- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First56789

61. باب بَعْثُ أَبِي مُوسَى وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ وَبَعَثَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مِخْلاَفٍ قَالَ وَالْيَمَنُ مِخْلاَفَانِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَمَلِهِ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِذَا سَارَ فِي أَرْضِهِ كَانَ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَحْدَثَ بِهِ عَهْدًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَارَ مُعَاذٌ فِي أَرْضِهِ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَبِي مُوسَى، فَجَاءَ يَسِيرُ عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ، وَإِذَا هُوَ جَالِسٌ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَدْ جُمِعَتْ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَيَّمَ هَذَا قَالَ هَذَا رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ‏.‏ قَالَ لاَ أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ‏.‏ قَالَ إِنَّمَا جِيءَ بِهِ لِذَلِكَ فَانْزِلْ‏.‏ قَالَ مَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا‏.‏ قَالَ فَكَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ يَا مُعَاذُ قَالَ أَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَأَقُومُ وَقَدْ قَضَيْتُ جُزْئِي مِنَ النَّوْمِ، فَأَقْرَأُ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي‏.‏

Narrated By Abu Burda : Allah's Apostle sent Abu Musa and Muadh bin Jabal to Yemen. He sent each of them to administer a province as Yemen consisted of two provinces. The Prophet said (to them), "Facilitate things for the people and do not make things difficult for them (Be kind and lenient (both of you) with the people, and do not be hard on them) and give the people good tidings and do not repulse them. So each of them went to carry on his job. So when any one of them toured his province and happened to come near (the border of the province of) his companion, he would visit him and greet him. Once Mu'adh toured that part of his state which was near (the border of the province of) his companion Abu Musa. Mu'adh came riding his mule till he reached Abu Musa and saw him sitting, and the people had gathered around him. Behold! There was a man tied with his hands behind his neck. Mu'adh said to Abu Musa, "O 'Abdullah bin Qais! What is this?" Abu Musa replied. "This man has reverted to Heathenism after embracing Islam." Mu'adh said, "I will not dismount till he is killed." Abu Musa replied, "He has been brought for this purpose, so come down." Mu'adh said, "I will not dismount till he is killed." So Abu Musa ordered that he be killed, and he was killed. Then Mu'adh dismounted and said, "O Abdullah (bin Qais)! How do you recite the Qur'an ?" Abu Musa said, "I recite the Qur'an regularly at intervals and piecemeal. How do you recite it O Mu'adh?" Mu'adh said, "I sleep in the first part of the night and then get up after having slept for the time devoted for my sleep and then recite as much as Allah has written for me. So I seek Allah's Reward for both my sleep as well as my prayer (at night)."

ہم سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے انہوں نے ابو بردہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے ابو موسٰیؓ اور معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف بھیجا۔ ہر ایک کو ایک حصہ پر یمن کے دو حصے ہیں۔ پھر آپؐ نے ان دونوں سےکہا دیکھو لوگوں پر آسانی کرنا ان کو مشکل میں نہ پھنسانا۔ ان کو خوش رکھنا (دین سے) نفرت نہ دلانا۔ خیر ان میں سے ہر شخص اپنے اپنے کام پر روانہ ہوا اور ان میں سے جو کوئی اپنے علاقہ کا دورہ کرتے کرتے اپنے ساتھی کے قریب آ جاتا تو اس سے تازی ملاقات کر لیتا اس کو سلام کرتا۔ ایک بار ایسا ہوا معاذؓ اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے ابو موسٰیؓ کے قریب پہنچ گئے۔ ایک خچر پر سوار ابو موسٰیؓ کے پاس آئے وہ بیٹھے ہوئے تھے لوگ ان کے پاس جمع تھے۔ وہاں ایک شخص کو دیکھا جس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہیں (مشکیں کسی ہیں) معاذؓ نے کہا عبداللہ بن قیسؓ (ابو موسٰیؓ کا نام ہے) یہ کون شخص ہے (اس کی مشکیں کیوں کسی ہیں) ابو موسٰیؓ نے کہا یہ شخص مسلمان ہونے کے بعد پھر کافر ہو گیا ہے (اسلام سے پھر گیا ہے) معاذؓ نے کہا میں خچر پر سے نہیں اتروں گا جب تک وہ قتل نہیں کیا جائے گا۔ ابو موسٰیؓ نے کہا اترو تو اس کو قتل کرنے ہی کے لئے لائے ہیں۔ انہوں نے کہا میں نہیں اتروں گا جب تک وہ قتل نہ کیا جائے۔ آخر ابو موسٰیؓ نے حکم دیا وہ قتل کیا گیا۔ اس وقت معاذؓ خچر پر سے اترے۔ اور ابو موسٰیؓ نے کہا عبداللہ تم قرآن کی تلاوت کس طرح کرتے ہو۔ انہوں نے کہا میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں۔ ابو موسٰیؓ نے کہا معاذؓ تم کس طرح تلاوت کرتے ہو۔ انہوں نے کہا میں تو ایسا کرتا ہوں کہ شروع رات میں سو جاتا ہوں اور پھر نیند لیکر اٹھتا ہوں اور جتنا قرآن اللہ نے میری قسمت میں رکھا ہے اس کی تلاوت کرتا ہوں۔ میں سوتا بھی ثواب کی نیت سے ہوں جیسے اٹھتا بھی ثواب کی نیت سے ہوں۔


حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ وَبَعَثَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مِخْلاَفٍ قَالَ وَالْيَمَنُ مِخْلاَفَانِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَمَلِهِ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِذَا سَارَ فِي أَرْضِهِ كَانَ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَحْدَثَ بِهِ عَهْدًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَارَ مُعَاذٌ فِي أَرْضِهِ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَبِي مُوسَى، فَجَاءَ يَسِيرُ عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ، وَإِذَا هُوَ جَالِسٌ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَدْ جُمِعَتْ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَيَّمَ هَذَا قَالَ هَذَا رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ‏.‏ قَالَ لاَ أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ‏.‏ قَالَ إِنَّمَا جِيءَ بِهِ لِذَلِكَ فَانْزِلْ‏.‏ قَالَ مَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا‏.‏ قَالَ فَكَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ يَا مُعَاذُ قَالَ أَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَأَقُومُ وَقَدْ قَضَيْتُ جُزْئِي مِنَ النَّوْمِ، فَأَقْرَأُ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي‏.‏

Narrated By Abu Burda : Allah's Apostle sent Abu Musa and Muadh bin Jabal to Yemen. He sent each of them to administer a province as Yemen consisted of two provinces. The Prophet said (to them), "Facilitate things for the people and do not make things difficult for them (Be kind and lenient (both of you) with the people, and do not be hard on them) and give the people good tidings and do not repulse them. So each of them went to carry on his job. So when any one of them toured his province and happened to come near (the border of the province of) his companion, he would visit him and greet him. Once Mu'adh toured that part of his state which was near (the border of the province of) his companion Abu Musa. Mu'adh came riding his mule till he reached Abu Musa and saw him sitting, and the people had gathered around him. Behold! There was a man tied with his hands behind his neck. Mu'adh said to Abu Musa, "O 'Abdullah bin Qais! What is this?" Abu Musa replied. "This man has reverted to Heathenism after embracing Islam." Mu'adh said, "I will not dismount till he is killed." Abu Musa replied, "He has been brought for this purpose, so come down." Mu'adh said, "I will not dismount till he is killed." So Abu Musa ordered that he be killed, and he was killed. Then Mu'adh dismounted and said, "O Abdullah (bin Qais)! How do you recite the Qur'an ?" Abu Musa said, "I recite the Qur'an regularly at intervals and piecemeal. How do you recite it O Mu'adh?" Mu'adh said, "I sleep in the first part of the night and then get up after having slept for the time devoted for my sleep and then recite as much as Allah has written for me. So I seek Allah's Reward for both my sleep as well as my prayer (at night)."

ہم سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے انہوں نے ابو بردہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے ابو موسٰیؓ اور معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف بھیجا۔ ہر ایک کو ایک حصہ پر یمن کے دو حصے ہیں۔ پھر آپؐ نے ان دونوں سےکہا دیکھو لوگوں پر آسانی کرنا ان کو مشکل میں نہ پھنسانا۔ ان کو خوش رکھنا (دین سے) نفرت نہ دلانا۔ خیر ان میں سے ہر شخص اپنے اپنے کام پر روانہ ہوا اور ان میں سے جو کوئی اپنے علاقہ کا دورہ کرتے کرتے اپنے ساتھی کے قریب آ جاتا تو اس سے تازی ملاقات کر لیتا اس کو سلام کرتا۔ ایک بار ایسا ہوا معاذؓ اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے ابو موسٰیؓ کے قریب پہنچ گئے۔ ایک خچر پر سوار ابو موسٰیؓ کے پاس آئے وہ بیٹھے ہوئے تھے لوگ ان کے پاس جمع تھے۔ وہاں ایک شخص کو دیکھا جس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہیں (مشکیں کسی ہیں) معاذؓ نے کہا عبداللہ بن قیسؓ (ابو موسٰیؓ کا نام ہے) یہ کون شخص ہے (اس کی مشکیں کیوں کسی ہیں) ابو موسٰیؓ نے کہا یہ شخص مسلمان ہونے کے بعد پھر کافر ہو گیا ہے (اسلام سے پھر گیا ہے) معاذؓ نے کہا میں خچر پر سے نہیں اتروں گا جب تک وہ قتل نہیں کیا جائے گا۔ ابو موسٰیؓ نے کہا اترو تو اس کو قتل کرنے ہی کے لئے لائے ہیں۔ انہوں نے کہا میں نہیں اتروں گا جب تک وہ قتل نہ کیا جائے۔ آخر ابو موسٰیؓ نے حکم دیا وہ قتل کیا گیا۔ اس وقت معاذؓ خچر پر سے اترے۔ اور ابو موسٰیؓ نے کہا عبداللہ تم قرآن کی تلاوت کس طرح کرتے ہو۔ انہوں نے کہا میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں۔ ابو موسٰیؓ نے کہا معاذؓ تم کس طرح تلاوت کرتے ہو۔ انہوں نے کہا میں تو ایسا کرتا ہوں کہ شروع رات میں سو جاتا ہوں اور پھر نیند لیکر اٹھتا ہوں اور جتنا قرآن اللہ نے میری قسمت میں رکھا ہے اس کی تلاوت کرتا ہوں۔ میں سوتا بھی ثواب کی نیت سے ہوں جیسے اٹھتا بھی ثواب کی نیت سے ہوں۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ تُصْنَعُ بِهَا، فَقَالَ ‏"‏ وَمَا هِيَ ‏"‏‏.‏ قَالَ الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ‏.‏ فَقُلْتُ لأَبِي بُرْدَةَ مَا الْبِتْعُ قَالَ نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَالْمِزْرُ نَبِيذُ الشَّعِيرِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ جَرِيرٌ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ‏.‏

Narrated By Abi Burda : That Abu Musa Al-Ash'ari said that the Prophet had sent him to Yemen and he asked the Prophet about certain (alcoholic) drink which used to be prepared there The Prophet said, "What are they?" Abu Musa said, "Al-Bit' and Al-Mizr?" He said, "Al-Bit is an alcoholic drink made from honey; and Al-Mizr is an alcoholic drink made from barley." The Prophet said, "All intoxicants are prohibited."

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا (یا اسحاق بن شاہین نے) کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے انہوں نے سلیمان شیبانی سے انہوں نے سعید ابن بردہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے مجھ کو یمن کی طرف (حاکم بنا کر ) بھیجا میں نے آپﷺ سے یمن کے شرابوں کا پوچھا جو وہاں تیار ہوتے ہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا کون سے شراب میں نے کہا بتع اور مزر سعید نے کہا میں نے ابو بردہ سے پوچھا شراب بتع کیا ہے انہوں نے کہا شہد کا شراب اور مزر جو کا شراب نبیﷺ نے فرمایا جو شراب نشہ کرے وہ حرام ہے (جو کا ہو یا جوار کا) اس حدیث کو جریر اور عبد الواحد نے بھی سلیمان شیبانی سے انہوں نے ابو بردہ سے روایت کیا۔


حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَدَّهُ أَبَا مُوسَى، وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ ‏"‏ يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ الْمِزْرُ، وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ الْبِتْعُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقَا فَقَالَ مُعَاذٌ لأَبِي مُوسَى كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا‏.‏ قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي، وَضَرَبَ فُسْطَاطًا، فَجَعَلاَ يَتَزَاوَرَانِ، فَزَارَ مُعَاذٌ أَبَا مُوسَى، فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ، فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَهُودِيٌّ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ‏.‏ فَقَالَ مُعَاذٌ لأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ‏.‏ تَابَعَهُ الْعَقَدِيُّ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ‏.وَقَالَ وَكِيعٌ وَالنَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ‏.‏

Narrated By Abu Burda : That the Prophet sent his (i.e. Abu Burda's) grandfather, Abu Musa and Mu'adh to Yemen and said to both of them "Facilitate things for the people (Be kind and lenient) and do not make things difficult (for people), and give them good tidings, and do not repulse them and both of you should obey each other." Abu Musa said, "O Allah's Prophet! In our land there is an alcoholic drink (prepared) from barley called Al-Mizr, and another (prepared) from honey, called Al-Bit"' The Prophet said, "All intoxicants are prohibited." Then both of them proceeded and Mu'adh asked Abu Musa, "How do you recite the Qur'an?" Abu Musa replied, "I recite it while I am standing, sitting or riding my riding animals, at intervals and piecemeal." Muadh said, "But I sleep and then get up. I sleep and hope for Allah's Reward for my sleep as I seek His Reward for my night prayer." Then he (i.e. Muadh) pitched a tent and they started visiting each other. Once Muadh paid a visit to Abu Musa and saw a chained man. Muadh asked, "What is this?" Abu Musa said, "(He was) a Jew who embraced Islam and has now turned apostate." Muadh said, "I will surely chop off his neck!"

ہم سے مسلم بن ابرہیم نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے سعید بن ابی بردہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے سعید نے دادا ابو موسٰی اشعریؓ اور معاذ بن جبل کو یمن کا حاکم کر کے بھیجا ۔ آپﷺ نے ان دونوں سے فرمایا دیکھو لوگوں پر آسانی کرتے رہنا ان کو مشکل میں نہ ڈالنا ، خوش رکھنا ، نفرت نہ دلانا اور دونوں مل جل کر رہنا ۔ ابو موسٰی نے عرض کیا یا رسول اللہﷺہمارے ملک (یعنی یمن ) میں مزر یعنی جو کی شراب اور تبع یعنی شہد کی شراب تیار ہوتی ہے (اس کا کیا حکم ہے ) آپﷺ نے فرمایا جو شراب نشہ کرے وہ حرام ہے خیر معاذؓ اور ابو موسٰیؓ دونوں روانہ ہوئے ۔معاذؓ نے ابو موسٰیؓ سے پوچھا تم قرآن کس طرح پڑھا کرتے ہو انہوں نے کہا کھڑے بیٹھے اونٹ پر سوا رہ کر میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت (جب فرصت ہوتی ہے) پڑھا کرتا ہوں ۔ معاذ نے کہا میں تو یہ کرتا ہوں (شروع رات میں) سوجاتا ہوں پھر (عبادت کے لئے) اٹھتا ہوں ۔ مجھے سونے میں بھی اسی طرح ثواب کی امید ہے جیسے نماز میں کھڑے ہونے میں۔ ابو موسٰی نے ایک خیمہ کھڑا کیا تھا دونوں ایک دوسرے کی ملاقات کو جایا کرتے ۔ ایک بار معاذ ابو موسیٰ سے ملنے کو آئے دیکھا ایک شخص بندھا ہوا ہے پوچھا یہ کون ہے ابو موسیٰ نے کہا یہ ایک یہودی ہے جو مسلمان ہو گیا تھا اب پھر اسلام سے پھر گیا ہے ۔ معاذؓ نے کہا میں تو اسکی گردن ماردوں گا ۔مسلم بن ابراہیم کے ساتھ اس حدیث کو عبدالملک بن عمرو عقدی اور وہب بن جریر نے بھی شعبہ سے روایت کیا۔ اور وکیع اور نضر اور ابو داؤد نے اس کو شعبہ سے انہوں نے سعید سے انہوں نے اپنے باپ ابو بردہ سے انہوں نے سعید کے دادا ابو موسٰی سے انہوں نے نبیﷺ سے روایت کیا اور جریر بن عبدالحمید نے اسکو شیبانی سے روایت کیا انہوں نے ابو بردہ سے۔


حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَدَّهُ أَبَا مُوسَى، وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ ‏"‏ يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ الْمِزْرُ، وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ الْبِتْعُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقَا فَقَالَ مُعَاذٌ لأَبِي مُوسَى كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا‏.‏ قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي، وَضَرَبَ فُسْطَاطًا، فَجَعَلاَ يَتَزَاوَرَانِ، فَزَارَ مُعَاذٌ أَبَا مُوسَى، فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ، فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَهُودِيٌّ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ‏.‏ فَقَالَ مُعَاذٌ لأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ‏.‏ تَابَعَهُ الْعَقَدِيُّ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ‏.وَقَالَ وَكِيعٌ وَالنَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ‏.‏

Narrated By Abu Burda : That the Prophet sent his (i.e. Abu Burda's) grandfather, Abu Musa and Mu'adh to Yemen and said to both of them "Facilitate things for the people (Be kind and lenient) and do not make things difficult (for people), and give them good tidings, and do not repulse them and both of you should obey each other." Abu Musa said, "O Allah's Prophet! In our land there is an alcoholic drink (prepared) from barley called Al-Mizr, and another (prepared) from honey, called Al-Bit"' The Prophet said, "All intoxicants are prohibited." Then both of them proceeded and Mu'adh asked Abu Musa, "How do you recite the Qur'an?" Abu Musa replied, "I recite it while I am standing, sitting or riding my riding animals, at intervals and piecemeal." Muadh said, "But I sleep and then get up. I sleep and hope for Allah's Reward for my sleep as I seek His Reward for my night prayer." Then he (i.e. Muadh) pitched a tent and they started visiting each other. Once Muadh paid a visit to Abu Musa and saw a chained man. Muadh asked, "What is this?" Abu Musa said, "(He was) a Jew who embraced Islam and has now turned apostate." Muadh said, "I will surely chop off his neck!"

ہم سے مسلم بن ابرہیم نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے سعید بن ابی بردہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے سعید نے دادا ابو موسٰی اشعریؓ اور معاذ بن جبل کو یمن کا حاکم کر کے بھیجا ۔ آپﷺ نے ان دونوں سے فرمایا دیکھو لوگوں پر آسانی کرتے رہنا ان کو مشکل میں نہ ڈالنا ، خوش رکھنا ، نفرت نہ دلانا اور دونوں مل جل کر رہنا ۔ ابو موسٰی نے عرض کیا یا رسول اللہﷺہمارے ملک (یعنی یمن ) میں مزر یعنی جو کی شراب اور تبع یعنی شہد کی شراب تیار ہوتی ہے (اس کا کیا حکم ہے ) آپﷺ نے فرمایا جو شراب نشہ کرے وہ حرام ہے خیر معاذؓ اور ابو موسٰیؓ دونوں روانہ ہوئے ۔معاذؓ نے ابو موسٰیؓ سے پوچھا تم قرآن کس طرح پڑھا کرتے ہو انہوں نے کہا کھڑے بیٹھے اونٹ پر سوا رہ کر میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت (جب فرصت ہوتی ہے) پڑھا کرتا ہوں ۔ معاذ نے کہا میں تو یہ کرتا ہوں (شروع رات میں) سوجاتا ہوں پھر (عبادت کے لئے) اٹھتا ہوں ۔ مجھے سونے میں بھی اسی طرح ثواب کی امید ہے جیسے نماز میں کھڑے ہونے میں۔ ابو موسٰی نے ایک خیمہ کھڑا کیا تھا دونوں ایک دوسرے کی ملاقات کو جایا کرتے ۔ ایک بار معاذ ابو موسیٰ سے ملنے کو آئے دیکھا ایک شخص بندھا ہوا ہے پوچھا یہ کون ہے ابو موسیٰ نے کہا یہ ایک یہودی ہے جو مسلمان ہو گیا تھا اب پھر اسلام سے پھر گیا ہے ۔ معاذؓ نے کہا میں تو اسکی گردن ماردوں گا ۔مسلم بن ابراہیم کے ساتھ اس حدیث کو عبدالملک بن عمرو عقدی اور وہب بن جریر نے بھی شعبہ سے روایت کیا۔ اور وکیع اور نضر اور ابو داؤد نے اس کو شعبہ سے انہوں نے سعید سے انہوں نے اپنے باپ ابو بردہ سے انہوں نے سعید کے دادا ابو موسٰی سے انہوں نے نبیﷺ سے روایت کیا اور جریر بن عبدالحمید نے اسکو شیبانی سے روایت کیا انہوں نے ابو بردہ سے۔


حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَرْضِ قَوْمِي، فَجِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنِيخٌ بِالأَبْطَحِ فَقَالَ ‏"‏ أَحَجَجْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ إِهْلاَلاً كَإِهْلاَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ سُقْتَ مَعَكَ هَدْيًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَمْ أَسُقْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَاسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ ‏"‏‏.‏ فَفَعَلْتُ حَتَّى مَشَطَتْ لِي امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ، وَمَكُثْنَا بِذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ‏

Narrated By Abu Musa Al-Ashari : Allah's Apostle sent me (as a governor) to the land of my people, and I came while Allah's Apostle was encamping at a place called Al-Abtah. The Prophet said, "Have you made the intention to perform the Hajj, O Abdullah bin Qais?" I replied, "Yes, O Allah's Apostle!" He said, "What did you say?" I replied, "I said, 'Labbaik' and expressed the same intention as yours." He said, "Have you driven the Hadi along with you?" I replied, "No, I did not drive the Hadi." He said, "So perform the Tawaf of the Ka'ba and then the Sai, between Safa and Marwa and then finish the state of Ihram." So I did the same, and one of the women of (the tribe of) Banu-Qais combed my hair. We continued follow in that tradition till the caliphate of Umar.

مجھ سے عبّاس بن ولید نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے انہوں نے ایوب بن عائذ سے کہا ہم سے قیس بن مسلم نے کہا میں نے طارق بن شہاب سے سنا وہ کہتے تھے مجھ سے ابو موسٰیؓ اشعری نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ کو رسول اللہﷺ نے میری قوم کے ملک (یعنی یمن کا) حاکم کر کے بھیجا میں جب وہاں سے لوٹ کر آیا ۔ تو رسول اللہﷺ نے ابطح (یعنی محصب) میں اترے ہوئے تھے آپﷺ نے پوچھا کیا عبداللہ بن قیس تو نے حج کی نیت کی ۔ میں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہﷺ آپﷺ نے فرمایا تونے احرام باندھتے وقت کیا کہا ۔ میں نے کہا لبیک اسی احرام کے ساتھ جو احرام آپﷺ نے باندھا ۔ آپﷺ نے پوچھا کیا تو قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے میں نے عرض کیا نہیں آپﷺ نے فرمایا تو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرلے پھر احرام کھول ڈال ۔ میں نے ایسا ہی کیا ۔ بنی قیس کی ایک عورت (نام نا معلوم) نے میرے بالوں کی کنگھی کی اور اسی قاعدے پر ہم اس وقت تک چلتے رہے جب تک حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے۔


حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ‏"‏ إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمْ صَدَقَةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ‏{‏طَوَّعَتْ‏}‏ طَاعَتْ وَأَطَاعَتْ لُغَةٌ، طِعْتُ وَطُعْتُ وَأَطَعْتُ‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : Allah's Apostle said to Muadh bin Jabal when he sent him to Yemen. "You will come to the people of Scripture, and when you reach them, invite them to testify that none has the right to be worshipped except Allah and that Muhammad is His Apostle. And if they obey you in that, then tell them that Allah has enjoined on them five prayers to be performed every day and night. And if they obey you in that, then tell them that Allah has enjoined on them Sadaqa (i.e. Rakat) to be taken from the rich amongst them and given to the poor amongst them. And if they obey you in that, then be cautious! Don't take their best properties (as Zakat) and be afraid of the curse of an oppressed person as there is no screen between his invocation and Allah.

مجھ سے حبان ابن موسٰی نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی انہوں نے زکریا بن اسحاق سے انہوں نے یحیٰی بن عبداللہ بن صیفی سے انہوں نے ابو سعید (نافذ) سے جو عبداللہ بن عباس کے غلام تھے انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے معاذ بن جبل سے جب ان کو یمن کی طرف روانہ کیا یہ فرمایا تم کو ایسے لوگ ملیں گے جو اہل کتاب ہیں (یہودی نصرانی وغیرہ) جب تو ان کے پاس پہنچے تو (پہلے) ان کو یہ کہہ کہ وہ اس بات کی گواہی دیں اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ اگر وہ یہ بھی مان لیں تب ان سے کہہ اللہ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ یہ بھی مان لیں تب ان سے کہہ اللہ نے ان کے مالداروں پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان سے لے کر ان ہی کے محتاجوں کو دی جائے گی ۔ اگر وہ یہ مان لیں تب ایسا کر کہ (زکوٰۃ میں ) عمدہ عمدہ مال مت لے (بیچ کا مال لے) اور دیکھ مظلوم کی بد دعا سے بچے رہو، مظلوم کی دعا سیدھی پروردگار تک پہنچ جاتی ہے (رکتی ہی نہیں) امام بخاری نے کہا (سورت مائدہ میں ) جو طَوَّعَت کا لفظ آیا ہے اس کا معنی طاعت اور اطاعت کا ہے جیسے کہتے ہیں ۔ طِعتُ طُعتُ اطعت ، سب کا معنی ایک ہی ہے۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، أَنَّ مُعَاذًا ـ رضى الله عنه ـ لَمَّا قَدِمَ الْيَمَنَ صَلَّى بِهِمِ الصُّبْحَ فَقَرَأَ ‏{‏وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً‏}‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَقَدْ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ‏.‏ زَادَ مُعَاذٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَرَأَ مُعَاذٌ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ سُورَةَ النِّسَاءِ فَلَمَّا قَالَ ‏{‏وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً‏}‏ قَالَ رَجُلٌ خَلْفَهُ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ‏.‏

Narrated By Amr bin Maimuin : When Mu'adh arrived at Yemen, he led them (i.e. the people of Yemen) in the Fajr prayer wherein he recited: 'Allah took Abraham as a Khalil.' A man amongst the people said, "(How) glad the mother of Abraham is!" (In another narration) 'Amr said, "The Prophet sent Mu'adh to Yemen and he (led the people) in the Fajr prayer and recited: 'Allah took Abraham as a Khalil. A man behind him said, "(How) glad the mother of Abraham is!"

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے عمرو بن میمون سے کہ معاذؓ جب یمن میں آئے تو انہوں نے صبح کی نماز پڑھائی اور یہ آیت پڑھی ، وَاتَّخَذَ اللہُ ابراھِیمَ خَلِیلاً، ایک شخص (نام نامعلوم) عین نماز میں بول اٹھا ابراہیم کی ماں کی آنکھ تو خوب ٹھنڈی ہوئی۔ معاذ بن معاذ نے شعبہ سے انہوں نے حبیب سے انہوں نے سعید سے ، انہوں نے عمرو بن میمون سے ، اس حدیث میں اتنا بڑھایا ہے کہ نبیﷺ نے معاذ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا۔معاذؓ نے صبح کی نماز پڑھائی اس میں سورت نساء پڑھی۔جب اس آیت پر پہنچے ، وَاتَّخَذَ اللہُ ابراہِیمَ خَلِیلَا ، تو ایک شخص ان کے پیچھے بول اٹھا ۔ابراہیم کی والدہ کی آنکھ تو خوب ٹھنڈی ہوگئی۔

62. باب بَعْثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رضى الله عنه إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ‏.‏ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ ثُمَّ بَعَثَ عَلِيًّا بَعْدَ ذَلِكَ مَكَانَهُ فَقَالَ مُرْ أَصْحَابَ خَالِدٍ، مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يُعَقِّبَ مَعَكَ فَلْيُعَقِّبْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقْبِلْ‏.‏ فَكُنْتُ فِيمَنْ عَقَّبَ مَعَهُ، قَالَ فَغَنِمْتُ أَوَاقٍ ذَوَاتِ عَدَدٍ‏.‏

Narrated By Al-Bara : Allah's Apostle sent us to Yemen along with Khalid bin Al-Walid. Later on he sent Ali bin Abi Talib in his place. The Prophet said to 'Ali, "Give Khalid's companions the choice of either staying with you (in Yemen) or returning to Medina." I was one of those who stayed with him (i.e. Ali) and got several Awaq (of gold from the war booty.

مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف ابن اسحاق بن ابی اسحاق نے کہا مجھ سے والد نے انہوں نے ابواسحاق سے کہا میں نے براء بن عازبؓ سے سنا وہ کہتے تھے ۔ ہم کو رسول اللہﷺ نے خالد بن ولید کے ساتھ یمن کی طرف بھیجا پھر خالد کی جگہ حضرت علیؓ کو مقرر کیا۔ اور فرمایا خالد کے ساتھ جو لوگ گئے تھے ان سے کہہ دینا اگر وہ چاہیں تو تمہارے ساتھ ہو کر پھر یمن کو لوٹ جائیں اور اگر چاہیں تو چلے آئیں۔براء کہتے ہیں میں ان لوگوں میں تھا جوحضرت علیؓ کے ساتھ پھر یمن کی طرف لوٹ گئے ۔ مجھ کو کئی اوقیہ (چاندی کے) لوٹ میں ملے۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا، وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ أَلاَ تَرَى إِلَى هَذَا فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ يَا بُرَيْدَةُ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تُبْغِضْهُ فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Buraida : The Prophet sent 'Ali to Khalid to bring the Khumus (of the booty) and I hated Ali, and 'Ali had taken a bath (after a sexual act with a slave-girl from the Khumus). I said to Khalid, "Don't you see this (i.e. Ali)?" When we reached the Prophet I mentioned that to him. He said, "O Buraida! Do you hate Ali?" I said, "Yes." He said, "Do you hate him, for he deserves more than that from the Khumus."

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے روح بن عبادہ نے کہا ہم سے علی بن سوید بن منجوف نے انہوں نے عبد اللہ بن بریدہ سے انہوں نے اپنے والد (بردہ بن حصیبؓ) سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے حضرت علیؓ کو خالد بن ولید کے پاس بھیجا کہ لوٹ کے مال کا پانچواں حصّہ ان سے لے آئیں میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے حضرت علی کو برا سمجھا ۔انہوں نے وہاں غسل کیا (ایک لونڈی سے صحبت کی) میں نے خالد سے کہا تم دیکھتے ہو علیؓ نے کیا کیا ۔ خیر جب ہم نبیﷺ کے پاس آئے تو میں نےآپﷺ سے یہ قصّہ بیان کیا آپﷺ نے فرمایا بریدہ کیا تو علیؓ سے دشمنی رکھتا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں ۔آپﷺ نے فرمایا علیؓ سے دشمنی مت رکھ ان کا خمس میں اس سے زیادہ حصّہ ہے ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا، قَالَ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ، وَأَقْرَعَ بْنِ حَابِسٍ وَزَيْدِ الْخَيْلِ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلاَءِ‏.‏ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً ‏"‏‏.‏ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاشِزُ الْجَبْهَةِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، مُشَمَّرُ الإِزَارِ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اتَّقِ اللَّهَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيْلَكَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ، قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ ‏"‏ لاَ، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي ‏"‏‏.‏ فَقَالَ خَالِدٌ وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ قُلُوبَ النَّاسِ، وَلاَ أَشُقَّ بُطُونَهُمْ ‏"‏ قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهْوَ مُقَفٍّ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا، لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ‏"‏‏.‏ وَأَظُنُّهُ قَالَ ‏"‏ لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : 'Ali bin Abi Talib sent a piece of gold not yet taken out of its ore, in a tanned leather container to Allah's Apostle. Allah's Apostle distributed that amongst four Persons: 'Uyaina bin Badr, Aqra bin Habis, Zaid Al-Khail and the fourth was either Alqama or Amir bin At Tufail. On that, one of his companions said, "We are more deserving of this (gold) than these (persons)." When that news reached the Prophet , he said, "Don't you trust me though I am the truth worthy man of the One in the Heavens, and I receive the news of Heaven (i.e. Divine Inspiration) both in the morning and in the evening?" There got up a man with sunken eyes, raised cheek bones, raised forehead, a thick beard, a shaven head and a waist sheet that was tucked up and he said, "O Allah's Apostle! Be afraid of Allah." The Prophet said, "Woe to you! Am I not of all the people of the earth the most entitled to fear Allah?" Then that man went away. Khalid bin Al-Wahd said, "O Allah's Apostle! Shall I chop his neck off?" The Prophet said, "No, for he may offer prayers." Khalid said, "Numerous are those who offer prayers and say by their tongues (i.e. mouths) what is not in their hearts." Allah's Apostle said, "I have not been ordered (by Allah) to search the hearts of the people or cut open their bellies." Then the Prophet looked at him (i.e. that man) while the latter was going away and said, "From the offspring of this (man there will come out (people) who will recite the Qur'an continuously and elegantly but it will not exceed their throats. (They will neither understand it nor act upon it). They would go out of the religion (i.e. Islam) as an arrow goes through a game's body." I think he also said, "If I should be present at their time I would kill them as the nations a Thamud were killed."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے انہوں نے عمارہ بن قعقاع سے کہا ہم سے عبدالرحٰمن بن ابی نعم نے بیان کیا کہا میں نے ابو سعید خدری سے سنا وہ کہتے تھے حضرت علیؓ نے یمن سے ایک سونے کا ٹکڑا صاف کئے ہوئے چمڑے میں لپیٹا ہوا رسول اللہﷺ کے پاس بھیجا ابھی وہ سونا مٹی سے جدا نہیں کیا گیا تھا آپﷺ نے وہ سونا چار آدمیوں میں بانٹ دیا عیینہ بن بدر اور اقراع بن حابس اور زید خیل بن مہلہل چوتھا آدمی علقمہ بن علاثہ تھا یا عامر بن طفیل یہ حال دیکھ کر آپؑ کے اصحابؓ میں سے ایک شخص (نام نا معلوم)کہنے لگا ہم تو ان لوگوں سے زیادہ اس سونے کے حقدار تھے یہ خبر نبیﷺ کو پہنچی آپؑ نے فرمایا تم لوگ میرا اعتبار نہیں کرتے اور اس پروردگار کو میرا اعتبار ہے جو آسمانوں پر ہے۔صبح اور شام آسمان پر سے مجھ کو خبر آتی رہتی ہے راوی نے کہا اس وقت ایک اور شخص کھڑا ہوا جس کی آنکھیں اندر گھسی ہوئی تھیں دونوں گال پھولے ہوئے تھے پیشانی بلند داڑھی گھنی ہوئی سر منڈا ہوا تہ بند اٹھائے ہوئے کہنے لگا یا رسول اللہؐ ،اللہ سے ڈرو ۔آپؑ نے فرمایا ہاتھ تیرے کی کیا میں ساری زمین والوں میں اللہ سے ڈرنے کے لئے زیادہ لائق نہیں ہوں ۔خیر جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو خالد بن ولید نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اس کی گردن اڑادوں آپؑ نے فرمایا نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو ،خالد نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ بہت سے نمازی ایسے ہیں جنکی زبان اوردل موافق نہیں ہیں (یعنی منافق ہیں )آپؑ نے فرمایا (یہ تو صحیح ہے) مگر مجھ کو یہ حکم نہیں ملا کہ لوگوں کے دل کی بات کھود کر نکالوں یا ان کے پیٹ چیروں ۔راوی نے کہا وہ پیٹھ موڑکر جارہا ہےرسول اللہﷺ نے اس کو دیکھا فرمایا اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو بڑے مزے سے یا ہر وقت پڑھتے رہیں گے مگر وہ ان کے گلے کے نیچے نہیں اترنے کا (بس زبان سے طوطے کی طرح رٹیں گے)وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے (اس میں کچھ لگا نہیں رہتا )راوی کہتا ہے میں سمجھتا ہوں آپﷺ نے یہ بھی فرمایا اگر کہیں میں نے ان لوگوں کو پالیاتو ثمود کی قوم کی طرح با لکل قتل کر ڈالوں گا۔


حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ‏.‏ زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ فَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه بِسِعَايَتِهِ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ ‏"‏‏.‏ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا‏.‏

Narrated By 'Ata : Jabir said, "The Prophet ordered 'Ali to keep the state of Ihram." Jabir added, "Ali bin Abi Talib returned (from Yemen) when he was a governor (of Yemen). The Prophet said to him, 'With what intention have you assumed the state of Ihram?' 'Ali said, "I have assumed Ihram with an intention as that of the Prophet." Then the Prophet said (to him), 'Offer a Hadi and keep the state of Ihram in which you are now.' 'Ali slaughtered a Hadi on his behalf."

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے ابن جریج سے کہ عطاء بن ابی رباح نے کہا جابرؓ نے کہا نبیﷺ نے حضرت علیؓ کو جب وہ یمن سے لوٹ کر آئے یہ حکم دیا کہ اپنے احرام پر قائم رہیں۔محمد بن بکر نے ابن جریج سے اتنا بڑھایا کہ عطاء نے کہا جابرؓ نے کہا حضرت علیؓ اپنی حکومت پر یمن سے لوٹ کر آئے تو نبیﷺ نے ان سے پوچھا ، علیؓ تم نے کاہے کا احرام باندھا (حج یا عمرے کا)انہوں نے کہا میں نے تو وہی نیت کی جس کا احرام آپﷺ نے باندھا ہو۔آپﷺ نے فرمایا پھر تو فربانی کا جانور رکھ چھڑ اور جیسے احرام باندھے ہے اسی حال میں ٹھہرا رہ حضرت علیؓ نبیﷺ کے لئے بھی قربانی کے جانور لائے تھے۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، أَنَّهُ ذَكَرَ لاِبْنِ عُمَرَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ، وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ ‏"‏ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ‏"‏‏.‏ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَدْىٌ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ حَاجًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِمَ أَهْلَلْتَ فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَمْسِكْ، فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn Umar : The Prophet assumed the state of Ihram for Umra and Hajj, and we to assumed it for Hajj with him. When we arrived at Mecca, the Prophet said, "Whoever does not possess a Hadi should regard his Ihram for Umra only." The Prophet had a Hadi with him. 'Ali bin Abi Talib came to us from Yemen with the intention of performing Hajj. The Prophet said (to him), "With what intention have you assumed the Ihram, for your wife is with us?" 'Ali said, "I assumed the Ihram with the same intention as that of the Prophet." The Prophet said, "Keep on the state of ihram, as we have got the Hadi."

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے بشر بن مفضل نے انہوں نے حمید طویل سے کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے بیان کیا انسؓ نے ان سے یہ حدیث بیان کی نبیﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا خیر نبیﷺ نے بھی حج کا احرام باندھا ہم نے بھی حج کا احرام باندھا جب ہم مکہ میں پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہو حج کو عمرہ کر ڈالے (طواف اور سعی کر کے احرام کھول دے) اور نبیﷺ قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے ۔ اس کے بعد حضرت علی یمن سے ( لوٹ کر) آئے تو نبیﷺ نے ان سے پوچھا تم نے کاہے کا احرام باندھا تھا تمہاری بی بی بھی ہمارے ساتھ ہیں(یعنی حضرت فاطمہؓ) انہوں نے کہا میں نے تو وہی احرام باندھا جو آپﷺ نے باندھا ۔ آپﷺ نے فرمایا پھر ٹھہرا رہ کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، أَنَّهُ ذَكَرَ لاِبْنِ عُمَرَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ، وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ ‏"‏ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ‏"‏‏.‏ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَدْىٌ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ حَاجًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِمَ أَهْلَلْتَ فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَمْسِكْ، فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn Umar : The Prophet assumed the state of Ihram for Umra and Hajj, and we to assumed it for Hajj with him. When we arrived at Mecca, the Prophet said, "Whoever does not possess a Hadi should regard his Ihram for Umra only." The Prophet had a Hadi with him. 'Ali bin Abi Talib came to us from Yemen with the intention of performing Hajj. The Prophet said (to him), "With what intention have you assumed the Ihram, for your wife is with us?" 'Ali said, "I assumed the Ihram with the same intention as that of the Prophet." The Prophet said, "Keep on the state of ihram, as we have got the Hadi."

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے بشر بن مفضل نے انہوں نے حمید طویل سے کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے بیان کیا انسؓ نے ان سے یہ حدیث بیان کی نبیﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا خیر نبیﷺ نے بھی حج کا احرام باندھا ہم نے بھی حج کا احرام باندھا جب ہم مکہ میں پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہو حج کو عمرہ کر ڈالے (طواف اور سعی کر کے احرام کھول دے) اور نبیﷺ قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے ۔ اس کے بعد حضرت علی یمن سے ( لوٹ کر) آئے تو نبیﷺ نے ان سے پوچھا تم نے کاہے کا احرام باندھا تھا تمہاری بی بی بھی ہمارے ساتھ ہیں(یعنی حضرت فاطمہؓ) انہوں نے کہا میں نے تو وہی احرام باندھا جو آپﷺ نے باندھا ۔ آپﷺ نے فرمایا پھر ٹھہرا رہ کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔

63. باب غَزْوَةُ ذِي الْخَلَصَةِ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ كَانَ بَيْتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ وَالْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ وَالْكَعْبَةُ الشَّأْمِيَّةُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ‏"‏‏.‏ فَنَفَرْتُ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ رَاكِبًا، فَكَسَرْنَاهُ وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ، فَدَعَا لَنَا وَلأَحْمَسَ‏.‏

Narrated By Jarir : In the Pre-Islamic Period of Ignorance there was a house called Dhu-l-Khalasa or Al-Ka'ba Al-Yamaniya or Al-Ka'ba Ash-Shamiya. The Prophet said to me, "Won't you relieve me from Dhu-l-Khalasa?" So I set out with one-hundred-and-fifty riders, and we dismantled it and killed whoever was present there. Then I came to the Prophet and informed him, and he invoked good upon us and Al-Ahmas (tribe).

ہم سے مسدّد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے خالد بن عبداللہ فحان نے کہا ہم سے بیان بن بشر نے انہوں نے قیس ابن ابی حازم سے انہوں نے جریر بن عبداللہ بجلی سے انہوں نے کہا جاہلیت کے زمانہ میں ایک بت خانہ تھا جس کو ذوالخلصہ کہتے تھے (اب وہاں جامع مسجد بن گئی ہے) اور کعبہ یمانی اور کعبہ شامی بھی اس کا نام تھا نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا جریر تو ذی الخلصہ کو تباہ کر کے مجھ کو بے فکر نہیں کرتا میں ڈیڑھ سو سوار (اپنی قوم احمس کے) لے کر گیا اور ذی الخلصہ کو توڑ پھوڑ کر وہاں جس کو پایا قتل کر کے نبیﷺ کے پاس آیا ۔ آپﷺ نے میرے لئے اور احمس والوں کے لئے دعا فرمائی۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى الْكَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ، فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ‏.‏ قَالَ فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ‏.‏

Narrated By Qais : Jarir said to me, The Prophet said to me, "Won't you relieve me from Dhu-l-Khalasa?" And that was a house (in Yemem belonging to the tribe of) Khatham called Al-Kaba Al Yamaniya. I proceeded with one-hundred and-fifty cavalry from Ahmas (tribe) who were horse riders. I used not to sit firm on horses, so the Prophet stroke me over my chest till I saw the mark of his fingers over my chest, and then he said, 'O Allah! Make him (i.e. Jarir) firm and one who guides others and is guided on the right path." So Jarir proceeded to it dismantled and burnt it, and then sent a messenger to Allah's Apostle. The messenger of Jarir said (to the Prophet), "By Him Who sent you with the Truth, I did not leave that place till it was like a scabby camel." The Prophet blessed the horses of Ahmas and their men five times.

ہم سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے کہا ہم سے اسمٰعیل بن ابی خالد نے کہا ہم سے قیس بن ابی حازم نے کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ بجلی نے بیان کیا نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا ارے جریر ذی الخلصہ کی طرف سے مجھ کو بے فکر نہیں کرتا ذی الخلصہ خثعم قبیلے میں ایک بت خانہ تھا اسکو کعبہ یمان بھی کہا کرتے تھے ۔آپﷺ کے ارشاد پر میں ڈیڑھ سو احمس قبیلے کے سوارلے کر وہاں گیا وہ سب لوگ اچھے سوار تھے۔ ایک میں گھوڑے پر اچھی طرح نہیں جمتا تھا۔ آپﷺ نے میرے سینے پر ایک مار لگائی یہاں تک کہ میں نے آپﷺ کی انگلیوں کا اثر اپنے سینے میں پایا اور دعا کی یا اللہ اس کو گھوڑے پر جمادے اور اس کو رستہ بتلانے والا اور رستہ پایا ہوا کردے غرض جریر ذی الخلصہ کی طرف گئے اس کو توڑ کر سب جلا دیا ۔ پھر ایک شخص کو ایلچی بنا کر رسول اللہﷺ کے پاس بھیجا جریر کا ایلچی نبیﷺ سے عرض کرنے لگا قسم اس پروردگار کی جس نے آپﷺ کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا۔میں آپﷺ کے پاس اس وقت آیا جب ذی الخلصہ کو ایک خارشتی اونٹ کی طرح بنا کر چھوڑ ا ۔ آپﷺ نے یہ خبر سن کر احمس کے گھوڑوں اور لوگوں کو برکت کی دعا دی ۔ پانچ بار دعا کی ۔


حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ بَلَى‏.‏ فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسٍ بَعْدُ‏.‏ قَالَ وَكَانَ ذُو الْخَلَصَةِ بَيْتًا بِالْيَمَنِ لِخَثْعَمَ وَبَجِيلَةَ، فِيهِ نُصُبٌ تُعْبَدُ، يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ‏.‏ قَالَ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَكَسَرَهَا‏.‏ قَالَ وَلَمَّا قَدِمَ جَرِيرٌ الْيَمَنَ كَانَ بِهَا رَجُلٌ يَسْتَقْسِمُ بِالأَزْلاَمِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَا هُنَا فَإِنْ قَدَرَ عَلَيْكَ ضَرَبَ عُنُقَكَ‏.‏ قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ يَضْرِبُ بِهَا إِذْ وَقَفَ عَلَيْهِ جَرِيرٌ فَقَالَ لَتَكْسِرَنَّهَا وَلَتَشْهَدَنَّ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَوْ لأَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ‏.‏ قَالَ فَكَسَرَهَا وَشَهِدَ، ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ رَجُلاً مِنْ أَحْمَسَ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُبَشِّرُهُ بِذَلِكَ، فَلَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ‏.‏ قَالَ فَبَرَّكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ‏.

Narrated By Qais : Jarir said "Allah's Apostle said to me, "Won't you relieve me from Dhul-Khalasa?" I replied, "Yes, (I will relieve you)." So I proceeded along with one-hundred and fifty cavalry from Ahmas tribe who were skilful in riding horses. I used not to sit firm over horses, so I informed the Prophet of that, and he stroke my chest with his hand till I saw the marks of his hand over my chest and he said, O Allah! Make him firm and one who guides others and is guided (on the right path).' Since then I have never fallen from a horse. Dhul-l-Khulasa was a house in Yemen belonging to the tribe of Khatham and Bajaila, and in it there were idols which were worshipped, and it was called Al-Ka'ba." Jarir went there, burnt it with fire and dismantled it. When Jarir reached Yemen, there was a man who used to foretell and give good omens by casting arrows of divination. Someone said to him. "The messenger of Allah's Apostle is present here and if he should get hold of you, he would chop off your neck." One day while he was using them (i.e. arrows of divination), Jarir stopped there and said to him, "Break them (i.e. the arrows) and testify that None has the right to be worshipped except Allah, or else I will chop off your neck." So the man broke those arrows and testified that none has the right to be worshipped except Allah. Then Jarir sent a man called Abu Artata from the tribe of Ahmas to the Prophet to convey the good news (of destroying Dhu-l-Khalasa). So when the messenger reached the Prophet, he said, "O Allah's Apostle! By Him Who sent you with the Truth, I did not leave it till it was like a scabby camel." Then the Prophet blessed the horses of Ahmas and their men five times.

ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ابواسامہ نے خبر دی انہوں نے اسعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے جریر بن عبداللہ بجلی سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا تو مجھ کو ذوالخلصہ اجاڑ کر بےفکر نہیں کرتا ۔میں نے عرض کیا ضرو(ابھی جاتا ہوں)میں احمس کے ڈیڑھ سو سوار لے کر چلا سب کے سب اچھے سوار تھے ۔ایک میری ران پڑی زین پر نہیں جمتی تھی میں نے نبیﷺ سے یہ بیان کیا۔آپؑ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا۔میں نے آپؑ کے ہاتھ کا نشان اپنے سینے پر پایا۔ اور دعا فرمائی یا اللہ اس کو گھوڑے پر جما دے اور راہ بتلانے والا ،راہ پایا ہوا کر دے جریر کہتے ہیں آپؑ کی اس دعاکے بعد میں گھوڑے پر سے کبھی نہیں گرا ۔جریر نے کہا ذوالخلصہ یمن میں خثعم اور بجیلہ قبیلوں کا بت خانہ تھا وہاں بت رکھے تھے جن کو پوجتے تھے اس کو کعبہ کہا کرتے تھے غرض جریر وہاں پہنچے اس کو آگ سے جلایا توڑ پھوڑ دیا۔اور جب جریر یمن پہنچے ۔تو وہاں ایک شخص تھا جو تیروں پر فال کھولتا تھا۔لوگوں نے اس سے کہا رسول اللہﷺ کا ایلچی یہاں آگیا ہے۔ اگر تجھ کو پالے گا تو تیری گردن اڑادے گا پھر ایسا ہوا کہ وہ فال کھول رہا تھا اتنے میں جریر وہاں پہنچ گئے انہوں نے کہا یہ فال کے تیر توڑ کر پھینک دے اور لا الہ الا اللہ کی گواہی دے ورنہ ابھی تیری گردن مارتا ہوں اس نے وہ تیر توڑ ڈالے اور ایمان کے کلمے کی گواہی دی۔ پھر جریر نے احمس قبیلے کے ایک شخص کو نبیﷺ کے پاس بھیجا جس کی کنیت ابو ارطاۃ تھی نبیﷺ کو خوشخبری دینے کے لئے (کہ ذوالخلصہ جلا دیا گیا ) جب وہ نبیﷺ کے پاس آیا تو کہنے لگا یارسول اللہ اس پر وردگار کی قسم جس نے آپؑ کو سچا بنا کر بھیجا۔میں اس وقت تک نہیں نکلا جب تک ذوالخلصہ کو خارشتی اونٹ کی طرح بنا کر نہیں چھوڑا ۔یہ سن کر نبیﷺ نے احمس کے گھوڑوں اور سواروں کے لئے پانچ بار برکت کی دعا فرمائی۔

64. باب غَزْوَةُ ذَاتِ السَّلاَسِلِ وَهْىَ غَزْوَةُ لَخْمٍ وَجُذَامَ

قَالَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عُرْوَةَ هِيَ بِلاَدُ بَلِيٍّ وَعُذْرَةَ وَبَنِي الْقَيْنِ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَىُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ ‏"‏ عَائِشَةُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ ‏"‏ أَبُوهَا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ‏"‏ عُمَرُ ‏"‏‏.‏ فَعَدَّ رِجَالاً فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ‏

Narrated By Abu Uthman : Allah's Apostle sent 'Amr-bin-Al-As as the commander of the troops of Dhat-us-Salasil. 'Amr bin Al-'As said, "(On my return) I came to the Prophet and said, 'Which people do you love most?' He replied, 'Aisha.' I said, 'From amongst the men?' He replied, 'Her father (Abu Bakr)'. I said, 'Whom (do you love) next?' He replied, "Umar.' Then he counted the names of many men, and I became silent for fear that he might regard me as the last of them."

ہم سے اسحٰق بن شاہین نے بیان کیا کہا ہم کو خالد بن عبداللہ طحان نے خبر دی انہوں نے خالد خداء سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے کہ رسول اللہﷺ نے عمرو بن عاص کو ذات السلاسل کے لشکر کا سردار کر کے بھیجا۔عمرو کہتے ہیں جب میں (لوٹ کر) آپﷺ کے پاس آیا میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ آپﷺ سب لوگوں میں کس سے زیادہ محبت رکھتے ہیں آپؐ نے فرمایا عائشہ سے میں نے پوچھا مردوں میں فرمائیے آپﷺ نے فرمایا اس کے والد سے میں نے پوچھا پھر کس سے آپﷺ نے فرمایا عمرؓ سے اسی طرح آپﷺ نے (ایک کے بعد ایک) کئی شخصیتوں کا نام لیا پھر میں اس ڈر سے خاموش رہا کہیں مجھ کو سب کے آخر میں نہ کرلیں۔

65. باب ذَهَابُ جَرِيرٍ إِلَى الْيَمَنِ

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ كُنْتُ بِالْبَحْرِ فَلَقِيتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ذَا كَلاَعٍ وَذَا عَمْرٍو، فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ ذُو عَمْرٍو لَئِنْ كَانَ الَّذِي تَذْكُرُ مِنْ أَمْرِ صَاحِبِكَ، لَقَدْ مَرَّ عَلَى أَجَلِهِ مُنْذُ ثَلاَثٍ‏.‏ وَأَقْبَلاَ مَعِي حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ رُفِعَ لَنَا رَكْبٌ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ فَسَأَلْنَاهُمْ فَقَالُوا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَالنَّاسُ صَالِحُونَ‏.‏ فَقَالاَ أَخْبِرْ صَاحِبَكَ أَنَّا قَدْ جِئْنَا وَلَعَلَّنَا سَنَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَرَجَعَا إِلَى الْيَمَنِ فَأَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرٍ بِحَدِيثِهِمْ قَالَ أَفَلاَ جِئْتَ بِهِمْ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ قَالَ لِي ذُو عَمْرٍو يَا جَرِيرُ إِنَّ بِكَ عَلَىَّ كَرَامَةً، وَإِنِّي مُخْبِرُكَ خَبَرًا، إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا كُنْتُمْ إِذَا هَلَكَ أَمِيرٌ تَأَمَّرْتُمْ فِي آخَرَ، فَإِذَا كَانَتْ بِالسَّيْفِ كَانُوا مُلُوكًا يَغْضَبُونَ غَضَبَ الْمُلُوكِ وَيَرْضَوْنَ رِضَا الْمُلُوكِ‏.‏

Narrated By Jarir : While I was at Yemen, I met two men from Yemen called Dhu Kala and Dhu Amr, and I started telling them about Allah's Apostle. Dhu Amr said to me, "If what you are saying about your friend (i.e. the Prophet) is true, then he has died three days ago." Then both of them accompanied me to Medina, and when we had covered some distance on the way to Medina, we saw some riders coming from Medina. We asked them and they said, "Allah's Apostle has died and Abu Bakr has been appointed as the Caliph and the people are in a good state.' Then they said, "Tell your friend (Abu Bakr) that we have come (to visit him), and if Allah will, we will come again." So they both returned to Yemen. When I told Abu Bakr their statement, he said to me, "I wish you had brought them (to me)." Afterwards I met Dhu Amr, and he said to me, "O Jarir! You have done a favour to me and I am going to tell you something, i.e. you, the nation of 'Arabs, will remain prosperous as long as you choose and appoint another chief whenever a former one is dead. But if authority is obtained by the power of the sword, then the rulers will become kings who will get angry, as kings get angry, and will be delighted as kings get delighted."

مجھ سے عبد اللہ بن ابی شیبہ (حافظ مشہور) نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس نے انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے جریر بن خالد عبد اللہ بجلی سے انہوں نے کہا میں یمن کے ملک میں تھا وہاں دو شخصوں سے جو یمن والے تھے ملا۔ یعنی ذی کلاع اور ذی عمرو سے ۔ میں رسول اللہﷺ کے حالات ان سے بیان کرنے لگا ۔ ذو عمرو نے کہا تم جن صاحب کے یہ حالات بیان کرتے ہو اگر یہ سچ ہیں تو ان کو مر کر تین دن گزر چکے ۔ خیر وہ دونوں شخص میرے ساتھ (مدینہ کی طرف) چلے رستہ میں کچھ سوار مدینہ کی طرف سے آتے ملے ہم نے ان سے حال پوچھا انھوں نے کہا رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی ہے اور ابو بکرؓ آپﷺ کے خلیفہ ہوئے باقی سب خیریت ہے یہ سن کر ذو الکلاع اور ذو عمرو نے کہا تم ابوبکرؓ کو خبر دینا کہ ہم یہاں تک آئے تھے اور خدا نے چاہا تو ہم پھر آئیںگے یہ کہہ کر وہ دونوں یمن کی طرف لوٹ گئے۔ میں نے ابو بکرؓ کو ان کا قصّہ سنایا انھوں نے کہا تم ان کو میرے پاس کیوں نہ لائے۔ پھر ایک مدت بعد (حضرت عمرؓ کی خلافت میں ) ایسا ہوا ۔ ذوعمرو مجھ سے ملا کہنے لگا ۔ جریر تمہارا مجھ پر احسان ہے اور میں تم کو ایک بات بتلاتا ہوں ۔ دیکھو عرب کے لوگو تم ہمیشہ اچھے رہوگے (تمہاری حکومت قائم رہے گی) ) جب تک تم ایسا کرتے رہو گے ۔ ایک امیر کے مرنے کے بعد سے دوسرے کو امیر بناؤگے ۔ پھر تلوار کے زور سے بادشاہت ہونے لگے گی ۔ تو یہ امیر دوسرے بادشاہوں کی طرح غصّہ کریں گے انہی کی طرح خوش ہوں گے۔

66. باب غَزْوَةُ سِيفِ الْبَحْرِ وَهُمْ يَتَلَقَّوْنَ عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَأَمِيرُهُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلاَثُمِائَةٍ، فَخَرَجْنَا وَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ الْجَيْشِ، فَجُمِعَ فَكَانَ مِزْوَدَىْ تَمْرٍ، فَكَانَ يَقُوتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلٌ قَلِيلٌ حَتَّى فَنِيَ، فَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُنَا إِلاَّ تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ فَقُلْتُ مَا تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ‏.‏ ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ فَأَكَلَ مِنْهَا الْقَوْمُ ثَمَانَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنُصِبَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا‏.

Narrated By Wahab bin Kaisan : Jabir bin Abdullah said, "Allah's Apostle sent troops to the sea coast and appointed Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah as their commander, and they were 300 (men). We set out, and we had covered some distance on the way, when our journey food ran short. So Abu 'Ubaida ordered that all the food present with the troops be collected, and it was collected. Our journey food was dates, and Abu Ubaida kept on giving us our daily ration from it little by little (piecemeal) till it decreased to such an extent that we did not receive except a date each." I asked (Jabir), "How could one date benefit you?" He said, "We came to know its value when even that finished." Jabir added, "Then we reached the sea (coast) where we found a fish like a small mountain. The people (i.e. troops) ate of it for 18 nights (i.e. days). Then Abu 'Ubaida ordered that two of its ribs be fixed on the ground (in the form of an arch) and that a she-camel be ridden and passed under them. So it passed under them without touching them."

ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے وہب بن کیسان سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے ، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے ایک لشکر سمندر کے کنارے بھیجا اس کا سردار ابو عبیدہ بن جراح کو بنایا۔اس میں تین سو آدمی تھے۔ خیر ہم لوگ (مدینہ سے) نکلے ابھی راستے ہی میں تھے کہ توشہ تمام ہوگیا ۔ ابو عبیدہ نے یہ حکم دیا سب لوگ اپنے اپنے توشے ایک جگہ کر دیں ایسا ہی کیا گیا سارا توشہ کھجور کے دو تھیلے تھے ۔ ابو عبیدہ اس میں سے ہر روز تھوڑا تھوڑا ہم کو کھانے کے لئے دیتے رہے پھر وہ بھی تمام ہوگیا ۔ پھر تو ہم کو ہر روز ایک ایک کھجور ملا کرتی ۔ وہب نے کہا میں نے جابرؓ سے کہا بھلا ایک کھجور سے کیا کام چلتا ہوگا (اونٹ کے منہ میں زیرہ) انہوں نے کہا (واہ ایک کھجور بھی غنیمت تھی) جب وہ بھی نہ رہی تو ہم کو اس کی قدر معلوم ہوئی پھر ہم سمندر پر پہنچے۔ وہاں کیا دیکھتے ہیں بڑے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی (نکل کر پڑی) ہے سارے لشکر والے اسی کا گوشت اٹھا رہ راتوں تک کھاتے رہے جب چلنے لگے تو ابو عبیدہؓ نے حکم دیا اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں وہ اتنی اونچی تھیں کہ اونٹ پر کجاوہ کسا گیا۔ وہ ان کے تلے سے نکل گیا۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَمِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنَصَبَهُ فَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ ـ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً ضِلَعًا مِنْ أَعْضَائِهِ فَنَصَبَهُ وَأَخَذَ رَجُلاً وَبَعِيرًا ـ فَمَرَّ تَحْتَهُ قَالَ جَابِرٌ وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ‏.‏ وَكَانَ عَمْرٌو يَقُولُ أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ لأَبِيهِ كُنْتُ فِي الْجَيْشِ فَجَاعُوا‏.‏ قَالَ انْحَرْ‏.‏ قَالَ نَحَرْتُ‏.‏ قَالَ ثُمَّ جَاعُوا قَالَ انْحَرْ‏.‏ قَالَ نَحَرْتُ‏.‏ قَالَ ثُمَّ جَاعُوا قَالَ انْحَرْ‏.‏ قَالَ نَحَرْتُ ثُمَّ جَاعُوا قَالَ انْحَرْ‏.‏ قَالَ نُهِيتُ‏.‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : Allah's Apostle sent us who were three-hundred riders under the command of Abu Ubaida bin Al-Jarrah in order to watch the caravan of the Quraish pagans. We stayed at the seashore for half a month and were struck with such severe hunger that we ate even the Khabt (i.e. the leaves of the Salam, a thorny desert tree), and because of that, the army was known as Jaish-ul-Khabt. Then the sea threw out, an animal (i.e. a fish) called Al-'Anbar and we ate of that for half a month, and rubbed its fat on our bodies till our bodies returned to their original state (i.e. became strong and healthy). Abu Ubaida took one of its ribs, fixed it on the ground; then he went to the tallest man of his companions (to let him pass under the rib). Once Sufyan said, "He took a rib from its parts and fixed it, and then took a man and camel and they passed from underneath it (without touching it). " Jabir added: There was a man amongst the people who slaughtered three camels and then slaughtered another three camels and then slaughtered other three camels, and then Abu 'Ubaida forbade him to do so. Narrated Abu Salih: Qais bin Sad said to his father. "I was present in the army and the people were struck with severe hunger." He said, "You should have slaughtered (camels) (for them)." Qais said, "I did slaughter camels but they were hungry again. He said, "You should have slaughtered (camels) again." Qais said, "I did slaughter (camels) again but the people felt hungry again." He said, "You should have slaughtered (camels) again." Qais said, "I did slaughter (camels) again, but the people again felt hungry." He said, "You should have slaughtered (camels) again." Qais said, "But I was forbidden (by Abu 'Ubaida this time)."

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیٰان بن عیینہ نے کہا ہم نے عمرو بن دینار سے یہ حدیث یاد رکھی۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے ہم کو تین سو سواروں نے ساتھ روانہ کیا۔ ہمارے سردار ابو عبیدہ بن جراح تھے ہم لوگ قریش کا قافلہ تاک رہے تھے (کہ ادھر سے آئے تو اس کو لُوٹیں ) خیر ہم سمندر کے کنارے آدھے مہینے تک پڑے رہے اور بھوک کی شدت سے پتے تک کھا گئے یہی سبب تھا کہ فوج کا نام پتوں کی فوج ہوگیا آخر (خدا کا کرنا) ایسا ہوا کہ سمندر نے ایک جانور نکال کر پھینکا جس کو عنبر کہتے ہیں ہم آدھے مہینے تک اس کا گوشت کھاتے رہے اور اس کی چربی بدن پر لگاتے رہے جیسے موٹے تازے پہلے تھے ویسے ہی ہےگئے۔ ابو عبیدہ نے (چلتے وقت) اس کی پسلی لی ۔ اس کو کھڑا کیا اور سارے لشکر میں جو سب سے لمبا آدمی تھا اس کو چنا ایک بار سفیان بن عیینہ نے یوں کہا اس کی ایک پسلی لی۔ اس کو کھڑا کیا اور آدمی اور ایک اونٹ کیا وہ اس کے تلے سے نکل گیا ۔ جابرؓ نے کہا لشکر میں اور ایک آدمی تھا اس نے (لوگوں کے کھانے کے لئے) تین اونٹ کاٹے پھر دوسرے دن تین اونٹ کاٹے پھر (تیسرے دن) تین اونٹ کاٹے ۔ ابو عبیدہ نے اس کو اونٹ کاٹنے سے منع کردیا (ایسا نہ ہو سواریاں نہ رہیں اور سفر نہ ہو سکے) عمرو بن دینار کہتے تھے ہم کو ابو صالح ذکوان نے خبر دی کہ قیس بن سعد نے اپنے باپ (سعد بن عبادہ) سے کہا میں بھی اس لشکر میں تھا۔ لوگوں کو بھوک لگی ابو عبیدہ نے کہا اونٹ کاٹ لے میں نے کاٹا ۔ پھر بھوک لگی تو انھوں نے کہا کاٹ لے میں نے کاٹا پھر بھوک لگی انہوں نے کہا کاٹ لے میں نے کاٹا پھر بھوک لگی انہوں نے کہا کاٹ لے (پھر قیس نے کہا) مجھ کو اونٹ کاٹنے سے منع کر دیا گیا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا، لَمْ نَرَ مِثْلَهُ، يُقَالُ لَهُ الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ‏.‏ فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ كُلُوا‏.‏ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ، أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ ‏"‏‏.‏ فَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ ‏{‏بِعُضْوٍ‏}‏ فَأَكَلَهُ‏.‏

Narrated By Jabir : We set out in the army of Al-Khabt and Abu Ubaida was the commander of the troops. We were struck with severe hunger and the sea threw out a dead fish the like of which we had never seen, and it was called Al-'Anbar. We ate of it for half a month. Abu Ubaida took (and fixed) one of its bones and a rider passed underneath it (without touching it). (Jabir added:) Abu 'Ubaida said (to us), "Eat (of that fish)." When we arrived at Medina, we informed the Prophet about that, and he said, "Eat, for it is food Allah has brought out for you, and feed us if you have some of it." So some of them gave him (of that fish) and he ate it.

ہم سے مسدّد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے کہا مجھ کو عمرو بن دینار نے خبردی ۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے سنا وہ کہتے تھے ہم پتوں کی فوج میں شریک تھے ابو عبیدہ سردار تھے ہم کو شدت سے بھوک لگی پھر ایسا ہوا کہ سمندر نے ایک مری مچھلی کنارے پر پھینکی ۔ ویسی مچھلی ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھی اس کو عنبر کہتے ہیں آدھے مہینے برابر اس میں سے کھاتے رہے پھر ابو عبیدہ نے اس کی ایک ہڈی لی ۔ کھڑی کرائی تو اونٹ کا سوار اس کے تلے سے نکل گیا ۔ ابن جریج نے کہا مجھ کو ابو الزبیر نے خبر دی انہوں نے جابرؓ سے سنا وہ کہتے تھے ابو عبیدہؓ نے لشکر والوں سے کہا اس کا گوشت کھاؤ جب ہم مدینہ لوٹ کر آئے تو نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا آپﷺ نے فرمایا اللہ نے جو روزی تمہارے لئے نکالی اس کو کھاؤ اگر کچھ تمہارے پاس ہو تو ہم کو بھی کھلاؤ یہ سن کر بعض لوگ اس کا بچا ہوا گوشت لیکر آئے آپﷺ نے بھی کھایا۔

67. باب حَجُّ أَبِي بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي سَنَةِ تِسْعٍ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ـ رضى الله عنه ـ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : That during the Hajj in which the Prophet had made Abu Bakr As Siddiq as chief of the, Hajj before the Hajj-ul-Wida,' on the day of Nahr, Abu Bakr sent him along with a group of persons to announce to the people. "No pagan is permitted to perform Hajj after this year, and nobody is permitted to perform the Tawaf of the Ka'ba naked."

ہم سے سلیمان بن داؤد ابو الربیع نے بیان کیا کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے انہوں نے زہری سے انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ ابو بکر صدیقؓ نے ان کو کئی آدمیوں کے ساتھ اس حج میں جو حج وداع سے پہلے تھا اور نبیﷺ نے ان کو بھیجا تھا ۔ دسویں ذیحجہ کو منادی کرنے کے لئے مقرر کیا کہ لوگوں میں یہ منادی کر دیں اب اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے نہ کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے (جیسے مشرکوں کی رسم تھی)۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ كَامِلَةً بَرَاءَةٌ، وَآخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ ‏{‏يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ‏}‏

Narrated By Al-Bara : The last Sura which was revealed in full was Baraa (i.e. Sura-at-Tauba), and the last Sura (i.e. part of a Sura) which was revealed was the last Verses of Sura-an-Nisa': "They ask you for a legal decision. Say: Allah directs (thus) About those who have No descendants or ascendants As heirs." (4.177)

ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہا مجھ سے اسرائیل نے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا سب سے آخری سورت جو پوری اتری سورۃ براء تھی اور اخیر آیت جو اتری وہ سورۃ نساء کی یہ آیت ہے : یَستَفتُونَکَ قُلِ اللہُ یُفتِیکُم فِی الکَلالَۃِ ۔

68. باب وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَى نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا‏.‏ فَرِيءَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ فَجَاءَ نَفَرٌ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ ‏"‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏

Narrated By 'Imran bin Hussein : A delegation from Banu Tamim came to the Prophet. The Prophet said, "Accept the good tidings, O Banu Tamim!" They said, "O Allah's Apostle! You have given us good tidings, so give us (something)." Signs of displeasure appeared on his face. Then another delegation from Yemen came and he said (to them), "Accept the good tidings, for Banu Tamim refuses to accept them." They replied, "We have accepted them, O Allah's Apostle!"

ہم سے ابو نعیم (فضل بن دکین) نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انھوں نے ابو صخرہ (جامع بن شداد ) سے انھوں نے صفوان بن محرز مازنی سے انھوں نے عمران بن حصینؓ سے انھوں نے کہا بنی تمیم کے کئی آدمی (۹ ہجری میں ) نبیﷺ کے پاس آئے آپﷺ نے فرمایا اے بنی تمیم (بہشت کی ) خوشخبری قبول کرو ۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ خوشخبری دیتے ہیں تو کچھ دنیا کا مال اسباب بھی دلوائیے ، یہ سنتے ہی آپﷺ کے مبارک چہرے پر ناراضی معلوم ہوئی ۔ اس کے بعد یمن کے چند آدمی آئے (اشعر قبیلے کے) آپﷺ نے فرمایا بنی تمیم نے تو یہ خوشخبری قبول نہ کی تم قبول کرو انہوں نے کہا یا رسول اللہﷺ ہم نے قبول کی ۔

69. باب

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ غَزْوَةُ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ بَنِي الْعَنْبَرِ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمْ فَأَغَارَ وَأَصَابَ مِنْهُمْ نَاسًا وَسَبَى مِنْهُمْ نِسَاءً‏

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهَا فِيهِمْ ‏"‏ هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ ‏"‏‏.‏ وَكَانَتْ فِيهِمْ سَبِيَّةٌ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ ‏"‏ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ‏"‏‏.‏ وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمٍ، أَوْ قَوْمِي ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : I have not ceased to like Banu Tamim ever since I heard of three qualities attributed to them by Allah's Apostle (He said): They, out of all my followers, will be the strongest opponent of Ad-Dajjal; 'Aisha had a slave-girl from them, and the Prophet told her to manumit her as she was from the descendants of (the Prophet) Ishmael; and, when their Zakat was brought, the Prophet said, "This is the Zakat of my people."

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے جریر بن عبد الحمید نے انہوں نے عمارہ بن قعقاع سے انہوں نے ابو زرعہ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا میں بنی تمیم سے اس وقت سے برابر محبت کرنے لگا جب سے میں نےرسول اللہﷺ سے ان کی تین باتیں سنیں آپﷺ فرماتے تھے بنی تمیم میری ساری امت میں دجّال کے بڑے مخالف ہوں گے (جب وہ مردود نکلے گا) اور ایسا ہوا ۔ بنی تمیم کی ایک عورت حضرت عائشہؓ کے پاس قید تھی آپﷺ نے فرمایا اس کو آزاد کردے بنی تمیم حضرت اسمٰعیل کی اولاد ہیں اور ایسا ہوا کہ سب قوموں کی زکوٰۃ رسول اللہﷺ کے پاس آئیں بنی تمیم کی زکوٰۃ آئی تو آپﷺ نے فرمایا یہ میری قوم کی زکوٰۃ ہے ۔


حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ، قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمِّرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدِ بْنِ زُرَارَةَ‏.‏ قَالَ عُمَرُ بَلْ أَمِّرِ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي‏.‏ قَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ‏.‏ فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُقَدِّمُوا‏}‏ حَتَّى انْقَضَتْ‏.‏

Narrated By Ibn Abi Mulaika : 'Abdullah bin Az-Zubair said that a group of riders belonging to Banu Tamim came to the Prophet, Abu Bakr said (to the Prophet), "Appoint Al-Qa'qa bin Mabad bin Zurara as (their) ruler." 'Umar said (to the Prophet). "No! But appoint Al-Aqra bin Habis." Thereupon Abu Bakr said (to 'Umar). "You just wanted to oppose me." 'Umar replied. "I did not want to oppose you." So both of them argued so much that their voices became louder, and then the following Divine Verses were revealed in that connection: "O you who believe ! Do not be forward in the presence of Allah and His Apostle..." (till the end of Verse)...(49.1)

مجھ سے ابراہیم بن موسٰی نے بیان کیا کہا مجھ سے ہشام بن یوسف نے ان کو ابن جریج نے خبر دی انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے ان سے عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا ۔ بنی تمیم کے کچھ سوار نبیﷺ کے پاس آئے (اور آپﷺ سے درخواست کی ہم میں سے کسی کو سردور بنا دیجئے ) ابو بکر صدیقؓ نے عرض کیا ۔ قعقاع بن معبد بن زرارہ کو ان کا سردار کر دیجئے ۔ حضرت عمرؓ نے کہا نہیں اقرع بن حابس کو سردار کر دیجئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے اس پر حضرت عمرؓ سے کہا تم میری مخالفت کرنا چاہتے ہو (اور کوئی غرض نہیں ) حضرت عمرؓ نے کہا نہیں میری غرض مخالفت نہیں ہے دونوں اتنا جھگڑے کہ آواز بلند ہوئیں آخر سورت حجرات کی یہ آیت اتری مسلمانو ! اللہ اور اس کے رسول کے آگے بڑھ بڑھ کر باتیں نہ بناؤ اخیر تک۔

70. باب وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ إِنَّ لِي جَرَّةً يُنْتَبَذُ لِي نَبِيذٌ، فَأَشْرَبُهُ حُلْوًا فِي جَرٍّ إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ، فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ، فَأَطَلْتُ الْجُلُوسَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ فَقَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ النَّدَامَى ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لاَ نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، حَدِّثْنَا بِجُمَلٍ مِنَ الأَمْرِ، إِنْ عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الإِيمَانِ بِاللَّهِ، هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ مَا انْتُبِذَ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ ‏

Narrated By Abu Jamra : I said to Ibn 'Abbas, "I have an earthenware pot containing Nabidh (i.e. water and dates or grapes) for me, and I drink of it while it is sweet. If I drink much of it and stay with the people for a long time, I get afraid that they may discover it (for I will appear as if I were drunk). Ibn 'Abbas said, "A delegation of Abdul Qais came to Allah's Apostle and he said, "Welcome, O people! Neither will you have disgrace nor will you regret." They said, "O Allah's Apostle! There are the Mudar pagans between you and us, so we cannot come to you except in the sacred Months. So please teach us some orders on acting upon which we will enter Paradise. Besides, we will preach that to our people who are behind us." The Prophet said, "I order you to do four things and forbid you from four things (I order you): To believe in Allah... Do you know what is to believe in Allah? That is to testify that None has the right to be worshipped except Allah: (I order you also to offer prayers perfectly to pay Zakat; and to fast the month of Ramadan and to give the Khumus (i.e. one-fifth of the booty) (for Allah's Sake). I forbid you from four other things (i.e. the wine that is prepared in) Ad-Dubba, An-Naquir, Az-Hantam and Al-Muzaffat.

مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم کو ابو عامر عقدی نے خبر دی کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا انہوں نے ابو جمرہؓ سے کہا میں نے ابن عباسؓ سے کہا میری پاس ایک گھڑا ہے جس میں نبیذ (کھجور کا شربت ) بنایا جاتا ہے میں میٹھا رہے تک اس کو پیا کرتا ہوں بعضے وقت بہت پی لیتا ہوں اور لوگوں کے پاس دیر تک بیٹھتا ہوں ۔ تو ڈرتا ہوں کہیں فضیحت نہ ہو (لوگ کہیں یہ نشہ میں ہے) ابن عباسؓ نے کہا عبد القیس قبیلے کے لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے ۔ آپﷺ نے فرمایا اچھے آئے نہ ذلیل ہوئے نہ شرمندہ ( خوشی سے مسلمان ہو گئے لڑکر ہوتے تو ذلت اور شرمندگی حاصل ہوتی ) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہمارے اور آپﷺ کے بیچ میں مضر کے کے کافر بستے ہیں ہم آپﷺ تک صرف حرام مہینوں میں پہنچ سکتے ہیں (جن مہینوں میں عرب لوٹ کھسوٹ سے بعض رہتے) تو ہم سے خلاصہ طور پر دین کی تمام باتیں بیان کر دیجئے ۔ ہم خود بھی ان پر عمل کریں تو بہشت میں داخل ہوں اور دوسروں کو بھی ان پر عمل کرنے کو کہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا ، میں تم کو چار باتوں کا حکم کرتا ہوں چار باتوں سے منع کرتا ہوں ، پہلے اللہ پر ایمان لانا۔ تم جانتے ہو اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا عبادت کے کوئی لائق نہیں ۔ دوسرے نماز پڑھنا ، تیسرے زکوٰۃ دینا ، چوتھے رمضان کے روزے رکھنا اور لوٹ کے مال میں سے پانچواں حصہ (اللہ اور رسولﷺ کا ) ادا کرنا ۔ اور چار باتو ں سے منع کرتا ہوں کدّو کے تونبے اور کریدی ہوئے لکڑی کے برتن میں اور سبز لاکھی گھڑی یا مرتبان میں اور روغنی برتن میں نبیذ بھگونے سے ۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا هَذَا الْحَىَّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَشْيَاءَ نَأْخُذُ بِهَا وَنَدْعُو إِلَيْهَا مَنْ وَرَاءَنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ـ وَعَقَدَ وَاحِدَةً ـ وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا لِلَّهِ خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ ‏"‏‏.

Narrated By Ibn 'Abbas : The delegation of 'Abdul Qais came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle We belong to the tribe of Rabia. The infidels of Mudar tribe intervened between us and you so that we cannot come to you except in the Sacred Months, so please order us some things we may act on and invite those left behind to act on. The Prophet said, "I order you to observe four things and forbid you from four things: (I order you) to believe in Allah, i.e. to testify that None has the right to be worshipped except Allah." The Prophet pointed with finger indicating one and added, "To offer prayers perfectly: to give Zakat, and to give one-fifth of the booty you win (for Allah's Sake). I forbid you to use Ad-Dubba', An-Naquir, Al-Hantam and Al-Muzaffat, (Utensils used for preparing alcoholic liquors and drinks)."

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ابو جمرہ سے انہوں نے کہا میں نے ابن عباسؓ سے سنا وہ کہتے تھے عبدالقیس کے ایلچی نبیﷺ کے پاس آئے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم ربعہ قوم کی شاخ ہیں اور مضر کے کافر ہمارے اور آپﷺ کے بیچ میں حائل ہیں وہ ہم کو آپﷺ تک آنے نہیں دیتے بس حرام مہینوں میں آپﷺ تک آسکتے ہیں تو ہم کو دین کی چند ( ضروری )باتیں بتلا دیجئے جن پر ہم خود بھی عمل کریں دوسروں کو بھی سیکھائیں ۔ آپﷺ نے فرمایا میں تم کو چار باتوں کا حکم دیتا ہوں ۔چار باتوں سے منع کرتا ہوں ۔ اللہ پر ایمان لانا یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے آپﷺ نے ایک انگلی بند کی اور نماز درستی سے ادا کرنا ، زکوٰۃ دینا ، لوٹ کا مال جو کماؤ اس میں سے پانچوں حصہ داخل کرنا اور جن باتوں سے منع کرتا ہوں وہ یہ ہے کدّو کی تونبیﷺ میں کریدی ہوئی لکڑی کے برتن میں اور سبز لاکھی برتن اور روغنی برتن میں نبیذ بھگونے سے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو،‏.‏ وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ كُرَيْبًا، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوا إِلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنَّا جَمِيعًا، وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَإِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّيهَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ النَّاسَ عَنْهُمَا‏.‏ قَالَ كُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا، وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي، فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ‏.‏ فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْهُمَا، وَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَىَّ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَصَلاَّهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْخَادِمَ فَقُلْتُ قُومِي إِلَى جَنْبِهِ فَقُولِي تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ أَسْمَعْكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا‏.‏ فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي‏.‏ فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي أُنَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالإِسْلاَمِ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَهُمَا هَاتَانِ ‏"‏‏.

Narrated By Bukair : That Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas told him that Ibn Abbas, 'Abdur-Rahman bin Azhar and Al-Miswar bin Makhrama sent him to 'Aisha saying, "Pay her our greetings and ask her about our offering of the two-Rak'at after 'Asr Prayer, and tell her that we have been informed that you offer these two Rakat while we have heard that the Prophet had forbidden their offering." Ibn 'Abbas said, "I and 'Umar used to beat the people for their offering them." Kuraib added, "I entered upon her and delivered their message to her.' She said, 'Ask Um Salama.' So, I informed them (of 'Aisha's answer) and they sent me to Um Salama for the same purpose as they sent me to 'Aisha. Um Salama replied, 'I heard the Prophet forbidding the offering of these two Rakat. Once the Prophet offered the 'Asr prayer, and then came to me. And at that time some Ansari women from the Tribe of Banu Haram were with me. Then (the Prophet) offered those two Rakat, and I sent my (lady) servant to him, saying, 'Stand beside him and say (to him): Um Salama says, 'O Allah's Apostle! Didn't I hear you forbidding the offering of these two Rakat (after the Asr prayer yet I see you offering them?' And if he beckons to you with his hand, then wait behind.' So the lady slave did that and the Prophet beckoned her with his hand, and she stayed behind, and when the Prophet finished his prayer, he said, 'O the daughter of Abu Umaiya (i.e. Um Salama), You were asking me about these two Rakat after the 'Asr prayer. In fact, some people from the tribe of 'Abdul Qais came to me to embrace Islam and busied me so much that I did not offer the two Rakat which were offered after Zuhr compulsory prayer, and these two Rakat (you have seen me offering) make up for those."

ہم سے یحیٰی بن سلیمان نے بیان کیا کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے کہا مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی اور بکر بن مضر نے یوں کہا ۔ عبد اللہ بن وہب نے عمرو بن حارث سے روایت کی ۔ انہوں نے بکیر سے ان سے کریب نے بیان کیا جو ابن عباسؓ کے غلام تھے کہ ابن عباسؓ اور عبد الرحمٰنؓ بن ازہر اور مسور بن مخرمہ تینوں نے کریب کو حضرت عائشہؓ کے پاس بھیجا کہا ان کو ہماری سب کی طرف سے سلام کہو اور پوچھو کہ نبیﷺ نے عصر کے بعد کیا ۔ دو رکعتیں (سنت کی) پڑھی ہیں ہم کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تم یہ سنتیں پڑھا کرتی ہو۔ اور نبیﷺ سے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپﷺ اس سے منع کرتے تھے( عصر کے بعد نماز پڑھنے سے) ابن عباسؓ نے کہا میں تو حضرت عمرؓ کے ساتھ مل کر لوگوں کو اس بات پر مارا کرتا کریب کہتے ہیں ۔میں گیا اور عائشہؓ کو ان تینوں کا پیغام پہنچایا ۔ انہوں نے کہا ام المومنین ام سلمہ سے پوچھو میں لوٹ کر ان لوگوں کے پاس آیا ان سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ام المومنین ام سلمہؓ کے پاس جاؤ ان سے کہلا بھیجا جو حضرت عائشہؓ کو کہلا بھیجا تھا ۔ ام المومنین ام سلمہ نے کہا میں نے نبیﷺ سے سنا آپﷺ اس سے منع کرتے تھے پھر( ایک دن ) ایسا ہوا آپﷺ عصر کی نماز پڑھ کر میرے پاس آئے اس وقت انصاری بنی حرام کی کئی عورتیں میرے پاس بیٹھی تھیں آپ نے یہ دو گانہ پڑھا میں نے لونڈی کو آپﷺ کے پاس بھیجا ( اس کا نام معلوم نہیں ہوا ) اس نے کہہ دیا آپﷺ کے پاس جا کر کھڑی ہو اور کہہ ام سلمہؓ پوچھتی ہیں میں نے تو آپﷺ کو ان رکعتوں کے پڑھنے سے منع کرتے سنا اور اب آپﷺ خود ہی ان کو پڑھ رہے ہیں ۔ اگر آپ ﷺ ہاتھ سے اشارہ کریں تو سرک جائیو ۔ لونڈی گئی اس نے یہی کیا آپﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا ( چونکہ آپﷺ نماز میں تھے) وہ سرک گئی جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ابو امیہ کی بیٹی تو نے عصر کے بعد دو گانہ کو پوچھا ، بات یہ ہے کہ عبدالقیس قبیلے کے چند لوگ مسلمان ہو کر اپنی قوم کا پیغام لے کر میرے پاس آئے میں ان سے باتیں کرنے میں پھنس گیا ۔ ظہر کا سو گانہ نہ پڑھ سکا ۔ تو میں نے اب اس کو پڑھ لیا ۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ـ هُوَ ابْنُ طَهْمَانَ ـ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ أَوَّلُ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثَى‏.‏ يَعْنِي قَرْيَةً مِنَ الْبَحْرَيْنِ‏.

Narrated By Ibn Abbas : The first Friday (i.e. Jumua) prayer offered after the Friday Prayer offered at the Mosque of Allah's Apostle was offered at the mosque of Abdul Qais situated at Jawathi, that is a village at Al Bahrain.

مجھ سے عبد اللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عامر عبدالملک عقدی نے کہا ہم سے ابراہیم بن طہمان نے انہوں نے ابو جمرہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا ۔ رسول اللہﷺ کی مسجد نبویﷺ کے بعد پہلا جمعہ جو اور کہی پڑھا گیا وہ عبد القیس کی مسجد میں تھا جو جواثی بحرین کی ایک بستی میں ہے ۔

‹ First56789