51. باب مَنْزِلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّهُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، قَالَتْ لَمْ أَرَهُ صَلَّى صَلاَةً أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ.
Narrated By Ibn Laila : None informed us that he saw the Prophet offering the Duha (i.e. forenoon) prayer, except Um Ham who mentioned that the Prophet took a bath in her house on the day of the Conquest (of Mecca) and then offered an eight Rakat prayer. She added, "I never saw the Prophet offering a lighter prayer than that prayer, but he was performing perfect bowing and prostrations."
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عمر و بن مرہ سے انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کہا ہم سے تو یہ کسی نے بیان نہیں کیا کہ اس نے نبیﷺ کو اشراق کی نماز پڑھتے دیکھا بس ایک ام ہانی نے بیان کیا کہ آپﷺ نے فتح مکہ کے دن انکے گھر غسل کیا ۔ اور اشراق کی آٹھ رکعتیں پڑھیں ام ہانی کہتی ہیں میں نے آپﷺ کو اتنی ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا یہ تو تھا کہ آپﷺ رکوع اور سجدہ پوری طرح ادا کرتے (باقی قرأت بہت مختصر کی)۔
52. باب
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ".
Narrated Aishah(RA): The Prophet(s.a.w) used to say in his bowings and prostrations , "Subhanaka Allahumma Rabbana wa bihamdika , Allahumma ighfirli (Glorified be You, O Allah, Our Lord! All the praises are for you. O Allah, forgive me)! "
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے منصور بن معتمر سے انہوں نے ابو الضحٰی سے انہوں نے مسروق سے انہوں نے عائشہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں یہ فرماتے تھے سبحانک اللّٰھم ربّنا و بحمدک اللّٰھم اغفرلی
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِمَ تُدْخِلُ هَذَا الْفَتَى مَعَنَا، وَلَنَا أَبْنَاءٌ مِثْلُهُ فَقَالَ إِنَّهُ مِمَّنْ قَدْ عَلِمْتُمْ. قَالَ فَدَعَاهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ، وَدَعَانِي مَعَهُمْ قَالَ وَمَا رُئِيتُهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلاَّ لِيُرِيَهُمْ مِنِّي فَقَالَ مَا تَقُولُونَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ * وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ} حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ أُمِرْنَا أَنْ نَحْمَدَ اللَّهَ وَنَسْتَغْفِرَهُ، إِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَيْنَا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ نَدْرِي. أَوْ لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ شَيْئًا. فَقَالَ لِي يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَكَذَاكَ تَقُولُ قُلْتُ لاَ. قَالَ فَمَا تَقُولُ قُلْتُ هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ اللَّهُ لَهُ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} فَتْحُ مَكَّةَ، فَذَاكَ عَلاَمَةُ أَجَلِكَ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا} قَالَ عُمَرُ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ.
Narrated By Ibn Abbas : 'Umar used to admit me (into his house) along with the old men who had fought in the Badr battle. Some of them said (to 'Umar), "Why do you allow this young man to enter with us, while we have sons of his own age? " 'Umar said, "You know what person he is." One day 'Umar called them and called me along with them, I had thought he called me on that day to show them something about me (i.e. my knowledge). 'Umar asked them, "What do you say about (the Sura): "When comes the help of Allah and the Conquest (of Mecca) And you see mankind entering the Religion of Allah (i.e. Islam) in crowds. 'So celebrate the Praises Of your Lord and ask for His forgiveness, Truly, He is the One Who accepts repentance and forgives." (110.1-3)
Some of them replied, "We are ordered to praise Allah and repent to Him if we are helped and granted victory." Some said, "We do not know." Others kept quiet. 'Umar then said to me, "Do you say similarly?" I said, "No." 'Umar said "What do you say then?" I said, "This Verse indicates the approaching of the death of Allah's Apostle of which Allah informed him. When comes the help of Allah and the Conquest, i.e. the Conquest of Mecca, that will be the sign of your Prophet's) approaching death, so testify the uniqueness of your Lord (i.e. Allah) and praise Him and repent to Him as He is ready to forgive." On that, 'Umar said, "I do not know about it anything other than what you know."
ہم سےابو النعمان نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے انہوں نے ابو بشر سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا حضرت عمرؓ ان بوڑھے صحابہ کے ساتھ جو بدر کی جنگ میں شریک تھے مجھ کو بھی اپنے پاس بلایا کرتے اس پر بعضے لوگ کہنے لگے آپﷺ اس جوان کو ہم لوگوں کے ساتھ کیوں بلاتے ہیں اسکے برابر تو اللہ رکھے ہمارے بیٹے ہیں انہوں نے کہا یہ ان لوگوں میں ہے جنکا علم وفضل تم جانتے ہو خیر ایک دن ایسا ہواحضرت عمرؓ نے ان لوگوں کی یاد کی ( یعنی بوڑھے صحابہ کی) مجھ کو بھی ان کے ساتھ بلا لیا میں سمجھتا ہوں کہ حضرت عمرؓ میرا علم ان کو بتلائیں گے۔اس لیے مجھ کو ان کے ساتھ بلایا ہے آخر انہوں نے ان صحابہ سے پوچھا یہ جو سورت ہے اذا جآء نصر اللہ والفتح ورأیت الناس یدخلون اخیر تک پڑھ ڈ الی اسکا کیا مطلب ہے انہوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ جب ہم کو اللہ کی طرف سے مدد ملے اور فتح ہو تو ہم اللہ کی تعریف کریں اس سے بخشش چاہیں ۔ بعضوں نے کہا ہم نہیں جانتے کیا مطلب ہے بعضوں نے کچھ جواب ہی نہیں دیا (سکوت کیا) اسوقت انہوں نے کہا تو پھر کیا مطلب ہے میں نے کہا اس سورت میں اللہ جل جلالہ نے اپنےرسول اللہﷺ کو یہ بتلایا کہ اب تمہاری وفات کا زمانہ آن پہنچا ہے فتح سے مراد مکہ کی فتح ہے مکہ کا فتح ہونا تمہاری عمر تمام ہونے کی نشانی ہے اب تم اللہ کی طرف اس کی پاکی بیان کرو اس سے بخشش چاہو وہ بڑا معاف کرنے والا ہے حضرت عمرؓ نے کہا ہاں بے شک میں بھی یہی مطلب سمجھتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهْوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْغَدَ يَوْمَ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَاىَ، حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، لاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ. وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ". فَقِيلَ لأَبِي شُرَيْحٍ مَاذَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو قَالَ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الْحَرَمَ لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ، وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ.
Narrated By Abu Shuraih : Al-Adawi that he said to 'Amr bin Said while the latter was sending troops in batches to Mecca, "O chief! Allow me to tell you a statement which Allah's Apostle said on the second day of the Conquest of Mecca. My two ears heard it and my heart remembered it and my two eyes saw him when he said it. He (i.e. the Prophet) praised Allah and then said, 'Mecca has been made a sanctuary by Allah and not by the people, so it is not lawful for a person, who believes in Allah and the Last Day to shed blood in it, or to cut its trees and if someone asks the permission to fight in Mecca because Allah's Apostle was allowed to fight in it, say to him; Allah permitted His Apostle and did not allow you, and even he (i.e. the Apostle) was allowed for a short period of the day, and today its (Mecca's sanctity has become the same as it was before (of old) so those who are present should inform those who are absent (this Hadith)." Then Abu Shuraih, was asked, "What did 'Amr say to you? Abu Shuraih said, "He said, "I knew that better than you, O Abu Shuraih! The Haram (i.e. Mecca) does not give refuge to a sinner or a fleeing murderer or a person running away after causing destruction."
ہم سے سعید بن شرحبیل نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے سعید مقبری سے انہوں نے ابو شریح عدوی سے انہوں نے عمرو بن سعید سے ( جو یزید پلید کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا) کہا وہ مکہ پر فوجیں روانہ کر رہا تھا اے امیر میں تجھ سے ایک حدث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہﷺ نے جس دن مکہ فتح ہوا اس کی صبح کو ارشاد فرمائی تھی میرے کانوں نے خود اس کو سنا اور میرے دل نے اسکو یاد رکھا میں نے آپﷺ کو یہ حدیث فرماتے وقت اپنی آنکھوں سے دیکھا آپﷺ نے اللہ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا ( لوگو) مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے لوگوں نے نہیں کیا جو کوئی اللہ اور پچھلے دن پر یقین رکھتاہو اسکو وہاں خون بہانایا وہاں کا درخت کاٹنا درست نہیں اگر کوئی ( میرے بعد) یہ دلیل پکڑے کہ اللہ کےرسول ﷺ نے تو مکہ میں لڑائی کی اس کو یوں جواب دو کہ اللہ نے اپنے پیغمبرﷺ کو اس کی اجازت دی تم نے تو اجازت نہیں دی اور دیکھو مجھ کو بھی جو وہاں لڑنے کی اجازت ہوئی تو دن کو ایک گھڑی بھر کے لیے پھر آج اسکی حرمت ویسے ہی ہوگی جیسے کل تھی جو لوگ حاضر ہیں وہ اس کی خبر ان کو کر دیں جو حاضر نہیں ہیں لوگوں نے ابو شریح سے پوچھا یہ تو کہو کہ عمرو بن سعید( مردود )نے جواب کیا دیا انہوں نے کہا یوں کہنے لگا ابو شریح میں تجھ سے بڑھ کر یہ مسئلہ جانتا ہوں حرم اس شخص کو پناہ نہیں دیتا جو مجرم ہو یا خون یا خرابہ کر کے بھاگ آیا ہو امام بخاری نے کہا حدیث میں جو خربہ کا لفظ ہے اس کا معنی بلاء(یا چوری ہے) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهْوَ بِمَكَّةَ " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ ".
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : That he heard Allah's Apostle saying in the year of the Conquest (of Mecca) while he was in Mecca, "Allah and His Apostle have made the selling of wine (i.e. alcoholic drinks) unlawful."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سےلیث بن سعد نے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے انہوں نے عطا ء بن ابی رباح سے انہوں نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپﷺ جس سال مکہ فتح ہوا فرماتے تھے کہ اللہ اور اسکے رسولﷺ نے شراب بیچنا حرام کیا ۔
53. باب مَقَامُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ زَمَنَ الْفَتْحِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،. حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَقَمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَشْرًا نَقْصُرُ الصَّلاَةَ.
Narrated By Anas : We stayed (in Mecca) for ten days along with the Prophet and used to offer shortened prayers (i.e. journey prayers).
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے دوسری سند ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے انہوں نے انسؓ سےانہوں نے کہا ہم( مکہ میں ) نبیﷺ کے ساتھ دس دن ٹھہرے اور نماز کا قصر کرتےر ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.
Narrated By Ibn Abbas : The Prophet stayed in Mecca for 19 days during which he prayed 2 Rakat in each prayer.
ہم سےعبدان نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو عاصم احول نے انہوں نے عکرمہ سےانہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ انیس دن تک مکہ میں رہے دو دو رکعتیں پڑھتے رہے (یعنی قصر کرتے رہے) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقَمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ تِسْعَ عَشْرَةَ نَقْصُرُ الصَّلاَةَ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ نَقْصُرُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَ عَشْرَةَ، فَإِذَا زِدْنَا أَتْمَمْنَا.
Narrated By 'Ikrima : Ibn 'Abbas said, "We stayed for 19 days with Prophet on a journey during which we used to offer shortened prayers." Ibn 'Abbas added, "We offer the Qasr prayer (i.e. shortened prayer) If we stay up to 19 days as travellers, But if we stay longer, we offer complete prayers."
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا کہا ہم سے ابو شہاب (عبدربن نافع) نے انہوں نے عاصم احول سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا ہم ایک سفر ( فتح مکہ ) میں نبیﷺ کے ساتھ انیس دن تک ٹھہرے رہے نماز کا قصر کرتے رہے ابن عباسؓ نے کہا ہم انیس دن تک جب کہیں ٹھہرتے ہیں تو قصر کرتے رہتے ہیں انیس دن سے زیادہ ٹھہریں تو نماز پوری پڑھتے ہیں ۔
54. باب
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم قَدْ مَسَحَ وَجْهَهُ عَامَ الْفَتْحِ.
Narrated 'Abdullah bin Thalaba bin Suair whos face was rubbed bythe Prophet(s.a.w) during the year of the conquest(of Makkah).
اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے یونس نے بیان کیا انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر نے خبر دی کہ نبیﷺ نے جس سال مکہ فتح ہوا ان کے منہ پر (شفقت کی راہ سے) ہاتھ پھیرا تھا۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُنَيْنٍ أَبِي جَمِيلَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا وَنَحْنُ، مَعَ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ وَزَعَمَ أَبُو جَمِيلَةَ أَنَّهُ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، وَخَرَجَ مَعَهُ عَامَ الْفَتْحِ.
Narrated By Az-Zuhri : While we were in the company of the Ibn Al-Musaiyab, Sunain Abi Jamila informed us (a Hadith), Abu Jamila said that he lived during the lifetime of the Prophet and that he had accompanied him (to Mecca) during the year of the Conquest (of Mecca).
مجھ سے ابرا ہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی انہوں نے معمر بن راشد سے انہوں نے زہری سے انہوں نے سنین ابو جمیلہ سے زہری نے کہا ابو جمیلہ نےیہ حدیث ہم سے اسوقت بیان کی جب ہم سعید بن مسیب کے ساتھ تھے وہ کہتے تھے ابو جمیلہ یہ کہتے تھے کہ انہوں نےنبیﷺ کو دیکھا تھا جس سال مکہ فتح ہوا آپﷺ کے ساتھ گئے تھے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ، قَالَ قَالَ لِي أَبُو قِلاَبَةَ أَلاَ تَلْقَاهُ فَتَسْأَلَهُ، قَالَ فَلَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كُنَّا بِمَاءٍ مَمَرَّ النَّاسِ، وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ فَنَسْأَلُهُمْ مَا لِلنَّاسِ مَا لِلنَّاسِ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُونَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ أَوْحَى إِلَيْهِ، أَوْ أَوْحَى اللَّهُ بِكَذَا. فَكُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلاَمَ، وَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي، وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلاَمِهِمِ الْفَتْحَ، فَيَقُولُونَ اتْرُكُوهُ وَقَوْمَهُ، فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهْوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ. فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ أَهْلِ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلاَمِهِمْ، وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلاَمِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَقًّا فَقَالَ " صَلُّوا صَلاَةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَصَلُّوا كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا ". فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، لِمَا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، وَأَنَا ابْنُ سِتٍّ أَوْ سَبْعِ، سِنِينَ وَكَانَتْ عَلَىَّ بُرْدَةٌ، كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَىِّ أَلاَ تُغَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ. فَاشْتَرَوْا فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا، فَمَا فَرِحْتُ بِشَىْءٍ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ.
Narrated By 'Amr bin Salama : We were at a place which was a thoroughfare for the people, and the caravans used to pass by us and we would ask them, "What is wrong with the people? What is wrong with the people? Who is that man?. They would say, "That man claims that Allah has sent him (as an Apostle), that he has been divinely inspired, that Allah has revealed to him such-and-such." I used to memorize that (Divine) Talk, and feel as if it was inculcated in my chest (i.e. mind) And the 'Arabs (other than Quraish) delayed their conversion to Islam till the Conquest (of Mecca). They used to say." "Leave him (i.e. Muhammad) and his people Quraish: if he overpowers them then he is a true Prophet. So, when Mecca was conquered, then every tribe rushed to embrace Islam, and my father hurried to embrace Islam before (the other members of) my tribe. When my father returned (from the Prophet) to his tribe, he said, "By Allah, I have come to you from the Prophet for sure!" The Prophet afterwards said to them, 'Offer such-and-such prayer at such-and-such time, and when the time for the prayer becomes due, then one of you should pronounce the Adhan (for the prayer), and let the one amongst you who knows Qur'an most should, lead the prayer." So they looked for such a person and found none who knew more Qur'an than I because of the Qur'anic material which I used to learn from the caravans. They therefore made me their Imam ((to lead the prayer) and at that time I was a boy of six or seven years, wearing a Burda (i.e. a black square garment) proved to be very short for me (and my body became partly naked). A lady from the tribe said, "Won't you cover the anus of your reciter for us?" So they bought (a piece of cloth) and made a shirt for me. I had never been so happy with anything before as I was with that shirt.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے عمرو بن سلمہ سے ایوب نے کہا مجھ سے ابو قلابہ نے کہا کہ عمرو بن سلمہ سے ملو ان سے (یہ قصہ) پوچھو ایوب نےکہا میں عمرو بن سلمہ سے ملا ان سے پوچھا انہوں نے کہا ہم پانی کے مقام پر رہا کرتے تھے ادہر سے مسافر سوار گزرا کرتے تھے ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہو لوگوں کا کیا حال ہے اس شخص( یعنی پیغمبر صاحب) کی کیا کیفیت ہے وہ کہتے یہ شخص تو دعوے کرتا ہے کہ اللہ نے اسکو بھیجا ہے اللہ اس پر وحی اتارتا ہے یا یوں کہا کہ اللہ نے اس پر یہ یہ وحی بھیجی ہے ( قرآن کی آیتیں سناتے) میں اس کو یاد کر لیتا جیسے کوئی میرے سینے میں جما دیتا عرب لوگ مسلمان ہو جانے میں مکہ کی فتح کے منتظر تھے وہ کہتے تھے ابھی(خاموش رہو )دیکھو اس شخص کی اپنی قوم قریش سے کیسے گزرتی ہے اگر ان پر غالب آیا تب وہ سچاپیغمبر ہے پھر جب مکہ فتح ہو گیا ( قریش مغلوب ہو گئے ) تو ہر ایک قوم نے چاہا پہلے وہ مسلمان ہو جائے میرے باپ نے بھی اپنی قوم سمیت مسلمان ہونے میں جلدی کی جب وہ ( نبیﷺکے پاس ہو کر ) آیا تو کہنے لگا خدا کی قسم میں سچے پیغمبر سے مل کر تمہارے پاس آرہا ہوں آپﷺ نے یہ فرمایا فلاں نماز فلاں وقت پڑھو اور فلاں نماز فلاں وقت پر اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان دے اور جس کو زیادہ قرآن یاد ہو وہ نماز پڑھائے (امام بنے)میری قوم والوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ کسی کو قرآن یاد نہ تھا کیونکہ میں مسافر سواروں سے سن سن کر بہت یاد کر چکا تھا آخر انہوں نے مجھ کوہی امام بنایا اس وقت میری عمر چھ سات برس کی تھی ایسا ہوا اس وقت میرے تن پر صرف ایک چادر تھی وہ (بھی ایسی چھوٹی) جب میں سجدہ کرتا تو سمٹ کر رہ جاتی (میرا ستر کھل جاتا ) ہماری قوم کی ایک عورت (یہ حال دیکھ کر ) لوگوں سے کہنے لگی اپنے امام چوتڑ تو ڈھانکو ۔ انہوں نے ایک کرتا میرے لیے بنوایا ( قطع کرایا) میں اس سے اتنا خوش ہوا کہ ویسا کسی چیز سے خوش نہیں ہوا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنْ يَقْبِضَ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، وَقَالَ عُتْبَةُ إِنَّهُ ابْنِي. فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ فِي الْفَتْحِ أَخَذَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَأَقْبَلَ مَعَهُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ هَذَا ابْنُ أَخِي، عَهِدَ إِلَىَّ أَنَّهُ ابْنُهُ. قَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَخِي، هَذَا ابْنُ زَمْعَةَ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَإِذَا أَشْبَهُ النَّاسِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ لَكَ، هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ". مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ". لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ". وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَصِيحُ بِذَلِكَ.
Narrated By 'Aisha : Utba bin Abi Waqqas authorized his brother Sad to take the son of the slave-girl of Zam'a into his custody. 'Utba said (to him). "He is my son." When Allah's Apostle arrived in Mecca during the Conquest (of Mecca), Sad bin Abi Waqqas took the son of the slave-girl of Zam'a and took him to the Prophet 'Abd bin Zam'a too came along with him. Sad said. "This is the son of my brother and the latter has informed me that he is his son." 'Abd bin Zam'a said, "O Allah's Apostle! This is my brother who is the son of the slave-girl of Zam'a and was born on his (i.e. Zam'as) bed.' Allah's Apostle looked at the son of the slave-girl of Zam'a and noticed that he, of all the people had the greatest resemblance to 'Utba bin Abi Waqqas. Allah's Apostle then said (to 'Abd), " He is yours; he is your brother, O 'Abd bin Zam'a, he was born on the bed (of your father)." (At the same time) Allah's Apostle said (to his wife Sauda), "Veil yourself before him (i.e. the son of the slave-girl) O Sauda," because of the resemblance he noticed between him and Utba bin Abi Waqqas. Allah's Apostle added, "The boy is for the bed (i.e. for the owner of the bed where he was born), and stone is for the adulterer." (Ibn Shihab said, "Abu Huraira used to say that (i.e. the last statement of the Prophet in the above Hadith, publicly.")
مجھ سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ بن زبیرؓ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے،دوسری سند اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے یونس نے بیان کیا انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو عروہ بن زبیرؓ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ نے کہا عتبہ بن ابی وقاص نے (جو کافر مراتھا) اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو مرتے وقت یہ وصیت کی کہ زمعہ بن قیس کی لونڈی کا جو بچہ ہے اس کو لے لینا وہ میرا بیٹا ہےجب رسول اللہﷺ فتح مکہ میں مکّے تشریف لائے تو سعد اس بچے کو لے کر نبیﷺ کے پاس آئے ان کے ساتھ ہی عبد بن زمعہ بھی آیا سعد نے عرض کیا (یارسول اللہ) یہ میرے بھائی (عتبہ )کا بیٹا ہے وہ وصیت کر گیا تھا کہ یہ میرا بیٹا ہے عبد بن زمعہ نے عرض کیا یارسولﷺ یہ میرا بھائی ہے۔میرے باپ زمعہ کا بیٹا ہے ان کی لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے آپﷺ نے اس بچہ کو دیکھا ۔تو سب لوگوں نے اس کی صورت عتبہ بن ابی وقاص سے ملتی ہوئی پائی (جس سے یہ گمان ہوا کہ عتبہ کا نطفہ ہے) مگر رسول اللہﷺ نے عبد بن زمعہ سے فرمایا ۔ تو ہی اس بچے کو رکھ وہ تیرا بھائی ہے تیرے باپ کی لونڈی سے پیدا ہواہے لیکن اس کی صورت عتبہ سے ملتی ہے تو آپﷺ نے ام المو منین سودہ بنت زمعہ سے فرمایا تم اس سے پردہ کرو (حالانکہ وہ اس کا بھائی ہو ا) ابن شہاب نے کہا حضرت عائشہ نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ لڑکا اسی کاہوتا ہے جس کی جو رو یالونڈی کے پیٹ سے پیدا ہوا اور حرام کار کی سزا پتھروں سے مار ڈالنا ہے ابن شہاب نے کہا ابو ہریرہؓ اس حدیث کو پکار پکار کر بیان کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ امْرَأَةً، سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، فَفَزِعَ قَوْمُهَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يَسْتَشْفِعُونَهُ، قَالَ عُرْوَةُ فَلَمَّا كَلَّمَهُ أُسَامَةُ فِيهَا تَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَتُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ". قَالَ أُسَامَةُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطِيبًا، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ النَّاسَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمِ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ". ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، فَقُطِعَتْ يَدُهَا، فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ وَتَزَوَّجَتْ. قَالَتْ عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By 'Urwa bin Az-Zubair : A lady committed theft during the lifetime of Allah's Apostle in the Ghazwa of Al-Fath, ((i.e. Conquest of Mecca). Her folk went to Usama bin Zaid to intercede for her (with the Prophet). When Usama interceded for her with Allah's Apostle, the colour of the face of Allah's Apostle changed and he said, "Do you intercede with me in a matter involving one of the legal punishments prescribed by Allah?" Usama said, "O Allah's Apostle! Ask Allah's Forgiveness for me." So in the afternoon, Allah's Apostle got up and addressed the people. He praised Allah as He deserved and then said, "Amma ba'du ! The nations prior to you were destroyed because if a noble amongst them stole, they used to excuse him, and if a poor person amongst them stole, they would apply (Allah's) Legal Punishment to him. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if Fatima, the daughter of Muhammad stole, I would cut her hand." Then Allah's Apostle gave his order in the case of that woman and her hand was cut off. Afterwards her repentance proved sincere and she got married. 'Aisha said, "That lady used to visit me and I used to convey her demands to Allah's Apostle."
ہم محمد بن مقاتل نے بیان کیا کہا ہم کو عبد اللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو یونس نے انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ ایک عورت (فاطمہ مخزومیہ ) نے غزوۂ فتح میں (زیور کی) چوری کی رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اس کی قوم والے اسامہ بن زید کے پاس گئے چاہتے تھے کہ وہ آپﷺ سے سفارش کریں( اسکا ہاتھ نہ کاٹا جائے ) عروہ نے کہا جب اسامہ نے رسول اللہﷺ سے یہ سفارش کی توغصہ سے آپﷺ کے چہرے(مبارک ) کارنگ بدل گیا آپﷺ نے فرمایا ( اسامہ) تو اللہ کی مقرر کی ہوئی سزاؤں میں سفارش کرتا ہےاسامہ نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے لیے دعا کیجئےاللہ مجھے بخش دے (میری خطا معاف کرے) جب شام ہوئی آپﷺ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ پہلے اللہ کی جیسی چاہئے۔ ویسی تعریف کی پھر فرمایا امابعد ۔ تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے تباہ ہوگئے۔ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے (سزا نہ دیتے)اور جب کوئی غریب آدمی چوری کرتا ۔ تو اسکو (فوراً سزا دیتے ) قسم اس پرور دگار کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے اگرفاطمہ محمدﷺ کی بیٹی بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں ۔ آخر رسول اللہﷺ نے حکم دیا اس عورت (فاطمہ مخزومیہ ) کاہاتھ کاٹا گیا اس کے بعد اس نے اچھی طرح توبہ کی اور (بنی سلیم کے ایک شخص سے) نکاح کرلیا حضرت عائشہؓ کہتی ہیں پھر وہ عورت اس کے بعد میرے پاس آیا کرتی میں اسکا جو کام ہوتا وہ رسول اللہﷺ سے عرض کردیتی۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاشِعٌ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَخِي بَعْدَ الْفَتْحِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ. قَالَ " ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا ". فَقُلْتُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ " أُبَايِعُهُ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالإِيمَانِ وَالْجِهَادِ ". فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ بَعْدُ وَكَانَ أَكْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ.
Narrated By Majashi : I took my brother to the Prophet after the Conquest (of Mecca) and said, "O Allah's Apostle! I have come to you with my brother so that you may take a pledge of allegiance from him for migration." The Prophet said, The people of migration (i.e. those who migrated to Medina before the Conquest) enjoyed the privileges of migration (i.e. there is no need for migration anymore)." I said to the Prophet, "For what will you take his pledge of allegiance?" The Prophet said, "I will take his pledge of allegiance for Islam, Belief, and for Jihad (i.e. fighting in Allah's Cause)"
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے کہا ہم سے عاصم بن سلیمان نے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے کہا مجھ سے مجاشع بن مسعود نے بیان کیا انہوں نے کہا میں اپنے بھائی (مجالد) کو فتح مکہ کے بعد نبیﷺ کے پاس لے کر آیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے بھائی کو اس لیے لایا ہوں کہ آپﷺ اس سے ہجرت پر بیعت لیجئے آپﷺ نے فرمایا ہجرت کا ثواب تو ہجرت والے لے چکے (یعنی اب ہجرت کا زمانہ گزر گیا) میں نے عرض کیا پھر آپﷺکس بات پر اس سے بیعت لیں گے آپﷺ نے فرمایا اسلام اور ایمان اور جہاد پر ابو عثمان نہدی نے کہا ۔ جب میں مجاشع سے یہ حدیث سن چکا تو اس کے بعد ابو معبد(مجالد) سے ملا ۔ وہ (دونوں بھائیوں میں)بڑا تھا میں نے اس سے بھی یہ حدیث پوچھی اس نے کہا مجاشع سچ کہتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاشِعٌ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَخِي بَعْدَ الْفَتْحِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ. قَالَ " ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا ". فَقُلْتُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ " أُبَايِعُهُ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالإِيمَانِ وَالْجِهَادِ ". فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ بَعْدُ وَكَانَ أَكْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ.
Narrated By Majashi : I took my brother to the Prophet after the Conquest (of Mecca) and said, "O Allah's Apostle! I have come to you with my brother so that you may take a pledge of allegiance from him for migration." The Prophet said, The people of migration (i.e. those who migrated to Medina before the Conquest) enjoyed the privileges of migration (i.e. there is no need for migration anymore)." I said to the Prophet, "For what will you take his pledge of allegiance?" The Prophet said, "I will take his pledge of allegiance for Islam, Belief, and for Jihad (i.e. fighting in Allah's Cause)"
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے کہا ہم سے عاصم بن سلیمان نے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے کہا مجھ سے مجاشع بن مسعود نے بیان کیا انہوں نے کہا میں اپنے بھائی (مجالد) کو فتح مکہ کے بعد نبیﷺ کے پاس لے کر آیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے بھائی کو اس لیے لایا ہوں کہ آپﷺ اس سے ہجرت پر بیعت لیجئے آپﷺ نے فرمایا ہجرت کا ثواب تو ہجرت والے لے چکے (یعنی اب ہجرت کا زمانہ گزر گیا) میں نے عرض کیا پھر آپﷺکس بات پر اس سے بیعت لیں گے آپﷺ نے فرمایا اسلام اور ایمان اور جہاد پر ابو عثمان نہدی نے کہا ۔ جب میں مجاشع سے یہ حدیث سن چکا تو اس کے بعد ابو معبد(مجالد) سے ملا ۔ وہ (دونوں بھائیوں میں)بڑا تھا میں نے اس سے بھی یہ حدیث پوچھی اس نے کہا مجاشع سچ کہتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ " مَضَتِ الْهِجْرَةُ لأَهْلِهَا، أُبَايِعُهُ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ ".
فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ. وَقَالَ خَالِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ مُجَاشِعٍ أَنَّهُ جَاءَ بِأَخِيهِ مُجَالِدٍ.
Narrated By Mujashi bin Masud : I took Abu Mabad to the Prophet in order that he might give him the pledge of allegiance for migration. The Prophet said, "Migration has gone to its people, but I take the pledge from him (i.e. Abu Mabad) for Islam and Jihad."
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے کہا ہم سے عاصم بن سلیمان نے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے مجاشع بن مسعود سے انہوں نے کہا ۔ میں (اپنے بھائی) ابو معبد کو ہجرت پر بیعت کرانے کو نبیﷺ کے پاس لے گیا آپﷺ نے فرمایا ہجرت کا زمانہ تو مہاجرین کے لیے گزر چکا ۔ البتہ میں اسلام اور جہاد پر اس سے بیعت لوں گا ابو عثمان کہتے ہیں اس کے بعد میں ابو سعید سے ملا ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا مجاشع سچ کہتا ہے کہ اور خالد حذاء نے بھی اس حدیث کو ابو عثمان سے روایت کیا انہوں نےمجاشع سے کہ وہ اپنے بھائی مجالد کو لے کر آئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ " مَضَتِ الْهِجْرَةُ لأَهْلِهَا، أُبَايِعُهُ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ ".
فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ. وَقَالَ خَالِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ مُجَاشِعٍ أَنَّهُ جَاءَ بِأَخِيهِ مُجَالِدٍ.
Narrated By Mujashi bin Masud : I took Abu Mabad to the Prophet in order that he might give him the pledge of allegiance for migration. The Prophet said, "Migration has gone to its people, but I take the pledge from him (i.e. Abu Mabad) for Islam and Jihad."
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے کہا ہم سے عاصم بن سلیمان نے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے مجاشع بن مسعود سے انہوں نے کہا ۔ میں (اپنے بھائی) ابو معبد کو ہجرت پر بیعت کرانے کو نبیﷺ کے پاس لے گیا آپﷺ نے فرمایا ہجرت کا زمانہ تو مہاجرین کے لیے گزر چکا ۔ البتہ میں اسلام اور جہاد پر اس سے بیعت لوں گا ابو عثمان کہتے ہیں اس کے بعد میں ابو سعید سے ملا ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا مجاشع سچ کہتا ہے کہ اور خالد حذاء نے بھی اس حدیث کو ابو عثمان سے روایت کیا انہوں نےمجاشع سے کہ وہ اپنے بھائی مجالد کو لے کر آئے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُهَاجِرَ إِلَى الشَّأْمِ. قَالَ لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ، فَانْطَلِقْ فَاعْرِضْ نَفْسَكَ، فَإِنْ وَجَدْتَ شَيْئًا وَإِلاَّ رَجَعْتَ
Narrated By Mujahid : I said to Ibn 'Umar, "I want to migrate to Sham." He said, "There is no migration, but Jihad (for Allah's Cause). Go and offer yourself for Jihad, and if you find an opportunity for Jihad (stay there) otherwise, come back."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابوالبشر سے انہوں نے مجاہد سے انہوں نے کہا میں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے کہا ۔ میں شام کے ملک کو ہجرت کرنا چاہتاہو ں انہوں نے کہا اب ہجرت کہاں رہی البتہ جہاد باقی ہے جاکر کوشش کر ۔ اگر جہاد مل گیا بہتر ورنہ لوٹ آ۔
وَقَالَ النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ فَقَالَ لاَ هِجْرَةَ الْيَوْمَ، أَوْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
(In an other narration) Ibn 'Umar said, "There is no migration today or after Allah's Apostle." (and completed his statement as above.)
اور نضر بن شمیل نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی کہا ہم کو ابو البشر نے کہا میں نے مجاہد سے سنا کہا میں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے کہا (میں شام کے ملک کو ہجرت کرناچاہتا ہوں ) انہوں نے کہا آج کے دن ہجرت کہاں ہے یا رسول اللہﷺ کے بعد پھر ہجرت کہاں رہی۔اگلی روایت کی طرح بیان کیا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يَقُولُ لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ.
Narrated By Mujahid bin Jabr : 'Abdullah bin 'Umar used to say, "There is no migration after the Conquest (of Mecca)."
مجھ سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن حمزہ نے کہا مجھ سے امام ابوعمرو اوزاعی نے انھوں نے عبدہ بن ابی لبابہ سے انھوں نے مجاہد بن جبر مکی سے کہ عبد اللہ بن عمرؓ کہتے تھے مکہ فتح ہوئے بعد پھر ہجرت نہیں رہی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ فَسَأَلَهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَتْ لاَ هِجْرَةَ الْيَوْمَ، كَانَ الْمُؤْمِنُ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الإِسْلاَمَ، فَالْمُؤْمِنُ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ.
Narrated By 'Ata' bin Abi Rabah : 'Ubaid bin 'Umar and I visited 'Aisha, and he asked her about the migration. She said, "There is no migration today. A believer used to flee with his religion to Allah and His Prophet for fear that he might be put to trial as regards his religion. Today Allah has rendered Islam victorious; therefore a believing one can worship one's Lord wherever one wishes. But there is Jihad (for Allah's Cause) and intentions."
ہم سے اسحق بن یزید نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن حمزہ نے کہا مجھ سے امام اوزعی نے انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے انہوں نے کہا میں عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہؓ کے پاس گیا عبید نے حضرت عائشہؓ سے ہجرت کا مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے کہا اب ہجرت نہیں رہی ہجرت تو یہ تھی کہ آدمی اپنا دین بچانے کے لئے رسول اللہﷺ کے پاس بھاگ آتا۔ اس کو یہ ڈر تھا کہیں آفت میں نہ پڑ جائے (کافر اس کو نہ ستائیں ) اب آج تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کردیا۔ اور مسلمان جہاں چاہے (وہاں رہ کر) اپنے پروردگار کی عبادت کر سکتا ہے۔ البتہ جہاد اور جہاد کی نیت کا ثواب باقی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، فَهْىَ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، وَلَمْ تَحْلِلْ لِي إِلاَّ سَاعَةً مِنَ الدَّهْرِ، لاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلاَ يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ ". فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلاَّ الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُ لاَ بُدَّ مِنْهُ لِلْقَيْنِ وَالْبُيُوتِ، فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ " إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلاَلٌ ". وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِ هَذَا أَوْ نَحْوِ هَذَا. رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By Mujahid : Allah's Apostle got up on the day of the Conquest of Mecca and said, "Allah has made Mecca a sanctuary since the day He created the Heavens and the Earth, and it will remain a sanctuary by virtue of the sanctity Allah has bestowed on it till the Day of Resurrection. It (i.e. fighting in it) was not made lawful to anyone before me!, nor will it be made lawful to anyone after me, and it was not made lawful for me except for a short period of time. Its game should not be chased, nor should its trees be cut, nor its vegetation or grass uprooted, not its Luqata (i.e. Most things) picked up except by one who makes a public announcement about it." Al-Abbas bin 'Abdul Muttalib said, "Except the Idhkhir, O Allah's Apostle, as it is indispensable for blacksmiths and houses." On that, the Prophet kept quiet and then said, "Except the Idhkhir as it is lawful to cut."
ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عاصم نبیل نے انہوں نے ابن جریج سے کہا مجھ کو حسن بن مسلم نے خبر دی انہوں نے مجاہد بن جبر سے کہ رسول اللہﷺ فتح مکہ کے دن (خطبہ سنانے کو) کھڑے ہوئے فرمایا اللہ نے جس دن آسمان اور زمین پیدا کئے اسی دن سے مکہ کو حرمت والا کیا وہ اللہ کی حرمت سے قیامت تک حرمت والا رہے گا۔ مجھ سے پہلے بھی کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا اور میرے لئے جو حلال ہوا تو ایک گھڑی کے لئے۔ وہاں کا جانور نہ چھیڑا جائے۔ وہا کا کانٹا (درخت) نہ کاٹا جائے۔ وہاں کی گھاس نہ چھیلی جائے۔ وہاں کی پڑی ہوئی چیز کوئی نہ اٹھائے مگر جو اس کے مالک کو ڈھونڈتا رہے۔ اس وقت حضرت عباسؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ مگر اذخر کی اجازت دیجئے۔ وہ لوہاروں اور گھروں کے لئے ضروری ہے آپﷺ خاموش ہو رہے۔ پھر فرمایا مگر اذخر کی اجازت ہے (اسکا کاٹنا درست ہے) دوسری روایت میں ابن جریج سے(اسی سند سے)ایسی ہی ہے۔ انہوں نے عبدالکریم بن مالک سے انہوں نے ابن عباسؓ سے اور ابوہریرہؓ نے بھی نبیﷺ سے ایسی ہی روایت کی ہے۔
55. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ } إِلَى قَوْلِهِ {غَفُورٌ رَحِيمٌ}
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، رَأَيْتُ بِيَدِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ضَرْبَةً، قَالَ ضُرِبْتُهَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ. قُلْتُ شَهِدْتَ حُنَيْنًا قَالَ قَبْلَ ذَلِكَ
Narrated By Ismail : I saw (a healed scar of) blow over the hand of Ibn Abi Aufa who said, "I received that blow in the battle of Hunain in the company of the Prophet." I said, "Did you take part in the battle of Hunain?" He replied, "Yes (and in other battles) before it."
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن ہارون نے کہا ہم کو اسمٰعیل بن ابی خالد نے خبر دی انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی (صحابی) کے ہاتھ پر مار کا نشان دیکھا وہ کہنے لگے یہ مار مجھ کو نبیﷺ کے ساتھ حنین کے دن لگی میں نے پوچھا حنین کی جنگ میں تم شریک تھے انہوں نے کہا میں اس سے پہلے بھی (لڑائیوں میں) شریک تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، رضى الله عنه وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عُمَارَةَ أَتَوَلَّيْتَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ لَمْ يُوَلِّ، وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ، فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ يَقُولُ {أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ}.
Narrated By Al-Bara' : When a man came and said to him, "O Abu 'Umara! Did you flee on the day (of the battle) of Hunain?" Al-Bara' replied, "I testify that the Prophet did not flee, but the hasty people hurried away and the people of Hawazin threw arrows at them. At that time, Abu Sufyan bin Al-Harith was holding the white mule of the Prophet by the head, and the Prophet was saying, "I am the Prophet undoubtedly: I am the son of 'Abdul-Muttalib."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے ابواسحٰق سے کہا میں نے براء سے سنا ان کے پاس ایک شخص (نام نا معلوم) آیا کہنے لگا۔ ابو عمارہ (یہ براء کی کنیت ہے) کیا تم حنین کے دن بھاگ نکلے تھے انہوں نے کہا میں تو یہ گواہی دیتا ہوں کہ نبیﷺ نہیں بھاگے ایسا ہوا کہ مسلمانوں میں چند جلد باز لوگ (لوٹ کا مال لینے کیلئے) بڑھے ہوازن کے لوگوں نے ان پر تیروں کی بوچھاڑ کی (وہ بڑے تیر انداز تھے) ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلبؓ آپﷺ کے نقرہ خچر کی باگ تھامے رہے۔ آپﷺ یہ فرماتے جاتے تھے
میں تو عبدالمطلب کا ہوں پسر ۔:۔ اور پیغمبر بلا خوف و خطر
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قِيلَ لِلْبَرَاءِ وَأَنَا أَسْمَعُ، أَوَلَّيْتُمْ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَمَّا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ، كَانُوا رُمَاةً فَقَالَ " أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ".
Narrated By Al-Bara' : He was asked while Abu Ishaq was listening, "Did you flee (before the enemy) along with the Prophet on the day of (the battle of) Hunain?" He replied, "As for the Prophet, he did not (flee). The enemy were good archers and the Prophet was saying, "I am the Prophet undoubtedly; I am the son of 'Abdul Muttalib."
ہم سے ابولولید نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابواسحٰق سے انہوں نے براء بن عازب سے سنا لوگوں نے ان سے پوچھا کیا تم حنین کے دن نبیﷺ کو چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے انھوں نے کہا نبیﷺ تو نہیں بھاگے تھے ۔ہوا یہ تھا کہ ہوازن کے لوگ بڑے تیر انداز تھے نبیﷺ نے فرمایا "میں تو عبدالمطلب کا ہوں پسر ، میں ہوں پیغمبر بلا خوف و خطر "
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعَ الْبَرَاءَ ـ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ ـ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَفِرَّ، كَانَتْ هَوَازِنُ رُمَاةً، وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمِ انْكَشَفُوا، فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ، فَاسْتُقْبِلْنَا بِالسِّهَامِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ آخِذٌ بِزِمَامِهَا وَهْوَ يَقُولُ {أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ}. قَالَ إِسْرَائِيلُ وَزُهَيْرٌ نَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَغْلَتِهِ.
Narrated By Al-Bara : When a man from Qais (tribe) asked him "Did you flee leaving Allah's Apostle on the day (of the battle) of Hunain?" Al-Bara' replied, "But Allah's Apostle did not flee. The people of Hawazin were good archers, and when we attacked them, they fled. But rushing towards the booty, we were confronted by the arrows (of the enemy). I saw the Prophet riding his white mule while Abu Sufyan was holding its reins, and the Prophet was saying "I am the Prophet undoubtedly." (Israil and Zuhair said, "The Prophet dismounted from his Mule.")
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابواسحاق سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے سنا۔ ان سے قیس قبیلے کے ایک شحص (نام نامعلوم) نے پوچھا کیا تم حنین کے دن رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے انہوں نے کہا (ہم تو خیر) مگر نبیﷺ نہیں بھاگے ۔ہوا یہ کہ ہوازن کے لوگ بڑے تیر انداز تھے۔ پہلے جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو ان کو شکست ہوئی۔ہم لوگ لوٹ کے مال پر جھک پڑے۔ ہوازن کے لوگوں نے سامنے آکر تیروں کی بوچھاڑ کی (ہم لوگ بھاگ کھڑے ہوئے)اور میں نے نبیﷺ کو دیکھا آپﷺ نقرہ خچر پر سوار تھے ابوسفیان بن حارث اسکی باگ تھامے ہوئے تھے آپﷺ یہ فرمارہے تھے میں ہوں پیغمبر نہیں کچھ جھوٹ ،اسرائیل اور زہیر کی روایت میں یوں ہے نبیﷺ اپنے خچر پر سے اترے اور (دعا مانگی)۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي لَيْثٌ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،. وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ،، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْىَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ ". وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُسْلِمِينَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ، حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا، فَلْيَفْعَلْ ". فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ". فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا. هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْىِ هَوَازِنَ.
Narrated By Marwan and Al-Miswar bin Makhrama : When the delegate of Hawazin came to Allah's Apostle declaring their conversion to Islam and asked him to return their properties and captives, Allah's Apostle got up and said to them, "There Is involved in this matter, the people whom you see with me, and the most beloved talk to me, is the true one. So choose one of two alternatives: Either the captives or the properties. I have been waiting for you (i.e. have not distributed the booty)." Allah's Apostle had delayed the distribution of their booty over ten nights after his return from Ta'if. So when they came to know that Allah's Apostle was not going to return to them but one of the two, they said, "We prefer to have our captives." So Allah's Apostle got up amongst the Muslims, and praising Allah as He deserved, said, "To proceed! Your brothers have come to you with repentance and I see (it logical) to return their captives. So, whoever of you likes to do that as a favour then he can do it. And whoever of you likes to stick to his share till we give him from the very first booty which Allah will give us, then he can do so." The people said, "We do that (i.e. return the captives) willingly as a favour, 'O Allah's Apostle!" Allah's Apostle said, "We do not know which of you have agreed to it and which have not; so go back and let your chiefs forward us your decision." They went back and their chief's spoke to them, and they (i.e. the chiefs) returned to Allah's Apostle and informed him that all of them had agreed (to give up their captives) with pleasure, and had given their permission (i.e. that the captives be returned to their people). (The sub-narrator said, "That is what has reached me about the captives of Hawazin tribe.")
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا کہا مجھ سے لیث بن سعد نے کہا مجھ سے عقیل نے انہوں نے ابن شہاب سے۔ دوسری سند :۔ مجھ سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے کہا ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب) نے محمد بن شہاب نے کہا عروہ بن زبیر نے بیان کیا ان سے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ نے انہوں نے کہا جب ہوازن کے ایلچی رسول اللہﷺ کے پاس آئے وہ مسلمان ہوگئے تھے (جنگ حنین کے بعد)اور انہوں نے آپﷺ سے یہ درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی واپس کر دیئے جائیں ۔ تو آپﷺ (خطبہ سنانے کو) کھڑے ہوئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم دیکھتے ہو میرے ساتھ کتنے لوگ ہیں اور دیکھو مجھے سچی بات بہت پسند ہے۔ تم ایک چیز اختیار کرلویا تو اپنے قیدی لے لو یا مال لے لو اور میں نے اسی خیال سے دیر کی تھی ۔رسول اللہﷺ کئی راتوں تک ان لوگوں کے منتظر رہے۔ جب طائف سے لوٹے (مال غنیمت تقسیم نہیں کیا) خیر جب ان کو معلوم ہو گیا کہ رسول اللہﷺ ان کو (دونوں چیزیں دینے والے نہیں) ایک ہی چیز دیں گے۔ تو کہنے لگے اچھا ہمارے قیدی واپس کر دیجئے (مال گیا تو گیا ) اس وقت رسول اللہﷺ مسلمانوں کو خطبہ سنانے کھڑے ہوئے پہلے جیسی چاہیے ویسی اللہ کی تعریف کی پھر فرمایا اَمّا بَعدُ تمہارے بھائی (ہوازن کے لوگ) توبہ کر کے آئے ہیں (مسلمان ہو کر) میں مناسب سمجھتا ہوں ان کے قیدی واپس کردوں جو کوئی خوشی سے ایسا کرے بہتر ہے اور جس کو پسند نہ ہو اس کا حق قائم رہے گا۔ اور سب سے پہلی لوٹ جو اللہ ہم کو دے گا۔ ہم اس میں سے اس کا معاوضہ ادا کردیں گے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم خوشی سے اس پر راضی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا(تم لوگ بہت ہو) معلوم نہیں کون راضی ہے کوں راضی نہیں۔ ایسا کرو اس وقت تو جاؤ اور تمہارے نقیب اپنے اپنے لوگوں سے دریافت کر کے ان کی رضا مندی کا حال ہم سے بیان کریں یہ سن کر لوگ چلے گئےان کے نقیبوں نے اس باب میں ان سے گفتگو کی پھر رسول اللہﷺ کے پاس آکر آپﷺ سے بیان کیا کہ وہ خوشی سے قیدی پھیر دینے پر راضی ہیں انہوں نے اجازت دی۔ ابن شہاب نے کہا ہوازن کے قیدیوں کا یہی حال ہم کو پہنچا ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي لَيْثٌ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،. وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ،، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْىَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ ". وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُسْلِمِينَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ، حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا، فَلْيَفْعَلْ ". فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ". فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا. هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْىِ هَوَازِنَ.
Narrated By Marwan and Al-Miswar bin Makhrama : When the delegate of Hawazin came to Allah's Apostle declaring their conversion to Islam and asked him to return their properties and captives, Allah's Apostle got up and said to them, "There Is involved in this matter, the people whom you see with me, and the most beloved talk to me, is the true one. So choose one of two alternatives: Either the captives or the properties. I have been waiting for you (i.e. have not distributed the booty)." Allah's Apostle had delayed the distribution of their booty over ten nights after his return from Ta'if. So when they came to know that Allah's Apostle was not going to return to them but one of the two, they said, "We prefer to have our captives." So Allah's Apostle got up amongst the Muslims, and praising Allah as He deserved, said, "To proceed! Your brothers have come to you with repentance and I see (it logical) to return their captives. So, whoever of you likes to do that as a favour then he can do it. And whoever of you likes to stick to his share till we give him from the very first booty which Allah will give us, then he can do so." The people said, "We do that (i.e. return the captives) willingly as a favour, 'O Allah's Apostle!" Allah's Apostle said, "We do not know which of you have agreed to it and which have not; so go back and let your chiefs forward us your decision." They went back and their chief's spoke to them, and they (i.e. the chiefs) returned to Allah's Apostle and informed him that all of them had agreed (to give up their captives) with pleasure, and had given their permission (i.e. that the captives be returned to their people). (The sub-narrator said, "That is what has reached me about the captives of Hawazin tribe.")
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا کہا مجھ سے لیث بن سعد نے کہا مجھ سے عقیل نے انہوں نے ابن شہاب سے۔ دوسری سند :۔ مجھ سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے کہا ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب) نے محمد بن شہاب نے کہا عروہ بن زبیر نے بیان کیا ان سے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ نے انہوں نے کہا جب ہوازن کے ایلچی رسول اللہﷺ کے پاس آئے وہ مسلمان ہوگئے تھے (جنگ حنین کے بعد)اور انہوں نے آپﷺ سے یہ درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی واپس کر دیئے جائیں ۔ تو آپﷺ (خطبہ سنانے کو) کھڑے ہوئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم دیکھتے ہو میرے ساتھ کتنے لوگ ہیں اور دیکھو مجھے سچی بات بہت پسند ہے۔ تم ایک چیز اختیار کرلویا تو اپنے قیدی لے لو یا مال لے لو اور میں نے اسی خیال سے دیر کی تھی ۔رسول اللہﷺ کئی راتوں تک ان لوگوں کے منتظر رہے۔ جب طائف سے لوٹے (مال غنیمت تقسیم نہیں کیا) خیر جب ان کو معلوم ہو گیا کہ رسول اللہﷺ ان کو (دونوں چیزیں دینے والے نہیں) ایک ہی چیز دیں گے۔ تو کہنے لگے اچھا ہمارے قیدی واپس کر دیجئے (مال گیا تو گیا ) اس وقت رسول اللہﷺ مسلمانوں کو خطبہ سنانے کھڑے ہوئے پہلے جیسی چاہیے ویسی اللہ کی تعریف کی پھر فرمایا اَمّا بَعدُ تمہارے بھائی (ہوازن کے لوگ) توبہ کر کے آئے ہیں (مسلمان ہو کر) میں مناسب سمجھتا ہوں ان کے قیدی واپس کردوں جو کوئی خوشی سے ایسا کرے بہتر ہے اور جس کو پسند نہ ہو اس کا حق قائم رہے گا۔ اور سب سے پہلی لوٹ جو اللہ ہم کو دے گا۔ ہم اس میں سے اس کا معاوضہ ادا کردیں گے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم خوشی سے اس پر راضی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا(تم لوگ بہت ہو) معلوم نہیں کون راضی ہے کوں راضی نہیں۔ ایسا کرو اس وقت تو جاؤ اور تمہارے نقیب اپنے اپنے لوگوں سے دریافت کر کے ان کی رضا مندی کا حال ہم سے بیان کریں یہ سن کر لوگ چلے گئےان کے نقیبوں نے اس باب میں ان سے گفتگو کی پھر رسول اللہﷺ کے پاس آکر آپﷺ سے بیان کیا کہ وہ خوشی سے قیدی پھیر دینے پر راضی ہیں انہوں نے اجازت دی۔ ابن شہاب نے کہا ہوازن کے قیدیوں کا یہی حال ہم کو پہنچا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَفَلْنَا مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافٍ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِوَفَائِهِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By Ibn 'Umar : When we returned from (the battle of) Hunain, 'Umar asked the Prophet about a vow which he had made during the Pre-Islamic period of Ignorance that he would perform Itikaf. The Prophet ordered him to fulfil his vow.
ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے نافع سے انہوں نے کہا حضرت عمر نے پوچھا یا رسول اللہﷺ ، دوسری سند مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو معمر نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا کہ جب ہم جنگ حنین سے لوٹ کر آئے تو حضرت عمرؓ نے نبیﷺ سے پوچھا میں نے جاہلیت کے زمانہ میں ایک اعتکاف کی منت مانی تھی ( کیا اس کا پورا کرنا ضروری ہے) آپﷺ نے فرمایا (بیشک) پورا کرو بعضوں نے (احمد بن عبدہ سے) اس روایت کو حماد بن زید سے روایت کیا۔ انہوں نے ایوب سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے اور جریر بن حازم اور حماد بن سلمہ نے بھی اس حدیث کو ایوب سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے (موصولاً روایت کیا)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ، قَدْ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَضَرَبْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ، فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ، وَأَقْبَلَ عَلَىَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ مَا بَالُ النَّاسِ قَالَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. ثُمَّ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ". فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ـ قَالَ ـ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ قَالَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ، فَقُمْتُ فَقَالَ " مَالَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ". فَأَخْبَرْتُهُ. فَقَالَ رَجُلٌ صَدَقَ وَسَلَبُهُ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنِّي. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لاَهَا اللَّهِ، إِذًا لاَ يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فَيُعْطِيَكَ سَلَبَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَدَقَ فَأَعْطِهِ ". فَأَعْطَانِيهِ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلاَمِ.
Narrated By Abu Qatada : We set out along with the Prophet during the year of (the battle of) Hunain, and when we faced the enemy, the Muslims (with the exception of the Prophet and some of his companions) retreated (before the enemy). I saw one of the pagans over-powering one of the Muslims, so I struck the pagan from behind his neck causing his armour to be cut off. The pagan headed towards me and pressed me so forcibly that I felt as if I was dying. Then death took him over and he released me. Afterwards I followed 'Umar and said to him, "What is wrong with the people?" He said, "It is the Order of Allah." Then the Muslims returned (to the battle after the flight) and (after overcoming the enemy) the Prophet sat and said, "Whoever had killed an Infidel and has an evidence to this issue, will have the Salb (i.e. the belonging of the deceased e.g. clothes, arms, horse, etc)." I (stood up) and said, "Who will be my witness?" and then sat down. Then the Prophet repeated his question. Then the Prophet said the same (for the third time). I got up and said, "Who will be my witness?" and then sat down. The Prophet asked his former question again. So I got up. The Prophet said, What is the matter, O Abu Qatada?" So I narrated the whole story; A man said, "Abu Qatada has spoken the truth, and the Salb of the deceased is with me, so please compensate Abu Qatada on my behalf." Abu Bakr said, "No! By Allah, it will never happen that the Prophet will leave a Lion of Allah who fights for the Sake of Allah and His Apostle and give his spoils to you." The Prophet said, "Abu Bakr has spoken the truth. Give it (the spoils) back to him (O man)!" So he gave it to me and I bought a garden in (the land of) Banu Salama with it (i.e. the spoils) and that was the first property I got after embracing Islam.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے یحیٰی بن سعیدانصاری سے انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے انہوں نے ابومحمد (نافع بن عباس) سے جو ابو قتادہ کے غلام تھے انہوں نے ابو قتادہ سے انہوں نے کہا جس سال حنین کی لڑائی ہوئی ہم نبیﷺ کے ساتھ نکلے جب کافروں سے مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمان ذرا ڈگمگا گئے (یعنی آگے پیچھے ہوگئے) میں نے ایک مشرک کو دیکھا (نام نامعلوم) جو ایک مسلمان پر غالب آگیا تھا۔ (نام نامعلوم) میں (یہ حال دیکھ کر) پیچھے سے گیا۔ اور مشرک کے مونڈھے کی رگ پر ایک تلوار لگائی۔ اس کی زرہ کاٹ ڈالی۔ اس نے کیا کیا (اس مسلمان کو چھوڑ کر)مجھ کو آ دبایا کمبخت نے ایسا دبایا گویا موت کی تصویر میری آ نکھوں میں پھر گئی۔ پھر (مجھ کو چھوڑ کر) خود ہی مرگیا میں حضرت عمرؓ سے ملا ان سے پوچھا یہ مسلمانوں کو کیا ہو گیا (بھاگ کیوں نکلے ) انہوں نے کہا اللہ کا حکم بعد اس کے مسلمان لوٹے پھر (جنگ کے بعد نبیﷺ بیٹھے اور) فرمایا جس نے کسی کافر کو مارا ہو اور گواہ رکھتا ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا میں نے (اپنے دل میں ) کہا میری گواہی کون دے گا (میں نے اس کافر کو مارا) یہ سمجھ کر میں بیٹھ رہا (میں نے نبیﷺ کے سامنے اپنا حق بیان نہیں کیا ) پھر آپﷺ نے دوبارہ یہی فرمایا میں کھڑا ہوا اور (دل میں) کہنے لگا میری گواہی کون دے گا یہ سمجھ کر میں بیٹھ رہا۔ پھر نبیﷺ نے (تیسری مرتبہ) بھی فرمایا (مجھ کو ولولہ آیا) میں کھڑا ہو گیا اس وقت نبیﷺ نے (میرا باربار کھڑا ہونا دیکھ کر) مجھ سے پوچھا ارے ابو قتادہ کیا حال ہے میں نے سارا قصہ بیان کیا ۔ ایک شخص (اسود بن خزاعی اسلمی) کہنے لگا یا رسول اللہﷺ ابو قتادہ سچ کہتا ہے اس کافر کا سامان میرے پاس ہے آپﷺ ابو قتادہ کو راضی کر دیجئے (وہ سامان مجھ سے نہ لے) یہ سن کر ابوبکر صدیق نے عرض کیا واہ واہ خدا کی قسم نبیﷺ ایسا نہیں کرنے کے۔ خدا کے شیروں میں سے ایک شیر کا جو اللہ اور رسولﷺ کی طرف سے لڑتا ہے حق دبا کر تجھ کو دلا دیں نبیﷺ نے فرمایا ابوبکرؓ سچ کہتے ہیں (ایسا کبھی نہیں ہو سکتا) وہ سامان ابوقتادہ کے حوالے کر ، خیر اس نے وہ سامان مجھ کو دیدیا میں نے اسکے بدلے بنی سلمہ کے محلہ میں ایک باغ خریدا یہ پہلا مال ہے جو میں نے اسلام کے زمانہ میں پیدا کیا۔
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ نَظَرْتُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَآخَرُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَخْتِلُهُ مِنْ وَرَائِهِ لِيَقْتُلَهُ، فَأَسْرَعْتُ إِلَى الَّذِي يَخْتِلُهُ فَرَفَعَ يَدَهُ لِيَضْرِبَنِي، وَأَضْرِبُ يَدَهُ، فَقَطَعْتُهَا، ثُمَّ أَخَذَنِي، فَضَمَّنِي ضَمًّا شَدِيدًا حَتَّى تَخَوَّفْتُ، ثُمَّ تَرَكَ فَتَحَلَّلَ، وَدَفَعْتُهُ ثُمَّ قَتَلْتُهُ، وَانْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ، وَانْهَزَمْتُ مَعَهُمْ، فَإِذَا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ لَهُ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَالَ أَمْرُ اللَّهِ، ثُمَّ تَرَاجَعَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَقَامَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ ". فَقُمْتُ لأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي فَجَلَسْتُ، ثُمَّ بَدَا لِي، فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ سِلاَحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْكُرُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْهُ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلاَّ لاَ يُعْطِهِ أُصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَيَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَدَّاهُ إِلَىَّ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا فَكَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلاَمِ.
Narrated By Abu Qatada : When it was the day of (the battle of) Hunain, I saw a Muslim man fighting with one of the pagans and another pagan was hiding himself behind the Muslim in order to kill him. So I hurried towards the pagan who was hiding behind the Muslim to kill him, and he raised his hand to hit me but I hit his hand and cut it off. That man got hold of me and pressed me so hard that I was afraid (that I would die), then he knelt down and his grip became loose and I pushed him and killed him. The Muslims (excepting the Prophet and some of his companions) started fleeing and I too, fled with them. Suddenly I met 'Umar bin Al-Khattab amongst the people and I asked him, "What is wrong with the people?" He said, "It is the order of Allah" Then the people returned to Allah's Apostle (after defeating the enemy). Allah's Apostle said, "Whoever produces a proof that he has killed an infidel, will have the spoils of the killed man." So I got up to look for an evidence to prove that I had killed an infidel, but I could not find anyone to bear witness for me, so I sat down. Then it came to my mind (that I should speak of it) and I mentioned the case to Allah's Apostle. A man from the persons who were sitting with him (i.e. the Prophet), said, "The arms of the deceased one whom he (i.e. Abu Qatada) has mentioned, are with me, so please compensate him for it (i.e. the spoils)," Abu Bakr said, "No, Allah's Apostle will not give it (i.e. the spoils) to a weak humble person from Quraish and leave one of Allah's Lions who fights on behalf of Allah and His Apostle." Allah's Apostle then got up and gave that (spoils) to me, and I bought with it, a garden which was the first property I got after embracing Islam.
لیث بن سعد نے کہا مجھ سے یحیٰی بن سعید انصاری نے بیان کیا انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے انھوں نے ابو محمد سے جو ابوقتادہ کے غلام تھے انہوں نے کہا ابو قتادہ کہتے تھے حنین کے دن ایسا ہوا کہ میں نے ایک مسلمان کو دیکھا جو ایک مشرک سے لڑ رہا تھا ۔ پیچھے سے ایک دوسرا مشرک آیا دھوکا دیکر یہ چاہتا تھا کہ اس مسلمان کو مارے میں یہ حال دیکھ کر اس دوسرے مشرک کی طرف جو دھوکا دینا چاہتا تھا جھپٹا اس نے مجھ کو مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا لیکن میں نے اس کے ہاتھ پر وار کیا اور ہاتھ ہی صاف کردیا (کاٹ دیا) اس نے کیا کیا مجھ کو دبا کر ایسا بھینچا میں ڈرگیا (اب میں مرتا ہوں ) پھر اس نے مجھ کو چھوڑ دیا (یا الگ ہو کر بیٹھ گیا) اس کا زور کم ہو گیا (کیونکہ خون بہہ رہا تھا) میں نے اس کو دھکیل دیا۔ پھر مار ڈالا۔ ادھر یہ حال ہوا کہ مسلمان بھاگ نکلےمیں بھی ان کے ساتھ بھاگا ۔ دیکھتا کیا ہوں حضرت عمرؓ لوگوں میں (جمے ہوئے) ہیں میں نے پوچھا یہ مسلمان کو کیا ہوگیا انہوں نے کہا کیا ہوگیا اللہ کی مرضی اس کے بعد (حضرت عباسؓ کے آواز دینے پر) مسلمان لوٹے۔رسول اللہﷺ کے پاس آگئے آپﷺ نے فرمایا جو شخص گواہی سے یہ ثابت کردے کہ اس نے فلاں کافر کو مارا ہے تو اس کو سامان وہی لے۔ میں نے جس کافر کو مارا تھا اس کے مارنے کے گواہ ڈھونڈنے کو میں کھڑا ہوا۔ میں نے دیکھا تو کوئی گواہ نہ ملا۔ آخر میں پھر بیٹھ گیا۔ میرے دل میں آیا کہ رسول اللہﷺ سے عرض تو کروں میں نے سارا حال آپﷺ سے بیان کیا یہ سن کر لوگ آپﷺ کے پاس بیٹھے تھے ان میں سے ایک شخص کہنے لگا ابو قتادہ جس کافر کا مارنا بیان کرتے ہیں اس کا سامان میرے پاس ہے آپﷺ ابو قتادہ کو راضی کر دیجئے ابوبکر صدیقؓ نے کہا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا ۔ آپﷺ قریش کے ایک بجّو یا ایک چڑیا کو تو سامان دلا دیں اور خدا کے شیروں میں سے ایک شیر کو محروم کر دیں جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی حمایت میں لڑتا ہے ۔ غرض رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور وہ سامان مجھ کو دلا دیا میں نے اس کو بیچ کر ایک باغ خریدا یہ پہلی جائیداد ہے جو اسلام کے زمانہ میں میں نے حاصل کی۔
56. باب غَزَاةِ أَوْطَاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ، فَقُتِلَ دُرَيْدٌ وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ. قَالَ أَبُو مُوسَى وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ، رَمَاهُ جُشَمِيٌّ بِسَهْمٍ فَأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا عَمِّ مَنْ رَمَاكَ فَأَشَارَ إِلَى أَبِي مُوسَى فَقَالَ ذَاكَ قَاتِلِي الَّذِي رَمَانِي. فَقَصَدْتُ لَهُ فَلَحِقْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى فَاتَّبَعْتُهُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ أَلاَ تَسْتَحِي، أَلاَ تَثْبُتُ. فَكَفَّ فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَيْنِ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ ثُمَّ قُلْتُ لأَبِي عَامِرٍ قَتَلَ اللَّهُ صَاحِبَكَ. قَالَ فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ فَنَزَعْتُهُ فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ. قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَقْرِئِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم السَّلاَمَ، وَقُلْ لَهُ اسْتَغْفِرْ لِي. وَاسْتَخْلَفَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ، فَمَكَثَ يَسِيرًا ثُمَّ مَاتَ، فَرَجَعْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهِ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِهِ وَجَنْبَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ، وَقَالَ قُلْ لَهُ اسْتَغْفِرْ لِي، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ ". وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ ". فَقُلْتُ وَلِي فَاسْتَغْفِرْ. فَقَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلاً كَرِيمًا ". قَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِحْدَاهُمَا لأَبِي عَامِرٍ وَالأُخْرَى لأَبِي مُوسَى.
Narrated By Abu Musa : When the Prophet had finished from the battle of Hunain, he sent Abu Amir at the head of an army to Autas He (i.e. Abu Amir) met Duraid bin As Summa and Duraid was killed and Allah defeated his companions. The Prophet sent me with Abu 'Amir. Abu Amir was shot at his knee with an arrow which a man from Jushm had shot and fixed into his knee. I went to him and said, "O Uncle! Who shot you?" He pointed me out (his killer) saying, "That is my killer who shot me (with an arrow)." So I headed towards him and overtook him, and when he saw me, he fled, and I followed him and started saying to him, "Won't you be ashamed? Won't you stop?" So that person stopped, and we exchanged two hits with the swords and I killed him. Then I said to Abu 'Amir. "Allah has killed your killer." He said, "Take out this arrow" So I removed it, and water oozed out of the wound. He then said, "O son of my brother! Convey my compliments to the Prophet and request him to ask Allah's Forgiveness for me." Abu Amir made me his successor in commanding the people (i.e. troops). He survived for a short while and then died. (Later) I returned and entered upon the Prophet at his house, and found him lying in a bed made of stalks of date-palm leaves knitted with ropes, and on it there was bedding. The strings of the bed had their traces over his back and sides. Then I told the Prophet about our and Abu Amir's news and how he had said "Tell him to ask for Allah's Forgiveness for me." The Prophet asked for water, performed ablution and then raised hands, saying, "O Allah's Forgive 'Ubaid, Abu Amir." At that time I saw the whiteness of the Prophet's armpits. The Prophet then said, "O Allah, make him (i.e. Abu Amir) on the Day of Resurrection, superior to many of Your human creatures." I said, "Will you ask Allah's Forgiveness for me?" (On that) the Prophet said, "O Allah, forgive the sins of 'Abdullah bin Qais and admit him to a nice entrance (i.e. paradise) on the Day of Resurrection." Abu Burda said, "One of the prayers was for Abu 'Amir and the other was for Abu Musa (i.e. 'Abdullah bin Qais)."
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے برید بن عبداللہ سے انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے انہوں نے کہا جب نبیﷺ حنین کی جنگ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ابوعامر اشعری (عبید بن سلیم)کو (جو ابو موسیٰ اشعری کے چچا تھے) سردار کر کے ایک لشکر دے کر اوطاس کی طرف بھیجا۔ وہاں درید بن صمّہ (کافروں کے سردار) سے مقابلہ ہوا درید مارا گیا اور اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دی ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں ۔آپﷺ نے مجھ کو بھی ابوعامر کے ساتھ بھیج دیا تھا۔ اتفاق سے ان کے گھٹنے پر زخم آیا ایک جشمی شخص نے ان کو تیر مارا ۔ تیر ان کے گھٹنے میں گھسا دیا میں ان کے پاس گیا۔ پوچھا چچا میاں یہ تیر کس نے مارا انہوں نےاس جشمی شخص کو اشارے سے بتلایا۔ اور کہنے لگے یہی شخص میرا قاتل ہے ۔ میں چلا اور اس کے پیچھے لگا۔اس نے جب مجھ کو دیکھا تو بھاگا میں اس کے پیچھے ہوا میں یہ کہتا جاتا تھا ارے (نامردے) بے حیا ٹھہرتا کیوں نہیں آخر وہ ٹھہر گیا اور مجھ میں اس میں تلوار کے دو وار ہوئے میں نے اس کو مار ڈالا۔ پھر ابو عامر کے پاس آیا میں نے کہا اللہ نے تمہارے مارنے والے کو قتل کرادیا ۔انہوں نے کہا اب یہ تیر تو نکال میں نے وہ تیر نکالا تو زخم سے پانی بہہ نکلا۔ ابوعامر کہنے لگے میرے بھتیجے نبیﷺ کی خدمت میں میری طرف سے سلام عرض کرنا اور کہنا میرے لئے دعا فرمائے اور ابوعامر نے اپنا قائم مقام مجھ کو کر دیا اور تھوڑی دیر زندہ رہے پھر انتقال کیا جب میں جنگ سے لوٹا تو نبیﷺ کی خدمت میں گیا دیکھا تو آپﷺ گھر میں ایک باندی کی چارپائی پر تشریف رکھتے ہیں اس پر بستر ہ بھی نہیں ہے ۔ باندوں کے نشان آپﷺ کی پشت مبارک اور پہلوؤں میں پڑگئے ہیں ۔ میں نے اپنا حال اور ابوعامر کا حال سب بیان کیا میں نے یہ بھی عرض کیا کہ ابوعامر نے آپﷺ سے دعا کی درخواست کی ہے آپﷺ نے پانی منگوایا وضو کیا۔ پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی یا اللہ عبید بن عامر کو بخش دے۔ آپﷺ نے اتنے ہاتھ اٹھائے کہ میں نے آپﷺ کی بغلوں کی سپیدی دیکھی پھر یوں دعا کی یا اللہ قیامت کے دن ابوعامر کو اپنے بہت بندوں سے بڑھ کر (یعنی زیادہ مرتبے والا) کیجیو میں نے عرض کیا میرے لئے بھی تو دعا فرمائیے ، آپﷺ نے فرمایا اللہ عبداللہ بن قیس (یعنی ابو موسیٰ) کے گناہ بخش دے اور قیامت کے دن اسکو عزت کی جگہ (بہشت میں ) لے جا۔ ابو بردہ کہتے ہیں آپﷺ نے دو دعائیں کیں ایک ابوعامر کیلئے اور ایک ابو موسیٰ کیلئے۔
57. باب غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ
قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقَبْةَ
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، سَمِعَ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلاَنَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ. وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَدْخُلَنَّ هَؤُلاَءِ عَلَيْكُنَّ ". قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ الْمُخَنَّثُ هِيتٌ. حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا، وَزَادَ وَهْوَ مُحَاصِرٌ الطَّائِفَ يَوْمَئِذٍ.
Narrated By Um Salama : The Prophet came to me while there was an effeminate man sitting with me, and I heard him (i.e. the effeminate man) saying to 'Abdullah bin Abi Umaiya, "O 'Abdullah! See if Allah should make you conquer Ta'if tomorrow, then take the daughter of Ghailan (in marriage) as (she is so beautiful and fat that) she shows four folds of flesh when facing you, and eight when she turns her back." The Prophet then said, "These (effeminate men) should never enter upon you (O women!)." Ibn Juraij said, "That effeminate man was called Hit."
Narrated By Hisham : The above narration and added extra, that at that time, the Prophet, was besieging Taif.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا انہوں نے سفیان بن عیینہ سے سنا کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے انہوں نے اپنے والدہ ام المومنین ام سلمہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ میرے پاس تشریف لائے ۔
میرے پاس اس وقت ایک ہیجڑا بیٹھا تھا۔ وہ عبداللہ بن امیہ سے کہہ رہا تھا عبداللہ اگر کل اللہ تعالٰی نے تم کو طائف فتح کرادیا تو تم غیلان کی بیٹی (بادیہ) کو لے لینا (کیا موٹی گبدی عورت ہے) سامنے آتی ہے تو پیٹ پر چار بٹیں اورپیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بٹیں دکھلائی دیتی ہیں۔ یہ سن کر نبیﷺ نے فرمایا یہ ہیجڑے آئندہ تمہارے پاس نہ آئیں ۔ ابن عیینہ نے کہا اور ابن جریج نے کہا۔ اس ہیجڑے کا نام ہیت تھا۔
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے ہشام سے یہی حدیث اتنا زیادہ ہے کہ آپﷺ ان دنوں طائف کو گھیرے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الأَعْمَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الطَّائِفَ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ " إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ". فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ وَقَالُوا نَذْهَبُ وَلاَ نَفْتَحُهُ ـ وَقَالَ مَرَّةً نَقْفُلُ ـ فَقَالَ " اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ". فَغَدَوْا فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ " إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ". فَأَعْجَبَهُمْ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَتَبَسَّمَ. قَالَ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْخَبَرَ كُلَّهُ
Narrated By 'Abdullah bin Amr : When Allah's Apostle besieged Taif and could not conquer its people, he said, "We will return (to Medina) If Allah wills." That distressed the Companions (of the Prophet and they said, "Shall we go away without conquering it (i.e. the Fort of Taif)?" Once the Prophet said, "Let us return." Then the Prophet said (to them), "Fight tomorrow." They fought and (many of them) got wounded, whereupon the Prophet said, "We will return (to Medina) tomorrow if Allah wills." That delighted them, whereupon the Prophet smiled. The sub-narrator, Sufyan said once, "(The Prophet) smiled."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے ابو العباس شاعر سے جو اندھا تھا (اس کا نام سائب بن فروخ تھا)اس نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے انہوں نے کہا جب رسول اللہﷺ نے طائف کا محاصرہ کیا تو (دشمن کا کچھ نقصان نہیں کیا ۔آخر آپﷺ نے فرمایا ہم کل یہاں سے لوٹ جائیں گے ۔ یہ امر مسلمانوں پر شاق گزرا وہ کہنے لگے واہ واہ ہم یہاں سے روانہ ہو جائیں اور طائف کو فتح نہ کریں ایک بار راوی نے یوں کہا ہم یہاں سے لوٹ جائیں اور طائف فتح نہ کریں (یہ کیونکر ہو سکتا ہے ) آپﷺ نے فرمایا اچھا صبح کو جنگ کرو۔ صبح ہوئی اور مسلمان لڑنے گئے تو زخمی ہوئے پھر آپﷺ نے فرمایا اللہ نے چاہا تو کل ہم یہاں سے لوٹ جائیں گے یہ سن کر لوگ خوش ہوئے نبیﷺ ہنس دئیے ۔ ایک بار سفیان نے یوں کہا آپﷺ مسکرا دئیے ۔ امام بخاریؒ نے کہا حمیدی نے کہا ہم سے یہ ساری حدیث سفیان بن عیینہ نے بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا ـ وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَأَبَا بَكْرَةَ ـ وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ ـ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالاَ سَمِعْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهْوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ".
وَقَالَ هِشَامٌ وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا، وَأَبَا، بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ عَاصِمٌ قُلْتُ لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلاَنِ حَسْبُكَ بِهِمَا. قَالَ أَجَلْ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَالِثَ ثَلاَثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الطَّائِفِ.
Narrated By Abu Uthman : I heard from Sad, the first man who has thrown an arrow in Allah's Cause, and from Abu Bakra who jumped over the wall of the Ta'if Fort along with a few persons and came to the Prophet. They both said, "We heard the Prophet saying, " If somebody claims to be the son of somebody other than his father knowingly, he will be denied Paradise (i.e. he will not enter Paradise).'"
Narrated Ma'mar from 'Asim from Abu Al'Aliya or Abu Uthman An-Nahdi who said. "I heard Sad and Abu Bakra narrating from the Prophet." 'Asim said, "I said (to him), 'Very trustworthy persons have narrated to you.' He said, 'Yes, one of them was the first to throw an arrow in Allah's Cause and the other came to the Prophet in a group of thirty-three persons from Ta'if.'
ہم سے محمدبن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عاصم بن سلیمان سے کہا میں نے ابو عثمان نہدی سے سنا ۔ کہا میں نے سعد بن ابی وقاص سے سعد وہ شخص تھے جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور میں نے ابو بکرؓ سے بھی سنا وہ طائف کے قلعہ کی دیوار پر کئی آدمیوں کے ساتھ چڑھ گئے تھے(پھر لٹک کر اتر آئے)اور نبیﷺ کے پاس آگئے یہ دونوں صاحب(یعنی سعد اور ابوبکرہؓ) کہتے تھے ہم نے نبیﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے جو کوئی اپنے اصلی باپ کے سوا جان بوجھ کر اورکسی کا بیٹا بنے تو اس پر بہشت حرام ہے اور ہشام بن یوسف نے کہا ہم کو معمر بن راشد نے خبر دی انہوں نے عاصم بن سلیمان سے انہوں نے ابو العالیہ سے یا ابو عثمان نہدی سے (راوی کو شک ہے) انہوں نے کہا میں نے سعد اور ابو بکرہ صحابیوں سے سنا انہوں نے نبیﷺ سے عاصم نے کہا میں نے ابو العالیہ یا عثمان سے کہا تمہارے سامنے تو دو شخصوں نے اس حدیث کی گواہی دی اور کیسے دو شخص صحابی یہ گواہی تو بالکل کافی ہے انہوں نے کہا ۔ ہاں ان دونوں میں ایک تو وہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر چلایا اور دوسرے (یعنی ابوبکرہ ) وہ ہیں جو تئیسویں آدمی تھے۔ ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبیﷺ کے پاس آئے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا ـ وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَأَبَا بَكْرَةَ ـ وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ ـ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالاَ سَمِعْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهْوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ".
وَقَالَ هِشَامٌ وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا، وَأَبَا، بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ عَاصِمٌ قُلْتُ لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلاَنِ حَسْبُكَ بِهِمَا. قَالَ أَجَلْ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَالِثَ ثَلاَثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الطَّائِفِ.
Narrated By Abu Uthman : I heard from Sad, the first man who has thrown an arrow in Allah's Cause, and from Abu Bakra who jumped over the wall of the Ta'if Fort along with a few persons and came to the Prophet. They both said, "We heard the Prophet saying, " If somebody claims to be the son of somebody other than his father knowingly, he will be denied Paradise (i.e. he will not enter Paradise).'"
Narrated Ma'mar from 'Asim from Abu Al'Aliya or Abu Uthman An-Nahdi who said. "I heard Sad and Abu Bakra narrating from the Prophet." 'Asim said, "I said (to him), 'Very trustworthy persons have narrated to you.' He said, 'Yes, one of them was the first to throw an arrow in Allah's Cause and the other came to the Prophet in a group of thirty-three persons from Ta'if.'
ہم سے محمدبن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عاصم بن سلیمان سے کہا میں نے ابو عثمان نہدی سے سنا ۔ کہا میں نے سعد بن ابی وقاص سے سعد وہ شخص تھے جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور میں نے ابو بکرؓ سے بھی سنا وہ طائف کے قلعہ کی دیوار پر کئی آدمیوں کے ساتھ چڑھ گئے تھے(پھر لٹک کر اتر آئے)اور نبیﷺ کے پاس آگئے یہ دونوں صاحب(یعنی سعد اور ابوبکرہؓ) کہتے تھے ہم نے نبیﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے جو کوئی اپنے اصلی باپ کے سوا جان بوجھ کر اورکسی کا بیٹا بنے تو اس پر بہشت حرام ہے اور ہشام بن یوسف نے کہا ہم کو معمر بن راشد نے خبر دی انہوں نے عاصم بن سلیمان سے انہوں نے ابو العالیہ سے یا ابو عثمان نہدی سے (راوی کو شک ہے) انہوں نے کہا میں نے سعد اور ابو بکرہ صحابیوں سے سنا انہوں نے نبیﷺ سے عاصم نے کہا میں نے ابو العالیہ یا عثمان سے کہا تمہارے سامنے تو دو شخصوں نے اس حدیث کی گواہی دی اور کیسے دو شخص صحابی یہ گواہی تو بالکل کافی ہے انہوں نے کہا ۔ ہاں ان دونوں میں ایک تو وہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر چلایا اور دوسرے (یعنی ابوبکرہ ) وہ ہیں جو تئیسویں آدمی تھے۔ ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبیﷺ کے پاس آئے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلاَ تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي. فَقَالَ لَهُ " أَبْشِرْ ". فَقَالَ قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَىَّ مِنْ أَبْشِرْ. فَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلاَلٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ فَقَالَ " رَدَّ الْبُشْرَى فَاقْبَلاَ أَنْتُمَا ". قَالاَ قَبِلْنَا. ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ " اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا، وَأَبْشِرَا ". فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلاَ، فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ أَنْ أَفْضِلاَ لأُمِّكُمَا. فَأَفْضَلاَ لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً.
Narrated By Abu Burda : Abu Musa said, "I was with the Prophet when he was encamping at Al-Jarana (a place) between Mecca and Medina and Bilal was with him. A bedouin came to the Prophet and said, "Won't you fulfil what you have promised me?" The Prophet said, 'Rejoice (at what I will do for you).' The bedouin said, "(You have said to me) rejoice too often." Then the Prophet turned to me (i.e. Abu Musa) and Bilal in an angry mood and said, 'The bedouin has refused the good tidings, so you both accept them.' Bilal and I said, 'We accept them.' Then the Prophet asked for a drinking bowl containing water and washed his hands and face in it, and then took a mouthful of water and threw it therein saying (to us), "Drink (some of) it and pour (some) over your faces and chests and be happy at the good tidings." So they both took the drinking bowl and did as instructed. Um Salama called from behind a screen, "Keep something (of the water for your mother." So they left some of it for her.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے برید بن عبد اللہ سے انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسیٰ اشعری سے انہوں نے کہا میں نبیﷺ کے پاس تھاآپﷺ جعرانہ میں اترے ہوئے تھے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے بلال آپﷺ کے ساتھ تھے۔ اس وقت ایک گنوار (نام نامعلوم) آپﷺ کے پاس آیا کہنے لگا آپﷺ نے جو مجھ سے وعدہ فرمایا تھا وہ پورا کیجئے ۔ آپﷺ نے فرمایا خوش ہوجا ، اس نے کہا یہ کیا بات آپﷺ اکثر یہی فرماتے ہیں۔ خوش ہو جا۔ یہ سن کر معلوم ہوا جیسے آپﷺغصے ہیں بلال اور ابو موسیٰ کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا اس گنوار نے خوش خبری قبول نہیں کی۔تم قبول کرو۔ ان دونوں نے کہا ہم کو قبول ہے پھر آپﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا۔ دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھوئے اور کلی بھی کی پھر (بلال اور ابو موسیٰ سے)فرمایا دونوں یہ پانی پیو اور اپنے منہ اور سینوں پر ڈالو اور خوش ہو جاؤ۔ دونوں نے پیالہ لے کر ایسا ہی کیا اتنے میں ام المومنین ام سلمہؓ نے پردے کے پیچھے سے پکارا تھوڑا پانی اپنی ماں کے لئے بھی رہنے دو انہوں نے کچھ پانی بچا کر ان کو بھی دیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، أَخْبَرَ أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ. قَالَ فَبَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ، مَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِالطِّيبِ فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ. فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُحْمَرُّ الْوَجْهِ، يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ " أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنَفًا ". فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ " أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ ".
Narrated By Safwan bin Ya'la bin Umaiya : Ya'la used to say, "I wish I could see Allah's Apostle at the time when he is being inspired divinely." Ya'la added "While the Prophet was at Al-Ja'rana, shaded with a cloth sheet (in the form of a tent) and there were staying with him, some of his companions under it, suddenly there came to him a bedouin wearing a cloak and perfumed extravagantly. He said, "O Allah's Apostle ! What is your opinion regarding a man who assumes the state of Ihram for 'Umra wearing a cloak after applying perfume to his body?" 'Umar signalled with his hand to Ya'la to come (near). Ya'la came and put his head (underneath that cloth sheet) and saw the Prophet red-faced and when that state (of the Prophet) was over, he said, "Where is he who as already asked me about the 'Umra?" The man was looked for and brought to the Prophet The Prophet said (to him), "As for the perfume you have applied to your body, wash it off your body) thrice, and take off your cloak, and then do in your 'Umra the rites you do in your Hajj."
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن ابراہیم بن علیہ نے کہا ہم سے ابن جریج نے کہا مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے خبر دی ان سے صفوان بن یعلی بن امیہ نے بیان کیا کہ ان کے والد یعلی کہتے تھے ، مجھ کو آرزو تھی کہ میں رسول اللہﷺ کو اس وقت دیکھوں جب آپﷺ پر وحی اتر رہی ہو۔پھر ایسا اتفاق ہوا آپﷺ جعرانہ میں تھے اور ایک کپڑے کا سایہ آپﷺ پر کردیا گیا تھا اس میں آپﷺ کے کئی اصحابؓ بھی تھے ۔ اتنے میں ایک گنوار اپنے چغے میں خوشبو لیتھڑے ہوئےآیا۔ آپﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہ آپﷺ کیافرماتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص عمرے کا احرام ایسے چغے میں باندھے جس میں وہ خوشبو (احرام سے پہلے) لیتھڑ چکا تھا حضرت عمرؓ نے یعلی کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آؤ (آپﷺ پر وحی اترنا دیکھو) یعلی آئے اور اپنا سر اس کپڑے کے اندر ڈال دیا (خود باہر کھڑے رہے) دیکھا تو نبیﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا ہے اور آپﷺ خرانٹے لے رہے ہیں۔ایک گھڑی تک یہی حال رہا اس کے یہ حالت موقوف ہوئی آپﷺ نے پوچھا وہ (گنوار ) کہاں گیا جس نے عمرے کا مسئلہ ابھی پوچھا لوگ اس کو ڈھونڈھ کر لائے۔ آپﷺ نے فرمایا تو ایسا کر جو خوشبو تیرے کپڑے میں لگی ہے اس کو تین مرتبہ دھوڈال اور چغہ اتار کر پھینک دے پھر عمرے میں وہی کام کرتا رہ جو حج میں کرتا ہے (یعنی طواف و سعی وغیرہ)۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا، فَكَأَنَّهُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ فَخَطَبَهُمْ فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلاَّلاً فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي، وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللَّهُ بِي وَعَالَةً، فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي ". كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ. قَالَ " مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيبُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ". قَالَ كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ. قَالَ " لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا. أَتَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ، وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى رِحَالِكُمْ، لَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا، الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ
Narrated By 'Abdullah bin Zaid bin Asim : When Allah gave to His Apostle the war booty on the day of Hunain, he distributed that booty amongst those whose hearts have been (recently) reconciled (to Islam), but did not give anything to the Ansar. So they seemed to have felt angry and sad as they did not get the same as other people had got. The Prophet then delivered a sermon before them, saying, "O, the assembly of Ansar! Didn't I find you astray, and then Allah guided you on the Right Path through me? You were divided into groups, and Allah brought you together through me; you were poor and Allah made you rich through me." Whatever the Prophet said, they (i.e. the Ansar) said, "Allah and his Apostle have more favours to do." The Prophet said, "What stops you from answering the Apostle of Allah?" But whatever he said to them, they replied, "Allah and His Apostle have more favours to do." The Prophet then said, "If you wish you could say: 'You came to us in such-and-such state (at Medina).' Wouldn't you be willing to see the people go away with sheep and camels while you go with the Prophet to your homes? But for the migration, I would have been one of the Ansar, and if the people took their way through a valley or mountain pass, I would select the valley or mountain pass of the Ansar. The Ansar are Shiar (i.e. those clothes which are in direct contact with the body and worn inside the other garments), and the people are Dithar (i.e. those clothes which are not in direct contact with the body and are worn over other garments). No doubt, you will see other people favoured over you, so you should be patient till you meet me at the Tank (of Kauthar)."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب بن خالد نے کہا ہم سے عمرو بن یحیٰی نے انہوں نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم (مازنی) سے انہوں نے کہا جب اللہ تعالیٰ نے حنین کی جنگ میں آپﷺ کو لوٹ کا مال عنایت فرمایا تو آپﷺ نے وہ لوٹ کا مال ان لوگوں کو دیا جن کا دل ملانا منظور تھا۔اور انصار کو کچھ نہیں دیا انصار کو ذرا رنج ہوا کہ لوگوں کو مال ملا ان کو نہیں ملا آپﷺ نے خطبہ سنایا فرمایا انصار لوگو کیا تم پہلے گمراہ نہ تھے پھر اللہ تعالٰی نے میرے ذریعے سے تم کو ہدایت دی اور ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے پھر اللہ تعالٰی نے میری وجہ سے تمہارے دل ملا دیے اور محتاج نہیں تھے اللہ نے میری وجہ سے تم کو مالدار کردیا جب آپﷺ کوئی فقرہ فرماتے تو انصار کہتے اللہ اور رسول کا ہم پر بہت احسان ہے آپﷺ نے فرمایا تم اللہ کے رسول کو جواب کیوں نہیں دیتے آپﷺ جب کچھ فرماتے تو انصار یہی کہتے اللہ اور اس کے رسولﷺ کا احسان (ہم پر) بہت ہے آپﷺ نے فرمایا نہیں تم بھی یہ کہہ سکتے ہو (اپنا احسان جتا سکتے ہو کہ) آپﷺ ہمارے پاس اس حال میں آئے تھے۔ بھلا تم کو یہ پسند نہیں کہ دوسرے اونٹ وغیرہ لے کر (اپنے گھروں کو ) جائیں اور تم اللہ کے نبیﷺ کو لے کر اپنے گھروں میں جاؤ۔ دیکھو اگر میں نے ہجرت نہ کی ہوتی (میں مکہ کا رہنے والا نہ ہوتا) تو میں بھی ایک انصاری آدمی ہوتا اور (انصار سے مجھ کو اتنی الفت ہے) اگر دوسرے لوگ ایک نا لے یا رستے میں چلیں اور انصار ایک نالے یا رستے میں تو میں لوگ بکریاں (سب کو چھوڑ کر) انصار کے نالے یا رستے میں چلوں۔انصار میرے استر ہیں اور دوسرے مسلمان ابرہ ہیں۔دیکھو انصاریو ! میرے بعد تمہاری حق تلفی ہوگی تم جب تک قیامت میں حوض کوثر پر مجھ سے ملو صبر کئے رہنا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ نَاسٌ مِنَ الأَنْصَارِ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعْطِي رِجَالاً الْمِائَةَ مِنَ الإِبِلِ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ. قَالَ أَنَسٌ فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ". فَقَالَ فُقَهَاءُ الأَنْصَارِ أَمَّا رُؤَسَاؤُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالاً حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ، أَتَأَلَّفُهُمْ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى رِحَالِكُمْ، فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا. فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " سَتَجِدُونَ أُثْرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ ". قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ يَصْبِرُوا.
Narrated By Anas Bin Malik : When Allah gave Allah's Apostle what he gave of the properties of the Hawazin tribe as a war booty, the Prophet started giving some men 100 camels each. The Ansar (then) said, "May Allah forgive Allah's Apostles as he gives to Quraish and leaves us although our swords are still dribbling with the blood of Quraish." Allah's Apostle was informed of their statement, so he sent for the Ansar and gathered them in a leather tent, and did not call anybody else along with them. When they all gathered, the Prophet got up and said, "What is this talk being informed to me about you?" The learned men amongst the Ansar said, "O Allah's Apostle! Our chiefs did not say anything, but some people amongst us who are younger in age said, 'May Allah forgive Allah's Apostle as he gives (of the booty) to Quraish and leaves us though our swords are still dribbling with their blood.' " The Prophet said, "I give to these men who have newly deserted heathenism (and embraced Islam) so as to attract their hearts. Won't you be happy that the people take the wealth while you take the Prophet with you to your homes? By Allah, what you are taking is better than whatever they are taking." They (i.e. the Ansar) said, "O Allah's Apostle! We are satisfied." The Prophet then said to them. "You will find others favoured over you greatly, so be patient till you meet Allah and His Apostle and I will be at the Tank then." Anas added: But they did not remain patient.
مجھ سے عبد اللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام (بن یوسف صنعانی) نے کہا ہم کو معمر بن راشد نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو انس بن مالکؓ نے خبر دی ۔ انہوں نے کہا جب اللہ تعالٰی نے ہوازن کے مال اپنے رسول کو (جنگ حنین میں) عطا فرمائے تو آپﷺ نے (قریش کے) بعضے لوگوں کو سو سو اونٹ دینا شروع کئے اس پر انصار کے کچھ لوگوں نے کہا اللہ رسول اللہﷺ کو بخشے۔ آپؐ قریش کے لوگوں کو دے رہے ہیں ۔ حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کا خون ٹپک رہا ہے۔انسؓ نے کہا انصار کی یہ بات رسول اللہﷺ کو پہنچ گئی آپؐ نے ان کو بلا بھیجا اور چمڑے کے ایک ڈیرے میں اکٹھا کیا ۔ انصار کے سوا دوسرے لوگ وہاں کوئی نہ رہے جب سب جمع ہوچکے تو آپؐ کھڑے ہوئے اور فرمایا یہ کیا بات ہے جو مجھ کو تمہاری طرف سے پہنچی انصار میں جو سمجھ دار لوگ تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم میں جو معتبر لوگ ہیں انہوں نے ایسا نہیں کہا چند نوجوان بچو ں نے ایسی باتیں کیں (یہ ان کی نادانی تھی) کہنے لگے اللہ رسول اللہﷺ کو بخشے آپؐ قریش کے لوگوں کو دیتے ہیں اور ابھی تک ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا، میں تو ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی تازہ مسلمان ہوئے ہیں ان کا دل ملاتا ہوں (کہیں پھر کافر نہ ہو جائیں) کیا تم کو یہ پسند نہیں ہے کہ لوگ مال و دولت لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم نبیﷺ کو لے کر جاؤ۔ قسم خدا کی جو لے کر جاتے ہو وہ کہیں اس سے بہتر ہے جس کو وہ لے کر جاتے ہیں ۔ انصار نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم راضی ہیں (ہم کو کوئی شکایت نہیں) آپ نے فرمایا دیکھو تم قریب میں بڑی حق تلفی دیکھو گے۔تم اللہ اور رسولﷺ سے ملنے تک صبر کیے رہنا میں (قیامت کے دن ) حوض کوثر پر ہوںگا (وہاں تم سے ملوں گا ) انسؓ نے کہا پھر انصار سے صبر نہ ہو سکا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنَائِمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ. فَغَضِبَتِ الأَنْصَارُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ". قَالُوا بَلَى. قَالَ " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ ".
Narrated By Anas : When it was the day of the Conquest (of Mecca) Allah's Apostle distributed the war booty amongst the people of Quraish which caused the Ansar to become angry. So the Prophet said, "Won't you be pleased that the people take the worldly things and you take Allah's Apostle with you? "They said, "Yes." The Prophet said, "If the people took their way through a valley or mountain pass, I would take my way through the Ansar's valley or mountain pass."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابوالتیاح (یزید بن حمید) سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا جس زمانہ میں مکہ فتح ہوا تو رسول اللہﷺ نے (حنین کی) لوٹ قریش لوگوں میں بانٹی یہ حال دیکھ کر انصارکو غصّہ آیا رسول اللہﷺ نے (ان کا غصّہ فرو کرنے کے لئے) فرمایا کیا تم کو یہ پسند نہٰیں کہ لوگ دنیا (کا مال و اسباب ) لے کر (اپنے گھروں کو) جائیں اور تم رسولؐ کو لے کر جاؤ انہوں نے عرض کیا بیشک ہم اس کو پسند کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا اگر (دوسرے) لوگ ایک نالے یا ایک رستے کی طرف جائیں تو میں انصار کے نالے یا رستے کی طرف چلوں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمَ حُنَيْنٍ الْتَقَى هَوَازِنُ وَمَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَشَرَةُ آلاَفٍ وَالطُّلَقَاءُ فَأَدْبَرُوا قَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ". قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، لَبَّيْكَ نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ". فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، فَأَعْطَى الطُّلَقَاءَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا فَقَالُوا، فَدَعَاهُمْ فَأَدْخَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم "لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لاَخْتَرْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ "
Narrated By Anas : When it was the day of (the battle of) Hunain, the Prophet confronted the tribe of Hawazin while there were ten-thousand (men) besides the Tulaqa' (i.e. those who had embraced Islam on the day of the Conquest of Mecca) with the Prophet. When they (i.e. Muslims) fled, the Prophet said, "O the group of Ansari" They replied, "Labbaik, O Allah's Apostle and Sadaik! We are under your command." Then the Prophet got down (from his mule) and said, "I am Allah's Slave and His Apostle." Then the pagans were defeated. The Prophet distributed the war booty amongst the Tulaqa and Muhajirin (i.e. Emigrants) and did not give anything to the Ansar. So the Ansar spoke (i.e. were dissatisfied) and he called them and made them enter a leather tent and said, Won't you be pleased that the people take the sheep and camels, and you take Allah's Apostle along with you?" The Prophet added, "If the people took their way through a valley and the Ansar took their way through a mountain pass, then I would choose a mountain pass of the Ansar"
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے ازہر بن سعد سمان نے انہوں نے عبداللہ بن عون سے کہا ہم کو ہشام بن زید بن انسؓ نے خبر دی انہوں نے (اپنے دادا) انسؓ سے انہوں نے کہا جب حنین کا دن ہوا اور ہوازن کی قوم سے مقابلہ ہوا تو نبیﷺ کے ساتھ دس ہزار
( مہاجرین اور انصار وغیرہ ) تھے اور وہ لوگ جن کو آپﷺ نے احسان رکھ کر چھوڑ دیا تھا یہ سب لوگ (باستثناء چند صحابہ کے) بھاگ نکلے۔ نبیﷺ پکارا انصاریو انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہﷺ حاضر مستعد آپﷺ کے سامنے موجود پھر آپﷺ (خچر پر سے) اتر پڑے اور فرمایا میں اللہ کا بندہ اور اس کا بھیجا ہوا ہوں۔ اس کے بعد کافروں کو شکست ہوئی (مسلمانوں نے دوبارہ ان پر حملہ کیا) لوٹ کا مال آپﷺ نے مہاجریں اور ان لوگوں کو دیا جن کو احسان رکھ کر چھوڑ دیا تھا انصارکو کچھ نہ دیا انہوں نے گفتگو کی رسول اللہﷺ نے ان کو بلا بھیجا اور ( چمڑے کے ) ایک ڈیرے میں لے گئے فرمایا کیا تم کو یہ پسند نہیں ہے کہ لوگ بکریاں اونٹوغیرہ لے کر اپنے گھروں کو سدھاریں اور تم اللہ کے پیغمبرﷺ کو اپنے ساتھ لے جاؤ ۔ پھر فرمایا اگر دوسرے لوگ ایک میدان کی طرف چلیں اور انصار ایک رستے پر تو میں انصار کا رستہ اختیار کروں (انہی کے ساتھ رہوں)۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَمَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ " إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى بُيُوتِكُمْ ". قَالُوا بَلَى. قَالَ " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الأَنْصَارِ ".
Narrated By Anas : The Prophet gathered some people of Ansar and said, "The People of Quraish are still close to their Pre-Islamic period of ignorance and have suffered a lot, and I want to help them and attract their hearts (by giving them the war booty). Won't you be pleased that the people take the worldly things) and you take Allah's Apostle with you to your homes?" They said, "Yes, (i.e. we are pleased with this distribution)." The Prophet said, "'If the people took their way through a valley and the Ansar took their way through a mountain pass, then I would take the Ansar's valley or the Ansar's mountain pass."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر (محمدبن جعفر) نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا میں نے قتادہ سے سنا انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے انصار کے کچھ لوگوں کو اکھٹا کیا اور فرمایا بات یہ ہے کہ قریش کے لوگ ابھی ابھی جاہلیت اور (قتل و قید کی) مصیبت سے نکلے ہیں میرا مطلب یہ تھا ان کے نقصان کی تلافی کروں (یا ان کو کچھ انعام اکرام دوں) ان کا دل ملاؤں ، بھلا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ دوسرے لوگ (دنیا کا مال و اسباب) لے کر لوٹ جائیں اور تم اللہ کے پیغمبر کو لیکر اپنے گھروں کو لوٹو ۔انہوں نے کہا ہم تو اس پر راضی ہیں(اس سے زیادہ کون سا شرف ہوگا)آپﷺ نے فرمایا (مجھ کو تو تم لوگوں سے اتنی الفت ہے) کہ اگر لوگ ایک رستے چلیں اور انصار دوسرے رستے تو میں انصار ہی کے میدان یا رستے کو اختیار کروں (دوسرے لوگ چھٹ جائیں تو چھٹ جائیں)۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قِسْمَةَ حُنَيْنٍ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ مَا أَرَادَ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ. فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ "
Narrated By 'Abdullah : When the Prophet distribute the war booty of Hunain, a man from the Ansar said, "He (i.e. the Prophet), did not intend to please Allah in this distribution." So I came to the Prophet and informed him of that (statement) whereupon the colour of his face changed and he said, "May Allah bestow His Mercy on Moses, for he was troubled with more than this, but he remained patient."
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے بعداللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا جب نبیﷺ نے حنین کی لوٹ بانٹی تو انصار میں سے ایک شخص ( معتب بن قشیر جو منافق تھا) بولا اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی مقصود نہیں ہے (نعوذ باللہ) ابن مسعود کہتے ہیں میں یہ سن کر نبیﷺ کے پاس آیا آپﷺ سے بیان کیا آپﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا (غصہ آگیا ) پھر فرمایا اللہ موسٰی پر رحم کرے ان کو مجھ سے زیادہ تکلیف دی گئی پر انہوں نے صبر کیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَاسًا، أَعْطَى الأَقْرَعَ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَأَعْطَى نَاسًا، فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُرِيدَ بِهَذِهِ الْقِسْمَةِ وَجْهُ اللَّهِ. فَقُلْتُ لأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ مُوسَى. قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ".
Narrated By 'Abdullah : When it was the day of Hunain, Prophet favoured some people over some others (in the distribution of the booty). He gave Al-Aqra' one-hundred camels and gave Uyaina the same, and also gave other people (of Quraish). A man said, "Allah's Pleasure was not the aim, in this distribution." I said, "I will inform the Prophet (about your statement)." The Prophet said, "May Allah bestow Mercy on Moses, for he was troubled more this but he remained patient."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے جریر نے ، انہوں نے منصور سے انہوں نے ابو وائل سے ، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا جب حنین کا دن ہوا(اور لوٹ کے جانور ملے) تو نبیﷺ نے بعضے لوگوں کو بہت بہت جانور دیئے جیسے اقراع بن جابس کو سو اونٹ دیئے اور عیینہ بن حصن کو بھی اتنے ہی اونٹ دیئے اور چند لوگوں کو بھی اسی طرح ، ایک شخص ( منافق) یہ حال دیکھ کر بول اٹھا اس تقسیم سے تو اللہ کی رضامندی مقصود نہیں ہے ابن مسعود کہتے ہیں میں نے (اس منافق کی ) یہ بات سن کر (اپنے دل میں ) کہا میں تو نبیﷺ کو ضرور اسکی خبر دونگا۔ آپﷺ نے فرمایا اللہ موسٰی پیغمبر پر رحم کرے ان کو اس زیادہ ایذا دی گئی مگر انہوں نے صبر کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِنَعَمِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ، وَمَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَشَرَةُ آلاَفٍ وَمِنَ الطُّلَقَاءِ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ، فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا، الْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ". قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ. ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ". قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ. وَهْوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ، فَنَزَلَ فَقَالَ " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ "، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، فَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ إِذَا كَانَتْ شَدِيدَةٌ فَنَحْنُ نُدْعَى، وَيُعْطَى الْغَنِيمَةَ غَيْرُنَا. فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ". فَسَكَتُوا فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ ". قَالُوا بَلَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لأَخَذْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ ". فَقَالَ هِشَامٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَأَنْتَ شَاهِدٌ ذَاكَ قَالَ وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ
Narrated By Anas Bin Malik : When it was the day (of the battle) of Hunain, the tributes of Hawazin and Ghatafan and others, along with their animals and offspring (and wives) came to fight against the Prophet The Prophet had with him, ten thousand men and some of the Tulaqa. The companions fled, leaving the Prophet alone. The Prophet then made two calls which were clearly distinguished from each other. He turned right and said, "O the group of Ansar!" They said, "Labbaik, O Allah's Apostle! Rejoice, for we are with you!" Then he turned left and said, "O the group of Ansar!" They said, "Labbaik! O Allah's Apostle! Rejoice, for we are with you!" The Prophet at that time, was riding on a white mule; then he dismounted and said, "I am Allah's Slave and His Apostle." The infidels then were defeated, and on that day the Prophet gained a large amount of booty which he distributed amongst the Muhajirin and the Tulaqa and did not give anything to the Ansar. The Ansar said, "When there is a difficulty, we are called, but the booty is given to other than us." The news reached the Prophet and he gathered them in a leather tent and said, "What is this news reaching me from you, O the group of Ansar?" They kept silent, He added," O the group of Ansar! Won't you be happy that the people take the worldly things and you take Allah's Apostle to your homes reserving him for yourself?" They said, "Yes." Then the Prophet said, "If the people took their way through a valley, and the Ansar took their way through a mountain pass, surely, I would take the Ansar's mountain pass." Hisham said, "O Abu Hamza (i.e. Anas)! Did you witness that? " He replied, "And how could I be absent from him?"
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے معاذ بن معاذ نے کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے انہوں نے ہشام بن زید بن انس بن مالکؓ سے انہوں نے ( اپنے دادا) انسؓ سے انہوں نے کہا جب حنین کا دن ہوا تو ہوازن اور غطفان قبیلے کے لوگ اپنے مویشی اور بال بچے سب ساتھ لے کر لڑنے آئے۔اور نبیﷺ کے ساتھ دس ہزار (صحابہ) تھے اور کچھ وہ لوگ جن کو آپﷺ نے احسان رکھ کر چھوڑ دیا تھا ۔ خیر یہ لوگ بھاگ نکلے ۔ نبیﷺ میدان جنگ میں اکیلے رہ گئے۔ اس دن آپﷺ نے دو آوازیں کیں الگ الگ پہلے داہنے طرف نگاہ پھیری اور پکارا انصاریو ! انہوں نے کہا یا رسول اللہﷺ خوش ہو جائیے۔ ہم آپﷺ کے ساتھ (لڑنے مرنے کو) حاضر ہیں۔پھر بائیں طرف نگاہ پھیری پکارا انصاریو ! انہوں نے کہا یا رسول اللہﷺ خوش ہو جائیے، ہم آپﷺ کے ساتھ (لڑنے مرنے کو) حاضر ہیں۔ آپﷺ ایک نقرہ خچر پر سوار تھے آخر اس پر سے اتر پڑے اور فرمانے لگے میں اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں پھر کافر بھاگ نکلے (ان کو شکست ہوئی) اور لوٹ کا مال بہت سا ہاتھ آیا ۔ آپﷺ نے وہ مال مہاجرین اور ان لوگوں کو جنکو احسان رکھ چھوڑ دیا تھا ، بانٹ دیا ، انصار کو کچھ نہیں دیا ۔اس وقت انصار کہنے لگے جب سخت وقت آیا ہے تو ہم بلائےجاتے ہیں اور لوٹ کا مال اوروں کو دیا جاتا ہے یہ خبر نبیﷺ کو پہنچی ۔ آپﷺ نے سب انصاریوں کو ایک ڈیرے میں جمع کیا ۔ پھر فرمایا انصاریو ! یہ کیا بات ہے جو مجھ کو تمہاری طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خاموش رہے (شرمندہ ہوگئے) آپﷺ نے فرمایا دیکھو تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا کا مال اسباب لے کر جائیں اور تم اللہ کےرسول اللہﷺ کو لے سدھارو (اپنے گھروں میں پیغمبر کو لے جاؤ) سبحان اللہ اس شرف پر ساری دنیا تصدق ہے) انہوں نے کہا ہم خوش ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا اگر لوگ ایک میدان کی طرف چلیں اور انصار دوسرے رستے چلیں تو میں انصار کے رستے پر چلوں ہشام نے (اپنے دادا انسؓ سے) کہا ابو حمزہ تم بھی اس وقت موجود تھے انہوں نے کہا موجود نہیں تو غائب کہاں ہوگیا تھا ۔
58. باب السَّرِيَّةِ الَّتِي قِبَلَ نَجْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَكُنْتُ فِيهَا، فَبَلَغَتْ سِهَامُنَا اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلْنَا بَعِيرًا بَعِيرًا، فَرَجَعْنَا بِثَلاَثَةَ عَشَرَ بَعِيرًا.
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet sent a Sariya towards Najd and I was in it, and our share from the booty amounted to twelve camels each, and we were given an additional camel each. So we returned with thirteen camels each.
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے ، انھوں نے نافع سے ا، انھوں نے ابن عمرؓ سے انھوں نے کہا نبیﷺ نے نجد کی طرف ایک ٹکری بھیجی ۔ میں اس میں شریک تھا ۔ ہم لوگوں کے حصّے میں بارہ بارہ اونٹ آئے اورا یک اونٹ اور زیادہ انعام کے طور پر ملا تو کل تیرہ تیرہ اونٹ ہم کو ملے ۔
59. باب بَعْثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَحَدَّثَنِي نُعَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا. فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا، صَبَأْنَا. فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ مِنْهُمْ وَيَأْسِرُ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقْتُلُ أَسِيرِي، وَلاَ يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَاهُ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ". مَرَّتَيْنِ.
Narrated By Salim's father : The Prophet sent Khalid bin Al-Walid to the tribe of Jadhima and Khalid invited them to Islam but they could not express themselves by saying, "Aslamna (i.e. we have embraced Islam)," but they started saying "Saba'na! Saba'na (i.e. we have come out of one religion to another)." Khalid kept on killing (some of) them and taking (some of) them as captives and gave every one of us his Captive. When there came the day then Khalid ordered that each man (i.e. Muslim soldier) should kill his captive, I said, "By Allah, I will not kill my captive, and none of my companions will kill his captive." When we reached the Prophet, we mentioned to him the whole story. On that, the Prophet raised both his hands and said twice, "O Allah! I am free from what Khalid has done."
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الرزاق نے کہا ، ہم کو معمر نے خبر دی ، دوسری سند اور مجھ سے نعیم بن حماد نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو معمر نے انہوں نے زہری سے انہوں نے سالم سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے انہو ں نے کہا نبیﷺ نے خالد بن ولید کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا۔انہوں نے سن ان کو اسلام کی دعوت دی وہ اچھی طرح یوں نہ کہہ سکے ہم اسلام لائے(گھبراہٹ میں ) کہنے لگے ہم نے اپنا دین بدل ڈالا ۔ خالد نے ان کو قتل کرنا شروع کیا اور ہر ایک مسلمان کا قیدی (حفاظت کے لئے ) اسی کے سپرد کردیا ۔ایک دن خالد نے یہ حکم دیا کہ ہر ایک مسلمان اپنے قیدی کو مار ڈالے ، میں نے کہا خدا کی قسم میں تو اپنے قیدی کو نہیں مارنے کا نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی اپنا قیدی مارے گا ۔ جب ہم نبیﷺ کے پاس پہنچے تو آپﷺ سے یہ قصّہ بیان کیا ۔ آپﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا دیا (دونوں ہاتھ اٹھائے ) اوردعا کی یا اللہ میں خالد بن ولید کے کام سے الگ ہوں ۔ دوبار یہ فرمایا۔
60. باب سَرِيَّةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ وَعَلْقَمَةَ بْنِ مُجَزِّزٍ الْمُدْلِجِيِّ وَيُقَالُ إِنَّهَا سَرِيَّةُ الأَنْصَارِى
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً فَاسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ، فَغَضِبَ فَقَالَ أَلَيْسَ أَمَرَكُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُطِيعُونِي. قَالُوا بَلَى. قَالَ فَاجْمَعُوا لِي حَطَبًا. فَجَمَعُوا، فَقَالَ أَوْقِدُوا نَارًا. فَأَوْقَدُوهَا، فَقَالَ ادْخُلُوهَا. فَهَمُّوا، وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يُمْسِكُ بَعْضًا، وَيَقُولُونَ فَرَرْنَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ النَّارِ. فَمَا زَالُوا حَتَّى خَمَدَتِ النَّارُ، فَسَكَنَ غَضَبُهُ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ".
Narrated By 'Ali : The Prophet sent a Sariya under the command of a man from the Ansar and ordered the soldiers to obey him. He (i.e. the commander) became angry and said "Didn't the Prophet order you to obey me!" They replied, "Yes." He said, "Collect fire-wood for me." So they collected it. He said, "Make a fire." When they made it, he said, "Enter it (i.e. the fire)." So they intended to do that and started holding each other and saying, "We run towards (i.e. take refuge with) the Prophet from the fire." They kept on saying that till the fire was extinguished and the anger of the commander abated. When that news reached the Prophet he said, "If they had entered it (i.e. the fire), they would not have come out of it till the Day of Resurrection. Obedience (to somebody) is required when he enjoins what is good."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے کہا ہم سے اعمش نے کہا مجھ سے سعد بن عبیدہ نے انہوں نے ابو عبد الرحمٰن سلمی سے انہوں نے حضرت علیؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے ایک فوج کی ٹکڑی بھیجی اس کا سردار ایک انصار ی مرد (عبداللہ بن حذافہ سہمی) کو کیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس کی اطاعت کرو ایک بار ایسا ہوا کہ اس انصاری مرد کو غصّہ آیا وہ لوگوں سے کہنے لگا کیا نبیﷺ نے تم کو میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا ہے لوگوں نے کہا کیوں نہیں بے شک دیا ہے تب اس نے کہا اچھا جلانے کی لکڑیاں جمع کرو لوگوں نے جمع کیں اس نے کہا آگ روشن کرو ۔آگ روشن کی ۔ اس نے کہا اب اس میں گھس جاؤ لوگوں نے قصد کیا کہ اس میں گھس جائیں مگر ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگا ہم نبیﷺ کے پاس اسی لئے بھاگ کر آئے کہ (قیامت کے دن)آگ سے بچیں ۔ خیر وہ یہی کہتے رہے یہاں تک کہ آگ بجھ گئی اور اس انصاری سردار کا غصّہ فرو ہو گیا ۔ یہ خبر نبیﷺ کو پہنچی تو آپﷺ نے فرمایا اگر گھس جاتے تو قیامت تک اس میں سے نہ نکلتے (وہیں مرکر رہ جاتے یا خودکشی کی سزا میں جلتے رہتے)اطاعت اسی کام میں ضروری ہے جو شریعت کے خلاف نہ ہو ۔