَدْرِي‏.‏

Narrated By Urwa : 'Aisha said, "Allah's Apostle in his fatal illness, used to ask, 'Where will I be tomorrow? Where will I be tomorrow?", seeking 'Aisha's turn. His wives allowed him to stay wherever he wished. So he stayed at 'Aisha's house till he expired while he was with her." 'Aisha added, "The Prophet expired on the day of my turn in my house and he was taken unto Allah while his head was against my chest and his saliva mixed with my saliva." 'Aisha added, "Abdur-Rahman bin Abu Bakr came in, carrying a Siwak he was cleaning his teeth with. Allah's Apostle looked at it and I said to him, 'O 'AbdurRahman! Give me this Siwak.' So he gave it to me and I cut it, chewed it (it's end) and gave it to Allah's Apostle who cleaned his teeth with it while he was resting against my chest."

ہم سے اسمعٰیل بن ابی اویس نے بیان کیا ۔کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے کہا ،ہم سے ہشام بن عروہ نے کہا ،مجھ کو میرے والد نے خبر دی ،انہوں نے حضرت عائشہؓ سے ،انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے جس بیماری میں انتقال فرمایا اس میں یوں پوچھتے تھے کل میں کہاں ہوں گا ،کل میں کہاں ہوں گا ،آپ کا مطلب یہ تھا کہ عائشہؓ کی باری کب آئے گی۔یہ حال دیکھ کر(کہ آپؑ حضرت عائشہؓ کے پاس رہنا پسند کرتے ہیں )آپ کی بی بیوں نے آپؑ کو اجازت دی جہاں چاہیں وہاں رہیں ،آپ وفات تک حضرت عائشہؓ ہی کے پاس رہے حضرت عائشہؓ کہتی ہیں (اتفاق سے )آپ کی وفات جس دن ہوئی وہ دن میری باری کا تھا اللہ نے اس وقت آپ کی روح قبض کی ،جب آپ کا سر میری دگدگی اور سینہ کے درمیان تھا اور اللہ نے آپ کا اور میرا تھوک ملادیا۔ ہوایہ کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر (میرے بھائی)ایک مسواک لئے ہوئے آئے جس کو وہ اپنے دانتوں پر رگڑاکرتے تھے ،رسول اللہﷺ نے اس مسواک کو دیکھا میں ( سمجھ گئ) نے کہا عبدالرحمٰن یہ مسواک مجھ کو دئے انہوں نےدے دی ،میں نے اس کو تراش کر دانتوں سے چبایا (نرم کیا)پھر وہ مسواک نبیﷺ کو دی آپ نے میرے سینے سے ٹیکا لگائے ہوئے دانتوں پر پھیری۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تُعَوِّذُهُ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ، فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ ‏"‏ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ‏"‏‏.‏ وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً فَأَخَذْتُهَا، فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا وَنَفَضْتُهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ مُسْتَنًّا ثُمَّ نَاوَلَنِيهَا فَسَقَطَتْ يَدُهُ ـ أَوْ سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ ـ فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الآخِرَةِ‏.

Narrated By 'Aisha : The Prophet expired in my house and on the day of my turn, leaning against my chest. One of us (i.e. the Prophet's wives) used to recite a prayer asking Allah to protect him from all evils when he became sick. So I started asking Allah to protect him from all evils (by reciting a prayer). He raised his head towards the sky and said, "With the highest companions, with the highest companions." 'Abdur-Rahman bin Abu Bakr passed carrying a fresh leaf-stalk of a date-palm and the Prophet looked at it and I thought that the Prophet was in need of it (for cleaning his teeth). So I took it (from 'Abdur Rahman) and chewed its head and shook it and gave it to the Prophet who cleaned his teeth with it, in the best way he had ever cleaned his teeth, and then he gave it to me, and suddenly his hand dropped down or it fell from his hand (i.e. he expired). So Allah made my saliva mix with his saliva on his last day on earth and his first day in the Hereafter.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے ،انہوں نے کہا کہ نبیﷺ نے میرے گھر میں میری باری کے دن میرے سینے اور دگدگی کے بیچ میں وفات پائی اور ہم لوگوں کا قاعدہ تھا ،جب آپ بیمار ہوتے تودعا پڑھ کر آپ کے واسطے پناہ مانگتے، میں نے آپ کے لئے پناہ مانگنا شروع کی، (یعنی معوذات سورتیں پڑھ کر) آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھایا اور فرمایا (یا اللہ)بلند رفیقوں میں (رکھ)بلند رفیقوں میں ۔عبدالرحمٰن بن ابی بکر ادھر آنکلے ان کے ہاتھ میں تازہ ٹہنی تھی۔آپ نے ادھر نگاہ ڈالی، (یا میری طرف نگاہ کی)میں سمجھ گئ،کہ آپ اس سے مسواک کرنا چاہتے ہیں ،میں نے اس کو لے لیا اور چبا کر جھاڑ کر آپ کو دی آپ نے بہت اچھی طرح سے اس کو دانتوں پر پھیرا پھر وہ مسواک مجھ کو دیتے وقت آپ کا ہاتھ گرگیا یا مسواک ہاتھ سے گر گئی اللہ تعالیٰ(کا فضل تھا اس)نے آپ کے دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میں میرا اور آپ کا تھوک ملادیا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَتَيَمَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُغَشًّى بِثَوْبِ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى‏.‏ ثُمَّ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ لاَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا‏.‏

Narrated By 'Aisha : Abu Bakr came from his house at As-Sunh on a horse. He dismounted and entered the Mosque, but did not speak to the people till he entered upon 'Aisha and went straight to Allah's Apostle who was covered with Hibra cloth (i.e. a kind of Yemenite cloth). He then uncovered the Prophet's face and bowed over him and kissed him and wept, saying, "Let my father and mother be sacrificed for you. By Allah, Allah will never cause you to die twice. As for the death which was written for you, has come upon you."

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ،کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی ان کو حضرت عائشہؓ نے (جب نبیﷺ کی وفات ہو گئ)ابو بکرؓ ایک گھوڑےپر سوار (اپنے گھر سے جو سخ میں تھا )آئے گھوڑے سے اتر کر مسجد میں آئے کسی سے بات نہیں کی۔ میرے حجرے میں آئے رسول اللہﷺ کی(نعش کی) طرف گئے آپؑکوایک یمن کے کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کپڑا اُٹھایا پھر آپؑ کے اوپر اوندھے گر کر روئے، بوسہ دیا، کہنے لگے میرے ماں باپ آپؑ پر صدقے اللہ تعالیٰ دو بار آپؑ کو نہیں مارنے کا ۔بس ایک موت جو اللہ نے آپؑ کے لئے لکھ دی ،(فرمایا ایک موت)وہ ہو چکی ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَتَيَمَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُغَشًّى بِثَوْبِ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى‏.‏ ثُمَّ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ لاَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا‏.‏

Narrated By 'Aisha : Abu Bakr came from his house at As-Sunh on a horse. He dismounted and entered the Mosque, but did not speak to the people till he entered upon 'Aisha and went straight to Allah's Apostle who was covered with Hibra cloth (i.e. a kind of Yemenite cloth). He then uncovered the Prophet's face and bowed over him and kissed him and wept, saying, "Let my father and mother be sacrificed for you. By Allah, Allah will never cause you to die twice. As for the death which was written for you, has come upon you."

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ،کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی ان کو حضرت عائشہؓ نے (جب نبیﷺ کی وفات ہو گئ)ابو بکرؓ ایک گھوڑےپر سوار (اپنے گھر سے جو سخ میں تھا )آئے گھوڑے سے اتر کر مسجد میں آئے کسی سے بات نہیں کی۔ میرے حجرے میں آئے رسول اللہﷺ کی(نعش کی) طرف گئے آپؑکوایک یمن کے کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کپڑا اُٹھایا پھر آپؑ کے اوپر اوندھے گر کر روئے، بوسہ دیا، کہنے لگے میرے ماں باپ آپؑ پر صدقے اللہ تعالیٰ دو بار آپؑ کو نہیں مارنے کا ۔بس ایک موت جو اللہ نے آپؑ کے لئے لکھ دی ،(فرمایا ایک موت)وہ ہو چکی ۔


قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، خَرَجَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ اجْلِسْ يَا عُمَرُ، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ‏.‏ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَتَرَكُوا عُمَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَّا بَعْدُ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَىٌّ لاَ يَمُوتُ، قَالَ اللَّهُ ‏{‏وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏الشَّاكِرِينَ‏}‏ وَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى تَلاَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَمَا أَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلاَّ يَتْلُوهَا‏.‏ فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ قَالَ وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلاَهَا فَعَقِرْتُ حَتَّى مَا تُقِلُّنِي رِجْلاَىَ، وَحَتَّى أَهْوَيْتُ إِلَى الأَرْضِ حِينَ سَمِعْتُهُ تَلاَهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ مَاتَ‏.‏

Narrated Ibn 'Abbas: Abu Bakr went out while Umar bin Al-Khattab was talking to the people. Abu Bakr said, "Sit down, O 'Umar!" But 'Umar refused to sit down. So the people came to Abu Bakr and left Umar. Abu Bakr said, "To proceed, if anyone amongst you used to worship Muhammad , then Muhammad is dead, but if (anyone of) you used to worship Allah, then Allah is Alive and shall never die. Allah said: "Muhammad is no more than an Apostle, and indeed (many) apostles have passed away before him...(till the end of the Verse)... Allah will reward to those who are thankful." (3.144) By Allah, it was as if the people never knew that Allah had revealed this Verse before till Abu Bakr recited it and all the people received it from him, and I heard everybody reciting it (then). Narrated Az-Zuhri: Said bin Al-Musaiyab told me that 'Umar said, "By Allah, when I heard Abu Bakr reciting it, my legs could not support me and I fell down at the very moment of hearing him reciting it, declaring that the Prophet had died."

زہری نے کہا مجھ سے ابو سلمہ نے عبداللہ بن عباسؓ سے یہ روایت بیان کی، پھر ابوبکرؓ (نبیﷺ کو دیکھ کر )آپؑ کے پاس سے باہر نکلے اس وقت حضرت عمرؓ (باہر کھڑے تھے )لوگوں سے باتیں کر رہے تھے (کہ نبیﷺ نہیں مرے)ابو بکر نے ان سے کہا اجی بیٹھو بھی انہوں نے نہ سنا ،آخر سب لوگ حضرت ابوبکرؓ کے پاس جمع ہو گئے ۔عمرؓ کو چھوڑ دیا ابوبکر نے یہ کہا (سنو لوگو)اما بعدتم میں جو کوئی اگر محمد ﷺکی پوجا کرتا تھا (یہ سمجھتا تھا کہ وہ پروردگار کی طرح کبھی مرنے والے نہیں ہیں )تو محمد تو مر گئے ۔(اس کا خیال غلط ٹھہرا)اور جو کوئی اللہ کی پوجا کرتا تھا ۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے کبھی مرنے والا نہیں ہے اللہ تعالیٰ خود قرآن میں (سورہٗ آل عمران میں )فرماتا ہے محمد تو اور کچھ نہیں وہ اللہ کے بھیجے ہوئے (بندے)ہیں بس ان سے پہلے کئ بندے بھیجےہوئے آچکے ہیں اخیر آیت وسیجزی اللہُ الشَّاکرین تک ابن عباسؓ کہتے تھے (جب ابو بکرؓ نے یہ آیت پڑھی تو ایسا معلوم ہوا جیسے لوگ یہ جانتے ہی نہ تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ہے ابوبکرؓ نے پڑھی تو معلوم ہوا ،خیر پھر تو سب نے یہ آیت ابوبکرؓ سے سیکھ لی اور جس کو دیکھو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا زہری نے کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا حضرت عمرؓ کہتے تھے ایسا معلوم ہوا میں نے یہ آیت سنی ہی نہ تھی جب ابو بکرؓ نے پڑھی تو میں نے سنی اس وقت میں سہم گیا اور دہشت کے مارے میرے پاؤں نہیں اٹھتے تھے ،میں زمین پر گرگیا جوں ہی میں نے یہ آیت ابو بکرؓ سے سنی اور مجھ کو معلوم ہوا کہ نبیﷺ کی وفات ہو گئ۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْر ٍ ـ رضى الله عنه ـ قَبَّلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَوْتِهِ‏.‏

Narrated By 'Aisha and Ibn Abbas : Abu Bakr kissed the Prophet after his death.

مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے سفیان ثوری سے انہوں نے موسیٰ بن ابی عائشہؓ سے انہوں نے عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ اور عبداللہ بن عباسؓ سے کہ ابو بکر صدیق نے نبیﷺکی وفات کے بعد آپؑ کو بوسہ دیا۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْر ٍ ـ رضى الله عنه ـ قَبَّلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَوْتِهِ‏.‏

Narrated By 'Aisha and Ibn Abbas : Abu Bakr kissed the Prophet after his death.

مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے سفیان ثوری سے انہوں نے موسیٰ بن ابی عائشہؓ سے انہوں نے عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ اور عبداللہ بن عباسؓ سے کہ ابو بکر صدیق نے نبیﷺکی وفات کے بعد آپؑ کو بوسہ دیا۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْر ٍ ـ رضى الله عنه ـ قَبَّلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَوْتِهِ‏.‏

Narrated By 'Aisha and Ibn Abbas : Abu Bakr kissed the Prophet after his death.

مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے سفیان ثوری سے انہوں نے موسیٰ بن ابی عائشہؓ سے انہوں نے عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ اور عبداللہ بن عباسؓ سے کہ ابو بکر صدیق نے نبیﷺکی وفات کے بعد آپؑ کو بوسہ دیا۔


حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَزَادَ، قَالَتْ عَائِشَةُ لَدَدْنَاهُ فِي مَرَضِهِ فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ لاَ تَلُدُّونِي فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ‏"‏ أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي ‏"‏‏.‏ قُلْنَا كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يَبْقَى أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلاَّ لُدَّ ـ وَأَنَا أَنْظُرُ ـ إِلاَّ الْعَبَّاسَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.

Narrated By 'Aisha : We poured medicine in one side of the Prophet's mouth during his illness and he started pointing to us, meaning to say, "Don't pour medicine in my mouth." We said, "(He says so) because a patient dislikes medicines." When he improved and felt a little better, he said, "Didn't I forbid you to pour medicine in my mouth ?" We said, "(We thought it was because of) the dislike, patients have for medicines. He said, "Let everyone present in the house be given medicine by pouring it in his mouth while I am looking at him, except 'Abbas as he has not witnessed you (doing the same to me)."

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اور یہی حدیث نقل کی ۔اتنا زیادہ کیا کہ حضرت عائشہؓ نےکہا ہم نے آپؑ کے منہ میں دوا ڈالی (جب آپؑ بیمار تھے) آپؑ اشارے سے منع کرنے لگے میرے منہ میں دوا مت لگاوٗ ہم سمجھے کہ آپ کا منع کرنا ایسا ہے جیسے ہر ایک بیمار دوا سے کراہت کرتا ہے،پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا میں تم کو منع کرتا رہا کہ میرے منہ میں دوا مت لگاؤ (لیکن تم نے نہ سنا )ہم نے کہا ہم یہ سمجھے کہ آپ کا منع کرنا ایسا ہے جیسے ہر بیمار دوا سے کراہت کرتا ہے آپ نے فرمایا(تو اچھا ،اب تم لوگوں کی سزا یہ ہے ) گھر میں کوئی آدمی باقی نہ رہے سب کے منہ میں دوا ڈالی جائے ،ایک عباسؓ کو چھوڑ دو وہ موجود نہ تھا اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن ابی زناد نے بھی ہشام سے انہوں نے اپنے والد عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے،انہوں نے نبیﷺ سے روایت کیا ہے ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَتْ مَنْ قَالَهُ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَانْخَنَثَ فَمَاتَ، فَمَا شَعَرْتُ، فَكَيْفَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ

Narrated By Al-Aswad : It was mentioned in the presence of 'Aisha that the Prophet had appointed 'Ali as successor by will. Thereupon she said, "Who said so? I saw the Prophet, while I was supporting him against my chest. He asked for a tray, and then fell on one side and expired, and I did not feel it. So how (do the people say) he appointed 'Ali as his successor?"

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم کو ازہر بن سعد سمان نے خبر دی کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے اسود بن یزید سے انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ کے سامنے کسی نے ذکر کیا کہ نبیﷺ نے حضرت علیؓ کو (وفا ت کے وقت)اپنا وصی (خلیفہ) بنایا،تھا۔ انہوں نے کہا کون کہتا ہے میں نے تو خوددیکھا میں نبیﷺ کو اپنے سینے سے ٹیکا دئیے ہوئے تھی ،آپؑ نے طشت منگوایا پھر ایک طرف جھک گئے اور انتقال فرمایامجھ تک کو خبر نہ ہوئی علیؓ کو کب وصی بنایا۔


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ أَوْصَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لاَ‏.‏ فَقُلْتُ كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِهَا قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ‏.

Narrated By Talha : I asked 'Abdullah bin Abu 'Aufa "Did the Prophet make a will? ' He replied, "No." I further asked, "How comes it that the making of a will was enjoined on the people or that they were ordered to make it? " He said, "The Prophet made a will concerning Allah's Book."

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے مالک بن مغول نے انہوں نے طلحہ بن مصف سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفیؓ (صحابی) سے پوچھا کیا نبیﷺ نے کسی کو وصی بنایاتھا ؟انہوں نے کہا نہیں میں نے پوچھا پھر لوگوں پر وصیت کرنا کیسے فرض ہے یا وصیت کرنے کا کیسے حکم ہے انہوں نے کہا آپ نے اللہ کی کتاب پر عمل کرتے رہنے کی وصیت کی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا وَلاَ عَبْدًا وَلاَ أَمَةً، إِلاَّ بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا، وَسِلاَحَهُ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا لاِبْنِ السَّبِيلِ صَدَقَةً‏.‏

Narrated By 'Amir bin Al-Harith : Allah's Apostle did not leave a Dinar or a Dirham or a male or a female slave. He left only his white mule on which he used to ride, and his weapons, and a piece of land which he gave in charity for the needy travellers.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے ابو الاحوص (سلام بن سکیم)نے ،نہوں نے ابو اسحٰق سے انہوں نے عمرو بن حارث سے ،انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے نہ اشرفیاں چھوڑیں ،نہ روپیہ،نہ غلام ،نہ لونڈی، ایک نقرہ خچر ،تو چھوڑا جس پر سوار ہوا کرتے تھے اور ہتھیار چھوڑئے اور کچھ زمین (خیبر اور فدک میں ) چھوڑی جس کو آپؑ اپنی زندگی میں مسافروں کے لئے وقف کر گئے تھے ۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَعَلَ يَتَغَشَّاهُ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ وَاكَرْبَ أَبَاهُ‏.‏ فَقَالَ لَهَا ‏"‏ لَيْسَ عَلَى أَبِيكِ كَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ يَا أَبَتَاهْ، أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ، يَا أَبَتَاهْ مَنْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ، يَا أَبَتَاهْ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ‏.‏ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَةُ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ يَا أَنَسُ، أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التُّرَابَ

Narrated By Anas : When the ailment of the Prophet got aggravated, he became unconscious whereupon Fatima said, "Oh, how distressed my father is!" He said, "Your father will have no more distress after today." When he expired, she said, "O Father! Who has responded to the call of the Lord Who has invited him! O Father, whose dwelling place is the Garden of Paradise (i.e. Al-Firdaus)! O Father! We convey this news (of your death) to Gabriel." When he was buried, Fatima said, "O Anas! Do you feel pleased to throw earth over Allah's Apostle?"

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے ،انہوں نے ثابت بنانی سے ،انہوں نے انسؓ سے ،انہوں نے کہا ،جب نبیﷺ کی بیماری سخت ہو گئی تو آپؑ پر غشی طاری ہو نے لگی،حضرت فاطمہؓ آپؑ کی صاحبزادی نے یہ حال دیکھ کر فرمایا ،ہائے میرے باپ پر کیسی سختی ہو رہی ہے آپؑ نے فرمایا بس آج ہی کا دن ہے اس کے بعد ےتیرے باپ پر کوئی سختی نہ ہو گی ۔جب آپؑ کی وفات ہو گئ تو حضرت فاطمہؓ یوں کہہ کر (رونے لگی) ہائے باوا آپؑ نے اپنے پروردگار کا بلاوا منظور کیا ہائے باوا جی آپؑ نے جنۃالفردوس میں ٹھکانہ بنایا ہائے باوا میں جبرائیل کو آپؑ کی موت کی خبر سناتی ہوں ۔جب آپؑ دفنائےجا چکے تو حضرت فاطمہؓ نے انسؓ سے کہا تم لوگوں نے یہ کیسے گوارا کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ پر مٹی ڈالو۔

85. باب آخِرِ مَا تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ يُونُسُ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهْوَ صَحِيحٌ ‏"‏ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يُخَيَّرَ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ إِذًا لاَ يَخْتَارُنَا‏.‏ وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهْوَ صَحِيحٌ قَالَتْ فَكَانَتْ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا ‏"‏ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ‏"‏‏.

Narrated By 'Aisha : When the Prophet was healthy, he used to say, "No soul of a prophet is captured till he is shown his place in Paradise and then he is given the option." When death approached him while his head was on my thigh, he became unconscious and then recovered his consciousness. He then looked at the ceiling of the house and said, "O Allah! (with) the highest companions." I said (to myself), "Hence, he is not going to choose us." Then I realized that what he had said was the application of the narration which he used to mention to us when he was healthy. The last word he spoke was, "O Allah! (with) the highest companion."

ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے کہ یونس نے کہا ،زہری نے کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے کئ عالموں کے سامنے (جیسے عروہ وغیرہ)یہ بیان کیا کہ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں نبیﷺ حالت صحت میں فرماتے تھے کوئی پیغمبر اس وقت تک نہیں مرا جب تک اس نے بہشت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ نہیں لیا اور اسکو اختیار نہیں ملا۔ جب نبیﷺ پر موت کی بیماری آئی آپؑکا سر میری ران پر تھا آپؑ کو غش آگیا پھر ہوش آیا تو آنکھیں چھت کی طرف لگا دیں فرمایا یا اللہ بلند رفیقوں میں رکھ اس وقت میں سمجھ گئ(آپ کو بھی اختیار دیا گیا لیکن)آپؑ نے ہم لوگوں کے پاس رہنا پسند نہیں کیا اور میں جان گئ کہ یہ اسی حدیث کا مضمون ہے جوآپؑ نے حالت صحت میں فرمائی تھی اور آخر کلام جو آپؑ نے کی یہ تھی یا اللہ بلند رفیقوں میں رکھ۔

86. باب وَفَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ رضى الله عنهم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا‏.

Narrated By 'Aisha and Ibn 'Abbas : The Prophet stayed for ten years in Mecca with the Qur'an being revealed to him and he stayed in Medina for ten years.'

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے حضرت عائشہؓ اور عبداللہ بن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ (نبوت کے تین برس بعد)دس برس مکہ میں رہے قرآن برابر اترتا رہا۔ اس کے بعد ہجرت کرکے دس برس تک مدینہ میں رہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ رضى الله عنهم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا‏.

Narrated By 'Aisha and Ibn 'Abbas : The Prophet stayed for ten years in Mecca with the Qur'an being revealed to him and he stayed in Medina for ten years.'

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے حضرت عائشہؓ اور عبداللہ بن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ (نبوت کے تین برس بعد)دس برس مکہ میں رہے قرآن برابر اترتا رہا۔ اس کے بعد ہجرت کرکے دس برس تک مدینہ میں رہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ وَهْوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ مِثْلَهُ‏

Narrated By 'Aisha : Allah 's Apostle died when he was sixty-three years of age.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے تریسٹھ برس کی عمر میں انتقال فرمایا ۔ابن شہاب نے کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے بھی ایسا ہی نقل کیا ۔

87. باب

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلاَثِينَ‏.‏ ‏{‏يَعْنِي صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ‏}

Narrated By 'Aisha : The Prophet died while his armour was mortgaged to a Jew for thirty Sa's of barley.

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے اسود بن یزید سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ کی جب وفات ہوئی اس وقت آپؑ کی زرہ ایک یہودی (ابواشحم)کے پاس تیس صاع اناج کے بدل گروی تھی

88. باب بَعْثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةَ ـ فَقَالُوا فِيهِ ـ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ، وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ‏"‏‏.‏

Narrated By Salim's father : The Prophet appointed Usama as the commander of the troops (to be sent to Syria). The Muslims spoke about Usama (unfavourably). The Prophet said, " I have been informed that you spoke about Usama. (Let it be known that) he is the most beloved of all people to me."

ہم سے ابو عاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا انہوں نے فضیل بن سلیمان سے انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ،انہوں نے سالم سے ،انہوں نے ابن عمرؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺنے اسامہ کو لشکر کا سردار کیا،اس پر لوگوں نے باتیں بنائیں ۔نبیﷺ نے یہ سن کر فرمایا ۔میں نے سنا تم لوگ جو باتیں اسامہ کے باب میں کرتے ہو دیکھو اسامہ مجھ کو سب لوگوں سے زیادہ پیارا ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنْ تَطْعُنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعُنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ

Narrated By Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle sent troops appointed Usama bin Zaid as their commander. The people criticized his leadership. Allah's Apostle got up and said, "If you (people) are criticizing his (i.e. Usama's) leadership you used to criticize the leadership of his father before. By Allah, he (i.e. Zaid) deserved the leadership indeed, and he used to be one of the most beloved persons to me, and now this (i.e. his son, Usama) is one of the most beloved persons to me after him."

ہم سے اسمٰعیل بن اویس نے بیان کیا ۔کہا ہم سے امام مالک نے ،انہوں نے عبداللہ بن دینار سے ،انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے (روم کیطرف) ایک لشکر روانہ کیا ۔اور اسامہ بن زید کو اس کا سردار مقرر کیا (حالانکہ اس لشکر میں ابوبکرؓ اور عمرؓ بھی شریک تھے )لوگوں نے اسامہ کے سردار ہونے پر طعنہ مارا، یہ سن کر رسول اللہﷺ (خطبے کے لئے) کھڑے ہوئے فرمایا اگر تم اسامہ کی سرداری پر طعنہ مارتے ہو (تو کچھ تعجب نہیں ) اس سے پہلے تم اس کے باپ کی سرداری پر طعنہ کر چکے ہو ۔اور قسم خدا کی وہ سرداری کے لائق تھا اور سب لوگوں سے مجھ کو پیارا تھا اس کے بعد یہ اسامہ(اس کا بیٹا) سب لوگوں سے مجھ کو پیارا ہے۔

89. باب

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ مَتَى هَاجَرْتَ قَالَ خَرَجْنَا مِنَ الْيَمَنِ مُهَاجِرِينَ، فَقَدِمْنَا الْجُحْفَةَ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ لَهُ الْخَبَرَ فَقَالَ دَفَنَّا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ خَمْسٍ‏.‏ قُلْتُ هَلْ سَمِعْتَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ أَخْبَرَنِي بِلاَلٌ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ فِي السَّبْعِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ‏.‏

Narrated By Ibn Abu Habib : Abu Al-Khair said, "As-Sanabih, I asked (me), 'When did you migrate?' I (i.e. Abu Al-Khair) said, 'We went out from Yemen as emigrants and arrived at Al-Juhfa, and there came a rider whom I asked about the news. The rider said: We buried the Prophet five days ago." I asked (As-Sanabihi), 'Did you hear anything about the night of Qadr?' He replied, 'Bilal, the Mu'adhdhin of the Prophet informed me that it is on one of the seven nights of the last ten days (of Ramadan)."

ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا کہا مجھ کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی ۔کہا مجھ کو عمرو بن حارث نے ،انہوں نے عمروبن ابی حبیب سے انہوں نے ابوالخیر مرثد سے ،انہوں نےعبدالرحمٰن بن عسیلہ صنابحی سے،ابوالخیر نے صنابحی سے پوچھا تم نے (مدینہ کو) کب، ہجرت کی انہوں نے کہا ہم یمن سے ہجرت کی نیت سے نکلے جب جحفہ میں پہنچے تو ایک سوار (نام نا معلوم)مدینہ سے آتا ہوا ملا ۔ہم نے اس سے پوچھا کیاخبر ہے؟ اس نےکہا پانچ روز ہوئے ہم نبیﷺ کو دفن کر چکے، ابوالخیر نے کہا ،میں نے صنابحی سے پوچھا تم نے شب قدر کے باب میں کچھ سنا ہے،انہوں نے کہا، ہاں بلالؓ جو نبیﷺ کے موٗذن تھے، وہ کہتے تھے شب قدر رمضان کے اخیر عشرے کی ساتویں (ستائیسویں )رات ہے۔

90. باب كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ‏.‏ قُلْتُ كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ‏

Narrated By Abu Ishaq : I asked Zaid bin Al-Arqam, "In how many Ghazawat did you take part in the company of Allah's Apostle?" He replied, "Seventeen." I further asked, "How many Ghazawat did the Prophet fight?" He replied, "Nineteen."

ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا ،کہا ہم سے اسرائیل نے ،انہوں نے ابو اسحٰق سے ،انہوں نے کہا، میں نےزید بن ارقمؓ سے پوچھا ،تم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ رہ کر کتنے جہاد کئے انہوں نے کہا سترہ،میں نے پوچھا نبیﷺ نے کتنے جہاد کئے ،انہوں نے کہاانیس۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَمْسَ عَشْرَةَ‏.‏

Narrated By Al-Bara : I fought fifteen Ghazawat in the company of the Prophet.

ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیا ن کیا ،کہا ہم سے اسرائیل نے ،انہوں نے ابو اسحٰق سے کہا، ہم سے براء بن عازبؓ نے بیان کیا ۔کہ میں نے نبیﷺ کے ساتھ پندرہ جہاد کئے۔


حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلِ بْنِ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً‏

Narrated By Buraida : That he fought sixteen Ghazawat with Allah's Apostle.

مجھ سے احمد بن حسن نے بیان کیا ،کہا ہم سے احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال نے کہا ،ہم سے معتمر بن سلیمان نے ،انہوں نے کہمس سے انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے ،انہوں نے اپنے باپ بریدہ بن حصیب سے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ سولہ جہاد کئے۔

‹ First789