- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First23456Last ›

31. باب مَرْجَعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَحْزَابِ وَمَخْرَجِهِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ وَمُحَاصَرَتِهِ إِيَّاهُمْ

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلاَحَ وَاغْتَسَلَ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِلَى أَيْنَ ‏"‏‏.‏ قَالَ هَا هُنَا، وَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمْ‏

Narrated By 'Aisha : When the Prophet returned from Al-Khandaq (i.e. Trench) and laid down his arms and took a bath, Gabriel came and said (to the Prophet), You have laid down your arms? By Allah, we angels have not laid them down yet. So set out for them." The Prophet said, "Where to go?" Gabriel said, "Towards this side," pointing towards Banu Quraiza. So the Prophet went out towards them.

مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ جب خندق سے(مدینہ کو)لوٹے اور ہتھیا اتارے غسل کیا (گرد و غبار صاف کیا)تو حضرت جبریلؑ آپؐ کے پاس تشریف لائے کہنے لگے تم نے ہتھیار اتار ڈالے اور ہم فرشتوں نے تو واللہ ابھی تک ہتھیار نہیں کھولے چلو ان پر حملہ کرو آپؐ نے پوچھا کدھر انہوں نے کہا ادھر بنی قریظہ کی طرف اشارہ کیا آپؐ ان سے لڑنے کے لئے نکلے۔


حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُقَاقِ بَنِي غَنْمٍ مَوْكِبِ جِبْرِيلَ حِينَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ‏

Narrated By Anas : As if I am just now looking at the dust rising in the street of Banu Ghanm (in Medina) because of the marching of Gabriel's regiment when Allah's Apostle set out to Banu Quraiza (to attack them).

ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے جریر بن حازم نے انہوں نے حمید بن ہلال سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا جیسے میں (اس وقت) گرد دیکھ رہا ہوں جو بنی غنم(خزرج کا ایک خاندان) کی گلیوں میں اٹھی تھی۔وہ حضرت جبرائیلؑ کی سواری کی تھی یہ اس وقت کا ذکر ہے جب آپؐ بنی قریظہ سے لڑنے کے لئے چلے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ ‏"‏ لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلاَّ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ‏"‏‏.‏ فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي، لَمْ يُرِدْ مِنَّا ذَلِكَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ‏

Narrated By Ibn Umar : On the day of Al-Ahzab (i.e. Clans) the Prophet said, "None of you Muslims) should offer the 'Asr prayer but at Banu Quraiza's place." The 'Asr prayer became due for some of them on the way. Some of those said, "We will not offer it till we reach it, the place of Banu Quraiza," while some others said, "No, we will pray at this spot, for the Prophet did not mean that for us." Later on It was mentioned to the Prophet and he did not berate any of the two groups.

ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے جنگ خندق میں(جب جنگ ہو چکی)یوں فرمایا تم میں سے ہر شخص عصر کی نماز بنی قریظہ کے پاس پہنچ کر پڑھے اب نماز کا وقت رستے میں آن پہنچا تو بعضوں نے کہا ہم تو جب تک بنی قریظہ کے پاس نہ پہنچ لیں گے عصر کی نماز نہیں پڑھیں گے اور بعضوں نے کہا ہم نماز پڑھ لیتے ہیں۔کیوں کہ نبیﷺ کا یہ مطلب نہ تھا کہ ہم نماز قضا کردیں۔پھر نبیﷺ سے اس امر کا ذکر کیا گیا آپؐ نے کسی پر خفگی نہیں کی۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، وَحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّخَلاَتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ، وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ الَّذِينَ كَانُوا أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ‏.‏ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي تَقُولُ كَلاَّ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لاَ يُعْطِيكَهُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا، أَوْ كَمَا قَالَتْ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لَكِ كَذَا ‏"‏‏.‏ وَتَقُولُ كَلاَّ وَاللَّهِ‏.‏ حَتَّى أَعْطَاهَا، حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ ‏"‏‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ‏

Narrated By Anas : Some (of the Ansar) used to present date palm trees to the Prophet till Banu Quraiza and Banu An-Nadir were conquered (then he returned to the people their date palms). My people ordered me to ask the Prophet to return some or all the date palms they had given to him, but the Prophet had given those trees to Um Aiman. On that, Um Aiman came and put the garment around my neck and said, "No, by Him except Whom none has the right to be worshipped, he will not return those trees to you as he (i.e. the Prophet) has given them to me." The Prophet go said (to her), "Return those trees and I will give you so much (instead of them)." But she kept on refusing, saying, "No, by Allah," till he gave her ten times the number of her date palms.

مجھ سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا کہا ہم سے معتر بن سلیمان نے (دوسری سند) امام بخاری نے کہا اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا کہا ہم سے معتر بن سلیمان نے کہا میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا انصار میں کوئی کوئی ایسا کرتا کہ اپنے درختوں میں سے چند کھجور کے درخت نبیﷺ کو دیتا یہاں تک کہ اللہ نے بنی قریظہ اور بنی نضیر پر فتح دی انسؓ کہتے ہیں میرے گھر والوں نے مجھ کو نبیﷺ کے پاس اس لئے بھیجا کہ میں آپؐ سے وہ سب درخت یا ان میں کچھ واپس مانگوں جو انہوں نے نبیﷺ کو گزارنے تھے آپؐ نے درخت ام ایمن (اپنی کہلائی ) کو دیئے تھے اتنے میں ام ایمن آگئی اور میری گردن میں کپڑا ڈال کر جھڑکنے لگیں کہنے لگیں اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں یہ درخت نبیﷺ مجھ کو دے چکے ہیں اب تم کو واپس نہیں دینے کے یا ایسا ہی کچھ کہا (راوی کو شک ہے) اور نبیﷺ فرما رہے تھے ام ایمن تم اتنے درخت ان درختوں کے بدلے لے لو مگر وہ یہی کہے جاتی تھیں خدا کی قسم میں نہیں دوں گی یہاں تک کہ میں سمجھتا ہوں آپؐ نے ان سے فرمایا اچھا ان کے دس گنے درخت لے لو یا انسؓ نے کچھ ایسا ہی کہا۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى سَعْدٍ، فَأَتَى عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ لِلأَنْصَارِ ‏"‏ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ ـ أَوْ ـ خَيْرِكُمْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ ‏"‏ بِحُكْمِ الْمَلِكِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : The people of (Banu) Quraiza agreed to accept the verdict of Sad bin Mu'adh. So the Prophet sent for Sad, and the latter came (riding) a donkey and when he approached the Mosque, the Prophet said to the Ansar, "Get up for your chief or for the best among you." Then the Prophet said (to Sad)." These (i.e. Banu Quraiza) have agreed to accept your verdict." Sad said, "Kill their (men) warriors and take their offspring as captives, "On that the Prophet said, "You have judged according to Allah's Judgment," or said, "according to the King's judgment."

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے سعد بن ابراہیم سے کہا میں نے ابو امامہ سے سنا وہ کہتے تھے میں نے ابو سعید خدریؓ سے وہ کہتے تھے بنی قریظہ کے یہودی سعد بن معاذ کے فیصلے پر راضی ہو کر قلعہ سے اتر آئے نبیﷺ نے سعد کو بلا بھیجا وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے جب مسجد کے قریب پہنچے تو آپؐ نے انصار سے فرمایا اٹھو انپے سردار کو لو (اتارو) یا یوں فرمایا اٹھو اس کو لو جو سب میں بہتر ہے پھر سعد سے فرمایا کہ بنی قریظہ کے یہودی تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر اترے ہیں انھوں نے کہا یا رسول اللہ جو ان میں لڑائی کے قابل ہیں (مرد) وہ تو قتل کئے جائیں اور عورتیں بچے قیدی بنیں آپؐ نے فرمایا تو نے وہی فیصلہ کیا جیسے اللہ کا حکم تھا یا جیسے بادشاہ (یعنی خدا) کا حکم تھا۔


حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ ابْنُ الْعَرِقَةِ، رَمَاهُ فِي الأَكْحَلِ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلاَحَ وَاغْتَسَلَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ وَهْوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ، اخْرُجْ إِلَيْهِمْ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَأَيْنَ ‏"‏‏.‏ فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِهِ، فَرَدَّ الْحُكْمَ إِلَى سَعْدٍ، قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ، وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَعْدًا قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صلى الله عليه وسلم وَأَخْرَجُوهُ، اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَىْءٌ، فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّى أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ، وَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرْهَا، وَاجْعَلْ مَوْتَتِي فِيهَا‏.‏ فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ، فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلاَّ الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا، فَمَاتَ مِنْهَا رضى الله عنه‏

Narrated By 'Aisha : Sad was wounded on the day of Khandaq (i.e. Trench) when a man from Quraish, called Hibban bin Al-'Araqa hit him (with an arrow). The man was Hibban bin Qais from (the tribe of) Bani Mais bin 'Amir bin Lu'ai who shot an arrow at Sad's medial arm vein (or main artery of the arm). The Prophet pitched a tent (for Sad) in the Mosque so that he might be near to the Prophet to visit. When the Prophet returned from the (battle) of Al-Khandaq (i.e. Trench) and laid down his arms and took a bath Gabriel came to him while he (i.e. Gabriel) was shaking the dust off his head, and said, "You have laid down the arms?" By Allah, I have not laid them down. Go out to them (to attack them)." The Prophet said, "Where?" Gabriel pointed towards Bani Quraiza. So Allah's Apostle went to them (i.e. Banu Quraiza) (i.e. besieged them). They then surrendered to the Prophet's judgment but he directed them to Sad to give his verdict concerning them. Sad said, "I give my judgment that their warriors should be killed, their women and children should be taken as captives, and their properties distributed." Narrated Hisham: My father informed me that 'Aisha said, "Sad said, "O Allah! You know that there is nothing more beloved to me than to fight in Your Cause against those who disbelieved Your Apostle and turned him out (of Mecca). O Allah! I think you have put to an end the fight between us and them (i.e. Quraish infidels). And if there still remains any fight with the Quraish (infidels), then keep me alive till I fight against them for Your Sake. But if you have brought the war to an end, then let this wound burst and cause my death thereby.' So blood gushed from the wound. There was a tent in the Mosque belonging to Banu Ghifar who were surprised by the blood flowing towards them. They said, 'O people of the tent! What is this thing which is coming to us from your side?' Behold! Blood was flowing profusely out of Sad's wound. Sad then died because of that."

ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا سعد کو جنگ خندق میں حبان بن عرفہ قریش کے ایک کافر نے تیر مارا وہ ہفت اندام کی رگ میں لگا (جس کا خون مشکل سے بند ہوتا ہے) نبیﷺ نےسعد کے لئے مسجد نبویؓ میں ایک ڈیرہ لگا دیا تاکہ نزدیک سے ان کو پوچھ لیا کریں جب آپﷺ جنگ خندق سے لوٹ کر آئے اور ہتھیار اتارے اور غسل کیا تو حضرت جبرئیلؑ آن پہنچے (ایک گھوڑے پر سوار) وہ اپنے سر سے گرد جھاڑ رہے تھے انہوں نے کہا یا رسول اللہﷺ آپؐ نے ہتھیار اتار ڈالے خدا کی قسم میں نے تو اب تک ہتھیار نہیں کھولے چلو بنی قریظہ کی طرف چلو آپ ان کے پاس پہنچے ( ان کو گھیر لیا) آخر آپﷺ کے فیصلے پر راضی ہو کر قلعہ سے اترے آپﷺ نے فرمایا سعد جو فیصلہ کرے وہ کرو پھر سعد آئے انہوں نے کہا میں تو یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جو لوگ ان میں لرائی کے قابل ہیں وہ قتل کئے جائیں عورت بچے قید کر لئے جائیں (لونڈی غلام بنیں ) اور ان کے مال و اسباب (مسلمانوں میں ) تقسیم ہو جائیں ہشام نے کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی سعد بن معاذ (جب زخمی ہوئے) تو انھوں نے یہ دعا کی یا اللہ تو جانتا ہے مجھ کو اس سے زیادہ کوئی عمل پسند نہیں ہے کہ میں تیری راہ میں ان لوگوں سے لڑوں جنہوں نے تیرے پیغمبر ﷺ کو جھٹلایا اور وطن سے نکال دیا (یعنی قریش کے کافروں سے) یا اللہ میں یہ سمجھتا ہوں تو نے ہماری ان کی لڑائی ختم کر دی پھر اگر قریش کی لڑائی ابھی باقی ہو تو مجھ کو ان سے لڑنے کے لئے زندہ رکھ تاکہ میں تیری راہ میں ان سے جہاد کروں اگر تو نے لڑائی ختم کر دی ہو تو پھر میرا زخم بہادے (اس کا خون جاری کردے) میں اسی میں مر جاؤں (شہادت پاؤں) اس دعا کے بعد ان کا خون سینہ سے بہہ نکلا مسجد کے لوگ تو اس وقت ڈرے کہ بنی غفار کا ڈیرہ جو مسجد میں لگا تھا خون بہہ بہہ کر اس طرف سے آنے لگا مسجد والوں نے پوچھا اجی ڈیرے والو یہ تمہاری طرف سے بہہ بہہ کر کیا آ رہا ہے دیکھا تو سعد کے زخم سے خون پھوٹ کر بہہ رہا ہے آخر وہ مرگئے اللہ ان سے راضی ہو ۔


حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِحَسَّانَ ‏"‏ اهْجُهُمْ ـ أَوْ هَاجِهِمْ ـ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ ‏"‏‏

Narrated By Al-Bara : The Prophet said to Hassan, "Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e, supports you)."

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ہم کو شعبہ نے خبر دی کہا مجھ کو عدی بن ثابت نے انھوں نے براء بن عازبؓ سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ نے حسان بن ثابت سے فرمایا مشرکوں کی ہجو کو جبرئیلؑ تیری مدد پرہیں۔


وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ‏"‏ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ ‏"‏‏

(Through another group of sub narrators) Al-Bara bin Azib said, "On the day of Quraiza's (besiege), Allah's Apostle said to Hassan bin Thabit, 'Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e. supports you).'"

ابراہیم بن طہمان نے شیبانی سے انہوں نے عدی بن ثابت سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے اتنا بڑھایا کہ رسول اللہﷺ نے بنی قریظہ کے دن حسان بن ثابتؓ سے یوں فرمایامشرکوں کی ہجو کر جبریلؑ تیری مدد پر ہیں۔

32. باب غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ

وَهْىَ غَزْوَةُ مُحَارِبِ خَصَفَةَ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ مِنْ غَطَفَانَ، فَنَزَلَ نَخْلاً‏.‏ وَهْىَ بَعْدَ خَيْبَرَ، لأَنَّ أَبَا مُوسَى جَاءَ بَعْدَ خَيْبَرَ

وَقَالَ لِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فِي غَزْوَةِ السَّابِعَةِ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْخَوْفَ بِذِي قَرَدٍ‏

Narrated Jabir bin Abdullah (RA): The Prophet(s.a.w) led his Companions in Fear Prayer in seventh Ghazwa, i.e., the Ghazwa of Dhat-ur-Riqa'. Ibn Abbas said, "The Prophet(s.a.w) offered the Fear Prayer at a place called Dhi-Qarad."

اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ہم کو عمران عطّار نے خبر دی انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے جابر بن عبداللؓہ انصاری سے کہ نبیﷺ نے اپنے اصحاب کو خوف کی نماز ساتویں غزوہ ذات الرقاع میں پڑھائی اور ابن عباسؓ نے کہا نبیﷺ نے (خوف کی) نماز ذی قرد میں پڑھی۔


وَقَالَ بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ جَابِرًا، حَدَّثَهُمْ صَلَّى النَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم بِهِمْ يَوْمَ مُحَارِبٍ وَثَعْلَبَةَ‏

Jabbir said that the Prophet(s.a.w) led the people in the Fear Prayer on the day of Muharib and Tha'laba(i.e., the day of the battle of Dhat-ur-Riqa').

اور بکر بن سوادہ نے کہا مجھ سے زیاد بن نافع نے بیان کیا انہوں نے ابو موسٰی (علی بن رباح) سے ان سے جابرؓ نے بیان کیا انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے محارب اور ثعلہ کی لڑائی میں صحابہ کو (خوف کی) نماز پڑھائی۔


وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ، سَمِعْتُ جَابِرًا، خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ فَلَقِيَ جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَ، فَلَمْ يَكُنْ قِتَالٌ، وَأَخَافَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَصَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَىِ الْخَوْفِ‏.‏ وَقَالَ يَزِيدُ عَنْ سَلَمَةَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْقَرَدِ‏

Jabir added, "The Prophet(s.a.w) set out for (the battle of) Dhat-ur-Riqa' at a place called Nakhl and he met a group of people from Ghatafan, but there was no clash(between them), and the people were afraid of each other, and the Prophet(s.a.w) offered the two Rak'at of the Fear Prayer." Narrated Salama: "I fought in the company of Prophet(s.a.w) on the day of Al-Qarad."

اور ابن اسحاق نے کہا میں نے وہب بن کیسان سے سنا وہ کہتے تھے میں نے جابر سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ نخل میں سے ذات الرقاع کی لڑائی میں گئے۔وہاں غطفان کے لوگ ملے مگر لڑائی نہیں ہوئی۔ ہر ایک نے دوسرے کو ڈرایا (مسلمانوں نے کافروں کو اور کافروں نے مسلمانوں کو) آخر نبیﷺ نے خوف کی نماز پڑھائی۔ اور زید بن ابی عبید نے سلمہ بن اکوع سے روایت کی کہ میں نے نبیﷺ کے ساتھ قرد کے دن جہاد کیا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ، فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمَاىَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، وَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ، لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا، وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا، ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ، قَالَ مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ‏.‏ كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَىْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ‏.

Narrated By Abu Burda : Abu Musa said, "We went out in the company of the Prophet for a Ghazwa and we were six persons having one camel which we rode in rotation. So, (due to excessive walking) our feet became thin and my feet became thin and my nail dropped, and we used to wrap our feet with the pieces of cloth, and for this reason, the Ghazwa was named Dhat-ur-Riqa as we wrapped our feet with rags." When Abu- Musa narrated this (Hadith), he felt regretful to do so and said, as if he disliked to have disclosed a good deed of his.

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ سے انہوں نے اپنے دادا ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے انہوں نے کہا ہم چھ آدمی نبیﷺ کے ساتھ ایک لڑائی میں نکلے ہم چھیہوں آدمیوں کے لئے ایک ہی اونٹ تھا باری باری اس پر سوار ہوا کرتے آخر چلتے چلتے ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے تو پاؤں پھٹ کر ناخن بھی گر پڑے تو ہم کیا کرتے اپنے پاؤں پر چیتھڑے(چندیاں) لپیٹ لیتے اسی سے اس لڑائی کا نام ذات الرقاع ہوا (یعنی چیتھڑے والی لڑائی ) کیونکہ پاؤں پر ،پھٹ جانے کی وجہ سے چیتھڑے باندھتے اور ابو موسیٰ اشعریؓ نے (پہلے) یہ حدیث بیان کی پھر انہوں نے اس کا بیان کرنا برا سمجھا انہوں نے کہا ہم نے یہ جو محنت (اللہ کی راہ میں) اٹھائی تھی تو اس لئے نہیں اٹھائی تھی کہ اس کو بیان کریں ان کو اپنے نیک عمل کا ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَمَّنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَّى صَلاَةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ، وَطَائِفَةٌ وُجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا، وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَصَفُّوا وُجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمِ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلاَتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا، وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ‏

Narrated By Salih bin Khawwat : Concerning those who witnessed the Fear Prayer that was performed in the battle of Dhat-ur-Riqa' in the company of Allah's Apostle; One batch lined up behind him while another batch (lined up) facing the enemy. The Prophet led the batch that was with him in one Rak'a, and he stayed in the standing posture while that batch completed their (two Rakat) prayer by themselves and went away, lining in the face of the enemy, while the other batch came and he (i.e. the Prophet) offered his remaining Rak'a with them, and then, kept on sitting till they completed their prayer by themselves, and he then finished his prayer with Taslim along with them.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے یزید بن رومان سے انہوں نے صالح بن خوات سے انھوں نے ایک شخص سے جو غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھا خوف کی نماز پڑھی تھی اس نے کہا ایک گروہ نے نبیﷺ کے ساتھ (نماز میں) صف باندھی اور ایک گروہ دشمن کے مقابل رہا آپؐ نے اس گروہ کے ساتھ جو آپؐ کے پیچھے تھا ایک رکعت پڑھی پھر آپؐ(چپ چاپ ) کھڑے رہے اور مقتدی ایک رکعت اور پڑھ کر اپنی نماز پوری کر کے لوٹ گئے دشمن کے مقابل صف باندھی اب دوسرا گروہ آیا (جو دشمن کے مقابل تھا) آپؐ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی جو آپؐ کی نماز میں باقی رہی تھی پھر آپؐ (چپ چاپ) بیٹھے رہے اور مقتدیوں نے ایک رکعت ایک پڑھ کر اپنی نماز پوری کی پھر ان کے ساتھ آپؐ نے سلام پھیرا ۔


وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَخْلٍ‏.‏ فَذَكَرَ صَلاَةَ الْخَوْفِ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ‏.‏ تَابَعَهُ اللَّيْثُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ‏.‏

Narrated Ibn Az-Zubair: Jabir said, "We were with the Prophet at Nakhl," and then he mentioned the fear prayer. Narrated Al-Qasim bin Muhammad: The Prophet offered the Fear prayer in the Ghazwa of Banu Anmar.

اور معاذ بن ہشام نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا انہوں نے ابو زبیر سے انہوں نے جابرؓ سے انہوں نے کہا ہم نخل میں نبیﷺ کے ساتھ تھے پھر خوف کی نماز کا ذکر کیا (جیسے اوپر گزرا) امام مالک نے کہا خوف کی نماز میں سب سے عمدہ یہی روایت ہے جو میں نے سنی معاذ بن ہشام کے ساتھ اس حدیث کو لیث بن سعد نے بھی ہشام بن سعد مدنی سے انھوں نے زید بن اسلم سے روایت کیا ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ نبیﷺ نے خوف کی نماز غزوہ بنی انمار میں پڑھی۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ يَقُومُ الإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ، وُجُوهُهُمْ إِلَى الْعَدُوِّ، فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَقُومُونَ، فَيَرْكَعُونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ، ثُمَّ يَذْهَبُ هَؤُلاَءِ إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَهُ ثِنْتَانِ، ثُمَّ يَرْكَعُونَ وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ‏.‏ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَحْيَى، سَمِعَ الْقَاسِمَ، أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلٍ، حَدَّثَهُ قَوْلَهُ‏.‏

Narrated By Sahl bin Abi Hathma : (Describing the Fear prayer): The Imam stands up facing the Qibla and one batch of them (i.e. the army) (out of the two) prays along with him and the other batch faces the enemy. The Imam offers one Rak'a with the first batch they themselves stand up alone and offer one bowing and two prostrations while they are still in their place, and then go away to relieve the second batch, and the second batch comes (and takes the place of the first batch in the prayer behind the Imam) and he offers the second Rak'a with them. So he completes his two-Rak'at and then the second batch bows and prostrates two prostrations (i.e. complete their second Rak'a and thus all complete their prayer)

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انہوں نے قاسم بن محمد سے انہوں نے صالح بن خوات سے انہوں نے سہل بن ابی حثمہ سے انہوں نے کہا (خوف کی نماز میں) امام قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو اور ایک گروہ ( مسلمانوں کا) امام کے پیچھے ایک گروہ دشمن کی طرف منہ کئے ہوئےکھڑا ہو جو لوگ امام کے پیچھے ہیں ان کے ساتھ امام ایک رکعت پڑھے (اب امام چپکا کھڑا رہے) مقتدی کھڑے ہو کر اپنے اپنے لئے ایک رکعت ایک پڑھ لیں اسی جگہ دو سجدے کر کے پھر ان لوگوں کی جگہ چلے جائیں جو دشمن کے رو برو کھڑے ہیں اب وہ لوگ آئیں ایک رکعت ان کے ساتھ امام پڑھے تو امام کی دو رکعتیں ہوگئیں یہ لوگ ایک رکعت ایک اپنے اپنے لئے پڑھیں اور دو دو سجدے کریں(پھر امام اور یہ لوگ سب سلام پھیریں)۔ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انھوں نے شعبہ سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے انھوں نے اپنے والد قاسم بن محمد سے انھوں نے سالح بن خوات سے انھوں نے سہل بن ابی حثمہ سے انھوں نے نبیﷺ سے ایسی ہی حدیث۔ مجھ سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا کہا مجھ سے ابن ابی حازم نے انھوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انھوں نے قاسم بن محمد سے سنا وہ کہتے تھے مجھ کو صالح بن خوات نے خبر دی انھوں نے سہل بن ابی حثمہ سے ان کا قول بیان کیا


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَصَافَفْنَا لَهُمْ‏

Narrated By Ibn 'Umar : I took part in a Ghazwa towards Najd along with Allah's Apostle and we clashed with the enemy, and we lined up for them.

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو سالم نے خبر دی ان کے والد عبداللہ بن عمرؓ نے کہا میں نے نبیﷺ کے ساتھ نجد کی طرف ( غطفان پر) جہاد کیا ہم لوگ دشمن کے مقابل کھڑے ہوئے اور صف باندھی۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، فَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَامَ هَؤُلاَءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، وَقَامَ هَؤُلاَءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle led the Fear-prayer with one of the two batches of the army while the other (batch) faced the enemy. Then the first batch went away and took places of their companions (i.e. second batch) and the second batch came and he led his second Rak'a with them. Then he (i.e. the Prophet: finished his prayer with Taslim and then each of the two batches got up and completed their remaining one Rak'a.

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے کہا ہم سے معمر نے انہوں نے زہری سے انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے اپنے والد سے کہ رسول اللہﷺ نے خوف کی نماز پہلے ایک گروہ کے ساتھ شروع کی دوسرا گروہ دشمن کی طرف منہ کئے ہوئے کھڑا رہا پھر ایک رکعت پڑھ کر یہ گروہ لوٹ گیا اور دوسرے گروہ کی جگہ(پر جو دشمن کے مقابل تھا)کھڑا ہو گیا اب وہ آئے ان کے ساتھ بھی آپؐ نے ایک رکعت پڑھی پھر آپؐ نے سلام پھیر دیا اور یہ گروہ کھڑا ہوا اس نے ایک رکعت ( جو باقی رہی تھی ادا کی) اور دوسرا گروہ بھی کھڑا ہوا اس نے بھی ایک رکعت جو باقی تھی ادا کی۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سِنَانٌ، وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ جَابِرًا، أَخْبَرَ أَنَّهُ، غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ نَجْدٍ‏

Narrated By Sinan and Abu Salama : Jabir mentioned that he had participated in a Ghazwa towards Najd in the company of Allah's Apostle.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم سے شعیب بن ابی حمزہؓ نے انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ سے سنان بن ابی سنان اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ان کو جابرؓ نے خبر دی انہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ سَمُرَةٍ، فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، قَالَ جَابِرٌ فَنِمْنَا نَوْمَةً، ثُمَّ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُونَا، فَجِئْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي، وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ، وَهْوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا، فَقَالَ لِي مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قُلْتُ اللَّهُ‏.‏ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : That he fought in a Ghazwa towards Najd along with Allah's Apostle and when Allah's Apostle returned, he too, returned along with him. The time of the afternoon nap overtook them when they were in a valley full of thorny trees. Allah's Apostle dismounted and the people dispersed amongst the thorny trees, seeking the shade of the trees. Allah's Apostle took shelter under a Samura tree and hung his sword on it. We slept for a while when Allah's Apostle suddenly called us, and we went to him, to find a bedouin sitting with him. Allah's Apostle said, "This (bedouin) took my sword out of its sheath while I was asleep. When I woke up, the naked sword was in his hand and he said to me, 'Who can save you from me?, I replied, 'Allah.' Now here he is sitting." Allah's Apostle did not punish him (for that).

ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے بھائی عبد الحمید نے انہوں نے سلیمان بن بلال سے انہوں نے محمد بن ابی عتیق سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے سنان بن ابی سنان دؤلی سے انہوں نے جابر بن عبداللہ سے انہوں نےرسول اللہﷺ کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا جب آپؐ وہاں سے لوٹے تو میں بھی آپؐ کے ساتھ لوٹا اتفاق سے دوپہر دن کو ایسے مقام میں پہنچے جہاں کانٹے دار درخت بہت تھے رسول اللہﷺ وہاں اترپڑے آپؐ کے ساتھ لوگ جدا جدا درختوں کے سایہ میں ٹھہرے آپؐ ایک کیکر کے درخت کے تلے ٹھہرے اور تلوار درخت سے لٹکادی (آپؐ سوگئے ) جابرؓ کہتے ہیں ہم لوگ بھی ذرا سو رہے ایک ہی ایکا کیا دیکھتے ہیں رسول اللہﷺ ہم کو بلا رہے ہیں ہم آئیں دیکھا تو آپؐ کے ساتھ گنوار بیٹھا ہے (بدو) آپؐ نے فرمایا ابھی اس گنوار نے کیا کیا میں سو رہا تھا میری تلوار سونت لی میں جاگا تو ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں دیکھی کہنے لگا اب میرے ہاتھ سے تم کو کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا دیکھو وہ گنوار یہ بیٹھا ہے پھر آپؐ نے اس کو کوئی سزا نہ دی۔


وَقَالَ أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَإِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَةِ فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ تَخَافُنِي قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرُوا، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعٌ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَيْنِ‏.‏ وَقَالَ مُسَدَّدٌ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ اسْمُ الرَّجُلِ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ، وَقَاتَلَ فِيهَا مُحَارِبَ خَصَفَةَ‏

Through another group of narrators, Jabir said, "We were in the company of the Prophet (during the battle of) Dhat-ur-Riqa', and we came across a shady tree and we left it for the Prophet (to take rest under its shade). A man from the pagans came while the Prophet's sword was hanging on the tree. He took it out of its sheath secretly and said (to the Prophet), 'Are you afraid of me?' The Prophet said, 'No.' He said, 'Who can save you from me?' The Prophet said, Allah.' The companions of the Prophet threatened him, then the Iqama for the prayer was announced and the Prophet offered a two Rakat Fear prayer with one of the two batches, and that batch went aside and he offered two Rak'a-t with the other batch. So the Prophet offered four Rakat but the people offered two Rakat only." (The sub-narrator) Abu Bishr added, "The man was Ghaurath bin Al-Harith and the battle was waged against Muharib Khasafa."

اور ابان بن یزید نے کہا ہم سے یحیٰی بن ابی کثیر نے بیان کیا انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے انہوں نے جابرؓ سے انہوں نے کہا ہم غزوہ ذات الرقاع میں نبیﷺ کے ساتھ تھے اتنے میں ایک درخت بہت سایہ دار نظر آیا ہم نے وہ درخت آپؐ کے اترنے (آرام لینے ) کے لئے چھوڑ دیا اتنے میں ایک مشرک مرد آیا اور آپؐ کی تلوار جو درخت سے لٹکی تھی اس نے لے کر سونت لی کہنے لگاآپؐ مجھ سے ڈرتے ہیں یا نہیں آپؐ نے فرمایا میں نہیں ڈرتا کہنے لگا آپؐ کو کون بچائے گا آپؐ نے فرمایا اللہ بچانے والا ہے آخر آپؐ کے اصحاب نے اس کو دھمکایا اور نماز کی تکبیر ہوئی آپؐ نے ایک گروہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں پھر وہ ہٹ گئے (دشمن کے سامنے چلے گئے ) اب آپؐ نے دوسرے گروہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں تو نبیﷺ نے چار رکعتیں پڑھیں (دو فرض دو نفل) اور لوگوں نے دو رکعتیں پڑھیں اور مسدد نے ابو عوانہ سے روایت کی انہوں نے ابو بشر (جعفر بن ابی وحشیہ) سے کہ اس شخص کا نام غورث بن حرث تھا اور آپؐ نے اس جنگ میں محارب خصفہ کے لوگوں سے لڑائی کی تھی۔


وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَخْلٍ فَصَلَّى الْخَوْفَ‏.‏ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ نَجْدٍ صَلاَةَ الْخَوْفِ‏.‏ وَإِنَّمَا جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَيَّامَ خَيْبَرَ‏

Jabir added, "We were with the Prophet at Nakhl and he offered the Fear prayer." Abu Huraira said, "I offered the Fear prayer with the Prophet during the Ghazwa (i.e. the battle) of Najd." Abu Huraira came to the Prophet during the day of Khaibar.

اور ابو زبیر نے جابرؓ سے یو ں روایت کی ہم نبیﷺ کے ساتھ تھے نخل میں ( جو ایک مقام کا نام ہے) آپؐ نے خوف کی نماز پڑھی اور ابو ہریرہؓ نے کہا میں نے نبیﷺ کے ساتھ نجد کے جہاد میں خوف کی نماز پڑھی حالانکہ ابو ہریرہؓ خیبر کے دنوں میں نبیﷺ کے پاس آئے تھے۔

33. باب غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ وَهْىَ غَزْوَةُ الْمُرَيْسِيعِ

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَذَلِكَ سَنَةَ سِتٍّ‏.‏ وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ سَنَةَ أَرْبَعٍ‏.‏ وَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ كَانَ حَدِيثُ الإِفْكِ فِي غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ،، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْىِ الْعَرَبِ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ، وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ، وَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ وَهْىَ كَائِنَةٌ ‏"‏‏

Narrated By Ibn Muhairiz : I entered the Mosque and saw Abu Said Al-Khudri and sat beside him and asked him about Al-Azl (i.e. coitus interruptus). Abu Said said, "We went out with Allah's Apostle for the Ghazwa of Banu Al-Mustaliq and we received captives from among the Arab captives and we desired women and celibacy became hard on us and we loved to do coitus interruptus. So when we intended to do coitus interrupt us, we said, 'How can we do coitus interruptus before asking Allah's Apostle who is present among us?" We asked (him) about it and he said, 'It is better for you not to do so, for if any soul (till the Day of Resurrection) is predestined to exist, it will exist."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم کو اسمٰعیل بن جعفر نے خبر دی انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے انہوں نے ابن محیریز سے انہوں نے کہا میں مسجد نبویﷺ میں گیا میں نے ابو سعید خدریؓ کو وہاں دیکھا میں نے اسے عزل کا مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے وہاں ہم نے عرب لوگوں کو قید کیا عورتوں کی ہم کو بہت خواہش ہوئی۔بے عورت رہنا مشکل ہوگیا ہم نے چاہا عزل کریں پھر ہم نے کہا کہ عزل کیسے کریں رسول اللہﷺ ہم میں موجود ہیں آپؐ سے پوچھ لیں تو عزل کریں آخر ہم نے پوچھا آپؐ نے فرمایا عزل کرنے میں کیا برائی ہے کیوں نہیں کرتے اللہ کے علم میں قیامت تک جو جان(دنیا میں) آنے والی ہے وہ ضرور آئے گی۔


حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ نَجْدٍ، فَلَمَّا أَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ وَهْوَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَاسْتَظَلَّ بِهَا وَعَلَّقَ سَيْفَهُ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الشَّجَرِ يَسْتَظِلُّونَ، وَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْنَا، فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاخْتَرَطَ سَيْفِي فَاسْتَيْقَظْتُ، وَهْوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، مُخْتَرِطٌ صَلْتًا، قَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قُلْتُ اللَّهُ‏.‏ فَشَامَهُ، ثُمَّ قَعَدَ، فَهْوَ هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالَ وَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : We took part in the Ghazwa of Najd along with Allah's Apostle and when the time for the afternoon rest approached while he was in a valley with plenty of thorny trees, he dismounted under a tree and rested in its shade and hung his sword (on it). The people dispersed amongst the trees in order to have shade. While we were in this state, Allah's Apostle called us and we came and found a bedouin sitting in front of him. The Prophet said, "This (Bedouin) came to me while I was asleep, and he took my sword stealthily. I woke up while he was standing by my head, holding my sword without its sheath. He said, 'Who will save you from me?' I replied, 'Allah.' So he sheathed it (i.e. the sword) and sat down, and here he is." But Allah's Apostle did not punish him.

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے انہوں نے کہا ہم نے نجد کی طرف رسول اللہﷺ کے ساتھ جہاد کیا اتفاق سے دوپہر کا وقت ایسے جنگل میں آیا جہاں کانٹے دار درخت بہت تھے آپؐ ایک درخت کے سایہ میں اترے اور تلوار درخت سے لٹکا دی(تو آپؐ کے ہمراہی) جدا جدا درختوں کے سایہ میں اترے اسی اثناء میں ہم کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہم کو بلا رہے ہیں خیر ہم گئے دیکھا تو ایک گنوار آپؐ کے سامنے بیٹھا ہے آپؐ نے فرمایا ابھی یہ گنوار میرے پاس آیا میں سورہا تھا اس نے کیا کیا میری تلوار سونت لی میں جاگا تو کیا دیکھتا ہوں ننگی تلوار لئے میرے سر پر کھڑا ہے کہنے لگا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچانے والا ہے یہ سنتے ہی اس نے تلوار نیام میں کر لی اور بیٹھ گیا دیکھو یہ بیٹھا ہے جابرؓ نے کہا رسول اللہﷺ نے اس کو کوئی سزا نہ دی۔

34. باب غَزْوَةُ أَنْمَارٍ

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ، مُتَوَجِّهًا قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُتَطَوِّعًا‏

Narrated By Jabir bin Abdullah Al-Ansari : I saw the Prophet offering his Nawafil prayer on his Mount facing the East during the Ghazwa of Anmar.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے کہا ہم سے عثمان بن عبداللہ بن سراقہؓ نے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے انہوں نے کہا میں نے غزوہ انمار میں نبیﷺ کو اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے دیکھا آپؐ کا منہ یورپ کی طرف تھا آپؐ نفل نماز پڑھ رہے تھے ۔

35. باب حَدِيثُ الإِفْكِ

وَالأَفَكِ بِمَنْزِلَةِ النَّجْسِ وَالنَّجَسِ‏.‏ يُقَالُ إِفْكُهُمْ‏

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا، وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ لَهُ اقْتِصَاصًا، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ، قَالُوا قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ، فَأَيُّهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا، خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ، فَكُنْتُ أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأُنْزَلُ فِيهِ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوَتِهِ تِلْكَ وَقَفَلَ، دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَافِلِينَ، آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ، فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ، فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى رَحْلِي، فَلَمَسْتُ صَدْرِي، فَإِذَا عِقْدٌ لِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدِ انْقَطَعَ، فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي، فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ، قَالَتْ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ كَانُوا يُرَحِّلُونِي فَاحْتَمَلُوا هَوْدَجِي، فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِي الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ عَلَيْهِ، وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنِّي فِيهِ، وَكَانَ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يَهْبُلْنَ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ، إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ خِفَّةَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَفَعُوهُ وَحَمَلُوهُ، وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ، فَبَعَثُوا الْجَمَلَ فَسَارُوا، وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ، فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا مِنْهُمْ دَاعٍ وَلاَ مُجِيبٌ، فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ بِهِ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَىَّ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ، وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ، فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ، فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي، وَكَانَ رَآنِي قَبْلَ الْحِجَابِ، فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي، فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي، وَاللَّهِ مَا تَكَلَّمْنَا بِكَلِمَةٍ وَلاَ سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ، وَهَوَى حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا، فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَرَكِبْتُهَا، فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، وَهُمْ نُزُولٌ ـ قَالَتْ ـ فَهَلَكَ ‏{‏فِيَّ‏}‏ مَنْ هَلَكَ، وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَ الإِفْكِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ ابْنَ سَلُولَ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ كَانَ يُشَاعُ وَيُتَحَدَّثُ بِهِ عِنْدَهُ، فَيُقِرُّهُ وَيَسْتَمِعُهُ وَيَسْتَوْشِيهِ‏.‏ وَقَالَ عُرْوَةُ أَيْضًا لَمْ يُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الإِفْكِ أَيْضًا إِلاَّ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ، وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِينَ، لاَ عِلْمَ لِي بِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ ـ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ـ وَإِنَّ كُبْرَ ذَلِكَ يُقَالُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ كَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ، وَتَقُولُ إِنَّهُ الَّذِي قَالَ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْتُ شَهْرًا، وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَصْحَابِ الإِفْكِ، لاَ أَشْعُرُ بِشَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ، وَهْوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لاَ أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي، إِنَّمَا يَدْخُلُ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ كَيْفَ تِيكُمْ ‏"‏ ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَذَلِكَ يَرِيبُنِي وَلاَ أَشْعُرُ بِالشَّرِّ، حَتَّى خَرَجْتُ حِينَ نَقَهْتُ، فَخَرَجْتُ مَعَ أُمِّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ، وَكَانَ مُتَبَرَّزَنَا، وَكُنَّا لاَ نَخْرُجُ إِلاَّ لَيْلاً إِلَى لَيْلٍ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا‏.‏ قَالَتْ وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الأُوَلِ فِي الْبَرِّيَّةِ قِبَلَ الْغَائِطِ، وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا، قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهْىَ ابْنَةُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ بَيْتِي، حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَ مَا قُلْتِ، أَتَسُبِّينَ رَجُلاً شَهِدَ بَدْرًا فَقَالَتْ أَىْ هَنْتَاهْ وَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ قَالَتْ وَقُلْتُ مَا قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ ـ قَالَتْ ـ فَازْدَدْتُ مَرَضًا عَلَى مَرَضِي، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ تِيكُمْ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَىَّ قَالَتْ وَأُرِيدُ أَنْ أَسْتَيْقِنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا، قَالَتْ فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقُلْتُ لأُمِّي يَا أُمَّتَاهُ مَاذَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ قَالَتْ يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكِ، فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةً عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلاَّ كَثَّرْنَ عَلَيْهَا‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوَلَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، حَتَّى أَصْبَحْتُ لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ، وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْكِي ـ قَالَتْ ـ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْىُ يَسْأَلُهُمَا وَيَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ ـ قَالَتْ ـ فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ، وَبِالَّذِي يَعْلَمُ لَهُمْ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ أُسَامَةُ أَهْلَكَ وَلاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَيْرًا‏.‏ وَأَمَّا عَلِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ، وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ، وَسَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ‏.‏ قَالَتْ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرِيرَةَ فَقَالَ ‏"‏ أَىْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَىْءٍ يَرِيبُكِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ، غَيْرَ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا، فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ ـ قَالَتْ ـ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَوْمِهِ، فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَهْوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي عَنْهُ أَذَاهُ فِي أَهْلِي، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ خَيْرًا، وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلاً مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا، وَمَا يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلاَّ مَعِي ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْذِرُكَ، فَإِنْ كَانَ مِنَ الأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ‏.‏ قَالَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْخَزْرَجِ، وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بِنْتَ عَمِّهِ مِنْ فَخِذِهِ، وَهْوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَهْوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ ـ قَالَتْ ـ وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلاً صَالِحًا، وَلَكِنِ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدٍ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لاَ تَقْتُلُهُ، وَلاَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ، وَلَوْ كَانَ مِنْ رَهْطِكَ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ يُقْتَلَ‏.‏ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ـ وَهْوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدٍ ـ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ، فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ‏.‏ قَالَتْ فَثَارَ الْحَيَّانِ الأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ ـ قَالَتْ ـ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ ـ قَالَتْ ـ فَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَلِكَ كُلَّهُ، لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ، وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ـ قَالَتْ ـ وَأَصْبَحَ أَبَوَاىَ عِنْدِي، وَقَدْ بَكَيْتُ لَيْلَتَيْنِ وَيَوْمًا، لاَ يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ، وَلاَ أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، حَتَّى إِنِّي لأَظُنُّ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي، فَبَيْنَا أَبَوَاىَ جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَىَّ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَذِنْتُ لَهَا، فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي ـ قَالَتْ ـ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ ـ قَالَتْ ـ وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ مَا قِيلَ قَبْلَهَا، وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لاَ يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَىْءٍ ـ قَالَتْ ـ فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ، يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا، فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً، فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً، فَقُلْتُ لأَبِي أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِّي فِيمَا قَالَ‏.‏ فَقَالَ أَبِي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقُلْتُ لأُمِّي أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا قَالَ‏.‏ قَالَتْ أُمِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لاَ أَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرًا إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ سَمِعْتُمْ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي أَنْفُسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ، فَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ لاَ تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي مِنْهُ بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُنِّي، فَوَاللَّهِ لاَ أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلاً إِلاَّ أَبَا يُوسُفَ حِينَ قَالَ ‏{‏فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ‏}‏ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ وَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي حِينَئِذٍ بَرِيئَةٌ، وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ مُنْزِلٌ فِي شَأْنِي وَحْيًا يُتْلَى، لَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ، وَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا، فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَجْلِسَهُ، وَلاَ خَرَجَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ، حَتَّى أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِنَ الْعَرَقِ مِثْلُ الْجُمَانِ وَهْوَ فِي يَوْمٍ شَاتٍ، مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ ـ قَالَتْ ـ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَضْحَكُ، فَكَانَتْ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَكِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ‏.‏ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقُومُ إِلَيْهِ، فَإِنِّي لاَ أَحْمَدُ إِلاَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ـ قَالَتْ ـ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ‏}‏ الْعَشْرَ الآيَاتِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي بَرَاءَتِي‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ـ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ ـ وَاللَّهِ لاَ أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ وَلاَ يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏غَفُورٌ رَحِيمٌ‏}‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ وَاللَّهِ لاَ أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي، فَقَالَ لِزَيْنَبَ ‏"‏ مَاذَا عَلِمْتِ أَوْ رَأَيْتِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلاَّ خَيْرًا‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَهْىَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ ـ قَالَتْ ـ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ تُحَارِبُ لَهَا، فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِ هَؤُلاَءِ الرَّهْطِ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ ما قِيلَ لَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا كَشَفْتُ مِنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ‏.‏ قَالَتْ ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ‏

Narrated By 'Aisha : Whenever Allah's Apostle intended to go on a journey, he used to draw lots amongst his wives, and Allah's Apostle used to take with him the one on whom lot fell. He drew lots amongst us during one of the Ghazwat which he fought. The lot fell on me and so I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed. I was carried (on the back of a camel) in my howdah and carried down while still in it (when we came to a halt). So we went on till Allah's Apostle had finished from that Ghazwa of his and returned. When we approached the city of Medina he announced at night that it was time for departure. So when they announced the news of departure, I got up and went away from the army camps, and after finishing from the call of nature, I came back to my riding animal. I touched my chest to find that my necklace which was made of Zifar beads (i.e. Yemenite beads partly black and partly white) was missing. So I returned to look for my necklace and my search for it detained me. (In the meanwhile) the people who used to carry me on my camel, came and took my howdah and put it on the back of my camel on which I used to ride, as they considered that I was in it. In those days women were light in weight for they did not get fat, and flesh did not cover their bodies in abundance as they used to eat only a little food. Those people therefore, disregarded the lightness of the howdah while lifting and carrying it; and at that time I was still a young girl. They made the camel rise and all of them left (along with it). I found my necklace after the army had gone. Then I came to their camping place to find no call maker of them, nor one who would respond to the call. So I intended to go to the place where I used to stay, thinking that they would miss me and come back to me (in my search). While I was sitting in my resting place, I was overwhelmed by sleep and slept. Safwan bin Al-Muattal As-Sulami Adh-Dhakwani was behind the army. When he reached my place in the morning, he saw the figure of a sleeping person and he recognized me on seeing me as he had seen me before the order of compulsory veiling (was prescribed). So I woke up when he recited Istirja' (i.e. "Inna lillahi wa inna ilaihi raji'un") as soon as he recognized me. I veiled my face with my head cover at once, and by Allah, we did not speak a single word, and I did not hear him saying any word besides his Istirja'. He dismounted from his camel and made it kneel down, putting his leg on its front legs and then I got up and rode on it. Then he set out leading the camel that was carrying me till we overtook the army in the extreme heat of midday while they were at a halt (taking a rest). (Because of the event) some people brought destruction upon themselves and the one who spread the Ifk (i.e. slander) more, was 'Abdullah bin Ubai Ibn Salul." (Urwa said, "The people propagated the slander and talked about it in his (i.e. 'Abdullah's) presence and he confirmed it and listened to it and asked about it to let it prevail." Urwa also added, "None was mentioned as members of the slanderous group besides ('Abdullah) except Hassan bin Thabit and Mistah bin Uthatha and Hamna bint Jahsh along with others about whom I have no knowledge, but they were a group as Allah said. It is said that the one who carried most of the slander was 'Abdullah bin Ubai bin Salul." Urwa added, "'Aisha disliked to have Hassan abused in her presence and she used to say, 'It was he who said: My father and his (i.e. my father's) father and my honour are all for the protection of Muhammad's honour from you."). 'Aisha added, "After we returned to Medina, I became ill for a month. The people were propagating the forged statements of the slanderers while I was unaware of anything of all that, but I felt that in my present ailment, I was not receiving the same kindness from Allah's Apostle as I used to receive when I got sick. (But now) Allah's Apostle would only come, greet me and say,' How is that (lady)?' and leave. That roused my doubts, but I did not discover the evil (i.e. slander) till I went out after my convalescence, I went out with Um Mistah to Al-Manasi' where we used to answer the call of nature and we used not to go out (to answer the call of nature) except at night, and that was before we had latrines near our houses. And this habit of our concerning evacuating the bowels, was similar to the habits of the old 'Arabs living in the deserts, for it would be troublesome for us to take latrines near our houses. So I and Um Mistah who was the daughter of Abu Ruhm bin Al-Muttalib bin Abd Manaf, whose mother was the daughter of Sakhr bin 'Amir and the aunt of Abu Bakr As-Siddiq and whose son was Mistah bin Uthatha bin 'Abbas bin Al-Muttalib, went out. I and Um Mistah returned to my house after we finished answering the call of nature. Um Mistah stumbled by getting her foot entangled in her covering sheet and on that she said, 'Let Mistah be ruined!' I said, 'What a hard word you have said. Do you abuse a man who took part in the battle of Badr?' On that she said, 'O you Hantah! Didn't you hear what he (i.e. Mistah) said? 'I said, 'What did he say?' Then she told me the slander of the people of Ifk. So my ailment was aggravated, and when I reached my home, Allah's Apostle came to me, and after greeting me, said, 'How is that (lady)?' I said, 'Will you allow me to go to my parents?' as I wanted to be sure about the news through them. Allah's Apostle allowed me (and I went to my parents) and asked my mother, 'O mother! What are the people talking about?' She said, 'O my daughter! Don't worry, for scarcely is there a charming woman who is loved by her husband and whose husband has other wives besides herself that they (i.e. women) would find faults with her.' I said, 'Subhan-Allah! (I testify the uniqueness of Allah). Are the people really talking in this way?' I kept on weeping that night till dawn I could neither stop weeping nor sleep then in the morning again, I kept on weeping. When the Divine Inspiration was delayed. Allah's Apostle called 'Ali bin Abi Talib and Usama bin Zaid to ask and consult them about divorcing me. Usama bin Zaid said what he knew of my innocence, and the respect he preserved in himself for me. Usama said, '(O Allah's Apostle!) She is your wife and we do not know anything except good about her.' 'Ali bin Abi Talib said, 'O Allah's Apostle! Allah does not put you in difficulty and there are plenty of women other than she, yet, ask the maid-servant who will tell you the truth.' On that Allah's Apostle called Barira (i.e. the maid-servant) and said, 'O Barira! Did you ever see anything which aroused your suspicion?' Barira said to him, 'By Him Who has sent you with the Truth. I have never seen anything in her (i.e. 'Aisha) which I would conceal, except that she is a young girl who sleeps leaving the dough of her family exposed so that the domestic goats come and eat it.' So, on that day, Allah's Apostle got up on the pulpit and complained about 'Abdullah bin Ubai (bin Salul) before his companions, saying, 'O you Muslims! Who will relieve me from that man who has hurt me with his evil statement about my family? By Allah, I know nothing except good about my family and they have blamed a man about whom I know nothing except good and he used never to enter my home except with me.' Sad bin Mu'adh the brother of Banu 'Abd Al-Ashhal got up and said, 'O Allah's Apostle! I will relieve you from him; if he is from the tribe of Al-Aus, then I will chop his head off, and if he is from our brothers, i.e. Al-Khazraj, then order us, and we will fulfil your order.' On that, a man from Al-Khazraj got up. Um Hassan, his cousin, was from his branch tribe, and he was Sad bin Ubada, chief of Al-Khazraj. Before this incident, he was a pious man, but his love for his tribe goaded him into saying to Sad (bin Mu'adh). 'By Allah, you have told a lie; you shall not and cannot kill him. If he belonged to your people, you would not wish him to be killed.' On that, Usaid bin Hudair who was the cousin of Sad (bin Mu'adh) got up and said to Sad bin 'Ubada, 'By Allah! You are a liar! We will surely kill him, and you are a hypocrite arguing on the behalf of hypocrites.' On this, the two tribes of Al-Aus and Al Khazraj got so much excited that they were about to fight while Allah's Apostle was standing on the pulpit. Allah's Apostle kept on quietening them till they became silent and so did he. All that day I kept on weeping with my tears never ceasing, and I could never sleep. In the morning my parents were with me and I wept for two nights and a day with my tears never ceasing and I could never sleep till I thought that my liver would burst from weeping. So, while my parents were sitting with me and I was weeping, an Ansari woman asked me to grant her admittance. I allowed her to come in, and when she came in, she sat down and started weeping with me. While we were in this state, Allah's Apostle came, greeted us and sat down. He had never sat with me since that day of the slander. A month had elapsed and no Divine Inspiration came to him about my case. Allah's Apostle then recited Tashah-hud and then said, 'Amma Badu, O 'Aisha! I have been informed so-and-so about you; if you are innocent, then soon Allah will reveal your innocence, and if you have committed a sin, then repent to Allah and ask Him for forgiveness for when a slave confesses his sins and asks Allah for forgiveness, Allah accepts his repentance.' When Allah's Apostle finished his speech, my tears ceased flowing completely that I no longer felt a single drop of tear flowing. I said to my father, 'Reply to Allah's Apostle on my behalf concerning what he has said.' My father said, 'By Allah, I do not know what to say to Allah's Apostle.' Then I said to my mother, 'Reply to Allah's Apostle on my behalf concerning what he has said.' She said, 'By Allah, I do not know what to say to Allah's Apostle.' In spite of the fact that I was a young girl and had a little knowledge of Qur'an, I said, 'By Allah, no doubt I know that you heard this (slanderous) speech so that it has been planted in your hearts (i.e. minds) and you have taken it as a truth. Now if I tell you that I am innocent, you will not believe me, and if confess to you about it, and Allah knows that I am innocent, you will surely believe me. By Allah, I find no similitude for me and you except that of Joseph's father when he said, '(For me) patience in the most fitting against that which you assert; it is Allah (Alone) Whose Help can be sought.' Then I turned to the other side and lay on my bed; and Allah knew then that I was innocent and hoped that Allah would reveal my innocence. But, by Allah, I never thought that Allah would reveal about my case, Divine Inspiration, that would be recited (forever) as I considered myself too unworthy to be talked of by Allah with something of my concern, but I hoped that Allah's Apostle might have a dream in which Allah would prove my innocence. But, by Allah, before Allah's Apostle left his seat and before any of the household left, the Divine inspiration came to Allah's Apostle. So there overtook him the same hard condition which used to overtake him, (when he used to be inspired Divinely). The sweat was dropping from his body like pearls though it was a wintry day and that was because of the weighty statement which was being revealed to him. When that state of Allah's Apostle was over, he got up smiling, and the first word he said was, 'O 'Aisha! Allah has declared your innocence!' Then my Mother said to me, 'Get up and go to him (i.e. Allah's Apostle). I replied, 'By Allah, I will not go to him, and I praise none but Allah. So Allah revealed the ten Verses: "Verily! They who spread the slander Are a gang, among you..." (24.11-20) Allah revealed those Qur'anic Verses to declare my innocence. Abu Bakr As-Siddiq who used to disburse money for Mistah bin Uthatha because of his relationship to him and his poverty, said, 'By Allah, I will never give to Mistah bin Uthatha anything after what he has said about 'Aisha.' Then Allah revealed: "And let not those among you who are good and wealthy swear not to give (any sort of help) to their kinsmen, those in need, and those who have left their homes for Allah's cause, let them pardon and forgive. Do you not love that Allah should forgive you? And Allah is oft-Forgiving Most Merciful." (24.22) Abu Bakr As-Siddiq said, 'Yes, by Allah, I would like that Allah forgive me.' and went on giving Mistah the money he used to give him before. He also added, 'By Allah, I will never deprive him of it at all.' 'Aisha further said:." Allah's Apostle also asked Zainab bint Jahsh (i.e. his wife) about my case. He said to Zainab, 'What do you know and what did you see?" She replied, "O Allah's Apostle! I refrain from claiming falsely that I have heard or seen anything. By Allah, I know nothing except good (about 'Aisha).' From amongst the wives of the Prophet Zainab was my peer (in beauty and in the love she received from the Prophet) but Allah saved her from that evil because of her piety. Her sister Hamna, started struggling on her behalf and she was destroyed along with those who were destroyed. The man who was blamed said, 'Subhan-Allah! By Him in Whose Hand my soul is, I have never uncovered the cover (i.e. veil) of any female.' Later on the man was martyred in Allah's Cause."

ہم سے عبد العزیز بن عبد اللہ اویسی نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعدنے انہوں نے صالح بن کیسان سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر اور اور سعید بن مسیب نے اور علقمہ بن وقاص نے اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود ( چاروں ) نے حضرت عائشہؓ سےطوفان کا قصہ روایت کیا اور ان میں ہر ایک نے اس حدیث کا ایک ایک ٹکڑا نقل کیا ان میں سے کوئی دوسرے سے زیادہ یاد رکھنے والا تھا اور عمدگی سے یہ قصہ بیان کرتا تھا اور میں نے ان میں سے ہر ایک کی روایت یاد رکھی جو اس نے حضرت عائشہ سے نقل کی اورایک کی دوسرے کی روایت کی تصدیق کرتی ہے اگرچہ ایک دوسرے سے زیادہ یاد رکھنے والا تھا ان لوگوں نے کہا حضرت عائشہؓ نے کہا رسول اللہﷺ کا دستور تھا آپﷺ جب بھی سفر میں جاتے تو اپنی بی بیوں پر قرعہ ڈالتے جس کا نام نکلتا اس کو سفر میں ساتھ لے جاتے ایک بار ایسا ہوا ایک لڑائی میں(غزوہ مریسیع میں) آپؐ نے قرعہ ڈالا میرا نام نکلا میں رسول اللہﷺکے ساتھ گئی اس وقت پردے کا حکم اتر چکا تھا میں ایک ہودے میں بٹھا کر (اونٹ پر) چڑ ھائی جاتی۔اور اسی میں رہ کر اتاری جاتی خیر ہم اسی طرح سفر کرتے رہے جب آپؐ اس جہاد سے لوٹے اور ہم مدینہ کے نزدیک پہچنے تو ایک رات آپؐ نے کوچ پکارا جب کوچ پکارا گیا تو میں اٹھی اور ( حاجت کے لیے اکیلی) چلی لشکر کے پرے نکل گئی جب حاجت سے فارغ ہوئی تو اپنی جگہ پر آئی میں نے اپنا سینہ جو چھوا تو معلوم ہوا میرا ہار جو ظفار کے نگینوں کا تھا وہ ٹوٹ کر گر گیا ہے میں پھر لوٹی اور ہار ڈھونڈنےلگی اسکوڈھونڈنے میں مجھ کو دیر ہو گئی اور ادہر وہ لوگ آن پہنچے جو میرا ہودہ اٹھایا کرتے تھے وہ سمجھے میں ہودے میں بیٹھی ہوں انہوں نے ہودہ اٹھا کر میرے اونٹ پر رکھ دیا جس میں سوار ہوا کرتی تھی اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی تھیں ایسی موٹی پُر گوشت نہ تھیں ذرا سا تو کہا نا کھا تیں اس لیے ہودہ اٹھانے والوں نے جب ہودہ اٹھایا انہوں نے اس کے ہلکے پنے پر خیال نہیں اور یہ بھی تھا کہ میں اس وقت کم سن چھوکر ی تھی (میرا بوجھ ہی کیاتھا )غرض انہوں نے اونٹ اٹھایا اور چلتے ہوئے جب سارا لشکر چمپت ہو گیا اس وقت میرا ہار ملا میں جو ان کے ٹھکا نوں میں آئی دیکھتی کیا ہوں آدمی کا نام نہیں نہ کوئی بات کرنے والا نہ کوئی جواب دینے والا آخر (مجبور ہو کر ) میں اس مقام پر چلی گئی جہا ں میں ٹھہری تھی۔ میں نے یہ خیال کیا جب قافلہ والے مجھ کو (ہودہ میں ) نہ پائیں گے تو یہیں ڈھونڈنے آئیں گے خیر میں اسی جگہ بیٹھی تھی اتنے میں میری آنکھ لگ گئی یہیں سو گئی ایک شخص تھا صفوان بن معطل سُلِمی ذکوانی وہ لشکر کے پیچھے رہا کرتا ( گرا پڑا اٹھا لیتا ) وہ جو میرے ٹھکانے میں آیا اس نے دیکھا کوئی شخص سو رہا ہے اس نے دیکھتے ہی مجھ کو پہچان لیا کیوں کہ پردے کا حکم اترنے سے پہلے اس نے مجھ کو دیکھا تھا اس نے مجھ کو پہچان کر جو انّا للہ و انّا الیہ راجعون پڑھا تو میری آنکھ کھل گئی میں نے اوڑھنی سے منہ ڈھانپ لیا خدا کی قسم نہ ہم دونوں نے کوئی بات کی نہ میں نے اس کی کوئی بات سنی ایک انا للہ وانا الیہ راجعون کہنا تو سنا خیر وہ اونٹ پر سے اترا ، اس نے اونٹ بٹھایا اور اونٹ کے ہاتھ پر پاؤں رکھا میں کھڑی ہوئی اونٹ پر چڑھ گئی وہ (بیچارہ پیدل )چلتا رہا یہاں تک کہ ہم دونوں سخت گرمی کے وقت ٹھیک دوپہر کو لشکر میں پہنچے اس وقت لشکر کے لوگ آرام کے لئے اتر پڑے تھے حضرت عائشہؓ کہتی ہیں پھر جو لوگ تباہ ہونے والے تھے وہ(اس مقدمہ میں طوفان لگا کر ) تباہ ہوئے اور اس طوفان والوں کا سرغنہ (بانی مبانی) عبداللہ بن ابی سلول (منافق مشہور)تھا عروہ نے کہا مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ اس طوفان کا اسکے پاس چرچا ہوتا لوگ بیان کرتے تو وہ اس کو تسلیم کرتا کان لگا کر سنتا کھود کر خوا مخو اہ اسکو پوچھتا اور (اسی سند سے )عروہ سے منقول ہے کہ ان طوفان جوڑنے والو ں میں انہی لوگوں کا نام لیا گیا حسان بن ثابت مسطح بن اثاثہ حمنہ بنت جحش باقی لوگوں کے نام معلوم نہیں ہوئے مگر ان کی ایک جماعت تھی جیسے اللہ تعالیٰ نے (سورت نور میں) فرمایا ان سب میں مڈھ (یعنی بڑا) عبداللہ بن ابی بن سلول تھا (اسی سند سے) عروہ نے کہا حضرت عائشہؓ (باوجود اس کے ) کہ حسان نے ان کو تہمت لگائی تھی مگر وہ حسان کو برا کہنا پسند نہیں کرتی تھیں وہ کہتی تھیں کہ حسان نے ہی یہ شعر کہا ہے میرا باپ دادا میری آبرو محمدﷺکا رہیں گے بچاؤ حضرت عائشہؓ نے کہا(یہ بات تو بیچ میں آگئی ) خیر میں سفر سے مدینہ آئی بیمار پڑ گئی ایک مہینے تک بیمار رہی ادہر لوگ طوفان والوں کی باتوں میں گھس پیٹہ کرتے رہے مجھ کو کچھ خبر ہی نہیں ہوئی ایک ذرا وہم میرے دل میں اس وجہ سے آتا کہ جیسی مہربانی رسول اللہﷺ مجھ پر پہلے رکھتے تھے ویسی میں نے ااس بیماری میں نہ پائی آپؐ اندر آکر سلام کرتے اور صرف یہ پوچھ کر چلے جاتے اب کیسی ہےاس سے مجھ کو شک ہوتی ( کہ آپؐ کچھ ناراض ہیں )مگر اس طوفان کی مجھ کو خبر نہ تھی خیر جب میں بیماری سے ذرا اچھی ہوئی تو مسطح کی ماں کے ساتھ مناصع کی طرف گئی وہاں ہم لوگ راتوں کو پاخانہ کو جایا کرتے تھے ایک رات کو جاتے پھر دوسری رات کو اس زمانہ میں ہمارے گھروں کے پاس پاخانے نہیں بنے تھے اور ہم اگلے زمانے کے عربوں کی طرح جنگل میں پاخانہ پھرنے کو جایا کرتے گھروں میں پاخانے بنانے سے ہم کو تکلیف ہوتی میں اور مسطح کی ماں(سلمیٰ) جو ابو رہم بن مطلب بن عبدالمناف کی بیٹی تھی اور اس کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی ابو بکرؓ (میرے والد)کی خالہ تھیں مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب اس کا بیٹا تھا ساتھ ساتھ گئے جب میں اور وہ دونوں پاخانے سے فراغت پا کر گھر کو لوٹے آ رہے تھے اس وقت اس کا پاؤں چادر میں الجھا وہ گر پڑی کہنے لگی موانگوڑا مسطح میں کہا ہائیں بری بات مسطح بدر کی جنگ میں شریک تھا تو اس کو برا کہتی ہے اس نے کہا اری بندی تو نے مسطح کی بات نہیں سنی میں نے کہا کیا بات ہے اس نے بیان کی جب تو (مارے رنج کے) میری بیماری دونی ہوگئی جب میں گھر پہنچی تو رسول اللہﷺ میرے پاس آئے ( آپؐ نے دور ہی سے ) سلام کیا پوچھا اب کیسی ہے میں نے عرض کیا مجھے آپؐ اپنے ماں باپ کے پاس جانے کی پروانگی دیجئے میری نیت یہ تھی کہ میں ان کے پاس جاکر اس خبر کی تحقیق کروں ( شاید مسطح کی ماں نے غلط کہا ہو ) آپؐ نے اجازت دی (میں گئی) میں نے اپنی ماں سے کہا اماں یہ لوگ کیا باتیں بنا ر ہے ہیں انہوں نے کہا بیٹا تو اتنا رنج نہ کر خدا کی قسم یہ تو اکثر ہوتا آیا ہے جب کسی خوبصورت عورت کی سوکنیں ہوں اور خاوند اس کو چاہتاہو تو وہ اسے بہت چلتر کرتی ہیں میں کہا سبحان اللہ کیا لوگ ایسی (جھوٹی) بات منہ سے نکالنے لگے ہیں ( اس کا چرچا کرنے لگے) میری ساری رات روتے دھوتے گزری صبح تک نہ آنسو تھمے نہ نیند آئی صبح کو بھی میں ر و رہی تھی رسول اللہﷺ نے جب وحی اترنے میں دیر ہوئی تو حضرت علیؓ اور حضرت اسا مہ بن زیدؓ کو بلوایا ان سے پوچھا مشورہ لیا ۔کہا میں اس عورت کو (یعنی حضرت عائشہؓ کو) چھوڑ دوں اسامہ نے تو رسول اللہﷺ کو جیسے وہ جانتے تھے کہ وہ عورت ایسی باتوں سے پاک ہے اور جیسے وہ ہمارے لوگوں سے دلی محبت رکھتے تھے یہی مشورہ دیا انہوں نے کہا ۔یا رسول اللہ یہ آپؐ کی بی بی ہے اورہم تو اس کو نیک (پاکدامن )ہی سمجھتے ہیں اور علیؓ نے کہا یا رسول اللہ، اللہ نےآپؐ پر عورت کی تنگی نہیں رکھی (کیا یہی عورت ہے )اور بہت سی عورتیں ہیں آپؐ ذرا(بریرہ) اس کی چھوکری سے تو پوچھئے وہ سچ سچ اس کا حال بتلا دے گی حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں آپؐ نے بریرہؓ کو بلایا اور پوچھا بریرہؓ (سچ کہیو) کیا تو نے عائشہؓ سے کبھی کوئی بات دیکھی ہے جس سے اس کی پاکدامنی میں شک پیدا ہو بریرہؓ نے کہا قسم اس خدا کی جس نے آپؐ کو پیغمبر سچا بنا کر بیھجا میں نے تو کبھی کوئی بات اس میں عیب کی نہیں دیکھی اتنی بات ہے (اللہ رکھے) ابھی کم عمر لڑکی ہے (ایسی بھولی بھالی ہے )گھر میں آٹا گھندا رکھا ہو تا ہے وہ سو جاتی ہے بکری آں کر آٹا کھا لیتی ہے حضرت عائشہؓ کہتی ہیں رسول اللہﷺ یہ سن کر اسی دن کھڑے ہوئے اور منبر پر آن کر عبداللہ بن ابی (مردود)کی شکایت کرنے لگے آپؐ نے فرمایا مسلمانو ! اس شخص سے کون میرا بدلہ لیتا ہے جس نے میری بیوی کی بدنامی مجھ تک پہنچائی خدا کی قسم میں تو اپنی بیوی کو نیک (پاکدامن) ہی سمجھتا ہوں اور جس (بیچارے)سے تہمت لگاتے ہیں اس کو بھی بھلا آدمی جانتا ہوں وہ کبھی میری بیوی کے پاس نہیں گیا جب تک میں اس کے ساتھ نہیں ہوا یہ سنتے ہی سعد بن معاذ بنی عبدالاشہل (اوس قبیلے)میں سے کھڑے ہوئے کہنے لگے یا رسول اللہﷺ میں آپؐ کا بدلہ لیتا ہوں اگر یہ تہمت لگانے والا میرے قبیلے اوس میں سے ہے تو ابھی اسکی گردن مارتا ہوں اور اگر ہمارے بھائیوں خزرج میں کا ہے تو آپؐ حکم دیجئے جو آپؐ حکم دیں گے وہ ہم بجا لائیں گے حضرت عائشہؓ نے کہا یہ سن کرخزرج کا ایک مرد کھڑا ہوا حسان( تہمت کرنے والے) کی ماں اس کی چچا زاد بہن ہوتی تھی اس کے قبیلے کی تھی اس کا نام سعد بن عبادہ تھا وہ خزرج کا سردار تھا پہلے تو وہ اچھا نیک آدمی تھا مگر اس کو (سعد بن معاذؓ کے کلام پر) اپنی قوم کی پچ آئی وہ سعد بن معاذ سے کہنے لگا پروردگار کی بقاء کی قسم تو جھوٹا ہے تو اس کو نہیں مار سکتا تیری کیا مجال جو مارے اگر (وہ تہمت لگانے والا ) تیری قوم کا ہوتا تو کبھی اس کا قتل گوارا نہ کرتا یہ سن کر اُسید بن حضیر کھڑے ہوئے جو سعد بن معاذ کے چچا زاد بھائی تھے انہوں نے سعدبن عبادہ سے کہا تو جھوٹا ہے قسم اللہ کے بقاء کی ہم تو ضرور اس کو قتل کریں گے تو منافق ہے جب تو منافقوں کی پچ کرتا ہے حضرت عائشہؓ کہتی ہیں ( اس گفتگو پر) دونوں قبیلوں اوس اور خزرج کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور لڑنے پر مستعد ہوگئے رسول اللہﷺ منبر پر کھڑے تھے آپؐ ان کو چپ کراتے ( سمجھاتے) رہے یہاں تک کہ وہ خاموش ہورہے اور آپؐ بھی خاموش ہوئے رہے حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں برابر سارے دن روتی رہی نہ تو میرے آنسو تھمتے تھے نہ مجھ کو نیند آتی تھی میرے ماں باپ بھی میرے پاس رہے دو رات اور ایک دن سے برابر رو رہی تھی نہ تو میرا آنسو تھمتا تھا نہ مجھ کو نیند آتی تھی یہاں تک کہ میں سمجھی میرا کلیجہ (روتے روتے ) پھٹ جائے گا اس حال میں میرے ماں باپ میرے پاس تھے میں رو رہی تھی کہ انصار کی ایک عورت نے (اس کا نام معلوم نہیں ) اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے اس کو اجازت دی وہ بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی خیر ہم اس حال میں تھے اتنے میں رسول اللہﷺ تشریف لائے آپؐ نے سلام کیا پھر بیٹھ گئے اور جس دن سے مجھ پر تہمت لگائی گئی تھی آپؐ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے تہمت کے ایک مہینہ تک ٹھہرے رہے میرے باب میں کوئی وحی آپؐ پر نہیں آئی حضرت عائشہؓ کہتی ہیں آپؐ نے بیٹھ کر کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمانے لگے اما بعد عائشہؓ مجھ کو تیری طرف سے ایسی ایسی خبر پہنچی ہے اگر تو بے گناہ ہے تو اللہ عنقریب تیری پاک دامنی بیان کر دے گا اور اگر (بالفرض) تو کسی گناہ میں آلو دہ ہو گئی ہے تو اللہ سے بخشش مانگ توبہ کر کیونکہ بندہ اگر اپنے گنا ہ کا اقرار کرے پھر توبہ کرے تو اللہ معاف کر دیتا ہے حضرت عائشہؓ کہتی ہیں جب رسول اللہﷺ تقریر ختم کر چکے ایک ہی ایکا میرے آنسو بند ہوگئے ایسے بند ہوئے کہ ایک قطرہ بھی میں نے نہیں پایا میں نے اپنے والد سے کہا اجی رسول اللہﷺ کو میری طرف سے جواب دو آپؐ کیا کہہ رہے ہیں انہوں نے کہا خدا کی قسم میری سمجھ میں نہیں آتا میں آپؐ کی بات کا کیا جواب دوں پھر میں نے اپنی والدہ سے کہا تم بھی تو رسول اللہﷺ کی بات کا کچھ جواب دو انہوں نے بھی یہی کہا خدا کی قسم میری سمجھ میں نہیں آتا میں آپؐ کو کیا جواب دوں ( جب میں نے دیکھا میرے ماں باپ بھی عاجز ہو گئے کچھ نہیں کہہ سکتے )تو میں نے خود ہی شروع کیا ۔ اس وقت میں ایک کم سن لڑکی تھی قرآن بھی میں نے بہت نہیں پڑھا تھا میں نے کہا قسم خدا کی تم نے تو یہ بات سن لی اور وہ تمہارے دلوں میں جم گئی تم نے اس کو سچ سمجھا ( جب تو میری طرف سے شبہ آگیا ) اب اگر میں یہ کہوں میں بے گناہ ہوں جب بھی تم مجھ کو سچا نہیں سمجھو گے ہاں اگر میں (جھوٹ) ایک گناہ کا اقرار کر لوں اور اللہ جانتا ہے میں اس سے پاک ہوں تو تم مجھ کو سچا سمجھو گے خدا کی قسم اب میری اور تمھاری وہی کیفیت ہے جو یوسف کے والد کی تھی انہوں نے کہا تھااب اچھی طرح صبر کرنا ہی بہتر ہے اور تم جو کہہ رہے ہو اس پر اللہ میری مدد کرنے والا ہے یہ کہہ کر میں نے اپنا منہ پھیر لیا اور اپنے بستر پر لیٹ رہی مجھے معلوم تھا اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے میں بے گناہ ہوں اور وہ ضرور میری پاکدامنی بیان کرے گا مگر مجھ کو یہ گمان نہ تھا کہ میرے باب میں قرآن اترے گا جو (قیامت تک) پڑھا جائے گا ۔ کیونکہ میں اپنی حیثیت اتنی نہ سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ ( اتنا بڑاشہنشاہ) میرے باب میں کچھ کلام کرے مجھ کو یہ امید تھی کہ شاید رسول اللہﷺ کو میرے مقدمہ میں کوئی خواب پڑجائے گا جس کے ذریعے اللہ میری پاکی کھول دے گا پھر خدا کی قسم رسول اللہﷺ اپنی جگہ سے جہاں بیٹھے تھے سرکے بھی نہیں نہ کوئی گھر کا آدمی باہر گیا اتنے میں آپؐ پر وحی کی حالت طاری ہوئی جیسے سختی وحی کے وقت آپؐ پر ہوا کرتی تھی وہ ہونے لگی یہ سختی اس کلام کے بوجھ سے جو آپؐ پر اترتا تھا ایسی ہوتی تھی کہ سردی کے موسم میں آپؐ کے جسم سے موتی کی طرح پسینہ ٹپکنے لگتا خیر جب وحی کی حالت گزر چکی تو آپؐ (خوشی سے) ہنسنے لگے پہلی بات جو آپؐ نے منہ سے نکالی وہ یہ تھی عائشہؓ اللہ نے تیری پاکدامنی بیان فرما د ی اس وقت میری والدہ کہنے لگیں اٹھ ،آپؐ کا شکریہ ادا کر میں نے کہا خدا کی قسم میں تو کبھی اٹھ کر آپؐ کا شکریہ نہیں کرنے کی میں تو بس اپنے مالک پروردگار کا شکریہ کروں گی اللہ تعالیٰ نے یہ دس آیتیں اتاریں جن لوگوں نے تم میں یہ بہتان اٹھایا اخیر تک اور اللہ تعالی نے میری بے گناہی ظاہر فرمادی ابو بکر صدیقؓ جو رشتہ داری اور محتاجی کی وجہ سے مسطح سے کچھ سلوک کرتے تھے انہوں نے کہا اب میں مسطح سے کبھی کوئی سلوک نہیں کرنے کا ( اس نے ایسی شرارت کی) عائشہؓ پر ایسی تہمت لگائی تب اللہ تعالیٰ نے (اسی سورت نور) میں یہ آیت اتاری جو لوگ تم میں بزرگی اور مقدر والے ہیں وہ یوں قسمیں نہ کھائیں اخیر آیت غفور رحیم تک اس وقت ابو بکر کہنے لگے کیوں نہیں میں تو یہ چاہتا ہوں اللہ مجھ کو بخشے اور انہوں نے مسطح کو جو دیا کرتے تھے پھر دینا شروع کر دیا کہنے لگے خدا کی قسم میں یہ معمول کبھی بند نہیں کرنے کا حضرت عائشہؓ کہتی ہیں رسول اللہﷺ نے ( تہمت کے دنوں میں)ام المومنین ( جو میری سوکن تھیں ) زینبؓ سے میرا حال پوچھا آپؐ نے فرمایا تم عائشہؓ کو کیسا سمجھتی ہو تم نے اس کو کیسا دیکھا انہوں نے کہا یا رسول اللہ میں اپنے کان اور آنکھ کو بچائے رکھتی ہوں خدا کی قسم میں تو عائشہؓ کو اچھا ہی سمجھتی ہوں حضرت عائشہؓ کہتی ہیں نبیﷺ کی بی بیوں میں زینب ہی میرے برابر کی تھی اللہ نے انکی پرہیز گاری کی وجہ سے انکو بچائے رکھا لیکن ان کی بہن حمنہ نے اپنی بہن کے خیال سے لڑنا شروع کیا وہ بھی دوسرے تہمت لگانے والوں کے ساتھ تباہ ہوئیں پھر ابن شہاب نے کہا یہ وہ حدیث ہے جو ان چاروں شخصوں (عروہ ۔ سعید ۔ علقمہ ۔ عبید اللہ ) سے مجھ کو پہنچی ۔عروہ نے یہ بھی کہا حضرت عائشہؓ کہتی تھیں خدا کی قسم جس مرد سے مجھ کو تہمت لگائی تھی (صفوان بن معطل) وہ (بیچارہ یہ تہمتیں سن کر تعجب سے) کہتا سبحان اللہ قسم اس پرور دگار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تو کسی عورت کا ستر تک کبھی نہیں کھولا (جماع کیسا ) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں اس کے بعد وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوا


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَمْلَى عَلَىَّ هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ مِنْ حِفْظِهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ قَالَ لِي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبَلَغَكَ أَنَّ عَلِيًّا، كَانَ فِيمَنْ قَذَفَ عَائِشَةَ قُلْتُ لاَ‏.‏ وَلَكِنْ قَدْ أَخْبَرَنِي رَجُلاَنِ مِنْ قَوْمِكِ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَهُمَا كَانَ عَلِيٌّ مُسَلِّمًا فِي شَأْنِهَا‏ ، فَرَاجَعُوه فلم يَرجِعْ.و قال:مسلِّمًا: بلا شَكٍّ فيه، وَ عَلَيه وَ كان فى أَصْلِ العَتِيقِ كذلك.

Narrated By Az-Zuhri : Al-Walid bin 'Abdul Malik said to me, "Have you heard that 'Ali' was one of those who slandered 'Aisha?" I replied, "No, but two men from your people (named) Abu Salama bin 'Abdur-Rahman and Abu Bakr bin Abdur-Rahman bin Al-Harith have informed me that 'Aisha told them that 'Ali remained silent about her case."

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہشام بن یوسف نے اپنی یاد سے مجھ کو لکھوایا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ سے ولید بن عبدالملک بن مروان (خلیفہ) نے پوچھا کیا تم کو یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت علیؓ بھی ان لوگوں میں تھے جنہوں نے حضرت عائشہؓ کو تہمت لگائی تھی میں نے کہا نہیں مگر تمہاری قوم( قریش) کے دو آدمیوں ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں حضرت علیؓ ان کے باب میں خاموش تھے (یا خطا پر تھے) پھر لوگوں نے ہشام بن یوسف یا (زہری) سے دوبارہ پوچھا انہوں نے یہی کہا مُسَلِّماً اس میں کوئی شک نہ کی (مُسیٔاً کا لفظ نہیں کہا) اور علیہ کا لفظ زیادہ کیا (یعنے زہری نے ولید کو اور اورجواب نہیں دیا) اور پرانے نسخہ میں مسلماً کا لفظ تھا۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ ـ وَهْىَ أُمُّ عَائِشَةَ رضى الله عنها ـ قَالَتْ بَيْنَا أَنَا قَاعِدَةٌ أَنَا وَعَائِشَةُ إِذْ وَلَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَتْ فَعَلَ اللَّهُ بِفُلاَنٍ وَفَعَلَ‏.‏ فَقَالَتْ أُمُّ رُومَانَ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ ابْنِي فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ‏.‏ قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، فَمَا أَفَاقَتْ إِلاَّ وَعَلَيْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ، فَطَرَحْتُ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا فَغَطَّيْتُهَا‏.‏ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى بِنَافِضٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ بِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ فَقَعَدَتْ عَائِشَةُ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لاَ تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنْ قُلْتُ لاَ تَعْذِرُونِي، مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ، وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ، قَالَتْ وَانْصَرَفَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا ـ قَالَتْ ـ بِحَمْدِ اللَّهِ لاَ بِحَمْدِ أَحَدٍ وَلاَ بِحَمْدِكَ‏

Narrated By Masruq bin Al-Ajda : Um Ruman, the mother of 'Aisha said that while 'Aisha and she were sitting, an Ansari woman came and said, "May Allah harm such and-such a person!" Um Ruman said to her, What is the matter?" She replied, "My son was amongst those who talked of the story (of the Slander)." Um Ruman said, "What is that?" She said, "So-and-so..." and narrated the whole story. On that 'Aisha said, "Did Allah's Apostle hear about that?" She replies, "yes." 'Aisha further said, "And Abu Bakr too?" She replied, "Yes." On that, 'Aisha fell down fainting, and when she came to her senses, she had got fever with rigors. I put her clothes over her and covered her. The Prophet came and asked, "What is wrong with this (lady)?" Um Ruman replied, "O Allah's Apostle! She (i.e. 'Aisha) has got temperature with rigors." He said, "Perhaps it is because of the story that has been talked about?" She said, "Yes." 'Aisha sat up and said, "By Allah, if I took an oath (that I am innocent), you would not believe me, and if I said (that I am not innocent), you would not excuse me. My and your example is like that of Jacob and his sons (as Jacob said): 'It is Allah (Alone) Whose Help can be sought against that you assert.' Um Ruman said, "The Prophet then went out saying nothing. Then Allah declared her innocence. On that, 'Aisha said (to the Prophet), "I thank Allah only; thank neither anybody else nor you."

ہم سے موسی بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے انہوں نے حصین بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے ابو وائل شقیق بن سلمہ سے کہا مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا کہا مجھ سے ام رومان نے جو حضرت عائشہؓ کی والدہ تھیں انہوں نے کہا میں اور عائشہؓ دونوں بیٹھی ہوئی تھیں اتنے میں ایک انصاری عورت آئی (اس کا نام معلوم نہیں ہوا) کہنے لگی اللہ فلانے کو تباہ کرے فلانے کو تباہ کرے میں نے پوچھا سبب کیا کہنے لگی میرا بیٹا بھی اس بات کے بیان کرنے میں شریک ہے ام رومان نے کہا کونسی بات اس وقت اس نے بہتان کا حال بیان کیا عائشہؓ نے پوچھا کیا رسول اللہﷺ کو بھی اس بات کی خبر ہو گئی اس نے کہا ہاں پھر پوچھا ابو بکرؓ کو اس نے کہا ہاں یہ سنتے ہی عائشہؓ بیہوش ہو کر گر پڑیں ہوش آیا تو لرزہ بخار چڑھا ہوا تھا میں نے اس کے کپڑے اس پر ڈال دیئے اور چھپا دیا اس کے بعد نبیﷺ تشریف لائے پوچھا اس کو کیا ہوا میں نے عرض کیا لرزے سے بخار چڑھا آپﷺ نے فرمایا شاید اس نے وہ (طوفان کی) بات سن پائی میں نے کہا جی ہاں عائشہؓ اٹھ کر بیٹھی کہنے لگی خدا کی قسم اگر میں قسم کھا کر بھی کہوں کہ میں بے گناہ ہوں جب بھی تم لوگ مجھ کو سچا نہیں سمجھنے کےاور میں اگر بیان کروں تب بھی میرا عذر نہیں ماننے کے میری اور تمہاری کہاوت وہی ہے جو یعقوبؑ کی ان کے بیٹوں کے ساتھ گزری یعقوبؑ نے(صبر کیا) کہا اللہ ان باتوں پر جو تم بناتے ہو مدد کرنے والا ہے ام رومان کہتی ہےآپﷺ عائشہؓ کی یہ تقریر سن کر لوٹ گئے کچھ جواب نہیں دیا آخر اللہ نے خود عائشہؓ کی پاک دامنی اتاری وہ آپﷺ سے کہنے لگی بس میں اللہ ہی کا شکر کرتی ہوں نہ تمہارا نہ اور کسی کا۔


حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقْرَأُ ‏{‏إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ‏}‏ وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ‏.‏ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا‏

Narrated By Ibn Abi Malaika : 'Aisha used to recite this Verse: 'Ida taliqunahu bi-alsinatikum' (24.15) "(As you tell lie with your tongues.)" and used to say "Al-Walaq" means "telling of a lie. "She knew this Verse more than anybody else as it was revealed about her.

مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا کہا ہم سے وکیع نے انہوں نے نافع بن عمرؓ سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے وہ (سورت نور کی) اس آیت کو یوں پڑھتی تھیں اِذ تَلِقُونَہُ بکسر لام اور کہتی تھیں یہ ولق سے نکلا ہے ولق کے معنی جھوٹ اور عبید اللہ ا بن ابی ملیکہ نے کہا حضرت عائشہؓ ان آیتوں کو اوروں سے زیادہ جانتیں کیونکہ وہ خالص انہی کے باب میں اتری تھیں۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لاَ تَسُبَّهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَتْ عَائِشَةُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ بِنَسَبِي ‏"‏‏.‏ قَالَ لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِينِ‏.‏وَقَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ، سَمِعْتُ هِشَامًا، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَبَبْتُ حَسَّانَ، وَكَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَيْهَا‏

Narrated By Hisham's father : I started abusing Hassan in front of 'Aisha. She said, "Do not abuse him as he used to defend Allah's Apostle (against the infidels). 'Aisha added, "Once Hassan took the permission from the Prophet to say poetic verses against the infidels. On that the Prophet said, 'How will you exclude my forefathers (from that)? Hassan replied, 'I will take you out of them as one takes a hair out of the dough." Hisham's father added, "I abused Hassan as he was one of those who spoke against 'Aisha."

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے انھوں نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے کہا میں حسان بن ثابت کو حضرت عائشہؓ کے سامنے برا کہنے لگا انھوں نے کہا حسان کو برا مت کہہ وہ رسول اللہﷺ کی طرف سے مشرکوں کا مقابلہ کرتا تھا حضرت عائشہؓ نے کہا حسان نے رسول اللہﷺ سے اجازت مانگی میں قریش کے کافروں کی ہجو کرتا ہوں آپؐ نے فرمایا میرا بھی تو خاندان قریش ہی میں ہے حسان نے کہا میں آپؐ کو ان میں سے ایسا نکال لوں گا جیسے بال آٹے میں سے(صاف) نکال لیا جاتا ہے اور محمد بن عقبہ( امام بخاری کے شیخ ) نے کہا ہم سے عثمان بن فرقد نے بیان کیا کہا میں نے ہشام سے سنا انھوں نے اپنے والد عروہ سے انھوں نے کہا میں نے حسان کو برا کہا انھوں نے حضرت عائشہؓ کو بدنام کیا تھا ۔


حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا، يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ وَقَالَ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ‏.‏ قَالَ مَسْرُوقٌ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكِ‏.‏ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ‏}‏‏.‏ فَقَالَتْ وَأَىُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى‏.‏ قَالَتْ لَهُ إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ ـ أَوْ يُهَاجِي ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Masruq : We went to 'Aisha while Hassan bin Thabit was with her reciting poetry to her from some of his poetic verses, saying "A chaste wise lady about whom nobody can have suspicion. She gets up with an empty stomach because she never eats the flesh of indiscreet (ladies)." 'Aisha said to him, "But you are not like that." I said to her, "Why do you grant him admittance, though Allah said: "and as for him among them, who had the greater share therein, his will be a severe torment." (24.11) On that, 'Aisha said, "And what punishment is more than blinding?" She, added, "Hassan used to defend or say poetry on behalf of Allah's Apostle (against the infidels)."

مجھ سے بشر بن خالد نے بیان کیا کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی انہوں نے شعبہ سے انہوں نے سلیمان سے انہوں نے ابو الضحیٰ سے انہوں نے مسروق سے انہوں نے کہا ہم حضرت عائشہؓ کے پاس گئے دیکھا وہاں حسان بن ثابت شعریں سنا رہے ہیں (جن میں حضرت عائشہؓ کی تعریف تھی) اور تشبیب کے طور پر بیتیں پڑھ رہے تھے انہوں نے یہ بیت پڑھی؀ وہ سنجیدہ اور پاکدامن کبھی اس پہ تہمت نہ ہوئی وہ ہر صبح بھوکی نہیں کھاتی نادان بہنوں کا گوشت تو حضرت عائشہؓ نے کہا مگر تو تو ایسا نہیں ہے مسروق کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہؓ سے کہا آپ اس کو اپنے پاس کیوں آنے دیتی ہیں اور اللہ نے تو (سور ت نور میں اس کے حق میں) فرمایا اور جس نے ان میں سے طوفان کا بڑا حصہ لیا اس کو بڑا عذاب ہوگا حضرت عائشہؓ نے کہا بھلا اندھے پنےسے بڑھ کر اور کیا عذاب ہوگا (اخیر عمر میں حسان اندھے ہو گئے تھے) یہ بھی کہا کہ حسان رسول اللہﷺ کی حمایت کرتا یا یوں کہا کہ آپؐ کی طرف سے مشرکوں کی ہجو کیا کرتا۔

36. باب غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ‏}‏

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَصَابَنَا مَطَرٌ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ ‏"‏ أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ قَالَ اللَّهُ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِي، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَبِرِزْقِ اللَّهِ وَبِفَضْلِ اللَّهِ‏.‏ فَهْوَ مُؤْمِنٌ بِي، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ‏.‏ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا‏.‏ فَهْوَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ، كَافِرٌ بِي ‏"

Narrated By Zaid bin Khalid : We went out with Allah's Apostle in the year of Al-Hudaibiya. One night it rained and Allah's Apostle led us in the Fajr prayer and (after finishing it), turned to us and said, " Do you know what your Lord has said?" We replied, "Allah and His Apostle know it better." He said, "Allah said: "(Some of) My slaves got up believing in Me, And (some of them) disbelieving in Me. The one who said: We have been given Rain through Allah's Mercy and Allah's Blessing and Allah's Bounty, Then he is a believer in Me, and is a Disbeliever in the star. And whoever said: We have been given rain because of such-and-such star, Then he is a believer in the star, and is a disbeliever in Me."

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے کہا مجھ سے صالح بن کیسان نے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے انہوں نے زید بن خالد جہنیؓ سے انہوں نے کہا ہم حدیبیہ کے سال(؁ ۶ ہجری) میں رسول اللہﷺ کے ساتھ (مدینہ سے) نکلے ایک رات ایسا ہوا، برسات آئی اس کی صبح کو آپﷺ نے نماز پڑھائی پھر ہماری طرف منہ کیا فرمایا تم جانتے ہو تمہارے پروردگار جل جلالہ نے کیا ارشاد کیا انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسولﷺ خوب جانتا ہے آپﷺ نے کہا اللہ فرماتا ہے(آج) میرے دو طرح کے بندوں نے صبح کی کچھ تو مومن ہے کچھ کافر جس نے یوں کہا اللہ کے رحم و کرم اس کی روزی اس کے فضل سے پانی پڑا اس نے تو مجھ پر ایمان رکھا ستاروں کا منکر ہوا اور جس نے یوں کہا فلانے ستارے کی وجہ سے پانی پڑا اس نے ستاروں پر ایمان رکھا میرا انکار کیا۔


حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُ قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلاَّ الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ‏.‏ عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ‏

Narrated By Anas : Allah's Apostle performed four 'Umras, all in the month of Dhul-Qa'da, except the one which he performed with his Hajj (i.e. in Dhul-Hijja). He performed one 'Umra from Al-Hudaibiya in Dhul-Qa'da, another 'Umra in the following year in Dhul Qa'da a third from Al-Jirana where he distributed the war booty of Hunain, in Dhul Qa'da, and the fourth 'Umra he performed was with his Hajj.

ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کہا کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے انہوں نے قتادہ سے ان سے انسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے کل چار عمرے کئے سب ذیقعد میں مگر وہ عمرہ جو آپؐ نے حج کے ساتھ کیا تھا ( وہ ذولحجہ میں کیا تھا) حدیبیہ کا عمرہ ذیقعدہ میں تھا اس طرح دوسرے سال کا وہ بھی ذیقعدہ میں (جس کو عمرہ قضاء کہتے ہیں) اور جعرانہ کا عمرہ جہاں آپؐ نے حنین کی لوٹ بانٹی تھی وہ بھی ذیقعدہ میں تھا۔ ایک عمرہ آپؐ نے حج کے ساتھ کیا (جو ذیحجہ میں تھا)۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ، وَلَمْ أُحْرِمْ‏

Narrated By Abu Qatada : We set out with the Prophet in the year of Al-Hudaibiya, and all his companions assumed the state of Ihram but I did not.

ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا کہا ہم سے علی بن مبارک نے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ان سے ان کے والد( ابو قتادہ حارث بن ربعی صحابی) نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم حدیبیہ کے سال نبیﷺ کے ساتھ چلے آپؐ کے سب اصحاب احرام باندھے ہوئے تھے میں نے احرام نہیں باندھا تھا۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا، وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرُّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ‏.‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهَا، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا، ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا‏

Narrated By Al-Bara : Do you (people) consider the conquest of Mecca, the Victory (referred to in the Qur'an 48:1). Was the conquest of Mecca a victory? We really consider that the actual Victory was the Ar-Ridwan Pledge of allegiance which we gave on the day of Al-Hudaibiya (to the Prophet). On the day of Al-Hudaibiya we were fourteen hundred men along with the Prophet Al-Hudaibiya was a well, the water of which we used up leaving not a single drop of water in it. When the Prophet was informed of that, he came and sat on its edge. Then he asked for a utensil of water, performed ablution from it, rinsed (his mouth), invoked (Allah), and poured the remaining water into the well. We stayed there for a while and then the well brought forth what we required of water for ourselves and our riding animals.

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا انہوں نے اسرائیل سے انہوں نے ابواسحاق سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا (لوگو) تم (سورت انافتحنا) میں فتح سے مراد مکہ کی فتح رکھتے ہو بیشک مکہ کی بھی ایک فتح تھی اور ہم تو بیعتہ الرضوان کو جو حدیبیہ میں ہوئی فتح سمجھتے ہیں ہوا یہ کہ ہم چودہ سو آدمی نبیﷺ کے ساتھ تھے حدیبیہ ایک کنواں تھا ہم نے اس میں سے پانی لینا شروع کیا ایک قطرہ نہ چھوڑا (لوگ پیاسے ہوئے) یہ خبر نبیﷺ کو پہنچی آپؐ تشریف لائے اور کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھے پانی کا برتن منگوایا وضو کیا کلی کی اور اللہ سے دعا کی پھر یہ پانی (جس سے آپؐ نے وضو کیا تھا ) کنوئیں میں ڈال دیا تھوڑی دیر ہم خاموش رہے اس کے بعد اس کنوئیں نے ہم کو اور ہمارے جانوروں کو جتنا ہم نے چاہا پانی پلا کر لوٹایا۔


حَدَّثَنِي فَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَنَزَلُوا عَلَى بِئْرٍ فَنَزَحُوهَا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى الْبِئْرَ، وَقَعَدَ عَلَى شَفِيرِهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ائْتُونِي بِدَلْوٍ مِنْ مَائِهَا ‏"‏‏.‏ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ دَعُوهَا سَاعَةً ‏"‏‏.‏ فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتَّى ارْتَحَلُوا‏

Narrated By Al-Bara bin Azib : That they were in the company of Allah's Apostle on the day of Al-Hudaibiya and their number was 1400 or more. They camped at a well and drew its water till it was dried. When they informed Allah's Apostle of that, he came and sat over its edge and said, "Bring me a bucket of its water." When it was brought, he spat and invoked (Allah) and said, "Leave it for a while." Then they quenched their thirst and watered their riding animals (from that well) till they departed.

مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے حسن بن محمد بن اعین ابوعلی حرانی نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے کہا ہم سے ابو اسحاق سبیعی نے کہا ہم کو براء بن عازبؓ نے خبر دی انہوں نے کہا حدیبیہ کے دن رسول اللہﷺ کے ساتھ چودہ سو یا زیادہ آدمی تھے ایک کنوئیں پر اترے اس کا سارا پانی کھینچ ڈالا پھر رسول اللہﷺ کے پاس آئے (آپؐ سے عرض کیا پانی نہیں رہا اب کیا کریں) آپؐ کنوئیں پر تشریف لا کر اس کے منڈیر پر بیٹھے فرمایا اس کے پانی کا ایک ڈول لاؤ لوگ لائے آپؐ نے اپنا لب اس میں ڈالدیا اور اللہ سے دعا کی پھر فرمایا ایک گھڑی خاموش رہو اس کے بعد اس کنوئیں کے پانی سے آدمیوں نے اپنے تئیں اور جانوروں سب کو سیراب کرلیا پھر وہاں سے چل کھڑے ہوئے۔


حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ، وَلاَ نَشْرَبُ إِلاَّ مَا فِي رَكْوَتِكَ‏.‏ قَالَ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ، قَالَ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا‏.‏ فَقُلْتُ لِجَابِرٍ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً‏

Narrated By Salim : Jabir said "On the day of Al-Hudaibiya, the people felt thirsty and Allah's Apostle had a utensil containing water. He performer ablution from it and then the people came towards him. Allah's Apostle said, 'What is wrong with you?' The people said, 'O Allah's Apostle! We haven't got any water to perform ablution with or to drink, except what you have in your utensil.' So the Prophet put his hand in the utensil and the water started spouting out between his fingers like springs. So we drank and performed ablution." I said to Jabir, "What was your number on that day?" He replied, "Even if we had been one hundred thousand, that water would have been sufficient for us. Anyhow, we were 1500."

ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن فضیل نے کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے سالم بن ابی الجعدسے انہوں نے جابرؓ سے انہوں نے کہا حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی رسول اللہﷺ کے پاس ایک چھا گل تھی آپؐ نے اس میں سے وضو کیا پھر لوگ آپؐ کے پاس آئے۔آپؐ نے پوچھا کیوں خیر تو ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہمارے پاس نہ وضو کے لئے پانی ہے نہ پینے کے لئے ہے۔بس اتنا ہی پانی ہے جو آپؐ کی چھاگل میں ہے۔آپؐ نے یہ سن کر اپنا ہاتھ اس چھاگل میں رکھ دیا۔آپؐ کی انگلیوں سے پانی چشموں کی طرح بہنے لگا۔ جابرؓ کہتے ہیں ہم سب لوگوں نے پیا وضو کیا۔سالمؓ نے کہا میں نے جابرؓ سے پوچھا اس دن تم کتنے آدمی تھے۔انہوں نے کہا اگر لاکھ ہوتے تو بھی وہ پانی ہم کو کفایت کرتا ہم تو پندرا سو آدمی تھے۔


حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ بَلَغَنِي أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَ يَقُولُ كَانُوا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً‏.‏ فَقَالَ لِي سَعِيدٌ حَدَّثَنِي جَابِرٌ كَانُوا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً الَّذِينَ بَايَعُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ قَتَادَةَ‏. تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ‏

Narrated By Qatada : I said to Sa'id bin Al-Musaiyab, "I have been informed that Jabir bin 'Abdullah said that the number (of Al-Hudaibiya Muslim warriors) was 1400." Sa'id said to me, "Jabir narrated to me that they were 1500 who gave the Pledge of allegiance to the Prophet on the day of Al-Hudaibiya."

ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے کہا میں نے سعید بن مسیب سے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جابر بن عبداللہ ان لوگوں کا شمار (جو حدیبیہ میں آپؐ کے ساتھ تھے)چودہ سو بیان کرتے ہیں سعید نے کہا مجھ سے تو جابرؓ نے یہ بیان کیا جن لوگوں نے حدیبیہ کے دن نبیﷺ سے بیعت کی۔وہ پندرہ سو آدمی تھے۔ابو داؤد طیالسی نے کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا انہوں نے قتادہ سے اور محمد بن بشار نے بھی ابو داؤد طیالسی کے ساتھ اس کو روایت کیا۔


حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ‏"‏ أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْضِ ‏"‏‏.‏ وَكُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ، وَلَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ الْيَوْمَ لأَرَيْتُكُمْ مَكَانَ الشَّجَرَةِ‏.‏ تَابَعَهُ الأَعْمَشُ سَمِعَ سَالِمًا سَمِعَ جَابِرًا أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ‏.‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : On the day of Al-Hudaibiya, Allah's Apostle said to us' "You are the best people on the earth!" We were 1400 then. If I could see now, I would have shown you the place of the Tree (beneath which the Pledge of allegiance was given by us)," Salim said, "Our number was 1400."

ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہ عمروبن دینار نے کہا ۔ میں جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے حدیبیہ کے دن (صحابہ) سے فرمایا (آج) تم ساری زمین والوں سے افضل ہو۔جابرؓ کہتے ہیں اس دن ہم چودہ سو آدمی تھے۔ اور اگر آج مجھ میں بینائی ہوتی تو میں تم کو وہ (کیکر کے) درخت کی جگہ بتلادیتا سفیان کے ساتھ اس حدیث کو اعمش نے بھی روایت کیا انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے سنا انہوں نے جابر سے اس میں چودہ سو آدمی مذکور ہیں ۔


وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلاَثَمِائَةٍ، وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ‏.‏ تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ‏.‏

'Abdullah bin Abi Aufa said, "The people (who gave the Pledge of allegiance) under the Tree numbered 1300 and the number of Bani Aslam was 1/8 of the Emigrants."

عبید اللہ بن معاذ نے کہا ہم سے والد (معاذ بن معاذ ) نے بیان کیا کہا ہم سے شعبیہ بن حجاج نے انہوں نے عمرو بن مرہ سے کہا مجھ سےعبداللہ بن ابی اوفیٰ نے بیان کیا کہا جن لوگوں نے شجرۂ رضوان کے تلے بیعت کی ان کی تعداد تیرہ سو آدمی کی تھی اور اسلم قبیلے کے لوگ مہاجرین کا اٹھواں حصہ تھے عبیداللہ بن معاذ کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن بشار نے بھی روایت کیا کہا ہم سے ابو داؤد طیالسی نے بیان کیاکہا ہم سے شعبہ نے ۔


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مِرْدَاسًا الأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ، وَتَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ، لاَ يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا‏

Narrated By Mirdas Al-Aslami : Who was among those (who had given the Pledge of allegiance) under the Tree: Pious people will die in succession, and there will remain the dregs of society who will be like the useless residues of dates and barley and Allah will pay no attention to them.

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی انہوں نے اسمٰعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے مرداس بن مالک اسلمی سے سنا وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے درخت کے تلے آپﷺ سے بیعت کی تھی۔کہتے تھے ( قیامت کے قریب ) نیک لوگ ایک ایک کر کے اٹھائے جائیں گےجیسے روی سے ( خراب ) کھجور یا اللہ کو ان کی کچھ پرواہ نہ ہو گی۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالاَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا‏.‏ لاَ أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقُولُ لاَ أَحْفَظُ مِنَ الزُّهْرِيِّ الإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ، فَلاَ أَدْرِي ـ يَعْنِي ـ مَوْضِعَ الإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ، أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ‏.

Narrated By Marwan and Al-Miswar bin Makhrama : The Prophet went out in the company of 1300 to 1500 of his companions in the year of Al-Hudaibiya, and when they reached Dhul-Hulaifa, he garlanded and marked his Hadi and assumed the state of Ihram.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ سے ان دونوں نے کہا نبیﷺ حدیبیہ کے سال اپنے اصحاب میں کئی سو آدمی ہمراہ لے کر نکلے جب ذی الحلیفہ میں پہنچے تو آپﷺ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اس کا کوہان چیر کر خون بہایا اور وہیں سے عمرے کا احرام باندھا علی بن مدینی کہتے ہیں میں گن نہیں سکتا میں نے کتنی بار یہ حدیث سفیان سے سنی (یعنی بہت بار سنی ) یہاں تک کہ میں نے سفیان سے سنا وہ کہنے لگے مجھ کو زہری سے کوہان چیرنا ہار ڈالنا یاد نہیں رہا اب میں نہیں جانتا انکا مطلب کیا تھا یعنی اشعار اور تقلید کا مقام یاد نہیں رہا یا ساری حدیث یاد نہیں رہی۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالاَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا‏.‏ لاَ أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقُولُ لاَ أَحْفَظُ مِنَ الزُّهْرِيِّ الإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ، فَلاَ أَدْرِي ـ يَعْنِي ـ مَوْضِعَ الإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ، أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ‏.

Narrated By Marwan and Al-Miswar bin Makhrama : The Prophet went out in the company of 1300 to 1500 of his companions in the year of Al-Hudaibiya, and when they reached Dhul-Hulaifa, he garlanded and marked his Hadi and assumed the state of Ihram.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ سے ان دونوں نے کہا نبیﷺ حدیبیہ کے سال اپنے اصحاب میں کئی سو آدمی ہمراہ لے کر نکلے جب ذی الحلیفہ میں پہنچے تو آپﷺ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اس کا کوہان چیر کر خون بہایا اور وہیں سے عمرے کا احرام باندھا علی بن مدینی کہتے ہیں میں گن نہیں سکتا میں نے کتنی بار یہ حدیث سفیان سے سنی (یعنی بہت بار سنی ) یہاں تک کہ میں نے سفیان سے سنا وہ کہنے لگے مجھ کو زہری سے کوہان چیرنا ہار ڈالنا یاد نہیں رہا اب میں نہیں جانتا انکا مطلب کیا تھا یعنی اشعار اور تقلید کا مقام یاد نہیں رہا یا ساری حدیث یاد نہیں رہی۔


حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، وَرْقَاءَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحْلِقَ وَهْوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، لَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ يُهْدِيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ‏

Narrated By Kab bin Ujra : That Allah's Apostle saw him with the lice falling (from his head) on his face. Allah's Apostle said, "Are your lice troubling you? Ka'b said, "Yes." Allah's Apostle thus ordered him to shave his head while he was at Al-Hudaibiya. Up to then there was no indication that all of them would finish their state of Ihram and they hoped that they would enter Mecca. Then the order of Al-Fidya was revealed, so Allah's Apostle ordered Kab to feed six poor persons with one Faraq of food or slaughter a sheep or fast for three days.

ہم سے حسن بن خلق ابو علی واسطی نے بیان کیا کہا ہم سے اسحٰق بن یوسف نے انہوں نے ابوبشر ورقاء بن عمر سے انہوں نے ابن ابی نجیح سے انہوں نے مجاہد سے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا انہوں نے کعب بن عجرہ سے کہ رسول اللہﷺ نے ان کو دیکھا ان کے سر کی جوئیں (اتنی بہت ہوگئی تھیں کہ)منہ پر گر رہی تھی آپﷺ نے فرمایا ان کیڑوں سے تجھ کو تکلیف ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپﷺ نے ان کو حکم دیا سر منڈوا ڈالو اس وقت وہ حدیبیہ میں تھے ان کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ (وہ عمرے سے ہوکے جائیں گے) حدیبیہ ہی میں ان کو احرام کھول ڈالنا ہوگا بلکہ ان کو مکہ میں داخل ہونے کی( اور عمرہ پوراکرنے کی) امید تھی پھر اللہ نے (سورت بقرہ کی) فدیہ کی آیت اتاری(فَمَن کَانَ مِنکُم مَرِیضًا اَوبِہِ اَذیً) اس وقت کعب کو آپﷺنے حکم دیا ایک فرق کھانا (سولہ رطل ) چھ مسکینوں کو دے یا ایک ایک بکری قربانی کرے یا تین روزے رکھے۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى السُّوقِ، فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ فَقَالَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَكَ زَوْجِي وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا، وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا، وَلاَ لَهُمْ زَرْعٌ وَلاَ ضَرْعٌ، وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ، وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ، وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ، وَلَمْ يَمْضِ، ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلأَهُمَا طَعَامًا، وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا، ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرْتَ لَهَا‏.‏ قَالَ عُمَرُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا، فَافْتَتَحَاهُ، ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَنَا فِيهِ‏

Narrated By Aslam : Once I went with 'Umar bin Al-Khattab to the market. A young woman followed 'Umar and said, "O chief of the believers! My husband has died, leaving little children. By Allah, they have not even a sheep's trotter to cook; they have no farms or animals. I am afraid that they may die because of hunger, and I am the daughter of Khufaf bin Ima Al-Ghafari, and my father witnessed the Pledge of allegiance) of Al-Hudaibiya with the Prophet.' Umar stopped and did not proceed, and said, "I welcome my near relative." Then he went towards a strong camel which was tied in the house, and carried on to it, two sacks he had loaded with food grains and put between them money and clothes and gave her its rope to hold and said, "Lead it, and this provision will not finish till Allah gives you a good supply." A man said, "O chief of the believers! You have given her too much." "Umar said disapprovingly. "May your mother be bereaved of you! By Allah, I have seen her father and brother besieging a fort for a long time and conquering it, and then we were discussing what their shares they would have from that war booty."

ہم سے اسمٰعیل بن عبداللہ نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ بازار میں گیا وہاں ان کو ایک جواں عورت ملی( اس کا نام معلوم نہیں ہوا) وہ کہنے لگی امیر المومنین میرا خاوند مر گیا اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گیا ہے خدا کی قسم ان کو بکری کے پائے تک بھی نہیں ملتے جن کو پکا کر کھائیں نہ ان کے پاس کھیتی ہے نہ دودھ کے جانور ہیں میں ڈر رہی ہوں کہیں قحط سالی میں وہ (بھوک کے مارے)مر نہ جائیں اور میں خفاف بن ایماء کی بیٹی ہوں ۔میرا باپ حدیبیہ میں نبیﷺ کے ساتھ موجود تھا حضرت عمرؓ یہ سن کر کھڑے ہوگئے آگے نہیں بڑھے کہنے لگے، مرحبا تیرا خاندان تو ہمارے خاندان (قریش ) سے قریب ہے۔پھر ایک مضبوط زور اور اونٹ کی طرف گئے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اس پر اناج کی دو گونے بھر کر لادے اور بیچ میں روپیہ اور کپڑے رکھے اور اونٹ کی نکیل اس عورت کے ہاتھ میں دے دی کہا اس کو لےجا یہ ختم نہ ہوگا اس سے پہلے ہی اللہ تجھ کو اس سے بہتر دے گا اس وقت ایک شخص کہنے لگا امیر المومنین آپ نے اس عورت کو بہت دے دیا انہوں نے کہا(ارے کم بخت) تیری ماں تجھ پر روئے خدا کی قسم میں نے اس عورت کے باپ اور بھائی کو دیکھا دونوں ( کافروں) کے ایک قلعہ کو گھیرے رہے یہاں تک کہ اس کو فتح کر لیا پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ لوٹ کے مال میں سے وصول کر رہے تھے۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى السُّوقِ، فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ فَقَالَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَكَ زَوْجِي وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا، وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا، وَلاَ لَهُمْ زَرْعٌ وَلاَ ضَرْعٌ، وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ، وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ، وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ، وَلَمْ يَمْضِ، ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلأَهُمَا طَعَامًا، وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا، ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرْتَ لَهَا‏.‏ قَالَ عُمَرُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا، فَافْتَتَحَاهُ، ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَنَا فِيهِ‏

Narrated By Aslam : Once I went with 'Umar bin Al-Khattab to the market. A young woman followed 'Umar and said, "O chief of the believers! My husband has died, leaving little children. By Allah, they have not even a sheep's trotter to cook; they have no farms or animals. I am afraid that they may die because of hunger, and I am the daughter of Khufaf bin Ima Al-Ghafari, and my father witnessed the Pledge of allegiance) of Al-Hudaibiya with the Prophet.' Umar stopped and did not proceed, and said, "I welcome my near relative." Then he went towards a strong camel which was tied in the house, and carried on to it, two sacks he had loaded with food grains and put between them money and clothes and gave her its rope to hold and said, "Lead it, and this provision will not finish till Allah gives you a good supply." A man said, "O chief of the believers! You have given her too much." "Umar said disapprovingly. "May your mother be bereaved of you! By Allah, I have seen her father and brother besieging a fort for a long time and conquering it, and then we were discussing what their shares they would have from that war booty."

ہم سے اسمٰعیل بن عبداللہ نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ بازار میں گیا وہاں ان کو ایک جواں عورت ملی( اس کا نام معلوم نہیں ہوا) وہ کہنے لگی امیر المومنین میرا خاوند مر گیا اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گیا ہے خدا کی قسم ان کو بکری کے پائے تک بھی نہیں ملتے جن کو پکا کر کھائیں نہ ان کے پاس کھیتی ہے نہ دودھ کے جانور ہیں میں ڈر رہی ہوں کہیں قحط سالی میں وہ (بھوک کے مارے)مر نہ جائیں اور میں خفاف بن ایماء کی بیٹی ہوں ۔میرا باپ حدیبیہ میں نبیﷺ کے ساتھ موجود تھا حضرت عمرؓ یہ سن کر کھڑے ہوگئے آگے نہیں بڑھے کہنے لگے، مرحبا تیرا خاندان تو ہمارے خاندان (قریش ) سے قریب ہے۔پھر ایک مضبوط زور اور اونٹ کی طرف گئے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اس پر اناج کی دو گونے بھر کر لادے اور بیچ میں روپیہ اور کپڑے رکھے اور اونٹ کی نکیل اس عورت کے ہاتھ میں دے دی کہا اس کو لےجا یہ ختم نہ ہوگا اس سے پہلے ہی اللہ تجھ کو اس سے بہتر دے گا اس وقت ایک شخص کہنے لگا امیر المومنین آپ نے اس عورت کو بہت دے دیا انہوں نے کہا(ارے کم بخت) تیری ماں تجھ پر روئے خدا کی قسم میں نے اس عورت کے باپ اور بھائی کو دیکھا دونوں ( کافروں) کے ایک قلعہ کو گھیرے رہے یہاں تک کہ اس کو فتح کر لیا پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ لوٹ کے مال میں سے وصول کر رہے تھے۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ، ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا‏.‏ قَالَ مَحْمُودٌ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا بَعْدُ‏

Narrated By Said bin Al-Musaiyab : That his father said, "I saw the Tree (of the Ar-Ridwan Pledge of allegiance and when I returned to it later, I was not able to recognize it. (The sub-narrator Mahmud said, Al-Musaiyab said, 'Then; forgot it (i.e., the Tree).)"

مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا کہا ہم سے شبابہ بن سوار ابو عمرو فزاری نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا میں نے اس درخت کو دیکھا جس کے تلے بیعت رضوان ہوئی تھی پھر دوسری بار جو میں وہاں گیا تو میں نے اس درخت کو نہیں پہچانا محمود بن غیلان نے اپنے روایت میں یوں نقل کیا پھر وہ درخت میں بھول گیا۔


حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ انْطَلَقْتُ حَاجًّا فَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ يُصَلُّونَ قُلْتُ مَا هَذَا الْمَسْجِدُ قَالُوا هَذِهِ الشَّجَرَةُ، حَيْثُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْعَةَ الرُّضْوَانِ‏.‏ فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ نَسِينَاهَا، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهَا‏.‏ فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَعْلَمُوهَا وَعَلِمْتُمُوهَا أَنْتُمْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ‏

Narrated By Tariq bin 'Abdur-Rahman : When I set out for Hajj, I passed by some people offering a prayer, I asked, "What is this mosque?" They said, "This is the Tree where Allah's Apostle took the Ar-Ridwan Pledge of allegiance. Then I went to Sa'id bin Musaiyab and informed him about it. Said said, "My father said that he was amongst those who had given the Pledge of allegiance to Allah's Apostle beneath the Tree. He (i.e. my father) said, "When we set out the following year, we forgot the Tree and were unable to recognize it. "Then Said said (perhaps ironically) "The companions of the Prophet could not recognize it; nevertheless, you do recognize it; therefore you have a better knowledge."

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے انہوں نے اسرائیل بن یونس سے انہوں نے طارق بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے کہا میں حج کی نیت سے چلا ،رستے میں کچھ لوگوں کو دیکھا نماز پڑھ رہے ہیں میں نے پوچھا یہ مسجد کیسی ہے( یہاں جنگل میں کس نے بنائی) لوگوں نے کہا یہی وہ درخت ہے جس کے تلے رسول اللہﷺ نے بیعت الرضوان لی تھی(اسی کے نیچےلوگوں نے نماز کے لئے مسجد بنا لی تھی) یہ سن کر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا میں نے اس سے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد (مسیب بن حزن) نے بیان کیا وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے رسول اللہﷺ سے درخت کے تلے بیعت کی تھی کہتے تھے جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کو بھول گیا سعید نے کہا محمدﷺ کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے تم لوگوں نے کیسے پہچان لیا کہ اس کے تلے مسجد بنا لی تم ان سے زیادہ علم والے ٹھہرے۔


حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا طَارِقٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهَا الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَعَمِيَتْ عَلَيْنَا‏

Narrated By Said bin Al-Musaiyab : That his father was amongst those who had given the Pledge of allegiance (to the Prophet) beneath the Tree, and the next year when they went towards the Tree, they were not able to recognize it.

ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے کہا ہم سے طارق بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے اپنے والد سے وہ ان صحابہ میں تھے جنہوں نے درخت کے تلے بیعت کی تھی کہتے تھے جب ہم دوسرے سال ادھر گئے تو پہچان نہ سکے کہ وہ کونسا درخت تھا ۔


حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَارِقٍ، قَالَ ذُكِرَتْ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّجَرَةُ فَضَحِكَ فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَكَانَ، شَهِدَهَا‏.

Narrated By Tariq : (The tree where the Ridwan Pledge of allegiance was taken by the Prophet) was mentioned before Said bin Al-Musaiyab. On that he smiled and said, "My father informed me (about it) and he had witnessed it (i.e. the Pledge)."

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے طارق بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے کہا سعید بن مسیب کے سامنے اس درخت کا ذکر آیا وہ ہنس دئیے کہنے لگے میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا (وہی مضمون جو او پر گزر چکا ہے)میرے باپ اس بیعت میں شریک تھے۔


حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَةٍ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ ‏"‏‏.‏ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى ‏"‏‏.

Narrated By Abdullah bin Abi Aufa : (Who was one of those who had given the Pledge of allegiance to the Prophet beneath the Tree) When the people brought Sadaqa (i.e. Rakat) to the Prophet he used to say, "O Allah! Bless them with your Mercy." Once my father came with his Sadaqa to him whereupon he (i.e. the Prophet) said. "O Allah! Bless the family of Abu Aufa."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عمرو بن مرہ سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے سنا وہ ان صحابہ میں تھے جنہوں نے درخت کے تلے نبیﷺ سے بیعت کی تھی کہتے تھے نبیﷺ کے پاس جب کسی قوم کی زکوٰۃ آتی تو آپﷺ یوں دعا کرتے یا اللہ ان پر تو رحمت کر۔تو میرے والد اپنی زکوٰۃ لے کر آئے ۔آپﷺ نے دعا فرمائی یا اللہ ابو اوفی کی اولاد پر رحمت کر۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحَرَّةِ وَالنَّاسُ يُبَايِعُونَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ فَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ عَلَى مَا يُبَايِعُ ابْنُ حَنْظَلَةَ النَّاسَ قِيلَ لَهُ عَلَى الْمَوْتِ‏.‏ قَالَ لاَ أُبَايِعُ عَلَى ذَلِكَ أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَكَانَ شَهِدَ مَعَهُ الْحُدَيْبِيَةَ‏

Narrated By 'Abbad bin Tamim : When it was the day (of the battle) of Al-Harra the people were giving Pledge of allegiance to Abdullah bin Hanzala. Ibn Zaid said, "For what are the people giving Pledge of allegiance to Abdullah bin Hanzala?" It was said to him, "For death." Ibn Zaid said, "I will never give the Pledge of allegiance for that to anybody else after Allah's Apostle." Ibn Zaid was one of those who had witnessed the day of Al-Hudaibiya with the Prophet.

ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا انہوں نے اپنے بھائی عبدالحمید سے ۔انہوں نے سلیمان بن بلال سے۔انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے عباد بن تمیم سے انہوں نے کہا جب حرہ کا دن ہوا اور لوگ (مدینہ والے یزید پلید کی بیعت توڑ کر)عبداللہ بن حنظلہ سے بیعت کرنے لگے تو عبداللہ بن زید (صحابی انصاری مازنی) نے پوچھا عبداللہ بن حنظلہ کس اقرار پر لوگوں سے بیعت لیتے ہیں لوگوں نے کہا موت پر ( یعنی ان کے ساتھ ہو کر لڑیں گے مریں گے) عبداللہ بن زید نے کہا اس شرط پر تو میں رسول اللہﷺ کے بعد اور کسی سے بیعت نہیں کرنے کا۔عبداللہ بن زید حدیبیہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ حَدَّثَنِي ـ أَبِي وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ، وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ ظِلٌّ نَسْتَظِلُّ فِيهِ‏.

Narrated By Iyas bin Salama bin Al-Akwa : My father who was amongst those who had given the Pledge of allegiance to the Prophet beneath the Tree, said to me, "We used to offer the Jumua prayer with the Prophet and then depart at a time when the walls had no shade for us to take shelter in."

ہم سے یحییٰ بن یعلیٰ محاربی نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے والد یعلیٰ نے کہا ہم سے ایاس بن سلمہ بن اکوع نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے درخت کے تلے نبیﷺ سے بیعت کی تھی کہتے تھے ہم نبیﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھا کرتے پھر(نماز سے فارغ ہو کر) جب لوٹتے تو دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس میں ہم سایہ لیتے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ‏.‏ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ‏.

Narrated By Yazid bin Abi Ubaid : I said to Salama bin Al-Akwa, "For what did you give the Pledge of allegiance to Allah's Apostle on the day of Al-Hudaibiya?" He replied, "For death (in the Cause of Islam.)."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے حاتم بن اسمٰعیل نے انھوں نے یزید بن ابی عبید سے کہ میں نے سلمہ بن اکوعؓ سے کہا تم نے حدیبیہ کے دن کس اقرار پر رسول اللہﷺ سے بیعت کی تھی انہوں نے کہا موت پر۔


حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَقُلْتُ طُوبَى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ‏.‏ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ‏.

Narrated By Al-Musaiyab : I met Al-Bara bin 'Azib and said (to him). "May you live prosperously! You enjoyed the company of the Prophet and gave him the Pledge of allegiance (of Al-Hudaibiya) under the Tree." On that, Al-Bara' said, "O my nephew! You do not know what we have done after him (i.e. his death)."

مجھ سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن فضیل نے انہوں نے علاء بن مسیب سے انہوں نے اپنےوالد سے انہوں نے کہا میں براء بن عازب سے ملا میں نے کہا اللہ مبارک کرے تم نے تو نبیﷺ کی صحبت اٹھائی اور درخت کے تلے آپﷺ سے بیعت کی انہوں نے کہا میرے بھتیجے (یہ تو سب صحیح ہے) مگر تو کیا جانے ہم لوگوں نے آپﷺ کے بعد کیا کیا نئے گن کئے۔


حَدَّثَنى إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ـ هُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ ـ عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَايَعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ الشَّجَرَةِ‏.

Narrated By Abu Qilaba : That Thabit bin Ad-Dahhak had informed him that he was one of those who had given the Pledge of allegiance (of Al-Hudaibiya) beneath the Tree.

مجھ سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے کہا ہم سے معاویہ بن سلام نے انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انھوں نے ابو قلابہ(عبداللہ بن زید حرمی) سے ان سے ثابت بن ضحاک نے بیان کیا کہ انھوں نے درخت کے تلے نبیﷺ سے بیعت کی۔


حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ‏{‏إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا‏}‏ قَالَ الْحُدَيْبِيَةُ‏.‏ قَالَ أَصْحَابُهُ هَنِيئًا مَرِيئًا فَمَا لَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ‏}‏ قَالَ شُعْبَةُ فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا كُلِّهِ عَنْ قَتَادَةَ ثُمَّ رَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ أَمَّا ‏{‏إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ‏}‏ فَعَنْ أَنَسٍ، وَأَمَّا هَنِيئًا مَرِيئًا فَعَنْ عِكْرِمَةَ‏

Narrated By Anas bin Malik : Regarding Allah's Statement: "Verily! We have granted you (O, Muhammad) Manifest victory." (48.1) It refers to the Al-Hudaibiya Pledge. And the companions of the Prophet said (to the Prophet), "Congratulations and happiness for you; but what reward shall we get?" So Allah revealed: "That He may admit the believing men and women to gardens beneath which rivers flow." (48.5)

مجھ سے احمد بن اسحٰق نے بیان کیا کہا ہم سے عثمان بن عمر نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس بن مالک سے انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا اِنَّا فَتَحنَالَکَ فَتحاً مُبِیناً اس سے مراد حدیبیہ کی صلح ہے۔ صحابہ نے کہا مبارک مبارک یا رسول اللہﷺ مگر ہمارے لئے کیا ہے اس وقت یہ آیت اتری تاکہ اللہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایسے باغوں میں لے جائے جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہوں گی شعبہ نے کہا میں کوفہ میں آیا تو میں نے یہ ساری حدیث قتادہ سے نقل کی پھر لوٹ کر قتادہ کے پاس آیا ان سے بیان کیا تو وہ کہنے لگے اِنَّا فَتَحنَا کی تفسیر تو انسؓ سے منقول ہے اور" مبارک مبارک " یہ عکرمہ سے منقول ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ـ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ ـ قَالَ إِنِّي لأُوقِدُ تَحْتَ الْقِدْرِ بِلُحُومِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ‏

Narrated By Zahir Al-Aslami : (Who was one of those who had witnessed (the Pledge of allegiance beneath) the Tree) While I was making fire beneath the cooking pots containing donkey's meat, the announcer of Allah's Apostle announced, "Allah's Apostle forbids you to eat donkey's meat."

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عامر عقدی نے کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے انہوں نے مجزاۃ بن زاھر اسلمی سے انہوں نے والد زاھر بن اسود سے وہ درخت کی بیعت میں شریک تھا کہتے تھے میں(خیبر کی جنگ میں) ہانڈیوں میں گدھوں کا گوشت پکا رہا تھا ۔ اتنے میں رسول اللہﷺ کے منادی نے یوں آواز دی کہ رسول اللہﷺ گدھوں کے گوشت سے تم کو منع کرتے ہیں۔


وَعَنْ مَجْزَأَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اسْمُهُ أُهْبَانُ بْنُ أَوْسٍ وَكَانَ اشْتَكَى رُكْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَعَلَ تَحْتَ رُكْبَتِهِ وِسَادَةً‏.

The same narration was told by Majzaa from a man called Uhban bin Aus who was one of those who had witnessed (the Pledge of allegiance beneath) the Tree., and who had some trouble in his knee so that while doing prostrations, he used to put a pillow underneath his knee.

اور (اسی سند سے) مجزاۃ سے روایت ہے اس نے ایک شخص سے جو درخت والی بیعت میں شریک تھا اس کا نام اہبان بن اوس تھا اس کے گھٹنے میں بیماری تھی جب وہ سجدہ کرتا تو گھٹنے کے تلے ایک(نرم) تکیہ رکھ لیتا۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ أُتُوا بِسَوِيقٍ فَلاَكُوهُ‏.‏ تَابَعَهُ مُعَاذٌ عَنْ شُعْبَةَ‏.‏

Narrated By Suwaid bin An-Numan : Who was one of those who witnessed (the Pledge of allegiance beneath) the Tree: Allah's Apostle and his companions were given Sawiq and they chewed it.

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے انہوں نے شعبہ سے انہوں نے یحیٰی بن سعید سے انہوں نے بشیر بن یسار سے انہوں نے سوید بن نعمان سے وہ ان صحابہ میں تھے جنہوں نے درخت کےتلے بیعت کی تھی کہتے تھے رسول اللہﷺ اور ان کے صحابہ کے پاس ( جنگ خیبر میں ) صرف ستو (کھانے کو )لائے گئے انہوں نے اسی کو چبالیا ۔ ابن عدی کے ساتھ اس حدیث کو معاذ نے بھی شعبہ سے روایت کیا ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ هَلْ يُنْقَضُ الْوِتْرُ قَالَ إِذَا أَوْتَرْتَ مِنْ أَوَّلِهِ، فَلاَ تُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ‏.

Narrated By Abu Jamra : I asked Aidh bin Amr, who was one of the companions of the Prophet one of those (who gave the allegiance to the Prophet the Tree: "Can the Witr prayer be repeated (in one night)?" He said, "If you have offered it in the first part of the night, you should not repeat it in the last part 'of the night."

ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا کہا ہم سے شاذان (اسود بن عامر)نے انہوں نے شعبہ سے انہوں نے ابو جمرہ سے انہوں نے کہا میں نے عائد بن عمرو سے پوچھا وہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے درخت کے تلے نبیﷺ سے بیعت کی تھی۔کیا وتر کا توڑ ڈالنا (ایک رکعت پڑھ کر) درست ہے انہوں نے کہا جب تو شروع رات میں وتر پڑھ لے تو اخیر رات میں مت پڑھ۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلاً، فَسَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ شَىْءٍ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا عُمَرُ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ لاَ يُجِيبُكَ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي ثُمَّ تَقَدَّمْتُ أَمَامَ الْمُسْلِمِينَ، وَخَشِيتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ قُرْآنٌ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي ـ قَالَ ـ فَقُلْتُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ‏.‏ وَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا‏}‏‏.‏‏"‏

Narrated By Zaid bin Aslam : My father said, "Allah's Apostle was proceeding at night on one of his journeys and 'Umar bin Al-Khattab was going along with him. 'Umar bin Al-Khattab asked him (about something) but Allah's Apostle did not answer him. 'Umar asked him again, but he did not answer him. He asked him again (for the third time) but he did not answer him. On that Umar bin Al-Khattab addressed himself saying, "May your mother be bereaved of you, O 'Umar, for you have asked Allah's Apostle thrice, yet he has not answered you." 'Umar said, "Then I made my camel run fast and took it in front of the other Muslims, and I was afraid that something might be revealed in my connection. I had hardly waited for a moment when I heard somebody calling me. I said, 'I was afraid that something might have been revealed about me.' Then I came to Allah's Apostle and greeted him. He (i.e. the Prophet) said, 'Tonight there has been revealed to me, a Sura which is dearer to me than (all the world) on which the sun rises,' and then he recited: 'Verily! We have granted you (O Muhammad) A manifest victory." (48.1)

مجھ سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے اپنے والد اسلم سے کہ رسول اللہﷺ ایک سفر میں جارہے تھے (حدیبیہ کو) حضرت عمرؓ بھی آپﷺ کے ساتھ تھے رات کا وقت تھا۔ انہوں نے رسول اللہﷺ سے کچھ پوچھا آپﷺ نے جواب نہ دیا پھر پوچھا پھر جواب نہ دیا پھر پوچھا پھر آپﷺ نے جواب نہ دیا ۔ (اس وقت آپﷺ وحی میں مشغول تھے حضرت عمرؓ کو خبر نہ تھی ) آخر حضرت عمرؓ (اپنے دل میں ) کہنے لگے خدا کرے (تو مرجائے) تیری ماں تجھ پر روئے۔ تو نے رسول اللہﷺ سے تین بار اس قدر عاجزی سے عرض کیا اور آپﷺ نے جواب نہیں دیا( حضرت عمرؓ کہتے ہیں ) میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی ۔ اور مسلمانوں سے آگے بڑھ گیا اور میں ڈرا کہیں میرے باب میں قرآن نہ اترے (اللہ تعالٰی کا مجھ پر عتاب ہو) تھوڑی ہی دیر میں ٹھہرا تھا کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھ کو پکار رہا تھا مجھ کو اور ڈر ہوا شائد میرے باب میں کچھ قرآن اترا آخر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا میں نے آپﷺ کو سلام کیا آپﷺ نے فرمایا مجھ پر رات کو ایک آیت اتری جو مجھے ان تمام چیزوں سے پسند ہے جن پر سورج نکلا پھر آپﷺ نے یہ سورۃ پڑھی اَنَّا فَتَحنَا لَکَ فَتحاً مُبِیناً۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ،، حَفِظْتُ بَعْضَهُ، وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ قَالاَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ، وَأَشْعَرَهُ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ، وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ، أَتَاهُ عَيْنُهُ قَالَ إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا، وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ، وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَىَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنِ الْبَيْتِ، فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِلاَّ تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ، لاَ تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلاَ حَرْبَ أَحَدٍ، فَتَوَجَّهْ لَهُ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ ‏"‏‏

Narrated By Al-Miswar bin Makhrama and Marwan bin Al-Hakam : (One of them said more than his friend): The Prophet set out in the company of more than one-thousand of his companions in the year of Al-Hudaibiya, and when he reached Dhul-Hulaifa, he garlanded his Hadi (i.e. sacrificing animal), assumed the state of Ihram for 'Umra from that place and sent a spy of his from Khuzi'a (tribe). The Prophet proceeded on till he reached (a village called) Ghadir-al-Ashtat. There his spy came and said, "The Quraish (infidels) have collected a great number of people against you, and they have collected against you the Ethiopians, and they will fight with you, and will stop you from entering the Ka'ba and prevent you." The Prophet said, "O people! Give me your opinion. Do you recommend that I should destroy the families and offspring of those who want to stop us from the Ka'ba? If they should come to us (for peace) then Allah will destroy a spy from the pagans, or otherwise we will leave them in a miserable state." On that Abu Bakr said, "O Allah Apostle! You have come with the intention of visiting this House (i.e. Ka'ba) and you do not want to kill or fight anybody. So proceed to it, and whoever should stop us from it, we will fight him." On that the Prophet said, "Proceed on, in the Name of Allah !"

ہم سے عبد اللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ انہوں نے کہا جب زہری نے یہ حدیث بیان کی (جو آگے مذکور ہوتی ہے ) تو اس میں سے کچھ میں نے یاد رکھی اور معمر نے اس کو اچھی طرح یاد دلایا انہوں نے عروہ بن زبیر سے نقل کیا انہوں نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے۔ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کچھ بڑھاتا ہے دونوں نے کہا نبیﷺ حدیبیہ کے سال کئی سو اصحاب اپنے ساتھ لے کر(مکہ کو چلے) جب ذو الحلیفہ میں آئے تو قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈالا ۔اس کا کوہان چیرا ( خون بہایا) وہیں سے عمرے کا احرام باندھا ۔ اور خزاعہ قوم کے ایک جاسوس(بسر بن سفیان)کو روانہ کیا ( کہ قریش کی خبر لائے)اور آپﷺ چلے جب غدیر الاشطاط میں پہنچے(جو ایک مقام کا نام ہے) وہاں آپﷺ کا جاسوس آیا کہنے لگا قریش کے لوگوں نے تو فوجیں اکٹھی کی ہیں اور یہ فوجیں مترق قبیلوں سے لی گئی ہیں وہ آپﷺ سے لڑیں گے اور بیت اللہ میں نہیں آنے دیں گے روکیں گے۔اس وقت آپﷺ نے صحابہ سے فرمایا لوگو مجھ کو صلاح دواب کیا میں ان کافروں کےبال بچوں پر جھک پڑوں ( قید کرلوں ) جو ہم کو خانہ خدا سے روکنے آئے ہیں اگر وہ ہم سے لڑنے آئے (اپنے بال بچوں کو بچانے) تو اللہ نے مشرکوں کے ہاتھ سے ہمارے جاسوس کو بچادیا ان کی جماعت کم کر دی اگر نہ آئے تو ہم ان کو مفلس بناکر چھوڑ دیں گے ابو بکرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپﷺ تو (گھر سے) بیت اللہ کا عزم (قصد) کر کے نکلے تھے نہ آپﷺ کسی کو مارنے نکلے تھے نہ کسی سے لڑنے کے لئے تو وہیں ( یعنی بیت اللہ کی طرف ) چلئے جو کوئی ہمیں بیت اللہ سے روکے گا ہم اس سے لڑیں گے آپﷺ نے فرمایا چلو بسم اللہ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ،، حَفِظْتُ بَعْضَهُ، وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ قَالاَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ، وَأَشْعَرَهُ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ، وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ، أَتَاهُ عَيْنُهُ قَالَ إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا، وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ، وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَىَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنِ الْبَيْتِ، فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِلاَّ تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ، لاَ تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلاَ حَرْبَ أَحَدٍ، فَتَوَجَّهْ لَهُ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ ‏"‏‏

Narrated By Al-Miswar bin Makhrama and Marwan bin Al-Hakam : (One of them said more than his friend): The Prophet set out in the company of more than one-thousand of his companions in the year of Al-Hudaibiya, and when he reached Dhul-Hulaifa, he garlanded his Hadi (i.e. sacrificing animal), assumed the state of Ihram for 'Umra from that place and sent a spy of his from Khuzi'a (tribe). The Prophet proceeded on till he reached (a village called) Ghadir-al-Ashtat. There his spy came and said, "The Quraish (infidels) have collected a great number of people against you, and they have collected against you the Ethiopians, and they will fight with you, and will stop you from entering the Ka'ba and prevent you." The Prophet said, "O people! Give me your opinion. Do you recommend that I should destroy the families and offspring of those who want to stop us from the Ka'ba? If they should come to us (for peace) then Allah will destroy a spy from the pagans, or otherwise we will leave them in a miserable state." On that Abu Bakr said, "O Allah Apostle! You have come with the intention of visiting this House (i.e. Ka'ba) and you do not want to kill or fight anybody. So proceed to it, and whoever should stop us from it, we will fight him." On that the Prophet said, "Proceed on, in the Name of Allah !"

ہم سے عبد اللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ انہوں نے کہا جب زہری نے یہ حدیث بیان کی (جو آگے مذکور ہوتی ہے ) تو اس میں سے کچھ میں نے یاد رکھی اور معمر نے اس کو اچھی طرح یاد دلایا انہوں نے عروہ بن زبیر سے نقل کیا انہوں نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے۔ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کچھ بڑھاتا ہے دونوں نے کہا نبیﷺ حدیبیہ کے سال کئی سو اصحاب اپنے ساتھ لے کر(مکہ کو چلے) جب ذو الحلیفہ میں آئے تو قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈالا ۔اس کا کوہان چیرا ( خون بہایا) وہیں سے عمرے کا احرام باندھا ۔ اور خزاعہ قوم کے ایک جاسوس(بسر بن سفیان)کو روانہ کیا ( کہ قریش کی خبر لائے)اور آپﷺ چلے جب غدیر الاشطاط میں پہنچے(جو ایک مقام کا نام ہے) وہاں آپﷺ کا جاسوس آیا کہنے لگا قریش کے لوگوں نے تو فوجیں اکٹھی کی ہیں اور یہ فوجیں مترق قبیلوں سے لی گئی ہیں وہ آپﷺ سے لڑیں گے اور بیت اللہ میں نہیں آنے دیں گے روکیں گے۔اس وقت آپﷺ نے صحابہ سے فرمایا لوگو مجھ کو صلاح دواب کیا میں ان کافروں کےبال بچوں پر جھک پڑوں ( قید کرلوں ) جو ہم کو خانہ خدا سے روکنے آئے ہیں اگر وہ ہم سے لڑنے آئے (اپنے بال بچوں کو بچانے) تو اللہ نے مشرکوں کے ہاتھ سے ہمارے جاسوس کو بچادیا ان کی جماعت کم کر دی اگر نہ آئے تو ہم ان کو مفلس بناکر چھوڑ دیں گے ابو بکرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپﷺ تو (گھر سے) بیت اللہ کا عزم (قصد) کر کے نکلے تھے نہ آپﷺ کسی کو مارنے نکلے تھے نہ کسی سے لڑنے کے لئے تو وہیں ( یعنی بیت اللہ کی طرف ) چلئے جو کوئی ہمیں بیت اللہ سے روکے گا ہم اس سے لڑیں گے آپﷺ نے فرمایا چلو بسم اللہ۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، يُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عُمْرَةِ الْحُدَيْبِيَةِ فَكَانَ فِيمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا أَنَّهُ لَمَّا كَاتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ، وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ لاَ يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ‏.‏ وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ عَلَى ذَلِكَ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامَّعَضُوا، فَتَكَلَّمُوا فِيهِ، فَلَمَّا أَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ عَلَى ذَلِكَ، كَاتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُهَيْلٍ يَوْمَئِذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلاَّ رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ، وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، فَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ‏.‏

Narrated By Urwa bin Az-Zubair : That he heard Marwan bin Al-Hakam and Al-Miswar bin Makhrama relating one of the events that happened to Allah's Apostle in the 'Umra of Al-Hudaibiya. They said, "When Allah's Apostle concluded the truce with Suhail bin 'Amr on the day of Al-Hudaibiya, one of the conditions which Suhail bin 'Amr stipulated, was his saying (to the Prophet), "If anyone from us (i.e. infidels) ever comes to you, though he has embraced your religion, you should return him to us, and should not interfere between us and him." Suhail refused to conclude the truce with Allah's Apostle except on this condition. The believers disliked this condition and got disgusted with it and argued about it. But when Suhail refused to conclude the truce with Allah's Apostle except on that condition, Allah's Apostle concluded it. Accordingly, Allah's Apostle then returned Abu Jandal bin Suhail to his father, Suhail bin 'Amr, and returned every man coming to him from them during that period even if he was a Muslim. The believing women Emigrants came (to Medina) and Um Kulthum, the daughter of 'Uqba bin Abi Mu'ait was one of those who came to Allah's Apostle and she was an adult at that time. Her relatives came, asking Allah's Apostle to return her to them, and in this connection, Allah revealed the Verses dealing with the believing (women).

مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے کہامجھ سے ابن شہاب کے بھتیجے نے انہوں نے اپنے چچا محمد بن مسلم بن شہاب سے انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی انہوں نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ سے سنا وہ دونوں رسول اللہﷺ کے عمرہ حدیبیہ کا قصّہ بیان کرتے تھے محمد بن مسلم نے کہا عروہ نے جو ان دونوں سے سن کر مجھ سے بیان کیا اس میں یہ بھی تھا کہ رسول اللہﷺ نے جب حدیبیہ کے دن سہیل بن عمرو سے (جو قریش کا وکیل تھا)صلح کی اور صلح نامہ لکھوایا گیا اس میں سہیل نے یہ شرط بھی لکھوائی کہ اگر ہمارے میں کا کوئی آدمی آپ کے پاس آجائے گو وہ مسلمان ہو گیا تو آپﷺ اس کو ہماری طرف پھیر دیجئے ۔ہم جو چاہیں اس کے ساتھ کریں سہیل نے کہا میں تو ایسی شرط پر صلح کروں گا اور مسلمانوں نے اس شرط کو برا مانا ناراض ہوئے انہوں نے گفتگو کی ( کہا یہ کیونکر ) ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو کافروں کے سپرد کردیں)سہیل نے کہا یہ نہیں ہو سکتا تو صلح بھی نہیں ہو سکتی ۔ آخر رسول اللہﷺ نے یہ شرط منظور کر لی اور صلح نامہ لکھوایا اسی شرط کے موافق رسول اللہﷺ نے ابو جندل بن سہیل کو (جو مسلمان ہو گیا تھا ) اس کے باپ سہیل بن عمرو کے سپرد کردیا اور مدت صلح کے اندر جو کوئی مرد گو مسلمان بن کر آیا آپﷺ نے اس کو قریش والوں کے حوالے کردیا ۔ عورتیں بھی مسلمان ہو کر اس صلح کے زمانہ میں آئیں انہوں نے ہجرت کی ان میں ام کلثوم بن ابی معیط کی بیٹی بھی تھی جو جوان ( یا جوانی کے قریب) ہو گئی تھی وہ بھی ( مدینہ) میں رسول اللہﷺ کے پاس آگئیں۔اس کے عزیز آپﷺ کے پاس آئے اس لئے کہ آپﷺ اس کو لوٹا دیں ( کافروں کو دے دیں ) اس وقت ( سورت ممتحنہ کی ) وہ آیت اتری جو مسلمان عورتوں کے باب میں ہے۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، يُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عُمْرَةِ الْحُدَيْبِيَةِ فَكَانَ فِيمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا أَنَّهُ لَمَّا كَاتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ، وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ لاَ يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ‏.‏ وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ عَلَى ذَلِكَ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامَّعَضُوا، فَتَكَلَّمُوا فِيهِ، فَلَمَّا أَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ عَلَى ذَلِكَ، كَاتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُهَيْلٍ يَوْمَئِذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلاَّ رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ، وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، فَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ‏.‏

Narrated By Urwa bin Az-Zubair : That he heard Marwan bin Al-Hakam and Al-Miswar bin Makhrama relating one of the events that happened to Allah's Apostle in the 'Umra of Al-Hudaibiya. They said, "When Allah's Apostle concluded the truce with Suhail bin 'Amr on the day of Al-Hudaibiya, one of the conditions which Suhail bin 'Amr stipulated, was his saying (to the Prophet), "If anyone from us (i.e. infidels) ever comes to you, though he has embraced your religion, you should return him to us, and should not interfere between us and him." Suhail refused to conclude the truce with Allah's Apostle except on this condition. The believers disliked this condition and got disgusted with it and argued about it. But when Suhail refused to conclude the truce with Allah's Apostle except on that condition, Allah's Apostle concluded it. Accordingly, Allah's Apostle then returned Abu Jandal bin Suhail to his father, Suhail bin 'Amr, and returned every man coming to him from them during that period even if he was a Muslim. The believing women Emigrants came (to Medina) and Um Kulthum, the daughter of 'Uqba bin Abi Mu'ait was one of those who came to Allah's Apostle and she was an adult at that time. Her relatives came, asking Allah's Apostle to return her to them, and in this connection, Allah revealed the Verses dealing with the believing (women).

مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے کہامجھ سے ابن شہاب کے بھتیجے نے انہوں نے اپنے چچا محمد بن مسلم بن شہاب سے انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی انہوں نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ سے سنا وہ دونوں رسول اللہﷺ کے عمرہ حدیبیہ کا قصّہ بیان کرتے تھے محمد بن مسلم نے کہا عروہ نے جو ان دونوں سے سن کر مجھ سے بیان کیا اس میں یہ بھی تھا کہ رسول اللہﷺ نے جب حدیبیہ کے دن سہیل بن عمرو سے (جو قریش کا وکیل تھا)صلح کی اور صلح نامہ لکھوایا گیا اس میں سہیل نے یہ شرط بھی لکھوائی کہ اگر ہمارے میں کا کوئی آدمی آپ کے پاس آجائے گو وہ مسلمان ہو گیا تو آپﷺ اس کو ہماری طرف پھیر دیجئے ۔ہم جو چاہیں اس کے ساتھ کریں سہیل نے کہا میں تو ایسی شرط پر صلح کروں گا اور مسلمانوں نے اس شرط کو برا مانا ناراض ہوئے انہوں نے گفتگو کی ( کہا یہ کیونکر ) ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو کافروں کے سپرد کردیں)سہیل نے کہا یہ نہیں ہو سکتا تو صلح بھی نہیں ہو سکتی ۔ آخر رسول اللہﷺ نے یہ شرط منظور کر لی اور صلح نامہ لکھوایا اسی شرط کے موافق رسول اللہﷺ نے ابو جندل بن سہیل کو (جو مسلمان ہو گیا تھا ) اس کے باپ سہیل بن عمرو کے سپرد کردیا اور مدت صلح کے اندر جو کوئی مرد گو مسلمان بن کر آیا آپﷺ نے اس کو قریش والوں کے حوالے کردیا ۔ عورتیں بھی مسلمان ہو کر اس صلح کے زمانہ میں آئیں انہوں نے ہجرت کی ان میں ام کلثوم بن ابی معیط کی بیٹی بھی تھی جو جوان ( یا جوانی کے قریب) ہو گئی تھی وہ بھی ( مدینہ) میں رسول اللہﷺ کے پاس آگئیں۔اس کے عزیز آپﷺ کے پاس آئے اس لئے کہ آپﷺ اس کو لوٹا دیں ( کافروں کو دے دیں ) اس وقت ( سورت ممتحنہ کی ) وہ آیت اتری جو مسلمان عورتوں کے باب میں ہے۔


قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الآيَةِ ‏{‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ‏}‏‏.‏ وَعَنْ عَمِّهِ قَالَ بَلَغَنَا حِينَ أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرُدَّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مَا أَنْفَقُوا عَلَى مَنْ هَاجَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِمْ، وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَصِيرٍ‏.‏ فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ‏.‏

'Aisha said, "Allah's Apostle used to test all the believing women who migrated to him, with the following Verse: "O Prophet! When the believing Women come to you, to give the pledge of allegiance to you." (60.12) 'Urwa's uncle said, "We were informed when Allah ordered His Apostle to return to the pagans what they had given to their wives who lately migrated (to Medina) and we were informed that Abu Basir..." relating the whole narration.

اسی سند سے ابن شہاب نے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا حضرت عائشہؓ نے جو نبیﷺ کی بی بی تھیں کہا کہ رسول اللہﷺ ان عورتوں کو جو مسلمان ہو کر ہجرت کر آئیں جانچتے ، ان کا امتحان لیتے اس آیت کی رو سے اے پیغمبر جب مسلمان عورتیں تیرے پاس آئیں اخیر آیت تک اور ابن شہاب کے بھتیجے نے(اسی سند سے)اپنے چچا سے روایت کی ہم کو پہنچا کہ اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو یہ حکم دیا کہ مشرکوں نے جو اپنے بیویوں پر خرچ کیاوہ بی بیاں ہجرت کر کے مسلمانوں کے پاس چلی آئیں تو ان کا خرچہ پھیر دیا جائے اور ابو بصیر کا قصّہ طول کے ساتھ بیان کیا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ فَقَالَ إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ، صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ‏

Narrated By Nafi : Abdullah bin Umar set out for Umra during the period of afflictions, and he said, "If I should be stopped from visiting the Kaba, I will do what we did when we were with Allah's Apostle." He assumed Ihram for 'Umra in the year of Al-Hudaibiya.

ہم قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے نافع سے کہ عبداللہ بن عمر فتنے اور فساد کے زمانہ میں عمرے کی نیت سے نکلے کہنے لگے اگر میں خانہ کعبہ جانے سے روکا گیا تو ویسا ہی کروں گا جیسے میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ کیا تھا (یعنی حدیبیہ کے زمانہ میں) خیر انہوں نے عمرے کا احرام باندھا کیونکہ رسول اللہﷺ نے بھی حدیبیہ کے زمانے میں عمرے کا احرام باندھا تھا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ وَقَالَ إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ‏.‏ وَتَلاَ ‏{‏لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‏}‏

Narrated By Nafi : Ibn 'Umar assumed Ihram and said, "If something should intervene between me and the Ka'ba, then I will do what the Prophet did when the Quraish infidels intervened between him and (the Ka'ba). Then Ibn 'Umar recited: "You have indeed in Allah's Apostle A good example to follow." (33.21)

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے عبید اللہ سے انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے احرام باندھا اور کہنے لگے اگر لوگ مجھے کعبے جانے سے روکیں گے تو میں وہی کروں گا جو نبیﷺ نے اس وقت کیا تھا جب قریش کے کافروں نے آپﷺ کو روک دیا تھا اور یہ آیت پڑھی ۔ تم کو اللہ کے رسول کی پیروی اچھی پیروی ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ‏.‏ح: وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَهُ لَوْ أَقَمْتَ الْعَامَ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لاَ تَصِلَ إِلَى الْبَيْتِ‏.‏ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَدَايَاهُ، وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابُهُ، وَقَالَ ‏"‏ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ‏"‏‏.‏ فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ مَا أُرَى شَأْنَهُمَا إِلاَّ وَاحِدًا، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي‏.‏ فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا، حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا‏

Narrated By Nafi : One of 'Abdullah's sons said to 'Abdullah (bin Umar) "I wish you would stay this year (and not perform Hajj) as I am afraid that you will not be able to reach the Kaba." On that he (i.e. 'Abdullah bin Umar) said, "We went out with the Prophet (for 'Umra), and when the Quraish infidel intervened between us and the Ka'ba, the Prophet slaughtered his Hadi and shaved (his head), and his companions cut short their hair." Then 'Abdullah bin Umar said, "I make you witness that I have intended to perform 'Umra and if I am allowed to reach the Kaba, I will perform the Tawaf, and if something (i.e. obstacles) intervene between me and the Kaba, then I will do what Allah's Apostle did." Then after going for a while, he said, "I consider the ceremonies (of both 'Umra and Hajj as one and the same, so I would like you to witness that I have intended to perform Hajj along with my 'Umra." So he performed only one Tawaf and one Sai (between Safa and Marwa) and finished the Ihram of both Umra and Hajj).

ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ نے انھوں نے نافع سے ان کو عبید اللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ دونوں نے خبر دی ان دونوں نے (اپنے والد )عبداللہ بن عمرؓ سے گفتگو کی۔دوسری سند امام بخاری نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ نے انھوں نے نافع سے کہ عبداللہ بن عمرؓ کے بعضے بیٹوں نے ان سے کہا اس سال تم رہ جاؤ (عمرے کو نہ جاؤ) تو اچھا ہے کیونکہ ہم کو ڈر ہے شاید تم بیت اللہ تک نہ پہنچ سکو ۔انھوں نے کہا ہم نبیﷺ کے ساتھ (عمرے کی نیت سے) نکلے۔ قریش کے کافروں نے آپﷺ کو بیت اللہ تک جانے نہ دیا حائل ہوئے آخر آپﷺ نے (حدیبیہ میں) اپنی قربانیاں کاٹ ڈالیں اور سر منڈایا آپﷺ کے اصحابؓ نے بھی بال کترائے (احرام کھول ڈالا) پھر عبداللہ بن عمرؓ کہنے لگے میں تم کو گواہ کرتا ہوں میں نے عمرہ اپنے اوپر واجب کر لیا اب اگر لوگوں نے بیت اللہ تک مجھ کو جانے دیا تو میں طواف کروں گا (عمرہ بجا لاؤں گا) اور اگر میں روکا گیا تو ویسا ہی کروں گا جیسے رسول اللہﷺ نے کیا تھا تھوڑی دور تک یہی کہہ کر چلے پھر کہنے لگے حج اور عمرہ دونوں برابر ہیں (دونوں میں احصار یعنی روکے جانے کا ایک ہی حکم ہے) میں تم کو گواہ کرتا ہوں میں نے عمرے کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا پھر انھوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لئے ایک ہی طواف کیا اور ایک ہی سعی کی اور دونوں کا احرام ایک ساتھ ہی (دسویں تاریخ) کھولا۔


حَدَّثَنِي شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، سَمِعَ النَّضْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنْ عُمَرُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْسَلَ عَبْدَ اللَّهِ إِلَى فَرَسٍ لَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يَأْتِي بِهِ لِيُقَاتِلَ عَلَيْهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُبَايِعُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، وَعُمَرُ لاَ يَدْرِي بِذَلِكَ، فَبَايَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْفَرَسِ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ، وَعُمَرُ يَسْتَلْئِمُ لِلْقِتَالِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ـ قَالَ ـ فَانْطَلَقَ فَذَهَبَ مَعَهُ حَتَّى بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَهِيَ الَّتِي يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ‏

Narrated By Nafi : The people used to say that Ibn 'Umar had embraced Islam before 'Umar. This is not true. What happened is that 'Umar sent 'Abdullah to bring his horse from an Ansari man so as to fight on it. At that time the people were giving the Pledge of allegiance to Allah's Apostle near the Tree, and 'Umar was not aware of that. So Abdullah (bin Umar) gave the Pledge of Allegiance (to the Prophet) and went to take the horse and brought it to 'Umar.While 'Umar was putting on the armour to get ready for fighting, 'Abdullah informed him that the people were giving the Pledge of allegiance to Allah's Apostle beneath the Tree. So 'Umar set out and 'Abdullah accompanied him till he gave the Pledge of allegiance to Allah's Apostle, and it was this event that made people say that Ibn 'Umar had embraced Islam before 'Umar.

مجھ سے شجاع بن ولید نے بیان کیا انہوں نے نضر بن محمد سے سنا کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا انہوں نے نافع سے انہوں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرؓ حضرت عمرؓ سے پہلے مسلمان ہوئے یہ صحیح نہیں ہے ہوا یہ کہ حدیبیہ کے دن حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو ایک انصاری کے پاس اپنا گھوڑا لانے کو بھیجا تاکہ اس پر سوار ہو کر جہاد کریں۔اس وقت رسول اللہﷺ درخت کے پاس( صحابہؓ ) سے بیعت لے رہے تھے حضرت عمرؓ کو اس کی خبر نہ تھی تو عبداللہ نے آپﷺ سے بیعت کرلی پھر گھوڑا لینے گئے اور اس کو لئے ہوئے حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے حضرت عمرؓ لڑائی کے لئے اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے ان کو یہ خبر دی کہ رسول اللہﷺ درخت کے نیچے بیعت لے رہے ہیں یہ خبر سنتے ہی حضرت عمرؓ روانہ ہوئے عبداللہ بھی ساتھ گئے اور حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ سے بیعت کی بس بات اتنی ہے جس کی وجہ سے لوگ یوں کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرؓ حضرت عمرؓ سے پہلے مسلمان ہوئے ۔


وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّاسَ، كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، تَفَرَّقُوا فِي ظِلاَلِ الشَّجَرِ، فَإِذَا النَّاسُ مُحْدِقُونَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، انْظُرْ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَهُمْ يُبَايِعُونَ، فَبَايَعَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عُمَرَ فَخَرَجَ فَبَايَعَ‏

"Abdullah bin 'Umar added, "The people were along with the Prophet on the day of Al-Hudaibiya spreading in the shade of the trees. Suddenly the people surrounded the Prophet and started looking at him." 'Umar said, "O 'Abdullah! Go and see why the people are encircling Allah's Apostle and looking at him." 'Abdullah bin Umar then saw the people giving the Pledge o allegiance to the Prophet. So he also gave the Pledge of allegiance and returned to 'Umar who went out in his turn and gave the Pledge of allegiance to the Prophet.'

اور ہشام بن عمار نے کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا کہا ہم سے عمر بن محمد عمری نے کہا مجھ کو نافع نے خبر دی انہوں نے ابن عمرؓ سے کہ حدیبیہ کے دن نبیﷺ کے ساتھ جو لوگ تھے وہ جدا جدا درختوں کے سایہ میں ٹھہرے تھے ایک ہی ایکا کیا دیکھا لوگ نبیﷺ کے گرد اگرد جمع ہیں حضرت عمرؓ نے(اپنے بیٹے) عبداللہ سے کہا دیکھ تو سہی یہ لوگ کیوں جمع ہیں نبیﷺ کو کیوں گھیرے ہیں انہوں نے جاکر دیکھا تو معلوم ہوا وہ آپﷺ سے بیعت کر رہے ہیں عبداللہ نے بھی بیعت کی پھر لوٹ کر حضرت عمرؓ کے پاس آئے وہ بھی نکلے انہوں نے بھی بیعت کی۔


حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ اعْتَمَرَ فَطَافَ فَطُفْنَا مَعَهُ، وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، لاَ يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَىْءٍ‏

Narrated By 'Abdullah bin Abi Aufa : We were in the company of the Prophet when he performed the 'Umra. He performed the Tawaf and we did the same; he offered the prayer and we also offered the prayer with him. Then he performed the Sai between Safa and Marwa and we were guarding him against the people of Mecca so that nobody should harm him.

ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا کہا ہم سے یعلٰی بن عبید نے کہا ہم سے اسما عیل بن ابی خالد نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفٰےسے سنا انہوں نے کہا نبی ﷺ نے جب عمرہ قضا کیا تو ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے آپ ﷺ نے طواف کیا ہم نے بھی آپﷺ کے ساتھ طواف کیا آپﷺ نے نماز پڑھی ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ صفا ومروہ کے بیچ میں چلے ہم آپﷺ پر آڑ کیے ہوئے تھے ، ایسا نہ ہو ، مکہ کا کوئی مشرک آپﷺ پر حملہ کرے۔


حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَصِينٍ، قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ لَمَّا قَدِمَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ مِنْ صِفِّينَ أَتَيْنَاهُ نَسْتَخْبِرُهُ فَقَالَ اتَّهِمُوا الرَّأْىَ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْرَهُ لَرَدَدْتُ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا لأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلاَّ أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ قَبْلَ هَذَا الأَمْرِ، مَا نَسُدُّ مِنْهَا خُصْمًا إِلاَّ انْفَجَرَ عَلَيْنَا خُصْمٌ مَا نَدْرِي كَيْفَ نَأْتِي لَهُ

Narrated By Abu Wail : When Sahl bin Hunaif returned from (the battle of) Siffin, we went to ask him (as to why he had come back). He replied, "(You should not consider me a coward) but blame your opinions. I saw myself on the day of Abu Jandal (inclined to fight), and if I had the power of refusing the order of Allah's Apostle then, I would have refused it (and fought the infidels bravely). Allah and His Apostle know (what is convenient) better. Whenever we put our swords on our shoulders for any matter that terrified us, our swords led us to an easy agreeable solution before the present situation (of disagreement and dispute between the Muslims). When we mend the breach in one side, it opened in another, and we do not know what to do about it."

ہم سے حسن بن اسحاق نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن سابق نے کہا ہم سے مالک بن مغول نے کہا میں نے ابو حصین سے سنا انہوں نے کہا ابو وائل شقیق بن سلمہ نے کہا جب سہل بن حنیف انصاری صفین سےلوٹ کرآئے ہم انکے پاس خبر پوچھنے کو گئے انہوں نے کہا (بھلے آدمیو)اپنی رائے پر مت نازاں ہو ایک وہ دن تھا ابوجندل کااس دن میں نے اپنے تیئں دیکھا اگر مجھ سے ہو سکتا تو میں رسول اللہ ﷺ کا حکم نہ سنتا (ابو جندل کو واپس نہ ہونے دیتا خوب لڑتا)لیکن اللہ اور اس کارسول خوب جانتا ہے۔اور ہم نے تو اس جنگ سے پہلے جب کسی ڈر کے وقت تلواریں اپنے کندھوں پر سنبھالیں(لڑائی شروع کی) تو اس کا نتیجہ ایسا ہوا جس کو ہم اچھا سمجتے تھے۔مگر اس جنگ کا عجب حال ہے۔ہم فساد کا ایک کونہ بند کرتے ہیں تو دوسرا کونا کھل جاتا ہے ہم نہیں جانتے کہ کیا تدبیر ہم کو کرنی چاہیے۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ ‏{‏أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ‏}‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ لاَ أَدْرِي بِأَىِّ هَذَا بَدَأَ‏.

Narrated By Kab bin Ujra : The Prophet came to me at the time of Al-Hudaibiya Pledge while lice were falling on my face. He said, "Are the lice of your head troubling you?" I said, "Yes." He said, "Shave your head and fast for three days, or feed six poor persons, or slaughter a sheep as sacrifice." (The sub-narrator, Aiyub said, "I do not know with which of these three options he started.")

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیاکہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے مجاہد سے انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلی سے انہوں نے کعب بن عجرہ سے انہوں نے کہا حدیبیہ کے دنوں میں نبیﷺ میرے پاس تشریف لائے میرے منہ پر جوئیں گر رہی تھیں ، آپﷺ نے فرمایا کیا ان سر کے کیڑوں سے تجھ کو تکلیف ہے میں نے عر ض کیا جی ہاں ۔ آپﷺ نے فرمایا تو ایسا کر سر منڈوا ڈال اور تین روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک بکری قربانی کر۔ ایوب سختیانی نے کہا مجھ کو یاد نہیں آپ ﷺ نے ان تینوں باتوں میں سے کون سی فرمائی۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ ـ قَالَ ـ وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَّاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ‏}‏

Narrated By Ka'b bin Ujra : We were in the company of Allah's Apostle at Al-Hudaibiya in the state of Ihram and the pagans did not allow us to proceed (to the Ka'ba). I had thick hair and lice started falling on my face. The Prophet passed by me and said, "Are the lice of your head troubling you?" I replied, Yes." (The sub-narrator added, "Then the following Divine Verse was revealed: "And if anyone of you is ill or has an ailment in his scalp, (necessitating shaving) must pay a ransom (Fida) of either fasting or feeding the poor, Or offering a sacrifice." (2.196)

مجھ سے محمد بن ہشام ابو عبداللہ نےبیان کیاکہا ہم سے ہشیم نے انہوں نے ابوبشرسے انہوں نےمجاہد سےانہوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلٰی سے انہوں نے کعب بن عجرہ انہوں نے کہا ہم حدیبیہ میں رسول اللہﷺکےساتھ تھے(عمرےکا)احرام باندھے تھے اور مشرکوں نے ہم کو (کعبہ جانے سے) روک دیا تھا کعب کہتے ہیں میرے سر پر بال تھے جوئیں میرے منہ پر گرنے لگیں(اس کثرت سے ہوگئیں) نبیﷺمجھ پر سے گزرے آپﷺ نے پوچھا کیا ان سر کے کیڑوں سے تجھ کو تکلیف ہے میں نے عرض کیا جی ہاں اس وقت (سورت بقرہ کی ) یہ آیت اتری جو کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں(جوؤں وغیرہ کی) تکلیف ہو تو وہ فدیہ دے یا روزے رکھے یا صدقہ نکالے یا قربانی کرے۔

37. باب قِصَّةِ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ

حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَتَكَلَّمُوا بِالإِسْلاَمِ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ، وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ‏.‏ وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا نَاحِيَةَ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ، وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ، وَتُرِكُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا عَلَى حَالِهِمْ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ كَانَ يَحُثُّ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ‏.‏ وَقَالَ شُعْبَةُ وَأَبَانُ وَحَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ مِنْ عُرَيْنَةَ‏.‏ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ وَأَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ أَنَسٍ قَدِمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ‏

Narrated By Anas : Some people of the tribe of 'Ukl and 'Uraina arrived at Medina to meet the Prophet and embraced Islam and said, "O Allah's Prophet! We are the owners of milch livestock (i.e. bedouins) and not farmers (i.e. countrymen)." They found the climate of Medina unsuitable for them. So Allah's Apostle ordered that they should be provided with some milch camels and a shepherd and ordered them to go out of Medina and to drink the camels' milk and urine (as medicine) So they set out and when they reached Al-Harra, they reverted to Heathenism after embracing Islam, and killed the shepherd of the Prophet and drove away the camels. When this news reached the Prophet, he sent some people in pursuit of them. (So they were caught and brought back to the Prophet). The Prophet gave his orders in their concern. So their eyes were branded with pieces of iron and their hands and legs were cut off and they were left away in Harra till they died in that state of theirs.

مجھ سے عبد الاعلی بن حماد نے بیان کیا کہا ہم سےیزید بن زریع نے کہا ہم سے سعید نے انہوں نے قتادہ سے ان سے انسؓ نے بیان کیا کہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ نبیﷺ کے پاس مدینہ میں آئے اسلام کا کلمہ پڑھنے لگے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم ددھل جانور والے تھے کھیت والے نہیں تھے انکو مدینہ کی ہواناموافق آئی آخر آپﷺ نے چند اونٹ دے کر ایک چرواہا ساتھ کرکے حکم دیا تم انکو لے کر (جنگل میں ) چلے جاؤ ان کا دودھ اور پیشاب پیتے رہو وہ گئے جب حرّہ کی ایک طرف گئے تو اسلا م سے پھر کر کافر ہوگئے آپﷺ کے چرواہےکو (جس کا نام یسار تھا) مارڈالا اور اونٹ بھگالے گئے یہ خبر نبیﷺ کو پہنچی آپﷺان کے پکڑنے کو لو گ روانہ کیے ( جب وہ پکڑ کر لےآئے) آپﷺ نے حکم دیا انکی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں گئیں انکے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے اور حرہ کے ایک کونے میں ڈال دئیے گئے اسی حال میں مرگئے قتادہ نے کہاہم کو یہ خبر پہنچی کہ اس واقعہ کے بعد نبیﷺ لوگوں کو خیرات کی ترغیب دیتے تھے اور مثلہ (ناک کان کاٹنا آنکھ پھوڑنا )اس سے منع فرما تے تھے اور شعبہ ابان اور حماد نے قتادہ سے صرف عرینہ کا لفظ نقل کیا ہے (عکل کا لفظ نہیں کہا)اور یحییٰ بن ابی کثیر اور ایوب اور قلابہ انسؓ سے یوں روایت کیا ہے کہ عکل کے کچھ لوگ آئے۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَالْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، مَوْلَى أَبِي قِلاَبَةَ وَكَانَ مَعَهُ بِالشَّأْمِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، اسْتَشَارَ النَّاسَ يَوْمًا قَالَ مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْقَسَامَةِ فَقَالُوا حَقٌّ، قَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَضَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ، قَبْلَكَ‏.‏ قَالَ وَأَبُو قِلاَبَةَ خَلْفَ سَرِيرِهِ فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ فَأَيْنَ حَدِيثُ أَنَسٍ فِي الْعُرَنِيِّينَ قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ إِيَّاىَ حَدَّثَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ مِنْ عُرَيْنَةَ‏.‏ وَقَالَ أَبُو قِلاَبَةَ عَنْ أَنَسٍ مِنْ عُكْلٍ‏.‏ ذَكَرَ الْقِصَّةَ‏

Narrated By Abu Raja : The freed slave of Abu Qilaba, who was with Abu Qilaba in Sham: 'Umar bin 'Abdul 'Aziz consulted the people saying, "What do you think of Qasama." They said, "'It is a right (judgment) which Allah's Apostle and the Caliphs before you acted on." Abu Qilaba was behind 'Umar's bed. 'Anbasa bin Said said, But what about the narration concerning the people of Uraina?" Abu Qilaba said, "Anas bin Malik narrated it to me," and then narrated the whole story.

مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا کہا ہم سے حفص بن عمر حوضی نے کہا ہم سے حماد بن زید نے کہا ہم سے ایوب اور حجاج صواف نے کہا مجھ سے ابو رجاء نے جو ابو قلابہ کے غلام تھےاور شام کے ملک میں ابو قلابہ کے ساتھ تھےکہ عمربن عبد العزیز (خلیفہ)نے ایک دن لوگوں سے مشورہ لیا قسامت کے باب میں تم کیا کہتے ہو انہوں نے کہا قسامت حق ہے اور رسول اللہﷺاورآپ ﷺ کے خلیفوں نے اسی کا حکم دیا ہےجو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اس وقت ابو قلابہ عمر بن عبدالعزیز کے تخت کے پیچھے کھڑے تھے اتنے میں عنبسہ بن سعید نے کہا انسؓ نے جو عرینہ والوں کی حدیث روایت کی وہ کہاں گئی ابو قلابہ نے کہا یہ حدیث انسؓ نے مجھ سے ہی روایت کی ہے عبدالعزیز بن صہیب نے اس حدیث کو انسؓ سے روایت کیا ہے اس میں صرف عرینہ کا لفظ مذکور ہے اور ابو قلابہ کی روایت میں انس سےعکل کا لفظ مذکور ہےاور یہی قصہ فقط ۔

38. باب غَزْوَةُ ذَاتِ الْقَرَدِ وَهْىَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ خَيْبَرَ بِثَلاَثٍ‏.

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ، يَقُولُ خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ، بِالأُولَى، وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرْعَى بِذِي قَرَدٍ ـ قَالَ ـ فَلَقِيَنِي غُلاَمٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ‏.‏ قَالَ فَصَرَخْتُ ثَلاَثَ صَرَخَاتٍ ـ يَا صَبَاحَاهْ ـ قَالَ فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاءِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي، وَكُنْتُ رَامِيًا، وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الأَكْوَعْ، الْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ‏.‏ وَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلاَثِينَ بُرْدَةً، قَالَ وَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ، فَابْعَثْ إِلَيْهِمُ السَّاعَةَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا ابْنَ الأَكْوَعِ، مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ‏

Narrated By Salama bin Al-Akwa : Once I went (from Medina) towards (Al-Ghaba) before the first Adhan of the Fajr Prayer. The she-camels of Allah's Apostle used to graze at a place called Dhi-Qarad. A slave of 'Abdur-Rahman bin 'Auf met me (on the way) and said, "The she-camels of Allah's Apostle had been taken away by force." I asked, "Who had taken them?" He replied "(The people of) Ghatafan." I made three loud cries (to the people of Medina) saying, "O Sabahah!" I made the people between the two mountains of Medina hear me. Then I rushed onward and caught up with the robbers while they were watering the camels. I started throwing arrows at them as I was a good archer and I was saying, "I am the son of Al-Akwa', and today will perish the wicked people." I kept on saying like that till I restored the she-camels (of the Prophet), I also snatched thirty Burda (i.e. garments) from them. Then the Prophet and the other people came there, and I said, "O Allah's Prophet! I have stopped the people (of Ghatafan) from taking water and they are thirsty now. So send (some people) after them now." On that the Prophet said, "O the son of Al-Akwa'! You have over-powered them, so forgive them." Then we all came back and Allah's Apostle seated me behind him on his she-camel till we entered Medina.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سےحاتم بن اسماعیل نے انہوں نے یزید بن ابی عبید سے کہا میں نے سلمہ بن اکوع سے سنا وہ کہتے تھے میں صبح کی اذان سے پہلے(مدینہ سے) نکل کر غابہ کی طرف گیا رسول اللہﷺکی دوہیل اونٹنیاں ذی قرد میں چر رہی تھیں رستے میں مجھ کو عبد الرحمٰن بن عوفؓ کا غلام ملا (نام نا معلوم) وہ کہنے لگا رسول اللہﷺ کی اونٹنیاں پکڑی گئیں میں نے پوچھا کون پکڑلے گیا اس نے کہا غطفان کے لوگ پکڑ لے گئے یہ سنتے ہی میں نے تین آوازیں کیں یَا صَبَاحَاہُ اور مدینہ کے دونوں کنا روں میں آواز پہنچا دی پھر میں سیدھا ان لٹیروں کے پیچھے چلامیں نے ان کو پکڑ پایا وہ (جانوروں کو) پانی پلانا چاہتے تھے میں نے تیر مارنا شروع کیا اور میں تیر انداز آدمی تھاپر شعر پڑھتا جاتا تھا میں ہوں سلمہ بن اکوع جان لو آج مراتے ہیں کمینے مان لو آخر میں نے سب دوہیل اونٹنیاں (جن کو وہ لوٹ لے چلے تھے)ان سے چھڑالیں اور تیس چادریں الگ چھین لیں سلمہ کہتے ہیں (میں اسی حال میں تھا ) کہ نبیﷺ لوگوں سمیت آن پہنچے میں عرض کیایا رسول اللہﷺ میں نے ان لٹیروں کو تیر مار مار کرپانی نہیں پینے دیا ہے وہ پیاسے ہیں آپﷺ اسی وقت ان کے تعاقب میں فوج روانہ کیجیئے آپﷺ نے فرایا یا اکوع کے بیٹے جب وہ تیرے قابو میں آگئےتو اب نرمی کر اور آپﷺ نے مجھ کو اونٹنی پر بٹھالیا مدینہ تک ہم اسی پر آئے

39. باب غَزْوَةُ خَيْبَرَ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ ـ وَهْىَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ ـ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلاَّ بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ، فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

Narrated By Suwaid bin An-Numan : I went out in the company of the Prophet in the year of Khaibar, and when we reached As Sahba' which is the lower part of Khaibar, the Prophet offered the Asr prayer and then asked the people to collect the journey food. Nothing was brought but Sawiq which the Prophet ordered to be moistened with water, and then he ate it and we also ate it. Then he got up to offer the Maghrib prayer. He washed his mouth, and we too washed our mouths, and then he offered the prayer without repeating his abulution.

ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نےیحییٰ بن سعید سے انہوں نے بشیر بن یسار سے ان سے سوید بن نعمان نےبیان کیا وہ جس سال خیبر کی جنگ ہوئی نبیﷺ کے ساتھ نکلے جب صہبا میں جو خیبر کے نزدیک ہے پہنچےآپؑ نے وہاں عصر کی نماز پڑھی پھر توشے منگوائے فقط ستو آئے (اور کچھ کھانا نہ تھا) آپؑ نے حکم دیاوہ بھگویا گیا آپؑ نے کھایا ہم نے بھی کھا یا پھر آپؑ مغرب کی نماز کےلیے کھڑے ہوئے آپؑ نے کلی کی ہم نے بھی کلی کی نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ فَسِرْنَا لَيْلاً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرٍ يَا عَامِرُ أَلاَ تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ‏.‏ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلاً شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا أَبْقَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَبَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ هَذَا السَّائِقُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا عَامِرُ بْنُ الأَكْوَعِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَرْحَمُهُ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْلاَ أَمْتَعْتَنَا بِهِ‏.‏ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ، فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُوقِدُونَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا عَلَى لَحْمٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلَى أَىِّ لَحْمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لَحْمِ حُمُرِ الإِنْسِيَّةِ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ ‏"‏ أَوْ ذَاكَ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ قَصِيرًا فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ، وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ، فَأَصَابَ عَيْنَ رُكْبَةِ عَامِرٍ، فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا، قَالَ سَلَمَةُ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ آخِذٌ بِيَدِي، قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَهُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَذَبَ مَنْ قَالَهُ، إِنَّ لَهُ لأَجْرَيْنِ ـ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ ـ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ قَالَ ‏"‏ نَشَأَ بِهَا ‏"‏‏

Narrated By Salama bin Al-Akwa : We went out to Khaibar in the company of the Prophet. While we were proceeding at night, a man from the group said to 'Amir, "O 'Amir! Won't you let us hear your poetry?" 'Amir was a poet, so he got down and started reciting for the people poetry that kept pace with the camels' footsteps, saying: "O Allah! Without You we Would not have been guided On the right path Neither would be have given In charity, nor would We have prayed. So please forgive us, what we have committed (i.e. our defects); let all of us Be sacrificed for Your Cause And send Sakina (i.e. calmness) Upon us to make our feet firm When we meet our enemy, and If they will call us towards An unjust thing, We will refuse. The infidels have made a hue and Cry to ask others' help Against us." The Prophet on that, asked, "Who is that (camel) driver (reciting poetry)?" The people said, "He is 'Amir bin Al-Akwa'." Then the Prophet said, "May Allah bestow His Mercy on him." A man amongst the people said, "O Allah's Prophet! has (martyrdom) been granted to him. Would that you let us enjoy his company longer." Then we reached and besieged Khaibar till we were afflicted with severe hunger. Then Allah helped the Muslims conquer it (i.e. Khaibar). In the evening of the day of the conquest of the city, the Muslims made huge fires. The Prophet said, "What are these fires? For cooking what, are you making the fire?" The people replied, "(For cooking) meat." He asked, "What kind of meat?" They (i.e. people) said, "The meat of donkeys." The Prophet said, "Throw away the meat and break the pots!" Some man said, "O Allah's Apostle! Shall we throw away the meat and wash the pots instead?" He said, "(Yes, you can do) that too." So when the army files were arranged in rows (for the clash), 'Amir's sword was short and he aimed at the leg of a Jew to strike it, but the sharp blade of the sword returned to him and injured his own knee, and that caused him to die. When they returned from the battle, Allah's Apostle saw me (in a sad mood). He took my hand and said, "What is bothering you?" I replied, "Let my father and mother be sacrificed for you! The people say that the deeds of 'Amir are lost." The Prophet said, "Whoever says so, is mistaken, for 'Amir has got a double reward." The Prophet raised two fingers and added, "He (i.e. Amir) was a persevering struggler in the Cause of Allah and there are few 'Arabs who achieved the like of (good deeds) 'Amir had done."

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا کہا ہم سے حاتم بن اسمٰعیل نے انہوں نے یزید بن ابی عبید سے انہوں نے سلمہ بن اکوع سے انہوں نےکہا ہم جنگ خیبر میں رات کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلے ایک شخص (اسید بن حضیر) عامر سے کہنے لگا (جو سلمہ کے چچا تھے ) عامر تم ہم کو اپنی شعریں نہیں سناتے عامر شاعر تھے یہ سن کر عامر سواری سے اترے یہ شعر یں پڑھنے لگے گر نہ ہو تی تیری رحمت اے شہ عا لی صفات تو نمازیں ہم نہ پڑھتے اور نہ دیتے ہم زکٰوۃ تجھ پہ صدقے جب تلک ہم زندہ رہیں بخش دے ہم کو لڑائی میں عطا کر ثبا ت اپنی رحمت کر ہم پہ نازل کرشہ والا صفات جب وہ نا حق چیختے سنتے نہیں ہم ان کی بات چیخ چلا کر انہوں نے ہم سےچاہی ہے نجات رسول اللہﷺنے پو چھا یہ کون گا رہا ہے لوگو ں نے کہاعامر بن اکوع آپﷺ نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے ایک شخص (حضرت عمر ) یہ سن کر کہنے لگے اب تو عامر کےلیے شہادت لازم ہوگئی یا رسول اللہ آپ ﷺ نے ہم کو عامر فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا خیر ہم خیبر میں پہنچے اور خیبر والوں کو گھیر لیا ہم کو بہت شدت سے بھوک لگی پھر اللہ تعالٰی نے خیبر آزاد کرادیا جب اس دن کی شام ہوئی جس دن خیبرفتح ہوا تھا تو لوگوں نے بہت آگ سلگائی(ہر ایک کھانے پکانے لگا ) نبی ﷺ نے پوچھا یہ آگیں کیسی روشن ہیں کیا پکا رہےہیں انہوں نے کہا گوشت پکا رہے ہیں آپﷺ نے پوچھا کس جانور کا گوشت ، انہوں نے کہا پلیرو کا گدھوں کا گوشت آپﷺنے فرمایا یہ گوشت بہا د و ہا نڈیاں تو ڑ کر پھینک د و ایک شنحص( نام نا معلوم یا حضرت عمرؓ ) نے عرض کیا یا رسول ا للہ گوشت بہا دیں اور ہانڈیاں ( توڑنے کے بدل ) دھو ڈالیں آ پﷺ نے فرمایا ایسا ہی کرو یہ بھی ہو سکتا ہے جب دشمنوں کے مقابل صف بندی ہوئی تو عامر کی تلوار چھو ٹی تھی وہ یہودی کے پاؤں پر مارنے لگے اس کی انی ( نوک یا دہار )خود ان کے لگ گیٔ گھٹنے کے اوپر زحم آ یا عامر اسی زحم سے مر گئےجب لوگ خیبر سے لوٹے تو رسول اللہﷺ نے مجھ کو دیکھا میرا ہاتھ پکڑ لیا پوچھا کیوں سلمہ کیا حال ہے۔میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان لوگ یوں کہتے ہیں کہ عامر کی نیکیاں بیکار گیٔں ۔ آپﷺ نے فرمایا کون کہتا ہے جھوٹا ہے عامر کو تو دوہرا ثواب ملے گا آ پﷺ نے د و انگلیوں سے اشارہ کیافرمایا وہ تو جاہد مجاہد ہے کوئی عرب زمین پر ( یا مدینہ میں ) عامر کی ٖطرح نہیں چلا قتیبہ کی روایت حاتم سے یوں ہے کوئی عرب مدینہ میں عامر کی طرح پیدا نہیں ہوا ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى خَيْبَرَ لَيْلاً، وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ بِهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتِ الْيَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏‏

Narrated By Anas : Allah's Apostle reached Khaibar at night and it was his habit that, whenever he reached the enemy at night, he will not attack them till it was morning. When it was morning, the Jews came out with their spades and baskets, and when they saw him(i.e. the Prophet), they said, "Muhammad! By Allah! Muhammad and his army!" The Prophet said, "Khaibar is destroyed, for whenever we approach a (hostile) nation (to fight), then evil will be the morning for those who have been warned."

ہم سے عبداللہ بن یو سف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے حمید طویل سے انہوں نے انسؓ سے کہ رسول اللہﷺ خیبر میں رات کو پہنچے اور آپﷺ کا قاعدہ تھا جب کسی قوم پر رات کو پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہوتی ان کو نہ لوٹتے خیر جب صبح ہوئی تو یہودی لوگ پکاسین( ٹوکری ) کھیتی کے سامان لے کر نکلے ( ان کو کچھ خبر ہی نہ تھی ) جب آ پ کو دیکھا تو کہنے لگا محمدﷺ ہیں خدا کی قسم محمدﷺلشکر سمیت آن پہنچے آپﷺ نے فرمایا خیبر خراب ہوا ۔ ہم جہاں کسی قوم کی زمین پر اترے جو لوگ ڈرائے گئےتھے ، ان کی صبح منحوس ہوتی ہے ۔


أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَبَّحْنَا خَيْبَرَ بُكْرَةً، فَخَرَجَ أَهْلُهَا بِالْمَسَاحِي، فَلَمَّا بَصُرُوا بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏‏.‏ فَأَصَبْنَا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ‏.

Narrated Anas bin Malik: We reached Khaibar early in the morning and the inhabitants of Khaibar came out carrying their spades, and when they saw the Prophet they said, "Muhammad! By Allah! Muhammad and his army!" The Prophet said, "Allahu-Akbar! Khaibar is destroyed, for whenever we approach a (hostile) nation (to fight) then evil will be the morning for those who have been warned." We then got the meat of donkeys (and intended to eat it), but an announcement was made by the announcer of the Prophet, "Allah and His Apostle forbid you to eat the meat of donkeys as it is an impure thing."

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے خبر دی کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا ہم صبح سویرے خیبر میں پہنچے دیکھا تو وہاں کے لوگ پکا سین( کدالیں ) لے کر نکلے ہیں جب انہوں نے نبیﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے محمدﷺہیں خدا کی قسم محمدﷺ فوج سمیت آن پہنچے ۔آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اکبر خیبر خراب ہوا ۔ہم جہاں کسی قو م کی زمین پر اترے پھر کیا ہے جو لوگ ڈرائےگئےان کی صبح منحوس ہو گئی خیبر میں ہم کو گدھوں کا گوشت ملا۔( ہم اس کو پکانے لگے ) اتنے میں نبی ﷺ کے منادی نے یوں منادی دی اللہ اور رسول ﷺ تم کو گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں وہ پلید ہے ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَهُ جَاءٍ فَقَالَ أُكِلَتِ الْحُمُرُ‏.‏ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ أُكِلَتِ الْحُمُرُ‏.‏ فَسَكَتَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ فَقَالَ أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ‏.‏ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ‏.‏ فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ، وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ‏

Narrated By Anas bin Malik : Someone came to Allah's Apostles and said, "The donkeys have been eaten (by the Muslims)." The Prophet kept quiet. Then the man came again and said, "The donkeys have been eaten." The Prophet kept quiet. The man came to him the third time and said, "The donkeys have been consumed." On that the Prophet ordered an announcer to announce to the people, "Allah and His Apostle forbid you to eat the meat of donkeys." Then the cooking pots were upset while the meat was still boiling in them.

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ۔کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے انس بن مالک سے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس (جنگ خیبر میں ) ایک آنے والا آیا کہنے لگا گدھوں کو تو لوگ چٹ کرگئے آپ یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر دوسری بار آیا کہنے لگا گدھے چٹ ہو گئےپھر تیسری بار آیا کہنے لگا گدھے فنا ہو گۓ آخر آپ نے ایک منادی کو حکم دیا اس نے لوگوں میں یہ منادی کی دیکھو اللہ اور رسو ل پلیرو گدھوں کے گوشت سے تم کو منع کرتے ہیں اسی وقت ہانڈیاں الٹ دی گیٔں ان میں( گدھوں) کا گوشت ابل رہا تھا۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ قَرِيبًا مِنْ خَيْبَرَ بِغَلَسٍ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏‏.‏ فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ، فَقَتَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ، وَكَانَ فِي السَّبْىِ صَفِيَّةُ، فَصَارَتْ إِلَى دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ لِثَابِتٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ آنْتَ قُلْتَ لأَنَسٍ مَا أَصْدَقَهَا فَحَرَّكَ ثَابِتٌ رَأْسَهُ تَصْدِيقًا لَهُ‏

Narrated By Anas : The Prophet offered the Fajr Prayer near Khaibar when it was still dark and then said, "Allahu-Akbar! Khaibar is destroyed, for whenever we approach a (hostile) nation (to fight), then evil will be the morning for those who have been warned." Then the inhabitants of Khaibar came out running on the roads. The Prophet had their warriors killed, their offspring and woman taken as captives. Safiya was amongst the captives, She first came in the share of Dahya Alkali but later on she belonged to the Prophet. The Prophet made her manumission as her 'Mahr'.

ہم سے سلیما ن بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ثابت سے انہو ں نے انسؓ سے انہوں نے کہا نبی ﷺ نے خیبر کے پاس پہنچ کر صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی پھر فرمایا اللہ اکبر خیبر خراب ہوا ۔ہم جہاں کسی قوم کی زمین پر اترے پھر کیا ہے جن کو ڈرایا تھا۔ان کی صبح منحوس ہو گئی خیبر والے (پریشان ہو کر ) گلیوں میں دوڑنے لگے نبی ﷺ نے ان میں جو لڑنے(جوان مضبوط )والے تھے ان کو قتل کیا اورعورتوں بچوں کو قید کرلیاان قیدیوں میں ایک عورت تھیں صفیہ (بنت حیئی)وہ (پہلے) دحیہ کلبی کے حصہ میں آئی پھر نبی ﷺنے ان کو لے لیا اور ان کی آزادی مہر قرار پائی آپﷺ نے ان سے نکاح کر لیا عبدالعزیزبن صہیب نے ثابت سے پوچھا ابو محمد(یہ ثابت کی کنیت ہے )کیا تم نے انسؓ سے پوچھا تھا کہ صفیہؓ کا مہر آپ ﷺ نے کیا دیا انہوں نے اپنا سر ہلایا یعنی ہاں میں نے پوچھا تھا ۔


حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَبَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَفِيَّةَ، فَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا‏.‏ فَقَالَ ثَابِتٌ لأَنَسٍ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا فَأَعْتَقَهَا‏

Narrated By 'Abdul 'Aziz bin Suhaib : Anas bin Malik said, "The Prophet took Safiya as a captive. He manumitted her and married her." Thabit asked Anas, "What did he give her as Mahr (i.e. marriage gift)?" Anas replied. "Her Mahr was herself, for he manumitted her."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے انہوں نے عبد العزیز بن صہیب سے انہوں نے کہا میں نے انس بن مالکؓ سے سنا وہ کہتے تھے نبی ﷺ نے ام المومنین صفیہ کو قید کیا پھر انکو آزاد کر کے ان سے نکا ح کر لیا ثابت نے انسؓ سے پوچھا انکا مہر کیا قرار دیا انہوں نے کہا خود ان کی ذات مہر قرار پائی۔ آپﷺ نے ان کو آزاد کر دیا ۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ ـ أَوْ قَالَ لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ أَشْرَفَ النَّاسُ عَلَى وَادٍ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، إِنَّكُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهْوَ مَعَكُمْ ‏"‏‏.‏ وَأَنَا خَلْفَ دَابَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقُولُ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ، فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Musa Al-Ashari : When Allah's Apostle fought the battle of Khaibar, or when Allah's Apostle went towards it, (whenever) the people, (passed over a high place overlooking a valley, they raised their voices saying, "Allahu-Akbar! Allahu-Akbar! None has the right to be worshipped except Allah." On that Allah's Apostle said (to them), "Lower your voices, for you are not calling a deaf or an absent one, but you are calling a Hearer Who is near and is with you." I was behind the riding animal of Allah's Apostle and he heard me saying. "There Is neither might, nor power but with Allah," On that he said to me, "O Abdullah bin Qais!" I said, "Labbaik. O Allah's Apostle!" He said, "Shall I tell you a sentence which is one of the treasures of Paradise" I said, "Yes, O Allah's Apostle! Let my father and mother be sacrificed for your sake." He said, "It is: There is neither might nor power but with Allah."

ہم سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے انہوں نے عاصم احوال سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے ابو موسٰی اشعریؓ سے انہوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺنے خیبر پر جہاد کیا یا خیبرکی طرف متوجہ ہوئے تو (رستے میں) لوگ ایک بلند جگہ پر چڑھے انہوں نے پکار کر (چلّا کر) تکبیر کہی اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔ آپؐ نے فرمایا اپنے اوپر آسانی کرو (زور سے چلّانے کی تکلیف نہ اٹھاؤ) تم کیا اس کو پکارتے ہو جو بہرا ہے یا تم کو نہیں دیکھتا تم تو ایسے (خدا) کو پکارتے ہو جو (سب کی) سنتا ہے اور نزدیک ہے وہ تو تمھارے ساتھ ہے۔ اس وقت میں رسول اللہﷺ کے سواری کے پیچھے ہی تھا۔ آپؐ نے میری آواز سن لی میں کہہ رہا تھا لا حول ولا قوۃ الا بااللہ آپؐ نے فرمایا عبداللہؓ میں نے عرض کیا حاضر ہوں یا رسول اللہﷺ۔ آپؐ نے فرمایا میں تجھ کو ایک کلمہ نہ بتلاؤں جو بہشت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں بتلائیے یا رسول اللہﷺآپؐ پر میرے ماں باپ قربان۔ آپؐ نے فرمایا لا حول ولا قوۃ الا بااللہ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا، فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَسْكَرِهِ، وَمَالَ الآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ، وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ لاَ يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً وَلاَ فَاذَّةً إِلاَّ اتَّبَعَهَا، يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ، فَقِيلَ مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَمَا أَجْزَأَ فُلاَنٌ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا صَاحِبُهُ‏.‏ قَالَ فَخَرَجَ مَعَهُ كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ ـ قَالَ ـ فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ سَيْفَهُ بِالأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ الرَّجُلُ الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ أَنَا لَكُمْ بِهِ‏.‏ فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ، ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ فِي الأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهْوَ مِنَ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ، فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهْوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏

Narrated By Sahl bin Sad As Saidi : Allah's Apostle (and his army) encountered the pagans and the two armies.,, fought and then Allah's Apostle returned to his army camps and the others (i.e. the enemy) returned to their army camps. Amongst the companions of the Prophet there was a man who could not help pursuing any single isolated pagan to strike him with his sword. Somebody said, "None has benefited the Muslims today more than so-and-so." On that Allah's Apostle said, "He is from the people of the Hell-Fire certainly." A man amongst the people (i.e. Muslims) said, "I will accompany him (to know the fact)." So he went along with him, and whenever he stopped he stopped with him, and whenever he hastened, he hastened with him. The (brave) man then got wounded severely, and seeking to die at once, he planted his sword into the ground and put its point against his chest in between his breasts, and then threw himself on it and committed suicide. On that the person (who was accompanying the deceased all the time) came to Allah's Apostle and said, "I testify that you are the Apostle of Allah." The Prophet said, "Why is that (what makes you say so)?" He said "It is concerning the man whom you have already mentioned as one of the dwellers of the Hell-Fire. The people were surprised by your statement, and I said to them, "I will try to find out the truth about him for you." So I went out after him and he was then inflicted with a severe wound and because of that, he hurried to bring death upon himself by planting the handle of his sword into the ground and directing its tip towards his chest between his breasts, and then he threw himself over it and committed suicide." Allah's Apostle then said, "A man may do what seem to the people as the deeds of the dwellers of Paradise but he is from the dwellers of the Hell-Fire and another may do what seem to the people as the deeds of the dwellers of the Hell-Fire, but he is from the dwellers of Paradise."

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن عبد الرحمن نے انہوں نے ابو حازم سے انہوں نے سہل بن سعد ساعدی سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ اور کافروں کا (خیبر کے دن) مقابلہ ہوا ۔ دونوں طرف کے لوگ لڑے جب رسول اللہﷺ اپنی فوج کی طرف لوٹے اور کافر اپنی فوج کی طرف تو رسول اللہﷺ کے اصحاب میں ایک شخص دکھائی دیا (قزمان ابو الغیداق) وہ کیا کرتا جہاں کسی کافر کو اکہ دکہ پاتا اسکو پیچھے سے جا کر تلوار سے لیتا لوگوں نے کہا اسنے تو آج وہ کام کیا ہے جو ہم میں سے کوئی نہ کر سکا ( بہت سے کافروں کو مار ڈالا) یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا (ہے تو ایسا ہی ) مگر دوزخی ہے ۔مسلمانوں میں سے ایک شخص ( اکتم بن عبد الجون) نے کہا میں اس کے ساتھ رہوں گا غرض وہ شخص اس کے ساتھ ہوا جہاں ہو ٹھہرجاتا یہ بھی ٹھہر جاتا اور جہاں وہ دوڑ تا یہ بھی اس کے ساتھ دوڑ کر جا تا راوی نے کہا پھر ایسا ہوا کہ وہ شخص(قزمان) بہت زخمی ہو گیا اور جلد مرنے کے لیے اس نے اپنی تلوار زمین پر ٹیکی اور اسکی انی (نوک) اپنے سینے پر رکھ کر سارا بوجھ اس پر ڈالا اپنے تئیں آپ مار لیااس وقت وہ دوسرا شخص (اکتم ) جو اسکا نگران بنا تھا رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں گواہی دیتا ہوں آپ ﷺ بے شک اللہ کے پیغمبر ہیں آپﷺ نے پو چھا کہہ تو کیا کیفیت ہے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ابھی آپ نے جس شخص کو دوزخی فرمایا تھا اور لوگوں پر آپ ﷺ کا کہنا شاق گزرا تھا میں نے کہا چل کر اس کا حال دیکھوں اور اس کی کیفیت لوگوں سے بیان کروں میں اس کے پیچھے نکلا اخیر اسکا یہ حال گزرا جب وہ بہت زخمی ہوگیا تو جلد مرنے کے لیے اسنے کیا کیا اپنی تلوار کا مٹھہ زمین پر رکھا اور نوک اپنی چھاتی سے لگائی اسی طرح بوجھ ڈالا اپنے تئیں مار ڈالا رسول اللہﷺ نے جب یہ سنا تو فرمایا یہی تو ہے ایک آدمی لوگوں کی نظرمیں بہشتیوں کے سے کام کرتا رہتا ہے حاالانکہ وہ (اللہ کے نزدیک) دوزخی ہوتا ہے اور ایک آدمی لوگوں کی نظر میں دوزخیوں کے سے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ (اللہ کے نزدیک ) بہشتی ہوتا ہے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ شَهِدْنَا خَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يَدَّعِي الإِسْلاَمَ ‏"‏ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ، حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحَةُ، فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحَةِ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهَا أَسْهُمًا، فَنَحَرَ بِهَا نَفْسَهُ، فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ، انْتَحَرَ فُلاَنٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ قُمْ يَا فُلاَنُ فَأَذِّنْ أَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ، إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏

Narrated By Abu Huraira : We witnessed (the battle of) Khaibar. Allah's Apostle said about one of those who were with him and who claimed to be a Muslim. "This (man) is from the dwellers of the Hell-Fire." When the battle started, that fellow fought so violently and bravely that he received plenty of wounds. Some of the people were about to doubt (the Prophet's statement), but the man, feeling the pain of his wounds, put his hand into his quiver and took out of it, some arrows with which he slaughtered himself (i.e. committed suicide). Then some men amongst the Muslims came hurriedly and said, "O Allah's Apostle! Allah has made your statement true so-and-so has committed suicide. "The Prophet said, "O so-and-so! Get up and make an announcement that none but a believer will enter Paradise and that Allah may support the religion with an unchaste (evil) wicked man.

ہم سے ابو الیمان نےبیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابو ہریرہؓ نے کہا ہم خیبر کی جنگ میں موجود تھے رسول اللہﷺ نے اپنے ایک ساتھی کے حق فرمایا جو (بظاہر ) اسلام کا دعویٰ کرتا تھا (لیکن دل میں منافق تھا ) یہ دوزخی ہے جب لڑائی ہوئی تو یہ شخص خوب لڑا بہت زخمی ہوگیا اب بعضے لوگوں کو آپﷺ کے ارشاد میں شک پیدا ہونے کو تھی پھر ایساہوا زخموں کی تکلیف اس کو معلوم ہوئی تو اس نے ترکش میں ہاتھ ڈال کر ایک تیر نکالا (یا کئی تیر نکالے) وہ اپنے دہگدی میں چہبو لئے(اپنے تئیں مار ڈالا) یہ حال دیکھتے ہی کئی مسلمان دوڑتے چلے آپﷺ کے پاس آئے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ اللہ نے آ پؑ کی بات سچی کی اس شخص نے خود کشی کی(اپنے تئیں مار ڈالا)آپؑ نے ایک شخص سے فرمایا اٹھ اور لوگوں میں منادی کر دے بہشت میں وہی جائے گا جو مومن ہو گا اور اللہ کی یہ قدرت ہے وہ بد کار آدمی سے اس دین کی مدد کراتا ہے شعیب کے ساتھ اس حدیث کو معمر نے بھی زہری سے روایت کیا۔


وَقَالَ شَبِيبٌ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ شَهِدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حُنَيْنًا‏.‏ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ تَابَعَهُ صَالِحٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَسَعِيدٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

اور شبیب نے یونس سے انہوں نے ابن شہاب سے یوں نقل کیا مجھ کو سعید بن مسیب اور عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی کہ ابو ہریرہؓ نے کہا ہم جنگ حنین میں نبیﷺ کے ساتھ موجود تھے(پھر ذکرکیا حدیث کا اخیر تک)اور عبداللہ مبارک نے یونس سےانہوں نے زہری سےانہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے نبی ﷺ سے اس حدیث کو (مرسلاً)روایت کیا اور عبد اللہ بن مبارک کے ساتھ اس کو صالح بن کیسان نے بھی زہری سے روایت کیا اور محمد بن ولید زبیدی نے کہا مجھ کو زہری نے خبر دی ان کو عبدالرحمٰن بن کعب نے انہوں نے کہا مجھ سے عبیداللہ بن کعب نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے اس شخص نے جو جنگ خیبر میں نبیﷺ کے ساتھ موجود تھے زہری نے کہا مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ اور سعید بن مسیب نے بیان کیا ان دونو ں نے نبیﷺ سے( مرسلاً )


حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ، فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ قَالَ هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّاسُ أُصِيبَ سَلَمَةُ‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَنَفَثَ فِيهِ ثَلاَثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ‏

Narrated By Yazid bin Abi Ubaid : I saw the trace of a wound in Salama's leg. I said to him, "O Abu Muslim! What is this wound?" He said, "This was inflicted on me on the day of Khaibar and the people said, 'Salama has been wounded.' Then I went to the Prophet and he puffed his saliva in it (i.e. the wound) thrice., and since then I have not had any pain in it till this hour."

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے انہوں نے کہا میں نےسلمہ بن اکوعؓ کی پنڈلی میں ایک مار کا نشان دیکھا میں نے پوچھا ابو مسلم (سلمہ کی کنیت ہے) یہ نشان کیسا انہوں نے کہا یہ مار مجھے خیبر کے دن لگی تھی لوگ کہنے لگے سلمہ مارے گئے (ایسی سخت مار لگی)پھر میں نبیﷺ کے پاس آیا آپؑ نے تین بار اس پر پھونک مار دی مجھے آج تک کوئی تکلیف اس مار کی نہیں ہوئی ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ الْتَقَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَالْمُشْرِكُونَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَاقْتَتَلُوا، فَمَالَ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى عَسْكَرِهِمْ، وَفِي الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ لاَ يَدَعُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاذَّةً وَلاَ فَاذَّةً إِلاَّ اتَّبَعَهَا فَضَرَبَهَا بِسَيْفِهِ، فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجْزَأَ أَحَدُهُمْ مَا أَجْزَأَ فُلاَنٌ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لأَتَّبِعَنَّهُ، فَإِذَا أَسْرَعَ وَأَبْطَأَ كُنْتُ مَعَهُ‏.‏ حَتَّى جُرِحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نِصَابَ سَيْفِهِ بِالأَرْضِ، وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏‏.‏ فَأَخْبَرَهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهْوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"

Narrated By Sahl : During one of his Ghazawat, the Prophet encountered the pagans, and the two armies fought, and then each of them returned to their army camps. Amongst the (army of the) Muslims there was a man who would follow every pagan separated from the army and strike him with his sword. It was said, "O Allah's Apostle! None has fought so satisfactorily as so-and-so (namely, that brave Muslim). "The Prophet said, "He is from the dwellers of the Hell-Fire." The people said, "Who amongst us will be of the dwellers of Paradise if this (man) is from the dwellers of the Hell-Fire?" Then a man from amongst the people said, "I will follow him and accompany him in his fast and slow movements." The (brave) man got wounded, and wanting to die at once, he put the handle of his sword on the ground and its tip in between his breasts, and then threw himself over it, committing suicide. Then the man (who had watched the deceased) returned to the Prophet and said, "I testify that you are Apostle of Allah." The Prophet said, "What is this?" The man told him the whole story. The Prophet said, "A man may do what may seem to the people as the deeds of the dwellers of Paradise, but he is of the dwellers of the Hell-Fire and a man may do what may seem to the people as the deeds of the dwellers of the Hell-Fire, but he is from the dwellers of Paradise."

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نےبیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے انہوں نے اپنے والد (سلمہ بن دینار ) سےانہوں نے سہل بن سعد ساعدی سے انہوں نے کہا نبیﷺ اور کافروں کا ایک لڑائی میں مقابلہ ہوا۔لڑائی شروع ہوئی دونوں طرف کے لوگ اپنی اپنی فوج میں چلے مسلمانوں میں سے ایک شخص تھا (قزمان نامی) وہ جب کسی کافر کو اکہ دکہ پاتا پیچھے جاکر ایک تلوار اسکو مار دیتا لوگوں نے کہا اس شخص نے تو (آج) ایسا کام کیا ہے کہ ویسا کسی نے نہیں کیا آپؑ نے فرمایا وہ تو دوزخی ہے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ اگر یہ شخص دوزخی ہے تو پھرہم لوگوں میں بہشتی کون ہو گا اتنے میں سے مسلمانوں میں سے ایک شخص(اکتم بن ابی الجون)کہنے لگا میں تو اس شخص کے ساتھ رہتا ہوں یہ شخص (اکتم) اس کے ساتھ رہا وہ دوڑتا تو یہ بھی دوڑتا وہ ٹھہر جاتا تو یہ بھی ٹھہر جاتا آخر وہ شخص زخمی ہوا اور جھٹ مر جانے کے لیے اس نے یہ کیا اپنی تلوار کا مٹھہ زمین پر رکھا اسکی انی( نوک) اپنے سینے سے لگائی پھر اس پر اپنے تئیں زور دے کر ہلاک کیا (تلوار اس کے سینے کے پار ہوگئی) اس وقت اکتم نبیﷺکے پاس آیا کہنے لگا میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ اللہ کے رسول ﷺ ہیں آپؑ نے پوچھا کہہ تو کیا کیفیت ہے اس نے بیان کیا آپؑ نے فرمایا (یہی حال ہے ) ایک شخص ظاہر میں میں لوگوں کی نگاہ میں بہشت والوں کے سے کام کرتا رہتاہے مگر ہوتا ہے دوزخی اور ایک شخص لوگوں کی نگاہ میں دوزخیوں کے سے کام کرتا ہے لیکن ہوتا ہے بہشتی ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ نَظَرَ أَنَسٌ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَرَأَى طَيَالِسَةً فَقَالَ كَأَنَّهُمُ السَّاعَةَ يَهُودُ خَيْبَرَ

Narrated By Abu Imran : Anas looked at the people wearing Tailsans (i.e. a special kind of head covering worn by Jews in old days). On that Anas said, "At this moment they (i.e. those people) look like the Jews of Khaibar."

ہم سے محمد بن سعید خزاعی نے بیان کیا کہا ہم سے زیاد بن ربیع نےانہوں نے ابو عمران (عبدالملک بن حبیب) سے انہوں نے کہا انسؓ نےجمعہ کے دن لوگوں کو چادریں اوڑھے دیکھا تو کہنے لگے یہ تو اس وقت خیبرکے یہودی معلوم ہوتے ہیں


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، رضى الله عنه قَالَ كَانَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه ـ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي خَيْبَرَ، وَكَانَ رَمِدًا فَقَالَ أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَحِقَ، فَلَمَّا بِتْنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي فُتِحَتْ قَالَ ‏"‏ لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا ـ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا ـ رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، يُفْتَحُ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ فَنَحْنُ نَرْجُوهَا فَقِيلَ هَذَا عَلِيٌّ، فَأَعْطَاهُ فَفُتِحَ عَلَيْهِ‏

Narrated By Salama : Ali remained behind the Prophet during the Ghazwa of Khaibar as he was suffering from eye trouble. He then said, "(How can) I remain behind the Prophet ," and followed him. So when he slept on the night of the conquest of Khaibar, the Prophet said, "I will give the flag tomorrow, or tomorrow the flag will be taken by a man who is loved by Allah and His Apostle , and (Khaibar) will be conquered through him, (with Allah's help)" While every one of us was hopeful to have the flag, it was said, "Here is 'Ali" and the Prophet gave him the flag and Khaibar was conquered through him (with Allah's Help).

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قغبی نے بیان کیا کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے انہوں نے یزید بن ابی عبید سے انہوں نے سلمہ بن اکوع سے انہوں نے کہا جب جنگ خیبر میں ایسا ہو حضرت علیؓ نبیﷺ کے پیچھے رہ گئے انکی آنکھیں دیکھ رہی تھیں پھر کہنے لگے بھلا میں نبیﷺ کو چھوڑ کر پیچھے رہ جاؤں(یہ کیسے ہو سکتا ہے) آخر آپﷺ سے جا کر مل گئے جب وہ رات آئی جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا تو آپؑ نے فرمایا کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا یا کل ایسا شخص جھنڈا سنبھالے گا جس سے اللہ اور رسول محبت کرتے ہیں اس کے ہاتھ پر خیبر فتح ہو گا ہم یہ سن کر سب امید وار رہے(شاہد ہم کو جھنڈا ملے) لوگوں نے آپؑ سے عرض کیا یہ علیؑ آن پہنچے آپؑ نے انہی کو جھنڈا دیا اور ان کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ ‏"‏ لأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلاً، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ، فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا، فَقَالَ ‏"‏ انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلاً وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ ‏"

Narrated By Sahl bin Sad : On the day of Khaibar, Allah's Apostle said, "Tomorrow I will give this flag to a man through whose hands Allah will give us victory. He loves Allah and His Apostle, and he is loved by Allah and His Apostle." The people remained that night, wondering as to who would be given it. In the morning the people went to Allah's Apostle and everyone of them was hopeful to receive it (i.e. the flag). The Prophet said, "Where is Ali bin Abi Talib?" It was said, "He is suffering from eye trouble O Allah's Apostle." He said, "Send for him." 'Ali was brought and Allah's Apostle spat in his eye and invoked good upon him. So 'Ali was cured as if he never had any trouble. Then the Prophet gave him the flag. 'Ali said "O Allah's Apostle! I will fight with them till they become like us." Allah's Apostle said, "Proceed and do not hurry. When you enter their territory, call them to embrace Islam and inform them of Allah's Rights which they should observe, for by Allah, even if a single man is led on the right path (of Islam) by Allah through you, then that will be better for you than the nice red camels.

ہم قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمان نے انہو ں نے ابو حازم سے کہا مجھ کو سہل بن سعد نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن یوں فرما یا میں کل ایسے شخص کو جھنڈا دونگا جس کے ہاتھ پر اللہ خیبر فتح کرا دے گا وہ اللہ اور رسو ل سے محبت رکھتا ہے اور اللہ رسول اس سے محبت رکھتے ہیں آپؑ کا یہ فرما نا سن کر لو گ رات کھسر پھسر کرتے رہے دیکھئے جھنڈا کس کو ملتا ہے صبح ہوتے ہی سب لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے ہر ایک کو یہ امید تھی شاید یہ جھنڈا مجھ کو ملے گا آپؑ نے پوچھا علی بن ابی طالب کہاں ہیں لوگوں نے عرض کیایا رسول اللہ ان کی تو آنکھیں دکھ رہی ہیں آپؑ نے فرمایا ان کو بلا بھیجو خیر ان کو لے کر آئے رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب لگا دیا اور ان کے لئے دعا کی پھر تو وہ ایسے درست ہوگئے جیسے کوئی شکوہ ہی نہ تھا آپﷺ نے جھنڈا ان کے حوالے کیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ میں یہودیوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہو جائیں آپﷺ نے فرمایا تو ایسا کر چپکا چلا جا جب ان کی زمین پر پہنچے تو ان کو اسلام کی دعوت دے اللہ کے جو حق ان پر واجب ہیں(نماز روزہ وغیرہ )وہ ان کو بتلا خدا کی قسم اگر تیری وجہ سے اللہ ایک شخص کو راہ پر لے آئے تو وہ تیرے حق میں لال لال اونٹو ں سے بہتر ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا، حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ لِي ‏"‏ آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ ‏"‏‏.‏ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَتَهُ عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ، فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، وَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ

Narrated By Anas bin Malik : We arrived at Khaibar, and when Allah helped His Apostle to open the fort, the beauty of Safiya bint Huyai bin Akhtaq whose husband had been killed while she was a bride, was mentioned to Allah's Apostle. The Prophet selected her for himself, and set out with her, and when we reached a place called Sidd-as-Sahba,' Safiya became clean from her menses then Allah's Apostle married her. Hais (i.e. an 'Arabian dish) was prepared on a small leather mat. Then the Prophet said to me, "I invite the people around you." So that was the marriage banquet of the Prophet and Safiya. Then we proceeded towards Medina, and I saw the Prophet, making for her a kind of cushion with his cloak behind him (on his camel). He then sat beside his camel and put his knee for Safiya to put her foot on, in order to ride (on the camel).

ہم سے عبدالغفا ر بن داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحما ن نے دوسری سند اور مجھ سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عبد اللہ بن وہب نے کہا مجھ کو یعقوب بن عبدالرحمان زہری نے خبر دی انہوں نے عمرو بن ابی عمرو سے جو مطلب بن عبداللہ کے غلام تھے انہوں نے انسؓ بن مالک سے انہوں نے کہا ہم خیبر پہنچے جب اللہ تعالٰی نے قلعہ فتح کرادیا تو کسی نے حضرت صفیہؓ کے حسن وجمال کا حال بیان کیا جو حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں ان کا خاوند مارا گیا تھا وہ ابھی دلہن تھیں خیر نبیﷺ نے ان کو خاص اپنے لیے چن لیا اور ان کو ساتھ لے کر خیبر سے نکلےجب ہم سدا الصہباء میں پہچنے (جو خیبر سے ایک منزل ہے مدینے کیطرف)تو وہ حیض سے پاک ہوئیں نبیﷺ نے ان سے صحبت کی پھر ایک چھوٹے سے دستر خوان پر حیس تیار کیا اور مجھ سے فرمایا جو لوگ تیرے گردو پیش ہیں ان کو بلا لے پس صفیہؓ کا یہ ولیمہ تھا جو آپؑ نے کیا پھر ہم مدینہ کی طرف روانہ ہوئے میں نے دیکھا نبیﷺ صفیہ کے لیے اپنے پیچھے(اونٹ پر )کمبل کا گول گردہ بناتےپھر اونٹ کے پاس آپؑ بیٹھ جا تے اور اپنا گھٹنا کھول دیتے صفیہ اس پر پاؤں رکھ کے اونٹ پر چڑ ھ جاتیں


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقَامَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ، بِطَرِيقِ خَيْبَرَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، حَتَّى أَعْرَسَ بِهَا، وَكَانَتْ فِيمَنْ ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet stayed with Safiya bint Huyai for three days on the way of Khaibar where he consummated his marriage with her. Safiya was amongst those who were ordered to use a veil.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان نے کیا کہا مجھ سے میرے بھائی (عبد الحمید) نے انہوں نے سلیمان بن بلال سے انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انہوں نے حمید طویل سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے سنا کہ نبیﷺ صفیہ کو لے کر خیبر کے رستے میں تین دن ٹھہرے رہے ان سے صحبت کی اور وہ ان عورتوں میں شریک ہو گئیں جن کو پردے کا حکم تھا ۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلاَ لَحْمٍ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلاَّ أَنْ أَمَرَ بِلاَلاً بِالأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالأَقِطَ وَالسَّمْنَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ قَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهْىَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهْىَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ‏.‏ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ، وَمَدَّ الْحِجَابَ‏

Narrated By Anas : The Prophet stayed for three rights between Khaibar and Medina and was married to Safiya. I invited the Muslim to h s marriage banquet and there wa neither meat nor bread in that banquet but the Prophet ordered Bilal to spread the leather mats on which dates, dried yogurt and butter were put. The Muslims said amongst themselves, "Will she (i.e. Safiya) be one of the mothers of the believers, (i.e. one of the wives of the Prophet) or just (a lady captive) of what his right-hand possesses" Some of them said, "If the Prophet makes her observe the veil, then she will be one of the mothers of the believers (i.e. one of the Prophet's wives), and if he does not make her observe the veil, then she will be his lady slave." So when he departed, he made a place for her behind him (on his and made her observe the veil.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم کو محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے خبر دی کہا مجھ کو حمید نے انہوں نے انسؓ سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ مدینہ اور خیبر کے پیچ میں تین رات ٹھہرے رہے (رستے میں) آپؑ نے اُم المومنین حضرت صفیہؓ سے صحبت کی اور میں نے مسلمانوں کو آپؑ کے ولیمہ کی دعوت میں بلایا اس میں نہ روٹی تھی نہ گوشت تھا صرف یہ تھا کہ آپؑ نے بلال کو فرمایا دسترخوان بچھاؤ پھر آپؑ نے کجھور پنیر گھی اس پر ڈالا اب مسلمان کہنے لگے صفیہؓ مسلمانوں کی ماں ہیں (آزادہیں) یا لونڈی(حرم) ہیں پھر خود ہی کہنے لگے اگر آپﷺ نے چھپایا ان کو تب وہ مسلمانوں کی ماں ہیں ورنہ لونڈی ہیں جب آپؑ نے کوچ کیاتوصفیہ کےلیے (اونٹ پر ) اپنے پیچھے جگہ درست کی اور پردہ لگا یا ۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ‏.‏ح: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مُحَاصِرِي خَيْبَرَ فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ، فَنَزَوْتُ لآخُذَهُ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَاسْتَحْيَيْتُ‏

Narrated By 'Abdullah bin Mughaffal : While we were besieging Khaibar, a person threw a leather container containing some fat and I ran to take it. Suddenly I looked behind, and behold! The Prophet was there. So I felt shy (to take it then).

ہم سے ابو الولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے ۔ دوسری سند اور ہم سے عبدا للہ بن محمد نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے حمید بن ہلال انہوں نے عبداللہ بن مغفلؓ سے انہوں نے کہا ہم لوگ خیبر کو گھیرے ہوئے تھے اتنے میں ایک آدمی (نام نامعلوم ) ایک تھیلی چربی بھری پھنکی میں اس کو اٹھانے کو دوڑا کیا دیکھتا ہوں آپؑ کھڑے ہیں مجھ کو شرم آگئ ۔


حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، وَسَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ الثَّوْمِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ‏.‏ نَهَى عَنْ أَكْلِ الثَّوْمِ هُوَ عَنْ نَافِعٍ وَحْدَهُ‏.‏ وَلُحُومُ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ عَنْ سَالِمٍ‏

Narrated By Ibn Umar : On the day of Khaiber, Allah's Apostle forbade the eating of garlic and the meat of donkeys.

مجھ سےعبید بن اسماعیل نے بیان کیا انہوں نے ابو اسامہ انہوں نے عبید اللہ سے انہوں نےنافع اور سالم سے انہوں نے ابن عمر سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺنے خیبر کے دن لہسن اورپلیرو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا لہسن کھا نے کی ممانعت صرف نافع نے نقل کی(سالم نے نہیں نقل کی)اورگدھوں کا گوشت کھا نےکی ممانعت سالم نے نقل کی(نافع نے نہیں نقل کی)۔


حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ أَكْلِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ‏

Narrated By 'Ali bin Abi Talib : On the day of Khaibar, Allah's Apostle forbade the Mut'a (i.e. temporary marriage) and the eating of donkey-meat.

مجھ سےیحییٰ بن قزعہ نےبیان کیا کہا ہم سے امام مالک نےانہوں نے ابن شہاب سےانہوں نے عبد اللہ اور حسن سےجو محمد بن حنفیہ کے صاحبزادے تھے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت علیؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے خیبر کے دن عورتوں کےساتھ متعہ کرنےاور گدھوں کاگوشت کھانے سے منع فرمایا ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ‏.

Narrated By Ibn Umar : On the day of Khaibar, Allah's Apostle forbade the eating of donkey meat.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا کہاہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا انہوں نے نافع سے انہوں نے عبد اللہ بن عمر سے کہ رسول اللہﷺ نے خیبر کے دن پلیرو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، وَسَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ‏

Narrated By Ibn Umar : Allah's Apostle forbade the eating of donkey-meat.

مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے محمدبن عبید نے کہاہم سے عبید اللہ نے انہوں نے نافع اور سالم سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سےانہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے پلیروگدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ‏

Narrated By Jabir bin Abdullah : On the day of Khaibar, Allah's Apostle forbade the eating of donkey meat and allowed the eating of horse meat.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے امام محمد باقر سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سےانہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے خیبر کے دن گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِي ـ قَالَ وَبَعْضُهَا نَضِجَتْ ـ فَجَاءَ مُنَادِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا وَأَهْرِيقُوهَا‏.‏ قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى فَتَحَدَّثْنَا أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا لأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ نَهَى عَنْهَا الْبَتَّةَ، لأَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ‏

Narrated By Ibn Abi Aufa : We where afflicted with severe hunger on the day of Khaibar. While the cooking pots were boiling and some of the food was well-cooked, the announcer of the Prophet came to say, "Do not eat anything the donkey-meat and upset the cooking pots." We then thought that the Prophet had prohibited such food because the Khumus had not been taken out of it. Some others said, "He prohibited the meat of donkeys from the point of view of principle, because donkeys used to eat dirty things."

ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن عوام نے انہوں نے ابو اسحاق شیبانی سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفٰی سے سنا انہوں نے کہا خیبر کے دن ہم کو (سخت)بھول لگی تھی اور ہانڈیاں (گدھوں کے گوشت کی)ابل رہی تھیں بعضی ہانڈیوں کا گوشت پک بھی گیا تھا اتنے میں نبیﷺ کا منادی آن پہنچا کہنے لگا گدھوں کا گوشت مت کھاؤ اور ہانڈیاں انڈیل دو عبد اللہ بن ابی اوفٰی نےکہا پھر ہم لوگ (صحابہ آ پس میں) یوں کہنے لگے آپﷺ نے اس گوشت سے اس لیے منع فرمایا ہےکہ ابھی لوٹ میں سے پانچواں حصہ نہیں نکالا گیاتھا اور بعض نے کہا اس لیے منع فرمایا کہ گدھا نجاست کھا تا ہے۔


حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، رضى الله عنهم أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَصَابُوا حُمُرًا فَطَبَخُوهَا، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَكْفِئُوا الْقُدُورَ‏

Narrated By Al-Bara and 'Abdullah bin Abl Aufa : That when they were in the company of the Prophet, they got some donkeys which they (slaughtered and) cooked. Then the announcer of the Prophet said, "Turn the cooking pots upside down (i.e. throw out the meat)."

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نےکہا مجھ کو عدی بن ثابت نےخبر دی انہوں نے براء اور عبد اللہ بن ابی اوفٰےسے کہ وہ (جنگ خیبرمیں)نبیﷺ کے ساتھ تھے انہوں نے گدھے لوٹے ان کا گوشت پکایا نبیﷺ کے منادی ابو طلحہ نے یہ منادی کی ہانڈیاں الٹ دو (پھینک دو گوشت)۔


حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، رضى الله عنهم أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَصَابُوا حُمُرًا فَطَبَخُوهَا، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَكْفِئُوا الْقُدُورَ‏

Narrated By Al-Bara and 'Abdullah bin Abl Aufa : That when they were in the company of the Prophet, they got some donkeys which they (slaughtered and) cooked. Then the announcer of the Prophet said, "Turn the cooking pots upside down (i.e. throw out the meat)."

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نےکہا مجھ کو عدی بن ثابت نےخبر دی انہوں نے براء اور عبد اللہ بن ابی اوفٰےسے کہ وہ (جنگ خیبرمیں)نبیﷺ کے ساتھ تھے انہوں نے گدھے لوٹے ان کا گوشت پکایا نبیﷺ کے منادی ابو طلحہ نے یہ منادی کی ہانڈیاں الٹ دو (پھینک دو گوشت)۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، وَابْنَ أَبِي أَوْفَى، يُحَدِّثَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدْ نَصَبُوا الْقُدُورَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ

Narrated By Al-Bara' and Ibn Abi Aufa : On the day of Khaibar when the cooking pots were put on the fire, the Prophet said, "Turn the cooking pots upside down."

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے عدی بن ثابت نے کہامیں نے براء بن عازب اور عبداللہ بن ابی اوفٰے سے سنا وہ دونوں بیان کرتے تھے کہ نبیﷺ خیبر کے دن جب وہ (گدھوں کے گوشت کی) ہانڈیاں چڑھا چکے تھے یہ فرمایاالٹ دو (جو کچھ جو ان میں ہے وہ بہہ جائے)۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، وَابْنَ أَبِي أَوْفَى، يُحَدِّثَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدْ نَصَبُوا الْقُدُورَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ

Narrated By Al-Bara' and Ibn Abi Aufa : On the day of Khaibar when the cooking pots were put on the fire, the Prophet said, "Turn the cooking pots upside down."

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے عدی بن ثابت نے کہامیں نے براء بن عازب اور عبداللہ بن ابی اوفٰے سے سنا وہ دونوں بیان کرتے تھے کہ نبیﷺ خیبر کے دن جب وہ (گدھوں کے گوشت کی) ہانڈیاں چڑھا چکے تھے یہ فرمایاالٹ دو (جو کچھ جو ان میں ہے وہ بہہ جائے)۔


حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ‏

Narrated By Al-Bara : We took part in a Ghazwa with the Prophet

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سےشعبہ نے انہوں نے عدی بن ثابت سے انہوں نے براء سےایسی ہی حدیث نقل کی۔


حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ أَنْ نُلْقِيَ الْحُمُرَ الأَهْلِيَّةَ نِيئَةً وَنَضِيجَةً، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ بَعْدُ

Narrated By Al-Bara Bin Azib : During the Ghazwa of Khaibar, the Prophet ordered us to throw away the meat of the donkeys whether it was still raw or cooked. He did not allow us to eat it later on.

مجھ سے ابراہیم بن موسٰی بیان کیا کہا ہم کو یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے خبر دی کہا ہم کو عاصم احول نے انہوں نے عامر شعبی سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے خیبر کی جنگ میں ہم کو یہ حکم دیا کہ ہم گدھوں کا گوشت پھینک دیں پکا ہوا ہو یا کچا پھر آپؑ نے ہم کو اس کے کھانے کی اجازت نہیں دی (تو منع ہی رہا )۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لاَ أَدْرِي أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ، فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ، لَحْمَ الْحُمُرِ

Narrated By Ibn Abbas : I do not know whether the Prophet forbade the eating of donkey-meat (temporarily) because they were the beasts of burden for the people, and he disliked that their means of transportation should be lost, or he forbade it on the day of Khaibar permanently.

مجھ سےمحمد بن ابی الحسین نے بیان کیا کہاہم سے عمر بن حفص نے کہاہم سے والد (حفص بن غیاث ) نے انہوں نے عاصم بن سلیمان سے انہوں نے عامر شعبی سے انہوں نے عبداللہ بن عباس سے انہوں نے کہا میں نہیں جانتا خیبر کے دن رسول اللہﷺ نے جو پلیرو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا اس وجہ سے منع کیا کہ گدھا مال برداری کے کام آتا ہے آپؑ نے بار برداری کے جانوروں کا تلف کرنا برا سمجھا یا یہ کہ اس کو حرام کردیا ۔


حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا‏.‏ قَالَ فَسَّرَهُ نَافِعٌ فَقَالَ إِذَا كَانَ مَعَ الرَّجُلِ فَرَسٌ فَلَهُ ثَلاَثَةُ أَسْهُمٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَسٌ فَلَهُ سَهْمٌ‏

Narrated By Ibn 'Umar : On the day of Khaibar, Allah's Apostle divided (the war booty of Khaibar) with the ratio of two shares for the horse and one-share for the foot soldier. (The sub-narrator, Nafi' explained this, saying, "If a man had a horse, he was given three shares and if he had no horse, then he was given one share.")

ہم سے حسن بن اسحاق نےبیان کیا کہا ہم سے سے محمد بن سابق نے کہا ہم سے زائدہ بن قدامہ نےانہوں نے عبیداللہ بن عمر سےانہوں نے نافع سےانہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے خیبر کے دن گھوڑے کے دو حصے رکھے اور پیدل آدمی کا ایک حصہ عبید اللہ نے کہا نافع نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ جس شخص کے پاس گھوڑا ہو اس کو تین حصے دیئے جائیں (ایک اس کا دو گھوڑے کے) جس کے پاس گھوڑا نہ ہو اس کو ایک ہی حصہ دیا جائے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ، وَتَرَكْتَنَا، وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَىْءٌ وَاحِدٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ جُبَيْرٌ وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نَوْفَلٍ شَيْئًا‏

Narrated By Jubair bin Mutim : Uthman bin 'Affan and I went to the Prophet and said, "You had given Banu Al-Muttalib from the Khumus of Khaibar's booty and left us in spite of the fact that we and Banu Al-Muttalib are similarly related to you." The Prophet said, "Banu Hashim and Banu Al-Muttalib only are one and the same." So the Prophet did not give anything to Banu Abd Shams and Banu Nawfal.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے یونس بن زید سے انہوں نےابن شہاب سے انہوں نے سعید بن مسیب سے ان کو جبیر بن مطعم نے خبر دی انہوں نے کہا میں اور حضرت عثمانؓ دونوں مل کر بنیﷺ کے پاس گئے ہم دونوں نے عرض کیا یارسول اللہ آپؑ نے خیبر کے پانچویں حصے میں سے مطلب بن عبد مناف کی اولاد کو دیا اور ہم کو نہیں دیا حالانکہ ہمارا اور ان کارشتہ آپؑ کے ساتھ برابر ہے آپﷺ نے فرمایا ( یہ صحیح ہے ) مگر یہ بات ہے کہ ہا شم اور مطلب کی اولاد ( ہمیشہ) ایک رہے (ملے جلے ) غرض نبیﷺ نے ( ذوی القردبٰی کے حصے میں سے ) عبدشمس اور نوفل کی اولاد کو کچھ نہ دیا۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا، وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ، وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ ـ إِمَّا قَالَ بِضْعٌ وَإِمَّا قَالَ ـ فِي ثَلاَثَةٍ وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي، فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، وَكَانَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا ـ يَعْنِي لأَهْلِ السَّفِينَةِ ـ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، وَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، وَهْىَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا، عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَائِرَةً، وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ‏.‏ قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ‏.‏ فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلاَّ وَاللَّهِ، كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ، وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ، وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ بِالْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَايْمُ اللَّهِ، لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا، وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَسْأَلُهُ، وَاللَّهِ لاَ أَكْذِبُ وَلاَ أَزِيغُ وَلاَ أَزِيدُ عَلَيْهِ‏

Narrated By Abu Musa : The news of the migration of the Prophet (from Mecca to Medina) reached us while we were in Yemen. So we set out as emigrants towards him. We were (three) I and my two brothers. I was the youngest of them, and one of the two was Abu Burda, and the other, Abu Ruhm, and our total number was either 53 or 52 men from my people. We got on board a boat and our boat took us to Negus in Ethiopia. There we met Ja'far bin Abi Talib and stayed with him. Then we all came (to Medina) and met the Prophet at the time of the conquest of Khaibar. Some of the people used to say to us, namely the people of the ship, "We have migrated before you." Asma' bint 'Umais who was one of those who had come with us, came as a visitor to Hafsa, the wife the Prophet. She had migrated along with those other Muslims who migrated to Negus. 'Umar came to Hafsa while Asma' bint 'Umais was with her. 'Umar, on seeing Asma,' said, "Who is this?" She said, "Asma' bint 'Umais," 'Umar said, "Is she the Ethiopian? Is she the sea-faring lady?" Asma' replied, "Yes." 'Umar said, "We have migrated before you (people of the boat), so we have got more right than you over Allah's Apostle " On that Asma' became angry and said, "No, by Allah, while you were with Allah's Apostle who was feeding the hungry ones amongst you, and advised the ignorant ones amongst you, we were in the far-off hated land of Ethiopia, and all that was for the sake of Allah's Apostle. By Allah, I will neither eat any food nor drink anything till I inform Allah's Apostle of all that you have said. There we were harmed and frightened. I will mention this to the Prophet and will not tell a lie or curtail your saying or add something to it.

مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسی اشعریؓ سے انہوں نے کہا ہم ( اپنے ملک) یمن ہی میں تھے جب ہم کو نبیﷺ کے(مکہ سے نکل کر مدینہ کو )روانہ ہونے کی خبر پہنچی ہم بھی ہجرت کی نیت سے آپؑ کے پاس روانہ ہوئے میں نکلا میرے ساتھ میرے دو بھا ئی بھی تھے ابو بردہ اور ابو رہم میں تینوں بھائیوں میں چھوٹا تھا ۔ روای کہتا ہے مجھ کو یاد نہیں رہا ۔ابو موسیٰ نے پچاس پر کئی آدمی یا ترپن یا باون آدمی اپنی قوم کے بیان کیے جو انکے ساتھ نکلے تھے خیر ابو موسیٰ کہتے ہیں ہم ان سب لوگوں کے ساتھ ایک جہاز میں سوار ہوئے اتفاق سے یہ جہاز حبش کے ملک میں نجاشی بادشاہ کے پاس پہنچا (ہوا اڑا کر لے گئی وہاں جعفر بن ابی طالب ہم کو ملے ہم انہی کے پاس رہ گئے (پھر ایک مدت بعد) جعفر کے ساتھ ہم لوگ چلے اور نبیﷺ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپؑ خیبر فتح کر چکے تھے بعض لوگ مسلمانوں میں سے یوں کہنے لگے ان جہاز والوں سے ہماری ہجرت پہلے ہوئی اور ہمارے ساتھ والوں میں سے (جو جہاز میں آئے تھے)اسماء بنت عمیس(جعفر کی بیوی)ام المومنین حفصؓہ کے پاس ملنے گئیں انہوں نے بھی صحابہ کے ساتھ نجاشی کے ملک میں ہجرت کی تھی وہاں حضرت عمرؓ بھی آن پہنچے اسماء ان کے پاس بیٹھی تھیں تو حضرت عمرؓ نے اسماءؓ کو دیکھ کرپوچھا یہ کون عورت ہے حفصہؓ نے کہا یہ اسماء ہے عمیس کی بیٹی حضرت عمرؓ نے کہااخاہ وہ اسماء جو حبش کے ملک کو گئیں تھیں اب سمندر کا سفر کر کے آئی ہیں اسماءؓ نے کہا ہاں میں وہی اسماءؓ ہوں حضرت عمرؓ کہنے لگے ہم نے تو تم سے پہلے ہجرت کی اور رسول اللہﷺ پر تم سے زیادہ ہمارا حق ہے یہ سن کر اسماءؓ کو غصہ آگیا کہنے لگیں واہ واہ خدا کی قسم تم ہم سے بڑھ کر نہیں تم تو رسول اللہﷺ کے ساتھ رہے جو تم میں بھوکا ہوتا آپؑ اسکو کھانا کھلاتے اور جو جاہل ہوتا اس کو دین کی بات سمجھاتے اور ہم تو کہیں جاکر پڑے دور دراز دشمنوں کے ملک یعنی حبش میں آخر وہاں گئے تھے تو محض اللہ اور رسولؑ کی رضامندی کے لیے (کچھ اپنا ذاتی فائدہ نہ تھا) خدا کی قسم دانہ پانی مجھ پر حرا م ہے جب تک میں نبیﷺ سے ذکر نہ کروں آپﷺ سے نہ پوچھوں ہم لوگوں کو تو بڑی تکلیف اور ڈر کا سامنا رہا (اور تم کہتے ہو کہ ہم نے اخیر میں ہجرت کی )خدا کی قسم میں جھوٹ نہیں بولنے کی نہ غلط کہنے کی نہ اپنی طرف سے کوئی بات بڑھانے کی ۔


فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَا قُلْتِ لَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ، وَلَهُ وَلأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالاً، يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، مَا مِنَ الدُّنْيَا شَىْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلاَ أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي‏

" So when the Prophet came, she said, "O Allah's Prophet 'Umar has said so-and-so." He said (to Asma'), "What did you say to him?" Asma's aid, "I told him so-and-so." The Prophet said, "He (i.e. 'Umar) has not got more right than you people over me, as he and his companions have (the reward of) only one migration, and you, the people of the boat, have (the reward of) two migrations." Asma' later on said, "I saw Abu Musa and the other people of the boat coming to me in successive groups, asking me about this narration,, and to them nothing in the world was more cheerful and greater than what the Prophet had said about them." Narrated Abu Burda: Asma' said, "I saw Abu Musa requesting me to repeat this narration again and again."

خیر جب نبی ﷺ تشریف لائے تو اسماءؓ نے عرض کیا یارسول اللہ عمرؓ ایسا ایسا کہتے ہیں آپؑ نے پوچھا تو نے کیاجواب دیا اسماء نے کہا میں نے ایسا ایسا جواب دیا آپؑ نے فرمایا تم سے زیادہ کسی کا حق نہیں ہے عمراور اس کے ساتھیوں کی تو ایک ہی ہجرت ہوئی اور تم جہاز والوں کی دو ہجرتیں ہوئیں۔ اسماء کہتی ہیں میں نے دیکھا ابو موسیٰ اور دوسرے جہاز والے لوگ گروہ گروہ میرے پاس آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کو پوچھنے لگے ساری دنیا میں ان کو کسی چیز سے ایسی خوشی نہیں ہوئی نہ اتنی عظمت معلوم ہوئی جتنی یہ حدیث معلوم ہوئی ابو ہریرہؓ نے کہا اسماء نے کہا میں نے ابو موسیٰ کو دیکھا وہ بار بار یہ حدیث مجھ سے سنتے۔


قَالَ أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ، حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ، وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ، إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ ـ أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ ـ قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ ‏"‏‏

Narrated Abu Burda: Abu Musa said, "The Prophet said, "I recognize the voice of the group of Al-Ashariyun, when they recite the Qur'an, when they enter their homes at night, and I recognize their houses by (listening) to their voices when they are reciting the Qur'an at night although I have not seen their houses when they came to them during the day time. Amongst them is Hakim who, on meeting the cavalry or the enemy, used to say to them (i.e. the enemy). My companions order you to wait for them.'"

ابو بردہؓ نےکہا اسماءؓ نے کہا میں نے ابو موسیٰ کو دیکھا وہ بار بار یہ حدیث مجھ سے سنتے ابو بردہ نےکہا ابو موسیٰ نے کہا نبیﷺ نے فرمایا میں اشعری لوگوں کی آواز پہچانتا ہوں جب وہ رات کو مدینہ میں آکر اپنے گھروں میں قرآن پڑھا کرتے ہیں اور میں انکے قرآن کی آواز سے ان کے ٹھکانے پہچان لیتا ہوں گو دن کو جب وہ اترے تھےمیں نے ان کے ٹھکا نے نہ دیکھے ہوں اور ان اشعریوں میں سے ایک شخص حکیم ہے (یعنی حکیم ا سکا نام ہے یا وہ حکمت والا ہے)جب وہ کافروں کے سواروں یا دشمنوں سے ملتا ہے تو ان سےکہتا ہے ہمارے ساتھی یہ چاہتے ہیں کہ تم ذرا ٹھہر جاؤ یا ذرا سی مہلت دو۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ أَنِ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَسَمَ لَنَا، وَلَمْ يَقْسِمْ لأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ غَيْرَنَا‏

Narrated By Abu Musa : We came upon the Prophet after he had conquered Khaibar. He then gave us a share (from the booty), but apart from us he did not give to anybody else who did not attend the Conquest.

مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے حفص بن غیاث سے سنا کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نےابو موسیٰ اشعری سے انہوں نے کہا ہم بنیﷺ کے پاس (حبش کے ملک سے) اس وقت پہنچے جب آپؑ خیبر فتح کر چکے تھے آپؑ نے ہم کو بھی حصہ دلایا اور ہمارے سوا کسی کو نہیں دلایا جو خیبر میں شریک نہ تھا ۔


حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ، وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ فِضَّةً، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْبَقَرَ وَالإِبِلَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى وَادِي الْقُرَى، وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ، أَهْدَاهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّى أَصَابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ، فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا ‏"‏‏.‏ فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشِرَاكٍ أَوْ بِشِرَاكَيْنِ، فَقَالَ هَذَا شَىْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : When we conquered Khaibar, we gained neither gold nor silver as booty, but we gained cows, camels, goods and gardens. Then we departed with Allah's Apostle to the valley of Al-Qira, and at that time Allah's Apostle had a slave called Mid'am who had been presented to him by one of Banu Ad-Dibbab. While the slave was dismounting the saddle of Allah's Apostle an arrow the thrower of which was unknown, came and hit him. The people said, "Congratulations to him for the martyrdom." Allah's Apostle said, "No, by Him in Whose Hand my soul is, the sheet (of cloth) which he had taken (illegally) on the day of Khaibar from the booty before the distribution of the booty, has become a flame of Fire burning him." On hearing that, a man brought one or two leather straps of shoes to the Prophet and said, "These are things I took (illegally)." On that Allah's Apostle said, "This is a strap, or these are two straps of Fire."

مجھ سے عبد اللہ بن محمد نے بیان کیا ہم سے معاویہ بن عمرو نے کہا ہم سے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد قرازی نے انہوں نے امام مالک سے کہا مجھ سے ثور بن زید نے بیان کیا کہا مجھ سے سالم ابو الغیث نے جو عبد اللہ بن مطیع کا غلام تھا اس نے ابو ہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے ہم نے خیبر فتح کیا اور لوٹ میں سونا چاندی نہیں ملا بلکہ گائے بیل اونٹ اسباب باغات ہاتھ میں آئے پھر وہاں سے لوٹ کر ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ وادی القری میں آئے ( ایک مقام کا نام ہے مدینہ کے قریب) آپؑ کے ساتھ ایک غلام تھا جس کو مدعم کہتے تھے یہ غلام آپؑ کو بنی ضباب کے ایک شخص (رفاعہ بن زید بن وہب) نے تحفہ بھیجا تھا یہ غلام آپؑ کا کجاوہ اتار رہا تھا اتنے میں ایک ناگہانی تیر اس کو آ لگا۔معلوم نہیں کس نے مارا (وہ شہید ہو گیا ) لوگ کہنے لگے اس کو مبارک ہو شہید ہو ا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ نہیں نہیں اس نے ایک چادر جو خیبر کے دن تقسیم سے پہلے لوٹ کے مال میں سے چرالی تھی وہ آگ ہو کر اس کو جلا رہی ہے یہ حدیث سن کر ایک شخص (نام نامعلوم) نبیﷺ کے پاس جوتی کا ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر آیا اور کہنے لگا میں نے یہ لوٹ کے مال میں سے لیے لئےتھے آپؑ نے فرمایا ( اگر تو داخل نہ کرتا) تو یہ ایک تسمہ یا دو تسمے آگ بن جاتے ( قیامت میں تجھ کو جلاتے )۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلاَ أَنْ أَتْرُكَ آخِرَ النَّاسِ بَبَّانًا لَيْسَ لَهُمْ شَىْءٌ، مَا فُتِحَتْ عَلَىَّ قَرْيَةٌ إِلاَّ قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ، وَلَكِنِّي أَتْرُكُهَا خِزَانَةً لَهُمْ يَقْتَسِمُونَهَا‏

Narrated By 'Umar bin Al-Khattab : By Him in Whose Hand my soul is, were I not afraid that the other Muslims might be left in poverty, I would divide (the land of) whatever village I may conquer (among the fighters), as the Prophet divided the land of Khaibar. But I prefer to leave it as a (source of) a common treasury for them to distribute it revenue amongst themselves.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی کہا مجھ کو زید بن اسلم نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عمرؓ سے سنا وہ کہتے تھے سن لو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھ کو یہ ڈر نہ ہوتا کہ آئندہ جو لوگ مسلمان ہوں گے وہ مفلس اور محتا ج رہیں گے ان کے پاس کچھ نہ ہو گا تو جو بستی فتح ہوتی اس کو مسلمانوں میں میں اسطرح تقسیم کردیتا جیسے نبیﷺ نے خیبر تقسیم کردیا تھا لیکن میں یہ چاہتا ہوں ان مسلمانوں کے لیے کچھ خزانہ رہنے دوں جس کو وہ ( ضرورت کے وقت) بانٹتے رہیں ۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَوْلاَ آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ قَرْيَةٌ إِلاَّ قَسَمْتُهَا، كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ‏

Narrated By 'Umar : But for the other Muslims (i.e. coming generations) I would divide (the land of) whatever villages the Muslims might conquer (among the fighters), as the Prophet divided (the land of) Khaibar.

مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرحمان بن مہدی نے انہوں نے امام مالک سے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے اپنےوالد سے انہوں نے حضرت عمرؓ سے انہوں نے کہا اگر پچھلے مسلمان جو آئندہ اسلام لائیں گے نہ ہوتے تو میں جو بستی فتح ہوتی اسکو اس طرح ( موجودہ مسلمانوں میں) بانٹ دیتا جیسے نبیﷺ نے خیبر کو بانٹ دیا تھا ۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، وَسَأَلَهُ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ، قَالَ لَهُ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لاَ تُعْطِهِ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ‏.‏ فَقَالَ وَاعَجَبَاهْ لِوَبْرٍ تَدَلَّى مِنْ قَدُومِ الضَّأْنِ‏

Narrated By 'Anbasa bin Said : Abu Huraira came to the Prophet and asked him (for a share from the Khaibar booty). On that, one of the sons of Said bin Al-'As said to him, "O Allah's Apostle! Do not give him." Abu Huraira then said (to the Prophet) "This is the murderer of Ibn Qauqal." Sa'id's son said, "How strange! A guinea pig coming from Qadum Ad-Dan!"

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا میں نے زہری سے سنا ان سے اسماعیل بن امیہ نے پوچھا تھا تو زہری نے کہامجھ کو عنبسہ ابن سعید نے خبر دی کہ ابو ہریرہؓ ( مسلمان ہو کر ) نبیﷺ کے پاس (خیبر میں) آئے اور (لوٹ کے مال میں سے) حصہ مانگا ۔ سعید بن عاص اموی کے ایک بیٹے ( ابان) نے کہا یا رسول اللہ ابو ہریرہؓ کو کچھ نہ دیجئے (اس کا کوئی حق نہیں ہے ) ابو ہریرہؓ نے کہا اسی ابان نے تو (جنگ احدمیں)نعمان بن قوقل (صحابی)کو قتل کیا تھا ابان یہ سن کر (غصہ ہوئے) کہنے لگے واہ واہ کیا خوب ایک بلا ضان کے جنگل سے ابھی اترا ہے ۔


وَيُذْكَرُ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِي قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخَيْبَرَ، بَعْدَ مَا افْتَتَحَهَا، وَإِنَّ حُزْمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لاَ تَقْسِمْ لَهُمْ‏.‏ قَالَ أَبَانُ وَأَنْتَ بِهَذَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَانُ اجْلِسْ ‏"‏ فَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ‏.‏قال أبو عبدِاللهِ :الضَّالُ:السِّدْرُ

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle sent Aban from Medina to Najd as the commander of a Sariya. Aban and his companions came to the Prophet at Khaibar after the Prophet had conquered it, and the reins of their horses were made of the fire of date palm trees. I said, "O Allah's Apostle! Do not give them a share of the booty." on, that, Aban said (to me), "Strange! You suggest such a thing though you are what you are, O guinea pig coming down from the top of Ad-Dal (a lotus tree)! "On that the Prophet said, "O Aban, sit down ! " and did not give them any share.

اور محمد بن ولید زبیدی سے روایت کیا گیا ہے انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو عنبسہ بن سعید نے خبر دی انہوں نے ابو ہریرہؓ سے سنا وہ سعید بن عاص سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ابان بن سعید کو فوج کا سردار نبا کر مدینہ سےنجد کی طرف بھیجا ابو ہریرہؓ نے کہا پھر ابان اور ان کے ساتھی (اس سفر سے ) اس وقت لوٹ کر آئے ۔جب نبیﷺ خیبر فتح کر چکے تھےوہیں تشریف رکھتے تھے اس زمانہ میں مسلمان (ایسے مفلس تھے ان کے ) گھوڑوں کے تنگ کھجور کے چھال کے تھے ( چمڑا بھی میسر نہ تھا ) خیر ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ابان اور ان کے ساتھیوں کا (خیبر کی لوٹ میں) حصہ نہ لگائیے ابان نے کہا واہ واہ تو بھی اس درجہ کو پہنچ گیا ارے بلے ابھی تو ضان پہاڑ سے (یا جنگل بیری سے) اتر کر آیا ہے( ابھی سے یہ باتیں ایاز قدر خودبہ شناس ) نبیﷺ نے ابان سے فرمایا اجی بیٹھو اور ان کو حصہ نہیں دلایا امام بخاری نے کہا ضأل جنگلی بیری کو کہتے ہیں ۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي، أَنَّ أَبَانَ بْنَ سَعِيدٍ، أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ‏.‏ وَقَالَ أَبَانُ لأَبِي هُرَيْرَةَ وَاعَجَبًا لَكَ وَبْرٌ تَدَأْدَأَ مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ‏.‏ يَنْعَى عَلَىَّ امْرَأً أَكْرَمَهُ اللَّهُ بِيَدِي، وَمَنَعَهُ أَنْ يُهِينَنِي بِيَدِهِ‏

Narrated By Said : Aban bin Said came to the Prophet and greeted him. Abu Huraira said, "O Allah's Apostle! This (Aban) is the murderer of the Ibn Qauqal." (On hearing that), Aban said to Abu Huraira, "How strange your saying is! You, a guinea pig, descending from Qadum Dan, blaming me for (killing) a person whom Allah favoured (with martyrdom) with my hand, and whom He forbade to degrade me with his hand."

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سےعمرو بن یحییٰ بن سعید نے کہا مجھ کو میرے دادا سعید بن عمرو نے خبر دی کہ ابان بن سعید نبیﷺ کے پاس ( خیبر میں) آئے ( جب خیبر فتح ہوچکا تھا )آپؑ کو سلام کیا ابو ہریرہؓ کہنے لگے یارسو ل اللہ نعمان بن قوقل (صحابی) کو( احد کے دن ) اسی نے قتل کیا تھا ۔ ابان نے کہا واہ رے بلے ابھی تو ضان کے جنگل سے لڑکھتا ہوا آیا ہے( ابھی سے یہ باتیں ) میرے اوپر ایسے شخص کا عیب دھرتا ہے ۔ جس کومیری وجہ سے اللہ نے(شہادت کا ) درجہ دیا اور مجھ کو اس کے ہاتھ سے ذلیل نہ ہونے دیا


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَالِ ‏"‏‏.‏ وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ، دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلاً، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا، وَلاَ يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ، كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لاَ وَاللَّهِ لاَ تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ‏.‏ فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ، وَمَا أَعْطَاكَ، اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَصِيبًا‏.‏ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ، فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلاَّ صَنَعْتُهُ‏.‏ فَقَالَ عَلِيٌّ لأَبِي بَكْرٍ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ‏.‏ فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ، وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ، وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ، وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلاَ إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ، وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ‏.‏ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا، حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ الْمَعْرُوفَ‏

Narrated By 'Aisha : Fatima the daughter of the Prophet sent someone to Abu Bakr (when he was a caliph), asking for her inheritance of what Allah's Apostle had left of the property bestowed on him by Allah from the Fai (i.e. booty gained without fighting) in Medina, and Fadak, and what remained of the Khumus of the Khaibar booty. On that, Abu Bakr said, "Allah's Apostle said, "Our property is not inherited. Whatever we leave, is Sadaqa, but the family of (the Prophet) Muhammad can eat of this property.' By Allah, I will not make any change in the state of the Sadaqa of Allah's Apostle and will leave it as it was during the lifetime of Allah's Apostle, and will dispose of it as Allah's Apostle used to do." So Abu Bakr refused to give anything of that to Fatima. So she became angry with Abu Bakr and kept away from him, and did not task to him till she died. She remained alive for six months after the death of the Prophet. When she died, her husband 'Ali, buried her at night without informing Abu Bakr and he said the funeral prayer by himself. When Fatima was alive, the people used to respect 'Ali much, but after her death, 'Ali noticed a change in the people's attitude towards him. So Ali sought reconciliation with Abu Bakr and gave him an oath of allegiance. 'Ali had not given the oath of allegiance during those months (i.e. the period between the Prophet's death and Fatima's death). 'Ali sent someone to Abu Bakr saying, "Come to us, but let nobody come with you," as he disliked that 'Umar should come, 'Umar said (to Abu Bakr), "No, by Allah, you shall not enter upon them alone " Abu Bakr said, "What do you think they will do to me? By Allah, I will go to them' So Abu Bakr entered upon them, and then 'Ali uttered Tashah-hud and said (to Abu Bakr), "We know well your superiority and what Allah has given you, and we are not jealous of the good what Allah has bestowed upon you, but you did not consult us in the question of the rule and we thought that we have got a right in it because of our near relationship to Allah's Apostle." Thereupon Abu Bakr's eyes flowed with tears. And when Abu Bakr spoke, he said, "By Him in Whose Hand my soul is to keep good relations with the relatives of Allah's Apostle is dearer to me than to keep good relations with my own relatives. But as for the trouble which arose between me and you about his property, I will do my best to spend it according to what is good, and will not leave any rule or regulation which I saw Allah's Apostle following, in disposing of it, but I will follow." On that 'Ali said to Abu Bakr, "I promise to give you the oath of allegiance in this after noon." So when Abu Bakr had offered the Zuhr prayer, he ascended the pulpit and uttered the Tashah-hud and then mentioned the story of 'Ali and his failure to give the oath of allegiance, and excused him, accepting what excuses he had offered; Then 'Ali (got up) and praying (to Allah) for forgiveness, he uttered Tashah-hud, praised Abu Bakr's right, and said, that he had not done what he had done because of jealousy of Abu Bakr or as a protest of that Allah had favoured him with. 'Ali added, "But we used to consider that we too had some right in this affair (of ruler-ship) and that he (i.e. Abu Bakr) did not consult us in this matter, and therefore caused us to feel sorry." On that all the Muslims became happy and said, "You have done the right thing." The Muslims then became friendly with 'Ali as he returned to what the people had done (i.e. giving the oath of allegiance to Abu Bakr).

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ حضرت فاطمہ زہراء نبیﷺ کی صاحبزادی نے کسی کو ابو بکر صدیقؓ کے پاس بھیجا وہ رسول اللہﷺ کا ترکہ مانگتی تھیں ان مالوں میں سے جو اللہ نے آپؑ کو مدینہ اور فدک میں عنایت فرمائے تھے اور خیبر کے پانچویں حصے میں سے جو بچ رہا تھا ابو بکرؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہﷺ نے یوں فرمایا ہے ہم پیغبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم مال و اسباب چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے البتہ اس میں شک نہیں کہ حضرت محمدﷺ کی اولاد اسی مال میں سے کھائیں گے اور میں تو رسول اللہﷺ کی خیرات اسی حال پر رکھوں گا جیسے آپﷺ کی زندگی میں تھی اور جیسا آپﷺؑکیا کرتے تھے میں بھی ویسا ہی کرتا رہوں گا ( جس جس کو آپؑ دیتے تھے میں بھی انہی کو دیتا رہو ں گا ) غرض ابو بکر صدیقؓ نے فاطمہؓ کو اس ترکہ میں سے کچھ بھی دینا منظور نہ کیا اور حضرت فاطمہؓ کو ابو بکرؓ پر غصہ آیا انہوں نے انکی ملاقات ترک کردی اور مرے تک ان سے بات نہ کی وہ نبیﷺ کے بعد صرف چھ مہینے تو زندہ رہیں جب ان کی وفات ہوئی تو انکے خاوند حضرت علیؓ نے رات ہی کو انکو دفن کردیا اور ابو بکر صدیقؓ کو ان کی وفات کی خبر نہ دی اور حضرت علیؓ نے ان پر نماز پڑھی اور جب تک حضرت فاطمہ زندہ تھیں تو لوگ حضرت علیؓ پر بہت توجہ رکھتے تھے ( حضرت فاطمہؓ کےخیال سے) جب انکی وفات ہو گئی تو حضرت علیؓ نے دیکھا لو گو ن کے منہ ان کی طرف سے پھرے معلوم ہوتے ہیں اس وقت انہوں نےابو بکرؓ سے صلح کر لینا اور ان سے بیت کرلینا چاہا اس سے پہلے چھ مہینے تک انہوں نے ابو بکرؓ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں ابو بکر کو بلا بھیجا اور یہ کہلا بھیجا کہ تم اکیلے آؤ اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لاؤ ان کو یہ منظور نہ تھا کہ حضرت عمرؓ ان کے ساتھ آئیں حضرت عمرؓ نے ابو بکرؓ سے کہا خدا کی قسم تم اکیلے ان کےپاس نہ جانا ابو بکرؓ نےکہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو خدا کی قسم ضرور ان کے پاس جاؤں گا آخر ابو بکرؓ ان کے پاس گئے تو حضرت علیؓ نے خدا کو گواہ کیا اورکہنے لگے کہ ابو بکر ہم کو تمہاری فضیلت اور بزرگی معلوم ہے جو اللہ نے تم کو عنایت فرمائی اور اللہ نے جو عزت تم کو دی۔(مسلمانوں کاحاکم بنایا)اس پر ہم کچھ حسد نہیں کرتےمگر ہم کو یہ ہی برا معلوم ہوا کہ تم نے اکیلے ہی اکیلے خلافت اڑالی( ہم سے صلاح نہ لی) ہم یہ خیال کرتے تھے کہ اس مشورے میں ہم لوگ ضرور شریک کیے جائیں گے کیونکہ ہم کو رسول اللہﷺسے رشتہ داری اور قرابت تھی( حضرت علیؓ برابر ایسی ہی باتیں کرتے رہے) یہاں تک کہ ابو بکرؓ کی آنکھیں بھر آئیں ( آنسو بہنے لگے ) پھر ابو بکرؓ نے گفتگو شروع کی انہوں نے کہا قسم اس پروردگار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہﷺ کی قرابت کا خیال تو مجھ کو اپنی قرابت سے بھی زیادہ ہے اب ان چند مالوں (فدک بنی نضیر خیبر وغیرہ ) کی وجہ سے جو مجھ میں اور تم لوگوں میں جھگڑاہو گیا تو میں نے اس مقدمہ میں بھی وہی کیا جو بہتر تھا میں نے تو رسول اللہﷺجو جو کیا کرتے تھے وہی کیا کسی کام میں فرق نہیں کیا اس وقت حضرت علیؓ نے کہا اچھا شام کو ہم تم سے بیعت کر لیں گے جب ابو بکرؓ نے ظہر کی نماز پڑھی تو منبر پر چڑھے تشہد پڑھا پھر حضرت علیؓ کا حال بیان کیا کہ ان کو اب تک بیعت نہ کرنے سے یہ عذر پیش آیا( یا ان کا عذر قبول کیا) اور ان کے لیے بخشش کی دعا کی اس کے بعد حضرت علیؓ نے تشہد پڑھا اور ابو بکرؓ کے (فضائل بیان کیے انکے) حقوق جتلائے کہنے لگے میں نے جو اب تک ابو بکرؓ سے بیعت نہیں کی تھی تو اسکی وجہ یہ نہ تھی کہ مجھ کو ابو بکرؓ کی خلافت پر کو ئی حسد یا انکی فضیلت اور بزرگی سے کچھ انکار تھا صرف بات یہ تھی کہ ہم لوگوں کو یہ خیال تھا کہ خلافت کے مقدمہ ہماری رائے بھی انکو لینا ضرور تھا انہوں نے نہ لی آپ ہی آپ اس مقدمہ کو کر لیا اس کا ہم کو رنج ہوا مسلمانوں نے جب حضرت علیؓ کی یہ گفتگو سنی تو خوش ہوئے اور حضرت علیؓ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا انہوں نے اچھی بات اختیار کی۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَالِ ‏"‏‏.‏ وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ، دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلاً، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا، وَلاَ يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ، كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لاَ وَاللَّهِ لاَ تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ‏.‏ فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ، وَمَا أَعْطَاكَ، اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَصِيبًا‏.‏ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ، فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلاَّ صَنَعْتُهُ‏.‏ فَقَالَ عَلِيٌّ لأَبِي بَكْرٍ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ‏.‏ فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ، وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ، وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ، وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلاَ إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ، وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ‏.‏ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا، حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ الْمَعْرُوفَ‏

Narrated By 'Aisha : Fatima the daughter of the Prophet sent someone to Abu Bakr (when he was a caliph), asking for her inheritance of what Allah's Apostle had left of the property bestowed on him by Allah from the Fai (i.e. booty gained without fighting) in Medina, and Fadak, and what remained of the Khumus of the Khaibar booty. On that, Abu Bakr said, "Allah's Apostle said, "Our property is not inherited. Whatever we leave, is Sadaqa, but the family of (the Prophet) Muhammad can eat of this property.' By Allah, I will not make any change in the state of the Sadaqa of Allah's Apostle and will leave it as it was during the lifetime of Allah's Apostle, and will dispose of it as Allah's Apostle used to do." So Abu Bakr refused to give anything of that to Fatima. So she became angry with Abu Bakr and kept away from him, and did not task to him till she died. She remained alive for six months after the death of the Prophet. When she died, her husband 'Ali, buried her at night without informing Abu Bakr and he said the funeral prayer by himself. When Fatima was alive, the people used to respect 'Ali much, but after her death, 'Ali noticed a change in the people's attitude towards him. So Ali sought reconciliation with Abu Bakr and gave him an oath of allegiance. 'Ali had not given the oath of allegiance during those months (i.e. the period between the Prophet's death and Fatima's death). 'Ali sent someone to Abu Bakr saying, "Come to us, but let nobody come with you," as he disliked that 'Umar should come, 'Umar said (to Abu Bakr), "No, by Allah, you shall not enter upon them alone " Abu Bakr said, "What do you think they will do to me? By Allah, I will go to them' So Abu Bakr entered upon them, and then 'Ali uttered Tashah-hud and said (to Abu Bakr), "We know well your superiority and what Allah has given you, and we are not jealous of the good what Allah has bestowed upon you, but you did not consult us in the question of the rule and we thought that we have got a right in it because of our near relationship to Allah's Apostle." Thereupon Abu Bakr's eyes flowed with tears. And when Abu Bakr spoke, he said, "By Him in Whose Hand my soul is to keep good relations with the relatives of Allah's Apostle is dearer to me than to keep good relations with my own relatives. But as for the trouble which arose between me and you about his property, I will do my best to spend it according to what is good, and will not leave any rule or regulation which I saw Allah's Apostle following, in disposing of it, but I will follow." On that 'Ali said to Abu Bakr, "I promise to give you the oath of allegiance in this after noon." So when Abu Bakr had offered the Zuhr prayer, he ascended the pulpit and uttered the Tashah-hud and then mentioned the story of 'Ali and his failure to give the oath of allegiance, and excused him, accepting what excuses he had offered; Then 'Ali (got up) and praying (to Allah) for forgiveness, he uttered Tashah-hud, praised Abu Bakr's right, and said, that he had not done what he had done because of jealousy of Abu Bakr or as a protest of that Allah had favoured him with. 'Ali added, "But we used to consider that we too had some right in this affair (of ruler-ship) and that he (i.e. Abu Bakr) did not consult us in this matter, and therefore caused us to feel sorry." On that all the Muslims became happy and said, "You have done the right thing." The Muslims then became friendly with 'Ali as he returned to what the people had done (i.e. giving the oath of allegiance to Abu Bakr).

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ حضرت فاطمہ زہراء نبیﷺ کی صاحبزادی نے کسی کو ابو بکر صدیقؓ کے پاس بھیجا وہ رسول اللہﷺ کا ترکہ مانگتی تھیں ان مالوں میں سے جو اللہ نے آپؑ کو مدینہ اور فدک میں عنایت فرمائے تھے اور خیبر کے پانچویں حصے میں سے جو بچ رہا تھا ابو بکرؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہﷺ نے یوں فرمایا ہے ہم پیغبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم مال و اسباب چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے البتہ اس میں شک نہیں کہ حضرت محمدﷺ کی اولاد اسی مال میں سے کھائیں گے اور میں تو رسول اللہﷺ کی خیرات اسی حال پر رکھوں گا جیسے آپﷺ کی زندگی میں تھی اور جیسا آپﷺؑکیا کرتے تھے میں بھی ویسا ہی کرتا رہوں گا ( جس جس کو آپؑ دیتے تھے میں بھی انہی کو دیتا رہو ں گا ) غرض ابو بکر صدیقؓ نے فاطمہؓ کو اس ترکہ میں سے کچھ بھی دینا منظور نہ کیا اور حضرت فاطمہؓ کو ابو بکرؓ پر غصہ آیا انہوں نے انکی ملاقات ترک کردی اور مرے تک ان سے بات نہ کی وہ نبیﷺ کے بعد صرف چھ مہینے تو زندہ رہیں جب ان کی وفات ہوئی تو انکے خاوند حضرت علیؓ نے رات ہی کو انکو دفن کردیا اور ابو بکر صدیقؓ کو ان کی وفات کی خبر نہ دی اور حضرت علیؓ نے ان پر نماز پڑھی اور جب تک حضرت فاطمہ زندہ تھیں تو لوگ حضرت علیؓ پر بہت توجہ رکھتے تھے ( حضرت فاطمہؓ کےخیال سے) جب انکی وفات ہو گئی تو حضرت علیؓ نے دیکھا لو گو ن کے منہ ان کی طرف سے پھرے معلوم ہوتے ہیں اس وقت انہوں نےابو بکرؓ سے صلح کر لینا اور ان سے بیت کرلینا چاہا اس سے پہلے چھ مہینے تک انہوں نے ابو بکرؓ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں ابو بکر کو بلا بھیجا اور یہ کہلا بھیجا کہ تم اکیلے آؤ اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لاؤ ان کو یہ منظور نہ تھا کہ حضرت عمرؓ ان کے ساتھ آئیں حضرت عمرؓ نے ابو بکرؓ سے کہا خدا کی قسم تم اکیلے ان کےپاس نہ جانا ابو بکرؓ نےکہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو خدا کی قسم ضرور ان کے پاس جاؤں گا آخر ابو بکرؓ ان کے پاس گئے تو حضرت علیؓ نے خدا کو گواہ کیا اورکہنے لگے کہ ابو بکر ہم کو تمہاری فضیلت اور بزرگی معلوم ہے جو اللہ نے تم کو عنایت فرمائی اور اللہ نے جو عزت تم کو دی۔(مسلمانوں کاحاکم بنایا)اس پر ہم کچھ حسد نہیں کرتےمگر ہم کو یہ ہی برا معلوم ہوا کہ تم نے اکیلے ہی اکیلے خلافت اڑالی( ہم سے صلاح نہ لی) ہم یہ خیال کرتے تھے کہ اس مشورے میں ہم لوگ ضرور شریک کیے جائیں گے کیونکہ ہم کو رسول اللہﷺسے رشتہ داری اور قرابت تھی( حضرت علیؓ برابر ایسی ہی باتیں کرتے رہے) یہاں تک کہ ابو بکرؓ کی آنکھیں بھر آئیں ( آنسو بہنے لگے ) پھر ابو بکرؓ نے گفتگو شروع کی انہوں نے کہا قسم اس پروردگار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہﷺ کی قرابت کا خیال تو مجھ کو اپنی قرابت سے بھی زیادہ ہے اب ان چند مالوں (فدک بنی نضیر خیبر وغیرہ ) کی وجہ سے جو مجھ میں اور تم لوگوں میں جھگڑاہو گیا تو میں نے اس مقدمہ میں بھی وہی کیا جو بہتر تھا میں نے تو رسول اللہﷺجو جو کیا کرتے تھے وہی کیا کسی کام میں فرق نہیں کیا اس وقت حضرت علیؓ نے کہا اچھا شام کو ہم تم سے بیعت کر لیں گے جب ابو بکرؓ نے ظہر کی نماز پڑھی تو منبر پر چڑھے تشہد پڑھا پھر حضرت علیؓ کا حال بیان کیا کہ ان کو اب تک بیعت نہ کرنے سے یہ عذر پیش آیا( یا ان کا عذر قبول کیا) اور ان کے لیے بخشش کی دعا کی اس کے بعد حضرت علیؓ نے تشہد پڑھا اور ابو بکرؓ کے (فضائل بیان کیے انکے) حقوق جتلائے کہنے لگے میں نے جو اب تک ابو بکرؓ سے بیعت نہیں کی تھی تو اسکی وجہ یہ نہ تھی کہ مجھ کو ابو بکرؓ کی خلافت پر کو ئی حسد یا انکی فضیلت اور بزرگی سے کچھ انکار تھا صرف بات یہ تھی کہ ہم لوگوں کو یہ خیال تھا کہ خلافت کے مقدمہ ہماری رائے بھی انکو لینا ضرور تھا انہوں نے نہ لی آپ ہی آپ اس مقدمہ کو کر لیا اس کا ہم کو رنج ہوا مسلمانوں نے جب حضرت علیؓ کی یہ گفتگو سنی تو خوش ہوئے اور حضرت علیؓ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا انہوں نے اچھی بات اختیار کی۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ وَلَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ قُلْنَا الآنَ نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ‏

Narrated By 'Aisha : When Khaibar was conquered, we said, "Now we will eat our fill of dates!"

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے کہا مجھ کو عمارہ بن ابی حفصہ نے خبر دی انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا اب تو ہم لوگ کھجور سے سیر ہوجائیں گے۔


حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَا شَبِعْنَا حَتَّى فَتَحْنَا خَيْبَرَ‏

Narrated By Ibn Umar : We did not eat our fill except after we had conquered Khaibar.

ہم سے حسن بن محمد صباح نے بیان کیا کہا ہم سے قدہ بن حبیب نے کہا ہم سے عبد الرحمان بن عبد اللہ بن دینار نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عبداللہ بن عمر سے انہوں نے کہا ہم تو (کھجور سے) اس وقت سیر ہوئے جب خیبر کو فتح کیا ۔

40. باب اسْتِعْمَالُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ ‏{‏وَالصَّاعَيْنِ‏}‏ بِالثَّلاَثَةِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ‏"

Narrated By Abu Said Al-Khudri and Abu Huraira : Allah's Apostle appointed a man as the ruler of Khaibar who later brought some Janib (i.e. dates of good quality) to the Prophet. On that, Allah's Apostle said (to him). "Are all the dates of Khaibar like this?" He said, "No, by Allah, O Allah's Apostle! But we take one Sa of these (dates of good quality) for two or three Sa's of other dates (of inferior quality)." On that, Allah's Apostle said, "Do not do so, but first sell the inferior quality dates for money and then with that money, buy Janib."

ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے عبدالمجید بن سہیل سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نےابو سعید خدریؓ اور ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص (سوار بن غزیہ )کو خیبر کاتحصیل دار مقرر کیا وہ ایک عمدہ قسم کی کھجور لے کر آیا رسول اللہﷺ نے پوچھا کیاخیبر کی ساری کھجور ایسی ہی ہوتی ہے اس نے کہا نہیں خدا کی قسم یارسول اللہ ہم (بری قسم کی) کھجور دو یا تین صاع دے کر اسکا ایک صاع لیتے ہیں آپﷺ نے فرمایا ایسا نہ کر بلکہ بری قسم کی کھجور نقد پیسے کے بدل بیچ ڈال پھر اس پیسے سے یہ کھجور خرید لے۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ ‏{‏وَالصَّاعَيْنِ‏}‏ بِالثَّلاَثَةِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ‏"

Narrated By Abu Said Al-Khudri and Abu Huraira : Allah's Apostle appointed a man as the ruler of Khaibar who later brought some Janib (i.e. dates of good quality) to the Prophet. On that, Allah's Apostle said (to him). "Are all the dates of Khaibar like this?" He said, "No, by Allah, O Allah's Apostle! But we take one Sa of these (dates of good quality) for two or three Sa's of other dates (of inferior quality)." On that, Allah's Apostle said, "Do not do so, but first sell the inferior quality dates for money and then with that money, buy Janib."

ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے عبدالمجید بن سہیل سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نےابو سعید خدریؓ اور ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص (سوار بن غزیہ )کو خیبر کاتحصیل دار مقرر کیا وہ ایک عمدہ قسم کی کھجور لے کر آیا رسول اللہﷺ نے پوچھا کیاخیبر کی ساری کھجور ایسی ہی ہوتی ہے اس نے کہا نہیں خدا کی قسم یارسول اللہ ہم (بری قسم کی) کھجور دو یا تین صاع دے کر اسکا ایک صاع لیتے ہیں آپﷺ نے فرمایا ایسا نہ کر بلکہ بری قسم کی کھجور نقد پیسے کے بدل بیچ ڈال پھر اس پیسے سے یہ کھجور خرید لے۔


وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ فَأَمَّرَهُ عَلَيْهَا‏.وَعَن عَبْدَالمَجِيدِ، عَن صَالحٍ السَّمَّانِ،عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ،وَ أبى سَعِيدٍ:مِثْلَه

Abu Said and Abu Huraira said, "The Prophet made the brother of Bani Adi from the Ansar as the ruler of Khaibar.

اور عبدالعزیز بن محمد نے عبد المجید سے انہوں نے سعید سے یوں روایت کی کہ ابو سعید خدریؓ اور ابو ہریرہؓ نے کہا نبیﷺ نے بنی عدی کے جو انصار میں سے تھے ایک شخص ( سوار بن غزیہ ) کو خیبر کی طرف بھیجا انکو وہاں کا حاکم مقرر کیا اور اسی سند سے عبدالمجید سے منقول ہے انہوں نے ابو صالح سمان سے روایت کی انہوں نے ابو ہریرہؓ اور ابو سعیدؓ سے ایسی ہی حدیث ۔


وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ فَأَمَّرَهُ عَلَيْهَا‏.وَعَن عَبْدَالمَجِيدِ، عَن صَالحٍ السَّمَّانِ،عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ،وَ أبى سَعِيدٍ:مِثْلَه

Abu Said and Abu Huraira said, "The Prophet made the brother of Bani Adi from the Ansar as the ruler of Khaibar.

اور عبدالعزیز بن محمد نے عبد المجید سے انہوں نے سعید سے یوں روایت کی کہ ابو سعید خدریؓ اور ابو ہریرہؓ نے کہا نبیﷺ نے بنی عدی کے جو انصار میں سے تھے ایک شخص ( سوار بن غزیہ ) کو خیبر کی طرف بھیجا انکو وہاں کا حاکم مقرر کیا اور اسی سند سے عبدالمجید سے منقول ہے انہوں نے ابو صالح سمان سے روایت کی انہوں نے ابو ہریرہؓ اور ابو سعیدؓ سے ایسی ہی حدیث ۔

‹ First23456Last ›