71. باب وَفْدِ بَنِي حَنِيفَةَ، وَحَدِيثِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْلاً قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ". فَقَالَ عِنْدِي خَيْرٌ يَا مُحَمَّدُ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ مِنْهُ مَا شِئْتَ. حَتَّى كَانَ الْغَدُ ثُمَّ قَالَ لَهُ " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ". قَالَ مَا قُلْتُ لَكَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ. فَتَرَكَهُ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ، فَقَالَ " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ". فَقَالَ عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ. فَقَالَ " أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ "، فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلَىَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْ دِينِكَ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَىَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضُ إِلَىَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلاَدِ إِلَىَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ صَبَوْتَ. قَالَ لاَ، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَلاَ وَاللَّهِ لاَ يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By Abu Huraira : The Prophet sent some cavalry towards Najd and they brought a man from the tribe of Banu Hanifa who was called Thumama bin Uthal. They fastened him to one of the pillars of the Mosque. The Prophet went to him and said, "What have you got, O Thumama?" He replied," I have got a good thought, O Muhammad! If you should kill me, you would kill a person who has already killed somebody, and if you should set me free, you would do a favour to one who is grateful, and if you want property, then ask me whatever wealth you want." He was left till the next day when the Prophet said to him, "What have you got, Thumama? He said, "What I told you, i.e. if you set me free, you would do a favour to one who is grateful." The Prophet left him till the day after, when he said, "What have you got, O Thumama?" He said, "I have got what I told you. "On that the Prophet said, "Release Thumama." So he (i.e. Thumama) went to a garden of date-palm trees near to the Mosque, took a bath and then entered the Mosque and said, "I testify that None has the right to be worshipped except Allah, and also testify that Muhammad is His Apostle! By Allah, O Muhammad! There was no face on the surface of the earth most disliked by me than yours, but now your face has become the most beloved face to me. By Allah, there was no religion most disliked by me than yours, but now it is the most beloved religion to me. By Allah, there was no town most disliked by me than your town, but now it is the most beloved town to me. Your cavalry arrested me (at the time) when I was intending to perform the 'Umra. And now what do you think?" The Prophet gave him good tidings (congratulated him) and ordered him to perform the 'Umra. So when he came to Mecca, someone said to him, "You have become a Sabian?" Thumama replied, "No! By Allah, I have embraced Islam with Muhammad, Apostle of Allah. No, by Allah! Not a single grain of wheat will come to you from Jamaica unless the Prophet gives his permission."
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے کہا مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے انہو ں نے ابو ہریرہؓ سے سنا انہوں نے کہا نبیﷺ نے کچھ سوار نجد کی طرف روانہ کئے وہ بنی حنیفہ کے ایک شخص کو پکڑا جس کو ثمامہ بن اثال کہتے تھے اور مسجد کے ایک ستون سے اس کو باندھ دیا ۔ نبیﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے پوچھا ثمامہ تو کیا سمجھتا ہے ( میں تیرے ساتھ کیا کروں گا) اس نے کہا اچھا ہے اگر آپﷺ مجھ کو مار ڈالیں تو بھی کوئی قباحت نہیں کیونکہ میں خونی ہوں ( میں نے بھی جنگ میں مسلمانوں کو مارا ہے) اور اگر آپﷺ احسان رکھ کر مجھ کو چھوڑ دیں گے تو میں آپﷺ کا شکر گزار ہوں گا ۔ اگر آپﷺ روپیہ چاہتے ہیں تو وہ بھی حاضر ہے آپﷺ جتنا مانگیں ۔ یہ سن کر آپﷺ نے ثمامہ کو ویسا ہی بندھا رہنے دیا ۔پھر دوسرے دن اس کے پاس تشریف لے گئے پوچھا ثمامہ تو کیا سمجھتا ہے۔اس نے کہا میں تو عرض کر چکا اگر آپﷺ احسان رکھ کر چھوڑ دیں تو میں شکر گزار ہوں گا ۔ آپﷺ نے اس کو ویساہی بندھا رہنے دیا پھر جب تیسرا دن ہوا تو پھر آپﷺ تشریف لائے پوچھا ثمامہ کیا حال ہے اس نے کہا میں تو عرض کر چکا آپﷺ نے فرمایا اچھا ثمامہ کو چھوڑ دو (لوگوں نے اس کو چھوڑ دیا ) وہ مسجد کے قریب ایک پانی پر (یا کھجور کے درخت کے پاس ) گیا اس نے غسل کیا پھر مسجد میں آیا اور کہنے لگا میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور بیشک محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ سنو محمدﷺ ساری زمین پر کسی کا منہ دیکھ کر مجھ کو اتنا غصّہ نہیں آتا تھا جتنا آپ کا منہ دیکھ کر اب آج کے دن آپﷺ کا منہ سب مونہوں سے زیادہ مجھ کو پسند ہے خدا کی قسم آپﷺ کے دین سے زیادہ مجھ کو کسی دین سے نفرت نہیں تھی اب آپﷺ کا دین سب دینوں سے زیادہ مجھ کو پسند ہے خدا کی قسم آپﷺ کے شہر سے زیادہ مجھ کو کسی شہر سے نفرت نہیں تھی اب آپﷺ کا شہر مجھ کو سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے آپﷺ کے سواروں نے مجھ کو اس حال میں پکڑ لائے ۔ جب میں عمرے کی نیت سے جارہا تھا اب آپﷺ کیا فرماتے ہیں آپﷺ نے فرمایا ثمامہ خوش ہو جا اور عمرہ ادا کر جب ثمامہ (عمرہ کرنے کو) مکہ پہنچا تو کوئی کافر (نام نا معلوم) کہنے لگا ثمامہ تو نے دین بدل ڈالا اس نے کہا نہیں تو میں تو محمد رسول اللہﷺ کے ساتھ مسلمان ہوگیا ہوں اور تم (مکہ کے کافرو ) یہ سمجھ لو کہ یمامہ کے ملک سے تم کو گیہوں کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا جب تک نبیﷺ حکم نہ دیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَقُولُ إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ. وَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِطْعَةُ جَرِيدٍ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ " لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللَّهِ فِيكَ، وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ، وَإِنِّي لأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا رَأَيْتُ، وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي ". ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ.
Narrated By Ibn Abbas : Musailima Al-Kadhdhab came during the lifetime of the Prophet and started saying, "If Muhammad gives me the rule after him, I will follow him." And he came to Medina with a great number of the people of his tribe. Allah's Apostle went to him in the company of Thabit bin Qais bin Shammas, and at that time, Allah's Apostle had a stick of a date-palm tree in his hand. When he (i.e. the Prophet) stopped near Musailima while the latter was amidst his companions, he said to him, "If you ask me for this piece (of stick), I will not give it to you, and Allah's Order you cannot avoid, (but you will be destroyed), and if you turn your back from this religion, then Allah will destroy you. And I think you are the same person who was shown to me in my dream, and this is Thabit bin Qais who will answer your questions on my behalf." Then the Prophet went away from him.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے عبداللہ بن ابی حسین سے کہا ہم سے نافع بن جبیر نے بیان کیا انہوں نے ابن عبّاس سے انہوں نے کہا نبیﷺ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب (مدینہ میں) آیا اور کہنے لگا اگر محمدﷺ اپنے بعد مجھ کو اپنا جانشین کریں تو میں ان کی تابعداری کرتا ہوں (مسلمان ہو جاتا ہوں ) مسیلمہ اپنے ساتھ اپنی قوم کے بہت لوگوں کو لایا تھا ۔ رسول اللہﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے (اس کو سمجھانے کو اسلام کی دعوت دینے کو ) آپﷺ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس تھے (انصار کے خطیب) اور آپﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ۔(کھجور کی) آپﷺ مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں کے سامنے کھڑے ہوئے (اس نے کہا آپﷺ مجھ کو اپنا شریک کر لیجئے ) آپﷺ نے فرمایا اگر تو مجھ سے یہ چھڑی مانگے تب بھی میں نہیں دینے کا اور اللہ نے جو تیری تقدیر میں لکھ دیا ہے تو اس سے بچ نہیں سکتا اور اگر تو اسلام نہ لائے گا تو اللہ تجھ کو تباہ کردے گا اور میں تو سمجھتا ہوں تو وہی شخص ہے جس کا حال اللہ مجھ کو (خواب میں) دکھلا چکا ہے اور میری طرف سے یہ ثابت بن قیس مجھ سے گفتگو کرے گا یہ فرما کر آپﷺ لوٹ آئے ۔
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ أُرَى الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا أُرِيتُ ". فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَىَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا، فَأُوحِيَ إِلَىَّ فِي الْمَنَامِ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي، أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ، وَالآخَرُ مُسَيْلِمَةُ ".
I asked about the statement of Allah's Apostle : "You seem to be the same person who was shown to me in my dream," and Abu Huraira informed me that Allah's Apostle said, "When I was sleeping, I saw (in a dream) two bangles of gold on my hands and that worried me. And then I was inspired Divinely in the dream that I should blow on them, so I blew on them and both the bangles flew away. And I interpreted it that two liars (who would claim to be prophets) would appear after me. One of them has proved to be Al Ansi and the other, Musailima."
ابن عباسؓ نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کے اس ارشاد کا مطلب دریافت کیا تو وہی شخص ہے جس کا حال خواب میں مجھ سے بیان کیا گیا تو
ابو ہریرہؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک بار میں سو رہا تھا میں نے خواب میں دیکھا میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں تو مجھ کو فکر پیدا ہوئی (یہ عورتوں کا زیور میرے ہاتھ میں کیسا ) پھر خواب ہی میں مجھ کو حکم ہوا ان پر پھونک مارو میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑگئے میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی کہ میرے بعد دو جھوٹے شخص پیغمبری کا دعویٰ کریں گے ایک مسیلمہ کذاب دوسرے اسود عنسی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِخَزَائِنِ الأَرْضِ، فَوُضِعَ فِي كَفِّي سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَىَّ فَأُوحِيَ إِلَىَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ، وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ ".
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "While I was sleeping, I was given the treasures of the earth and two gold bangles were put in my hands, and I did not like that, but I received the inspiration that I should blow on them, and I did so, and both of them vanished. I interpreted it as referring to the two liars between whom I am present; the ruler of Sana and the Ruler of Yamaha."
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے انہوں نے معمر سے انہوں نے ہمام سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک بار ایسا ہوا میں سورہا تھا اتنے میں زمین کے خزانے لائے گئے میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے وہ مجھ کو بھاری معلوم ہوئے (گراں گزرے) پھر مجھ کو حکم ہوا ان کو پھونک دو میں نے پھونک دیا ۔ وہ دونوں کنگن اڑکر چل دئیے میں نے اس خواب کی تعبیر یہ سمجھی ہے کہ ان کنگنوں سے وہ دونوں جھوٹے مراد ہیں ،جن کے بیچ میں، میں ہوں ایک تو صنعاء والا (اسود عنسی) اور دوسرا یمامہ والا (مسیلمہ کذاب)۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَهْدِيَّ بْنَ مَيْمُونٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، يَقُولُ كُنَّا نَعْبُدُ الْحَجَرَ، فَإِذَا وَجَدْنَا حَجَرًا هُوَ أَخْيَرُ مِنْهُ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا الآخَرَ، فَإِذَا لَمْ نَجِدْ حَجَرًا جَمَعْنَا جُثْوَةً مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ جِئْنَا بِالشَّاةِ فَحَلَبْنَاهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُفْنَا بِهِ، فَإِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَجَبٍ قُلْنَا مُنَصِّلُ الأَسِنَّةِ. فَلاَ نَدَعُ رُمْحًا فِيهِ حَدِيدَةٌ وَلاَ سَهْمًا فِيهِ حَدِيدَةٌ إِلاَّ نَزَعْنَاهُ وَأَلْقَيْنَاهُ شَهْرَ رَجَبٍ.
Narrated By Abu Raja Al-Utaridi : We used to worship stones, and when we found a better stone than the first one, we would throw the first one and take the latter, but if we could not get a stone then we would collect some earth (i.e. soil) and then bring a sheep and milk that sheep over it, and perform the Tawaf around it. When the month of Rajab came, we used (to stop the military actions), calling this month the iron remover, for we used to remove and throw away the iron parts of every spear and arrow in the month of Rajab.
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا کہا میں نے مہدی بن میمون سے سنا انہوں نے کہا میں نے ابو رجاء عطاردی سے سنا وہ کہتے تھے ہم (شرک کے زمانہ میں ) پتھروں کی پوجا کیا کرتے تھے جب ایک پتھر پہلے پتھر سے اچھا نظر آتا تو پہلے پتھر کو پھینک دیتے دوسرے پتھر کی پوجا شروع کرتے اگر کوئی (پوجا کے قابل ) پتھر نہ ملتا تو کیا کرتے مٹی کا ایک ٹبہ (ٹیلہ) بناتے اور بکری لاکر اس پر دودھ دوھتے پھر اس کے گرد طواف کرتے رجب کا مہینہ آتا تو کہتے اب ( تیروں اور برچھوں کے) پہل اتار ڈالنے کا مہینہ آیا ہم کوئی برچھہ یا تیر جس میں لوہے کا پھل لگا ہوتا نہ چھوڑتے اس کا پھل نکال کر پھینک دیتے ۔
وَسَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، يَقُولُ كُنْتُ يَوْمَ بُعِثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا أَرْعَى الإِبِلَ عَلَى أَهْلِي، فَلَمَّا سَمِعْنَا بِخُرُوجِهِ فَرَرْنَا إِلَى النَّارِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ.
Abu Raja' added: When the Prophet sent with (Allah's) Message, I was a boy working as a shepherd of my family camels. When we heard the news about the appearance of the Prophet, we ran to the fire, i.e. to Musailima al-Kadhdhab.
مہدی بن میمون نے کہا میں نے ابو رجاء سے سنا وہ کہتے تھے جب نبیﷺ کی پیغمبری مشہور ہوئی اس وقت میں بچہ تھا۔ اپنے گھر والوں کے اونٹ چرایا کرتا جب ہم نے نبیﷺ کے غلبہ کی خبر سنی تو ہم (آپ کو چھوڑ کر ) دوزخ کی طرف چلے یعنی مسیلمہ کذاب کے تابعدار بن گئے۔
72. باب قِصَّةُ الأَسْوَدِ الْعَنْسِيِّ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ـ وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ ـ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ فِي دَارِ بِنْتِ الْحَارِثِ، وَكَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ كُرَيْزٍ، وَهْىَ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَهْوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضِيبٌ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَكَلَّمَهُ فَقَالَ لَهُ مُسَيْلِمَةُ إِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الأَمْرِ، ثُمَّ جَعَلْتَهُ لَنَا بَعْدَكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ سَأَلْتَنِي هَذَا الْقَضِيبَ مَا أَعْطَيْتُكَهُ وَإِنِّي لأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا أُرِيتُ، وَهَذَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ وَسَيُجِيبُكَ عَنِّي ". فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By Ubaidullah bin Abdullah bin Utba : We were informed that Musailima Al-Kadhdhab had arrived in Medina and stayed in the house of the daughter of Al-Harith. The daughter of Al-Harith bin Kuraiz was his wife and she was the mother of 'Abdullah bin 'Amir. There came to him Allah's Apostle accompanied by Thabit bin Qais bin Shammas who was called the orator of Allah's Apostle. Allah's Apostle had a stick in his hand then. The Prophet stopped before Musailima and spoke to him. Musailima said to him, "If you wish, we would not interfere between you and the rule, on condition that the rule will be ours after you... The Prophet said, "If you asked me for this stick, I would not give it to you. I think you are the same person who was shown to me in a dream. And this is Thabit bin Al-Qais who will answer you on my behalf." The Prophet then went away.
ہم سے سعید بن محمد جرمی نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے کہا ہم سے والد (ابراہیم بن سعد) نے انہوں نے صالح بن کیسان سے انہوں نے عبیدہ بن نشیط کے بیٹے سے اس بیٹے کا نام عبداللہ تھا ۔ کہ عبیدہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہا ہم کو خبر پہنچی کہ مسیلمہ کذاب (نبیﷺ کے زمانہ میں)مدینہ آیا تھا اور وہاں آن کر (اپنے جورو) حارث بن کریز کی بیٹی (کیسہ) کے گھر میں اترا تھا ۔ یہ کیسہ عبدااللہ ابن عامر کی ماں تھی ۔ خیر رسول اللہﷺ ثابت بن قیس بن شماس کو ہمراہ لے کر اس کے پاس آئے ۔ یہ ثابت وہ ہے جو رسول اللہﷺ کا خطیب کہلاتا تھا ۔ اس وقت آپﷺ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی آپﷺ مسیلمہ ملعون کے سامنے ٹھہر گئے ۔ اس سے باتیں کیں ( اسلام کی دعوت دی) اس نے کہا میں اس شرط سے مسلمان ہوتا ہوں کہ آپﷺ کے بعد مجھ کو حکومت ملے یہ سن کر نبیﷺ نے فرمایا (خلافت اور حکومت کجا) اگر تو یہ چھڑی بھی مجھ سے مانگے تو میں نہ دوں (تو اتنا حقیر ہے) اور میں تو یہ سمجھتا ہوں تو وہی شخص ہے جو خواب میں مجھ کو بتلایا گیا۔ میری طرف سے ثابت بن قیس تجھ سے گفتگو کرے گا۔ یہ فرما کر آپﷺ لوٹ گئے ۔
قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رُؤْيَا، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي ذَكَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُرِيتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَىَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَفُظِعْتُهُمَا وَكَرِهْتُهُمَا، فَأُذِنَ لِي فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ ". فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزُ بِالْيَمَنِ، وَالآخَرُ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ
I asked Ibn Abbas about the dream Allah's Apostle had mentioned. Ibn Abbas said, "Someone told me that the Prophet said, "When I was sleeping, I saw in a dream that two gold bangles were put in my hands, and that frightened me and made me dislike them. Then I was allowed to blow on them, and when I blew at them, both of them flew. Then I interpreted them as two liars who would appear.' One of them was Al-'Ansi who was killed by Fairuz in Yemen and the other was Musailima Al-Kadhdbab."
عبید اللہ بن عبد اللہ کہتے ہیں میں نے ابن عباسؓ سے رسول اللہﷺ کے خواب کو پوچھا انہوں نے کہا نبیﷺ فرماتے تھے ایک بار میں سو رہا تھا کیا دیکھتا ہوں میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن پہنا دئیے گئے ۔ میں گھبرایا مجھے برے معلوم ہوئے پھر مجھ سے کہا گیا ان کو پھونک دو میں نے پھونک ماری تو دونوں اڑگئے (غائب غلہ) اس کی تعبیر میں نے یہ سمجھی کہ کنگنوں سے مراد دونوں جھوٹے شخص ہیں جو پیدا ہوں گے ۔ عبید اللہ نے کہا یہ دونوں شخص اسود عنسی تھے اور مسیلمہ کذاب اسود عنسی کو فیروز نے یمن میں مار ڈالا۔
73. باب قِصَّةُ أَهْلِ نَجْرَانَ
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدَانِ أَنْ يُلاَعِنَاهُ، قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ لاَ تَفْعَلْ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلاَعَنَّا، لاَ نُفْلِحُ نَحْنُ وَلاَ عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا. قَالاَ إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلاً أَمِينًا، وَلاَ تَبْعَثْ مَعَنَا إِلاَّ أَمِينًا. فَقَالَ " لأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلاً أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ". فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ". فَلَمَّا قَامَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ "
Narrated By Hudhaifa : Al-'Aqib and Saiyid, the rulers of Najran, came to Allah's Apostle with the intention of doing Lian one of them said to the other, "Do not do (this Lian) for, by Allah, if he is a Prophet and we do this Lian, neither we, nor our offspring after us will be successful." Then both of them said (to the Prophet), "We will give what you should ask but you should send a trustworthy man with us, and do not send any person with us but an honest one." The Prophet said, "I will send an honest man who Is really trustworthy." Then every one of the companions of Allah's Apostle wished to be that one. Then the Prophet said, "Get up, O Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah." When he got up, Allah's Apostle said, "This is the Trustworthy man of this (Muslim) nation."
مجھ سے عباس بن حسین نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن آدم نے انہوں نے اسرائیل سے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے صلہ بن زفر سے انہوں نے حذیفہ سے انہوں نے کہا عاقب ( عبد المسیح )اور سیّد (ایہم) انصاری کے دو رئیس نجران سےرسول اللہﷺ کے پاس آئے (ان کے ساتھ ابو الحارث بن علقمہ پیر پادری بھی تھا۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ آپﷺ سے مباہلہ کریں ان میں ایک دوسرے سے کہنے لگا (خدا کے لئے) مباہلہ مت کر اگر یہ سچے پیغمبر ہوں اور ہم ان سے مباہلہ کریں تو ہماری اور ہماری اولاد سب کی خرابی ہو گی (قیامت تک ہم نہ پنپیں گے) آخر وہ دونوں کہنے لگے (ہم مباہلہ نہیں کرتے ) آپﷺ جو مانگیں وہ حاضر ہے (جزیہ پر راضی ہوگئے ) انہوں نے یہ درخواست کی کہ ایک ایماندار شخص ہمارے ساتھ کر دیجئے ۔ ایماندار شخص ہو بے ایمان نہ ہو آپﷺ نے فرمایا ہاں ہاں میں تمہارے ساتھ ایک ایماندار شخص کو بھیجتا ہوں ایماندار بھی کیسا پکا ایماندار یہ سن کر رسول اللہﷺ کے صحابہ انتظار کرنے لگے (دیکھیں نبیﷺ کس کو بھیجتے ہیں ) پھر آپﷺ نے فرمایا ابو عبیدہ بن جراح اٹھ (ان کے ساتھ جا) جب وہ کھڑے ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا اس امّت کا ایماندار (معتبر دیانت دار ) یہ شخص ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا ابْعَثْ لَنَا رَجُلاً أَمِينًا. فَقَالَ " لأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلاً أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ". فَاسْتَشْرَفَ لَهُ النَّاسُ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ
Narrated By Hudhaifa : The people of Najran came to the Prophet and said, "Send an honest man to us." The Prophet said, "I will send to you an honest man who is really trustworthy." Everyone of the (Muslim) people hoped to be that one. The Prophet then sent Abu Ubaida bin Al-Jarrah.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا میں نے ابو اسحاق سے سنا انھوں نے صلہ بن زفر سے انہوں نے حذیفہؓ سے انہوں نے کہا نجران کے (انصاری) لوگ نبیﷺ کے پاس آئے انہوں نے عرض کیا ایک ایماندار شخص ہمارے ساتھ کر دیجئے آپﷺ نے فرمایا اچھا میں ایک ایماندار شخص تمہارے ساتھ بھیجتا ہوں ۔ ایماندار بھی کیسا پکا ایماندار یہ سن کر لوگ انتظار میں رہے (دیکھیں/ آپﷺ کس کو بھیجتے ہیں) پھر ابو عبیدہ بن جراح کو آپﷺ نے بھیجا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ
Narrated By Anas : The Prophet said, "Every nation has an Amin (i.e. the most honest man), and the Amin of this nation is Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah."
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے ، انہوں نے خالد حذاء سے انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپﷺ نے فرمایا ہر امت میں ایک امانت دار (معتمد) ہوتا ہے اور اس امت کا امانت دار ( ابو عبیدہ ہے)۔
74. باب قِصَّةُ عُمَانَ وَالْبَحْرَيْنِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلاَثًا ". فَلَمْ يَقْدَمْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي. قَالَ جَابِرٌ فَجِئْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلاَثًا ". قَالَ فَأَعْطَانِي. قَالَ جَابِرٌ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَأَلْتُهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُعْطِنِي، فَقُلْتُ لَهُ قَدْ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي. فَقَالَ أَقُلْتَ تَبْخَلُ عَنِّي وَأَىُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ـ قَالَهَا ثَلاَثًا ـ مَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلاَّ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ. وَعَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جِئْتُهُ، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ عُدَّهَا. فَعَدَدْتُهَا فَوَجَدْتُهَا خَمْسَمِائَةٍ، فَقَالَ خُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ.
Narrated By Jabir bin Abdullah : Allah's Apostle said to me, "If the revenue of Al-Bahrain should come, I will give you so much and so much," repeating "so much" thrice. But the revenue of Al-Bahrain did not come till Allah's Apostle had died. When the revenue came during the rule of Abu Bakr. Abu Bakr ordered an announcer to announce, "Whoever had any debt or promise due upon the Prophet, should present himself to me (i.e. Abu Bakr). I came to Abu Bakr and informed him that the Prophet had said (to me), "If the revenue of Al-Bahrain should come, I will give you so-much and so much," repeating "so much" thrice. So Abu Bakr gave me (in another narration Jaibir said,). I met Abu Bakr after that and asked him (to give me what the Prophet had promised me) but he did not give me. I again went to him but he did not give me. I again went to him (for the third time) but he did not give me; On that I said to him, "I came to you but you did not give me, then I came to you and you did not give me, and then again I came to you, but you did not give me; so you should either give me or else you are like a miserly to me, on that, Abu Bakr said, "Do you say, 'You are like a miserly to me?' There is no worse disease than miserliness." Abu Bakr said it thrice and added, "Whenever I refused to give you, I had the intention of giving you." (In another narration) Jabir bin 'Abdullah said, "I went to Abu Bakr (and he gave me a handful of money) and told me to count it, I counted and found it five-hundred, and then Abu Bakr said (to me), "Take the same amount twice."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے محمد بن منکدر سے سنا انہوں نے جابر بن عبداللہؓ سے ، وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا ، جب بحرین سے محصول کا روپیہ آئے گا تو میں تجھ کو اتنا اتنا ، یعنے تین لپ بھر کر روپیہ دوں گا ۔ پھر رسول اللہﷺ کی وفات اس روپیہ کے آنے سے پہلے ہی ہوگئی پھر جب ابو بکر صدیق کے پاس یہ روپیہ آیا تو انہوں نے منادی کرائیِ ، دیکھو رسول اللہﷺ پر کسی کا کچھ قرض آتا ہو ، یا آپﷺ نے کسی سے کچھ دینے کا وعدہ کیا ہو ، وہ میرے پاس آئے، (اپنا حق لے لے) جابرؓ کہتے ہیں میں ( یہ منادی سن کر) ابو بکرؓ کے پاس گیا ، ان سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا تھا ، اگر بحرین کا روپیہ آئے گا تو میں تجھ کو اتنا اتنا تین لپ بھر کر دوں گا ، پھر ابو بکرؓ نے مجھ کو اتنا روپیہ دیا جابرؓ کہتے ہیں ۔ اس کے بعد جو میں ابو بکرؓ سے ملا ، اور میں نے روپیہ مانگا تو انہوں نے نہ دیا ۔ پھر میں گیا اور مانگا جب بھی نہ دیا ۔پھر تیسری بار گیا مانگا جب بھی نہ دیا ، آخر ( لاچار ہو کر) میں کہا ایک بار میں آیا (میں نے مانگا) تو تم نے نہ دیا ۔ دوسری بار آیا ( مانگا) جب بھی تم نے نہ دیا ۔ پھر (تیسری بار ) آیا مانگا۔جب بھی تم نے نہ دیا ۔ اس سے فائدہ اگر تم کو دینا ہے تو دو ، نہیں تو صاف کہہ دو(کہ میرا دل دینے کو نہیں چاہتا) میں بخیل ہوں ، ابو بکرؓ نے کہا جابرؓ تو مجھ کو بخیل بناتا ہے بخیلی سے بڑھ کر کونسا عیب ہے ، تین بار انہوں نے یہی کہا ۔ بات یہ ہے کہ میں نے جو ایک بار تجھ کو نہیں دیا تو میری نیت دینے کی تھی اور ( اسی سند سے) عمرو بن دینار سے مروی ہے انہوں نے امامہ محمد باقرؑ سے انہوں نے کہا میں نے جابرؓ بن عبداللہ سے سنا وہ کہتے تھے میں ابوبکر صدیقؓ کے پاس گیا ۔ تو انہوں نے ایک لپ بھر کر روپیے دیے اور کہا ان کو گن ۔ میں نے ان کو گنا تو وہ پانچ سو روپے تھے ۔ انہوں نے کہا پانچسو ، پانچسو اور لے لے ، ( تین لپ ہو گئے)۔
75. باب قُدُومُ الأَشْعَرِيِّينَ وَأَهْلِ الْيَمَنِ
وَقَالَ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ "
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي، مِنَ الْيَمَنِ، فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلاَّ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ، مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ.
Narrated By Abu Musa : My brother and I came from Yemen (to Medina) and remained for some time, thinking that Ibn Masud and his mother belonged to the family of the Prophet because of their frequent entrance (upon the Prophet) and their being attached to him.
مجھ سے عبداللہ بن محمد اور اسحاق بن نصر نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحیٰی بن آدم نے کہا ہم سے یحیٰی بن زکریا بن ابی زائدہ نے ، انہوں نے اپنے والد سے انھوں نے ابو اسحق (عمرو بن عبداللہ سبیعی) سے انہوں نے اسود بن یزید سے ،انہوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے انہوں نے کہا میں اور میرا بھائی ( ابو رہم یا ابو بردہ) دونوں مل کر یمن سے آئے۔ ہم ایک مدت تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ (ام عبد اللہ) دونوں نبیﷺ کے گھر والوں میں ہیں کیونکہ (رات دن ) وہ نبیﷺ کے پاس بہت جاتے آتے ، آپﷺ کے ساتھ رہتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ أَبُو مُوسَى أَكْرَمَ هَذَا الْحَىَّ مِنْ جَرْمٍ، وَإِنَّا لَجُلُوسٌ عِنْدَهُ وَهْوَ يَتَغَدَّى دَجَاجًا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ، فَدَعَاهُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ. فَقَالَ هَلُمَّ، فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُهُ. فَقَالَ إِنِّي حَلَفْتُ لاَ آكُلُهُ. فَقَالَ هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنْ يَمِينِكَ، إِنَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَفَرٌ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَأَبَى أَنْ يَحْمِلَنَا فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ أُتِيَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ، فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا قُلْنَا تَغَفَّلْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَمِينَهُ، لاَ نُفْلِحُ بَعْدَهَا أَبَدًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا وَقَدْ حَمَلْتَنَا. قَالَ " أَجَلْ، وَلَكِنْ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا ".
Narrated By Zahdam : When Abu Musa arrived (at Kufa as a governor) he honoured this family of Jarm (by paying them a visit). I was sitting near to him, and he was eating chicken as his lunch, and there was a man sitting amongst the people. Abu Musa invited the man to the lunch, but the latter said, "I saw chickens (eating something (dirty) so I consider them unclean." Abu Musa said, "Come on! I saw the Prophet eating it (i.e. chicken)." The man said "I have taken an oath that I will not ea (chicken)" Abu Musa said." Come on! I will tell you about your oath. We, a group of Al-Ash'ariyin people went to the Prophet and asked him to give us something to ride, but the Prophet refused. Then we asked him for the second time to give us something to ride, but the Prophet took an oath that he would not give us anything to ride. After a while, some camels of booty were brought to the Prophet and he ordered that five camels be given to us. When we took those camels we said, "We have made the Prophet forget his oath, and we will not be successful after that." So I went to the Prophet and said, "O Allah' Apostle ! You took an oath that you would not give us anything to ride, but you have given us." He said, "Yes, for if I take an oath and later I see a better solution than that, I act on the later (and gave the expiation of that oath).'"
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبد السلام بن حرب نے انہوں نے ایوب سختیانی سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے زہدم سے ، انہوں نے کہا جب ابو موسیٰؓ آئے تو انہوں نے جرم قبیلے کی بہت خاطر کی ۔ خیر زہدم کہتے ہیں ۔ ہم ابو موسیٰؓ کے پاس بیٹھے تھے وہ ایک مرغی کا ناشتہ کر رہے تھے ایک شخص اور لوگوں میں بیٹھا تھا (اس کا نام معلوم نہیں ہوا) ابو موسی نے اس کو بھی کھانے کے لئے بلایا ، وہ کہنے لگا میں مرغی نہیں کھاتا ۔ میں نے دیکھا وہ نجاست کھاتی ہے تو مجھ کو اس سے کراہت آتی ہے ۔ ابو موسیٰ نے کہا ارے آ بھئی کھا میں نے نبیﷺ کو مرغی کھاتے دیکھا ہے وہ کہنے لگا میں نے تو قسم کھا لی ہے مرغی کبھی نہ کھاؤ نگا ۔ ابو موسیٰ نے کہا ادھر آ ۔میں قسم کا علاج بتلاتا ہوں ۔ ہوا یہ کہ ہم چند اشعری لوگوں کے ساتھ نبیﷺ کے پا س آئےہم نے آپﷺ سے سواری مانگی ۔آپﷺ نے فرمایا سواری نہیں ہے پھر ہم نے مانگی تو آپﷺ نے قسم کھا لی ۔ کہ ہم کو سواری نہیں دینے کے ۔ تھوڑی دیر بعد ایسا ہوا کہ لوٹ کے کچھ اونٹ آپﷺ نے پاس آئے۔ آپﷺ نے پانچ اونٹ ہم کو دلائے ۔ جب ہم اونٹ لے چکے تو ہم نے کہا یہ تو ہم نے نبیﷺ کو دھوکا دیا ۔آپﷺ کو غفلت میں رکھا ۔ قسم یاد نہیں دلائی ۔ ایسی حالت میں ہماری بھلائی کبھی نہیں ہونے کی ۔آخر میں آپﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپﷺ نے تو قسم کھا لی تھی کہ ہم کو سواری نہیں دینے کے ۔اور پھر آپﷺ نے سواری دی ۔آپﷺ نے فرمایا مجھے قسم یاد تھی مگر میرا قائدہ ہے اگر کسی بات پر قسم کھا لیتا ہوں پھر اس کے خلاف کرنا اچھا سمجھتا ہوں ، تو خلاف کرتا ہوں ۔ (قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں ) ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ، جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ". قَالُوا أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا. فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ". قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ.
Narrated By Imran bin Husain : The people of Banu Tamim came to Allah's Apostle, and he said, "Be glad (i.e. have good tidings). O Banu Tamim!" They said, "As you have given us good tidings then give us (some material things)." On that the features of Allah's Apostle changed (i.e. he took it ill). Then some people from Yemen came, and the Prophet said (to them) "Accept good tidings as Banu Tamim have not accepted them." They said, "We accept them, O Allah's Apostle!"
مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ۔ کہا ہم سے ابو عاصم نبیل نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے کہا ۔ ہم سے ابو صخرہ جامع بن شداد نے کہا ہم سے صفوان بن محرز نے کہا ہم سے عمران ابن حصین نے ۔ انھوں نے کہا تمیم کے لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے۔ آپﷺ نے فرمایا خوش ہو جاؤ۔ بنی تمیم ، وہ کہنے لگے جب آپﷺ نے ہم کو خوش خبری دی تو کچھ روپیہ بھی دلوائے۔ یہ سنتے ہی آپﷺ کا چہرہ بدل گیا ۔ اس کے بعد کچھ یمن کے لوگ ( اشعری ) آئے آپؐ نے فرمایا یمن والو ، تم خوش خبری قبول کرو۔ کیونکہ نبی تمیم نے قبول نہیں کی ۔ انھوں نے کہا ہم نے یا رسول اللہﷺ قبول کی۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ هَا هُنَا ". وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْيَمَنِ " وَالْجَفَاءُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ، عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الإِبِلِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ ".
Narrated By Abu Masud : The Prophet beckoned with his hand towards Yemen and said, "Belief is there." The harshness and mercilessness are the qualities of those farmers etc, who are busy with their camels and pay no attention to the religion (is towards the east) from where the side of the head of Satan will appear; those are the tribes of Rabi'a and Mudar.
مجھ سے عبد اللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا کہا ہم سے وہب بن جریر نے کہا ہم سے شعبہ نے ، انھوں نے اسمٰعیل بن ابی خالد نے انھوں نے قیس بن ابی حزم سے انھوں نے ابو مسعود سے کہ نبیﷺ نے فرمایا ایمان اس طرف ہے اور آپﷺ نے یمن کی طرف اشارہ کیا ۔ اور بد سلوکی ، دل کی سختی ، ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دموں کے پاس چلاتے رہتے ہیں ۔ جہاں سے شیطان کے سر کے کونے نمود ہوں گے ۔ یعنی ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي أَصْحَابِ الإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ". وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The people of Yemen have come to you and they are more gentle and soft-hearted. Belief is Yemenite and Wisdom is Yemenite, while pride and haughtiness are the qualities of the owners of camels (i.e. bedouins). Calmness and solemnity are the characters of the owners of sheep."
ہم سےمحمد بن بشار نے بیان کیا ۔ کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے انہوں نےشعبہ سے انہوں سلیمان اعمش سے انہوں نے ذکوان سے ، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپﷺ نے فرمایا یمن کے لوگ تمہارے پاس آئے ہیں ان کے دل کے پردے باریک دل نرم ، ایمان یمن ہی کا (عمدہ )ہے ۔اور حکمت بھی یمن ہی کی اچھی ہے۔ فخر اور تکبر اونٹ والوں میں ہیں اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں اور خندر نے اس حدیث کو شعبہ سے انہوں نے سلیمان سے روایت کیا، کہا میں نے ذکوان سے سنا انہوں نے ابو ہریرہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِتْنَةُ هَا هُنَا، هَا هُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Belief is Yemenite while afflictions appear from there (the east) from where the side of the head of Satan will appear."
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے بھائی (عبد الحمید) نے انہوں نے سلیمان بن بلال سے انہوں نے ثور بن زید سے انہوں نے ابو الغیث ( سالم ) سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا ایمان یمن کا ہے اور فتنہ( دین کی خرابی) ادھر سے ہے ادھر ہی سے شیطان کے سر کا کونا نمودار ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The people of Yemen have come to you, and they are more soft hearted and gentle hearted people. The capacity for understanding religion is Yemenite and Wisdom is Yemenite."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ۔ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ۔ کہا ہم سے ابو زناد نے انھوں نے اعرج سے انھوں نے ابو ہریرہؓ سے انھوں نے نبیﷺ سے آپﷺ نے فرمایا ، یمن والے تمہارے پاس آئے ہیں ۔ ان کے دل نرم اور دل کے پردے باریک دین کی سمجھ یمن والوں میں ہے اور حکمت بھی یمن والوں ہی کی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَجَاءَ خَبَّابٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيَسْتَطِيعُ هَؤُلاَءِ الشَّبَابُ أَنْ يَقْرَءُوا كَمَا تَقْرَأُ قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ شِئْتَ أَمَرْتُ بَعْضَهُمْ يَقْرَأُ عَلَيْكَ قَالَ أَجَلْ. قَالَ اقْرَأْ يَا عَلْقَمَةُ. فَقَالَ زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ أَخُو زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ أَتَأْمُرُ عَلْقَمَةَ أَنْ يَقْرَأَ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا قَالَ أَمَا إِنَّكَ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْمِكَ وَقَوْمِهِ. فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى قَالَ قَدْ أَحْسَنَ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلاَّ وَهُوَ يَقْرَؤُهُ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى خَبَّابٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَلَمْ يَأْنِ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَنْ تَرَاهُ عَلَىَّ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَأَلْقَاهُ. رَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ.
Narrated By Alqama : We were sitting with Ibn Masud when Khabbab came and said, "O Abu Abdur-Rahman! Can these young fellows recite Qur'an as you do?" Ibn Mas'ud said, "If you wish I can order one of them to recite (Qur'an) for you." Khabbab replied, "Yes. "Ibn Mas'ud said, "Recite, O 'Alqama!" On that, Zaid bin Hudair, the brother of Ziyad bin Hudair said, (to Ibn Mas'ud), "Why have you ordered 'Alqama to recite though he does not recite better than we?" Ibn Mas'ud said, "If you like, I would tell you what the Prophet said about your nation and his (i.e. 'Alqama's) nation." So I recited fifty Verses from Sura-Maryam. 'Abdullah (bin Mas'ud) said to Khabbab, "What do you think (about 'Alqama's recitation)?" Khabbab said, "He has recited well." 'Abdullah said, "Whatever I recite, 'Alqama recites." Then 'Abdullah turned towards Khabbab and saw that he was wearing a gold ring, whereupon he said, "Hasn't the time for its throwing away come yet?" Khabbab said, "You will not see me wearing it after today," and he throw it away.
ہم سے عبدان نے بیان کیا انہوں نے ابو حمزہ محمد بن میمون سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے کہا ہم عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھ بیٹھے تھے اتنے میں خباب بن ارتؓ (مشہور صحابی) آئے انہوں نے پوچھا ابو عبدالرحمٰن کیا یہ جوان لوگ (جو تمھارے شاگرد ہیں) تمھاری طرح قرآن پڑھ سکتے ہیں انہوں نے کہا ہاں اگر تم چاہو تو ان میں سے کسی کو کہوں وہ قرآن سنائے۔ خبابؓ نے کہا کہو۔ ابن مسعودؓ نے علقمہ سے کہا قرآن پڑھ۔ اس پر زید بن حدیر جو زیاد بن حدیر کے بھائی تھے بولے تم علقمہ سے قرآن سنانے کو کہتے ہو وہ ہم سے بڑھ کر قاری نہیں ہے۔ ابن مسعودؓ نے کہا اگر تو چاہے تو ٹھہر میں وہ بیان کر دوں جو رسول اللہﷺ نے تیری قوم (بنی اسد) کے حق میں اور جو علقمہ کی قوم کے حق میں فرمایا۔ خیر علقمہ کہتے ہیں میں نے سورت مریم کی پچاس آیتیں سنائیں۔ عبداللہ نے خبابؓ سے کہا کہو کیسا پڑھتا ہے انہوں نے کہا بہت خوب۔ عبداللؓہ نے کہا جو میں پڑھتا ہوں وہ علقمہ بھی پڑھ لیتا ہے۔ پھر انہوں نے خبابؓ کو دیکھا سونے کی انگوٹھی پہنے ہیں تو کہا کیا ابھی تک اس انگوٹھی کو اتار ڈالنے کا وقت نہیں آیا (حالانکہ رسول اللہﷺ نے مردوں کو سونا پہننے سے منع کیا ہے) خبابؓ نے یہ سنتے ہی وہ انگوٹھی اتار ڈالی اور کہنے لگے اب تم میرے ہاتھ میں یہ انگوٹھی کبھی نہیں دیکھو گے۔ اس حدیث کو غندر نے شعبہ سے روایت کیا ہے (انہوں نے اعمش سے)۔
76. باب قِصَّةُ دَوْسٍ وَالطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الدَّوْسِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ دَوْسًا قَدْ هَلَكَتْ، عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ. فَقَالَ " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ ".
Narrated By Abu Huraira : Tufail bin 'Amr came to the Prophet and said, "The Daus (nation) have perished as they disobeyed and refused to accept Islam. So invoke Allah against them." But the Prophet said, "O Allah! Give guidance to the Daus (tribe) and bring them (to Islam)!"
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، انہوں نے عبد اللہ بن ذکوان سے ، انہوں نے عبد الرحمٰن اعرج سے ، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے ، انہوں نے کہا طفیل بن عمرو دوسی نبیﷺ کے پاس آئے ۔ عرض کیا دوس نہیں مانتے ۔ وہ تباہ ہوئے ۔ انہوں نے نا فرمانی کی۔ ان کے لئے بد دعا فرمائیے ۔ آپﷺ نے فرمایا۔ یا اللہ دوس کو ہدایت کر ۔ ان کو میرے پاس لے آ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ وَأَبَقَ غُلاَمٌ لِي فِي الطَّرِيقِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْتُهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلاَمُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا غُلاَمُكَ ". فَقُلْتُ هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى. فَأَعْتَقْتُهُ.
Narrated By Abu Huraira : When I came to the Prophet said on my way, "O what a long tedious tiresome night; nevertheless, it has rescued me from the place of Heathenism." A slave of mine ran away on the way. When I reached the Prophet I gave him the oath of allegiance (for Islam), and while I was sitting with him, suddenly the slave appeared. The Prophet said to me. "O Abu Huraira! Here is your slave," I said, "He (i.e. the slave) is (free) for Allah's Sake," and manumitted him.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ۔ کہا ہم سے ابو اسمہ نے کہا ۔ ہم سے اسمٰعل بن ابی خالد نے ، انھوں نے قیس سے ، انھوں نے ابو ہریرہؓ سے ، انھوں نے کہا جب میں ( اپنے ملک سے ) نبیﷺ کے پاس آرہا تھا ۔ تو رستے میں ۔ میں نے یہ شعر پڑھی ؔ
کیسی ہے تکلیف کی لمبی یہ رات
خیر اس نے کفر سے دی ہے نجات
میرا ایک غلام تھا (نام نا معلوم) وہ رستے سے بھاگ گیا جب میں نبیﷺ کے پاس آیا آپﷺ سے بیعت کی ۔ میں آپﷺ کے پاس بیٹھا تھا۔ اتنے میں وہی غلام آ نکلا ۔ نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا ۔ ابو ہریرہؓ دیکھ ۔ تیرا غلام آن پہنچا ۔ میں نے کہا ۔ اللہ کے لئے میں نے اس کو آزاد کر لیا۔
77. باب قِصَّةِ وَفْدِ طَيِّئٍ وَحَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ أَتَيْنَا عُمَرَ فِي وَفْدٍ، فَجَعَلَ يَدْعُو رَجُلاً رَجُلاً وَيُسَمِّيهِمْ فَقُلْتُ أَمَا تَعْرِفُنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ بَلَى، أَسْلَمْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا، وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَعَرَفْتَ إِذْ أَنْكَرُوا. فَقَالَ عَدِيٌّ فَلاَ أُبَالِي إِذًا.
Narrated By 'Adi bin Hatim : We came to 'Umar in a delegation (during his rule). He started calling the men one by one, calling each by his name. (As he did not call me early) I said to him. "Don't you know me, O chief of the Believers?" He said, "Yes, you embraced Islam when they (i.e. your people) disbelieved; you have come (to the Truth) when they ran away; you fulfilled your promises when they broke theirs; and you recognized it (i.e. the Truth of Islam) when they denied it." On that, 'Adi said, "I therefore don't care."
ہم سے موسی بن اسمٰعیل نے بیان کیا ۔ کہا ہم سے ابو عوانہ نے کہا ۔ ہم سے عبد الملک بن عمیر نے ، انھوں نے عمرو بن حریث سے ، انہوں نے عدی بن حاتم سے انہوں نے کہا۔ ہم حضرت عمرؓ کی خلافت میں ان کے پاس اور کئی آدمیوں کے ساتھ آئے وہ ایک ایک آدمی کو نام لے لے کر بلاتے جاتے ۔ ( پہلے مجھ کو نہٰیں بلایا) آخر میں نے کہا ۔ امیر المومنین تم مجھ کو نہٰیں پہچانتے انہوں نے کہا کیوں نہیں ( خوب) پہچانتا ہوں ۔ تم تو اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ سب کافر تھے اور تم نے اس وقت رخ کیا ۔ انہوں نے پیٹھ پھیری اور تم نے اس وقت وفاداری کی جب انہوں نے دغابازی کی ۔ اور تم نے حق بات اس وقت پہچان لی جب انہوں نے حق بات سے انکار کیا۔ یہ سن کر میں نے کہا، اب مجھ کو کچھ پرواہ نہیں۔
78. باب حَجَّةُ الْوَدَاعِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لاَ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ". فَقَدِمْتُ مَعَهُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ ". فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ " هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ ". قَالَتْ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.
Narrated By 'Aisha : We went out with Allah's Apostle during Hajjat-ul-Wada' and we assumed the Ihram for 'Umra. Then Allah's Apostle said to us, "Whoever has got the Hadi should assume the Ihram for Hajj and 'Umra and should not finish his Ihram till he has performed both ('Umra and Hajj)." I arrived at Mecca along with him (i.e. the Prophet) while I was menstruating, so I did not perform the Tawaf around the Ka'ba or between Safa and Marwa. I informed Allah's Apostle about that and he said, "Undo your braids and comb your hair, and then assume the ihram for Hajj and leave the 'Umra." I did so, and when we performed and finished the Hajj, Allah's Apostles sent me to At-Tanim along with (my brother) 'Abdur-Rahman bin Abu Bakr As-Siddiq, to perform the 'Umra. The Prophet said, "This 'Umra is in lieu of your missed 'Umra." Those who had assumed the ihram for 'Umra, performed the Tawaf around the Ka'ba and between Safa and Marwa, and then finished their Ihram, and on their return from Mina, they performed another Tawaf (around the Ka'ba and between Safa and Marwa), but those who combined their Hajj and 'Umra, performed only one Tawaf (between Safa and Marwa) (for both).
ہم سے اسمٰعیل بن عبد اللہ نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالک نے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے انہوں نے کہا ہم حجتہ الوداع میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے ہم نے عمرے کا احرام باندھا (جب مکہ میں پہنچے) تو رسول اللہﷺ نے فرمایا جو کوئی قربانی کا جانور اپنے ساتھ لایا ہو وہ حج اور عمرہ دونوں کی نیت کرے پھر اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک حج اور عمرہ دونوں سے فراغت نہ کرے خیر میں جب آپﷺ کے ساتھ مکہ پہنچی تو مجھ کو حیض آرہا تھا میں نے نہ بیت اللہ کا طواف کیا نہ صفا مروہ دوڑی آخر میں نے نبیﷺ سے شکایت کی (کہ حج کے دن آن پہنچے اور ابھی تک میرا عمرہ ہی پورا نہیں ہوا ) آپﷺ نے فرمایا تو ایسا کر سر کھول ڈال بالوں میں گنگھی کرے اور حج کا احرام باندھ لے عمرہ رہنے دے میں نے ایسا ہی کیا جب میں حج ادا کر چکی تو آپﷺ نے مجھ کو عبدالرحمٰن ( میرے بھائی ) کے ساتھ کر کے تنعیم کو بھیجا میں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھا آپﷺ نے فرمایا یہ عمرہ اس عمرے کے بدل ہوگیا (جس کو تو نے چھوڑ دیا تھا) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں پھر جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا(انہوں نے مکہ پہنچ کر) بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی پھر احرام کھول ڈالا اس کے بعد جب ( حج کر کے) منیٰ سے لوٹے تو حج کا دوسرا طواف کیا ( یعنی پھر صفا مروہ دوڑے)اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کی نیت کی تھی انہوں نے ایک ہی بار سعی کی ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ. فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ قَالَ هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} وَمِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ. قُلْتُ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ. قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَاهُ قَبْلُ وَبَعْدُ.
Narrated By Ibn Juraij : 'Ata' said, "Ibn 'Abbas said, 'If he (i.e. the one intending to perform 'Umra) has performed the Tawaf around the Ka'ba, his Ihram is considered to have finished.' said, 'What proof does Ibn 'Abbas has as to this saying?" 'Ata' said, "(The proof is taken) from the Statement of Allah: "And afterwards they are brought For sacrifice unto Ancient House (Ka'ba at Mecca)" (22.33) and from the order of the Prophet to his companions to finish their Ihram during Hajjat-ul-Wada." I said (to 'Ata'), "That (i.e. finishing the Ihram) was after coming form 'Arafat." 'Ata' said, "Ibn 'Abbas used to allow it before going to 'Arafat (after finishing the 'Umra) and after coming from it (i.e. after performing the Hajj)."
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے کہا ہم سے ابن جریج نے کہا مجھ سے عطاء بن ابی رباح نے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا جہاں عمرہ کرنے والے نے بیت اللہ شریف کا طواف کرلیا تو اس کو سب باتیں (جو احرام میں منع تھیں ) درست ہو جاتی ہیں (گو ابھی تک صفا مروہ نہ دوڑا ہو) ابن جریج نے کہا میں نے عطاء سے پوچھا ابن عباسؓ نے یہ مسئلہ کہاں سے نکالا انھوں نے کہا سورۃ الحج میں) اللہ کے اس قول سے پھر ان کا حلال ہونا پرانے گھر یعنی خانہ کعبہ کے پاس ہے دوسرے یہ کہ نبیﷺ نے اپنے اصحابؓ کو حجۃ الوداع میں احرام کھول ڈالنے کا حکم دیا ابن جریج نے کہا میں نے عطاء سے کہا یہ احرام کھول ڈالنا تو اس وقت ہے جب عرفات میں ٹھہر چکا انھوں نے کہا ابن عباسؓ کا یہ مذیب تھا کہ عرفات میں ٹھہرنے سے پہلے اور بعد ہی حال میں (جب طواف کرے) تو احرام کھول ڈالنا درست ہے۔
حَدَّثَنِي بَيَانٌ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَارِقًا، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ " أَحَجَجْتَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " كَيْفَ أَهْلَلْتَ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ ". فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي.
Narrated By Abu Musa Al-Ashari : I came to the Prophet at a place called Al-Batha'. The Prophet said, "Did you assume the Ihram for Hajj?" I said, "Yes," He said, "How did you express your intention (for performing Hajj)? " I said, "Labbaik (i.e. I am ready) to assume the Ihram with the same intention as that of Allah's Apostle." The Prophet said, "Perform the Tawaf around the Ka'ba and between Safa and Marwa, and then finish your Ihram." So I performed the Tawaf around the Ka'ba and between Safa and Marwa and then I came to a woman from the tribe of Qais who removed the lice from my head.
مجھ سے بیان بن عمرو نے بیان کیا کہا ہم سے نضر بن شمیل نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی انہوں نے قیس بن مسلم سے کہا میں نے طارق بن شہاب سے سنا انہوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے انہوں نے کہا میں نبیﷺ کے پاس مکہ کے بطحا (سنگریزی) زمین میں آیا آپﷺ نے پوچھا کیا تو نے حج کا احرام باندھا میں نے عرض کیا جی ہاں آپﷺ نے پوچھا احرام میں کیا پکارا میں نے کہا لَبَّیکَ بِاِھلالٍ کَاِھلالِ رَسُولِ اللہِﷺ یعنی وہ ہی احرام باندھتا ہو جو رسول اللہﷺ نے باندھا آپﷺ نے فرمایا تو بیت اللہ کا طواف کر کے صفا مروہ پر دوڑ کر احرام کھول ڈال میں نے طواف کیا صفا مروہ دوڑا اور (احرام کھول کر) قیس قبیلے کی ایک عورت (نام نا معلوم ) کے پاس آیا میرے سر کی جوئیں نکالیں ۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ حَفْصَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ فَمَا يَمْنَعُكَ فَقَالَ " لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَسْتُ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي "
Narrated By Hafsa : (The wife of the Prophet) The Prophet ordered all his wives to finish their Ihram during the year of Hajjat-ul-Wada. On that, I asked the Prophet "What stops you from finishing your ihram?" He said, "I have matted my hair and garlanded my Hadi. So I will not finish my Ihram unless I have slaughtered my Hadi."
مجھ سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا ۔ کہا ہم سے انس ابن عیاض نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے انھوں نے نافع سے ان کو ابن عمرؓ نے خبر دی ان کو ام المومنین حضرت حفصہؓ کہ نے جس سال حج وداع ہوا آپﷺ نے اپنی بیویوں کو یہ دیا کہ (طواف اورسعی کر کے) احرام کھول ڈالیں۔ اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپﷺ احرام کیوں نہیں کھولتے آپﷺ نے فرمایا میں نے سر کے بال جما لئے ہیں اور قربانی ہار ڈال کر ساتھ لایا ہوں میں جب تک اپنی قربانی نہ کاٹوں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ
Narrated By Ibn Abbas : A woman from the tribe of Khath'am asked for the verdict of Allah's Apostle (regarding something) during Hajjat-ul-Wada' while Al-Fadl bin 'Abbas was the companion-rider behind Allah's Apostle. She asked, "Allah's ordained obligation (i.e. compulsory Hajj) enjoined on His slaves has become due on my old father who cannot sit firmly on the riding animal. Will it be sufficient if I perform the Hajj on his behalf?" He said, "Yes."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا مجھ سے شعیب نے انھوں نے زہری سے (دوسری سند) اور محمد بن یوسف فریابی نے کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا کہا مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی انہوں نے سلیمان بن یسار سے انہوں نے ابن عباسؓ سے کہ رسول اللہﷺ حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار تھے فضل بن عباسؓ (آپﷺ کے چچا زاد بھائی) خواصی میں بیٹھے تھے اتنے میں خثعم قبیلے کی ایک عورت (نام نا معلوم ) نے (سامنے آکر) آپﷺ سے مسئلہ پوچھا کہنے لگی یا رسول اللہ حج جو اللہ کا فرض ہے اس کے بندوں پر اس وقت فرض ہوا جب میرا باپ ایسا بوڑھا ( پھونس) ہے کہ اونٹ پر بیٹھ نہیں سکتا کیا یہ ہو سکتا ہے کہ میں اس کی طرف سے حج کرلوں آپﷺ نے فرمایا ہاں ( ہوسکتا ہے)۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ وَهْوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ عَلَى الْقَصْوَاءِ. وَمَعَهُ بِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ حَتَّى أَنَاخَ عِنْدَ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ " ائْتِنَا بِالْمِفْتَاحِ "، فَجَاءَهُ بِالْمِفْتَاحِ فَفَتَحَ لَهُ الْبَابَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأُسَامَةُ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ، ثُمَّ أَغْلَقُوا عَلَيْهِمِ الْبَابَ، فَمَكَثَ نَهَارًا طَوِيلاً ثُمَّ خَرَجَ، وَابْتَدَرَ النَّاسُ الدُّخُولَ، فَسَبَقْتُهُمْ فَوَجَدْتُ بِلاَلاً قَائِمًا مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ صَلَّى بَيْنَ ذَيْنِكَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ. وَكَانَ الْبَيْتُ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ سَطْرَيْنِ، صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ مِنَ السَّطْرِ الْمُقَدَّمِ، وَجَعَلَ باب الْبَيْتِ خَلْفَ ظَهْرِهِ، وَاسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الَّذِي يَسْتَقْبِلُكَ حِينَ تَلِجُ الْبَيْتَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ، قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى وَعِنْدَ الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَرْمَرَةٌ حَمْرَاءُ.
Narrated By (Abdullah) bin 'Umar : The Prophet arrived (at Mecca) in the year of the Conquest (of Mecca) while Usama was riding behind him on (his she-camel)'. Al-Qaswa.' Bilal and 'Uthman bin Talha were accompanying him. When he made his she-camel kneel down near the Ka'ba, he said to 'Uthman, "Get us the key (of the Ka'ba). He brought the key to him and opened the gate (of the Ka'ba), for him. The Prophet, Usama, Bilal and 'Uthman (bin Talha) entered the Ka'ba and then closed the gate behind them (from inside). The Prophet stayed there for a long period and then came out. The people rushed to get in, but I went in before them and found Bilal standing behind the gate, and I said to him, "Where did the Prophet pray?" He said, "He prayed between those two front pillars." The Ka'ba was built on six pillars, arranged in two rows, and he prayed between the two pillars of the front row leaving the gate of the Ka'ba at his back and facing (in prayer) the wall which faces one when one enters the Ka'ba. Between him and that wall (was the distance of about three cubits). But I forgot to ask Bilal about the number of Rakat the Prophet had prayed. There was a red piece of marble at the place where he (i.e. the Prophet) had offered the prayer.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا کہا ہم سے سریج بن نعمان نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے انھوں نے نافع سے انھوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے انھوں نے کہا جس سال مکہ فتح ہوا آپﷺ قسواء اونٹی پر سوار اسامہ بن زید کو خواسم میں بٹھائے تشریف لائے آپﷺ کے ساتھ بلال
(مؤذن) اور عثمان بن طلحہ حجبی (کعبہ کے کلیدبردار تھے) آپﷺ نے کعبے کے پاس اونٹ کو بٹھایا پھر عثمان سے فرمایا کنجی لاؤ وہ کنجی لائے کعبے کا دروازہ کھولا اور نبیﷺ اسامہؓ اور بلالؓ اور عثمانؓ سمیت کعبہ کے اندر گئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیا بڑی دیر تک دن کو وہاں تھہرے رہے پھر باہر برآمد ہوئے تو دوسرے لوگ داخلی کے لئے لپکے ابن عمرؓ کہتے ہیں میں اور لوگوں سے آگے پہنچا میں نے دیکھا بلالؓ دروازے کے پیچھے کھڑے ہیں میں نے ان سے پوچھا رسول اللہﷺ نے کعبے میں کس جگہ نماز پڑھی انہوں نے کہا ان دونوں کے آگے ستوں کے بیچ میں ان دنوں کعبے کے چھ ستون تھے تین تین ستون کے دو حصے آپﷺ نے پہلے حصے کے دو ستونوں کے بیچ میں نماز پڑھی کعبے کا دروازہ پیٹھ کی طرف کیا اور دیوار کی طرف منہ کیا جو اندر کھستے ہی سامنے ہوتی ہے (نماز پڑھتے وقت نبیﷺ اس دیوار سے تین ہاتھ کے قریب فاصلہ پر تھے)ابن عمرؓ نے کہا میں بلال سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپﷺ نے کتنی رکعت نماز پڑھی آپﷺ نے جہاں نماز پڑھی اس کے پاس ہی سرخ سنگِ مرمر بچھا ہوا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُمَا أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَاضَتْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَحَابِسَتُنَا هِيَ ". فَقُلْتُ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَلْتَنْفِرْ ".
Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) Safiya bin Huyai, the wife of the Prophet menstruated during Hajjat-ul-Wada' The Prophet said, "Is she going to detain us?" I said to him, "She has already come to Mecca and performed the Tawaf (ul-ifada) around the Ka'ba, O Allah's Apostle." The Prophet said, " Let her then proceed on (to Medina)."
ہم سے ابو الیمان (حکم بن نافع) نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ان سے ام المومنین عائشہ صدیقہؓ نے انھوں نے کہا ام المومنین صفیہؓ کو عین حجۃ الوداع میں حیض آگیا نبیﷺ نے فرمایا کیا اس کی وجہ سے ہم رکیں رہیں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ وہ تو مکہ کو لوٹ کر طواف الزیارۃ کرچکی ہیں آپﷺ نے فرمایا تو پھر کیا ہے
( ہمارے ساتھ) کوچ کرے(طواف الوداع کی ضرورت نہیں )۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَلاَ نَدْرِي مَا حَجَّةُ الْوَدَاعِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ وَقَالَ " مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ، أَنْذَرَهُ نُوحٌ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِيكُمْ، فَمَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَيْسَ يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ عَلَى مَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ ثَلاَثًا، إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَإِنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ".
Narrated By Ibn Umar : We were talking about Hajjat-ul-Wada, while the Prophet was amongst us. We did not know what Hajjat-ul-Wada' signified. The Prophet praised Allah and then mentioned Al-Masih Ad-Dajjal and described him extensively, saying, "Allah did not send any prophet but that prophet warned his nation of Al-Masih Ad-Dajjal. Noah and the prophets following him warned (their people) of him. He will appear amongst you (O Muhammad's followers), and if it happens that some of his qualities may be hidden from you, but your Lord's State is clear to you and not hidden from you. The Prophet said it thrice. Verily, your Lord is not blind in one eye, while he (i.e. Ad-Dajjal) is blind in the right eye which looks like a grape bulging out (of its cluster).
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے کہا مجھ سےعمرُ بن محمد نے بیان کیا ان سے ان کے والد محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا ہم حجۃالوداع کا تذکرہ کیا کرتے تھے اس وقت نبیﷺ ہم لوگوں میں (زندہ) تھے ہم کو نہیں معلوم تھا حجۃالوداع کے کیا معنی خیر آپﷺ نے اللہ کی تعریف کی اس کی ثناء بیان کی پھر مسیح الدجال کا خوب لمبا ذکر کیا فرمایا اللہ نے کوئی پیغمبر ایسانہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو اس سےنہ ڈرایا ہو یہاں تک کہ حضرت نوحؑ اور ان کے بعد والے پیغمبروں نے بھی ڈرایا آپﷺ نے فرمایا وہ(قیامت کے قریب ) ضرور نکلے گا اگر تم کو اور کوئی دلیل (اس کے جھوٹے ہونے کی) نہ معلوم ہو تو بھی دلیل کافی ہےکہ وہ ( مردود ) کانا ہوگا تمہارا پروردگار(جل شانہ) کانا نہیں ہے وہ تو ہر عیب سے پاک ہے دجال داہنی آنکھ کاکا نا ہوگا اس کی آنکھ ایسی ہوگی جیسے پھولا انگور ۔
" أَلاَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ". قَالُوا نَعَمْ. قَالَ " اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثَلاَثًا، وَيْلَكُمْ، أَوْ وَيْحَكُمُ، انْظُرُوا لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
No doubt,! Allah has made your blood and your properties sacred to one another like the sanctity of this day of yours, in this town of yours, in this month of yours." The Prophet added: No doubt! Haven't I conveyed Allah's Message to you? " They replied, "Yes," The Prophet said thrice, "O Allah! Be witness for it." The Prophet added, "Woe to you!" (or said), "May Allah be merciful to you! Do not become infidels after me (i.e. my death) by cutting the necks (throats) of one another."
سن لو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے خون اور مال حرام کئے ہیں جیسے اس دن کو حرام کیا (یعنی عرفہ کے دن کو) اس شہر میں اس مہینے میں دیکھو میں نے خدا کا حکم تم کو پہنچا دیا لوگوں نے عرض کیا جی ہاں آپﷺ نے فرمایا یا اللہ گواہ رہیو تین بار یہی فرمایا دیکھو تمہاری خرابی یا تم پر افسوس یہ نہ کرنا کہ میرے بعد اسلام سے پھر کر کافر ہوجاؤں مسلمان کی گردن مارنے لگو۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً لَمْ يَحُجَّ بَعْدَهَا حَجَّةَ الْوَدَاعِ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَبِمَكَّةَ أُخْرَى.
Narrated By Zaid bin Arqam : The Prophet fought nineteen Ghazwas and performed only one Hajj after he migrated (to Medina), and did not perform another Hajj after it, and that was Hajj-ul-Wada,' Abu Ishaq said, "He performed when he was in Mecca."
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے کہا ہم سے ابو اسحاق سبیعی نے کہا مجھ سے زید بن ارقم نے انہوں کہا نبیﷺ نے انیس جہاد کئے اور ہجرت کے بعد آپﷺ نے ایک ہی حج کیا یعنی حجۃ الوداع اس کے بعد کوئی حج نہیں کیا ابو اسحاق نے کہا آپﷺ نے ایک حج اس وقت بھی کیا جب مکہ میں تھے ( مدینہ کو ہجرت نہیں کی تھی)۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِجَرِيرٍ " اسْتَنْصِتِ النَّاسَ " فَقَالَ " لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
Narrated By Jarir : The Prophet ordered me during Hajjatul-Wada'. "Ask the people to listen." He then said, "Do not become infidels after me by cutting the necks (throats) of one another. "
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے انھوں نے علی بن مدرک سے انھوں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے انھوں نے جریر سے کہ نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں جریر بن عبداللہ بجلی سے فرمایا لوگوں کو خاموش کر (تاکہ میری بات سنیں) پھر فرمایا لوگوں میرے بعد ایسا نہ کرنا ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر بن جاؤ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلاَثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ، أَىُّ شَهْرٍ هَذَا " قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ " أَلَيْسَ ذُو الْحِجَّةِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " فَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا ". قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ " أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " فَأَىُّ يَوْمٍ هَذَا " قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ـ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ ـ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، فَسَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلَّغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ـ فَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ يَقُولُ صَدَقَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ـ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ. مَرَّتَيْنِ ".
Narrated By Abu Bakra : The Prophet said, "Time has taken its original shape which it had when Allah created the Heavens and the Earth. The year is of twelve months, four of which are sacred, and out of these (four) three are in succession, i.e. Dhul-Qa'da, Dhul-Hijja and Al-Muharram, and the fourth is Rajab which is named after the Mudar tribe, between (the month of) Jumaida (ath-thania) and Sha'ban." Then the Prophet asked, "Which is this month?" We said, "Allah and His Apostle know better." On that the Prophet kept quiet so long that we thought that he might name it with another name. Then the Prophet said, "Isn't it the month of Dhul-Hijja?" We replied, "Yes." Then he said, "Which town is this?" "We replied, "Allah and His Apostle know better." On that he kept quiet so long that we thought that he might name it with another name. Then he said, "Isn't it the town of Mecca?" We replied, "Yes, " Then he said, "Which day is today?" We replied, "Allah and His Apostle know better." He kept quiet so long that we thought that he might name it with another name. Then he said, "Isn't it the day of An-Nahr (i.e. sacrifice)?" We replied, "Yes." He said, "So your blood, your properties, (The sub-narrator Muhammad said, 'I think the Prophet also said: And your honour...) are sacred to one another like the sanctity of this day of yours, in this city of yours, in this month of yours; and surely, you will meet your Lord, and He will ask you about your deeds. Beware! Do not become infidels after me, cutting the throats of one another. It is incumbent on those who are present to convey this message (of mine) to those who are absent. May be that some of those to whom it will be conveyed will understand it better than those who have actually heard it." (The sub-narrator, Muhammad, on remembering that narration, used to say, "Muhammad spoke the truth!") He (i.e. Prophet) then added twice, "No doubt! Haven't I conveyed (Allah's Message) to you?"
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے کہاہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے انہوں نے ابو بکرہ سے انہوں نبیﷺ سے آپﷺ نے (حجۃ الوداع میں) فرمایا زمانہ پھر گھوم کر اسی حال پرگیا جس حال پر اس دن تھا جس دن اللہ نے آسمان زمین بنائے تھے دیکھو بارہ مہینے کا ایک سال ہوتا ہے ان میں پے درپے تین مہینے حرام ہیں ذیقعد ، ذیحجہ ، محرم چوتھا مہینہ مضر کا رجب ہے جو جماد الاخری اور شعبان کے بیچ میں ہوتا ہے پھر آپﷺ نے پوچھا یہ کونسا مہینہ ہے اللہ اور رسولﷺ خوب جانتا ہے اس کے بعد آپﷺ خاموش ہو رہے ہم سمجھے شائد آپﷺ اس مہینے کا اور کوئی نام بیان کریں گے پھر فرمایا کیا یہ زیحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا بیشک زیحجہ کا مہینہ ہے آپﷺ نے فرمایا اچھا یہ کونسا شہر ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولﷺ خوب جانتا ہے پھر آپﷺ خاموش ہو رہے ہم سمجھے شاید آپﷺ اس شہر کا کوئی اور نام بیان کریں گے پھر فرمایا کیا یہ وہی شہر مکہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا بیشک یہ مکہ کا شہر ہے پھر فرمایا اچھا یہ دن کونسا دن ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولﷺ خوب جانتا ہے اس کے بعد آپﷺ خاموش ہو رہے ہم سمجھے شاید آپﷺ اس دن کا اور کوئی نام رکھیں گے پھر فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے۔ہم نے عرض کیا بیشک یہ یوم النحر ( قربانی کا دن) ہے آپﷺ نے فرمایا تو اب سن لو تمہارے آپس کے مسلمانوں کے خون اور مال ابن سیرین نے کہا میں سمجھتا ہوں ابی بکرہ نے یہ بھی کہا کہ تمہاری ابروئیں ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینے میں اور دیکھو تم کو ایک دن ضرور اپنے پروردگار کے پاس جانا ہےوہ تمہارے اعمال کی باز پرس کرے گا تو کہیں ایسا نہ کرنا میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر (خون خرابے کر کے ) گمراہ بن جاؤ سن لو جو لوگ تم میں یہاں موجود ہیں وہ یہ حدیث ان لوگوں کو پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جس کو بات پہنچائی جاتی ہے وہ پہنچانے والے سے زیادہ اس کو یاد رکھتا ہے محمد بن سیرین جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو کہتے تھےمحمدﷺ نے سچ فرمایا خیر اس کے بعد نبیﷺ نے فرمایا دیکھو میں نے خدا کا حکم تم کو پہنچا دیا دو بار یہ فرمایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُنَاسًا، مِنَ الْيَهُودِ قَالُوا لَوْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِينَا لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا. فَقَالَ عُمَرُ أَيَّةُ آيَةٍ فَقَالُوا {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي}. فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لأَعْلَمُ أَىَّ مَكَانٍ أُنْزِلَتْ، أُنْزِلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ.
Narrated By Tariq bin Shibab : Some Jews said, "Had this Verse been revealed to us, we would have taken that day as 'Id (festival)." 'Umar said, "What Verse?" They said: "This day I have Perfected your religion for you, Completed My Favour upon you And have chosen for you Islam as your religion" (5.3) 'Umar said, "I know the place where it was revealed; It was revealed while Allah's Apostle was staying at 'Arafat."
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے قیس بن مسلم سے انہوں نے طارق بن شہاب سے انہوں نے کہا بعضے یہودی یوں کہنے لگے(اگر سورت المائدہ کی) یہ آیت ہم لوگوں پر اترتی تو ہم لوگ اس دن کو عید (خوشی کا دن) ٹھہرا لیتے حضرت عمرؓ نے پوچھا کونسی آیت انہوں نے کہا الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیتم لکم الاسلام دینا حضرت عمرؓ نے کہا (عید کا دن تو وہ ہم لوگوں میں بھی ہے ) میں یہ جانتا ہوں جہاں یہ آیت نبیﷺ پر اتری یہ آیت اس وقت اتری جب آپﷺ عرفہ کے دن عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے یعنی حجۃالوداع میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى يَوْمَ النَّحْرِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ وَقَالَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ مِثْلَهُ.
Narrated By 'Aisha : We set out with Allah's Apostle, and some of us assumed the ihram for 'Umra, some assumed it for Hajj, and some assumed it for both Hajj and 'Umra. Allah's Apostle assumed the Ihram for Hajj. So those who had assumed the Ihram for Hajj or for both Hajj and 'Umra, did not finish their Ihram till the day of An-Nahr (i.e. slaughter of sacrifices).
Narrated By Malik : same as above saying, "(We set out) with Allah's Apostle in Hajjat-ul-Wada'...)"
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے ابو الاسود محمد بن عبد الرحمٰن بن نوفل سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا ہم ( حجۃ الوداع میں ) رسول اللہﷺ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے ہم میں کسی نے تو عمرے کی نیت کی ،کسی نے حج کی ، کسی نے دونوں کی (قران کیا)رسول اللہﷺ نے صرف حج کی نیت کی تھی پھر جس نے صرف حج کی نیت کی تھی یا حج اور عمرہ دونوں کی (ایک ساتھ ) اس نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک دسویں تاریخ ذیحجہ کی نہ آئی ۔
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی پھر یہ حدیث بیان کی اس میں یوں ہے کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے ۔
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سےامام مالک نے پھر یہی حدیث نقل کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ـ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ ـ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ، أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى، وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلاَ يَرِثُنِي إِلاَّ ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَىْ مَالِي قَالَ " لاَ ". قُلْتُ أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ قَالَ " لاَ ". قُلْتُ فَالثُّلُثِ قَالَ " وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلاَّ أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ آأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلاَّ ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ. لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ "
Narrated By Sad : The Prophet visited me during Hajjat ul-Wada' while I was suffering from a disease which brought me to the verge of death. I said, "O Allah's Apostle! My ailment has reached such a (bad) state as you see, and I have much wealth, but I have no-one to inherit from me except my only daughter. Shall I give 2/3 of my property as alms (in charity)?" The Prophet said, "No," I said, "Shall I give half of my property as alms?" He said, "No." I said, "(Shall I give) 1/3 of it? " He replied, " 1/3, and even 1/3 is too much. It is better for you to leave your inheritors wealthy rather than to leave them poor, begging people (for their sustenance); and whatever you spend for Allah's Sake, you will get reward for it even for the morsel of food which you put in your wives mouth." I said, "O Allah's Apostle! Should I remain (in Mecca) behind my companions (who are going with you to Medina)?" The Prophet said, "If you remain behind, any good deed which you will do for Allah's Sake, will upgrade and elevate you. May be you will live longer so that some people may benefit by you and some other (i.e. infidels) may get harmed by you." The Prophet then added, "O Allah! Complete the Migration of my companions and do not turn them on their heels. But the poor Sad bin Khaula (not the above mentioned Sad) (died in Mecca)." Allah's Apostle pitied Sad for he died in Mecca.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا کہا ہم سے ابن شہاب نے انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا حجۃ الوداع میں (میں بیمار ہو گیا ) نبیﷺ مجھ کو پوچھنے کے لئے آئے میں ایسا بیمار ہوا کہ مرنے کے قریب ہو گیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپﷺ دیکھتے ہیں میری بیماری کس درجہ پر پہنچ گئی ہے اب جینے کی امید نہیں رہی میں بہت مالدار ہوں اور ایک بیٹی (ام حکم ) کے سوا کوئی میرا وارث نہیں ہے میں اپنا دوتہائی مال ( اللہ کی راہ میں) خیرات کر جاؤں آپﷺ نے فرمایا نہیں میں نے کہا اچھا آدھا مال آپﷺ نے فرمایا نہیں میں نے کہا تہائی مال آپﷺ نے فرمایا ہاں تہائی خیرات کر سکتا ہے تہائی بہت ہے اگر تو اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جائے تو یہ بہتر ہے یا یہ کہ ان کو محتاج چھوڑ جائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اصل حقیقت تو یہ ہے جو کچھ اللہ کی رضامندی کے لئے خرچ کرے اس پر تجھے ثواب ملے گا یہاں تک کہ اس لقمے پر بھی جو تو (اللہ کے حکم جینے کی نیت) اپنے جورو کے منہ میں ڈالے میں نے عرض کیا میرے ساتھی (دوسرے مہاجرین)تو آپﷺ کے ساتھ مدینہ چلے جائیں گے اور میں پیچھے مکہ میں رہ جاؤں گا آپﷺ نے فرمایا نہیں تو پیچھے نہیں رہے گا اگر رہا بھی تو کیا ہے جو کام اللہ کی رضامندی کے لئے کرے گا اس پر تجھ کو ایک درجہ ملے گا تیرا درجہ بلند ہو گا اور عجب نہیں کہ تیری عمر دراز ہو اور تیری وجہ سے کچھ لوگوں کو(مسلمانوں کو)فائدہ ہو اور کچھ لوگوں کو نقصان (یعنی کافروں کو) اے اللہ میرے صحابہ کی ہجرت کو نافذ فرما اور ان کو ایڑیوں کے بل نہ لوٹا ( ان کی ہجرت کو نہ توڑ) مصیبت تو سعد بن خولہ پر پڑی رسول اللہﷺ اس پر رنج کرتے تھے کیونکہ وہ مکہ میں مرگیا تھا ۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet got his head shaved during Hajjat-ul-Wada.'
مجھ سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا کہا ہم سے ابو ضمرہ انس بن عیاض نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے انہوں نے نافع سے ان کو ابن عمرؓ نے خبر دی کہ نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈایا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَخْبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَلَقَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ.
Narrated By Ibn Umar : During Hajjat-ul-Wada', the Prophet and some of his companions got their heads shaved while some of his companions got their head-hair cut short.
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن بکر نے کہا ہم سے ابن جریج نے کہا مجھ کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی انہوں نے نافع سے ان کو ابن عمرؓ نے خبر دی کہ نبیﷺ اور آپﷺ کے اصحابؓ نے حجۃالوداع میں اپنا سر منڈایا اور بعضے اصحابؓ نے قصر کیا(بال کترائے)۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ، فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ.
Narrated By 'Abdullah bin 'Abbas : That he came riding a donkey when Allah 's Apostle was standing at Mina during Hajjat-ul-Wada', leading the people in prayer. The donkey passed in front of a part of the row (of the people offering the prayer). Then he dismounted from it and took his position in the row with the people.
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالک نے انہوں نے ابن شہاب سے دوسری سند اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے یونس نے بیان کیا انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ سے عبید اللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ان کو عبداللہ بن عباسؓ نے خبر دی انہوں نے کہا میں ایک گدھے پر سوار اس وقت چلا آرہا تھا جب رسول اللہﷺ حجۃالوداع میں منیٰ میں کھڑے ہوئے نماز پڑھا رہے تھے میرا گدھا تھوڑی صف کے آگے سے بھی گزر گیا پھر میں گدھے سے اتر کر صف میں شریک ہوا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ، عَنْ سَيْرِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّتِهِ. فَقَالَ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ.
Narrated By Hisham's father : In my presence, Usama was asked about the speed of the Prophet during his Hajj. He replied, "It was Al-'Anaq (i.e. moderate easy speed) and if he encountered an open space, he used to increase his speed."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے کہا مجھ سے میرے والد عروہ بن زبیر نے بیان کیا انہوں نے کہا اسامہ بن زید سے کسی نے پوچھا اس وقت میں موجود تھا نبیﷺ حجۃالوداع میں اپنی سواری کیوں کر چلاتے تھے انہوں نے کہا بیچ کی چال رستہ کشادہ پاتے تو دوڑاتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا.
Narrated By 'Abdullah bin Yazid Al-Khatmi : That Abu Aiyub informed him that he offered the Maghrib and 'Isha prayers together with the Prophet during Hajjat-ul-Wada.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انہوں نے عدی بن ثابت انصاری سے انہوں نے عبداللہ بن یزید خطمی سے ان کو ابو ایوب خالد بن زید انصاری نے خبر دی انہوں نے حجۃالوداع میں نبیﷺ کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھی۔
79. باب غَزْوَةُ تَبُوكَ، وَهْىَ غَزْوَةُ الْعُسْرَةِ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُهُ الْحُمْلاَنَ لَهُمْ، إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهْىَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ. فَقَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَىْءٍ ". وَوَافَقْتُهُ، وَهْوَ غَضْبَانُ وَلاَ أَشْعُرُ، وَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَىَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمْ أَلْبَثْ إِلاَّ سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلاَلاً يُنَادِي أَىْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ. فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُوكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ، قَالَ " خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ ـ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ ـ فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ ـ أَوْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلاَءِ فَارْكَبُوهُنَّ ". فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِمْ بِهِنَّ، فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلاَءِ وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا لِي إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ، وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ. فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوُا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْعَهُ إِيَّاهُمْ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ، فَحَدَّثُوهُمْ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى.
Narrated By Abu Musa : My Companions sent me to Allah's Apostle to ask him for some animals to ride on as they were accompanying him in the army of Al-Usra, and that was the Ghazwa (Battle) of Tabuk, I said, "O Allah's Prophet! My companions have sent me to you to provide them with means of transportation." He said, "By Allah! I will not make you ride anything." It happened that when I reached him, he was in an angry mood, and I didn't notice it. So I returned in a sad mood because of the refusal the Prophet and for the fear that the Prophet might have become 'angry with me. So I returned to my companions and informed them of what the Prophet had said. Only a short while had passed when I heard Bilal calling, "O 'Abdullah bin Qais!" I replied to his call. Bilal said, "Respond to Allah's Apostle who is calling you." When I went to him (i.e. the Prophet), he said, "Take these two camels tied together and also these two camels tied together,"' referring to six camels he had brought them from Sad at that time. The Prophet added, "Take them to your companions and say, 'Allah (or Allah's Apostle) allows you to ride on these,' so ride on them." So I took those camels to them and said, "The Prophet allows you to ride on these (camels) but by Allah, I will not leave you till some of you proceed with me to somebody who heard the statement of Allah's Apostle. Do not think that I narrate to you a thing which Allah's Apostle has not said." They said to me, "We consider you truthful, and we will do what you like." The sub-narrator added: So Abu Musa proceeded along with some of them till they came to those who have heard the statement of Allah's Apostle wherein he denied them (some animals to ride on) and (his statement) whereby he gave them the same. So these people told them the same information as Abu Musa had told them.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ سے انہوں نے (اپنے دادا) ابو بردہ سے انہوں نے( اپنے والد ) ابو موسی اشعریؓ سے انہوں نے کہا میرے ساتھیوں نے جو غزوہ تبوک میں آپﷺ کے ہمراہ جانے والے تھے سواریاں مانگنے کے لئے مجھ کو رسول اللہﷺ کے پاس بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میرے ساتھیوں نے سواریاں مانگنے کے لئے مجھ کو آپﷺ کے پاس بھیجا ہے آپﷺ نے فرمایا خدا کی قسم میں تم کو کوئی سواری دینے والا نہیں اتفاق سے آپﷺ اس وقت غصّے میں تھے مجھے معلوم نہیں تھا خیر میں بہت رنجیدہ ہو کر لوٹا مجھ کو ایک رنج تو یہ تھا کہ نبیﷺ نے سواری نہیں دی دوسرا رنج یہ تھا کہیں میرے سواری مانگنے پر آپﷺ ناراض نہ ہوگئے ہوں ۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا نبیﷺ نے جو فرمایا تھا وہ کہہ دیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی اتنے میں بلالؓ کی آواز سنی وہ مجھ کو پکار رہے ہیں عبد اللہ بن قیس میں گیا انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے آپﷺ کو یاد فرمایا ہے جاؤ میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا فرمایا یہ دو اونٹ کا جوڑا لے یہ جوڑا لے، چھ اونٹ عنایت فرمائے آپﷺ نے یہ اونٹ اسی وقت سعد بن عبادہ سے مول لئے تھے فرمایا یہ(چہوں) اونٹ اپنے ساتھیوں کے پاس لے جا ان سے کہہ کہ اللہ یا اللہ کے رسول ﷺ نے تم کو یہ اونٹ سواری کے لئے دئیے ہیں ان پر سوار ہو میں اونٹ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ نبیﷺ نے یہ اونٹ سواری کے لئے تم کو دئیے ہیں مگر میں تم کو چھوڑنے والا نہیں تم میں سے چند آدمی میرے ساتھ اس شخص کے پاس چلیں جس نے رسول اللہﷺ کا اگلا ارشاد ( کہ میں تم کو سواری دینے والا) نہیں سنا ہو تم یہ نہ سمجھو کہ میں نے اپنے دل سے ایک بات تم کو کہہ دی تھی جو رسول اللہﷺ نے نہیں فرمائی تھی انھوں نے کہا اس کی کچھ ضرورت نہیں ہم تجھ کو سچا سمجھتے ہیں مگر خیر تیرے کہنے سے ہم چند آدمی بھی تیرے ساتھ بھیجتے ہیں ابو موسیٰ اشعریؓ ان میں سے کئی آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہﷺ کا اگلا ارشاد سنا تھا کہ اول آپﷺ نے سواری سے انکار کیا تھا پھر اس کے بعد سواری عنایت فرمائی ان لوگوں نے وہی بیان دیا جو ابو موسیٰ نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا ( ابو موسیٰ کی تصدیق کی)۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ، وَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا فَقَالَ أَتُخَلِّفُنِي فِي الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ قَالَ " أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي ". وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ سَمِعْتُ مُصْعَبًا.
Narrated By Sad : Allah's Apostle set out for Tabuk. appointing 'Ali as his deputy (in Medina). 'Ali said, "Do you want to leave me with the children and women?" The Prophet said, "Will you not be pleased that you will be to me like Aaron to Moses? But there will be no prophet after me."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انھوں نے شعبہ سے انھوں نے حکم بن عتیبہ سے انھوں نے مصعب بن سعد سے انھوں نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاصؓ ) سے کہ نبیﷺ تبوک کو تشریف لے جانے لگے آپﷺ نے ( مدینہ میں ) حضرت علیؓ کو اپنا جانشین مقرر کیا انھوں نے عرض کی آپﷺ مجھ کو بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جاتے ہیں آپﷺ نے فرمایا علیؓ تو اس بات پر خوش نہیں کہ میرے پاس تیرا وہ درجہ ہو جو موسیؓ کے پاس ہارون پیغمبر کا تھا صرف اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی دوسرا پیغمبر نہیں ابو داؤد طیالسی نے اس روایت کو یوں بیان کیا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انھوں نے حکم بن عتیبہ سے کہا میں نے مصعب سے سنا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يُخْبِرُ قَالَ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْعُسْرَةَ قَالَ كَانَ يَعْلَى يَقُولُ تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ أَعْمَالِي عِنْدِي. قَالَ عَطَاءٌ فَقَالَ صَفْوَانُ قَالَ يَعْلَى فَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الآخَرِ، قَالَ عَطَاءٌ فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الآخَرَ فَنَسِيتُهُ، قَالَ فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ، فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ. قَالَ عَطَاءٌ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا، كَأَنَّهَا فِي فِي فَحْلٍ يَقْضَمُهَا ".
Narrated By Safwan bin Yala bin Umaiya : That his father said, "I participated in Al-Usra (i.e. Tabuk) along with the Prophet." Yala added, "(My participation in) that Ghazwa was the best of my deeds to me." Ya'la said, "I had a labourer who quarrelled with somebody, and one of the two bit the hand of the other ('Ata', the sub-narrator, said, "Safwan told me who bit whom but I forgot it"), and the one who was bitten, pulled his hand out of the mouth of the biter, so one of the incisors of the biter was broken. So we came to the Prophet and he considered the biter's claim as invalid (i.e. the biter did not get a recompense for his broken incisor). The Prophet said, "Should he leave his hand in your mouth so that you might snap it as if it were in the mouth of a male camel to snap it?"
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا ۔کہا ہم سے محمد بن بکر نے کہا ،ہم کو ابن جریج نے خبر دی ۔کہا میں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا ۔وہ کہتے تھے مجھ کو صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی۔انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے کہا میں جنگ عسرت (یعنی غزوہٗ تبوک)میں نبیﷺ کے ہمراہ تھا ۔اور یعلیٰ کہتے تھے میں اپنے سب نیک عملوں میں اس عمل کو (عمدہ) زیادہ بھروسے کے لائق سمجھتا ہوں عطاء نے کہا صفوان نے مجھ کو خبر دی ۔یعلیٰ نے کہا اس لڑائی میں میں نے ایک شخص کو نوکر رکھا تھا (اس کا نام معلوم نہیں ہوا ) اس نے کیا کیا ایک آدمی سے لڑا ۔دونوں میں ایک نے دوسرے کا ہاتھ (دانتوں سے )کاٹا ۔عطاء نےکہا صفوان یہ کہتے تھے میں یہ بھول گیا کہ ان دونوں میں کس نے ہاتھ کاٹا خیر جس کا ہاتھ دانت سے پکڑا گیا تھا۔اس نے جو اپنا ہاتھ کھینچا تو دوسرے کا دانت نکل پڑا ۔پھر یہ دونوں نبیﷺ کے پاس (قضیہ چکانے کو)آئے آپﷺ نے دانت والے کو کوئی دیت نہیں دلائی ۔عطاء نے کہا میں سمجھتا ہوں صفوان نے کہا ۔نبیﷺ نے فرمایا ۔کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رہنے دیتا تو اونٹ کی طرح اس کو چبا ڈالتا۔
80. باب حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ
وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا}
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ـ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ ـ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ قِصَّةِ، تَبُوكَ قَالَ كَعْبٌ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلاَّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ، عَنْهَا إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الإِسْلاَمِ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ، وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا، كَانَ مِنْ خَبَرِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، وَاللَّهِ مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِي قَبْلَهُ رَاحِلَتَانِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهُمَا فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ غَزْوَةً إِلاَّ وَرَّى بِغَيْرِهَا، حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ، غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيرًا، فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ، فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ، وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَثِيرٌ، وَلاَ يَجْمَعُهُمْ كِتَابٌ حَافِظٌ ـ يُرِيدُ الدِّيوَانَ ـ قَالَ كَعْبٌ فَمَا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَتَغَيَّبَ إِلاَّ ظَنَّ أَنْ سَيَخْفَى لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْىُ اللَّهِ، وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِينَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلاَلُ، وَتَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَىْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي أَنَا قَادِرٌ عَلَيْهِ. فَلَمْ يَزَلْ يَتَمَادَى بِي حَتَّى اشْتَدَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا، فَقُلْتُ أَتَجَهَّزُ بَعْدَهُ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ، فَغَدَوْتُ بَعْدَ أَنْ فَصَلُوا لأَتَجَهَّزَ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، ثُمَّ غَدَوْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ، وَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ، وَلَيْتَنِي فَعَلْتُ، فَلَمْ يُقَدَّرْ لِي ذَلِكَ، فَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطُفْتُ فِيهِمْ، أَحْزَنَنِي أَنِّي لاَ أَرَى إِلاَّ رَجُلاً مَغْمُوصًا عَلَيْهِ النِّفَاقُ أَوْ رَجُلاً مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَ، فَقَالَ وَهْوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوكَ " مَا فَعَلَ كَعْبٌ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَبَسَهُ بُرْدَاهُ وَنَظَرُهُ فِي عِطْفِهِ. فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِئْسَ مَا قُلْتَ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا. فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ تَوَجَّهَ قَافِلاً حَضَرَنِي هَمِّي، وَطَفِقْتُ أَتَذَكَّرُ الْكَذِبَ وَأَقُولُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا وَاسْتَعَنْتُ عَلَى ذَلِكَ بِكُلِّ ذِي رَأْىٍ مِنْ أَهْلِي، فَلَمَّا قِيلَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ، وَعَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَخْرُجَ مِنْهُ أَبَدًا بِشَىْءٍ فِيهِ كَذِبٌ، فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ، وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَادِمًا، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَيَرْكَعُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ، فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ، وَيَحْلِفُونَ لَهُ، وَكَانُوا بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلاً فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلاَنِيَتَهُمْ، وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ، وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَجِئْتُهُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ، ثُمَّ قَالَ " تَعَالَ ". فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لِي " مَا خَلَّفَكَ أَلَمْ تَكُنْ قَدِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ ". فَقُلْتُ بَلَى، إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، لَرَأَيْتُ أَنْ سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُذْرٍ، وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلاً، وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ تَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يُسْخِطَكَ عَلَىَّ، وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَىَّ فِيهِ إِنِّي لأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ، لاَ وَاللَّهِ مَا كَانَ لِي مِنْ عُذْرٍ، وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ، فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ ". فَقُمْتُ وَثَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُونِي، فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاكَ كُنْتَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا، وَلَقَدْ عَجَزْتَ أَنْ لاَ تَكُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا اعْتَذَرَ إِلَيْهِ الْمُتَخَلِّفُونَ، قَدْ كَانَ كَافِيَكَ ذَنْبَكَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَكَ، فَوَاللَّهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونِي حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُكَذِّبُ نَفْسِي، ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي أَحَدٌ قَالُوا نَعَمْ، رَجُلاَنِ قَالاَ مِثْلَ مَا قُلْتَ، فَقِيلَ لَهُمَا مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ. فَقُلْتُ مَنْ هُمَا قَالُوا مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الْعَمْرِيُّ وَهِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ. فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا فِيهِمَا إِسْوَةٌ، فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا لِي، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلاَمِنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ، فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَتَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ فِي نَفْسِي الأَرْضُ، فَمَا هِيَ الَّتِي أَعْرِفُ، فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، فَأَمَّا صَاحِبَاىَ فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْكِيَانِ، وَأَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلاَةَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَطُوفُ فِي الأَسْوَاقِ، وَلاَ يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ، وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهْوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلاَمِ عَلَىَّ أَمْ لاَ ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ فَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ، فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى صَلاَتِي أَقْبَلَ إِلَىَّ، وَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ عَنِّي، حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَىَّ ذَلِكَ مِنْ جَفْوَةِ النَّاسِ مَشَيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهْوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ، فَقُلْتُ يَا أَبَا قَتَادَةَ، أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُنِي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ. فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَفَاضَتْ عَيْنَاىَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ، قَالَ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي بِسُوقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ أَنْبَاطِ أَهْلِ الشَّأْمِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ، حَتَّى إِذَا جَاءَنِي دَفَعَ إِلَىَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ، فَإِذَا فِيهِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ، وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلاَ مَضْيَعَةٍ، فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ. فَقُلْتُ لَمَّا قَرَأْتُهَا وَهَذَا أَيْضًا مِنَ الْبَلاَءِ. فَتَيَمَّمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهُ بِهَا، حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً مِنَ الْخَمْسِينَ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِينِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لاَ بَلِ اعْتَزِلْهَا وَلاَ تَقْرَبْهَا. وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَىَّ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَتَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الأَمْرِ. قَالَ كَعْبٌ فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَهَلْ تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ قَالَ " لاَ وَلَكِنْ لاَ يَقْرَبْكِ ". قَالَتْ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ إِلَى شَىْءٍ، وَاللَّهِ مَا زَالَ يَبْكِي مُنْذُ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ إِلَى يَوْمِهِ هَذَا. فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي امْرَأَتِكَ كَمَا أَذِنَ لاِمْرَأَةِ هِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَسْتَأْذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا يُدْرِينِي مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اسْتَأْذَنْتُهُ فِيهَا وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ حَتَّى كَمَلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كَلاَمِنَا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ صَلاَةَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ، قَدْ ضَاقَتْ عَلَىَّ نَفْسِي، وَضَاقَتْ عَلَىَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ، سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ، أَبْشِرْ. قَالَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا، وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ، وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلاَةَ الْفَجْرِ، فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا، وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَىَّ مُبَشِّرُونَ، وَرَكَضَ إِلَىَّ رَجُلٌ فَرَسًا، وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَى عَلَى الْجَبَلِ وَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَىَّ، فَكَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا بِبُشْرَاهُ، وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ، وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا، وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنُّونِي بِالتَّوْبَةِ، يَقُولُونَ لِتَهْنِكَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ. قَالَ كَعْبٌ حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ حَوْلَهُ النَّاسُ فَقَامَ إِلَىَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّانِي، وَاللَّهِ مَا قَامَ إِلَىَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرُهُ، وَلاَ أَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ، قَالَ كَعْبٌ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ " أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ ". قَالَ قُلْتُ أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ قَالَ " لاَ، بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ". وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ، وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِ اللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ". قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لاَ أُحَدِّثَ إِلاَّ صِدْقًا مَا بَقِيتُ، فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَبْلاَهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلاَنِي، مَا تَعَمَّدْتُ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى يَوْمِي هَذَا كَذِبًا، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا بَقِيتُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم {لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ} إِلَى قَوْلِهِ {وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} فَوَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنْ نِعْمَةٍ قَطُّ بَعْدَ أَنْ هَدَانِي لِلإِسْلاَمِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ أَكُونَ كَذَبْتُهُ، فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا، فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ لِلَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ أَنْزَلَ الْوَحْىَ شَرَّ مَا قَالَ لأَحَدٍ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ} إِلَى قَوْلِهِ {فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ}. قَالَ كَعْبٌ وَكُنَّا تَخَلَّفْنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ حَلَفُوا لَهُ، فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ فِيهِ، فَبِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ {وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا} وَلَيْسَ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ مِمَّا خُلِّفْنَا عَنِ الْغَزْوِ إِنَّمَا هُوَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَبِلَ مِنْهُ.
Narrated By Abdullah bin Kab bin Malik : Who, from among Kab's sons, was the guide of Kab when he became blind: I heard Kab bin Malik narrating the story of (the Ghazwa of) Tabuk in which he failed to take part. Kab said, "I did not remain behind Allah's Apostle in any Ghazwa that he fought except the Ghazwa of Tabuk, and I failed to take part in the Ghazwa of Badr, but Allah did not admonish anyone who had not participated in it, for in fact, Allah's Apostle had gone out in search of the caravan of Quraish till Allah made them (i.e. the Muslims) and their enemy meet without any appointment. I witnessed the night of Al-'Aqaba (pledge) with Allah's Apostle when we pledged for Islam, and I would not exchange it for the Badr battle although the Badr battle is more popular amongst the people than it (i.e. Al-'Aqaba pledge). As for my news (in this battle of Tabuk), I had never been stronger or wealthier than I was when I remained behind the Prophet in that Ghazwa.
By Allah, never had I two she-camels before, but I had then at the time of this Ghazwa. Whenever Allah's Apostle wanted to make a Ghazwa, he used to hide his intention by apparently referring to different Ghazwa till it was the time of that Ghazwa (of Tabuk) which Allah's Apostle fought in severe heat, facing, a long journey, desert, and the great number of enemy. So the Prophet announced to the Muslims clearly (their destination) so that they might get prepared for their Ghazwa. So he informed them clearly of the destination he was going to. Allah's Apostle was accompanied by a large number of Muslims who could not be listed in a book namely, a register." Ka'b added, "Any man who intended to be absent would think that the matter would remain hidden unless Allah revealed it through Divine Revelation. So Allah's Apostle fought that Ghazwa at the time when the fruits had ripened and the shade looked pleasant. Allah's Apostle and his companions prepared for the battle and I started to go out in order to get myself ready along with them, but I returned without doing anything. I would say to myself, 'I can do that.' So I kept on delaying it every now and then till the people got ready and Allah's Apostle and the Muslims along with him departed, and I had not prepared anything for my departure, and I said, I will prepare myself (for departure) one or two days after him, and then join them.' In the morning following their departure, I went out to get myself ready but returned having done nothing. Then again in the next morning, I went out to get ready but returned without doing anything.
Such was the case with me till they hurried away and the battle was missed (by me). Even then I intended to depart to take them over. I wish I had done so! But it was not in my luck. So, after the departure of Allah's Apostle, whenever I went out and walked amongst the people (i.e, the remaining persons), it grieved me that I could see none around me, but one accused of hypocrisy or one of those weak men whom Allah had excused. Allah's Apostle did not remember me till he reached Tabuk. So while he was sitting amongst the people in Tabuk, he said, 'What did Ka'b do?' A man from Banu Salama said, 'O Allah's Apostle! He has been stopped by his two Burdas (i.e. garments) and his looking at his own flanks with pride.' Then Mu'adh bin Jabal said, 'What a bad thing you have said! By Allah! O Allahs Apostle! We know nothing about him but good.' Allah's Apostle kept silent." Ka'b bin Malik added, "When I heard that he (i.e. the Prophet) was on his way back to Medina. I got dipped in my concern, and began to think of false excuses, saying to myself, 'How can I avoid his anger tomorrow?' And I took the advice of wise member of my family in this matter. When it was said that Allah's Apostle, had come near all the evil false excuses abandoned from my mind and I knew well that I could never come out of this problem by forging a false statement. Then I decided firmly to speak the truth. So Allah's Apostle arrived in the morning, and whenever he returned from a journey., he used to visit the Mosque first of all and offer a two-Rak'at prayer therein and then sit for the people. So when he had done all that (this time), those who had failed to join the battle (of Tabuk) came and started offering (false) excuses and taking oaths before him. They were something over eighty men; Allah's Apostle accepted the excuses they had expressed, took their pledge of allegiance asked for Allah's Forgiveness for them, and left the secrets of their hearts for Allah to judge. Then I came to him, and when I greeted him, he smiled a smile of an angry person and then said, 'Come on.' So I came walking till I sat before him. He said to me, 'What stopped you from joining us. Had you not purchased an animal For carrying you?' I answered, "Yes, O Allah's Apostle! But by Allah, if I were sitting before any person from among the people of the world other than you, I would have avoided his anger with an excuse.
By Allah, I have been bestowed with the power of speaking fluently and eloquently, but by Allah, I knew well that if today I tell you a lie to seek your favour, Allah would surely make you angry with me in the near future, but if I tell you the truth, though you will get angry because of it, I hope for Allah's Forgiveness. Really, by Allah, there was no excuse for me. By Allah, I had never been stronger or wealthier than I was when I remained behind you.' Then Allah's Apostle said, 'As regards this man, he has surely told the truth. So get up till Allah decides your case.' I got up, and many men of Banu Salama followed me and said to me. 'By Allah, we never witnessed you doing any sin before this. Surely, you failed to offer excuse to Allah's Apostle as the others who did not join him, have offered. The prayer of Allah's Apostle to Allah to forgive you would have been sufficient for you.' By Allah, they continued blaming me so much that I intended to return (to the Prophet) and accuse myself of having told a lie, but I said to them, 'Is there anybody else who has met the same fate as I have?' They replied, 'Yes, there are two men who have said the same thing as you have, and to both of them was given the same order as given to you.' I said, 'Who are they?' They replied, Murara bin Ar-Rabi Al-Amri and Hilal bin Umaiya Al-Waqifi.' By that they mentioned to me two pious men who had attended the Ghazwa (Battle) of Badr, and in whom there was an example for me. So I did not change my mind when they mentioned them to me. Allah's Apostle forbade all the Muslims to talk to us, the three aforesaid persons out of all those who had remained behind in that Ghazwa. So we kept away from the people and they changed their attitude towards us till the very land (where I lived) appeared strange to me as if I did not know it.
We remained in that condition for fifty nights. As regards my two fellows, they remained in their houses and kept on weeping, but I was the youngest of them and the firmest of them, so I used to go out and witness the prayers along with the Muslims and roam about in the markets, but none would talk to me, and I would come to Allah's Apostle and greet him while he was sitting In his gathering after the prayer, and I would wonder whether the Prophet did move his lips in return to my greetings or not. Then I would offer my prayer near to him and look at him stealthily. When I was busy with my prayer, he would turn his face towards me, but when I turned my face to him, he would turn his face away from me. When this harsh attitude of the people lasted long, I walked till I scaled the wall of the garden of Abu Qatada who was my cousin and dearest person to me, and I offered my greetings to him. By Allah, he did not return my greetings. I said, 'O Abu Qatada! I beseech you by Allah! Do you know that I love Allah and His Apostle?' He kept quiet. I asked him again, beseeching him by Allah, but he remained silent. Then I asked him again in the Name of Allah. He said, "Allah and His Apostle know it better.' Thereupon my eyes flowed with tears and I returned and jumped over the wall." Ka'b added, "While I was walking in the market of Medina, suddenly I saw a Nabati (i.e. a Christian farmer) from the Nabatis of Sham who came to sell his grains in Medina, saying, 'Who will lead me to Kab bin Malik?' The people began to point (me) out for him till he came to me and handed me a letter from the king of Ghassan in which the following was written:
"To proceed, I have been informed that your friend (i.e. the Prophet) has treated you harshly. Anyhow, Allah does not let you live at a place where you feel inferior and your right is lost. So join us, and we will console you."
When I read it, I said to myself, 'This is also a sort of a test.' Then I took the letter to the oven and made a fire therein by burning it. When forty out of the fifty nights elapsed, behold ! There came to me the messenger of Allah's Apostle and said, 'Allah's Apostle orders you to keep away from your wife,' I said, 'Should I divorce her; or else! what should I do?' He said, 'No, only keep aloof from her and do not cohabit her.' The Prophet sent the same message to my two fellows. Then I said to my wife. 'Go to your parents and remain with them till Allah gives His Verdict in this matter." Kab added, "The wife of Hilal bin Umaiya came to Apostle and said, 'O Allah's Apostle! Hilal bin Umaiya is a helpless old man who has no servant to attend on him. Do you dislike that I should serve him? ' He said, 'No (you can serve him) but he should not come near you.' She said, 'By Allah, he has no desire for anything. By, Allah, he has never ceased weeping till his case began till this day of his.'
On that, some of my family members said to me, 'Will you also ask Allah's Apostle to permit your wife (to serve you) as he has permitted the wife of Hilal bin Umaiya to serve him?' I said, 'By Allah, I will not ask the permission of Allah's Apostle regarding her, for I do not know What Allah's Apostle would say if I asked him to permit her (to serve me) while I am a young man.' Then I remained in that state for ten more nights after that till the period of fifty nights was completed starting from the time when Allah's Apostle prohibited the people from talking to us. When I had offered the Fajr prayer on the 50th morning on the roof of one of our houses and while I was sitting in the condition which Allah described (in the Qur'an) i.e. my very soul seemed straitened to me and even the earth seemed narrow to me for all its spaciousness, there I heard the voice of one who had ascended the mountain of Sala' calling with his loudest voice, 'O Kab bin Malik! Be happy (by receiving good tidings).' I fell down in prostration before Allah, realizing that relief has come. Allah's Apostle had announced the acceptance of our repentance by Allah when he had offered the Fajr prayer. The people then went out to congratulate us. Some bringers of good tidings went out to my two fellows, and a horseman came to me in haste, and a man of Banu Aslam came running and ascended the mountain and his voice was swifter than the horse. When he (i.e. the man) whose voice I had heard, came to me conveying the good tidings, I took off my garments and dressed him with them; and by Allah, I owned no other garments than them on that day. Then I borrowed two garments and wore them and went to Allah's Apostle.
The people started receiving me in batches, congratulating me on Allah's Acceptance of my repentance, saying, 'We congratulate you on Allah's Acceptance of your repentance." Kab further said, "When I entered the Mosque. I saw Allah's Apostle sitting with the people around him. Talha bin Ubaidullah swiftly came to me, shook hands with me and congratulated me. By Allah, none of the Muhajirin (i.e. Emigrants) got up for me except him (i.e. Talha), and I will never forget this for Talha." Kab added, "When I greeted Allah's Apostle he, his face being bright with joy, said "Be happy with the best day that you have got ever since your mother delivered you." Kab added, "I said to the Prophet 'Is this forgiveness from you or from Allah?' He said, 'No, it is from Allah.' Whenever Allah's Apostle became happy, his face would shine as if it were a piece of moon, and we all knew that characteristic of him. When I sat before him, I said, 'O Allah's Apostle! Because of the acceptance of my repentance I will give up all my wealth as alms for the Sake of Allah and His Apostle. Allah's Apostle said, 'Keep some of your wealth, as it will be better for you.' I said, 'So I will keep my share from Khaibar with me,' and added, 'O Allah's Apostle! Allah has saved me for telling the truth; so it is a part of my repentance not to tell but the truth as long as I am alive. By Allah, I do not know anyone of the Muslims whom Allah has helped foretelling the truth more than me. Since I have mentioned that truth to Allah's Apostle till today, I have never intended to tell a lie. I hope that Allah will also save me (from telling lies) the rest of my life. So Allah revealed to His Apostle the Verse:
"Verily, Allah has forgiven the Prophet, the Muhajirin (i.e. Emigrants (up to His Saying) And be with those who are true (in word and deed)." (9.117-119)
By Allah, Allah has never bestowed upon me, apart from His guiding me to Islam, a Greater blessing than the fact that I did not tell a lie to Allah's Apostle which would have caused me to perish as those who have told a lie perished, for Allah described those who told lies with the worst description He ever attributed to anybody else. Allah said: "They (i.e. the hypocrites) will swear by Allah to you when you return to them (up to His Saying) Certainly Allah is not pleased with the rebellious people..." (9.95-96) Kab added, "We, the three persons, differed altogether from those whose excuses Allah's Apostle accepted when they swore to him. He took their pledge of allegiance and asked Allah to forgive them, but Allah's Apostle left our case pending till Allah gave His Judgment about it. As for that Allah said): And to the three (He did for give also) who remained behind." (9.118)
What Allah said (in this Verse) does not indicate our failure to take part in the Ghazwa, but it refers to the deferment of making a decision by the Prophet about our case in contrast to the case of those who had taken an oath before him and he excused them by accepting their excuses.
ہم سے یحیی بن بکیر نے بیان کیا ۔کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن کعب سے جو اپنے باپ کعب کو اندھے ہو جانے کے بعد پکڑ کر چلایا کرتے۔انہوں نے کہا میں نے کعب سے سنا ۔وہ تبوک سے پیچھے رہ جانے کا قصّہ بیان کرتے تھے کہتے تھے میں رسول اللہﷺ کو کسی لڑائی میں چھوڑ کر پیچھے نہیں رہا ۔صرف غزوہٗ تبوک میں پیچھے رہ گیا اور جنگ بدر سے پیچھے رہ جانے پر اللہ تعالیٰ نے کسی پر عتاب نہیں فرمایا تھا ۔ جنگ بدر میں رسول اللہﷺ قریش کا قافلہ لوٹنے کی نیت سے تشریف لے گئے تھے (لڑائی کا ارادہ نہ تھا)مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کو اچانک بن وعدہ اور بن ٹھہراوٗ ٹھہرادیا (لڑائی ہو گئی)اور میں لیلہ العقبہ میں رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا تھا جہاں ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا (اور نبیﷺ کی مدد کرنے کا ) مضبوط قول وقرار کیا تھا مجھ کو تو جنگ بدر اس رات سے بڑھ کر محبوب نہیں ہے ۔ اگرچہ بدر کا شہرہ لوگوں میں اس رات سے زیادہ ہے میرا حال یہ گزرا کہ غزوہٗ تبوک کے وقت میں خوب چاک و چست اور مالدار تھا ۔جب آپﷺ کو چھوڑ کر پیچھے رہ گیا تھا ۔میرے پاس سواری کی دو اونٹنیاں کبھی اکٹھا نہیں ہوئی تھیں ۔اس جنگ کے وقت میرے پاس ایک چھوڑ دو اونٹنیاں سواری کے لئے موجود تھیں ۔اور رسول اللہﷺ کا یہ قاعدہ تھا۔ جب کہیں جنگ پر جانے والے ہوتے ۔تو اس کو صاف نہیں بیان کرتے ۔ گول گول ایسا فرماتے کہ لوگ دوسرا کوئی مقام سمجھیں ۔جب اس جنگ کا وقت آیا تو اتفاق سے اس وقت سخت گرمی تھی۔ اور سفر بھی دور دراز رستے میں ناآباد جنگل (بے آب وگیاہ) دشمن بے شمار (روم کے نصاریٰ ٰعرب کے نصاریٰ ) اس لئے آپؑ نے مسلمانوں سے صاف صاف بیان کر دیا (کہ ہم تبوک کو جانا چاہتے ہیں )آپ کی غرض یہ تھی کہ وہ اچھی طرح لڑائی (اور سفر کا)سامان درست کر لیں خیر رسول اللہﷺ نے صاف صاف تبوک کا ارادہ مسلمانوں سے بیان کردیا اس وقت مسلمانوں کا شمار بہت تھا ۔اور کوئی دفتر وغیرہ نہ تھا ۔جس میں ان کے نام محفوظ ہوتے۔ کعب نے کہا کوئی مسلمان ایسا نہ تھا جو اس لڑائی میں غیر حاضر رہنا چاہتا تھا ۔مگر وہ یہ گمان کرتا تھا ۔کہ اس کا غیر حاضر رہنا رسول اللہﷺ کو اس وقت تک معلوم نہ ہو گا ۔جب تک اس کے باب میں کوئی وحی نہ اترے ۔رسول اللہﷺ نے اس لڑائی کا اس وقت قصد کیا ۔جب درختوں کا میوہ پک گیا تھا اور سایہ میں رہنا آدمی کو بہت پسند تھا ۔(یعنی سخت گرمی میں )خیر رسول اللہﷺ نے اور آپﷺ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی سفر کا سامان تیار کرنا شروع کیا ۔میں بھی ہر صبح کو جاتا کہ سفر کا سامان تیار کروں پھر خالی لوٹ آتا ۔کچھ تیاری نہ کرتا ۔میں اپنے دل میں کہتا میں ہر وقت اپنا سامان تیار کر سکتا ہوں (جلدی کیا ہے ) اسی طرح دن گزرتے رہے یہاں تک کہ لوگوں نے محنت مشقت اٹھا کر اپنااپنا سامان تیار کرلیا ۔ اور رسول اللہﷺ اور مسلمان ایک صبح کو روانہ ہو گئے ۔اس وقت تک بھی میں نے کوئی تیاری نہ کی تھی ۔لیکن میں نے اپنے دل میں کہا (آپؑکو جانے دو) میں ایک یا دو دن میں اپنی سب تیاری کر کے آپؑ سے مل جاوٗں گا ۔جب وہ روانہ ہو گئے تو دوسری صبح کو میں نے سامان تیار کرنا چاہا لیکن اس روز بھی خالی پھر آیا ۔کوئی تیاری نہ کی ۔ پھر تیسری صبح کو بھی ایسا ہی ہوا ۔خالی لوٹ آیا کوئی تیاری نہ کی ۔ میرا برابر یہی حال رہا (کہ آج نکلتا ہوں کل نکلتا ہوں )ادھر سب لوگ جلدی جلدی سفر کرتے دور نکل گئے میرا (کئی بار)قصد ہوا میں بھی کوچ کروں ۔اور ان سے مل جاوں ۔کاش میں ایسا کرتا مگر تقدیر میں نہ تھا ۔اب ایسا ہوا کہ رسول اللہﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد میں (مدینہ میں ) نکلتا اور پھر کر دیکھتا تو وہی لوگ نظر آتے جو منافق کہلاتے تھے یا معذور تھے ۔ضعیف و ناتواں تھے ۔ اس سے مجھ کو بہت رنج ہوتا ۔ادھر رسول اللہﷺ نے تبوک پہنچنے تک مجھ کو یاد نہیں فرمایا ۔جب تبوک پہنچے تو ایک مرتبہ لوگوں کے ساتھ وہاں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا کعب بن مالک کہا ں ہے ؟ بنی سلمہ کے ایک آدمی (عبداللہ بن انیس )نے عرض کیا ۔یا رسول اللہ وہ اپنے حسن و جمال (یا لبا س کی خوبی) پر اترا کر رہ گیا (آپکے ساتھ نہیں آیا ) یہ سن کر معاذ بن جبل نے کہا تو نے بری با ت کہی خدا کی قسم یا رسول اللہ ہم تو اس کو اچھا آدمی (سچا مسلمان سمجھتے ہیں ) رسول اللہﷺ خاموش ہو رہے ۔کعب بن مالک کہتے ہیں جب یہ خبر آئی کہ نبیﷺ تبوک سے لوٹے آرہے ہیں ۔تو میرا غم تازہ ہوگیا ۔جھوٹے جھوٹے خیال دل میں آنے لگے(یہ عذر کروں وہ عذر کرو ں ) مجھ کو یہ فکر ہوئی کعب ا ب کل آپؑ کے غصے سے تو کیوں کر بچے گا ۔میں نے اپنے عزیزوں میں سے جو عقل والے تھے ۔ ان سے بھی مشورہ لیا ۔ جب یہ خبر آئی کہ آپؑ مدینہ کے قریب آن پہنچے اسوقت سارے جھوٹے خیالات میرے دل سے مٹ گئے اور میں نے سمجھ لیا کہ جھوٹی باتیں بنا کر میں آپ کے غصے سے بچنے والا نہیں ۔اب میں نے ٹھان لیا (جو ہونا ہو وہ ہو )میں تو سچ سچ کہہ دونگا خیر صبح کے وقت آپؑ مدینہ میں داخل ہوئے آپؑ کی عادت تھی جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں جاتے وہاں ایک دوگانہ ادا فرماتے (آپ نے مسجد میں دو گانہ ادا کیا) پھر لوگوں سے ملنے کے لئے بیٹھے ۔اب جو (منافق )لوگ پیچھے رہ گئے تھے ۔انہوں نے آنا شروع کیا ۔اور لگے اپنے ا پنے عذر بیان کرنے ، قسمیں کھانے ،ایسے لوگ اسی(۸۰) پر کئی آدمی تھے آپؑ نے ظاہر میں ان کا عذر مان لیا ۔ان سے بیعت لی۔ان کے واسطے دعا کی ان کے دلوں کے بھید کو خدا پر رکھا ۔کعب کہتے ہیں میں بھی آیا میں نے جب آپؑ کو سلام کیا تو آپ مسکرائے مگر جیسے غصّہ میں کوئی آدمی مسکراتا ہے پھر فرمایا آؤ ۔میں آکر آپؑ کے سامنے بیٹھ گیا ۔آپ نے پوچھا تو کیوں پیچھے رہ گیا ۔تو نے تو سواری بھی خرید لی تھی ۔میں نے عرض کیا بے شک اگر کسی دنیادار شخص کے سامنے میں اس وقت بیٹھا ہوتا ۔تو باتیں بنا کر اس کے غصے سے بچ جاتا ۔میں خوش تقریر بھی.ہوں مگر میں خدا کی قسم یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آج میں جھوٹ بول کر آپؑ کو خوش کر لوں تو کل اللہ تعالیٰ (اصل حقیقت کھول کر ) پھر آپ کو مجھ پر غصّہ کر دے گا .(اس سے فائدہ ہی کیا ہے)میں سچ ہی کیوں نہ بولوں ۔گو آپؑ اس وقت سچ کہہ دینے کی وجہ سے مجھ پر غصّہ کریں گے ۔مگر آئندہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی مجھ کو اُمیّد تو رہے گی ۔خداکی قسم (میں سراسر قصور وار ہوں )زور ،طاقت ،قوت دولت سب میں کوئی برابر نہ تھا ۔اور میں یہ سب چیزیں ہوتے ہوئے پیچھے رہ گیا یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا کعب اب تو ایسا کر چلاجا جب تک اللہ تعالیٰ تیرے باب میں کوئی حکم نہ اتارے ۔میں چلا بنی سلمہ کے کچھ لوگ اٹھ کر میرے پیچھے ہوئے اور کہنے لگے خداکی قسم ہم کو معلوم نہیں کہ تو نےاس سے پہلے بھی کوئی قصور کیا ہو ۔تو نے اور لوگوں کی طرح جو پیچھے رہ گئے تھے رسول اللہﷺ سے کوئی بہانہ کیوں نہ کردیا ۔اگر تو بھی کوئی بیانہ کرتا تو رسول اللہﷺ کی دعا تیرے قصور کے لیے کافی ہو جاتی۔وہ برابر مجھ کو لعنت ملامت کرتے رہے ۔قسم خدا کی ان کی باتوں سے میرے دل میں آیا آپ ﷺ کے پاس لوٹ کر چلوں اور اپنی اگلی بات (گناہ کے اقرار کو )جھٹلا کر کوئی بہانہ نکالوں میں نے ان سے پوچھا اور بھی کوئی ہے جس نے میری طرح گناہ کا اقرار کیا ہے ان سے بھی آپﷺ نے یہی فرمایا ہے جو مجھ سے فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا دوآدمی ہیں انہوں نے بھی وہی کہا جو تم نے کہا اور رسول اللہﷺ نے ان سے بھی یہی فرمایا جو تم سے فرمایا ۔میں نے پوچھا وہ دو شخص کون ہیں انہوں نے کہا ،مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیّہ واقفی انہوں نے ایسے دو نیک شخصوں کا بیان کیا جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو چکے تھے اور جن کے ساتھ رہنا مجھ کو اچھا معلوم ہوا خیر جب انہوں نے ان دو شخصوں کا بھی نام لیا (تو مجھ کو تسلی ہو گئی ) میں چل دیا۔ رسول اللہﷺ نے تمام مسلمانوں کو منع کردیا خاص کر ہم تین آدمیوں سے کوئی بات نہ کرے اور دوسرے جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے جنہوں نے جھوٹے بہانے کیے تھے ان کے لئے یہ حکم نہیں دیا تھا ۔اب لوگوں نے ہم سے پرہیز شروع کیا۔(کوئی بات نہ کرتا ) با لکل کورے ہو گئے (جیسے کوئی آشنائی ہی نہ تھی)ایسے معلوم ہوا جیسے زمین (آسمان)بدل گئے وہ زمین ہی نہ رہی ۔جس پر ہم رہتے تھے ،خیر پچاس راتیں (اسی پریشان حالی میں ) گزریں ۔میرے دونوں ساتھی(مرارہؓ اور ہلالؓ )تو روتے پیٹتے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے ۔اور میں جوان مضبوط آدمی تھا تو (مصیبت پر صبر کرکے)باہر نکلتا ۔نماز کی جماعت میں شریک ہوتا ۔بازاروں میں گھومتا رہتا ۔مگر کوئی شخص مجھ سے بات نہ کرتا ۔ میں رسول اللہﷺ کے پاس بھی جاتا۔آپؑ نماز پڑھ کر اپنی جگہ بیٹھے ہوتے۔میں آپؑ کو سلام کرتا ۔پھر مجھے شبہ رہتا آپؑ نےاپنے (مبارک)ہونٹ ہلا کر مجھ کوسلام کا جواب بھی دیا۔ یا نہیں ۔پھر میں آپؑ کے قریب کھڑے ہو کر نماز پڑھتا رہتا۔اور دزدیدہ نظر آپؑ کو دیکھتا رہتا۔آپؑ کیا کرتے ۔جب میں نماز میں ہوتا تو مجھ کودیکھتے ۔اور جب میں آپؑ کو دیکھتا تو آپ منہ پھیر لیتے ۔جب اسی طرح ایک مدت گزری۔ اور لوگوں کی روگردانی دوبھر ہو گئی ۔تو میں چلا اور اپنے چچازاد بھائی کے باغ کی دیوار پر چڑھااس سے مجھ کو بہت محبت تھی میں نے اس کو سلام کیا ۔تو خدا کی قسم اس نے سلام کا جواب تک نہ دیا۔میں نے کہا ۔ابوقتادہ تجھ کو خدا کی قسم تو مجھ کو اللہ اور اس کے رسول کا خواہ سمجھتا ہے (یا نہیں ) جب بھی اس نے جواب نہ دیا ۔میں نے پھر قسم دے کر دوبارہ یہی کہا ۔لیکن جواب نہ دیا ۔پھر تیسری بار قسم دے کر یہی کہا تو اس نے کہا اللہ اور رسول خوب جانتے ہیں۔بس اس وقت تو (مجھ سے رہا نہ گیا)میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور پیٹھ موڑ کر دیوار پر چڑھ کر وہاں سے چل دیا ۔میں ایک بار مدینہ کے بازار میں جارہاتھا اتنے میں ملک شام کا ایک (نصرانی)کسان ملا۔ جو مدینہ میں اناج بیچنے لایا تھا وہ کہہ رہا تھا ۔لوگو کعب بن مالک کو بتلاوٗ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اس نے غسان کے بادشاہ کا(جو نصرانی تھا)ایک خط مجھ کو دیا ۔مضمون یہ تھا مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تمھارے پیغمبر صاحبؑ نے تم پر ستم کیا ہے اللہ تعالیٰ نے تم کو ایسا ذلیل نہیں بنایا ہے ۔نہ بے کار(تم تو کام کے آدمی ہو )تم ہم لوگوں سے آن کر مل جاو ہم تمھاری خاطر مدارت خوب کریں گے ۔میں نے جب یہ خط پڑھا تو دل میں کہنے لگا۔ یہ ایک دوسری بلا ہوئی میں نے وہ خط لے کر آگ کے تندور میں جھونک دیا ۔ابھی پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزریں تھیں کہ رسول اللہﷺ کا پیغام لانے والا(خزیمہ بن ثابت)میرے پاس آیا کہنے لگا رسول اللہﷺکا یہ حکم ہے ۔تم اپنی جورو (عمیرہ بنت جبیر )سے بھی الگ رہو۔میں نے پوچھا کیا اس کو طلاق دے دوں یا کیسا کروں اس نے کہا نہیں اس سے الگ رہو صحبت وغیرہ نہ کرو۔ میرے دونوں ساتھیوں کو بھی یہی حکم ہے ۔آخر میں نے اپنی جورو سے کہہ دیا ۔نیک بخت تو اپنے کنبے والوں میں چلی جا ۔وہیں رہ جب تک اللہ میرا کچھ فیصلہ نہ کرے(وہ چلی گئی) کعب نے کہا ہلال بن امیّہ کی جورو (خولہ بنت عاصم )رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی۔یا رسول اللہ ہلال بن امیہ (میرا خاوند)بوڑھا پھونس ہے اگر میں اس کا کام کاج کرتی رہوں تو کیا آپؑ اس کو برا سمجھتے ہیں ۔آپؑ نے فرمایا نہیں (کام کاج کرنےمیں قباحت نہیں )پر وہ تجھ سے صحبت نہ کرے ۔اس نےکہا خدا کی قسم وہ تو کہیں چلتا پھرتا بھی نہیں ہے ۔جب سے یہ واقعہ ہوا ہے تب سے برابر رو دھو رہا ہے ۔آج تک وہ اسی حال میں ہے کعب نے کہا ۔مجھ سے بھی میرے بعض عزیزوں نے کہا تم اگر اپنی جورو کے باب میں رسول اللہﷺ سے اجازت مانگو (کہ وہ تمھاری خدمت کرتی رہے) تو مناسب ہے جیسے رسول اللہﷺ نے ہلال بن امیّہ کی جورو کو خدمت کی اجازت دی (تم کو بھی اجازت دیں گے) کعب نے کہا میں تو خداکی قسم کبھی اس باب میں رسول اللہﷺ سے اجازت نہیں مانگنے کا ۔کیونکہ مجھ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہﷺ کیا فرمائیں (اجازت دیں یا نہ دیں )میں جوان آدمی ہوں (ہلال کی طرح ضعیف اور ناتواں نہیں ہوں )خیر اس کے بعد دس راتیں اور گزریں ۔اب پچاس راتیں پوری ہو گئیں اس وقت سے جب سے آپؑ نے لوگو ں کو ہم سے کلام سلام کی ممانعت فرما دی تھی ۔پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ کر اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا تو جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا (وضاقت علیھم انفسھم)،میرا دل تنگ ،(زندگی تنگ)ہورہاتھا اور زمین اتنی کشادہ ہونے پر بھی تنگ ہوگئی تھی اتنے میں میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر پکار رہا تھا (یہ ابو بکر صدیق تھے )کعب بن مالک خوش ہو جا ۔یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا اور مجھ کو یقین ہو گیا ۔اب میری مشکل دور ہوئی اور رسول اللہﷺ نے فجر کی نماز کے بعد لوگوں کو خبرکر دی ۔کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا قصور معاف کر دیا اب لوگ خوش خبری دینے کو میرے پاس اور میرے دونوں ساتھیوں (مرارہ اور ہلال )کے پاس جانے لگے ایک شخص (زبیر بن عوام )گھوڑا کداتے ہوئے میرے پاس آئے اور اسلم قبیلے کاایک شخص دوڑتا ہوا پہاڑ پر چڑھ گیا ۔(حمزہ بن اسلمی) اور پہاڑ پر ۔کی ایک آواز گھوڑے سے جلد مجھ کو پہنچی خیر جب یہ خوش خبری کی آواز مجھ کو پہنچی میں نے (خوشی میں آن کر )کیا کِیا۔وہ کپڑے جو میرے پاس تھے وہ کپڑے اتار کر اس کو پہنا دئیے اس وقت کپڑوں کی َقسم سے میرے پاس یہی دو کپڑے تھے ۔اور میں نے (ابوقتادہ سے)دو کپڑے مانگ کر پہنے اور رسول اللہﷺ کے پاس چلا رستے میں فوج فوج لوگ مجھ سے ملتے جاتے اور مجھ کو مبارکبادی دیتے جاتے تھےاور کہتے تھے اللہ کی معافی تم کو مبارک ہو ۔کعب کہتے ہیں جب میں مسجد میں پہنچا دیکھا تو رسول اللہﷺ بیٹھے ہیں لوگ آپ کے گرد ہیں طلحہ بن عبیداللہ مجھ کو دیکھ کر دوڑ کر اٹھے اور مصافحہ کیا ۔مبارک باد دی خداکی قسم مہاجرین میں سے اور کسی نے اٹھ کر مجھ کو مبارک باد نہیں دی ۔میں طلحہ کا یہ احسان بھولنے والا نہیں کعب کہتے ہیں۔جب میں نے رسول اللہﷺ کو سلام کیا ۔میں نے دیکھا آپؑ کا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا ۔آپؑ نے فرمایا۔وہ دن تجھ کو مبارک ہوجو ان دنوں میں سب سے بہتر ہے ۔جب سے تیری ماں نے تجھ کو جنا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ معافی اللہ کی طرف سے ہوئی یا آپ کی طرف سے ، آپؑ نے فرمایا نہیں ۔اللہ کی طرف سے ہو ئی(اس نےخود معافی کا حکم اتارا) رسول اللہﷺ جب خوش ہوتے تو آپؑ کا چہرہ چاند کی طرح روشن ہو جاتا۔ ہم لوگ اس کو پہچان لیتے۔ خیر جب میں آپؑ کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ میں اپنی معافی کے شکریہ میں اپنا سارا مال خیرات کردوں ۔اللہ اور اللہ کے رسول کو دے دوں آپؑ نے فرمایا تھوڑا مال اپنے لئے بھی رہنے دے یہ تیرے حق میں بہتر ہے ۔میں نے عرض کیا بہت خوب خیبر میں جو میرا حصّہ ہے ۔میں وہ رہنے دیتا ہوں (باقی سب خیرات کردیتا ہوں ) پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے جو سچ بول دیا اس وجہ سے مجھ کو نجات ملی ۔اور میری توبہ میں یہ بھی ہے کہ اب میں جئے تک ہمیشہ سچ کہوں گا (کبھی جھوٹ نہیں بولنے کا )خداکی قسم میں نہیں سمجھتا کہ اللہ نے سچ بولنے کی وجہ کسی مسلمان پر اتنا فضل کیا ہو جتنا مجھ پر کیا ہے۔جب سے میں نے رسول اللہﷺ سے اس معاملہ میں سچ سچ عرض کردیا ۔اس وقت سے آج کے دن تک میں نے کبھی قصداً جھوٹ نہیں بولا۔ اور مجھ کو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ جیئے تک مجھ کو جھوٹ سے محفوظ رکھے گا ۔اللہ تعالیٰ نے سورہٗ توبہ کی یہ آیت اتاری ۔لَقَد تَّابَ اللہ عَلَی النَّبِّی والمُہَاجِرِینَ وَکُونُو مَعَ الصَّادِقِینَ تک خدا کی قسم میں تو اسلام کی ہدایت کے بعد اللہ تعالیٰ کا کوئی احسان اپنے اوپر اس سے بڑھ کر نہیں سمجھتا کہ اس نے رسول اللہﷺکے سامنے مجھ کو سچ بولنے کی توفیق دی۔ اور جھوٹ سے بچایا ۔اگر میں جھوٹ بولتا تو دوسرے لوگوں (منافقو ں )کی طرح تباہ ہو جاتا ۔جیسے وہ تباہ ہوئے ۔اللہ تعالیٰ نے ان جھوٹوں کے لئے برا لفظ اتارا۔کہ ویسا برا کسی کے لئے نہیں اتارا فرمایا۔اب جب تم لوٹ کر آئے تو یہ لوگ اللہ کی (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے۔اخیر آیت فَاِن اللہ لا یرضیٰ عن القَومِ الفَاسِقِینَ تک کعب نے کہا ۔ہم تینوں آدمیوں کا حکم ملتوی رکھا گیا اور ان لوگوں کا مقدمہ جنہوں نے جھوٹی قسمیں کھائیں تھیں فیصل ہو گیا ۔رسول اللہﷺ نے ان سے بیعت لی۔ ان کے واسطےدعا کی ۔اور ہمارے مقدمہ کو ڈھیل میں ڈال دیا ۔اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری معافی کا حکم اتارا۔اور اس آیت وَ عَلَی الثَّلاثَۃِالّذِینَ خُلِّفُوا میں خُلِّفُواسے یہی مراد ہے کہ ہمارا مقدمہ ملتوی رکھا گیا اور ہم ڈھیل میں ڈال دئیے گئے ۔یہ نہیں مراد ہے کہ جہاد سے پیچھے رہ گئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے پیچھے رہے جنہوں نے قسمیں کھا کر عذر بیان کئے ۔اور آپﷺنے ان کے عذر قبول کر لئے ۔